Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 6)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“بہت دیر لگا دی ہے تم نے کیف مما پریشان ہو رہی ہوں گیں”
زمل کیف کی گاڑی میں بیٹھی ہوئی اس سے شکوہ کرتی ہوئی بولی اسے واقعی تابندہ کی فکر ہو رہی تھی۔۔۔ اسے ثمرن اور کیف کے پروگرام کا معلوم نہیں تھا، وہ سمجھ رہی تھی ثمرن اسے سچ میں تھوڑی دیر اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ ثمرن کیف کے کہنے پر اسے تابندہ سے اجازت لے کر باہر لے آئی تھی۔۔۔ اگر اُس وقت زمل کو ذرا بھی معلوم ہوجاتا تو وہ ثمرن کو ہی منع کر دیتی
“کیا ہوگیا ہے یار تم تو زیادہ ہی ٹینشن لے رہی ہو ابھی صرف رات کے دس بج رہے ہیں بارہ نہیں اور ثمرن بتا رہی تھی آنٹی تھکی ہوئی تھی اب تک سو چکی ہوگیں اس لیے اب تم پریشان مت ہو”
کیف اپنی گاڑی زمل کے گھر کی طرف بڑھاتا ہوا زمل کو دیکھ کر بولا جو اس وقت باقی دنوں کے بانسبت بالکل عام سے حلیہ میں موجود تھی۔۔۔ سادہ سی قمیز شلوار بڑے سے دوپٹے میں بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹے ہوئے مگر وہ اس وقت بھی جاذب نظر لگ رہی تھی
“اگر مما واقعی سو چکی ہوگیں تب تو مجھے اور زیادہ ڈانٹ پڑے گی باتوں میں کتنا وقت لگا دیا تم نے، مجھے آنا ہی نہیں چاہیے تمہارے ساتھ، اب اس کار کو تھوڑا تیز چلاؤ”
کیونکہ زمل اپنا موبائل گھر پر ہی چھوڑ کر آ گئی تھی اس لیے جھنجھلاتی ہوئی کیف کو بولی
“دیر کہاں لگادی تمہارے سامنے ہی میری کار خراب ہو گئی تھی، اس کار نے واقعی سارا کام خراب کر دیا۔۔۔ آج دوسری بار ایسا موقع ہے جب ہم دونوں اکیلے بغیر کسی دوست کے کہیں نکلے تھے اور وہ بھی میں نے اس وجہ سے پروگرام بنایا تاکہ تمہاری طبیعت بہل جائے اور تمہیں دیکھ بھی لو”
کیف زمل گھر کے پاس گاڑی روکتا ہوا بولا تو زمل مسکرانے لگی۔۔۔ تین دن سے وہ بہت زیادہ ڈسٹرب تھی اسے کیف کا کیئر کرنا بہت اچھا لگا وہ اپنے گھر کو دیکھ کر کار کا دروازہ کھولنے لگی تب کیف نے اس کا ہاتھ پکڑا
“کل یونیورسٹی ضرور آ جانا یار، گھر میں رہو گی تو مائنڈ ڈسٹرب ہی رہے گا میں تمہارا ویٹ کروں گا کل یونیورسٹی میں”
کیف زمل کو دیکھتا ہوا بولا وہ یونیورسٹی سے زمل کو اپنے دوست کے بنگلے میں لے کر جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کا دوست اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے شہر میں موجود تھا۔ ۔۔ ویسے بھی کیف محبت میں دوری رکھنے کا قائل نہیں تھا اسلیے آج اس نے زمل کا دل باتیں کر کے بہلایا تھا تاکہ وہ کل زمل کے ساتھ اپنا دل بہلا سکے
“میں بھی سوچ رہی ہوں کہ یونیورسٹی آ جاؤ، اسٹڈی کا بھی کافی حرج ہو چکا ہے ٹھیک ہے پھر کل ملتے ہیں”
زمل کیف کو بولتی ہوئی اس کی گاڑی سے اتر گئی تو کیف نے اپنی گاڑی آگے بڑھا لی۔۔۔ زمل گھر کے اندر داخل ہونے لگی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس پورے منظر کو اس کے بیڈ روم کی کھڑکی سے دو شعلے اگلتی ہوئی آنکھیں نے بہت غور سے دیکھا تھا
*****
“گڈ ایم سی کیو کی تو فل تیاری ہے تمہاری اب ذرا اسے ایکزمپل کے ساتھ سولف کر کے دکھاؤ”
درید نے نوٹ پیڈ زمل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جسے زمل بے دلی سے تھام کر ایکویشن سولف کرنے لگی۔۔۔
درید ہفتے بھر سے زمل کا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا جب سے درید نے اس کے اکیڈمی جانے پر پابندی لگائی تھی تب زمل نے پہلے تو کافی ہنگامہ کیا تھا خوب چیخی چلائی تھی مگر درید کے آگے اس کی ہمیشہ کی طرح ایک نہیں چلی۔۔۔ تابندہ اور اعظم نے بھی بالکل خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔۔ زمل کے بھوک ہرتال کرنے پر بھی کوئی خاص اثر نہیں پڑا تھا درید سے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا تھا ساتھ ہی اسے صاف لفظوں میں بتا دیا تھا کہ وہ اب اکیڈمی جانے کی بجائے دوبارہ سے اسی سے پڑھے گی۔۔۔ زمل کو اپنا کوئی بھی قصور سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے اکیڈمی جانے پر کس وجہ سے پابندی لگائی گئی تھی۔۔۔ دو دن رونے دھونے کے بعد وہ اب دوبارہ سے درید سے پڑھ رہی تھی مگر دو دن سے نہ ہی زمل درید سے کوئی بات کر رہی تھی نہ ہی اس کے کمرے میں جا رہی تھی وہ درید سے مکمل خفا ہو چکی تھی
“گڈ یعنیٰ میں ایکسپکٹ کر سکتا ہوں کہ کیمسٹری میں تمہارے نائنٹی پلس آسکتے ہیں”
درید سولف ہوئی ایکویشن کو دیکھ کر نوٹ پیڈ بند کرتا ہوا اس سے بولا
“ضروری نہیں ہے دید ہر انسان آپ کی توقعات پر پورا اترے، اگلا بندہ بھی انسان ہی ہوتا ہے”
زمل درید کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی اور صوفے سے اٹھی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر بالوں سے کلپ نکال کر اپنے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔۔۔ اب دوبارہ سے اس کے بال بڑے ہو چکے تھے۔۔۔ درید اس کی بُکس سمیٹ کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آیا اور زمل کو شانوں سے تھام کر اسٹول پر بٹھاتا ہوا وہ خود زمل کے ہاتھ سے برش لے کر اس کے بال بنانے لگا
“آگے جا کر بھی تمہیں میری توقعات پر پورا اترنا ہے اور تمام اترو گی مجھے یقین ہے”
درید ڈریسنگ ٹیبل سے بینڈ اٹھا کر زمل کی اونچی پونی ٹیل بنانے لگا۔۔۔ ٹائٹس کے ساتھ شارٹ کُرتے میں اونچی بندھی پونی ٹیل وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔۔ درید کی بات کا کوئی جواب دیے بغیر وہ اٹھ کر اپنے کمرے سے نکلنے لگی تو درید نے زمل کی کلائی پکڑی جس پر وہ خاموشی سے درید کو دیکھنے لگی
“اپنے دید سے ابھی تک خفا ہو”
درید اس کا نازک سے ہاتھ تھام کر تھوڑا قریب آتا ہوا زمل کا ناراض چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا
“آپ کو فرق پڑتا ہے میرے ناراض ہونے سے”
وہ درید کا چہرہ دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“کیوں نہیں پڑتا فرق،، اتنے دن سے رات میں مجھے ٹھیک سے نیند نہیں آ رہی صرف یہ سوچ کر کہ ایک بہت پیاری سی لڑکی جس کی میری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے وہ مجھ سے ناراض ہے”
درید مسکرا کر زمل کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑتا ہوا بولا
“یہ ناراضگی آپ مجھے دوبارہ اکیڈمی جانے کی پرمیشن دے کر دور کر سکتے ہیں”
زمل کی بات سن کر درید کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی تو زمل نے بھی اپنا دونوں ہاتھ درید کے ہاتھوں سے نکال لیے
“زمل اچھی لڑکیاں فضول کی ضدیں نہیں پالتی، تمہیں نہیں معلوم آج کل پڑھانے والے ٹھیک سے نہیں پڑھاتے ہیں، اس اکیڈمی کا ماحول بھی کوئی خاص اچھا نہیں تھا اور سب باتیں چھوڑو یہ بتاؤ کیا تمہیں اپنے دید سے پڑھنا اچھا نہیں لگتا۔۔ اس کے ساتھ وقت گزارنا اچھا نہیں لگتا”
درید زمل کا چہرہ تھامے اسے بہلاتا ہوا نرمی سے پوچھنے لگا
“ہم دونوں ایک ہی گھر کے فرد ہیں دید، ایک ساتھ اپنا بہت سارا وقت ساتھ گزارتے ہیں مگر دوسری لڑکیاں بھی تو اکیڈمی جاتی ہیں تو ان کی طرح مجھے بھی اکیڈمی میں پڑھنا ہے ماحول سے کیا ہوتا ہے پلیز دید مان جائیے ناں آپ میری خاطر آپ کی پرمیشن پر ہی ڈیڈ اور مما مجھے اکیڈمی جانے کی پرمیشن دیں گے”
زمل درید کی دونوں کلائیوں کو پکڑ کر التجائی انداز میں بولی تو درید ایک پل کے لئے خاموش ہوگیا اور زمل کا چہرہ دیکھنے لگا
“چلو کہیں آؤٹنگ کا پروگرام بنا لیتے ہیں آج، اس کے بعد تمہاری پسند کی جگہ پر ڈنر اور پھر اس کے بعد گھر آکر کوئی فنی سی مووی”
درید اس کی بات ٹالنے کے ساتھ اسکا دماغ دوسری طرف لگاتا ہوا بولا
“مجھے معلوم تھا آپ کبھی بھی میری بات نہیں مانے گے” وہ اپنے چہرے سے درید کے دونوں ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی
اس وقت وہ بیک یارڈ میں جاکر سوئمنگ پول کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اب وہ جیسے جیسے بڑی ہو رہی تھی اسے اپنے اوپر لگائی ہوئی پابندیوں سے الجھن ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ وہ اپنی دوسری فرینڈز کو اور کلاس کی لڑکیوں کو دیکھتی تو دل ہی دل میں اس کی بھی خواہش ہوتی کہ وہ بھی ان کی طرح ایک دوسرے کے گھر جا کر پارٹیز انجوائے کرے یا شادی کے فنکشنز میں جائے جیسے شام میں سب گروپ کی لڑکیاں کسی ایک کے گھر جمع ہوکر اسٹڈی کرتی اس کا بھی دل کرتا وہ انہی کی طرح ان کے ساتھ کمبائن اسٹڈی کرے۔۔ اس کے گھر میں سہولت کی ہر چیز موجود تھی مگر گھر سے باہر اس پر دس قسم کی پابندیاں تھی۔۔۔ تین دن پہلے اسکول کی طرف سے تمام کلاس پکنک پر گئی تھی اس کے علاوہ۔۔
وہ سوئمنگ پول کے پاس بیٹھی ہوئی تمام باتیں سوچ رہی تھی درید نے اسے جب سے منع کیا تھا اس نے سوئمنگ بھی چھوڑ دی تھی وہ ابھی اپنی سوچوں میں گم تھی کہ قدموں کی آواز سن کر وہاں پر آنے والے شخص کو دیکھنے لگی درید اس کی جیکٹ ہاتھ میں لیے اسی کے پاس ہی آ رہا تھا
“چلو اٹھو ڈیڈ کو انفارم کر چکا ہوں میں، ابھی ہم دونوں باہر جا رہے ہیں”
درید زمل کے پاس آتا ہوا اسے بولا
“میرا باہر جانے کا موڈ نہیں ہے دید، مجھے کہیں نہیں جانا”
زمل کھڑی ہوتی ہوئی اس سے بولی تو درید اس کو خود ہی جیکٹ پہناتا ہوا بولا
“پر میرا موڈ بن چکا ہے باہر جانے کا اور اس وقت ہم دونوں باہر جا رہے ہیں”
درید اس وقت زمل کو بہلا کر باہر لے جانا چاہتا تھا تاکہ اس کو منانے لے اور پیار سے سمجھا بھی دے۔۔ پر درید کے زبردستی جیکٹ پہنانے پر زمل ایک دم زور سے چیخ اٹھی
“کیا ہوں میں،، بتا دے دیں آج آپ مجھے۔۔۔ آخر سمجھتے کیا ہیں آپ مجھے،، کوئی پپٹ ہوں میں،، جسے آپ ہر وقت اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں، یہ کرو، وہ نہ کرو، یہاں نہ جاؤ، اس سے نہ ملو، کیوں، بال نہ کٹواؤ۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔ کیوں نہیں میں ہر وہ کام کر سکتی جو ہر دوسری لڑکی کرتی ہے۔۔۔ مجھے آزادی کیو نہیں ہے دید پلیز مجھے بھی آزادی چاہیے”
وہ غصے میں آج درید کے سامنے پھٹ پڑی تھی درید خاموشی سے زمل کی باتیں سنتا رہا پھر سختی سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے
“آزادی چاہیے تمہیں مجھ سے،، آزاد ہو تم آج سے”
وہ بولتا ہوا زمل کو سوئمنگ پول میں دھکا دے کر خود وہاں سے چلا گیا
****
وہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو سارے کمرے کی لائٹ بند تھی تابندہ کو بیڈروم میں سوتا ہوا دیکھ کر زمل کو حیرت ہوئی تابندہ گھر کا مین دوڑ کیسے کھلا چھوڑ کر اتنی جلدی سو گئی۔،۔۔ تابندہ کے کمرے سے زمل اپنے کمرے میں آئی کمرے کا دروازہ بند کر کے جیسے ہی اس نے کمرے کی لائٹ آن کی تو درید کو سامنے صوفے پر بیٹھا پایا
“دید۔۔۔۔ آپ”
درید کو دیکھ کر زمل کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی، وہ درید کی یوں اچانک آمد پر شاکڈ تھی اس لیے خاموشی سے کھڑی درید کو حیرت سے دیکھ رہی تھی
“تم کو کیا لگ رہا تھا کہ میں اب کبھی واپس نہیں آؤ گا جو مجھے دیکھ کر اتنا حیران ہو رہی ہو۔۔۔ کتنے سالوں بعد اپنے دید کو دیکھ رہی ہو کیا ملو گی نہیں اپنے دید سے”
درید چلتا ہوا زمل کے پاس آیا اسکے سامنے اپنے دونوں بازو کھول کر کھڑا ہوگیا،، جس طرح وہ ملنے کا کہہ رہا تھا زمل کا دل بند ہونے لگا۔۔۔ وہ اپنی بات کر کے انتیظار کرنے کا عادی نہیں تھا اس لیے زمل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر درید کے قریب آئی زمل کے پاس آنے پر درید آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔ زمل کو درید کی قید میں گھبراہٹ ہونے لگی مگر وہ مزاحمت نہیں کر سکتی تھی اس لئے انتظار کرنے لگی کہ درید کب اسے آزاد کرے جبکہ دوسری طرف درید اسے بانہوں میں لیے دنیا جہاں سے بے خبر ہو چکا تھا۔۔۔ درید کے ہونٹ زمل کو اپنے کندھے سے ٹچ ہوتے محسوس ہوئے تو اس وقت زمل کے پورے جسم میں سنسناہٹ دوڑ گئی وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹنے لگی تب اسے محسوس ہوا جیسے درید اسے اپنے حصار سے آزاد کرنے کے موڈ میں نہیں ہے
“انتظار تو بالکل بھی نہیں کیا ہوگا میرے واپس آنے کا”
وہ زمل کو بانہوں میں لیے اس سے پوچھنے لگا،، درید کی سانسوں کی گرماہٹ وہ اپنے کندھے پر گردن پر محسوس کر کے بےبسی سے اپنے ہاتھوں کے دونوں مٹھیاں بند کرتی ہوئی بولی
“ڈیڈ نے بہت انتظار کیا تھا آپ کا”
زمل کی بات سن کر درید نے اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتا ہوا بولا
“کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو عمر بھر کے لیے پچھتاوا بن جاتی ہے مجھے اس بات کا زندگی بھر افسوس رہے گا کہ میں ڈیڈ کے آخری وقت میں ان کے پاس موجود نہیں تھا۔۔۔ تم بتاؤ اتنی رات کو اکیلی کہاں سے آ رہی ہو”
وہ زمل سے اس کے بارے میں سوال کرتا ہوا واپس صوفے پر جا بیٹھا۔ ۔۔ اس کے سوال کرنے پر ایک بار پھر زمل کا دل بند ہونے لگا
“ویسے ہی واک پر نکلی ہوئی تھی”
زمل نے بہت آہستہ سے جواب دیا اتنا آئستہ کر کے اسے خود بھی اپنی آواز سنائی نہیں دی
“یہاں آؤ”
درید اس کا گھبرایا ہوا چہرا دیکھ کر اپنے پاس بلانے لگا۔۔۔ زمل ایک بار پھر سست قدموں سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
“بیٹھو”
درید اپنی تھائی کی طرف اشارہ کرتا ہوا زمل سے بولا جسے دیکھ کر زمل مزید گھبرا گئی کیونکہ وہ اسے اپنی گود میں بیٹھنے کو کہہ رہا تھا وہ اب اٹھ سال کی بچی کہاں تھی۔۔۔ زمل بےبسی سے پھر درید کو دیکھنے لگی، درید نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر زمل کی کلائی پکڑتا ہوا کھینچ کر اسے اپنی گود میں بٹھا لیا
“اب بولو اتنی رات کو کہاں سے آ رہی ہو”
درید کا لہجہ حد درجہ سنجیدہ تھا وہ اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“میں تھوڑا ڈپریشن محسوس کر رہی تھی تو میری فرینڈ مجھے تھوڑی دیر کے لئے باہر لی گئی تھی”
زمل نظریں نیچے کئے درید کو بتانے لگی
“فرینڈ لڑکی تھی یا لڑکا”
وہ نرمی سے اس کے گال پر اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا انگلیوں کے پوروں سے اس کے ہونٹوں کو چھو کر اگلا سوال پوچھنے لگا، تو درید کی بات سن کر زمل کی سانس رکنے لگی اگر وہ سچ بتا دیتی تو اس وقت نہ جانے درید تو اس کے ساتھ کیا کر بیٹھتا
“لل۔۔۔ لڑکی ثمرن۔۔۔۔ میں ثمرن کے ساتھ گئی تھی دید”
زمل کی بات سن کر وہ اپنے ہاتھ کی انگلیاں زمل کے ہونٹوں سے اس کی گردن تک لایا
“سوچ سمجھ کر جواب دو مجھے، کہیں اہسا نہ ہو کہ غلط جواب پر تمہارے لیے بیٹھے بیٹھے کوئی مسلئہ بن جائے”
درید اس کی گردن کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا حد درجہ سنجیدگی سے بولا
“ثمرن بھی ساتھ تھی، کیف نے پہلے اسے گھر ڈراپ کیا بعد میں مجھے،، میں سچ بول رہی ہوں”
خوف کے مارے بولتے ہوئے زمل کی آنکھ میں آنسو آگئے جن کی پرواہ کیے بغیر درید اس کا گلا دباتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
“دید ثمرن بھی ساتھ تھی میں واقعی سچ بول رہی ہو”
درید کے ہاتھ کی سختی اپنی گردن پر محسوس کر کے زمل اپنی صفائی میں بولی اور یہ سچ میں تھا لیکن درید اس کی بات سن کر اسے گردن سے پکڑے بیڈ تک لے آیا
“میں چند سالوں کے لئے گھر سے دور کیا رہا تم اپنی من مانیوں پر اتر آئی، بھول گئی جانے سے پہلے کیا وعدہ لیا تھا میں نے تم سے”
درید اسے بیڈ پر دھکا دیتا ہوا غصے سے پوچھنے لگا
“میں کچھ بھی نہیں بھولی دید آپ کا رویہ، آپ کی مجھ پر حکومت کرنا مجھے اپنی ملکیت سمجھنا سب یاد ہے مجھ کو”
زمل بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتی ہوئی اپنے سامنے کھڑے درید سے بولی تو درید نے سختی سے اس کا منہ دبوچا
“میں تمہیں اپنی ملکیت سمجھتا نہیں ہو تم میری ملکیت ہو، شاید گزرے ہوئے ان چند سالوں میں تم یہ بات اپنے ذہن سے نکال چکی ہوں،، ایک بات میری کان کھول کر سن لو زمل، جو چیز میری ملکیت کا حصہ بن جاتی ہے اس پر میں کسی دوسرے کی نظر یا پھر حق بالکل برداشت نہیں کر سکتا”
درید نے بولتے ہوئے زمل کا منہ جھٹکے سے چھوڑا اور اس کے کمرے سے نکل کر چلا گیا
**†**
