Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 3)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
تھوڑی دیر پہلے وہ یونیورسٹی سے ہاسپٹل آئی تھی آج اعظم کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئے تیسرا دن تھا اچھی بات یہ تھی کہ کل کی بانسبت آج اس کی طبیعت کافی بہتر تھی اس لیے زمل نے تھوڑی دیر کے لئے تابندہ کو گھر بھیج دیا تھا کیونکہ تابندہ پرسوں رات سے ہاسپٹل میں موجود تھی، تھکن اب اس کے چہرے سے واضح ہونے لگی تھی زمل چاہتی تھی کہ تابندہ گھر جا کر تھوڑی دیر آرام کر لے مگر تابندہ اعظم کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں تھی زمل نے اس کو زبردستی گھر بھیجا تھا
وہ اپنے سامنے بستر پر لیٹے وجود کو دیکھنے لگی جس کے منہ اور ناک میں غذا اور دواؤں کی نلکیاں لگی ہوئی تھی، ڈرپ لگے ہوئے اس کے ہاتھ ہر اب سوئیلنگ آچکی تھی۔۔۔۔ اعظم کو اس حالت میں دیکھ کر زمل کو دکھ ہو رہا تھی وہ کافی زیادہ اداس تھی۔۔۔ اس نے اپنے سگے باپ کو آج تک نہیں دیکھا تھا جب سے ہوش سنبھالا تھا وہ اعظم کو ہی باپ کی صورت دیکھتی آئی تھی۔۔۔ اعظم نے ایک اچھے باپ طرح ہی اس کی پرورش کی تھی اپنی سگی اولاد اور اس میں کبھی کوئی فرق نہیں رکھا تھا
“درید”
اعظم کی آواز پر زمل اپنی سوچوں کے بندھن سے آزاد ہو کر ہوش کی دنیا میں آئی
“جی ڈیڈ کیا ہوا یہ میں ہو زمل۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو”
وہ اپنی سوچوں میں اعظم کے پاس بیٹھی ہوئی، اُسے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ کب اس نے اعظم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
زمل ایک دم اپنا ہاتھ ہٹا کر کرسی سے اٹھتی ہوئی مزید اعظم کے قریب آ کر اس سے پوچھنے لگی
“میں سمجھا شاید درید واپس آ گیا ہے”
اعظم ذرا سی آنکھیں کھول کر آہستہ آواز میں بولا تو زمل نظر چراتی ہوئی بولی
“وہ غلطی سے میں نے آپکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ آ جائیں گے واپس،، آپ زیادہ سوچیں مت”
زمل اس شخص کے ذکر سے بچنا چاہتی تھی اس لئے کمرے کی موجود کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ سچ تو یہ تھا وہ بالکل بھی نہیں چاہتی تھی کہ درید اعظم کی واپسی ہو
“کیسے نہیں سوچو، وہ بیٹا ہے میرا۔۔۔ آپ کو معلوم ہے ناں آپ میں اور درید میں میری جان بستی ہے۔۔۔ بیٹا اس سے اپنی ناراضگی ختم کر دیں آپ،، اسے یہاں اپنے ڈیڈ کی خاطر واپس بلالیں، آپ کے ڈیڈ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ آپ اسے ایک بار فون کر لیں”
اعظم کی بات سن کر وہ کچھ بول نہیں پائی۔۔۔ یہ کام تو وہ اپنی زندگی میں کسی صورت نہیں کرسکتی تھی
“آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے وہ میرے بلانے پر آ جائیں گے آج تک انہوں نے ہم تینوں میں سے کسی کی بات سنی ہے ہمیشہ سے وہ اپنی مرضی کرتے آئے ہیں وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں”
زمل کھڑکی سے باہر ایمبولینس کو دیکھتی ہوئی بولی
“وہ آ جائے گا آپ کے بلانے سے، چند ماہ پہلے مجھ سے کہہ رہا تھا کہ زمل نے جاتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ وہ اب کبھی میرا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی اور نہ ہی وہ چاہتی ہے کہ اب میں واپس آؤ۔۔۔ کیا آپ اپنے ڈیڈ کی خاطر اس سے ناراضگی ختم کرکے ایک کال نہیں کر سکتی اُسے۔۔۔ اب ایسی بھی کیا ناراضگی اس سے بیٹا”
ایمبولینس میں ڈیڈ باڈی کو رکھا جارہا تھا زمل نے اپنی نظروں کا زاویہ فوراً اعظم کی طرف کیا وہ زمل کو بہت امید بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ زمل چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اعظم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
“اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں دید کو کال کرو تو میں آپ کی خاطر ایسا کر لوں گی، آپ کی بیٹی آپ کی خاطر کچھ بھی کرسکتی ہے بس آپ ٹھیک ہوجائے”
آج اس کا نام “دید” اپنے لبوں سے کافی عرصے بعد زمل نے خود سنا تھا اب تو یہ نام بھی اس کو بہت اجنبی لگتا تھا مگر سامنے بستر لیٹے ہوئے شخص کو وہ مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے اعظم کے چہرے کو دیکھ کر مشکل سے ہی سہی مسکرانے لگی کیو کہ زمل کی بات سن کر اعظم کے چہرے پر رونق سی آگئی تھی
*****
“یہ لڑکا ابھی تک گھر کیو نہیں آیا، زمل ذرا کال کرو درید کو”
اعظم اور تابندہ دونوں ہی صوفے پر براجمان تھے جبکہ زمل فرش پر رکھے فلور کشن پر بیٹھی ہوئی تھی آج ہفتے کا دن تھا اس لیے وہ تینوں ہی سٹنگ روم میں موجود تھے سامنے اسکرین پر کوئی مووی چل رہی تھی جس کو دیکھتے ہوئے اعظم زمل سے بولا
“جی ڈیڈ دید کا ابھی میسج آیا تھا وہ دس منٹ میں آ رہے ہیں”
اعظم کی بات سن کر وہ جلدی سے بات بناتی ہوئی بولی،، ہاتھ میں موجود ہو پاپ کارن کا باؤل گود میں رکھ کر درید کو میسج ٹائپ کرتی ہوئی اعظم کا پیغام دینے لگی۔۔۔ یہ تیسری بار تھا جب وہ اعظم کے پوچھنے پر درید کو جلدی گھر آنے کا میسج میں بول رہی تھی
“درید کے دس منٹ کا مطلب پورا ایک گھنٹہ ہوتا ہے آپ کو معلوم تو ہے اس کا اعظم پلیز اب چوتھی بار مت پوچھئے گا۔۔۔ جانتے بھی ہیں وہ سیٹرڈے نائیٹ کو صرف اپنے دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹوں میں مشغول رہتا ہے”
تابندہ بےزار سے انداز میں بولی تو زمل تابندہ کو دیکھنے لگی
“ہر سیٹرڈے نائٹ تو دید اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں گزارتے مما وہ تو منتھ میں کبھی ایک بار پروگرام بن جاتا ہے ان کا اور ویسے بھی آج احمر بھائی کے بڑے بھائی کی اینگیجمنٹ تھی اس لیے دید کو واپس آنے میں دیر ہو گئی”
زمل کو درید کے بارے میں تابندہ کا اسطرح بولنا ذرا اچھا نہیں لگا اس لیے وہ فوراً درید کی سائڈ لیتی ہوئی بولی
“تم چپ کر جاؤ زمل، تمہیں زیادہ درید کی اماں بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔ جاؤ جاکر اپنے کمرے میں سونے کی تیاری کرو”
تابندہ سے اپنی بیٹی کی درید کے لیے چمچہ گری ذرا برداشت نہیں ہوئی اس لیے وہ زمل کو گُرکتی ہوئی بولی زمل منہ بنا کر پاپ کارن کا باؤل ٹیبل پر رکھتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی
“کیوں ہر وقت بچی کے پیچھے پڑی رہتی ہو تابی میں نوٹ کر رہا ہو تم بہت زیادہ زمل کو ٹوکنے لگی ہو”
اعظم اسکرین پر چلتی ہوئی مووی سے اکتا کر چائنل بدلتا ہوا تابندہ سے بولا
“بچی کہاں ہے اعظم اب زمل، اس کو تو آپ نے اور درید نے ہی بچہ بنایا ہوا ہے، خاص کر درید نے۔۔۔ اسے بچوں کی طرح اپنے سامنے بٹھا کر ناشتہ کرواتا ہے جیسے میں نہیں وہ زمل کی ماں ہے اور زمل اس کا لاپروا انداز دیکھ کر تو مجھے اس کی اور بھی زیادہ فکر ہونے لگی ہے، کس طرح درید کے ساتھ چپک کر اتنا کلوز ہوکر بیٹھ جاتی ہے اور درید اگر کبھی اس کی طبیعت خراب ہوجائے پھر تو اسے میڈیسن کی ڈوس نہیں بلکہ زمل چاہیے جو اس کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت بیٹھی رہے،، کیا ہے یہ سب اعظم۔۔۔۔ اور آپکو بھلا کیا ضرورت تھی پرسوں درید کو پرمیشن دینے کی کہ وہ زمل کو لے کر اتنی دیر تک کے لیے باہر نکل جائے، معلوم ہے رات کے ساڑھے بارہ بجے واپسی ہوئی تھی ان دونوں کی،، زمل تو میری ڈانٹ کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتی ہے اور آپ کے صاحبزادے ان سے تو میں کچھ پوچھ ہی نہیں سکتی وہ تو مجھے کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے”
تابندہ اعظم کے سامنے اپنے دل کی بھڑاس نکالنا شروع ہو چکی تھی کیونکہ اسے یہ باتیں بالکل بھی پسند نہیں تھی کہ زمل اچانک اپنی پلیٹ میں سے کھاتے کھاتے درید کی پلیٹ میں کھانا شروع کر دیتی تھی درید کے سامنے بچی بن کر اس سے بات منواتی تھی۔۔۔ اگر تابندہ کچھ اعتراض کرتی یا زمل کو ٹوکتی تو الٹا اعظم اسی کو باتیں سناتا اور اب بھی یہی ہونا تھا
“مسئلہ کیا ہے یار تابی تمہارے ساتھ،،، زمل اور درید دونوں ہی ہمارے بچے ہیں ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں اگر ایک ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے چلے گئے تو اس میں حرج کیا ہے آخر۔۔۔ کسی آؤٹ سائیڈر کے ساتھ باہر بھیجا ہے میں نے زمل کو،، اور درید کو تم کیا سمجھ رہی ہو۔۔۔ ایک ماہ پہلے ڈرائیور کو اس نے کیوں جاب سے فارغ کیا تھا بتایا نہیں تھا میں نے تمہیں وہ قصہ۔۔۔ دیکھو تابی درید بچپن سے ہی زمل کو لے کر بہت زیادہ ٹچی ہے اس کا خیال ہی رکھتا ہے۔۔۔۔ تو اس بات پر بھی تمہیں اعتراض ہے”
اعظم اب کی بار تابندہ کو سمجھاتا ہوا بولا تو وہ بھینا اٹھی
“آپ تو کبھی بھی میری بات کا مطلب نہیں سمجھے گیں اعظم،، اعتراض مجھے درید اور زمل کے اتنا کلوز ہونے پر نہیں ہے۔۔۔ میں درید کو اور زمل کو اچھی طرح جانتی ہو۔۔۔ مگر یہ دنیا،، گھر کے نوکر، دوسرے لوگ وہ ان دونوں کو دیکھ مختلف سوالات اٹھا سکتے ہیں اعظم۔۔۔ آپ سمجھنے کی کوشش کریں درید اور زمل سگے بہن بھائی نہیں ہیں جو ہر وقت ایک دوسرے کے رومز میں اتنا ریلکس ہو کر بیٹھے ہوتے ہیں”
تابندہ کی بات سن کر اعظم ناگوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا
“یہ کس طرح کی جاہلانہ گفتگو کر رہی ہو تم تابی، یہ دنیا والے کون ہوتے ہیں میرے بچوں پر اعتراض کرنے والے،، ان پر سوالات اٹھانے والے،۔۔۔ اگر اوقات ہے کسی کی تو آکر میرے سامنے بات کرے پھر میں اس کو بتاؤں گا۔۔۔ کیا ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے دو افراد، ایک دوسرے کے کمروں میں آ جا نہیں سکتے۔۔۔ اتنا گرا ہوا کوئی کیسے کوئی سوچ سکتا ہے آج کے اس ایڈوانس دور میں۔۔۔ سگے بہن بھائی نہیں ہے وہ دونوں تو کیا مطلب ہے یار،، اب دنیا والوں کا منہ بند کروانے کے لیے کیا میں ان دونوں کا نکاح پڑھوا دوں تاکہ وہ دونوں سکون کے ساتھ اپنے ہی گھر میں زندگی گزار سکیں اور کہیں آ جا سکیں”
اعظم کو تابندہ کی بات سن کر غصہ آئے جارہا تھا مگر اس کی آخری بات پر تابندہ ایک دم گھبرا اٹھی
“اعظم، اعظم کیا ہوگیا آپ کو پلیز کول ڈاؤن۔۔۔ میں نے تو ایک نارمل بات کی تھی یہ نکاح بیچ میں کہاں سے آگیا”
تابندہ تو کبھی درید اور زمل کو لے کر ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس لیے اعظم کو کول کرتی ہوئی جلدی سے بولی
“تابی اپنے ذہن کو ان فضول کی سوچوں سے پاک رکھو اور میں آئندہ تمہارے میں سے کوئی بھی الٹی بات نہ سنو کہ زمل درید کے کمرے میں کیا کر رہی ہے، وہ دونوں اکیلے باہر کیوں جا ریے ہیں یا ایک ساتھ بیٹھ کر مسکراتے ہوئے کیا بات کر رہے ہیں۔۔۔ ایک ہی باؤل میں آئسکریم کیوں کھا رہے ہیں۔۔۔۔ وہ دونوں بچے ایک ہی گھر میں پلے بڑھے ہیں دونوں ہی ایک دوسرے سے اٹیچ ہیں آگے مستقبل میں اگر ان دونوں کا روجان ایک دوسرے کی طرف مائل ہو بھی جاتا ہے تو بھی یہ میرے لیے کوئی شاکنگ بات نہیں ہوگی جس طرح تم نے ابھی نکاح والی بات پر ری ایکٹ کیا ہے۔۔۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کوئی معیوب یا پھر حیران کن بات نہیں ہے اور اگر ان دونوں کی سوچیں، پسند رجان الگ ہوں تب بھی میں ان دونوں کی چوائس کو کھلے دل سے ایکسپٹ کروں گا لیکن اگر کوئی دوسرا بلاوجہ میں ان دونوں کو لے کر باتیں بنائے گا تو میں بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا”
اعظم تابندہ کو کو بولتا ہوا کمرے سے چلا گیا
*****
تھوڑی دیر پہلے ولیم اور ایوا کی شادی کی رسومات مکمل ہوئی تھی، مارتھا اور فائق ان دونوں کو شادی کی مبارکباد دے کر ڈانس فلور کی طرف چلے گئے جہاں پہلے سے چند لڑکے اور لڑکی کپل کی صورت رقص میں مشغول تھے جبکہ وہ خود ولیم اور ایوا کو وش کرتا ہوا ڈانس فلور سے تھوڑی دور صوفے پر بیٹھ گیا اس کی نظریں اب بھی ولیم اور ایوا پر تھی جو اب کپل ڈانس کر رہے تھے۔۔۔ ولیم اور ایوا اکھٹا ڈانس کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ آج بہت خوش نظر آ رہے تھے وہ دونوں ہی کپل ڈانس کے دوران کسی بات پر زور سے ہنس رہے تھے تب اس کا ذہن کہی ماضی کی یادوں میں بھٹک چکا تھا
“دید آپ نے کبھی کپل ڈانس کیا ہے”
درید زمل کے کمرے میں بیٹھا ہوا زمل کے سولف کیے ہوئے پرابلمز چیک کر رہا تھا تب زمل پڑھائی سے فارغ ہوکر ایل ای ڈی آن کرتی ہوئی اسکرین پر نظریں جمائے درید سے پوچھنے لگی جہاں ایک لڑکا اور لڑکی کپل ڈانس کر رہے تھے
“یہ بھی کوئی کرنے والا کام ہے”
زمل کی بات سن کر درید اس کو گھور کر دیکھتا ہوا بولا ساتھ ہی درید نے نوٹ بک بند کر کے ٹیبل پر رکھ دی اور انگلش کی بُک کھول کر دیکھنے لگا
“یعنٰی کہ کبھی بھی نہیں کیا۔۔۔ ویسے بھی کپل ڈانس کے لئے ایک عدد ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ چلیں آج ہم دونوں ٹرائے کر کے دیکھتے ہیں”
زمل بولنے کے ساتھ ہی ڈانس کرنے کا ارادہ بناتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا زمل، فضول کے کام چھوڑو یہاں واپس آ کر بیٹھو۔۔ ویسے بھی کل تمہارا انگلش کا ٹیسٹ ہے بتاؤ مجھے کتنی پریپشن ہوچکی ہے تمہاری”
درید اسے ٹوکنے کے ساتھ ریموٹ اٹھا کر ایل ای ڈی بند کرنے لگا تو زمل نے فوراً درید کے ہاتھ سے ریموٹ چھینا
“انگلش کے ٹیسٹ کی آپ مجھے پرسوں ہی مکمل تیاری کروا چکے ہیں اب مجھے صرف ریوائس کرنا ہے جو کہ میں رات میں کرلو گی پلیز کھڑے تو ہو جائے ناں دید”
زمل اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے درید کے سامنے کھڑی ہوئی اس سے ضد کرتی ہوئی بولی
“میرا بالکل بھی موڈ نہیں ہو رہا زمل اور نہ یہ میں نے پہلے کبھی کیا ہے سریسلی”
درید زمل کے سراپے کو دیکھتا ہوا بولا جوکہ اس وقت لانگ فراک میں مبلوس کیوٹ سی ڈول لگ رہی تھی
“مجھے نہ ذرا یہ نخرے کم ہی دکھایا کریں دید۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر چیز آپ ہی مجھے سکھائیں آج میں آپ کو ڈانس کرنا سکھا دیتی ہوں اٹھیں تو یار”
زمل بولنے کے ساتھ ہی درید کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اسے کھینچ کر صوفے سے اٹھاتی ہوئی بولی تو درید کو ناچار ہی کھڑا ہونا پڑا
“بہت ضدی ہوتی جاری ہو تم”
درید زمل کو بولتا ہوا اسکرین کو دیکھنے لگا جس پر کوئی ڈانس کمپٹیشن ہو رہا تھا
“میں آپ ہی کی شاگرد ہوں، بائی دا وے یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے اپنا ہاتھ پکڑوائے مجھے۔۔۔ یہاں یوں میری کمر پر رکھیں ہاتھ کو ایسے گڈ، اب اپنے دوسرے ہاتھ سے میرے اس ہاتھ کو پکڑے۔۔۔ یس،، اب اسکرین پر اس لڑکے کی پاؤں کی حرکت کو غور سے دیکھیں،، اب آپ کو اپنے پاؤں کے اسٹیپ میرے پاؤں کے اسٹیپ سے ملانے ہیں ایسے”
وہ زمل کی کمر پر اپنا ہاتھ رکھے دوسرے ہاتھ سے زمل کا ہاتھ تھامے ڈانس کے اسٹیپ کرنے لگا۔۔۔ زمل درید کا ہاتھ چھوڑے بنا ڈانس کا اسٹیپ لیتی ہوئی اس سے تین سے چار قدم دور ہوئی تو درید اسے واپس اپنی طرف کھینچتا ہوا اس کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ چکا تھا جبکہ زمل مسکراتی ہوئی درید کے شولڈرز پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ چکی تھی۔۔۔ وہ ڈانس کو بھرپور طریقے سے انجوائے کر رہی تھی جبکہ درید غور سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھنے کے بعد زمل کے گلابی گالوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کئی احساسات درید کے دل میں جاگ اٹھے تھے،، کئی خواہشات اس کے دل میں سر اٹھانے لگی تھی جن سے زمل بالکل انجان تھی
“ہیلو کہاں گم ہو ہینڈسم”
مارتھا جھومتی ہوئی اس کے برابر میں صوفے پر آتی ہوئی بیٹھی تو درید ماضی کی یادوں سے نکل کر واپس آیا
“تم جانتے ہو تمہارا دوست جیکی سے بریک اپ کے بعد مجھے اندازہ ہوا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا راسکل ہے۔۔۔ مطلب وہ میرے ساتھ ریلیشن میں رہا اور میری مدر کے ساتھ بھی ۔۔۔۔ مین”
مارتھا نشے کی حالت میں جیکی کو موٹی موٹی گالیاں دینے لگی۔۔۔ ولیم اور ایوا کی شادی والے دن ہی اس کا اور جیکی کا بریک اپ ہوا تھا۔،۔۔ کیونکہ مارتھا کو کل ہی پتہ چلا تھا کہ جیکی کی زندگی میں دوسرے آنے والی نئی گرل فرینڈ کوئی اور نہیں بلکہ ماتھا کی ماں تھی
“مجھے افسوس ہے تمہیں جیکی کو جاننے، پرکھنے اور سمجھنے کے لیے اس کے کافی قریب جانا پڑا۔۔۔ چلو اسی بہانے سہی تمہیں مرد کی پہچان بھی ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جیکی واقعی کتنا بڑا ۔۔۔۔ ہے”
درید اسموکنگ کرنے کے ساتھ ہی مارتھا کے تازہ بریک اپ پر افسوس کرتا ہوا بولا
“اس نے میری ماں کے ساتھ ریلیشن رکھ کر مجھے ہرٹ کیا ہے تمہارا کیا خیال ہے مجھے بھی جیکی کو اسی کے طریقے سے ہرٹ کرنا چاہیے۔۔ مطلب اس کے فرینڈ کے ساتھ ریلیشن بنا کر”
مارتھا درید کے اور زیادہ نزدیک ہو کر بیٹھتی ہوئی نشے میں چور آنکھوں سے اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“اب تم اس دن کی طرح مجھے رات ساتھ گزارنے کی آفر کر کے بور مت کرنا۔۔۔ میں ویسے ہی پریشان ہوں”
درید بیزار سے انداز میں اس کے نیم عریاں بدن اور معنی خیز نظروں کو کو دیکھ کر بولا۔۔۔ مارتھا درید کے ہاتھ سے سگرٹ لے کر گہرا کش لگاتی ہوئی افسوس سے بولی
“او گاڈ میں نے پہلا ایسا ایشیائی مرد دیکھا ہے جو ایک خوبصورت لڑکی کو بار بار نظر انداز کر رہا ہے”
مارتھا درید کو اس کی سگریٹ واپس کرتی ہوئی افسوس سے بولی کیوکہ وہ آج جیکی کی یادوں کو سرے سے اپنے ذہن سے مٹانے کا ارادہ رکھتی تھی
“ایشیائی مردوں کی بات مت کرو مارتھا تم ایشیائی مردوں کی نفسیات کو کبھی بھی انڈرسٹینڈ نہیں کر پاؤں گی، ہر ایشیائی مرد جھوٹا کھانے کا عادی نہیں ہوتا اور رہی بات خوبصورتی کی تو جب ایک مرد کے دل کو برسوں پہلے ہی کسی نے اپنا اسیر کرلیا ہو تو پھر کوئی دوسرا خوبصورت چہرہ اس مرد کے لیے اہمیت نہیں رکھتا۔۔۔ اب معلوم نہیں دوسروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہو کہ نہیں لیکن درید اعظم کے ساتھ تو ایسا ہی مسلئہ ہے”
درید مارتھا کو جواب دیتا ہوا اس کے منہ کی سگریٹ کو ٹیبل پر پڑی ہوئی ایش ٹرے میں مسل کر اپنے لئے دوسری سگریٹ سلگانے لگا۔۔۔ اتنے میں فائق بھی اس کے پاس آتا ہوا صوفے پر بیٹھا
“تو یہاں بیٹھا ہوا ہے یار اور تو نے پاکستان جانے کا پروگرام بنا لیا مجھے بتایا بھی نہیں، ابھی ولیم سے پتہ لگا مجھے تیرے ڈیڈ کی طبیعت کیسی ہے اب”
فائق سے درید کی دوستی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔۔۔ گرینی کی ڈیتھ کے بعد وہ اپارٹمنٹ میں اکیلا ہی رہتا تھا،، ہم وطن ہونے کی وجہ سے اس نے فائق کو اپنے اپارٹمنٹ میں اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دی تھی
“ڈیڈ کی طبیعت کی وجہ سے ہی پاکستان واپس جانے کا ارادہ بن رہا ہے بیچارے کافی بیمار ہیں اور اچھے انسان بھی ہیں کافی پیار کرتے ہیں مجھ سے تو سوچا جا کر دیکھ لیتا ہوں۔۔۔ تُو ٹینشن نہیں لے ایزی ہو کر اپارٹمنٹ میں رہ لے۔۔۔ جب تک تیرے ریزیڈینس کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا”
درید فائق کی ٹینشن دور کرتا ہوا بولا تو فائق بھی ریلکس ہوگیا۔۔۔ مارتھا جو کہ فائق کو منتظر نگاہوں سے دیکھ رہی تھی فائق کے اشارہ کرنے پر درید کے پاس سے اٹھتی ہوئی وہ فائق کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ درید کے پاس بیٹھ کر مارتھا کا صرف وقت ضائع ہوا تھا جبکہ درید اپنے موبائل میں آنے والے میسج کی طرف متوجہ ہوا،، یہ میسج اس کو پاکستان سے کیا گیا تھا جس میں اس کو چند تصویریں بھیجی گئی تھی اُن تصویروں کو دیکھ کر درید کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات غُصے میں تبدیل ہونے لگے۔۔۔درید سے اپنا غصہ ضبط کرنا مشکل ہوگیا تو وہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا، اسے واقعی اب جلد پاکستان جانا چاہیے تھا
*****
“ماما پلیز میرے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک کھیلیں ناں”
اٹھ سالہ درید کچن میں کھانا بناتی ہوئی ثمن سے بولا
“چندا اس وقت میں آپ کے ساتھ کیسے کھیل سکتی ہو، آپکی تابندہ آنٹی آئی ہوئی ہیں آج ہمارے ہاں، میں ان کے لیے رات کا ڈنر تیار کر رہی ہو۔ ۔۔ شام میں خاور انکل بھی ہمارے گھر آئے گیں اور ابھی تو آپ کے ڈیڈ بھی آنے والے ہیں”
ثمن کھانا تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو بہلاتی ہوئی بولی۔۔۔ اس کی سہیلی تابندہ اس وقت اپنی نومولود بیٹی کے ساتھ اس کے گھر پر موجود تھی جبکہ تابندہ کا شوہر خاور رات میں انہی کے گھر میں ڈنر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ کیونکہ جیسے تابندہ اور ثمن ایک دوسرے کی سہیلی تھی ویسے ہی اعظم اور خاور بھی آپس میں دوست تھے
“ٹھیک ہے پھر میں زمل کو جگا دیتا ہوں وہ جب سے آئی ہے سوئے جا رہی ہے مجھے اس کو جاگتے ہوئے دیکھنا ہے وہ ہر وقت سوتی رہتی ہے”
درید ثمن سے بولتا ہوا کچن سے باہر جانے لگا
“درید رکو زمل کو بالکل بھی نہیں جگانا وہ جاگ گئی تو رو رو کر تابندہ کو تنگ کرے گی۔۔۔ آپ جا کر چھپو میں آپ کو ڈھونڈتی ہوں۔۔ لیکن پھر اس کے بعد آپ مجھ سے کھیلنے کی بالکل بھی ضد نہیں کرے گیں اوکے”
ثمن تیار ہوا سیلڈ فریج میں رکھتی ہوئی بولی درید خوشی خوشی چھپنے کے لیے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر چھت پر چلا گیا
*****
“کیا کر رہے ہیں اعظم پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔ یہ سب کرنے کے لئے آپ نے مجھے اوپر چھت پر آنے کے لئے بولا تھا”
تابندہ اعظم کے ہاتھ اپنے بازوؤں سے ہٹاتے ہوئی اس سے بولی
“ہاں یہی سب کرنے کے لیے بلایا تھا کیوں نظر انداز کر رہی ہو تم مجھے، میرا فون کیوں نہیں اٹھاتی۔۔۔ تابی تم اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں محبت کرتا ہوں تم سے”
اعظم بے قرار لہجے میں تابندہ سے بولتا ہوا اسے اپنے حصار میں لینے لگا مگر اس سے پہلے ہی تابندہ نے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا
“اگر آپ مجھ سے محبت کرتے تو شادی بھی مجھ سے کرتے، ثمن سے نہیں۔۔۔ پلیز اعظم اس طرح روز فون مت کیا کریں کہیں خاور کو شک نہ ہو جائے،، کیا جانتے نہیں ہیں آپ اپنے دوست کی طبعیت کو”
تابندہ اعظم سے التجائی انداز میں بولی بار بار اس کا دھیان سیڑھیوں کی طرف جا رہا تھا اسے خدشہ تھا کہ ثمن اس کو تلاش کرتی ہوئی کچن سے چھت پر ہی نہ آجائے
“تم اچھی طرح جانتی ہوں ثمن سے شادی کرنا میری مجبوری تھی گھر والوں نے مجھے کس حد تک مجبور کیا تھا ثمن سے شادی کرنے کو، ورنہ مجھے اس سے رتی برابر بھی محبت نہیں ہے نہ ہو سکتی ہے۔۔۔۔ صرف احساس کرتا ہوں میں اس کا کیونکہ وہ میرے بیٹے کی ماں ہے۔۔۔ محبت مجھے صرف تم سے ہے اور تم سے ہی رہے گی”
اعظم اب تابندہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا تو تابندہ خاموشی سے اس کو دیکھنے لگی
“ایسا مت کریں اعظم، میں بھی اب شادی شدہ ہوں ایک بیٹی ہے میری۔۔۔ آپ کے ہی دوست سے شادی ہوئی ہے میری۔۔۔ بہت غلط کیا آج میں نے جو میں آپ کے بلانے پر یہاں آ گئی”
تابندہ اپنے چہرے سے اعظم کے ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔۔۔ اعظم کی باتیں اسے پِگلا رہی تھی،۔۔ وہ پگلنا نہیں چاہتی تھی اس لئے واپس جانے کے لیے پر تولنے لگی۔۔۔ اعظم نے اس کا ارادہ بھانپ کر فوراً تابندہ کو بازو پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا
“کس انسان کے لیے مجھ سے دور جانا چاہتی ہوں، وہ انسان جو وفا کے لائق ہی نہیں ہے۔۔۔ خاور کا خود کسی دوسری عورت کے ساتھ افیئر ہے۔۔۔ تم اگر یہ سمجھ رہی ہو کہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں تو چند دن ٹھہر جاؤ میں نے تمہارے شوہر اور اس عورت کے ساتھ رنگے ہاتھوں نہ پکڑ لیا تو میرا نام بدل دینا۔۔۔ تابندہ پلیز یوں مجھ کو اور میری محبت کو نظر انداز مت کرو”
اعظم تابندہ کو دونوں شانوں سے پکڑتا ہوا بےبسی سے بولا۔۔۔ تابندہ خود بھی جانتی اعظم بالکل درست کہہ رہا ہے خاور کے بدلے ہوئے رنگ اور تیور اس کی آنکھوں سے پوشیدہ ہرگز نہیں تھے مگر وہ خود خاور کی جھگڑالو طبیعت کو دیکھ کر اس سے لڑائی جھگڑا کرکے بات کو بڑھا نہیں سکتی تھی
“کیوں مشکلات پیدا کر رہے ہیں آپ اپنے لیے بھی اور میرے لیے بھی۔۔۔ جبکہ اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے آپ اچھی طرح جانتے ہیں”
تابندہ نم لہجے میں اعظم کو دیکھتی ہوئی بولی تو اعظم نے اسے اپنے حصار میں لے لیا
“میں بہت جلد کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گا۔۔۔ جس سے ہم دونوں ہمیشہ کے لئے ایک ہو جائے گیں میں خود بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا”
اعظم تابندہ کو حصار میں لے سرگوشانہ انداز میں بولا
ان دونوں کو اندازہ تک نہیں ہو سکا ایک معصوم ذہن چھت پر کمرے میں چھپا ہوا ان دونوں کو دیکھتا ہوا اپنے ننھے سے ذہن میں کئی سوال پال رہا ہے
****
پسینے سے تر چہرہ لئے وہ نیند سے اچانک سے جاگا آنکھوں میں عجیب وحشت کا عالم لیے وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا اس خواب کو سوچنے لگا جس کی حقیقت اب ماضی کے پنوں میں دب چکی تھی۔۔۔ اس خواب کو وہ اپنے ذہن سے نوچ کر کہیں دور پھینک بھی نہیں سکتا تھا یہ وہ تلخ حقیقت تھی جس کو وہ سوچ کر خود اذیت کا شکار ہوتا
اور ایسا بھی ہرگز نہیں تھا کہ وہ لندن آنے کے بعد زمل سے مکمل طور پر غافل اور بےخبر ہو گیا تھا۔۔۔ یہاں گرینی کی طبیعت کا سن کر وہ ان کے پاس آ تو گیا تھا مگر اس نے پچھلے چار سالوں میں زمل کی ایک ایک حرکت و سکنات پر یہاں بیٹھے نظر رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اس کے باہر آنے جانے سے لے کر یونیورسٹی فیلو کے ساتھ گھومنا پھرنا۔۔۔ زمل کا ہر پروگرام درید کو اسی طرح تصویروں کے ذریعہ سے معلوم ہوتا رہتا۔۔۔ مگر آج جو تصویریں اس کو موصول ہوئی تھی وہ درید کو آگ لگانے کے لئے کافی تھی
وہ لڑکا اسی کا ہم عمر تھا بلکہ زمل کا کلاس فیلو جسے درید نے پہلے بھی کئی بار تصویروں میں دیکھا تھا۔۔۔ لیکن اس وقت کافی شاپ میں زمل کے ساتھ صرف وہی موجود تھا اور ٹیبل پر رکھے زمل کے ہاتھ پر اس نے ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔ جسے سوچ کر درید کے دماغ کی نسیں پھٹی جارہی تھی۔۔۔
کیا زمل اس ڈر کو فراموش کر بیٹھی تھی جو وہ یہاں آنے سے پہلے اس کے اندر بٹھاکر آیا تھا یا پھر جیسا کچھ اس تصویر میں دکھ رہا تھا بات ویسی نہیں تھی۔۔ کیوکہ زمل بھی اس کی نیچر اور اس کے مزاج کو اچھی طرح جانتی تھی درید کو نہیں لگتا تھا وہ ایسا کچھ کر کے اپنے آپ کو تکلیف سے دوچار کرتی، یہ بھی ہوسکتا تھا یہ تصویر والا لڑکا ہی زمل میں دلچسپی رکھتا ہو، بات جو بھی تھی اعظم کی طبعیت کے علاوہ بھی اب اسے اصل حقیقت جاننے کے لیے پاکستان جانا تھا ابھی درید سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا تب اس کا موبائل بجنے لگا یہ کال پاکستان سے آرہی تھی اس کے گھر کے نمبر سے
“ہیلو”
پہلا خیال اعظم کا آتے ہی درید نے فوراً کال ریسو کی۔۔۔ مگر دوسری طرف چار سال بعد درید کی آواز سن کر زمل کی اپنی سانسیں تھمنے لگی
“زمل”
وہ فوراً ہی زمل کو پہچان گیا تھا اس لیے بےقرار سا اس کا نام پکار بیٹھا
“بات کرو مجھ سے زمل، میں بہت اکیلا محسوس کر رہا ہو خود کو”
درید کی آواز میں بےبسی محسوس کر کے بھی وہ خاموش رہی یہ کال بھی آج اس نے اعظم کے کہنے پر کی تھی مگر منہ سے بولنے کے لیے اس سے لفظ ادا نہیں ہو پا رہے تھے جبکہ دوسرے فریق کی بےبسی بےقراری اب غصے میں ڈھلنے لگی تھی
“بول کیو نہیں رہی ہو تم بات کرو مجھ سے۔۔۔ بتاؤ مجھے آخر ایسا کیا کر دیا ہے میں نے تمہارے ساتھ جو مجھے یوں سزا دے رہی ہو”
درید غصے میں زور سے چیخا تو بھی زمل ریسیور کان سے لگائے خاموش کھڑی رہی۔۔۔ وہ اتنا سب کچھ کر کے اس سے پوچھ رہا تھا آخر اس نے ایسا کیا کردیا۔۔۔ زمل خاموشی سے فون رکھ چکی تھی جبکہ کال ڈسکنیکٹ دیکھ کر درید کا غصہ آسمانوں کو چھونے لگا اس نے اپنا موبائل سامنے آئینے پر کھنچ کر مارا تو اس آئینے میں دراڑ پڑ گئی
****
