Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 19)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“یہاں آؤ تم دونوں”
تھوڑی دیر بعد درید آفس کے لیے تیار ہوتا ہوا سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔۔۔ زمل ابھی تک اوپر والے اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔۔ درید نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے ان دونوں بہن بھائیوں کو بلایا جو تھوڑی دیر پہلے اسے زمل کے کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں جاتا ہوا دیکھ کر حیرت سے منہ تک رہے تھے
“تم دونوں واقعی نہیں جانتے بیسمینٹ میں موجود وہ آدمی کون تھا یا پھر میرے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہ رہے ہو”
درید خادم اور شارقہ کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“درید بھائی آپ قسم لے لو ہم دونوں کو اس بات کا بالکل بھی علم نہیں ہے بڑے صاحب نے اتنے سالوں سے اسے وہاں پر کیوں رکھا ہوا تھا۔۔۔ ہم تو آپ لوگوں کے نوکر ہیں بڑے صاحب کے حکم سے اس کو دو وقت کا کھانا دے دیا کرتے تھے”
خادم کل رات کی طرح ایک بار پھر درید کو یقین دلاتا ہوا بولا جبکہ شارقہ خادم کے ساتھ خاموش کھڑی تھی
“اور زرقون بی ان کو بھی اس بات کا علم نہ ہو، ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ کب تک واپسی ہے ان کی بلکہ ایسا کرو آج ہی انہیں کال کر کے بولو درید یہاں آیا ہوا ہے وہ آپ کو یاد کر رہا ہے، وہ جیسے ہی واپس آۓ انہیں فوراً میرے پاس بھیجو”
درید خادم کو دیکھتا ہوا بولا ایسا ممکن نہیں زرقون بی کو کچھ معلوم نہ ہو وہ ناصرف اعظم اور ثمن کو اچھی طرح جانتی تھیں بلکہ اسے دھندلا سا یاد پڑتا تھا اعظم اور ثمن کے ساتھ تابندہ اور خاور بھی یہاں پر آئے تھے جب تابندہ خاور کی بیوی ہوا کرتی تھی
“اور ایک بات اور بھولے سے بھی اس آدمی کی موت کا بڑی بیگم صاحبہ یا چھوٹی بی بی کو علم نہیں ہونا چاہیے ورنہ تہہ خانے میں جو جگہ خالی ہے وہاں میں تم دونوں کو ڈال دوں گا سمجھ آ رہا ہے”
درید ان دونوں کو ڈراتا ہوا بولا وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب تک وہ خود اصل معاملے کی تہہ تک پہنچے زمل کو کچھ بھی معلوم ہو۔۔۔ ویسے تو خاور زمل کو یاد نہیں تھا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ زمل کو کوئی بھی ایسی خبر ہو جو اسے دکھی کرے، درید کی بات سن کر خادم اور شارقہ جا چکے تھے جبکہ زمل ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھامے سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آ رہی تھی جس سے درید نے اندازہ لگایا اس کا باہر جانے کا پروگرام تھا
“آپ ابھی تک آفس نہیں گئے”
زمل ڈائننگ ٹیبل کے پاس آکر درید سے مخاطب تھی مگر وہ دیکھ بائیں جانب سے کچن میں رہی تھی جہاں اس وقت شارقہ موجود تھی
“یہاں میری طرف دیکھ کر بات کرو کیا ابھی بھی شرما رہی ہو مجھ سے”
درید زمل کا چہرہ دیکھنے کے ساتھ،،، نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا تو زمل درید کو گھورنے لگی
“اب ایسے کیا آنکھیں دکھا رہی ہو تھوڑی دیر پہلے تو شرم سے آنکھیں نہیں کھل رہی تھی تمہاری میرے سامنے”
درید بولنے کے ساتھ ساتھ زمل کے فیس ایکسپریشن بھی انجوئے کررہا تھا۔۔۔ تب زمل درید کو مزید گھور کر دیکھنے لگی یہ درید کے لیے وارننگ تھی کہ اب اگر اس نے کچھ بھی بولا تو وہ درید سے ناراض ہوجائے گی
“اوکے میری جان نہیں تنگ کر رہا یہ بتاؤ کہا جا رہی ہو اگر کہیں باہر جانے کا موڈ ہے تو میں آفس کا چکر بعد میں لگا لیتا ہوں ٹیل می کہاں جانا ہے”
زمل کا ہاتھ اب بھی درید کے ہاتھ میں تھا وہ پیار بھرے لہجے میں زمل سے پوچھنے لگا
“آپ کے ساتھ نہیں جانا مجھے میرا مطلب ہے آپ کو آفس جانا چاہیے دید،، مجھے تو یہی قریبی مارکیٹ تک جانا ہے میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ گی”
زمل اب کی بار درید کو دیکھتی ہوئی نارمل انداز میں بولی۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی درید اسے اکیلا جانے کی پرمیشن دیتا ہے یا نہیں،، وہ جب اپنے اور درید کے رشتے کو قبول کر چکی تھی تو چاہتی تھی درید بھی اس پر بھروسہ کرے
“اوکے چلی جانا، پر ڈرائیور کے ساتھ نہیں میں خادم سے کہہ دیتا ہو وہ تمہیں مارکیٹ تک چھوڑ آئے گا مگر پہلے یہاں بیٹھ کر ناشتہ کرو”
درید نے زمل کو بولتے ہوئے اپنی برابر والی کرسی پر بٹھالیا لگا
“کیا پارلر جانا ہے تمہیں”
درید زمل کی آئی برو کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جو اس وقت صحیح شیپ میں موجود نہیں تھی۔۔۔ درید کی بات سن کر زمل گھور کر درید کو دیکھتی ہوئی بولی
“کتنا غور و فکر کرتے ہیں آپ بھی دید، اور ہاتھ چھوڑیں میرا شارقہ ہر تھوڑی دیر بعد کچن سے ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے”
پیپرز میں بزی ہونے کی وجہ سے اس کا پارلر جانا نہیں ہوا تھا لیکن کل ہی اتفاق سے اس کا اور درید کا برتھ ڈے تھا اسے اپنے لیے تو کچھ نہیں لینا تھا مگر وہ درید کے لیے برتھ ڈے پریزنٹ لینا چاہتی تھی اس وجہ سے اس کا مارکیٹ جانے کا پروگرام بن گیا تھا
“اپنی ہی چیز پر غور و فکر کر رہا ہوں تو پھر کسی دوسرے کو کیا اعتراض”
درید اس کا ہاتھ چھوڑے بغیر گہری میں نگاہؤں سے زمل کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا تو وہ خاموش ہو گئی وہ زمل کو اس وقت بالکل ہی مختلف لگ رہا تھا
“تم جانتی ہو یہ کون ہے میری”
شارقہ ناشتہ لے کر ٹیبل پر رکھنے لگی تو درید شارقہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جو ابھی بھی ٹیبل پر رکھا ہوا درید کے ہاتھ کے نیچے دبا ہوا زمل کا ہاتھ دیکھ رہی تھی
“دید”
زمل نے گھور کر درید کو ٹوکنا چاہا جو اس وقت زمل کی بجائے شارقہ کو دیکھ رہا تھا
“جی چھوٹی بی بی جی تو آپ کے لیے بالکل چھوٹے بےبی کی طرح ہیں آپ بہت پیار کرتے ہیں ان سے بچپن سے، بالکل ایسے ہی”
شارقہ مسکراتی ہوئی تھوڑا شرما کر درید کو دیکھ کر بتانے لگی
“چھوٹے بےبی کی طرح نہیں ہے یہ بیوی ہے میری۔۔۔ اوپر روم کی صفائی کر کے میرا بیگ اسی کے روم میں رکھ دینا”
درید شارقہ کی معلومات میں اضافہ کرنے کے بعد ناشتہ کرنے لگا۔۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ شارقہ اور خادم دونوں جس طرح حیرت سے اسے صبح زمل کے کمرے سے نکلتا ہوا دیکھ رہے تھے وہ دونوں بہن بھائی ہی ان دونوں کے نکاح سے لاعلم تھے
“میں خادم سے بول دیتا ہو وہ تمہیں مارکیٹ تک چھوڑ دے گا، لیکن اگر پارلر جانا ہے تو بس اپنے بالوں کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہے او کے چلتا ہوں”
درید ناشتے کے بعد زمل سے بولتا ہوا باہر نکل گیا
****
زمل خادم کے ساتھ قریبی مارکٹ آئی تھی، یہاں وہ پہلے بھی تابندہ کے ساتھ آتی رہتی تھی اس لیے بغیر کنفیوز ہوئے پارلر کے بعد ایک مخصوص پرفیوم کی دکان کے اندر داخل ہوئی جہاں اس نے شاپ کیپر کو ویلنٹینو پرفیوم دکھانے کو کہا کیوکہ درید یہی پرفیوم زیادہ تر استعمال کرتا تھا
“نہیں کاپی نہیں اس کا اوریجنل چاہیے”
وہ شاپ کیپر کو پرفیوم کی بوتل واپس کرتی ہوئی بولی تو شاپ کیپر اسے پانچ منٹ کا ویٹ کروا کے شاپ سے چلا گیا
“زمل”
زمل دوسرے پرفیوم دیکھنے میں مصروف تھی جبھی اس کی پشت پر کھڑے شخص نے اسے پکارا
“کیف تم یہاں کیا کر رہے ہو”
شاپ کے دروازے پر کھڑے کیف کو دیکھ کر زمل حیرت کا اظہار کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“تمہیں مجھے دیکھ کر خوش ہونا چاہیے تھا لیکن تم خوش ہونے کی بجائے حیران ہو، خیر میں یہاں تمہارے لئے آیا ہوں تم سے ملنے”
کیف شاپ کے اندر داخل ہوتا ہوا زمل کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھ کر بولا
“تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں یہاں پر موجود ہو، تمہیں کس نے بتایا”
زمل اپنی خیریت بتانے کی بجائے الٹا کیف سے یہاں اس کی موجودگی کا سوال کرنے لگی کیونکہ اس نے ثمرن کو منع کیا تھا کہ وہ کیف کو بالکل بھی نہ بتائے کہ وہ کہاں پر ہے
“جن سے دل لگا لیا جائے تو ان کے بارے میں خبر رکھنا کوئی مشکل کام نہیں اس لیے فضول باتوں میں وقت ضائع مت کرو کہ مجھے یہاں تمہاری موجودگی کا کیسے پتہ چلا, تم یہ بتاؤ کہ مجھے نظر انداز کیوں کر رہی ہو بات کیوں نہیں کرتی تم مجھ سے”
کیف مزید زمل کے قریب آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“تم کو سب باتوں کا معلوم تو ہے کہ پھر یہ سوال پوچھنے کا فائدہ، دیکھو کیف سمجھنے کی کوشش کرو ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مزید آگے نہیں چل سکتے ایسا کرنا میرے لئے ممکن نہیں، نہ ہی یہ تمہارے لئے بہتر ہے”
زمل دبے ہوئے لفظوں میں اسے سمجھانے لگی ساتھ ہی اس کی نظر شاپ سے باہر مٹر گشت کرتے لوگوں پر ٹکی ہوئی تھی کسی ڈر کے تحت،، کہیں درید آج پھر ان دونوں کو ایک ساتھ نہ دیکھ لے لیکن زمل کی بات سن کر ایک دم کیف نے اس کو دونوں بازوؤں سے پکڑا تو زمل چونک کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“تو تم اس شخص کے ڈر کی وجہ سے میری محبت فراموش کرنا چاہتی ہو یا پھر تمہیں اس درید اعظم کے ساتھ وقت گزار کر محبت ہو گئی ہے اس سے، بولو۔۔۔۔ زمل ایک بات اچھی طرح جان لو تم مجھے اس شخص کی وجہ سے نظر انداز کرو گی تو میں تمہیں بھی نہیں بخشو گا درید اعظم کے ساتھ ساتھ یہ بات تم اچھی طرح یاد رکھنا مجھ سے بے وفائی کرنے کا سوچنا بھی مت”
کیف کی بات سن کر اور اس کے دھمکی والے انداز پر زمل کو کیف پر غصہ آنے لگا اس نے غصے میں کیف کے دونوں ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکے
“شٹ اپ کیف اپنی حد میں رہو، تم سے محبت کی شروعات میں نہیں کی تھی نہ ہی میں نے تم سے محبت کا دعوی کیا ہے۔۔۔ تمہاری محبت کے اعتراف کرنے پر میں تمہیں اپنے نکاح کی حقیقت بتا چکی تھی۔۔۔ ہاں یہ میں اپنی غلطی تسلیم کرتی ہوں کے اس کے باوجود جب تم نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے تو میں نے تمہارا ساتھ دیا، اس وقت میں غلط تھی بہت غلط کیا میں نے۔۔۔ لیکن اب تمہیں بھی اپنی غلطی مان لینا چاہیے کیف اور اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ میں کسی دوسرے کی عزت ہو۔۔۔ درید مجھ سے اپنا تعلق کبھی بھی ختم نہیں کر سکتے اور شاید میں بھی ایسا ہی چاہتی ہوں۔۔۔ پلیز کیف میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں کہ اگر تم اس بات کو ضد نہ بناؤ تو بات آگےنہیں بڑھے گی۔۔۔ میں اس بات کو مانتی ہوں اگر کسی کے ساتھ فیلنگز جڑی ہو تو سب کچھ ایک دم ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔۔۔ مگر ہم دونوں کی کمیٹمینٹ کو ایک ماہ سے زیادہ نہیں ہوا تھا تم پلیز سب باتوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرو اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہے”
زمل کیف کو سمجھاتی ہوئی بولی جو غصے سے اس کو دیکھ رہا تھا ایک دم بولا
“اصل فساد کی جڑ درید اعظم ہے۔۔۔ وہ ہم دونوں کے بیچ میں آ رہا ہے اور تم اس کی وجہ سے مجھ سے الگ ہونے کا سوچ رہی ہوں اس سے بہتر یہی ہے کہ ہم دونوں مل کر اس کو مار دیتے ہیں۔۔۔ قتل کر دیتے ہیں اس کا، ویسے بھی وہ تم سے اتنی آسانی سے رشتہ ختم کرنے والا نہیں ہے اس کا مرجانا ہی بہتر ہے”
کیف جذباتی پن سے بولا تو زمل نے غصے میں اس کا گریبان پکڑ لیا
“ہمت کیسے کی تم نے دید کے بارے میں اتنی گھٹیا بات کرنے کی۔۔۔ اتنی گری ہوئی سوچ کے مالک ہوں تم کیف کہ اپنی خواہش کے حصول کے لیے کسی کی بھی جان لینے کا سوچوں گے۔۔۔ اتنا آسان ہے تمہارے لئے کسی انسان کی جان لینا یہ انسانیت ہے تمہارے اندر،، ایک بات میری اچھی طرح سن لو کیف،، درید میرے شوہر ہیں نہ ہی میں کبھی ان کو مشکل میں دیکھ سکتی ہوں نہ ہی میں اب ان کو تمہارے لئے چھوڑو گی۔۔۔ بہت اچھا ہوا کہ آج تم نے اپنی منفی سوچوں کو مجھ پر ظاہر کر دیا جس سے میرے دل میں اب تمہارے لیے عزت بھی ختم ہو چکی ہے چلے جاؤ یہاں سے کیف اور اب کبھی میرے سامنے مت آنا”
زمل غصے میں کیف کو دیکھ کر بولی
“او ہو تو یعنی محبت کر بیٹھی ہو تم اس درید اعظم سے۔۔۔ بولو زمل صحیح کہہ رہا ہوں ناں میں”
کیف چھبتے ہوئے لہجے میں اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“ہاں ہو چکی ہے محبت سن لیا تم نے”
زمل دبے ہوئے غصے میں کیف کو دیکھ کر غراتی ہوئی بولی آخر وہ اتنا کیسے گر سکتا تھا کہ درید کے لیے اس سے ایسی بات کرتا
“تمہیں فائنل ایئر کا وہ اسٹوڈنٹ تو یاد ہوگا جس نے محبت کی ناکامی کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنی محبوبہ یعنیٰ اپنی ہی کلاس میٹ کا چہرہ ایسڈ سے بگاڑ دیا تھا اس سے بھی زیادہ برا حشر کرو گا میں تمھارے ساتھ اور وہ تمہارا شوہر درید اعظم روئے گا تمہارا حشر دیکھ کر”
کیف زمل کو دھمکی دیتا ہوا شاپ سے باہر نکل گیا
****
وہ جب سے گھر پہنچی تھی اسے رہ رہ کر کیف کی باتیں اور دھمکی یاد آ رہی تھی جس پر زمل کو افسوس ہو رہا تھا کیف اس حد تک منفی سوچ رکھتا ہے کہ کسی انسان کو ختم کرنے کی بات بھی کر سکتا ہے ساتھ وہ اس کے بارے میں کیسے کہہ رہا تھا کہ وہ اس کا حشر بگاڑ دے گا۔۔۔ زمل نے کیف کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں واصف کو بھی کال کر کے بتا دیا تھا اور اس کی دھمکی کے بارے میں بھی۔۔۔ جس پر واصف نے زمل کو تسلی دی تھی کہ وہ کیف سے بات کرے گا اور اسے سمجھائے گا۔۔۔ اسے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی درید کے سامنے وہاں کیف کی موجودگی کا ذکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے درید اور اس کے بیچ معاملات نہ خراب ہوجائے
شام میں درید آفس سے گھر لوٹا تو زمل اس سے خوش ہوکر ملی اس کے باوجود درید نے اسے خاموشی کا نوٹس لیا،، زمل سے اس کی خاموشی کی وجہ پوچھی تو وہ مسکرا کر ٹال گئی۔۔۔ رات کو ڈنر کے بعد زمل اوپر اپنے کمرے میں آ گئی جبکہ اسے خبر نہیں تھی درید نیچے کیا کر رہا تھا۔۔۔ تابندہ سے موبائل پر بات کرنے کے بعد وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی بُک پڑھنے میں مگن تھی کتنا وقت گزر چکا تھا اسے خبر نہیں ہوئی۔۔۔ درید اوپر کمرے میں اس کے پاس آیا
“ہیپی برتھ ڈے مائی ڈارلنگ”
درید کے وش کرنے پر زمل چونک کر پلٹتی ہوئی درید کو دیکھنے لگی وہ دروازے کے پاس کھڑا ہوا مسکرا کر زمل کو ہی دیکھ رہا تھا
“اووو بارہ بج بھی گئے مجھے خبر ہی نہیں ہوئی ہم دونوں کی برتھ ڈے اسٹارٹ ہوگئی ہے ہیپی برتھ دے دید”
زمل گھڑی پر نظر ڈال کر بیڈ سے اٹھتی ہوئی درید کے پاس آکر بولی تو درید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچتے ہوئے زمل کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کر کے زمل کو اپنے حصار میں لیا
“قریب آ کر ٹھیک سے وش کروں مجھے”
درید کی فرمائش سن کر زمل غور سے درید کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ پہلی بار شاید وہ مختلف انداز میں درید کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ثمرن اور نشاہ ٹھیک ہی کہتی تھی وہ کافی ہنڈسم تھا اس بات کا پہلے کبھی اس نے غور ہی نہیں کیا تھا
“آج کا دن آپ کو بہت بہت مبارک اللہ پاک آپ کو لمبی عمر اور ڈھیر ساری خوشیاں عطا کرے”
کیف کی صبح والی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے زمل درید کو لمبی عمر کی دعا دینے لگی
“میری خوشی تو صرف تمہارے ساتھ میں ہے مائی لیڈی لو یو سو مچ”
درید نے بولتے ہوئے زمل کی پیشانی پر اپنا پیار بھرا لمس چھوڑا تو زمل کو اپنا آپ معتبر محسوس ہونے لگا
درید نے اس کے ماتھے سے اپنے ہونٹوں ہٹائے زمل اب بھی ویسے ہی آنکھیں بند کیے کھڑی تھی، درید زمل کو ایسے کھڑا دیکھ کر اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجانے لگا جس پر زمل نے ایک دم اپنی آنکھیں کھولی
“کہاں گم ہو گئی”
درید غور سے زمل کا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا تو وہ شرمندہ ہو کر بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے کرتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔ درید اسکے بدلے ہوئے انداز کو صبح سے نوٹ کر رہا تھا اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا وارڈروب کی طرف بڑھا اور اپنے بیگ سے ایک ڈریس نکال کر زمل کے پاس لایا تو وہ سوالیہ نظروں سے درید کو دیکھنے لگی
“برتھ ڈے گرل کے لیے ڈریس ہے، جاؤ جلدی سے چینج کر کے آؤ”
درید کی فرمائش پر زمل وہ بلیک کلر کی لونگ میکسی اس کے ہاتھ سے لے کر چینج کرنے چلی گئی
میکسی میں مبلوس وہ کمرے میں واپس آئی تو درید اسی کے انتظار میں کمرے میں کھڑا تھا۔۔۔ وہ زمل کو دیکھ کر چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کے بندھے ہوئے بالوں کھول دیئے، زمل کے بال کمر پر بکھر گئے۔۔۔ وہ زمل کا پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے آیا۔۔۔ زمل خاموشی سے درید کا ہاتھ تھامے سیڑھیوں سے اتر رہی تھی مگر اس کی نظریں نیچے سجے ہوئے کمرے پر مرکوز تھیں جسے بلونز اور لائٹز سے ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا
“یہ سب آپ نے کیا ہے دید”
زمل آخری سیڑھی پر کھڑی چاروں طرف نظریں دوڑاتی ہوئی درید سے پوچھنے لگی
“نہیں خادم اور شارقہ نے کیا ہے”
درید کے الٹے جواب پر زمل آنکھیں دکھاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی
“اف کورس میری جان آج پورے چار سال بعد ہم دونوں اکٹھے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی برتھ ڈے منائیں گے پھر تھوڑا بہت تو اسپیشل کرنا ہی تھا، آؤ کیک کاٹیں”
درید مسکرا کر کہتا ہوا زمل کا نازک ہاتھ تھام کر اسی ڈائننگ ٹیبل کی طرف لے آیا جہاں پر اس کا پسند کا چاکلیٹ پینٹ بٹر کیک موجود تھا جو ہر سال درید زمل کی برتھ ڈے پر اس کے لیے لاتا تھا۔۔۔ درید لائٹر کی مدد سے کیک پر لگی ہوئی پھولوں کی شکل میں میوزک کینڈل جلانے لگا۔۔۔ زمل غور سے درید کو دیکھنے لگی وہ ساری زندگی اس کو یہی ویلیو دے گا،، اس کی کیئر کرے گا مگر کیئر یہ تو اس کی ہمیشہ سے کرتا آیا تھا اور محبت بھی۔۔۔ جس کو وہ خود بھی دعوے دار تھا،، بدلے میں وہ خود کیا چاہتا تھا صرف زمل سے اس کا عمر بھر کا ساتھ۔۔۔۔ شاید یہ سودا اس کے لیے اتنا مہنگا نہیں تھا جتنا پہلے اسے لگ رہا تھا
“اب کیا سوچنے لگ گئی ڈارلنگ، چلو کیک کاٹو”
درید کی آواز پر ایک بار زمل پھر چونکی درید ہاتھ میں نائف لیے کھڑا تھا،، زمل درید کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ کیک کاٹنے لگی
“مینی مینی ہیپی ریٹن اف دس ڈے مائی ڈیئر وائف”
درید نے بولتے ہوئے کیک کا چھوٹا سا ٹکڑا زمل کے منہ کی طرف بڑھایا جسے درید کے ہاتھ سے کھانے کے بعد زمل کیک کا بڑا سا پیس درید کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی
“تھینک یو مائی ڈیئر ہسبنڈ”
درید صرف ایک سیکنڈ کے لئے زمل کے انداز پر اسے دیکھ کر مسکرایا پھر زمل کے ہاتھ سے کیک کھانے لگا
“میں آج آپ کے لیے کوئی گفٹ ہی نہیں لے سکی دید”
درید زمل کے گلے میں نیکلیس پہنا رہا تھا تب زمل افسوس کرتی ہوئی درید کو بتانے لگی۔۔۔ کیونکہ کیف کی باتوں سے وہ اتنی ڈسٹرب ہو گئی تھی کہ پرفیوم لیے بغیر مارکیٹ سے سیدھا گھر چلی آئی تھی
“آج سے بیس سال پہلے میری برتھ ڈے والے دن پیدا ہوکر تم مجھے اپنا آپ گفٹ کر چکی ہوں میرے لیے یہی بہت ہے”
نیکلس پہنانے کے بعد درید اس کا چہرہ تھام کر بولا۔۔۔ زمل چہرہ نیچے کر کے اپنے گلے میں خوبصورت سا نیکلس دیکھنے لگی جس میں لگے ڈائمنڈ اس کی گردن میں جگمگا رہے تھے
“وہ الگ بات ہے لیکن مجھے گفٹ لینا چاہیے تھا”
زمل نیک لیس کو دیکھتی ہوئی ایک بار پھر اداسی سے بولی۔۔۔کیوکہ درید پچھلے چار سالوں سے اس کی ناراضگی اور بات چیت بند ہونے کے باوجود اسے لندن سے اس کی برتھ ڈے پر ہر سال گفٹ بھیجتا آیا تھا۔۔۔ اس لیے زمل کو افسوس ہو ریا تھا کہ آج کم از کم اسے خالی ہاتھ گھر نہیں آنا چاہیے تھا
“تو اس میں اتنا اداس ہونے کی کیا ضرورت ہے تم ابھی بھی مجھے گفٹ دے سکتی ہو”
درید کی بات سن کر زمل نیکلیس سے نظریں ہٹاکر درید کو دیکھنے لگی درید ایک بار پھر زمل کو اپنے حصار میں لے کر اس کے ہونٹوں کو دیکھنے لگا
“یہ میرے لئے تھوڑا مشکل ٹاسک ہے جو آپ ہر بار بہت آسانی سے اور مزے سے انجام دے لیتے ہیں۔،۔ اس لیے آپ کل میرے ساتھ مارکٹ چلئے گا اور وہی سے اپنے لئے گفٹ چوز کرلیے گا”
زمل درید کی نگاہوں کو دیکھ کر اس کا اشارہ سمجھتی ہوئی درید سے بولی جس پر درید نے زور کا قہقہہ لگایا
“مجھے تم سے اپنا گفٹ لینے کے لیے کل تمہارے ساتھ مارکیٹ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اپنا گفٹ میں تھوڑی دیر بعد بیڈ روم میں جاکر خود لے سکتا ہوں۔۔۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ ٹاسک بھی تمہارے لئے مشکل ہی ہوگا”
درید کی بات کا مفہوم سمجھ کر زمل کا چہرہ بری طرح بلش کرنے لگا اور نگاہیں خود بخود جھک گئی
“اور مجھے آپ سے پوری امید ہے وہ ٹاسک بھی آپ پوری آسانی سے سرانجام دے دیں گیں”
زمل نے بولتے ہوئے اب کی بار درید کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔۔۔ زمل کی بات سن کر درید خوشگوار انداز میں مسکرایا
“لیٹس ڈانس”
اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر سونگ پلے کرتا ہوا وہ زمل کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر بولا
*****
جب وہ اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا بیڈ روم میں لایا تو زمل کی زبان تالو سے چپک چکی تھی، ورنہ اس سے پہلے وہ درید کے ساتھ کپل ڈانس کرتی ہوئی نہ صرف مسکرا رہی تھی بلکہ اپنے بلکہ اپنی پچھلی گزری ہوئی سالگرہ کے دنوں کو یاد کر کے درید کے ساتھ شئیر کر کے خوش ہو رہی تھی۔۔۔۔ اعظم کے ذکر پر وہ اغظم کو مس کرکے اداس ہوئی تھی مگر درید نے اسے زیادہ دیر اداس نہیں رہنے دیا، اپنی اس برتھ ڈے کو اکیلے ہی سہی مگر گزرے دنوں کو یاد کرکے ان دونوں نے انجوائے کیا
درید نے زمل کو بیڈ روم کے دروازے پر لا کر کھڑا کیا تو وہ کنفیوز ہو کر درید کو دیکھنے لگی۔۔۔ درید خود بھی اس کو خاموش نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
“میں چینج کرکے آتی ہوں”
درید کا یوں خاموش کھڑے ہو کر اسے دیکھنا مزید کنفیوز کرنے لگا۔۔۔ جبھی زمل اس سے بولتی ہوئی کمرے سے جانے لگی مگر درید نے اس کا کلائی پکڑی
“اور میرے گفٹ کا کیا ہوگا”
درید کے سنجیدگی سے پوچھنے پر زمل اپنی پلکیں جھکا گئی
درید نے اس کا چہرہ تھام کر اوپر کیا تو زمل نے فوراً اپنی آنکھیں زور سے بند کرلی۔۔۔ درید زمل کے چہرے اور سراپے کو بےخود سا دیکھنے کے بعد اسے دوبارہ باہوں میں اٹھا کر بیڈ تک لایا، بیڈ پر لیٹنے کے ساتھ ہی زمل نے شرم کے مارے اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا، درید زمل کی پشت کو دیکھتا ہوا اپنی جیکٹ اتار کر صوفے پر پھینکتا ہوا زمل کے نازک سراپے پر جھک گیا
درید کا اپنے اوپر جھکاؤ محسوس کر کے زمل کی ڈھڑکن تیز ہونے لگی، جو نارمل ہونے کی بجائے درید اپنی بےباکیوں سے مزید بڑھانے لگا۔۔۔ درید ذرا سا اٹھ کر زمل کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا اس کی گردن پر جھگ گیا مگر تھوڑی دیر میں زمل اس کی گستاخی پر درید کے دونوں بازوں پکڑ چکی تھی
“درید”
اپنی دونوں آنکھیں بند کیے اسکی شدتوں کی تاب نہ لاتی ہوئی بے ساختہ زمل نے درید کو اس کے اصل نام پکارا جس پر درید زمل پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتا ہوا اس پر مکمل قابض ہوگیا۔۔۔ اب زمل کے پاس اسکی دیوانگی برداشت کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی درید کی اپنی لیے دیوانگی محسوس کرنے لگی
****
