436.8K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 16)

Deewangi By Zeenia Sharjeel

“کیا حماقت کی تھی کل رات تم نے زمل کے کمرے میں جا کر اس کے سامنے۔۔۔ میں تو تمہیں اچھا خاصا میچور انسان سمجھتی تھی لیکن تمہارا جذباتی پن دیکھ کر تو مجھے اب زمل کے ساتھ ساتھ تمہاری بھی فکر ہو رہی ہے”

تابندہ صبح ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھی جب درید آفس جانے کے لئے تیار ہو کر ڈائننگ ہال میں آیا تو وہ اسے دیکھ کر شروع ہوگئی

“کون سی حرکت کی بات کر رہی ہیں آپ، اچھا وہ ریوالور والی۔۔۔ وہ ریولور تو خالی تھا۔۔۔۔ کیا ہوا اب ایسے کیوں گھور رہی ہیں مجھے،، آپ کی بیٹی کے لیے جذباتی ضرور ہو مگر بےوقوف نہیں کہ اپنی جان لے لوں”

درید کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھتا ہوا نارمل انداز میں بولا تو تابندہ اسے پوری آنکھیں کھول کر درید کو گھورنے لگی پھر کچھ یاد آنے پر ایک دم بولی

“ویسے کل تم زمل سے یہ بھی کہہ رہے تھے وہ خلع کا حق اپنے پاس محفوظ نہیں رکھتی ہے یعنی وہ اپنی مرضی سے خلع نہیں لے سکتی”

تابندہ ناشتے سے ہاتھ کھینچ کر درید کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“تو یہ بات اتنا اونچا بولنے کی کیا ضرورت ہے آہستہ تو بولیں،، جاگ چکی ہوگی زمل اور پلیز اگر میں نے اس سے ایسا کچھ بولا بھی ہے تو آپ جانتی ہیں اس کا مقصد یہی ہے کہ وہ خلع کا خیال اپنے دل و دماغ سے نکال دے”

درید تابندہ کو دیکھ کر خود بھی آہستہ آواز میں وضاحت دیتا ہوا بولا

“یعنی تم میری بیٹی کو گن پوائنٹ پر اپنے ساتھ رشتہ رکھنے پر مجبور کرو گے”

تابندہ درید سے سیریس ہو کر پوچھنے لگی

“کیوں آپ ایسا نہیں چاہتی کہ میرا اور زمل کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے۔۔۔ ویسے بھی آپ کی بیٹی میری بیوی ہے، اگر وہ اپنے لیے کوئی غلط راستے کا انتخاب کرے گی تو اسے عقل دلانا میرا فرض ہے۔۔۔ میں گن پوائنٹ پر اگر اسے اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور کر رہا ہو تو وجہ بھی آپ جانتی ہیں”

درید تابندہ کو بولتا ہوا ناشتہ کرنے لگا

“وجہ یہی ہے کہ تم اس کو بچپن سے پسند کرتے ہو مگر زمل کی پسند۔۔۔ اس کا کیا؟؟”

تابندہ کی بات سن کر درید ناشتے سے ہاتھ روکتا ہوا اسے دیکھنے لگا

“جانتی کیا ہیں آپ اس لڑکے کے بارے میں معلوم ہے آپ کو وہ کون ہے۔۔۔ اور یہاں زمل کی پسند بیچ میں کہاں سے آگئی وہ منکوحہ ہے میری۔۔۔ صرف وہ اپنے اور میرے رشتے کو سمجھ نہیں پارہی ہے محبت وہ بھی مجھی سے کرتی ہے”

درید ماتھے پر بل لائیے تابندہ کو جتاتا ہوا بولا

“مجھے کیا کرنا ہے اس لڑکے کے بارے میں جان کر۔۔۔۔ درید میں مانتی ہوں کل زمل نے اپنی باتوں سے تمہیں ہرٹ کیا ہوگا وہ غلطی پر بھی تھی مگر اس کے باوجود میں غصے میں تمہارا ری ایکشن دیکھ کر اپنی بیٹی کے لئے فکرمند ہو چکی ہو”

تابندہ کی بات پر درید کو اپنا غصے میں زمل پر ہاتھ اٹھانا یاد آیا تو ماتھے کے بل خود ہی غائب ہوگئے

“بات اتنی سی ہے میں اسے کسی دوسرے کے ساتھ بالکل برداشت نہیں کر سکتا،، نہ ہی اپنے اور زمل کے رشتے کو ختم کر سکتا ہوں۔۔۔ ہاں مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ میں اس کے ساتھ غصے میں کافی مس بی ہیو کر چکا ہوں جس کا مجھے احساس ہے آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا”

درید نے بولنے کے بعد کافی کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا

“میں بس یہی چاہتی ہوں کہ تم دونوں ایک ساتھ خوش رہو”

تابندہ بولتی ہوئی دوبارہ ناشتہ کرنے لگی

“اس معاملے میں ہم دونوں کی سوچیں ایک دوسرے سے کافی ملتی ہیں کیوکہ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ ہم دونوں ایک ساتھ خوش رہیں۔۔۔ میں دیکھ کر آتا ہوں زمل کو وہ جاگ چکی ہوگی”

درید تابندہ کو بولتا ہوا کرسی کھینچ کر اٹھ گیا اور زمل کے کمرے میں جانے لگا

*****

اپنے روم کے ٹیرس پر کھڑی ہو پچھلے بیس منٹ سے کیا کچھ سوچ چکی تھی اس کے پاس یہ حق محفوظ نہیں تھا کہ وہ خلع لے کر آزادی سے جی سکے۔۔۔ درید کو بچانے کے بعد اس سے آزادی لینے کے لیے کیا اسے خود سوسائڈ کر لینا چاہیے تھی یا پھر کہیں بہت دور چلے جانا چاہیے تھا جہاں اسے کوئی پہچان نہ سکے یا پھر وہی کرنا چاہیے تھا جیسا درید اور تابندہ چاہتے تھے آخر وہ خود کیوں نہیں چاہتی تھی ایسا۔۔۔ کیا وجہ اس کی کیف سے محبت تھی یا پھر درید کی بے جا پابندیاں اور دیوانگی جس سے وہ پریشان ہو جاتی

کل تابندہ اس سے نہ صرف اس کا موبائل لے چکی تھی بلکہ اس کے یونیورسٹی جانے پر بھی تابندہ نے پابندی لگا دی تھی صرف اسے سمسٹر میں پیپر دینے کی اجازت تھی۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے لینڈ لائن پر ثمرن کی کال آئی تھی جو کہ اتفاق سے اس نے اپنے کمرے سے باہر نکل کر ریسیو کرلی تھی۔۔۔ ثمرن نے اس کو کیف کا میسج دیا تھا کیونکہ وہ کل شام سے کیف کی کال ریسیو نہیں کر رہی تھی، کیف اس کے کال ریسیو نہ کرنے کی وجہ سے کافی پریشان تھا صرف زمل کی خاطر اس نے درید کی کمپلین پولیس میں نہیں کروائی تھی ورنہ جو حرکت درید اس کے گھر میں آ کر، کر کے گیا تھا وہ ہرگز قابل معافی نہیں تھی۔۔۔ بقول ثمرن کے کیف نے اس سے کہا تھا کہ وہ زمل کے ساتھ ہے وہ کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑنے والا، بس زمل کو ہی کسی طرح درید سے اپنا رشتہ ختم کرنا ہے باقی کی منزل ان دونوں کے لئے آسان ہے اور کیف کی یہ سب باتیں بتانے کے بعد ثمرن نے زمل سے یہی کہا تھا کہ وہ کیف فضول باتوں کو بالکل بھی سیریس نہ لے اور اپنے پیپرز پر دھیان دے۔۔۔ ابھی زمل یہی ساری باتیں سوچ رہی تھی تب اس نے چونک کر اپنے پیٹ کی جانب دیکھا۔۔۔ جہاں درید کے ہاتھ اس کے پیٹ کے گرد لپٹے ہوئے تھے۔۔۔ وہ زمل کے پشت پر کھڑا اس کے بالوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتر رہا تھا۔۔۔ زمل خاموش کھڑی اس کے ہاتھوں کی حرکت محسوس کرنے لگی، جو اس کے گاؤن کی کُھلی ڈوری کو پیٹ پر کس رہے تھے

“میں اپنی ہر صبح کی شروعات اسی طرح تمہیں اپنی باہوں میں لے کر کرنا چاہتا ہوں مائی لو،، تمہارے سمسٹر کمپلیٹ ہوجائے تو میں نے سوچ لیا ہے اس کے بعد ہمیں اپنی میرڈ لائف کا آغاز کرنا چاہیے۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں”

درید زمل کی پشت پر کھڑا اسے اپنے بازوؤں میں بھرے اس سے اس کی مرضی جاننے لگا۔۔۔ بات کرتے ہوئے بادستور درید کے ہونٹ زمل کے بالوں کو چھو رہے تھے

“ٹھیک ہے”

زمل درید کی بات پر مختصر سا جواب دے کر اپنے گرد لپٹے درید کے بازوؤں کا حصار توڑتی ہوئی اندر کمرے میں چلی آئی۔۔۔

زمل کو ٹھیک ہے کہنا ہی مناسب لگا ویسے بھی اگر اس کی مرضی نہ بھی ہوتی درید تب بھی زمل سے اپنی ہی منواتا۔۔۔ جیسے وہ شروع سے کرتا آیا تھا

“زمل یہاں آؤ میرے پاس”

درید خود بھی کمرے میں آ کر زمل کو دیکھتا ہوا بولا وہ وارڈروب کی طرف بڑھ رہی تھی

“آپ یہی سے بول دیں دید میں سن رہی ہو آپ کی بات”

زمل درید کو دیکھے بغیر اسے بولی اور وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی درید چلتا ہوا اس کے پاس آیا،، وارڈروب کا دروازہ بند کرکے زمل کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے صوفے تک لایا خود صوفے پر بیٹھتا ہوا وہ زمل کو اپنی تھائی پر بٹھا چکا تھا

“کل جو بھی کچھ ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا، جانتا ہوں میں بہت زیادہ اگرسیو ہوگیا تھا کیوکہ بات ہمارے رشتے کی تھی اس لیے غصے میں کچھ زیادہ ہی مس بی ہیو کر بیٹھا، مگر تمہیں بھی تو سوچنا چاہیے یار تم میری بیوی ہوکر کسی یوں کسی دوسرے کے بارے میں۔۔۔۔ خیر میں کل کی باتوں کو دھرانا نہیں چاہتا اب بہتر یہی بہتر ہے کہ ہم دونوں ہی کل والی باتوں کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں”

درید زمل کی کمر کے گرد اپنا بازو لپیٹے اسے پیار سے سمجھانے لگا جبکہ زمل خاموشی سے درید کو دیکھتی ہوئی اس کی بات سن رہی تھی

“ٹھیک ہے میں کل والی ساری باتیں جو میں نے آپ سے کہی اسے اپنے دل اور دماغ سے نکال دیتی ہوں”

زمل درید کے چہرے کو دیکھنے کی بجائے سامنے دیوار پر ٹنگی وال کلاک میں ٹائم دیکھتی ہوئی اس سے بولی۔۔۔ بالکل رات کی طرح جب درید نے اس سے اپنے لیے پانچ منٹ مانگے تھے

“یہاں دیکھ لو میری طرف ابھی بھی زیادہ وقت نہیں لوں گا تمہارا، خود بھی آفس جانا ہے مجھے۔۔۔ میں جانتا ہوں تم ابھی بھی مجھ سے ناراض ہو بلکہ ناخوش بھی۔۔۔ کیونکہ کل رات کو میں نے ہر دفعہ کی طرح تم سے اپنی بات منوائی مگر زمل میں تمہیں اس طرح اداس بھی نہیں دیکھنا چاہتا ہو لیکن تمہیں اپنے آپ سے دور کرنے کا تو حوصلہ بھی نہیں ہے مجھ میں۔۔۔ پلیز میری جان میرا یقین کرو میں تمہیں ساری زندگی خوش رکھوں گا آئی پرامس”

اب وہ زمل کے گال پر پیار سے اپنا ہاتھ رکھتا ہوا اسے اپنا یقین دلانے لگا

“مجھے ناخوش دیکھ کر میری خوشی چاہتے ہیں آپ تو پھر مجھے یونیورسٹی جانے کی پرمیشن دے دیں”

زمل درید کا ہاتھ اپنے گال سے ہٹاتی ہوئی ایک دم سے بولی جیسے اسے آزمانا چاہتی ہو زمل کی بات پر درید ایک پل کے لیے خاموش ہوا زمل اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگی

“اوکے ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ”

درید کے بولنے پر زمل غور سے اس کو دیکھنے لگی اسکو بالکل بھی امید نہیں تھی کہ درید اتنی آسانی سے اس کی بات مان لے گا۔۔۔ وہ درید کے پاس سے اٹھنے لگی تب درید نے زمل کا بازو پکڑا

“میں مانتا ہوں کہ غصے میں میرا ری ایکشن بہت سخت ہوجاتا ہے لیکن میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں۔۔۔ صرف اور صرف پیار ہی کرنا چاہتا ہوں تمہیں۔۔۔ پلیز کوئی بھی ایسا کام مت کرنا جس سے مجھے دوبارہ غصہ آئے اور میں غصے میں اپنے حواس کھو بیٹھو۔۔۔ جس کی وجہ سے تم ہرٹ ہو اور پھر تمہیں اس طرح اداس دیکھ کر میں خود بھی پریشان ہوجاؤ۔۔۔ تم سمجھ رہی ہو نا میری بات”

درید نرمی سے زمل کو اپنی بات سمجھاتا ہوا بولا جس پر زمل نے آئستہ سے اقرار میں سر ہلایا تو درید نے زمل کے قریب آکر اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اسے اپنے حصار سے آزاد کیا۔۔۔ زمل درید کے پاس سے اٹھ کر واراڈروب سے اپنا ڈریس نکالنے لگی تاکہ یونیورسٹی جانے کے لئے تیار ہو سکے۔۔۔ درید زمل کو مصروف دیکھ کر آفس جانے کے لئے اس کے کمرے سے نکل گیا مگر اس سے پہلے اسے جا کر تابندہ کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ خود ہی زمل کو یونیورسٹی جانے کی پرمیشن دے چکا ہے اور یہ بھی کہ تابندہ زمل کو اس کا موبائل دے دے

*****

“تم اب بھی میرے بلانے پر نہیں آتے تو میں واقعی تم سے دوستی ختم کر دیتا واصف”

واصف کے کمرے میں داخل ہوتے ہی کیف اس سے بولا وہ یونیورسٹی سے سیدھا پیپر دے کر کیف کے بلانے پر اس کے پاس آیا تھا

“یار کیوں اتنے زیادہ جذباتی ہو رہے ہو تمہیں معلوم تو ہے سمسٹر چل رہے ہیں اسی وجہ سے وقت نہیں نکال پا رہا تھا میں تمہارے پاس آنے کے لئے۔۔۔ بتاؤ اب کیسی کنڈیشن ہے تمہاری”

واصف کیف سے اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھتا ہوا ریلکس انداز میں صوفے پر بیٹھا

“میری کنڈیشن تو اب بالکل سیٹ ہے مگر تم سب لوگوں کو کیا ہو گیا ہے آخر کیوں تم لوگ مل کر مجھے اس طرح اگنور کر رہے ہو پورے بیس دن گزر چکے ہیں۔۔۔ پہلے زمل میری کال ریسیو نہیں کر رہی تھی اب مسلسل اس کا نمبر بند جا رہا ہے۔۔۔۔ زمل کے بارے میں ثمرن یا نشاہ سے بات کرتا ہوں تو وہ دونوں ہی مجھے ٹالنے والے انداز میں جواب دیتی ہیں۔۔۔ واصف میں زمل سے بات کرنا چاہتا ہوں پلیز میری اس سے بات کرواؤ”

کیف کی بات سن کر واصف سنجیدگی سے سیدھا ہو کر بیٹھا

“دیکھو کیف میں تو تمہارے اور زمل کے معاملے سے بالکل انجان تھا یار،، مجھے زمل کے لئے تمہاری پسندیدگی کا معلوم تھا مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ تم دونوں کی آپس میں کمیٹمنٹ بھی ہے۔۔۔ زمل نے غلط کیا ہم دوستوں سے اپنے نکاح کے بارے میں چھپا کر مگر ثمرن کا کہنا یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں اپنے نکاح کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔ کیا یار یہ سب تمہیں ٹھیک لگتا ہے مطلب زمل پہلے سے ہی کہیں انگیج ہے اور یہ جان کر بھی تم نے اپنے قدم نہیں روکے۔۔۔ درید اعظم سے ملنے اور اس کو جاننے کے بعد بھی تم اس کی وائف سے تعلق رکھتے ہو پھر تو درید اعظم کا یہی ری ایکشن بنتا ہے جو کچھ وہ تمہارے ساتھ کر کے گیا”

واصف آرام سے بولتا ہوا کیف کو اس کی غلطی کے بارے میں بتانے لگا کیوکہ درید نے کیف کے گھر آکر جو سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا وہ ثمرن نشاہ اور واصف تینوں کو معلوم ہو چکا تھا واصف سے خود بھی زمل کی سرسری سی بات ہوئی تھی وہ صرف پیپرز دینے کے لیے یونیورسٹی آتی تھی فوراً اپنے ڈرائیور کے ساتھ چلی جاتی تھی

“شادی کرنا چاہتے ہیں زمل اور میں ایک دوسرے سے۔۔۔ وہ خود بھی درید اعظم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔ وہ یہاں ڈیٹ پر مجھ سے ملنے نہیں آئی تھی، جو درید اعظم نے یہاں آکر بات کا بلاوجہ میں بتنگڑ بنایا یقیناً گھر جانے کے بعد اس نے زمل وہ بھی ہرٹ کیا ہوگا ایسا نہیں ہے کہ زمل مجھ سے کانٹیکٹ ہی نہ کرے”

کیف غصے میں واصف کو جتاتا ہوا بولا تو واصف نے بھی اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہیے

“زمل کو درید اعظم نے ہرٹ کیا ہو یا نہیں یہ تو ان دونوں کا پرسنل معاملہ ہے مگر اب زمل خود تم سے کانٹیکٹ نہیں رکھنا چاہتی وہ ایسا درید اعظم کے دباؤ میں آکر کر رہی ہے یا پھر اپنی مرضی سے یہ تو میں نہیں جانتا مگر کیف تمہیں نہیں لگتا یہی صحیح ہے میرے خیال میں اب تمہیں بھی زمل کا خیال اپنے ذہن سے نکال دینا چاہیے اسی میں تم دونوں کی بہتری ہے”

واصف اپنی طرف سے کیف کو سمجھاتا ہوا بولا تو کیف بھڑک اٹھا

“زمل اگر دباؤ میں آکر مجھے اگنور کر رہی ہے یا جان بوجھ کر دونوں صورتوں میں، میں اس کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا کیونکہ میں کوئی الو کا پٹھا نہیں ہوں کہ کوئی لڑکی پہلے میرے ایموشنز سے کھیلے پھر بعد میں مجھے اگنور کردے اور میں خاموش بیٹھا رہا ہوں۔۔۔ دیکھ لوں گا میں زمل کو بھی اور اس درید اعظم کو بھی”

کیف غصے میں بولا تو واصف اس کی بات سن کر خاموش ہو گیا

*****

درید آفس سے گھر لوٹا تو اسے ملازمہ سے معلوم ہوا تابندہ اس وقت بیک یارڈ میں موجود ہے جبکہ زمل پیپر دے کر آنے کے بعد سے ابھی تک سو رہی تھی جہاں تک درید کو معلوم تھا زمل کا کل بھی پیپر تھا وہ بھی آخری۔۔۔ پچس دن گزر چکے تھے گھر کے ماحول میں سکون تھا۔۔۔ درید کے صلح کروانے پر ہی تابندہ نے زمل سے اپنی ناراضگی ختم کی تھی، زمل کے پیپرز کی وجہ سے جہاں زمل نے اپنے آپ کو مصروف کر لیا تھا وہی درید بھی اُسے ناشتے یا ڈنر کے وقت چند منٹ کے لئے ہی دیکھتا کوئی بھی بلا جواز بات وہ خود زمل سے نہیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ زمل کو ٹائم دینے کے ساتھ یہ بھی چاہتا تھا زمل ریلیکس ہو کر پیپرز سے فارغ ہوجائے۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ زمل کی طرف سے اب بالکل بے فکر یا لاتعلق ہو چکا تھا وہ زمل کی یونیورسٹی میں گزرنے کے اوقات کی پوری خبر رکھتا تھا۔۔۔ درید کے ہی آرڈر پر ڈرائیور جب تک یونیورسٹی میں گاڑی کھڑی رکھتا ہے جب تک زمل کا پیپر ختم نہ ہو جائے

درید نے کیف کے بارے میں بھی معلوم کروایا تھا اس کا کل ہاسپٹل اپوائنمنٹ تھا وہ کافی حد تک بہتری کی طرف آ رہا تھا،، درید نے سوچ لیا تھا اگر دوبارہ کیف نے زمل سے ملنے کی کوشش کی تو اب کی بار وہ کیف کو ہاتھ پاؤں سے ہی مفلوج کر دے گا۔۔۔ درید اپنے روم کی طرف بڑھنے ہی لگا تو لینڈ لائن پر گھنٹی بجنے لگی اس کے قدم رکے

“جی ایبٹ آباد والے گھر سے زرقون بی کی بیٹی بول رہی ہوں شارقہ، مجھے بڑی بیگم صاحبہ سے بہت ضروری بات کرنا ہے پلیز آپ انہیں بھلاوا دیں”

درید کے ہیلو کے جواب میں اس کے کانوں سے اسے نسوانی آواز ٹکرائی زرقون کی بیٹی کو وہ جانتا تھا جو بچپن میں اکثر اپنے ماں یا باپ کے ساتھ کاٹیج میں موجود ہوتی تھی

“میں درید بات کر رہا ہوں جو بھی مسئلہ ہے تم مجھے بتا سکتی ہو”

درید جان گیا تھا وہ تابندہ سے بات کرنا چاہتی ہے مگر درید یہ جاننا چاہتا تھا آخر وہاں ایسا کون سا مسئلہ ہے درپیش آگیا ہے جس کے لیے شارقہ تابندہ سے بات کرنا چاہتی تھی

“جی درید بھائی وہ میں آپ کو کیسے بتاؤں، اماں دراصل ایک ضروری کام سے شہر گئی ہوئی ہیں مجھے کاٹیج کی صفائی اور دوسرے کام کا بول کر”

شارقہ بولتی ہوئی ہچکچانے لگی وہ تابندہ کے موبائل پر کافی دیر سے کال ملا رہی تھی مگر مسلسل بیلز جا رہی تھی اس لیے شارقہ نے گھبراتے ہوئے گھر کے نمبر پر کال ملائی تھی

“کاٹیج کی صفائی کے علاوہ دوسرا کام کونسا شارقہ۔۔۔۔ اچھا اچھا اس کی حالت دوبارہ تو خراب نہیں ہوگئی جس کی وجہ سے زرقون بی نے آنٹی کو چند دنوں پہلے ہی فون کیا تھا اور آنٹی کے کہنے پر ہی کاٹیج میں ڈاکٹر بھی بلوایا گیا تھا”

درید کچھ سوچنے کے بعد تابندہ کے جملے یاد کرتا ہوا ایک دم سے شارقہ سے بولا۔۔۔ اس نے جان بوجھ کر شارقہ پر یہ تاثُر چھوڑا تھا جیسے وہ ساری بات کا علم رکھتا ہو۔۔۔۔ اپنے اور زمل کے رشتے، آفس کے مسئلے مسائل میں اس دن وہ تابندہ والی بات کو ذہن سے نکال چکا تھا

“آپ جانتے ہیں نیچے تہہ خانے میں موجود آدمی کے بارے میں”

شارقہ ہچکچاتی ہوئی تھوڑی حیرت زدہ ہو کر درید سے پوچھنے لگی

“ہاں آنٹی مجھے اس کے بارے میں بتا چکی ہیں۔۔۔ تم اصل وجہ بتاؤ فون کس لیے کیا تھا”

درید تہہ خانے کے نام پر بری طرح چونکا تھا کیونکہ کاٹیج میں کوئی تہہ خانہ موجود ہے اس بات کا علم اسے بالکل بھی نہیں تھا مگر وہ شارقہ کہ پر کچھ بھی ظاہر کیے بنا نارمل انداز میں اس سے پوچھنے لگا

“اسی آدمی کے بارے میں بتانے کے لئے بڑی بیگم صاحبہ کو کال ملائی تھی۔۔۔ کل سے اس کی طبیعت کافی زیادہ خراب ہے ہاتھ پاؤں میں بیڑیوں کی وجہ سے جو زخم بن چکے تھے وہ اب بالکل خراب خراب ہو چکے ہیں۔۔۔ اماں یہاں پر موجود نہیں ہیں اور خادم بھی صبح سے نہ جانے کہاں نکلا ہوا ہے ابھی تک لوٹ کر نہیں آیا اب مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا درید بھائی میں کیا کروں”

درید اس کی بات سن کر خود بھی سوچ میں پڑ گیا کہ شارقہ کس آدمی کا ذکر کر رہی تھی آخر کون تہہ خانے میں موجود تھا

“تم پریشان مت ہو ایسا کرو جس ڈاکٹر کو پہلے بلوایا تھا اس کو ابھی فیصل(ڈرائیور) سے کہہ کر فوراً بلوالو،، اس وقت تو میرا گھر سے نکلنا مشکل ہو جائے گا میں کل دوپہر کا خود وہاں پہنچتا ہوں اور ہاں ابھی آنٹی کو فون کرکے پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کوئی بھی ایمرجنسی ہو اس صورت میں تم مجھ سے رابطہ کر لینا،، میں نے تمہارا نمبر نوٹ کر لیا ہے تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آجائے میں تمہیں پھر خود کال کرتا ہوں”

درید شارقہ سے بات کرکے پلٹا تو زمل کو وہاں کھڑا پایا اس کے چہرے اور بکھرے بالوں سے لگ رہا تھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی جاگی تھی

“کیا ہوا کس کی کال تھی کیا ایمرجنسی ہوگئی ہے”

زمل درید کو اپنی طرف دیکھ کر تھوڑی کنفیوز اور تھوڑی پریشان ہوتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“کوئی ایمرجنسی نہیں ہوئی ہے تم یہ بتاؤ تم ابھی تو کیوں سو رہی تھی طبعیت تو ٹھیک ہے ناں تمہاری”

درید زمل کے قریب آ کر اسے پوچھنے لگا جو اس وقت ٹراؤزر کے ساتھ لونگ شرٹ پہننے رف سے حلیے میں اس کے سامنے کھڑی تھی

“آج پیپر دے کر آئی تھی تو تھوڑا سر میں درد تھا اس لیے لیٹ گئی،، معلوم ہی نہیں ہو ابھی آنکھ کھلی ہے ایسے تو مت دیکھیں دید اب میرا درد بالکل ختم ہوچکا ہے۔۔۔ آپ کل دوپہر میں کہاں جا رہے ہیں”

درید کے چہرے پر اپنے لئے فکر دیکھ کر زمل اسے مطمئن کرتی ہوئی بولی مگر ابھی اس کا دماغ فون کال پر ہی اٹکا ہوا تھا زمل کو بالکل بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا درید کس سے بات کر رہا تھا۔۔۔ زمل کی بات سن کر درید اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کرکے اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا

“صرف میں نہیں ہم دونوں جا رہے ہیں ایبٹ آباد کل دوپہر میں،، جب تم پیپر دے کر آؤں گی تو اس کے بعد نکلتے ہیں مجھے وہاں پر آفس کا کچھ ضروری کام ہے تمہارا بھی مائنڈ فریش ہو جائے گا اوکے”

درید زمل کو خود سے مزید قریب کر کے اپنائیت بھرے لہجے میں بولا

“اوکے”

انکار کا کوئی فائدہ نہیں تھا درید وہی کرتا جو اس نے سوچ رکھا تھا اس لیے زمل درید سے بولی۔۔۔اتنے دنوں بعد درید کے اتنے زیادہ درید کے اتنے زیادہ قریب آنے پر زمل کی نظریں درید کے ہونٹوں پر گئی وہ جلدی سے اپنی نظریں جھگا گئی

“میں آنٹی کو ہمارے کل کا پروگرام بتا کر آتا ہوں۔۔۔ پیکنگ تم اپنی رات میں ہی کر لینا اوکے”

درید زمل سے بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا۔۔ زمل اندر ہی اندر اپنے اسطرح درید کے ہونٹوں کو دیکھنے پر شرمندہ ہونے لگی۔۔۔ وہ زمل کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے کافی دنوں بعد اس کی سانسوں کی مہک کو اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا۔۔۔ تب ہال میں آتی قدموں کی آواز پر وہ زمل سے دور ہوا

“درید صاحب آپ کو بڑی بیگم صاحبہ یارڈ میں بلا رہی ہیں کوئی بات کرنا ہے انہیں آپ سے”

نگہت ہال میں آتی ہوئی درید کو تابندہ کا پیغام دینے لگی

“ٹھک ہے تم چائے لے کر وہی آجاؤ”

درید نگہت سے بولا وہ تابندہ کے پاس جانے سے پہلے شارقہ کی تابندہ کے موبائل پر آئی ہوئی کالز ڈیلیٹ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا وہ خود جا کر دیکھنا چاہتا تھا آخر وہ شخص کون تھا جو کوٹیج کے تہہ خانے میں موجود تھا

“میرے لئے کافی میرے روم میں لے آؤ اور پلیز ڈنر پر مجھے ٹیبل پر بلانے مت آنا جب مجھے بھوک ہوگی تو میں خود کھانا کھا لوں گی”

زمل نگہت سے بول کر اپنے روم میں چلی گئی وہ کل پیپر سے فری ہو کر تھوڑا ریلیکس چاہتی تھی مگر کل ہی اس کے لیے ایک اور امتحان شروع تھا درید اسے ایسے ہی اپنے ساتھ نہیں لے جا رہا تھا یقیناً وہ اس کے ساتھ اپنی میرڈ لائف شروع کرنے والا تھا جس کے بارے میں وہ زمل کو بتا چکا تھا جس کے لیے فی الحال زمل بالکل تیار نہیں تھی

****