Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 13)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“یہاں اکیلی بیٹھی کیا سوچ رہی ہو میری پنک ڈول”
لائٹ پنک کلر کے کپری اور پنک کلر کے ہی ٹاپ میں وہ اپنے دونوں پاؤں پول کے اندر ڈالے کسی گہری سوچ میں گم تھی تب درید بیک یارڈ میں آ کر ہاتھ میں موجود گاؤن اور ٹاول کو ریلکسنگ چیئر پر رکھنے کے بعد زمل کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا زمل اپنی سوچوں سے نکل کر درید کو دیکھنے لگی
“کیوں کیا اب آپ کو میرے یہاں بیٹھ کر کچھ سوچنے پر بھی اعتراض ہے”
کل جب وہ زمل کو کیف کے پاس ہاسپٹل سے گھر لایا تھا تب سے زمل اس سے ناراض تھی اس لیے طنزیہ لہجے میں درید کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“صرف ان سوچوں پر اعتراض ہے جو سوچیں تمہارے دماغ کے لئے مضحر ثابت ہو سکتی ہیں”
درید مسکراتا ہوا بولا ساتھ ہی اپنی ٹی شرٹ اتار کر ریلکسنگ چیئر پر اچھالی
“میں اب بچی نہیں ہو دید اور اپنا اچھا برا خود سمجھ سکتی ہوں اس لیے اب آپ بار بار یوں اعتراضات اٹھانا بند کر دیں”
زمل جتانے والے انداز میں درید سے بولی مگر جیسے ہی اپنی ٹی شرٹ اتارنے کے بعد درید کے دونوں ہاتھ اپنے ٹراؤزر پر گئے زمل نے ویسے ہی اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔۔۔ درید اس کی حرکت پر مسکراتا ہوا ڈائیو مار کر پول میں چھلانگ لگا چکا تھا تو زمل اپنے چہرے سے دونوں ہاتھوں کو نیچے کر کے درید کو دیکھنے لگی جو اس وقت بناء شرٹ کے،،،، ٹراؤزر میں موجود پول کے اندر سے زمل کو دیکھ رہا تھا
“مجھے معلوم ہے تم اب بچی نہیں ہو لیکن بیوقوف ہو جو غلط دیکھنے کے باوجود نادانی پر اتری ہوئی ہو”
درید سوئمنگ کرتا ہوا زمل کے پاس آ کر بولا جو کہ ابھی تک اپنے دونوں پاؤں پول کے اندر ڈالے بیٹھی تھی،، زمل درید کی بات پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی نہ جانے سے کیوں محسوس ہوا جیسے درید اس کے اور کیف کے بارے میں جانتا ہے،، وہ بنا کچھ بولے وہاں سے جانے کا ارادہ کرنے لگی
“کہاں جا رہی ہو”
اس سے پہلے زمل اپنے دونوں پاؤں پول سے باہر نکالتی درید اس کے دونوں پاؤں پکڑ کر پیار سے پوچھنے لگا
“مما کے پاس جا رہی ہو میں”
زمل جس انداز میں بولی،، درید کو وہ اس وقت کوئی چھوٹی بچی لگی جو اس سے خفا تھی
“سو چکی ہیں وہ،، یہاں پول کے اندر آجاؤ میرے پاس”
درید نے بولنے کے ساتھ ہی اچانک زمل کے دونوں پاؤں کو پول کے اندر کھینچا جس سے وہ پول کے اندر آ گری۔ ۔۔ اگر درید فوراً اسے کمر سے نہ پکڑتا تو زمل پوری کی پوری پانی کے اندر موجود ہوتی
“یہ کیا حرکت کی ہے آپ نے دید مجھے پورا کا پورا بھگو ڈالا، اب پیچھے ہٹیں”
زمل کو درید کی اس حرکت پر بےحد غصہ آیا وہ کمر تک پانی میں موجود تھی درید کے دونوں ہاتھ اپنی کمر کے گرد سے ہٹاتی ہوئی ناراض لہجے میں بولی
“ابھی پورا کہاں بھگویا ہے جان،، پورا تو پول کے اندر تم اب جاؤں گی وہ بھی اپنے دید کے ساتھ”
درید نے زمل کے باہر نکلنے سے پہلے ہی،، اسے اپنے دونوں بازوؤں میں مضبوطی سے جکڑ کرلیا
“دید یہ کیا۔۔۔۔” زمل بول بھی نہیں پائی کہ درید اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں رکھتا ہوا۔۔۔ پانی کے اندر پہنچ چکا تھا،، زمل درید کی اس بے باک حرکت پر پہلے والی حرکت سے بھی زیادہ غصہ ہوئی تھی وہ درید کی گرفت سے آزاد ہونے کے لئے اپنے ہاتھ پاؤں چلانے لگی اس کے منہ سے ببلز نکل رہے تھے۔۔۔ درید کی گرفت سے آزاد ہو کر اس نے اپنا سر پانی سے باہر نکالا اور کھانسنے لگی
“اتنی فضول حرکتیں کر رہے ہیں آپ،، کیوں تنگ کر رہے ہیں آخر مجھے” درید زمل کے کھانسنے پر اس کے پاس آکر زمل کی کمر سہلانے لگا زمل آنکھیں دکھا کر غصہ کرتی ہوئی اس سے بولی
“اسے تنگ کرنا نہیں کہتے میری جان بلکہ شرارت کرنا کہتے ہیں،، کیوں بھول جاتی ہو میرے اور تمہارے درمیان اب ایک مضبوط رشتہ قائم ہوچکا ہے۔۔۔ جس میں بےتکلفی بری نہیں لگتی،۔ آؤ ساتھ میں سوئمنگ کرتے ہیں”
درید یہ وقت زمل کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے اس لیے اس کو مناتا ہوا اسے سوئمنگ کرنے کا بولنے لگا
“بھول چکی ہوں میں سوئمنگ کرنا، نہ اب مجھے دلچسپی رہی ہے سوئمنگ کرنے میں۔۔۔ اب میں بس اپنے روم میں جانا چاہتی ہوں دید”
زمل رات کے اس وقت درید اور اپنے آپ کو بھیگا ہوا دیکھ کر اور درید کی باتیں سن کر بولی۔،۔۔ اس وقت درید جس موڈ میں تھا زمل کو اس کے پاس ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں لگ رہا تھا اس لیے درید سے بولتی ہوئی وہ پول میں موجود سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔ درید چاہتا تو وہ زبردستی زمل اپنے پاس روک سکتا تھا مگر وہ محسوس کر چکا تھا کہ زمل اس سے پہلے ہی خفا تھی وہ اب اسے مزید اپنے آپ سے بد دل نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے زمل کو پول سے باہر جاتا ہوا دیکھنے لگا
“دید آپ نے یارڈ کا دروازہ بند کیوں کر دیا۔۔۔ اس کے اندر کا لاک تو خراب تھا اور اب ڈور کو باہر سے کوئی کھولے گا تب ہی ہم دونوں باہر جا سکیں گے ورنہ ہم دونوں یارڈ میں لاک رہے گے”
زمل واپس پول کے طرف آکر درید سے پریشان لہجے میں بولی
“بخش سے میں نے لاک چینج کرنے کو کہا تو تھا میں نے، ایک تو یہ لوگ کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرتے ہیں، رکو میں چیک کرتا ہوں”
درید زمل کو بولتا ہوا پول سے خود بھی باہر نکل کر ریلکسنگ چیئر سے ٹاول اٹھا کر اپنے شولڈر پر ڈالتا ہوا یارڈ کا لاک چیک کرنے لگا جوکہ زنگ آلود ہونے کی وجہ سے جام تھا
“اب کیا ہوگا دید”
زمل پریشان ہو کر درید کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جو کہ مسلسل دروازہ کھولنے کی جدوجہد میں لگا ہوا تھا
“اب کیا ہو سکتا ہے یہ دروازہ خود یہی چاہتا ہے کہ آج تم میرے پاس سے بالکل بھی دور نہیں جاؤ”
درید دروازے کا ہینڈل چھوڑ کر زمل کو اپنے حصار میں لے کر سیریس انداز میں بولا
“آپ بات کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں دید اور میں پریشان ہو”
زمل نے درید کو بغیر شرٹ کے دیکھا جو اسے اپنے حصار میں لیے کھڑا تھا زمل نے اس کے حصار سے آزاد ہونا چاہا مگر درید نے زمل کو ایسا نہیں کرنے دیا
“تو کیوں پریشان ہو، تھوڑی دیر میں دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہوں اب بالکل ریلکس ہوجاؤ”
درید زمل کو اپنے حصار میں چھپائے اس کے چہرے پر پریشانی کو دیکھ کر نرمی سے بولا ساتھ ہی اپنے شولڈر سے ٹاؤل ہٹاتا ہوا زمل کے گیلے بال خشک کرنے لگا
“مجھے سردی بھی لگ رہی ہے دید”
نومبر کے مہینے رات کے پہر ہلکی ہلکی سی چلنے والی ہوا سے زمل کو واقعی ٹھنڈ محسوس ہونے لگی تو وہ درید کو دیکھتی ہوئی بولی
“جاؤ اسٹور روم میں جا کر باتھ گاؤن پہن لو”
درید اس کے گیلے کپڑوں کو دیکھ کر زمل سے بولا۔۔۔ زمل یارڈ میں موجود چھوٹے سے اسٹور روم میں گاؤن لے کر چلی گئی جبکہ درید ریلکسنگ چیئر سے اپنی ٹی شرٹ اٹھا کر پہننے کے بعد دیوار پر فکس ہوئے پائپ پر چڑھنے لگا جہاں اس نے دو دن پہلے زمل کا بریسلٹ رکھا تھا
زمل باتھ گاؤن پہنے اسٹور روم باہر نکلی اور ہاتھ میں موجود گیلے کپڑے ایک سائڈ رکھتی ہوئی چاروں اطراف میں نظریں دوڑا کر درید کو ڈھونڈنے لگی جو اسے دیوار کے ساتھ لگے پائپ سے نیچے اترتا ہوا دکھا۔۔۔
زمل سمجھ گئی درید یقیناً اوپر چھت پر جانے کے بعد وہی سے نیچے گیٹ پر موجود واچ مین کو یارڈ کا دروازہ کھولنے کا کہہ چکا ہوگا
“واچ مین کو بول دیا ناں آپ نے کہ دروازے کا لاک کھول دے”
درید چلتا ہوا زمل کے پاس آنے لگا تو وہ درید سے پوچھنے لگی
“کیا واچ مین کو ایسا بھی کچھ بولنا تھا۔۔۔ مجھے تو لگا آج ہم دونوں کو گھر کے اس حصے میں ایک ساتھ رات گزارنی چاہیے”
وہ زمل کی کلائی پر اس کا بریسلیٹ پہناتا ہوا سنجیدگی سے بولا جس پر زمل ناراضگی سے درید کو دیکھنے لگی
“لگتا ہے ان چار سالوں میں تمہیں اپنا دید اور اس کا مذاق برا لگنے لگا ہے”
درید زمل کے چہرے کے تاثرات دیکھتا ہوا درید اس سے بولا
“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے”
زمل درید کی بات پر ایک دم اس سے بولی اور اپنے چہرے کے زاویے ٹھیک کرنے لگی
“تو پھر جو بھی بات ہے وہ یہاں میرے قریب آ کر مجھے بتا دو”
درید ریلکسنگ چیئر پر بیٹھنے کے بعد زمل کو اپنی تھائی پر بیٹھاتا ہوا بولا درید کی اس اچانک کاروائی پر زمل ایک دم سٹپٹا سی گئی
“دید اب میں بچی نہیں رہی ہو جو آپ اس طرح سے مجھے۔۔۔”
زمل اس کی گود میں بیٹھی ہوئی درید سے بولی مگر درید کی نظروں سے کنفیوز ہوکر آدھی بات اس کے منہ میں ہی رہ گئی
“مجھے تو تم ابھی بھی کوئی چھوٹی سی بچی ہی لگتی ہو اور مجھے اب یہ معلوم ہے کہ اس بچی پر مکمل میرا اختیار ہے اس لیے دل میں آتی کوئی بھی اپنی خواہش کو میں رد نہیں کر سکتا”
درید زمل سے بولتا ہوا ریلکسنگ چیئر پر پیچھے کمر ٹکا کر آرام سے بیٹھ گیا اور زمل کو اپنے حصار میں لے لیتے ہوئے اس کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا۔۔۔ زمل درید کی بات سن کر بالکل خاموش ہوگئی اور کیف کے خیال آتے ہی وہ سوچنے لگی وہ کس راہ پر نکل چکی ہے،، کیا درید سے اس کے اختیارات چھینا اتنا آسان ہوگا جتنا وہ سمجھ بیٹھی ہے
“خاموش کیو ہوگئی جان، باتیں کرو ناں اپنے دید سے جیسے پہلے کرتی تھی ڈھیر ساری باتیں”
درید زمل کی کمر پر اپنے دونوں بازووں کو باندھے اپنے سینے پر رکھے ہوئے زمل کے سر پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اس سے بولا
“اتنا پرفیکٹ کپل ڈانس کب سیکھا آپ نے”
زمل جانتی تھی وہ درید کے حصار سے اس وقت آزاد ہونا چاہے بھی تو درید اسے کبھی آزاد نہیں کرتا اس لیے کیف کے خیال کو جھٹک کر درید کے سینے پر سر ٹکائے اس سے پوچھنے لگی
“لندن میں اپنے فرینڈ جیک کی گرل فرینڈ سے”
درید کی بات سن کر زمل اس کے سینے سے سر اٹھا کر سنجیدگی سے درید کو دیکھنے لگی وہ مسکراتا ہوا زمل کو دیکھنے لگا
“اور کیا کیا سیکھا ہے جیک کی گرل فرینڈ سے”
زمل طنزیہ لہجہ اختیار کرتی ہوئی درید سے پوچھنے لگی تو وہ زور سے ہنسا
“اور باقی کچھ تمہارے دید کو سیکھنے کی ضرورت نہیں سب اسے پہلے سے ہی آتا ہے”
درید زمل کے چہرے پر اپنی نظریں ٹکائے معنی خیز لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا۔۔۔ درید کی نظروں کی تپش سے بچنے کے لیے زمل نے دوبارہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا
“اب کیا سوچنے لگ گئی”
درید اپنے ہاتھوں کی انگلیاں زمل کے بالوں میں پھیرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ اب بھی زمل کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا
“لندن جانے سے پہلے آپ کافی شریف انسان ہوا کرتے تھے وہاں کے ہوا لگ کر کافی بگڑ چکے ہیں آپ اور ساتھ ہی اپنی شرافت بھی بھول چکے ہیں”
زمل جو درید کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ سچ سچ اس کے سینے پر سر رکھے درید کو بولنے لگی جس پر درید ایک بار پھر قہقہہ لگا کر زور سے ہنسا
“شریف تو میں پہلے بھی نہیں رہا مائی لیڈی وہ تو تم سے میرا نکاح نہیں ہوا تھا۔۔۔ ویسے کافی بنانا کس سے سیکھا تم نے”
درید آہستہ آہستہ زمل کی کمر سہلاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“آپ کو پسند آئی میرے ہاتھ کی کافی”
زمل ایک بار پھر درید کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی تجسس سے پوچھنے لگی
“کافی ہاٹ تھی بالکل تمہاری طرح”
درید نے بولنے کے ساتھ ہی زمل کے چہرے پر اپنی نظریں جمائے اس کے گاؤن کی ڈوری اچانک کھول دی
“دید یہ کیا۔۔۔۔
زمل اس حرکت پر حواس باختہ ہوگئی فوراً پیچھے ہٹ کر گاؤن کی ڈوری باندھنے لگی مگر اس سے پہلے ہی درید چیئر سے اٹھ کر زمل کو چیئر پر لٹا چکا تھا
“دید اسٹاپ اٹ میں ناراض ہو جاؤ گی آپ سے”
زمل چیختی ہوئی درید سے اپنے دونوں ہاتھ چھڑا کر درید کو پیچھے ہٹانے لگی درید ایک بار پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو میں کرنے کے بعد زمل کی گردن پر جھک گیا اور اس کی گردن پر اپنے ہونٹوں سے محبت کی گہری چھاپ چھوڑتا ہوا شولڈر سے زمل کا گاؤن کو نیچے کرنے لگا
“دید۔ ۔۔ نو لیو می”
اپنے شولڈر پر درید کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے وہ ایک بار پھر تیز آواز میں بولی۔۔۔ مگر درید اس کے دونوں ہاتھوں کو سختی سے پکڑے دیوانہ وار اس کے کندھے بازو اور گردن پر اپنے پیار کی گہری چھاپ چھوڑتا ہوا مدہوش ہو چکا تھا۔۔۔ زمل کے احتجاج پر تو نہیں البتہ یارڈ کا دروازہ باہر سے کھلنے کی آواز پر درید کو پیچھے ہٹنا پڑا
“آپ بہت زیادہ بدتمیز ہے دید آپ کو ذرا بھی احساس ہے اپنی حرکت کا آئی ہیٹ یو”
درید کی شدت بھرے انداز پر وہ غصہ کرتی ہوئی اسے دیکھ کر بولی اور گاؤن سے اپنے شولڈرز کو کور کرتی ہوئی چیئر سے اٹھ گئی
“زمل میری بات سنو یار”
درید زمل کے پیچھے آتا ہوا اسے بولا مگر درید کی آواز سن کر وہ رکنے کی بجائے بھاگتی ہوئی یارڈ سے باہر نکل گئی اور اپنے بیڈروم میں آ کر اس نے دروازے کو لاک کر لیا۔۔۔
*****
“کیا ہوا ناشتہ کیوں نہیں کر رہی ٹھیک سے”
تابندہ نے زمل کو دیکھ کر ٹوکنے والے انداز میں پوچھا جوکہ درید کے ڈائینگ ٹیبل پر آنے سے قبل ٹھیک سے ناشتہ کر رہی تھی مگر درید کے کرسی پر بیٹھتے ہی وہ ناشتے سے ہاتھ پیچھے کر چکی تھی، تابندہ کے ٹوکنے پر درید بھی نظریں اٹھا کر زمل کو دیکھنے لگا، وہ درید کی کل والی حرکت پر اس کو دیکھنے سے مکمل گریز کر رہی تھی
“ناشتہ میں کر چکی ہو بس اب یونیورسٹی کے لیے نکلنا ہے”
زمل تابندہ کو مختصر سا جواب دے کر اٹھ چکی تھی تبھی درید فوراً بولا
“واپس بیٹھ جاؤ میں ناشتہ کر کے تمہیں یونیورسٹی ڈراپ کردوں گا”
وہ خود بھی آفس جانے کے لیے ریڈی تھا زمل کو دیکھ کر جلدی سے بولا
“میں چلی جاؤ گی ڈرائیور کے ساتھ آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
زمل ایک نظر درید پر ڈال کر ناراض لہجے میں بولی۔۔۔ اس نے دوپٹہ سے اپنی گردن پر موجود نشانات کو اچھی طرح کور کیا ہوا تھا جو درید کی دیوانگی ظاہر کر رہے تھے
“جب میں کہہ رہا ہو یونیورسٹی تمہیں میں ڈراپ کردوں گا تو بلاوجہ ضد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹھو چیئر پر فوراً”
درید اب کی بار زمل کو دیکھتا ہوا روعب دار لہجے میں بولا تو وہ چیئر پر بیٹھنے کی بجائے درید کو دیکھنے لگی
“پھر جھگڑا کرلیا تم دونوں نے”
تابندہ جوکہ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی بیچ میں مداخلت کرتی ہوئی بولی
“ایسی کوئی بات نہیں ہے اس کی عادت بن چکی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر برا مان جانے کی”
درید بات کو ٹالتا ہوا تابندہ سے بولا اور خود چیئر سے اٹھ کر زمل کا ہاتھ نرمی سے پکڑتا ہوا اسے چیئر پر بٹھانے لگا
“چھوٹی بات۔۔۔۔ وہ چھوٹی بات تھی جو کل رات آپ نے کی تھی۔۔۔ بتائے ذرا دید مما کو کہ کس بات کا برا مانا ہے میں نے”
زمل چیئر پر بیٹھتی ہوئی درید سے بولی جس پر درید حیرت سے پوری آنکھیں کھولے زمل کو دیکھنے لگا جبکہ تابندہ کنفیوز ہوکر درید کو دیکھنے لگی
“یہ کل رات میرے ساتھ کپل ڈانس کرنے کی ضد کررہی تھی میرا موڈ نہیں تھا ذرا سا ڈانٹنے پر برا مان کر بیٹھ گئی”
درید نارمل لہجے میں تابندہ کو بتانے لگا جس پر تابندہ کوئی تبصرہ کیے بغیر مسکراہٹ چھپانے کو چائے پینے لگی دوسری طرف زمل درید کے جھوٹ پر گھور کر اس کو دیکھنے لگی
“اب تمہارا منہ طرف ناشتہ کرنے کے لیے کھلنا چاہیے خاموشی سے پراپر ناشتہ کرو پھر یونیورسٹی جانا”
درید زمل کی ناشتے کی پلیٹ اس کے سامنے رکھتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اسے آنکھیں بھی دکھائی تاکہ وہ تابندہ کے سامنے کچھ الٹا سیدھا بولنے سے باز رہے
“بڑی بی بی آپ کا فون ہے”
نگہت نے ناشتے کی ٹیبل پر تابندہ کو اس کا بجتا ہوا موبائل لا کر دیا
“ہاں زرقون خیریت کیسے فون کیا تم نے”
تابندہ موبائل پر نمبر دیکھ کر کال ریسیو کرتی ہوئی بولی تو درید ناشتہ کرتا ہوا تابندہ کو دیکھنے لگا۔ ۔۔ زرقون بی اعظم کی ایبٹ آباد میں موجود رہائش گاہ کی ملازمہ کا نام تھا،، 19 سال پہلے جب ثمن کی اس کوٹیج میں موت واقع ہوئی تھی تب سے درید مشکل سے ہی ایبٹ آباد میں موجود اس کوٹیج میں مشکل سے دو یا تین مرتبہ گیا تھا اس کو وہاں عجیب سی وحشت محسوس ہوتی تھی مگر اعظم ہر سال وہاں تابندہ کے ساتھ چند دن گزار کر آتا کیونکہ اعظم کے آفس کی ایک برانچ وہاں پر بھی موجود تھی
“نہیں نہیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر اس کی حالت زیادہ بگڑ گئی ہے تو ڈاکٹر کو وہاں پر لے آؤ۔۔۔ باقی میں خود تمہارے بیٹے خادم سے شام میں بات کر لوں گی اور اسے سمجھا دو گی کہ کیا کرنا ہے”
تابندہ نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا تو درید اس کا چہرہ دیکھنے لگا
“کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہی ہیں آپ۔۔۔ کیا کوئی مسئلہ ہو گیا ہے”
درید تابندہ کو غور سے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“نہیں سب ٹھیک ہے،، زرقون بی کے شوہر کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی وہی بتا رہی تھی مجھے”
تابندہ بے دغیانی نیں بنا سوچے بات بناتی ہوئی درید کو بولنے لگی
“مما مگر زرقون بی کے ہسبینڈ کی تو۔۔۔”
زمل ناشتہ کرتی ہوئی اچانک سے تابندہ سے بولنے لگی مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تابندہ بری طرح اس پر برس پڑی
“تم سے ابھی درید نے کیا کہا ہے خاموشی سے ناشتہ کرو، زمل تمہیں ہر وقت بولنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام ہے کہ نہیں، کتنی بار سمجھایا ہے کہ لڑکیوں کو بلاوجہ نہیں بولنا چاہیے، تمہاری عقل میں آتی ہی نہیں ہے میری باتیں، بڑی ہونے کے باوجود ابھی تک تمہاری عقل گھٹنوں میں موجود ہے۔۔۔ مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر تم بڑی کب ہوگی اور کب تمہیں عقل آئے گی”
تابندہ زمل کو بنا کسی بات پر صبح ہی صبح اچھی خاصی سنا چکی تھی جس پر زمل کی شکل باقاعدہ رونے والی ہو گئی، وہ کرسی سے اٹھ کر بیگ شولڈر پر ڈالتی ہوئی اپنے آنسو ضبط کیے باہر نکل گئی۔۔۔ درید خاموشی سے تابندہ کو دیکھنے لگا جو کہ زرقون بی کی کال کے بعد سے مسلسل پریشان نظر آ رہی تھی
اسے تابندہ کے رویے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ آخر کیو تابندہ نے غلط بولا کہ زرقون بی کے شوہر کی طبعیت خراب ہے۔۔۔ اگر زمل یہ بولنے والی تھی کہ زرقون بی کے ہسبنڈ کی تو دو سال پہلے ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔۔ تو اس بات کا درید کو علم تھا یہ بات اعظم خود درید کو بتا چکا تھا جب وہ لندن میں تھا۔۔۔ درید تابندہ سے کچھ پوچھے بناء خاموشی سے چائے کا مگ اٹھائے چھوٹے چھوٹے سپ لیتا ہوا تابندہ کے چہرے کے اتار اور چڑھاؤ کو غور سے دیکھنے لگا
****
