Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 12)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“ریلکس یار تمہارے چہرے پر تو ابھی سے ہوائیاں اڑ رہی ہیں جیسے میں تمہیں شیر کے پنجرے میں جانے کا کہہ دوں گا”
بیک یارڈ میں پہنچ کر درید کیف کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جو سوئمنگ پول کو دیکھ کر اچھا خاصا گھبرایا ہوا تھا کیونکہ بچپن سے ہی اسے ڈیپ واٹر فوبیا تھا
“میں کوئی بچہ نہیں ہوں جو ڈئیر کرنے سے ڈر جاؤ، تم ڈیر بولو اگر میں نہ کر سکو تو بات کرنا”
کیف درید کا ڈیر سنے بغیر اس پر اپنا ڈر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے وہ کانفیڈنس سے بولا
“زمل ذرا اپنا بریسلیٹ دینا”
کیف کی بات سن کر درید زمل سے بولتا ہوا خود ہی اس کی کلائی پر موجود بریسلیٹ اتارنے لگا۔۔۔ زمل خود بھی گھبرا کر کیف کو دیکھنے لگی کیونکہ اس کے فوبیا کے بارے میں وہ زمل ہی نہیں وہ تینوں بھی جانتے تھے
“بے فکر رہو اس بریسلیٹ کو میں اس پول میں نہیں پھینکوں گا جو تم ڈر کے مارے بار بار سوئمنگ پول کو دیکھ رہے ہو”
درید کی بات پر زمل اور کیف کو چھوڑ کر واصف، نشاہ اور ثمرن ہنسنے لگے
درید دیوار کے ساتھ فکس ہوئے اس پائپ کے پاس آیا جو اوپر کی طرف جا رہا تھا اس پائپ میں باقاعدہ چڑھنے کے لئے تین سے چار فٹ کے فاصلے پر چھوٹے سائز کے سریہ فکس کیے ہوئے تھے جن کی مدد سے آسانی سے اوپر کی طرف چڑھا جا سکتا تھا۔۔۔۔ درید ایک سریے پر اپنا شو رکھ کر اوپر چڑھنے لگا،، زمل سمیت سب درید کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ جب وہ آخر کے تین اسٹیپ چڑھنے سے رہ گئے تو درید نے اس زنگ آلود سریہ پر اپنا جوتا نہیں رکھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ سریہ کمزور ہے اس پر وزن ڈالنے سے وہ نیچے گر سکتا ہے،، اس زنگ آلود سریہ کے پاس دیوار پر موجودہ کھانچے میں اپنا جوتا پھنسا کر وہ اوپر چڑھنے لگا۔۔۔ نیچے دیکھنے والے شاید یہ بھی کوئی اسٹنڈ کا حصہ سمجھ رہے ہو،، وہ اوپر چڑھ کر زمل کا بریسلٹ وہاں رکھ آیا جہاں پانی کا بڑا سا ٹینک موجود تھا اور احتیاط سے نیچے اتر کر واپس آ گیا
“اوپر پانی کے ٹینک کے پاس زمل کا بریسلٹ موجود ہے تمہیں وہ بریسلیٹ لانا ہوگا سمپل”
درید کیف کو دیکھتا ہوا بولا تو کیف سر اٹھا کر دیوار کی ہائیٹ دیکھنے لگا
“یہ اتنا بھی سمپل نہیں ہے جیسے تم کہہ رہے ہو”
کیف دیوار پر لگے ہوئے پائپ کی ہائٹ دیکھتا ہوا بولا تو ثمرن اور نشاء ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکرانے لگی
“بچوں والا ٹاسک ہے یار یہ”
واصف بھی کیف کو دیکھ کر بولا تو درید فوراً بولا
“پر ہر بچہ نہیں کرسکتا واصف”
درید کی بات سن کر زمل کو چھوڑ کر وہ تینوں ہنسنے لگے جبکہ درید اپنی ہنسی چھپاتا ہوا کیف کو دیکھنے لگا جو خار بھری نظروں سے اسی کو دیکھنے کے بعد اوپر چڑھنے لگا
“ارے واہ چوزا تو ہمت والا نکلا”
نشاء ثمن کو دیکھ کر آہستہ سے بولی جس پر ثمرن اسے ہنستی ہوئی آنکھیں دکھانے لگی
“بار بار نیچے مت دیکھو کیف، بس اوپر چڑھتے چلے جاؤ۔۔۔ یو کین ڈو اٹ مین”
واصف بار بار کیف کے نیچے دیکھنے پر اونچی آواز میں کیف سے بولا مگر جیسے ہی کیف نے زنگ آلود سریہ پر جوتا رکھ کر وزن ڈالا سریہ دیوار سے نکل گیا اس سے پہلے وہ نیچے گرتا کیف پائپ پکڑ چکا تھا۔۔۔ نیچے موجود زمل کی چیخ نکلی جبکہ نشاء اور ثمرن افسوس سے اووو کرتی رہ گئی
“کیف گھبراؤ نہیں تم آرام سے نیچے آ سکتے ہو”
آصف کی آواز آنے پر کیف دوبارہ نیچے دیکھنے لگا اس کے ہاتھوں کی گرفت پائپ کمزور ہونے لگی
“دید اس کو بچا لیں پلیز، وہ نیچے گر جائے گا”
زمل گھبرا کر درید سے بولی جو دلچسپی سے کیف کے ٹاسک کو بھرپور طریقے سے انجوائے کر رہا تھا
“ریلکس ڈارلنگ وہ بچہ نہیں ہے اپنا دماغ استعمال کر کے آرام سے نیچے آ سکتا ہے”
درید زمل سے پیار بھرے لہجے میں بولا ہی تھا
“آآآآ”
کیف کے ہاتھوں سے پائپ کی گرفت چھوٹی اور وہ نیچے گر پڑا
“چلو جی یہ تو گیا کام سے” ثمرن افسوس سے کیف کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ واصف اور زمل دونوں ہی نیچے گرے ہوئے کیف کی جانب بڑھے جو کہ اپنا کندھا پکڑے درد سے چیخ رہا تھا ساتھ ہی کھا جانے والی نظروں سے درید کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ درید نے خود بھی کیف کو دیکھ کر طنزیہ ہنستے ہوئے اپنا سر جھٹکا
****
“زمل تم مانو یا نہ مانو اس کمینے انسان نے جان بوجھ کر میرے ساتھ یہ سب کیا ہے”
صبح زمل یونیورسٹی پہنچی تب اسے ثمرن نے کیف کی کنڈیشن کے بارے میں بتایا۔۔۔ کیوکہ رات میں ہی کیف کہ شولڈر میں کافی درد تھا اس سے اپنی کار ڈرائیو نہیں ہو پا رہی تھی واصف اسے زمل کے ہاں سے ہسپتال لے گیا وہاں جاکر معلوم ہوا کہ کیف کے بازو کی ہڈی اپنی جگہ سے سرک گئی ہے اور ساتھ ہی اس کے پاؤں پر بھی ہیئر لائن فریکچر آیا تھا وہ اس وقت ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹا ہوا زمل سے موبائل پر بات کر رہا تھا
“دید کی تمہارے سے کوئی دشمنی تو نہیں ہے کیف جو انہوں نے تمہیں جان بوجھ کر پری پلان گرایا ہو اور پلیز ان کے لئے بیٹ ورڈز یوز مت کرو”
زمل کیف کی بات کی نفی کرتی ہوئی اس سے بولی کیف کا درید کو کمینہ کہنا زمل کو بالکل اچھا نہیں لگا جس کے لیے اس نے کیف کو ٹوک دیا
“زمل تم اس درید کے بچے کی سائیڈ لینا بند کرو اور پلیز یہ مت بولنا کہ اس کا اظہار محبت سن کر تم اس کی محبت میں مبتلا ہو چکی ہوں یا تمہیں بھی اچانک کل رات اس سے پیار ہوگیا ہے”
کیف کو زمل کا درید کی سائیڈ لینا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا جبھی وہ تپ کر بولا
“تم بات کو کہاں سے کہاں لے کر چلے گئے ہو کیف۔۔۔۔ دید کے ساتھ میرا پورا بچپن گزرا ہے انہیں تم یا کوئی دوسرا برا بولے گا تو مجھے برا ہی لگے گا اور دید کا اظہار محبت سچ تھوڑی تھا۔۔۔ وہ بھلا میرے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں۔۔۔ وہ سب کچھ تو انہوں نے ویسے ہی سب کے سامنے بول دیا ہوگا”
زمل کیف سے زیادہ اپنے آپ کو اپنی بات کا یقین دلا کر بولی، ساتھ ہی اس نے درید کے خیال کو بری طرح جھٹکا۔۔۔ وہ کل رات سے ہی درید کے خیال کو ایسے ہی جھٹک رہی تھی وہ درید کے لیے کچھ محسوس ہی نہیں کرنا چاہتی تھی
“اگر وہ سب کچھ سچ تھا بھی تو یاد رکھنا زمل کہ میں تمہیں درید اعظم سے زیادہ پیار کرتا ہوں،، مجھے کل بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا جیسے وہ تم پر حق جتا رہا تھا۔۔۔ میں بالکل بھی برداشت نہیں کر پاؤں گا اگر تمہارا مائنڈ یا پھر دل میری طرف سے ہٹا بھی”
کیف زمل کو وارننگ دیتا ہوا بولا تو زمل خاموش ہوگئی اسے کل شام کا وہ مناظر یاد آنے لگے جب درید نے اس کے بیڈروم میں پورے استحقاق کے ساتھ زمل کے ہونٹوں پر مہر ثبت کی تھی۔۔۔ اس نے تو کبھی کیف کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیا تھا مگر وہ درید کو ایسا کرنے سے روک نہیں سکی تھی۔۔۔ یہ سب اگر کیف کو معلوم ہو جاتا تو کیا وہ برداشت کر پاتا
“کہاں کھو گئی ہو یار مجھ سے بات کرتے کرتے تم”
کیف کی موبائل پر آواز سن کر زمل ایک دم ہوش کی دنیا میں آ کر بولی
“کہیں نہیں۔۔۔ تمہارے بارے میں سوچ رہی تھی بہت چوٹیں آئی ہیں کل رات تمہیں کیف”
زمل بات بناتی ہوئی بولی مگر یہ سچ بھی تھا وہ کیف کے لئے فکر مند تھی
“میرے بارے میں سوچو مت زمل مجھ سے ملنے کے لیے میرے پاس آؤ۔۔۔ میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں یار کل تو اس درید اعظم کی موجودگی میں، میں تمہیں ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پایا۔۔۔ مجھے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں نظر اٹھا کر تمہیں دیکھوں گا تو درید اعظم مجھے ویسے ہی جلا کر راکھ کر دے گا تم نے نوٹ کیا وہ واصف سے باقی سب سے کتنے کتنے اچھے طریقے سے بات کر رہا تھا اور مجھے کیسے گھور رہا تھا”
کیف نے جو محسوس کیا وہ زمل نے بھی محسوس کیا تھا مگر وہ اس بات کو گول کرتی ہوئی بولی
“ملنے کا تو یہ ہے میں آف ٹائم میں نشاہ یا پھر ثمرن میں سے کسی کے ساتھ تمہارے پاس ہاسپٹل آتی ہوں”
زمل کیف سے بولی کیوکہ صبح اس کے یونیورسٹی جانے کے ٹائم پر درید آفس کے لیے تیار ہوا خود بھی ناشتہ کر رہا تھا
**†**
“آپ یہاں پر کیا کر رہے ہیں دید”
زمل نے
یونیورسٹی کے آف ٹائم میں جب درید کو یونیورسٹی میں دیکھا تو وہ درید سے حیرت کا اظہار کرتی ہوئی پوچھنے لگی
“یہاں پر اور کس کے لئے آؤنگا مائی لیڈی، آفس سے تمہارے لئے ہی آیا ہوں آجاؤ کار وہاں پارک ہے”
درید زمل کو اشارہ کرتا ہوا خود اپنی کار کی طرف بڑھنے لگا
“دید میری بات سنیں پلیز مجھے گھر سے پہلے ہاسپٹل جانا ہے کیف کو دیکھنے، واصف اور ثمرن تو اس کو دیکھ آئے تھے میں نے سوچا میں نشاہ کے ساتھ جا کر اسے دیکھ آتی ہوں”
زمل کی بات سن کر درید کچھ پل اس کو خاموشی سے دیکھنے کے بعد ایک دم بولا
“نشاہ کو چھوڑو تم میرے ساتھ چلو ہاسپٹل،، اسی بہانے میں بھی دیکھ لیتا ہوں بیچارے سے کیف کو، نہ جانے کہاں کہاں سے اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھا ہے”
درید افسوس سے بولتا ہوا کار کی طرف بڑھا تو زمل کو بھی نہ چاہتے ہوئے درید کے ساتھ جانا پڑا مگر اسپتال سے واپسی پر زمل کو اچھا خاصہ غصہ آیا ہوا تھا جس کا اظہار اس نے درید سے کار میں بیٹھتے ہی کیا
“آپ ہاسپٹل کس لیے گئے تھے دید، بیمار کی عیادت کرنے کے لیے یا پھر اس کا مذاق بنانے کے لیے”
کیف ایک تو زمل کو درید کے ساتھ آتا ہوا دیکھ کر ویسے ہی بری طرح تپ گیا تھا اوپر سے درید نے کیف پر افسوس کرنا شروع کر دیا کہ وہ کیف کو صرف اوپر سے ہی کمزور سمجھتا تھا لیکن اس کے اندرونی حالات اور پرزے بھی کافی ڈھیلے ڈھالے اور کمزور ہیں بقول درید کہ کیف کو اپنے آپ کو اور اپنی ہڈیوں کو کافی اسٹرونگ بنانا چاہیے جس کے لیے درید نے اچھی غذا اور ٹیبلیٹس کے استعمال کا بھی مشورہ دیا۔۔۔ درید کیف کہ یونیورسٹی کے ہرج ہونے کا اور اس کے سمسٹر نہ دینے کا بھی افسوس کر رہا تھا ساتھ ہی اس نے کیف کی عقل پر بھی ماتم کرتے ہوئے بتایا کہ اگر وہ پائپ پر لٹک ہی گیا تھا تو اسے کس ٹرک سے نیچے آنا چاہیے تھا۔۔۔ نہ کہ وہ ڈر کے مارے پائپ ہاتھ سے چھوڑ دیتا۔۔۔ ساتھ ہی درید نے کیف کو برین تیز کرنے کی ایکسرسائز کی بھی کچھ ترکیب بتائی۔۔۔ جتنی دیر زمل درید کے ساتھ ہاسپٹل میں موجود رہی اتنی ہی دیر صرف درید بولتا رہا لیکن اب کار میں بیٹھنے پر زمل شروع ہو گئی تھی
“میں کیوں کیف کا مذاق اڑاؤں گا اس نے خود حرکت ہی اپنا مذاق اڑانے والی کی ہے۔۔۔ دیکھا نہیں کل پائپ پر لٹکا ہوا کینا فنی لگ رہا تھا”
درید اپنی ہنسی چھپا کر بولتا ہوا کار ڈرائیو کرنے لگا اس کی نہ چھپنے والی ہنسی کو دیکھ کر زمل کو درید پر غصہ آنے لگا
“بہت ہنسی آرہی ہے آپ کو، ذرا احساس ہے آپ کو۔۔۔ اس کے شولڈر کی ہڈی میں کریک آیا ہے اس کے پاؤں میں پلسٹر بندھا ہوا ہے وہ دو ماہ تک یونیورسٹی نہیں آ سکتا۔۔ وہ بے چارہ سسمسٹر نہیں دے پائے گا”
زمل درید سے غصے میں بول رہی تھی مگر اس کو کیف کی حالت دیکھ کر افسوس ہو رہا تھا
“اسٹاپ اٹ زمل میں نے اس سے نہیں کہا تھا کے ہائیٹ سے چھلانگ لگا کر اپنی کمزور اور ناتواں ہڈیوں کا حلوا بنا دوں،، نہ ہی اس کے سمسٹر نہ دینے کی وجہ میں بنا ہو۔۔۔ عقل سے اسے خود کام لینا چاہیے تھا”
درید ڈرائیونگ کرتا ہوا سیریس ہو کر زمل کو بولا تو زمل نے اپنا سر جھٹکا نہ جانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے درید نے اسے ارام سے یونیورسٹی جانے ہی اس لئے دیا ہے کیونکہ کیف دو ماہ تک بیڈ ریسٹ پر ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کیف کو پلان کرکے درید نے زخمی کیا ہو تاکہ زمل یونیورسٹی جا سکے کیف کا درید پر شک کرنا صحیح ہو
“آپ نے اسے ٹاسک دیا تھا آپ جانتے تھے کہ کونسا ہک لوز ہے جس پر پاؤں کا وزن دینے سے وہ دیوار سے نکل جائے گا۔۔۔ آپ کو کیف کے اوپر جانے سے پہلے اس کو انفارم کرنا چاہیے تھا دید لیکن آپ نے اس کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ شاید آپ چاہتے تھے کہ کیف کو نقصان پہنچے”
زمل غصے میں بولی تو درید نے ایک دم کار کو بریک لگایا اور اب وہ بھی غصے میں زمل کو گھور رہا تھا
“زیادہ ہی زبان نہیں چل رہی ہے اس وقت تمہاری۔۔۔ کیف صرف ٹوٹا پھوٹا لیکن زندہ ہے، اس لیے اس کے لیے جذباتی ہونا بند کرو۔۔۔۔۔ ایک دوست ہونے کی حیثیت سے تم جتنا کیف کے لیے افسوس کر سکتی تھی وہ تم کر چکی ہوں اب میں دوبارہ تمہارے منہ سے کیف کا نام نہ سنو،، کیف سے زیادہ تم اپنے سیمسٹر پر دھیان دو جس کے لئے تمہیں یونیورسٹی جانے کی پرمیشن دی ہے میں نے”
درید زمل کو آنکھیں دکھا کر جھڑکتا ہوا بولا تو زمل بالکل خاموش ہو گئی۔۔۔ پیچھے دوسری کار ہارن دے رہی تھی جس کو دیکھ کر درید نے دوبارہ کار کو اسٹارٹ کر کے ڈرائیو کرنا شروع کر دیا
*****
درید کے سارے دوست جو کہ تھوڑی دیر پہلے اس کے گھر پر انوائٹ تھے کچھ دیر قبل ہی واپس اپنے گھروں کو لوٹے تھے، درید لیونگ روم سے نکل کر تابندہ کے بیڈ روم کی بند لائٹ کو دیکھ کر اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ سو چکی ہے جبکہ زمل کے کمرے سے بجتے ہوئے موبائل کی آواز نے اسے زمل کے کمرے کی طرف متوجہ کیا۔۔۔ کارنر ٹیبل پر رکھے ہوئے موبائل پر آتی کیف کی کال کو دیکھ کر ناگوار شکنیں درید کے ماتھے پر نمایاں ہوئی
“رات کے وقت زمل کو کال کرنے کی کوئی خاص وجہ”
درید کی کال ریسیو کر کے بغیر سلام دعا کے کیف سے مخاطب ہوا تو دوسری سائیڈ درید کی آواز سن کر کیف کا موڈ بھی خراب ہو گیا
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں رات میں اس وقت تم زمل کے کمرے میں کیا کر رہے ہو”
رات کے وقت درید کی زمل کے کمرے میں موجودگی کیف کو بھی ہضم نہیں ہوئی تھی اس لیے بے ساختہ وہ بھی درید سے پوچھ بیٹھا
“تم زمل کے یونیورسٹی فیلو ہو تو اپنی لمٹ میں رہو۔۔۔ تم یہ بات پوچھنے کا حق نہیں رکھتے ہو کہ میں اس وقت زمل کے کمرے میں کیا کر رہا ہوں اور دوسری بات بھی جان لو مجھے اپنے اور زمل کے بیچ کسی دوسرے کی مداخلت کچھ خاص پسند نہیں ہے تو تم اس بات کا آئندہ خیال رکھنا اور ایک آخری بات۔۔۔۔ کیف اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری باقی کی ہڈیاں سلامت رہے تو زمل سے دور رہنا، اگر عقلمند ہوگے تو میری اس بات کو یاد رکھو گے”
درید کیف کو بول کر لائن ڈسکنیکٹ کرکے موبائل بیڈ پر اچھالتا ہوا اپنے بیڈ روم میں چلا آیا وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ زمل اپنے بیڈ روم میں نہیں تو کہاں موجود ہے جبھی اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کی طرف اس کی نظریں گئی، جہاں پول کے اندر دونوں پاؤں ڈالے زمل کسی گہری سوچ میں گم تھی،، آج کے دن وہ سارا ہی وقت اپنی وائف کو ڈھنگ سے نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔۔ درید ڈریس چینج کرنے کے بعد کیجول ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں بیک یارڈ کی طرف جانے کا ارادہ کرنے لگا
*****
