436.9K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 11)

Deewangi By Zeenia Sharjeel

تھوڑی دیر پہلے ہی ثمرن کی کال زمل کے پاس آئی تھی کہ وہ نشا، واصف اور کیف اس کے گھر پر پہنچنے والے ہیں۔۔۔ آج کے دن کے لیے زمل نے وائٹ کلر کی لونگ فراک کا انتخاب کیا تھا جسے زیب تن کرنے کے بعد وہ آئینے کے سامنے پشت کیے کھڑی اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے جاتے ہوئے فراک کی زپ بند کر رہی تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ کُھلا اور درید اس کے کمرے کے اندر داخل ہوا۔۔۔ زمل نے اپنے سامنے درید کو اپنے کمرے میں آتا دیکھا، تو فراک کی زپ بند کرتی اس کے ہاتھوں کی حرکت وہی تھم گئی ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ نیچے گرا لئے۔۔۔ اس کی پشت ابھی بھی آئینے کے سامنے تھی جبکہ وہ درید کو دیکھ رہی تھی،، اسے صبح اٹھ کر ویسے بھی عجیب محسوس ہو رہا تھا شاید اسے کل رات درید سے وہ سب باتیں نہیں کہنی چاہیے تھی

“ابھی تک ریڈی نہیں ہوئی تم”

درید زمل کے پاس چلتا ہوا آیا اور اس کا چہرہ دیکھ کر سوال کرنے لگا وہ خود بلیک کلر کی جینز اور بلیک ہی کلر شرٹ میں تیار لگ رہا تھا

“بس ریڈی ہی ہو”

زمل درید کو دیکھ کر ذرا سا ہچکچاتی ہوئی بولی اس کا سارا دھیان اپنی آدھی کُھلی ہوئی زپ پر تھا،، درید اپنی نظریں اس کے گھبرائے ہوئے چہرے سے ہٹاتا ہوا زمل کو دونوں کندھوں سے تھام کر اس کا رخ آئینے کی طرف کر چکا تھا، زمل احتجاج بھی نہ کر سکی۔۔۔ بہت مشکلوں سے ہمت کر کے وہ اپنی نظریں اٹھاتی ہوئی آئینے سے درید کو دیکھنے لگی، درید کی انگلیوں کا لمس اپنی کمر پر محسوس کر کے زمل کے پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔ وہ بےحد نرمی سے زمل کی کمر کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا بہت آہستہ سے اس کی فراک کی زپ بند کر چکا تھا

“پہنچے نہیں ابھی تک تمہارے سارے فرینڈز”

درید زمل کا رخ اپنی طرف کرتا اسکے گلابی رنگے ہوئے ہونٹوں کو دیکھ کر زمل سے نارمل لہجے میں پوچھنے لگا جبکہ درید محسوس کرچکا تھا اس کے ذرا سے چھونے پر زمل کے چہرے کی ہوائیاں اڑ چکی تھی

“وہ سب راستے میں بس پہنچنے والے ہیں ابھی ثمرن نے مجھے کال پر بتایا تھا”

زمل درید کی نظروں کے زاویے سے گھبراتی ہوئی جلدی سے بولی۔۔۔ درید کی نگاہیں اس کا اعتماد بحال نہیں ہونے دے رہی تھیں

“ہہمم، اچھی بات ہے۔۔۔۔ ویسے کل رات تم نے جو جو باتیں مجھ سے بولی وہ بالکل ٹھیک بولی، زمل یہاں میری طرف دیکھ کر مجھے بتاؤ،،، تم مِس کر رہی ہو ناں اپنے پرانے والے دید کو”

درید اچانک زمل کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر لہجے میں نرمی لاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“نہیں دید ایسا نہیں ہے وہ سب باتیں تو میرے منہ سے یونہی نکل گئی تھی”

زمل کو کیف کا خیال آنے لگا جبھی وہ درید سے بولی اگر درید نرم پڑ جاتا تو کیف سے اس کی کمیٹمینٹ کا کیا ہوتا جبکہ بقول کیف کہ وہ درید سے خلع لیتی تبھی کیف اپنے اور اس کے لیے کوئی اسٹیپ لے سکتا تھا اور سارے معاملے کو سنبھال سکتا تھا

“مگر کل رات مجھے خود بھی احساس ہوا کہ ہم دونوں کے بیچ اب پہلے والا رشتہ نہیں رہا میں خود بھی ہم دونوں کے اس رشتے کو مِس کر رہا ہو”

درید نے بولتے ہوئے زمل کو جود سے مزید قریب کر لیا اس سے پہلے درید زمل کو اپنے مکمل حصار میں لیتا، زمل اس سے دور ہوتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ہیئر برش کو اٹھا کر اپنے بالوں میں پھیرنے لگی۔۔۔ درید نے زمل کے گریز کو اچھی طرح محسوس کیا مگر کچھ بھی جتائے بناء وہ زمل کی پشت پر آکر کھڑا ہوا اور زمل سے ہیئر برش لیتا ہوا اس کے بالوں میں پھیرنے لگا

“لگتا ہے میرا سارا غُصہ تم اپنے بالوں پر نکال چکی ہو ان چار سالوں میں”

درید زمل کے بالوں کی لینتھ دیکھ کر اس سے بولا

“آپ کو معلوم ہے بڑے بال مجھ سے نہیں سنبھلتے شروع سے ہی”

زمل اپنے شولڈر سے نیچے آتے چھوٹے بالوں کا جواز پیش کرتی ہوئی درید کو آئینے سے دیکھ کر بولی جس پر درید ہلکا سا مسکرایا

“اب میں واپس آ گیا ہوں ڈارلنگ تمہیں پورا کا پورا سنبھالنے کے لیے،، آج سے تمہیں یہ بات اپنے مائنڈ میں رکھنا ہے کہ اب تمہیں اپنے بالوں کی لمبائی پہلے جیسی کرنی ہے اپنے دید کے لیے”

درید ہیئر برش کو واپس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھنے کے بعد زمل کا رخ دوبارہ اپنی طرف کر چکا تھا۔۔۔۔ وہ خاموشی سے زمل کو دیکھنے لگا جو اس کے سامنے سر جھکائے اپنے چہرے پر آئی ناگواری کے تاثرات چھپائے کھڑی تھی

“پوچھوں گی نہیں اپنے دید سے کہ آج تم کیسی لگ رہی ہو”

درید زمل کی تھوڑی کے نیچے انگلی ٹکا کر اس کا چہرہ اوپر کرتا ہوا بولا اس کی نظریں دوبارہ زمل کے گلابی ہونٹوں پر ٹک گئی تھی

“دید مجھے لگ رہا ہے سب لوگ پہنچ چکے ہیں، میں دیکھ کر آتی ہوں”

زمل اس کی بہکی ہوئی نظروں سے گھبراتی ہوئی اپنے کمرے سے جانے لگی مگر درید اس کی کلائی پکڑ چکا تھا

“میں تمہیں بتانا چاہتا ہو کہ تم کیسی لگ رہی ہو۔۔۔ تمہیں دیکھ کر مجھے شروع سے یہ محسوس ہوتا ہے جیسے اوپر والے نے ایک پری خاص درید اعظم کے لیے دنیا میں بھیجی ہے،، جس کو درید اعظم کا دل کتنا چاہتا ہے اس کا اندازہ شاید تم خود بھی کبھی نہ لگا سکو گی”

درید زمل کا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس سے بولتا ہوا اچانک اس کے ہونٹوں پر جھکا زمل خواہش کے باوجود درید کو پیچھے نہیں ہٹا سکی۔۔۔

درید اس کی سانسوں کو قید کرتا ہوا اپنی سانسیں زمل کے اندر اتارنے لگا۔۔۔ زمل بے بسی سے انکھیں بند کیے ساتھ ہی مٹھی میں اپنی فراک کو دبوچے کھڑی تھی۔۔۔ زمل کو لگا شاید آج درید اس کی سانسیں بند کر دینا چاہتا ہے تب اس نے احتجاجاً درید کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹایا تو درید کسی سحر سے آزاد ہوا، وہ پیچھے ہوا تو زمل کے ہونٹوں سے پنک گلوس صاف ہو چکا تھا جس کے لئے آج درید کو ٹشو کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی،، زمل درید کی حرکت پر اپنے چہرے کا رخ موڑ گئی درید اس کی پشت کو دیکھتا ہوا زمل کے کمرے سے نکل گیا

*****

“دید یہ نشاہ ہے اس کا نام ثمرن ہے،، یہ واصف ہے اور یہ کیف۔۔ یہ چاروں ہی میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور میرے بہت اچھے دوست ہیں”

زمل کمرے میں تھوڑی دیر پہلے ہوئی کاروائی کو فراموش کر ان چاروں کے ساتھ اپنے گھر کے سٹنگ ایریا میں بیٹھی ہوئی تھی۔ ۔۔درید کی وہاں آمد پر ایک ایک کر کے سب کا تعارف کروانے لگی

“کھڑے کیوں ہوگئے تم سب لوگ بیٹھو”

درید ان سب سے مل کر انہیں مخاطب کرتا ہوا بولا

“زمل تم نے ہمارا تعارف تو ان سے کروا دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ کون ہیں”

نشاہ ثمرن کے برابر میں صوفے پر بیٹھتی ہوئی زمل سے پوچھنے لگی مگر اس سے پہلے زمل کچھ بولتی اس کے پاس کھڑا ہوا درید بول اٹھا

“زمل کی بجائے میں خود ہی اپنا انٹروڈکشن کروا دیتا ہوں تم لوگوں سے۔۔۔ میں زمل کا ہسبینڈ ہو درید اعظم”

درید اپنے پاس کھڑی زمل کے کندھے کے گرد اپنا بازو پھیلا کر اسکے دوستوں سے اپنا تعارف کرواتا ہوا خاص طور پر کیف کو دیکھنے لگا مگر ثمرن نشاہ اور واصف۔۔۔۔ وہ تینوں ہی حیرت زدہ ہو کر زمل کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ ثمرن تھوڑی کنفیوز نگاہوں سے زمل اور درید کے بعد اپنے بائیں طرف صوفے پر بیٹھے ہوئے کیف کو دیکھ رہی تھی جو اس انکشاف پر زرا سا بھی حیرت زدہ نہیں تھا

“آنٹی کہاں پر ہیں زمل نظر نہیں آرہی”

ثمرن کے پوچھنے پر درید کے پاس بیٹھی ہوئی زمل ثمرن سے بولی

“اپنے روم میں ریسٹ کر رہی ہیں آؤ تمہیں ان سے ملوا دیتی ہوں”

زمل ثمرن سے کہتی ہوئی صوفے سے اٹھی تو نشاہ بھی ثمرن کے ساتھ اس کے پیچھے چل دی جبکہ درید واصف سے باتیں کرنے لگا

“زمل کی بچی تم نے اتنی بڑی بات ہم لوگوں سے چھپائی کہ تم ایک عدد اتنا ہینڈسم سے ہسبنڈ بھی رکھتی ہو آخر کیوں نہیں بتایا تم نے ہم لوگوں کو اپنی شادی کے بارے میں”

وہ تینوں وہاں سے اٹھ کر ہال میں پہنچی تو سب سے پہلے نشاہ زمل کی خبر لیتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“صرف نکاح ہوا ہے میرا دید سے وہ بھی ابھی نہیں، چار سال پہلے۔۔۔ یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے میرے لیے جو میں تم لوگوں کو بتاتی”

زمل نشاہ کہ شکوہ کرنے پر بالکل نارمل انداز میں اس سے بولی

“تمہارے لئے اہم بات ہو یا نہ ہو مگر نکاح کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔۔۔ کم از کم تمہیں کیف کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہیے تھا کتنا دل ٹوٹا ہوگا اس کا تمہارے بارے میں حقیقت جان کر”

ثمرن جوکہ زمل اور کیف کے تعلق سے آگاہ تھی افسوس کرتی ہوئی کہنے لگی جس پر نشاہ ایک بار پھر حیرت سے منہ کھول کر زمل کو دیکھنے لگی

“یعنی مجھے صہیح دال میں کالا لگتا تھا، مطلب تمہارا اور کیف کا۔۔۔ او مائی گاڈ”

نشاہ حیرت کے مارے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی

“کیف اور میرا ٹائم پاس نہیں ہے وہ مجھ سے اسٹڈیز مکمل ہونے کے بعد شادی کرنے والا ہے اور میں نے کیف کو دید کے بارے شروع میں ہی سب کچھ بتا دیا تھا”

زمل ثمرن اور نشاہ کو دیکھتی ہوئی بولی مگر وہ دونوں اب زمل کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں

“زمل مائینڈ مت کرنا یار مگر تم ایک شخص کے نکاح میں ہونے کے باوجود کسی دوسرے کے ساتھ انولو ہوگئی،، میں بالکل بھی سمجھ نہیں پا رہی ہوں آخر تمہارا دل کیسے مانا، ماڈرن اور ایڈوانس میں بھی ہو مگر۔۔۔۔”

ثمرن کو بات کرتے ہوئے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں زمل اس کی باتوں کا برا نہ مان جائے اس لیے بات ادھوری چھوڑ کر خاموش ہو گئی

“دید نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا تھا،، کیا زور زبردستی سے جڑنے والے رشتے کو تم قبول کروں گی۔۔۔ انہوں نے مجھے میری غلطی کی سزا دینے کے لیے مجھ سے نکاح کیا،، ان سے میرا کوئی محبت والا تعلق نہیں ہے۔۔۔ دید شروع سے ہی پسند کرتے ہیں کہ میں ان کے تابع ہو کر رہو، ان کی ہر بات مانو جو ان کو پسند ہے میں وہ کام کرو،، جو ان کو پسند نہیں ہے اس چیز کو یا اس خواہش کو ترک کر دو۔۔۔ وہ مجھے شروع سے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق چلاتے آئے ہیں۔۔۔ آج تم سب کو یہاں بلانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ تم سب کے بارے میں وہ اچھی طرح جان سکے اور تم لوگوں کو پرکھ سکے کہ تم لوگوں میں سے مجھے آگے کس سے دوستی رکھنا چاہیے اور کس سے نہیں”

زمل ان دونوں کو دلیل دینے کے ساتھ ساتھ چار سال پہلے اس رونما ہونے والے واقعہ کے بارے میں بتانے لگی جس غلطی کے بنا پر درید نے سزا کے طور پر اس سے نکاح کیا تھا

“یہ بھی تو ہو سکتا ہے تمہارے دید واقعی تم سے محبت کرتے ہو ظاہر نہیں کرنا چاہ رہے ہو”

نشاہ کی بات سن کرو زمل زور سے ہنسی

“یہ میں نے کب کہا وہ مجھ سے محبت نیں کرتے۔۔۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں مگر گھر میں رہنے والے ایک فرد کی طرح۔۔۔ اس سے آگے کی محبت جو تم سمجھ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ نہ ان کی طرف سے نہ میری طرف سے،، بس دید پسند کرتے ہیں کہ میں ان کی مرضی سے ساری زندگی چلتی رہو،، ان کا حکم مانتی رہو وہ مجھے میری غلطی پر سزا دیتے رہے اور مجھے ساری زندگی اپنی مرضی کے مطابق چلاتے رہیں”

زمل کی بات مکمل ہونے پر خاموش کھڑی ثمرن اس سے پوچھنے لگی

“اس سب کا سلوشن پھر کیا ہے زمل،، میرا مطلب ہے تم نے اپنے آگے کے لیے کیا سوچا ہے”

ثمرن فکرمند لہجے میں زمل کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگیکیو کہ وہ زمل اور کیف کے بارے میں جانتی تھی درید اعظم کا باب کھلنے پر سب سے بڑا دھچکا اسی کو لگا تھا۔ ۔۔۔ ثمرن کی بات سن کر زمل لمبی سانس کھینچ کر اس سے بولی

“سوچنا کیا ہے کیف ساری حقیقت جاننے کے بعد بھی نہ صرف مجھے پسند کرتا ہے بلکہ شادی کا خواہش مند ہے۔ ۔۔ یہی بات اس کی سنسئیرٹی کو شو کرتی ہے،، میں سیمسٹر کمپلیٹ ہونے کا ویٹ کر رہی ہوں اس کے بعد دید سے خلع لے کر کیف سے۔۔۔۔ آئی مین پھر میں اور کیف شادی کر لیں گے”

زمل کی بات سن کر ثمرن خاموش ہو گئی وہی نشاہ عجیب سی شکل بناتی ہوئی بولی

“ویسے اگر دیکھا جائے تو کیف کی پرسنیلٹی سے تو تمہاری دید کی پرسنلٹی زیادہ اچھی ہے کم از کم درید اعظم میں کیف کی طرح کیلشیم اور آیوڈین کی کمی تو نظر نہیں آتی”

نشاہ کیف کے دبلے جسم کو نشانہ بناتی ہوئی بولی تو ثمرن نے اپنی آمڈ آنے والی ہنسی کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا جبکہ زمل منہ بناتی ہوئی نشاہ سے بولی

“صرف کیف دبلے ہونے کا مذاق کیو اڑا رہی ہو کچھ قصیدے اس کی ہائیٹ پر بھی پڑھ دو”

زمل کے طنز کرنے پر ثمرن اور نشاہ دونوں ہی ہنس پڑی

“اگر میں نے کیف کی ہائیٹ کو بھی ٹارگٹ کیا تو پھر تم مجھ سے سخت والا ناراض ہو جاؤ گی اور میں تمہیں ناراض بالکل بھی نہیں کرنا چاہتی ہو”

نشاء زمل کے گال پر زور سے چٹکی بھرتی ہوئی بولی

“نشاہ تم فضول میں کیف کی پرسنلٹی کو لے کر بات کر رہی ہوں وہ جس خاندان سے بی لونگ کرتا ہے وہاں پر پرسنیلٹی زیادہ میٹر نہیں کرتی”

ثمرن کی بات زمل کو کافی محسوس ہوئی اس لیے وہ ثمرن کو دیکھتی ہوئی بولی

“مجھے اس کی دولت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ثمرن، ڈیڈ بے شک دید کے ریئل فادر تھے مگر انہوں نے مجھے کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔۔۔ میرے لئے میٹر رکھتا ہے کیف کا مجھ سے مخلص ہونا اور بس”

زمل کی بات سن کر ثمرن ایکدم بولی

“اور اگر تمہیں کبھی یہ معلوم ہو جائے کہ تمہارا ہسبنڈ تمہارے اور اپنے رشتے کو لے کر مخلص ہے ساتھ ہی وہ تم سے محبت بھی کرتا ہے اور یہ نکاح اس نے محض غصے یا ضد میں نہیں کیا تو کیا تب بھی تم درید اعظم کو چھوڑ کر کیف کا انتخاب کروں گی”

ثمرن کی بات سن کر زمل بالکل خاموش ہوگئی

“چلو تم دونوں مما سے مل لو میں ذرا کچن کا چکر لگا کر آتی ہوں”

زمل ثمرن اور نشاہ سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

“زمل کی جگہ اگر تم یہ سوال مجھ سے پوچھتی تو میں بنا سوچے سمجھے درید اعظم کا نام لے لیتی بھئ مجھے تو یہ کیف جیسے نازک سے چوزے ٹائپ کے مرد بالکل بھی نہیں پسند”

نشاہ اکثر ایسے الٹے سیدھے ناموں سے کیف کے پیچھے اس کا ریکارڈ لگایا کرتی،، ثمرن اس کی بات پر ہنستی ہوئی تابندہ کی کمرے کی طرف جانے لگی نشاہ بھی اس کے پیچھے چل دی

*****

“ڈنر بہت زبردست تھا مزا آگیا اب یہ بتاؤ تم نیورسٹی کب سے آ رہی ہو”

ڈنر کے بعد سب ہال میں موجود تھے تب واصف زمل کو دیکھتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا جس پر زمل کی نظریں بے ساختہ درید پر گئی جو اسی کو دیکھ رہا تھا

“کل، کل سے جوائن کرو گی۔۔۔۔ تم کیوں اتنے خاموش ہو کیف”

واصف کو جواب دینے ہی زمل کیف کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی مگر کیف کے جواب دینے سے پہلے ہی درید بول اٹھا

“بور ہو رہا ہوگا کیف،، کیو کیف ایسا ہی ہے چلو گائز ایسا کرتے ہیں ٹُرتھ اور ڈیر کھیلتے ہیں۔۔۔ کیا خیال ہے تم سب کا”

درید قریب رکھے سائیڈ ٹیبل سے پینٹنگ کی ہوئی ڈیکوریشن کی بوتل اٹھا کر سب کو باری باری دیکھ کر پوچھنے لگا

“ناٹ آ بیڈ آئیڈیا”

ثمرن بولی

“یس”

نشاہ نے بھی ایگری کیا تو درید نے زمل کی طرف دیکھا

“ٹھیک ہے”

وہ بھی کندھے اچکاتی ہوئی بولی تو درید نے پاس رکھے ٹیبل پر بوتل کو لٹا کر گھمایا۔۔۔ اتفاق سے بوتل کی کارک والی سائیڈ درید پر آکر رکی سب اسی کو دیکھنے لگے وہ واصف کے بولنے کے انتظار کرنے لگا جو درید کے سامنے بیٹھا ہوا تھا

“تو درید سر آپ اپنے لئے کیا چوز کریں گے ٹرتھ یا ڈیر”

واصف درید کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“سچ بولنے میں گھبرانا کیسا مگر میں کتنا ڈیئرنگ ہو یہ تو ڈیر جیتنے کے بعد ہی تم کو اندازہ ہوگا۔۔۔ اس لیے میں یہ تم پر چھوڑتا ہوں تم ڈیر دینا چاہو گے یا پھر کوئی سچ سننا چاہو گے”

درید واصف سے بولتا ہوا پیچھے صوفے پر ٹیک لگا کر واصف کے بولنے کا انتظار کرنے لگا

“کیوں نہ دوستو ہم سب لوگ کوئی سچ جاننے کے ساتھ ساتھ ڈیر بھی دیکھ لیں۔۔۔ تو سر جی آپ نے زمل کو کوئی ایسی سچ بات بتانی ہے جو اس کے علم میں نہ ہو یا پھر اِس سے آپ نے کبھی نہ کہی ہو اور ساتھ ہی ڈیر کے طور پر ہم لوگ آپکو اپنی زمل کے ساتھ ایک رومینٹک کپل ڈانس کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں کیوں بھئی کیا خیال ہے دوستو”

واصف کی بات سن کر جہاں درید ہنسا وہی زمل واصف کو گھور کر دیکھنے لگی جبکہ نشاہ اور ثمرن نے واصف کی بات کی تالیاں بجا کر تائد کی بس کیف خاموش بیٹھا ہوا ضبط کر کے درید کو دیکھ رہا تھا جو زمل کا نازک سا ہاتھ تھام کر اسے کمرے کے بیچ و بیچ لے آیا ساتھ ہی وہ زمل کا دوسرا ہاتھ تھامتا ہوا اس سے بولنے لگا

“آج سے پہلے یہ سچ میں تمہیں کہی بار پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں تمہیں پیار کرتا ہو مگر تم نے ہمیشہ میری بات کو نارمل انداز میں لیا تم ہمیشہ میری فیلنگز سے بے خبر رہی، شاید تم سمجھتی ہو کہ جیسے گھر میں رہنے والے فرد ایک دوسرے سے،، اپنی فیملی سے محبت کرتے ہیں میں بھی تم سے ویسی محبت کرتا ہوں اور بس۔۔۔ یہ پورا سچ نہیں ہے زمل، میں نے تمہیں پچپن سے چاہا ہو جب تم بہت چھوٹی تھی تب سے۔۔۔ محبت شاید اس دن ہو گئی تھی جب ڈیڈ کو میرے اسموکنگ کرنے کا معلوم ہوا اور انہوں نے سزا کے طور پر مجھے رات کا ڈنر نہیں کرنے دیا اور تم سب کے سونے کے بعد میرے کمرے میں میرے بھوکے رہنے کے احساس سے میرے لیے کھانا لے کر آئی۔۔۔ ہاں اس دن مجھ پر اپنی خود کی فیلنگز ظاہر ہوگئی تھی کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔ ویسی محبت جس میں اپنے چاہنے والے کے لیے خالص فیلینگز رکھی جاتی ہیں۔۔۔۔ جو محبت کسی ایک خاص فرد سے، دوسروں افراد کے برعکس ذرا ہٹ کر کی جاتی ہے۔۔۔ تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں شامل کرلوں گا”

درید زمل سے نہ جانے اور بھی کچھ کہہ رہا تھا مگر زمل چہرے پر خوف زدہ تاثرات کے ساتھ اس کی باتیں سن رہی تھی ساتھ ہی اس نے کیف کو دیکھا جو ان دونوں کو دیکھ کر بڑے ضبط سے جبڑے بھینچے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ کیف سے ہوتی ہوئی اس کی نظر ہال میں موجود واصف پر گئی جو بہت دلچسپی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ایسا ہی کچھ حال ثمرن کا بھی حال تھا جو حیرت سے پورا منہ اور آنکھیں کھولی ہوئی تھی جبکہ نشاہ اپنے ہاتھ میں موبائل پکڑے باقاعدہ ان دونوں کی ویڈیو بنا رہی تھی

“تم سے یوں اچانک نکاح کرکے جانے کی وجہ بھی میں آج بتا دیتا ہوں،، بے شک مجھے اس دن تم پر بہت غصہ تھا مگر میں یہاں سے جانے سے پہلے تمہیں اپنا بنا کر جانا چاہتا تھا تاکہ تم زندگی بھر میری ہو کر رہو،، مجھ سے جڑی رہو صرف میرے لیے سوچو۔۔۔ جیسے میں نے ان گزرے چار سالوں میں صرف اور صرف تمہارا سوچا ہے”

درید خوابناک لہجے میں بولتا ہوا زمل کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جانے لگا جسے زمل نے سب کی موجودگی کو دیکھ کر فوراً پیچھے کیا ویسے ہی درید بھی ہوش میں آگیا۔۔۔ لیکن نشاہ کے میوزک پلے کرنے پر وہ ایک بار پھر زمل کو کمر سے تھام چکا تھا جب درید نے ڈانس کے اسٹیپ لینا شروع کیے تو زمل نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے شولڈر پر رکھے۔۔۔ زمل کو پرانا دھندلا سا ایک منظر یاد آیا جب وہ درید کو ڈانس کرنے کے لیے فورس کر رہی تھی لیکن اِس وقت جس طرح سے وہ زمل کے ساتھ ڈانس کے اسٹیپ لے رہا تھا زمل کو اندازہ ہوگیا وہ کپل ڈانس کرنے میں وہ پہلے کے مقابلے میں کافی مہارت حاصل کر چکا ہے

“کیا خیال ہے ڈانس کے اختتام پر تمہارے دوستوں کو رومینٹک ہسبنڈ کی ایک چھوٹی سی جھلک دکھا دو اگر تم مائنڈ نہ کرو تو”

درید زمل کو تھامے ڈانس کرنے کے ساتھ اس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا سرگوشی میں بولا۔۔۔۔ زمل ڈر کے مارے ایک دم اس سے دور ہوئی،، وہی تالیوں اور سیٹیوں کی آواز ہال میں گونجنے لگی درید مسکراتا ہوا واپس صوفے پر بیٹھا تو نشاہ نے بھی ویڈیو بنانا بند کر دی۔۔۔ زمل نے ایک نظر کیف پر ڈالی جو دھواں دھواں چہرے کے ساتھ خاموش ایک جگہ ٹکا ہوا تھا وہ بھی خاموشی سے بغیر کچھ بولے واپس صوفے پر بیٹھ گئی

“چلو بھئی اب دوبارہ گیم اسٹارٹ کرتے ہیں”

واصف کے بولنے پر درید نے بوتل کو گھمایا تو اب کی بار بوتل کیف پر آکر رکی اس نے ایک دم درید کی طرف دیکھا

“ٹرتھ یا ڈیر”

درید کیف کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا سب تجسس سے کیف کو دیکھنے لگے

“ڈیر”

کیف درید کی باتوں سے اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ اس کے اور زمل کے بارے میں ضرور جان گیا ہے یا پھر اسے شک ہے دوسرا کیف نے اندازہ لگا لیا تھا کہ درید ایک چالاک انسان ہے جبھی وہ اسے ٹرتھ کا موقع دیئے بغیر جلدی سے ڈیر بولا

“تمہارا ڈیر یہاں پر موجود نہیں ہے اور اگر تم سب کو بھی کیف کا ڈیر دیکھنا ہے تو میرے اور کیف کے ساتھ بیک یارڈ میں آجاؤ”

درید صوفے سے اٹھتا ہوا بولا تو کیف سمیت واصف، نشاہ، ثمرن اور زمل درید کے پیچھے بیک یارڈ کی طرف جانے کے لیے تیار ہوگئے

****