436.8K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 10)

Deewangi By Zeenia Sharjeel

اسے آج بھی وہ شام اچھی طرح سے یاد تھی جب درید کو لندن جانا تھا وہ ائیر پورٹ جانے سے پہلے زمل کے کمرے میں اس سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔ تب زمل نے اپنے چہرے کا رخ اس کی طرف سے پھیر لیا تھا۔۔۔نہ تو زمل رخصت ہوتے وقت درید کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی، نہ ہی اسے اپنا چہرہ دکھانا چاہتی تھی بلکہ وہ درید کو صاف بول چکی تھی کہ اب درید واپس آنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیوکہ یہ دید اس کا پہلے والا دید نہیں ہے جسے وہ چاہتی تھی،، وہ زمل کی ناراضگی اپنے ساتھ لیے اور اپنا خوف اس کے اندر ڈال کر لندن چلا گیا تھا۔۔۔ درید کا غصہ کم ہوا تو شروع میں درید نے زمل سے بات کرنی چاہی مگر زمل اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی پھر درید نے ضد باندھنے کی بجائے زمل کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔۔ البتہ اپنی گرینی کے پاس رہ کر وہ ان سے زمل کی ڈھیر ساری باتیں کرتا۔۔۔ کبھی کبھی بہت شدت سے اسے زمل کی یاد آتی تو وہ اپنے دل کو سمجھا لیتا کہ وہ اس سے دور ہے تو کیا ہوا،، ہے تو اب اسی کی۔۔۔۔ درید کی گرینی یعنیٰ ثمن کی ماں وہ درید سے زمل کی باتیں تو خوش ہو کر سن لیتیں مگر اعظم کا ذکر آتے ہی ان کا موڈ خراب ہوجاتا۔۔۔ درید نے اپنی گرینی سے اعظم کے بارے میں ہمیشہ یہی سنا کہ اعظم نے کبھی اس کی بیٹی کو خوش نہیں رکھا وہ تو دلبردشتہ ہوکر اکثر اعظم کو ثمن کا قاتل بولتی۔۔ آئستہ آئستہ درید بھی انہی باتوں کی وجہ سے دل ہی دل میں اعظم سے بدگمان ہونے لگا اور پھر اس نے بات چیت کا سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ کم کردیا

اعظم نے اس کی ماں سے بےوفائی کی تھی اتنا تو وہ بچپن سے ہی جانتا تھا۔۔ وہ اپنی ماں کی جگہ لینے والی کے لیے تو دل صاف نہیں کر سکا مگر اس کی بیٹی کو دل سے نہیں نکال سکتا تھا

*****

زمل درید کو کافی دینے کے بعد اس کے کمرے میں اس کی وارڈروب سیٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ ساتھ ہی انہی سوچوں میں گم تھی کہ درید نے جانے سے پہلے جو اس کے ساتھ کیا تھا وہ اس کے لئے درید کو معاف نہیں کر پائے گئی، نہ ہی اس کا دماغ درید کے اور اپنے نئے رشتے کو قبول کر پایا گا۔۔۔ جانے سے پہلے درید اس کے اندر اپنا جو خوف بٹھا کر گیا تھا،، وہ اسی خوف کے زیر اثر جی رہی تھی۔۔۔ وہ کیف کی جانب کبھی راغب نہیں ہوتی مگر کیف کی مستقل مزاجی یا پھر ہٹ دھرمی نے اسے کیف کی طرف متوجہ کیا تھا وہ اس کے اور درید کے رشتے کی حقیقت جاننے کے باوجود بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔ ایک مہینے پہلے ہی اس نے کیف کی محبت کو قبول کیا تھا اب یوں اچانک درید کی آمد پر وہ پریشان ہوچکی تھی۔۔۔ زمل سب کچھ سوچتے ہوئے ہینڈ کیری سے درید کا ایک ایک کر کے سارا سامان نکال رہی تھی جب اس کے والٹ میں موجود ٹشو پیپر نیچے فرش پر گرا، جسے زمل اٹھا کر غور سے دیکھنے لگی یہ ٹشو پیپر کافی پرانا تھا اور اس پر لپ اسٹک کا نشان بھی موجود تھا۔۔۔ ابھی وہ ٹشو پیپر پر مزید غور کرتی کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور درید ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑے کمرے کے اندر داخل ہوا

“کیا دیکھ رہی ہو، اس ٹشو پر، یہ کسی گوری کی لپ اسٹک کا نشان نہیں ہے، تمہارے ہی ہونٹوں کی لپ اسٹک کا نشان ہے”

درید کمرے کا دروازہ بند کرکے کافی کا خالی مگ ٹیبل پر رکھتا ہوا زمل کے پاس آکر اسے بتانے لگا تو زمل کو وہ دن یاد آیا جب درید نے اس کے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک ٹشو پیپر کی مدد سے صاف کی تھی

“اس ٹشو کو اتنا سنبھال کر رکھنے کا مقصد پوچھ سکتی ہو”

زمل تھوڑی دیر پہلے اپنے ساتھ درید کا رویہ بھول کر اس سے کنفیوز ہوکر پوچھنے لگی

“کیوں نہیں پوچھ سکتی، ضرور پوچھ سکتی ہو مگر دور سے نہیں تھوڑا قریب آکر”

درید زمل کے ہاتھ سے ٹشو لے کر ڈسٹ بن میں پھینکتا ہوا اچانک سے زمل کو اپنی جانب کھنچ چکا تھا

“دید”

زمل نے یوں اچانک اپنے اوپر ہوئے حملے پر ایک دم بوکھلا کر درید کو پکارا مگر وہ اپنا ایک بازو زمل کے کمر کے گرد لپیٹ کر دوسرے ہاتھ کی انگلی زمل کے ہونٹوں پر رکھتا ہوا اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا

“شش اب بالکل خاموش رہنا، ایک لفظ منہ سے نہیں نکالنا”

اس سے پہلے وہ احتجا جاً کچھ بولتی درید کے وارننگ دینے پر نہ صرف زمل خوفزدہ ہو چکی تھی بلکہ درید کی نظریں اپنے ہونٹوں پر ٹکی ہوئی دیکھ کر وہ نفی میں سر ہلانے لگی درید آئستہ سے زمل کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لایا جس پر زمل کو زور سے اپنی آنکھیں بند کرنا پڑی، وہ بچپن سے اس کو دیکھتی آئی تھی اس کے دید نے اس کے ساتھ آج تک کبھی کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی،، وہ آنے والے وقت کا سوچ کر آئستہ آئستہ کانپنے لگی

تابندہ کی باتوں کو اثر تھا یا پھر وہ زمل کو اپنے بیڈ روم میں دیکھ کر اس کی قربت سے مدھوش ہوا جارہا تھا۔۔۔۔ یہی وجہ تھی جو وہ زمل کو کھینچ کر اپنی پناہوں میں لے چکا تھا لیکن اب درید اپنی دسترس میں موجود زمل کی بند آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ درید نے محسوس کیا وہ آئستہ آئستہ کانپ رہی تھی

“جان کیو نکل رہی ہے تمہاری ابھی سے۔۔۔ یہ فضول میں کانپنا بند کرو اور اپنی آنکھیں کھولو فوراً”

درید کی آواز سن کر زمل آنکھیں کھولتی ہوئی اپنے آپ کو نارمل حالت میں لانے لگی

“کوئی بڑا والا کارنامہ انجام نہیں دے رہا تھا میں جو تم نے یوں کھڑے کھڑے ہی کانپنا شروع کردیا صرف ایک کِس کرنے والا تھا”

درید اسے نارمل حالت میں لانے کے لیے اس کی کمر کے گرد اپنا لپٹا ہوا بازو ہٹاتا ہوا بولا۔۔۔۔ مگر درید کی بات سن کر وہ نارمل کہاں رہی تھی

“کک کک۔۔۔ کِس”

کتنی بےباکی سے وہ اس کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کر رہا تھا زمل درید کے منہ سے کِس لفظ سن کر باقاعدہ ہکلاتی ہوئی بولی

“ہاں، کک کک کِس۔۔۔۔ کیا اردو میں پوری تشریح کر کے بتاؤ اب کِس کی”

درید بالکل سیریز ہوکر زمل سے پوچھنے لگا ساتھ ہی صوفے پر جا بیٹھا جبکہ زمل حیرت سے درید کو دیکھنے لگی جس نے آج سے پہلے اس سے ایسی واہیات باتیں کبھی نہیں کی تھی۔۔۔ وہ تو درید کے بارے میں ایسا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو یہاں آکر بیٹھو”

درید اس کی حیرانگی کو خاطر میں نہ لاتا ہوا روعب دار لہجہ بنا کر بولا۔۔۔ زمل دوبارہ مرنے والی ہوگئی،، وہ اسکی تھائی کو دیکھنے لگی جہاں درید نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا تھا۔۔۔ وہ کل رات سے کسی نہ کسی طریقے سے اس کی جان لینے پر تلا ہوا تھا

“دید مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے پلیز”

زمل آئستہ آواز میں بولی اب اس کو درید کے کمرے میں ایک ایک پل گزرانا بہت بھاری لگ رہا تھا

“چلی جانا مگر پہلے وہ کرو جو میں نے کہاں ہے یہاں آؤ ایک سیکنڈ میں”

درید کا لہجہ بالکل سنجیدہ تھا اگر زمل اس کی بات نہ مانتی تو لازمی وہ طوفان کھڑا کر دیتا زمل سست قدموں سے چلتی ہوئی درید کے پاس آئی۔۔۔ درید زمل کی کلائی پکڑ کر اپنی تھائی کی بجائے اسے اپنے برابر میں بٹھا چکا تھا۔۔۔ زمل جو کہ کچھ اور توقع کر رہی تھی صوفے پر درید کے برابر میں بیٹھی اس کو دیکھنے لگی وہ خود بھی زمل کو دیکھ رہا تھا ایک دم سے بولا

“جانتی ہو میں اُس رات غصے میں تمہارے ساتھ کرنے والا تھا”

درید زمل کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا درید کی بات سن کر زمل کی آنکھوں میں نمی آنے لگی وہ جانتی تھی درید اس سے کس رات کا ذکر کر رہا تھا سوچو کا تسلسل ٹوٹا بھی نہیں تھا کہ اچانک درید اسے اس رات کی طرح اپنی گرفت میں لے چکا تھا

“دید نہیں پلیز نہیں۔۔۔ ایسا مت کریں میرے ساتھ”

درید کے اچانک زمل کو صوفے پر لٹانے کے ساتھ اس پر جھکنے سے زمل کی جان نکلنے لگی وہ آنکھیں بند کرتی تڑپتی ہوئی بولی

“مکمل اختیارات رکھنے اور شدید غصے میں ہونے کے باوجود نہ میں نے اس رات تمہارے ساتھ کچھ کیا تھا، نہ اب کچھ کرو گا اپنی آنکھیں کھول لو”

درید کی بات پر زمل نے اپنی آنکھیں کھول لی وہ زمل پر جھکا اسی کو دیکھ رہا تھا، بہت آئستگی سے درید نے اپنے ہونٹ زمل کی پیشانی پر رکھے۔۔۔ جس سے زمل ایک بار پھر سسک اٹھی

“کیو کر رہے ہیں آپ اس طرح میرے ساتھ اب کیا غلطی کر دی میں نے”

زمل اپنی پیشانی پر درید کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے سسکتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر درید اس پر جھکا ہوا زمل کا چہرہ دیکھ کر بولا

“ضروری تو نہیں ہے کہ تمہارے غلطی کرنے پر ہی میں تمہارے قریب آؤ،، ایک مضبوط رشتہ بنا کر گیا تھا میں تم سے جانے سے پہلے۔۔ ہمارے درمیان موجود اس رشتے کی کشش بھی مجھے تمہاری طرف کھینچ سکتی ہے”

وہ کون سا اس وقت زمل سے اپنا حق وصول رہا تھا۔۔۔۔ کیا وہ اپنے دل میں موجود خواہش کو اب بھی دبا لیتا جبکہ وہ اب اس کی بیوی تھی

“میں آپ کے اور اپنے بیچ اس رشتے کو قبول نہیں کر پائی ہوں پلیز دید سمجھنے کی کوشش کریں، آپ کا یہ رویہ صرف اور صرف اب مجھے آپ سے خوفزدہ کر رہا ہے”

زمل بولتی ہوئی رو پڑی تو درید اٹھ کر بیٹھتا ہوا زمل کو دیکھنے لگا

کیا وجہ تھی جو وہ چار سالوں میں اس رشتے کو قبول نہیں کر پائی تھی کیا وہ لڑکا۔ ۔۔۔؟ درید سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر احمر کی کال آنے لگی جسے ریسیو کرتا ہوا وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔ زمل اس کے جانے کے انتظار میں تھی درید کے کمرے سے جاتے ہی وہ بھی اس کے کمرے سے نکل گئی

*****

شام کے وقت زمل کو اندازہ ہوگیا کہ درید گھر پر موجود نہیں ہے۔۔۔ نگہت سے سرسری انداز میں پوچھنے پر اسے معلوم ہوا وہ مخدوم اور نعمت اللہ کو بیک یارڈ کی صفائی پر لگا کر اپنے دوستوں سے ملنے کے لیے نکلا ہوا ہے تو زمل نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ کل رات سے لے کر اب تک اس کی جان سولی پر ہی لٹکی ہوئی تھی اپنے موبائل کی بیٹری ڈیڈ دیکھ کر وہ تابندہ کا موبائل لے کر اپنے کمرے میں آتی ہوئی کیف کو کال ملانے لگی

“کہاں ہو یار زمل تم یونیورسٹی بھی نہیں آئی،، کتنا ویٹ کیا ہے میں نے تمہارا اور موبائل کیوں آف ہے تمہارا صبح سے”

زمل کی آواز سنتے ہی کیف نے ایک سانس میں زمل سے سوالات کرنا شروع کر دیے

“کل رات دید واپس آ گئے ہیں کیف، وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو چکے ہیں،،، اور میرے ساتھ ان کا رویہ۔۔۔۔ میں بہت پریشان ہو کیف،، مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا کہ آگے کیا ہوگا میرا”

کیف کی آواز سن کر زمل اس سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی ایک وہی تھا ساری باتوں کو جاننے والا اس کو سمجھنے والا

“تو مسٹر درید اعظم واپس آ چکے ہیں لگتا ہے ان سے ملنا ہی پڑے گا تم بالکل پریشان مت ہوں میں تمہارے ساتھ ہو،، تمہیں کبھی بھی کسی حال میں تنہا نہیں چھوڑوں گا اور اس ظالم شخص کے چنگل سے جلد سے جلد تمہیں آزاد کروا لوں گا۔۔۔۔ درید اعظم تمہیں اتنی آسانی سے مجھ سے نہیں چھین سکتا بس یار تم اس آدمی سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا اسے زیادہ فری وری مت ہونے دینا اپنے آپ سے پلیز”

کیف زمل کو تسلی دیتا ہوں آخری بات پر خود ہی فکر مند ہوکر بولا۔۔۔ کیف کی بات پر زمل کو صبح والا منظر یاد آگیا اس نے تو کبھی کیف کو پنے قریب نہیں آنے دیا تھا مگر وہ چاہ کر بھی درید کو کچھ بھی کرنے سے کیسے روک سکتی تھی وہ اس کے نکاح میں تھی،، تھوڑی دیر کیف سے بات کرکے زمل موبائل سائیڈ پر رکھ چکی تھی تب اس کے کمرے میں تابندہ آ گئی

“خیریت میرے موبائل پر کس سے بات کر رہی تھی”

تابندہ اپنا موبائل زمل کے بیڈ روم میں دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی

“میں بھلا کس سے بات کروں گی اپنی فرینڈز کو یونیورسٹی نہ آنے کا ریزن بتا رہی تھی۔۔۔ میرے موبائل کی بیٹری ڈیڈ تھی اس لیے آپ کے موبائل سے کال ملا لی”

آج برسوں بعد زمل تابندہ کے تفشیشی انداز پر چونکی تھی اس لیے تابندہ کو دیکھتی ہوئی تفصیل سے بتانے لگی اور اس میں جھوٹ بھی کیا تھا بھلا

“زمل اب تم سے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت نہیں ہونی چاہیے جس کی وجہ سے گھر میں کوئی طوفان برپا ہو یہ میں تمہیں بتا رہی ہو”

تابندہ زمل کو دیکھ کر وارن کرنے والے انداز میں بولی

“الٹی سیدھی حرکت سے کیا مطلب ہے آپ کا”

دل میں چور ہونے کے باوجود زمل تابندہ کی بات کا برا مانتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“مجھے نہیں لگتا کہ مجھے تمہیں ہر مطلب کی بات سمجھانا چاہئے تم اچھی طرح سمجھ رہی ہو کہ میں تمہیں کیا کہہ رہی ہو”

درید نے اسے زمل سے کوئی بھی بات کرنے سے منع کیا تھا لیکن تابندہ پھر بھی اس کو جتاتی ہوئی بولی تو زمل خاموش ہوگئی

“یونیورسٹی کیوں نہیں گئی آج تم،،،، کیا درید نے منع کیا تمہیں یونیورسٹی جانا سے”

تابندہ اس کو خاموش دیکھ کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہوئی آئل کی بوتل اٹھا کر زمل کے پاس آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی

“تو آخر ان کے علاوہ اور کس کو تکلیف ہوگی میرے یونیورسٹی جانے سے۔۔۔ شروع سے ہی دید میرے ساتھ ایسا کرتے آئے ہیں اب تو اور زیادہ ٹھوک بجا کر اپنی بات منوائے گیں مجھ سے”

زمل غصے میں بولتی ہوئی بیڈ سے نیچے فلور کشن رکھ کر بیٹھ گئی وہ جانتی تھی تابندہ اس کے بالوں میں آئلنگ کرنے والی ہے

“اچھا اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے درید گھر آجائے تو پھر میں بات کر لیتی ہوں اس سے کہ وہ تمہیں ایگزمز تک یونیورسٹی جانے کی پرمیشن دے دے”

تابندہ زمل کے بالوں میں مساج کرتی ہوئی کچھ سوچ کر بولی۔۔۔ زمل نے محسوس کیا تھا کہ جب سے درید سے اس کا نکاح ہوا تھا تابندہ درید کے ذکر سے،، پہلے کی طرح نہ چڑتی تھی نہ ہی خار کھاتی تھی شاید اس کی ماں درید کو بطور داماد قبول کر چکی تھی مگر مسلئہ اس کا تھا وہ درید کو شوہر کی صورت قبول نہیں کر پا رہی تھی

“کیا باتیں چل رہی ہیں آپ دونوں میں،، کس کو کس بات پر غصہ آ رہا ہے”

درید زمل کے کمرے میں آتا ہوا تابندہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا وہ پہلے بھی زمل یہ کمرے میں بنا اجازت کے ایسے ہی آ جایا کرتا تھا اب بھی اس کا یہی حال تھا

“کوئی ایسی خاص بات نہیں ہو رہی ہے تم بتاؤ رات گئے کہاں سے آ رہے ہو اور دوپہر سے کہاں غائب تھے”

تابندہ زمل بالوں میں مساج کرتی ہوئی غصے والی بات کو گول کرکے درید سے اس کے گھر سے غیر حاضری کا پوچھنے لگی جبکہ زمل درید کو صوفے پر بیٹھتا ہوا دیکھ کر غصے سے دیکھنے لگی۔۔ صبح جو درید نے اس کے ساتھ کچن میں پھر اپنے بیڈ روم میں کیا تھا وہ اس بات کو لے کر درید سے خفا بھی تھی

“پاکستان واپس آنے کی دیر تھی یار دوستوں نے پیچھا پکڑ لیا انہی کی طرف نکلا ہوا تھا۔۔۔ واپس گھر آئے تو مجھے گھنٹہ بھر گزر چکا ہے بیک یارڈ کا جائزہ لے رہا تھا میرے جانے کے بعد تو گھر کا پچھلا حصہ اجاڑ ویران بن چکا ہے،، کتنے سال ہو چکے ہیں آپ کو اس حصے کی صفائی کروائے ہوئے”

درید فلور کشن پر بیٹھی ہوئی زمل پر نظر ڈالتا ہوا تابندہ سے نارمل انداز میں باتیں کر رہا تھا جیسے اس کی شروع سے ہی تابندہ سے بہت اچھے تعلقات رہے ہو جبکہ درید کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ زمل اب اسے غصے میں کیوں دیکھ رہی تھی۔۔۔ اپنی ناراضگی تو وہ اس کے ہاتھ کی کافی پینے اور اس کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر لگا کر ختم کر چکا تھا

“وہاں پر پول تمہاری فرمائش پر ہی اعظم نے بنوایا تھا میرا اعظم کا تو اس حصے میں جانا ہی کم ہوتا تھا،، تم دونوں ہی تھوڑا بہت وقت وہاں میں گزارتے تھے۔۔۔ تمہارے جانے کے بعد دھیان ہی نہیں دیا اس جگہ پر، اب خیال رکھو گی، یہ بتاؤ کہ رات کا کھانا کھا لیا یا پھر نگہت سے کہہ کر یہی پر منگوالو”

تابندہ بھی درید سے بالکل اسی طرح نارمل انداز میں بات کر رہی تھی زمل کو تو اپنا وجود ہی فضول لگنے لگا،، وہ دونوں یہ سب فضول باتیں کسی اور کمرے میں جا کر بھی کر سکتے تھے زمل کڑھتی ہوئی سوچنے لگی

“رات کا ڈنر تو میں دوستوں کے ساتھ ہی کھا چکا ہوں،، کیا آپ اور بھی کچھ کہنا چاہتی ہیں مجھ سے”

درید تابندہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا اسے محسوس ہوا جیسے تابندہ اس سے کچھ بات کرتے ہوئے جھجھک محسوس کر رہی تھی

“زمل کے پیپرز ہونے والے ہیں دو ماہ بعد اگر یہ یونیورسٹی نہیں جائے گی تو اس کی ساری محنت ضائع ہوجائے گی میں خود بھی چاہتی ہوں کہ زمل یونیورسٹی جائے اور سمسٹر دے بعد میں بے شک”

تابندہ اپنی بات جاری رکھتی مگر درید بول پڑا

“آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں اس کی محنت یا پھر سال ضائع ہونے دوں گا آج تو میں نے اسے یونیورسٹی جانے سے اس کیے روکا تھا کیوکہ اسے بہت سالوں بعد اپنے سامنے دیکھ رہا تھا تو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ یہ میری نظروں سے دور جائے”

درید کی بات سن کر تابندہ مسکرانے لگی جبکہ درید زمل کو اسمائل دیتا ہوا دیکھنے لگا،، زمل درید کو بناء اسمائل دیئے خاموشی سے دیکھنے لگی

“زمل تم پرسوں یونیورسٹی چلی جانا،، ایسا کرو کہ اپنے سارے فرینڈز کو کل یہاں ڈنر پر انوائٹ کر لو،، سب کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور ایک میٹنگ بھی کر لیتے ہیں تمہارے یونیورسٹی کے کلوز فرینڈز کے ساتھ،، اوکے”

درید مسکراتا ہوا زمل سے کہنے لگا اور اس کے کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ زمل ضبط کرتی ہوئی تابندہ کو دیکھنے لگی جو کہ اس بات پر ہی مطمئن تھی کے درید نے زمل کو یونیورسٹی جانے کی پرمیشن دے دی

**†**

رات کو اپنے کمرے میں آکر اسے لیٹے ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے نیند تو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی مگر ہلکا ہلکا سر درد کر رہا تھا زمل کا خیال ذہن میں آتے ہی وہ زمل کے کمرے میں جانے کا ارادہ کرنے لگا

درید نے زمل کمرے کا دروازہ کھولا تو زمل کو بیڈ پر سوتے ہوئے پایا،، نائٹی میں مبلوس وہ بے خبر سو رہی تھی،، درید کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آکر زمل کے برابر میں لیٹ گیا

“آپ یہاں اس وقت میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں”

درید کے برابر میں لیٹنے کی دیر تھی کہ زمل کی فوراً آنکھ کھل گئی وہ درید کو اپنے برابر میں لیٹا ہوا دیکھ کر ایک دم اٹھ بیٹھی اور حیرت زدہ سی درید کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“نیند نہیں آ رہی تھی اپنے روم میں تو سوچا تمہارے چہرے کا دیدار کر لو تمہیں دیکھتے دیکھتے شاید آنکھ لگ جائے اس لیے چلا آیا۔۔۔ تم اُٹھ کیو گئی ہو لیٹی رہو”

درید بیڈ پر لیٹا ہوا زمل سے بولا بلکہ اس نے زمل کے لیٹنے کا انتظار کیے بنا زمل کو خود ہی اپنے برابر میں لٹا لیا

وہ دونوں ہی بیڈ پر ایک دوسرے کے برابر میں سیدھے لیٹے ہوئے تھے۔۔۔ زمل خاموشی سے چھت پر لگے ہوئے پنکھے کو دیکھ رہی تھی جو کہ مدھم رفتار میں چل رہا تھا،، درید کے ہاتھوں کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کر کے وہ ایک دم درید کو دیکھنے لگی جو زمل وہ دیکھنے کے ساتھ اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ چکا تھا ایسے وہ پہلے اکثر اپنی طبیعت خرابی میں کرتا تھا

“طبیعت ٹھیک ہے آپ کی”

زمل درید کے سینے پر اپنا ہاتھ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی جو اب سکون سے آنکھیں بند کیا لیٹا تھا

“ہہہمم سر میں درد ہے”

درید آنکھیں بند کیا یوا اسے بتانے لگا

“سر دباؤ آپ کا”

وہ ابھی بھی درید کا چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی،، زمل کو درید کے ساتھ اپنا اچھا گزرا ہوا وقت یاد آنے لگا جب اس کا دید اِس دید سے بالکل مختلف ہوا کرتا تھا جو وہ اب بن چکا تھا

“خود ہی ٹھیک ہو جائے گا مائی لیڈی اس طرح پریشان مت ہو”

درید آنکھیں کھول کر زمل کو دیکھتا ہوا مسکرا کر بولا۔۔۔ زمل خاموشی سے اس کو مسکراتا ہوا دیکھنے لگے وہ اس کو بول نہیں سکی کہ درید کی مسکراہٹ اس کے چہرے پر کتنی پیاری لگ رہی تھی

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو”

درید زمل کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اس سے پوچھنے لگا

“آپ کے فیس پر اسمائل”

زمل کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر وہ ایک دم درید کے چہرے سے نظریں ہٹا کر دوبارہ چھت پر لگے ہوئے پنکھے کو دیکھنے لگی،، اس کا ہاتھ اب بھی درید کے سینے پر موجود تھا اور درید کی نگاہیں زمل کے چہرے پر مرکوز تھی

“آنٹی بتا رہی تھی چھ ماہ پہلے تم نے ایک کیٹ (بلی) پالی تھی۔۔۔ پھر ڈیڈ سے ڈیتھ سے دو دن پہلے تم نے وہ کیٹ نگہت کے بیٹے کے حوالے کردی جبکہ تم اس سے کافی زیادہ مانوس ہو چکی تھی”

درید زمل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔۔زمل کی نظروں کا زاویہ اب بھی چھت کی جانب تھا

“میری توجہ کہیں اور چلی جائے تو وہ چیز آپ کو بری لگنے لگتی ہے اس لیے جس رات میں نے آپ کو پہلی بار کال کی تھی تب ہی سوچ لیا تھا آپ کی آمد سے پہلے مانو کو خود سے دور کردو گی”

زمل کی بات سن کر درید کو وہ دن یاد آیا جب زمل نے بچپن میں اعظم سے ضد کر کے پیرٹ (طوطا) منگوایا تھا مگر جب زمل بہت زیادہ اس پیرٹ پر دھیان دینے لگی تب درید اس سے کافی زیادہ ناراض رہنے لگا۔۔۔۔ زمل کے ناراضگی کی وجہ پوچھنے پر وہ زمل کو بتا چکا تھا کہ زمل کو اپنے دید یا پھر پیرٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔۔۔۔ کیوکہ وہ پیرٹ درید کو پسند نہیں

زمل کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب اس نے اپنے پیرٹ کو پنجرے سے آزاد کیا تھا اور وہ درید کے سینے سے لگ کر اپنے پیرٹ کے لیے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔۔ کتنے دنوں تک درید اسے بڑے پیار سے بہلاتا رہا تھا اس کی ہر بات مانتا مگر کتنے دنوں تک زمل اس پیرٹ کو مس کرتی رہی تھی

“یہ جو تمہارے دید کا دل ہے ناں قسم سے تمہارے لئے بہت زیادہ سیلفش ہے۔۔۔ یہ چاہتا ہے جیسے دید اپنی زمل کو چاہتا ہے بس اس کی زمل بھی صرف اپنے دید کو چاہے”

درید اپنے سینے پر رکھا ہوا زمل کا ہاتھ اپنے لبوں سے چھوتا ہوا بولا تو زمل نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچا اور ایک دم بول اٹھی

“مجھ سے ایسی باتیں کرکے یہ مت ظاہر کریں کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں”

زمل دوبارہ اپنی نظروں کا زاویہ درید کی طرف کر کے اس سے بولی اور آہستہ سے بیڈ سے اٹھنے لگی مگر اس کے اٹھنے سے پہلے ہی درید آئستہ سے اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ چکا تھا وہ اٹھ نہیں سکی

“اگر محبت نہیں کرتا درید اعظم تم سے تو پھر کیا کرتا ہے”

درید سنجیدہ تاثرات سے زمل کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“حکومت،، درید اعظم زمل پر صرف حکومت کرتا ہے”

زمل درید کو بولتی ہوئی اس کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹا کر بیڈ سے اٹھنے لگی تو درید نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا وہ ایک ہی جست میں درید کے سینے پر آ گری

“تم میری محبت کو غلط نام دے کر اس کی توہین نہیں کر سکتی زمل،، یہ میں بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا سنا تم نے”

درید ماتھے پر بل نمودار کرتا ہوا زمل سے بولا اگر وہ اس پر حکومت کرتا تو چار سال سے اسے یوں آزاد نہ چھوڑتا نہ ہی اسے اتنی من مانیاں کرنے دیتا جتنی وہ ان چار سالوں میں کر چکی تھی

“محبت،،، وہ کب ہوئی آپ کو مجھ سے۔۔۔ آپ نے مجھ سے نکاح محبت میں کیا تھا یا پھر غصے میں؟؟؟ جو سلوک آپ نے میرے ساتھ آج صبح کیا وہ تھی محبت آپ کی، واپس آنے کے بعد آپ نے کل رات سے جو میرے ساتھ رویہ اختیار کیا ہوا ہے اسے محبت کہتے ہیں آپ۔ ۔۔۔ نہیں چاہیے دید مجھے آپ کی ایسی محبت،، خوف پیدا کر دیتی ہے آپ کی محبت میرے اندر، ڈرنے لگی ہو اب میں آپ کے اس نئے روپ سے جو آپ نے نکاح کے بعد سے اپنایا ہوا ہے”

زمل بولتی ہوئی اس کے سینے سے اٹھی درید اب بھی خاموشی سے لیٹا ہوا اس کو دیکھ رہا تھا تھوڑے وقفے کے بعد وہ ایک بار پھر بولی

“میری ایک غلطی جوکہ میں مانتی ہوں کہ کوئی چھوٹی غلطی نہیں تھی اس پر آپ نے مجھ سے میرا دید ہی مجھ سے چھین لیا،، مجھے تو اپنا وہی دید پسند تھا جس کے ساتھ میں بچپن سے لے کر پندرہ سال تک کا عرصہ گزارتی آئی تھی،، جو مجھ سے غصہ کرنے اور کسی بات پر ناراض ہونے کے باوجود مجھے خود پیار سے منا لیتا۔۔۔ آپ نے جاتے وقت بالکل ٹھیک کہا تھا کہ میں اپنی اس غلطی سے اپنے اس دید کو کھو چکی ہوں اور جس درید اعظم نے مجھ سے نکاح کیا ہے وہ زمل کے لیے بالکل اجنبی ہے زمل اس سے کبھی بھی محبت نہیں کر سکتی سنا آپ نے”

زمل درید سے بولتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکل گئی تھوڑی دیر تک درید خاموش بیڈ پر لیٹا ہوا اس کی باتوں پر غور کرتا رہا پھر خود بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا

**†**