Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 1)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
صبح کے آغاز پر آنکھ کھلتے ہی اس کی نظر اپنے کمرے کے ٹیرس پر گئی،، وہ روز معمول کی طرح نائٹی پر اپنا گاؤن پہن کر ٹیرس پر چلی آئی۔۔۔۔ روز صبح صبح ٹیرس پر کھڑی ہوکر بند آنکھوں کے ساتھ گہری سانس لیے فریش آیئر کو اپنے اندر اتارنا اسے شروع سے ہی اچھا لگتا تھا۔۔۔ اسے یہ احساس بھی چھو کر نہیں گزرا کہ کوئی دوسری آنکھ اس کے گھر کے سامنے سڑک پر بہت غور سے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ٹخنوں سے چھوتی نائٹی پر پہنے گاؤن،، جس کی ڈوریوں کو کمر سے کسنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی تھی،، نہ ہی اس نے شولڈر سے ذرا نیچے آتے کُھلے بالوں کو باندھنے کی زحمت کی تھی۔۔۔ لاپرواہ انداز میں وہ ٹیرس پر آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔۔۔۔ اور کوئی اس کے مکمل سراپے کو اپنے کیمرے کی مدد سے زوم کر کے کھٹا کھٹ اس کی تصویریں لے رہا تھا
کسی احساس کے تحت جیسے ہی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو کوئی شخص ایک دم سامنے سڑک پر موجود درخت کی آڑ میں ہو گیا۔۔۔ وہ حیرت زدہ ہو کر اپنے گاؤن کی ڈوریاں بند کرتی ہوئی اپنے گھر کے سامنے اس بوڑھے درخت کو دیکھنے لگی جس کے پیچھے چھپے ہوا شخص اس کے آنکھیں کھولنے پر ایک دم درخت کے پیچھے چھپ گیا تھا
وہ آج بھی اس شخص کا نوٹس لیے بنا اپنے کمرے میں چلی گئی جو معلوم نہیں آج سے پہلے کتنے مقامات پر، کتنی جگہوں پر اس کی ڈھیروں کی تعداد میں اپنے موبائل میں تصویریں کھینچتا رہا تھا
*****
آج شاید قسمت اس پر کافی مہربان تھی جبھی وہ انگلینڈ میں ریڈز کلب میں بیٹھا ہوا جوئے کی ایک کے بعد ایک بازی میں کامیاب ہوکر جیت اپنے نام کئے جا رہا تھا۔۔۔ موبائل پر آئی فائق کی کال کو وہ کافی دیر سے نظر انداز کیے ہوئے تھا۔۔۔۔ سارے کوائینز کا مالک بن کر بالآخر وہ ٹیبل سے اٹھا تو سامنے سے آتی مارتھا جان بوجھ کر اس سے ٹکرائی
“ہائے ہینڈسم اگر تم چاہو تو ہم دونوں تمہاری جیت کو ایک ساتھ مل کر بھرپور طریقے سے آج رات سیلیبریٹ کر سکتے ہیں کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں”
مارتھا نے اس سے بولتے ہوئے اپنے زپر کی زپ اچھی خاصی نیچے کر دی جس سے اس کے جسم کے خوبصورت خدو خال اور زیادہ واضح ہونے لگے۔۔۔ وہ مارتھا کے گلے کی گہرائی دیکھنے کے بعد مارتھا کو دیکھنے لگا جو اس کو آنکھ مارتی ہوئی معنیٰ خیزی سے مسکرا رہی تھی
“میری عادتیں اور خیالات جیکی سے کافی زیادہ مختلف ہیں یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ میں اپنی جیت کو اکیلا سیلیبریٹ کرنے کا عادی ہوں،، ہاں اگر آج کی رات تم میری بجائے کسی اور کے ساتھ نائٹ اسپینڈ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو تم بیشک فائق کے ساتھ خوبصورت لمحات انجوائے کر سکتی ہو ویسے بھی وہ آج فری ہے”
وہ مارتھا کے قریب آکر اس کی شرٹ کی زپ اوپر کرتا ہوا بولا جس پر مارتھا کا منہ بن گیا۔۔۔ اس سے پہلے وہ کسینو سے باہر جانے کے لیے قدم اٹھاتا مارتھا اپنے دونوں بازوؤں کو اسکے گلے میں حائل کرتی ہوئی بولی
“میرے خیال میں تمہیں ایک بار آزمانا چاہیے میں شیمپینگ کی بوتل جتنا نشہ رکھتی ہو”
مارتھا کی بات سن کر اس نے اپنے دونوں ہاتھ مارتھا کی کمر پر ٹکائے
“نشہ میں وہی پسند کرتا ہوں جو سر چڑھ کر بولے جبکہ شیمپینگ کی بوتل میرا کچھ نہیں بگاڑتی”
مارتھا کی کمر پر رکھے ہوئے ہاتھوں سے وہ مارتھا کو پیچھے ہٹاتا ہوا کسینو سے باہر نکل گیا
“عجیب مغرور آدمی ہے یہ جیکی کا دوست بھی”
مارتھا آہستہ آواز میں بڑبڑاتی ہوئی اپنے موبائل سے فائق کا نمبر ملانے لگی
****
“شش خاموشی سے اپنا کھانا فنش کرو کیوکہ تمہیں ایک ہیلدی بےبی بننا ہے”
دس ماہ کی زمل کی رونے کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی کیونکہ وہ اپنی بھوک سے زیادہ سریلیک کھا چکی تھی، وہ اب اور سریلیک نہیں کھانا چاہتی تھی جبکہ آٹھ سالہ درید زمل کے منہ میں زبردستی سریلیک ٹھونس رہا تھا جس کی وجہ سے زمل نے رونا شروع کردیا تھا
“یہ کیا کر رہے ہو تم زمل کے ساتھ، مارنا ہے تمہیں اسے اتنا زیادہ سریلیک کھلا کر”
تابندہ زمل کی رونے کی آواز سن کر کمرے سے باہر آئی، اپنی بیٹی کا درید کے ہاتھوں حشر دیکھ کر وہ اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی درید سے بولی
“کھانے سے کون مرتا ہے، آپ بھی تو روز کھانا کھاتی ہیں اور اس باؤل میں جتنا سریلیک ہے اس سے زیادہ کھانا کھاتی ہیں آپ کو تو کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ویسے بھی آپ زمل کے لیے پریشان مت ہوا کریں کل ڈیڈ نے آپ سے بولا تو تھا زمل اب درید کی ذمہ داری ہے”
درید تابندہ کو تڑخ کر جواب دیتا ہوا روتی ہوئی زمل کو وہاں سے لے کر چلا گیا۔۔۔ تابندہ غصے میں کھولتی ہوئی درید کو دیکھنے لگی وہ ثمن کی زندگی میں بالکل بھی بدتمیز بچہ نہیں تھا مگر اب تو اس کا یہ حال تھا کہ وہ بات بات پر نہ صرف تابندہ سے بدتمیزی کرتا تھا بلکہ اس کی چھوٹی سی بیٹی کو بھی اپنی جاگیر سمجھتا، کل اعظم نے مذاقاً درید کے سامنے تابندہ کو بولا تھا کہ زمل درید کی ذمہ داری ہے، وہ اس کے لیے پریشان نہ ہوا کرے اور درید شاید اس بات کو سچ سمجھ بیٹھا تھا۔۔۔ وہ ابھی درید کے کمرے میں جاکر زمل کو لے آتی تو تابندہ کو پورا یقین تھا اعظم نے افس سے آکر الٹا اسی کو سمجھانا تھا اس لیے وہ وقت گزرنے کا انتظار کرنے لگی تھوڑی دیر میں درید کو پڑھانے کے لیے اس کا ٹیوٹر آتا تو اسے زمل کو گود میں لینا نصیب ہوتا
****
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لینے کے بعد یونیورسٹی کے لیے نکلنے لگی،، فٹٹ جینز کے اوپر اسٹائلش سے ٹاپ میں وہ روز کی طرح دلکش لگ رہی تھی مگر اس سے پہلے اس کی مما اس کی ڈریسنگ کو لے کر اس کو ٹوکتی کیوکہ زیب تن کیا ہوا ٹاپ کافی فٹنگ میں تھا جس کا گلہ بھی گہرا تھا۔۔۔۔ اس نے خود ہی شرافت سے اسٹول کو گلے میں ڈال لیا۔۔۔
ان چار سالوں میں اسے اپنی زندگی اب زندگی محسوس ہوتی تھی۔۔۔ اس پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی وہ اپنی مرضی سے سانس لے سکتی ہے ورنہ بچپن سے لے کر پندرہ سال کی عمر تک تو اس کا اس گھر میں جینا حرام ہو چکا تھا
“نگہت مما کہاں ہیں نظر نہیں آرہی”
وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو ڈائننگ ہال میں خالی کرسی کو دیکھ کر گھر کی ملازمہ سے اپنی ماں کے بارے میں پوچھنے لگی جو کہ اس کے یونیورسٹی جانے کے ٹائم پر پہلے سے ہی ناشتے کی ٹیبل پر موجود ہوتی
“چھوٹی بی بی آپ کو نہیں معلوم،، ارے کل رات کو بڑے صاحب کو دل کا دورہ پڑا تھا رات میں ہی بیگم صاحبہ ان کو اسپتال لے کر گئی تھی اور وہ اب بھی بڑے صاحب کے پاس اسپتال میں ہی موجود ہیں”
نگہت نے اس کو جو خبر سنائی تھی وہ اس کے لیے حیران کن اور پریشان کن تھی ساتھ ہی وہ اپنی کم علمی پر افسوس کرنے لگی۔۔۔ کل رات میں نشاء کی برتھ ڈے پارٹی سے واپس گھر آتے وقت وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی جس کی وجہ سے وہ چوری چھپے اپنے کمرے میں داخل ہوئی اس نے اپنے کمرے کا دروازہ لاک کر لیا تھا تاکہ اس کی ماں اس سے کوئی جواب طلب نہ کر سکے
“کون سے ہسپتال میں”
وہ نگہت سے ہسپتال کا نام پوچھنے لگی ساتھ ہی اس کو دوسرا خدشہ بھی لاحق ہونے لگا “اس” کے پاکستان واپس آنے کا خدشہ یعنی اپنی آزادی جانے کا خدشہ مگر اپنے خیالات کو فل الوقت نظر انداز کرتی ہوئی وہ یونیورسٹی جانے کی بجائے ہسپتال جانے کا ارادہ کرنے لگی۔۔۔ ساتھ ہی اس نے کیف کو بھی اپنے یونیورسٹی نہ آنے کا بتانا تھا ورنہ وہ اس کے لیے پریشان ہوجاتا
****
درید اپنے کمرے کا دروازہ لاک کرتا ہوا وارڈروب میں چھپا ہوا سگریٹ کا پیکٹ نکالنے لگا۔۔۔ آج اعظم کو اس کی اسموکنگ کی عادت کے بارے میں معلوم ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اسے اپنے باپ سے کافی زیادہ ڈانٹ سننے کو ملی تھی،، اعظم نے نہ صرف افس سے آنے کے بعد درید کی اچھی طرح کلاس لی تھی بلکہ اسے کھانے کی ٹیبل پر بھی اچھی خاصی باتیں سنائی تھی جس کی وجہ سے وہ کھانے کی ٹیبل سے بغیر کچھ کھائے اٹھ گیا۔۔۔۔ وہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود اعظم کی باتوں کا اثر لیے بغیر بنا کسی شرمندگی کے اسموکنگ کر رہا تھا
یہ عادت اسے اپنے کالج میں نئے دوستوں سے لگی تھی اور اس کی اس عادت کے بارے میں گھر میں سے زمل کو معلوم تھا لیکن اسے پورا یقین تھا زمل اعظم کو اس کے اسموکنگ کرنے کے بارے میں کبھی بھی نہیں بتا سکتی بلکہ یہ کام تابندہ کا تھا۔۔۔
آج صبح اتفاق سے تابندہ کا اس کے کمرے میں آنا ہوا تھا بیڈ پر پڑا ہوا سگریٹ کا پیکٹ تابندہ کی نظروں سے چھپ نہ سکا تھا مگر وہ سیگرٹ کے پیکٹ کو دیکھ کر درید پر یہ تاثر دینے لگی کہ درید کا اسموکنگ کرنا اس کی نظر میں کوئی خاص بات نہیں لیکن شام میں جب اعظم آفس سے واپس آیا تو وہ درید کے بارے میں اعظم کو بتا چکی تھی۔ ۔۔ بچپن میں اکثر تابندہ کی ان حرکتوں کا خمیازہ زمل کو بھکدنا پڑتا۔۔۔ جس کے بعد درید کو بھی اپنے کئے کا افسوس ہوتا مگر اب زمل پر تابندہ کا غصہ نکالنے کے بعد درید خود بھی اندر سے بے چین ہو جاتا۔۔۔ اسموکنگ کے دوران وہ ساری باتیں سوچ رہا تھا کہ اسے بھوک کا احساس ستانے لگا اس کی نظریں گھڑی پر گئی جہاں رات کے بارہ بج رہے تھے وہ کچن میں جا کر کچھ کھانے کا سوچ ہی رہا تھا تب اس کے کمرے کا دروازہ بجا
“کیا ہے”
درید تنے ہوئے نقوش لیے اپنے سامنے کھڑی زمل سے پوچھنے لگا
“آپ کے لیے کھانا لے کر آئی ہو دید”
وہ اپنے دونوں ہاتھ، جو اس کی پشت پر موجود تھے درید کی طرف آگے بڑھاتی ہوئی بولی اس کے ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ موجود تھی جسے دیکھنے کے بعد درید اس کا معصوم چہرہ دیکھنے لگا
“اندر آ جاؤ”
درید زمل کے ہاتھ سے پلیٹ لیتا ہوا بولا اور کھانے کی پلیٹ سامنے ٹیبل پر رکھ کے خود صوفے پر بیٹھ گیا زمل کمرے کا دروازہ بند کرتی ہوئی اس کے پاس آئی تو درید نے ہمیشہ کی طرح اسے اپنے تھائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جیسے وہ اسے ہمیشہ بچپن سے بٹھاتا آیا تھا۔۔۔ زمل بغیر ہچکچائے صوفے کے پاس آکر درید کی گود میں بیٹھ گئی
“تم تو شاید کل مجھ سے ناراض تھی ناں پھر کیوں لے کر آئی ہوئی ہو یہ کھانا میرے لیے”
درید زمل کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ شام میں درید اسے خود ٹیوشن دیتا تھا۔۔۔ کل زمل پڑھائی پر بالکل توجہ نہیں دے رہی تھی جس کی وجہ سے درید نے اپنے پاس موجود لائیٹر سے زمل کو ڈرانا چاہا،، خوف کے زیر اثر زمل نے اپنی توجہ تو پڑھائی کی طرف کرلی تھی مگر وہ درید سے ناراض ہوچکی تھی
“سونے کے لئے لیٹی تھی تو خیال آیا کہ آپ نے رات کا کھانا نہیں کھایا۔۔۔ پہلے تو سوچا اچھا ہی ہے آپ ساری رات بھوکے ہی رہے بلاوجہ میں آپ نے کل میرا ہاتھ جلایا تھا مگر پھر آپ کی بھوک کا احساس کر کے مجھے نیند ہی نہیں آئی تو اس لیے آپ کے لیے کھانا لے آئی”
زمل کی بات سے درید کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا اس نے زمل کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں پر لگایا
“ہاتھ جلایا نہیں تھا لٹل گرل، صرف تمہاری توجہ پڑھائی کی طرف دلائی تھی ورنہ آج تمہارا ٹیسٹ اتنا اچھا کیسے ہوتا”
درید زمل کا ہاتھ پکڑے اسے بتانے لگا
“آپ کو یاد ہی نہیں ہے بلکے آپکو احساس تک نہیں ہوا دید، کل آپ نے مجھے ڈرانے کے چکر میں جب لائٹر جلا کر میری کلائی کی طرف بڑھایا تھا تو اس کی آنچ میری کلائی پر لگی تھی”
زمل ناراض ہوتی ہوئی درید کو بتانے لگی جس پر درید فکر مند سا ہوکر اس کی کلائی دیکھنے لگا
“اوفو دید یہ والا ہاتھ نہیں تھا بابا دوسرا ہاتھ تھا”
زمل اپنے دوسرے ہاتھ کی کلائی درید کے آگے بڑھاتی ہوئی بولی۔۔۔ جس پر درید ایک بار پھر اپنے ہونٹ اس کی کلائی پر رکھنے کے بعد اس کی شفاف کلائی پر اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرنے لگا
“جب آپ پیار کرتے ہیں تو بہت پیارے لگتے ہیں مگر جب آپ مجھ پر غصہ کرتے ہیں تو بہت برے لگتے ہیں پلیز دید مجھ سے صرف پیار کیا کریں غصہ نہیں”
زمل نے بولتے ہوئے اپنی کہنی درید کے شولڈر پر ٹکائی جس سے اس کا چہرہ مزید درید کے چہرے سے نزدیک ہوا۔۔۔ درید غور کرتا ہوا زمل کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ ۔۔۔ وہ اِس وقت آٹھ سال کی معصوم بچی تھی۔۔۔ بچپن میں جب پہلی بار اس نے درید کا نام پکارہ تھا تب درید کی بجائے “دید” اس کے منہ سے ادا ہوا تھا تب سے وہ درید کو دید کہہ کر ہی پکارتی تھی
وہ اسے بچپن سے پیاری لگتی تھی، تب سے جب وہ خاور اور تابندہ کے ساتھ اپنے گھر پر رہتی تھی، زمل اسکی برتھ ڈے والے دن ہی پیدا ہوئی تھی۔۔۔ درید ثمن سے ضد کر کے اکثر زمل سے ملنے جایا کرتا تھا پھر ایک دن اچانک زمل ہمیشہ کے لیے اس کے گھر آگئی درید کو یہ بات بری نہیں لگی وہ بہت خوش ہوا تھا، برا اسے تب لگا جب اعظم نے اسے بولا ثمن کی بجائے اب تابندہ اس کی ماما ہیں اس بات کو اس کا ذہن بچپن سے اب تک قبول نہیں کر پایا تھا
“دید کہاں کھو گئے، آپ میری بات سن بھی رہے ہیں یا نہیں”
زمل اس کے چہرے کے آگے ہاتھ کی انگلیاں لہراتی ہوئی بولی تو درید ماضی سے واپس لوٹتا ہوا زمل کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی اس کے بے حد قریب بیٹھی ہوئی تھی درید قریب سے اس کے چہرے کے خوبصورت نقوش کو دیکھتا ہوا اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھنے لگا اس کے بعد بھٹک کر اس کی نگاہ زمل کی گردن پر گئی،، سلیو لیس شرٹ سے نظر آتے اس کے بازو درید کے جذبات کو بہکانے لگے
“میں کھانا کھا لیتا ہو زمل، تم اپنے کمرے میں جاؤ”
درید زمل کی باتوں کو نظر انداز کرتا ہوا اس سے بولا، زمل بےشک آٹھ سالہ بچی تھی اتنی عقل فہم نہیں رکھتی تھی مگر وہ بچہ نہیں تھا
“نہیں مجھے نہیں جانا اپنے روم میں آپ سے باتیں کرنی ہیں ابھی ڈھیر ساری”
اب وہ درید کی گود کی بجائے صوفے پر آرام سے درید کے برابر میں بیٹھتی ہوئی بولی اس سے پہلے وہ درید کے کندھے پر اپنا سر رکھتی درید جھٹکے سے صوفے سے اٹھا اور زمل کو بازو سے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کرتا ہوا بولا
“سمجھ میں نہیں آرہا تمہیں کہ میں کیا بول رہا ہوں، جاؤ اپنے کمرے میں”
درید نے اب کی بار اسے غصے میں آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا جس پر زمل اسے ناراضگی سے دیکھنے لگی اور چپ کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی
*****
