Bin Tere Kesi Eid By Maryam Khan Readelle50210 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
عید میں ایک دن باقی تھا ارمان بہت خوش تھا پرسوں رات جس طرح سحری تک ارمان کے سینے سے عیشا لگ کے سورہی تھی ارمان سمجھ رہا تھا کے وہ عیشا کا دل جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔۔
اسی۔خوشی میں سرشار وہ اپنی امی کو ڈھونڈتے ہوئے سکینہ بیگم کے کمرے کے باہر پہنچا ہاتھ بڑھا کے جیسے ہی دروازہ بجانا چاہا اندر سے آتی سکینہ بیگم کی غصیلی آواز پہ اسکا ہاتھ رکا۔
تمہارا دماغ خراب ہوگیا کے عیشا یہ کیا بکواس کرہی ہو شادی سے ایک ہفتہ پہلے تم بول رہی ہو تمہں رخصتی نہی کرنی ابھی ۔۔
سکینہ بیگم غصہ میں عیشا سے مخاطب تھی جو انکے کمرے میں گردن جھکا کے بیٹھی جس نے آج سکینہ بیگم سے بات کرنے کی ٹھانی تھی وہ ارمان کیلیے دل صاف نہی کرپارہی تھی ۔۔
امی میں کیا کرو میرے دل سے ارمان کی بیوفائی نہی جارہی۔۔
تو بیوفائی کرنے کا موقع اسے کس نے دیا۔۔
سکینہ بیگم کی بات پہ عیشا نے حیران نظروں سے انہیں دیکھا۔۔
ایسے مت دیکھو عیشا مجھے حسنہ سب بتا چکی ہے تم تو خود کو خوش نصیب سمجھو کے وہ ایک بار بیوفائی کرنے پہ۔دوبارہ بیوفائی کے راستے پہ نہی چلا ۔تم سے آج بھی وہ محبت کرتا ہے جبھی آج تک تمہارا دل جیتنے کی کوشش میں لگا ہے ورنہ مرد کا دل اگر ایک بار کسی عورت سےخراب ہوجائے۔تو سمجھ لو اس عورت کی بدقسمتی شروع۔۔
تماری کوئ نیکی تھی عیشا جو تمہارے پاس وہ پھر لوٹ کے آیا ہے تم کوئ انوکھی نہی ہو جس کے قریب اسکا شوہر آیا ہے ۔۔
کان کھول کے سن لو رخصتی اپنے ٹائم پہ ہوگی۔۔
سکینہ بیگم اپنی بات کرچکی تو ہلکی سی دستک کیساتھ دروازہ کھلا اور ارمان اندر آیا جیسے دیکھ کے جہاں سکینہ بیگم سٹپٹائ وہی عیشا بھی نظریں چرا گئ۔۔
معافی چاہتا ہو ممانی میں اسطرح آپ ماں بیٹی کی باتوں میں مداخلت دینے چلا ایا۔
عیشا تمہارے ساتھ کوئ زبردستی نہی کرے گا میں آج رات کو ہی لاہور چلا جاونگی اور تم جب چاہو جس وقت چاہو مجھ سے خلا کا مطالبہ کر لینا۔۔
ارے ارمان بیٹا یہ تو پاگل ہے تم اسکی باتوں پہ
دیھان مت دو۔۔
سکینہ بیگم نے بات سنبھالتے ہوئے کہا ۔
ارمان سکینہ بیگم کے قریب آیا انہیں کندھے سے تھام کے بیڈ پہ بیٹھایا اور کہا۔
ممانی جان ذبردستی کے رشتے بندھ تو جاتے ہی مگر پائیدار نہی ہوتے پلیز عیشا کو مجبور مت کرے میں چپ چاپ یہاں سے چلا جاؤنگا اور دو تین بعد واپس لندن میں تو ایک بار ویسے ہی برا بن چکا ہو دوبارہ بن جاونگا مگر آپ وعدہ کرے یہ بات ساری زندگی اپنی زبان پہ نہی لائئنگی۔۔
یہ بول کے ارمان عیشا کے قریب آیا اور کہا۔۔
شاید میں نے نے لوٹنے میں دیر کردی یا پھر میرا گناہ اتنا بڑا کے مجھے معافی نہی ملے گی۔۔
تم سے محبت تھی ہے اور رہے گی ۔عیشا جب چاہو مجھ سے خلا لے سکتی ہو ۔۔
میں لندن جانے کے بعد اب کبھی نہی لوٹونگا۔۔ارمان کے اس جملے پہ عیشا کا دل لرزا اس نے نگاہ اٹھا کے ارمان کو دیکھا تو حیران رہ گئ ارمان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی۔۔
اور ہاں ممانی جان امی کو اپ سنبھال لینا میں رات کو ہی چلا جاؤنگا اپنا خیال رکھنا ممانی جان
اور تم بھی عیشا ۔۔
یہ بول کے ارمان کمرے سے نکلا اور لمبی لمبی سانس لینے لگا اس کے کب سے روکے آنسو بہنے لگے اور وہ ڈور کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
روزے کے بعد کاشان حسنہ کو لے کے مہندی لگوانے چلا گیا ۔۔
مگر عیشا وہ تو ارمان کی باتوں میں ہی کھو گئ۔۔
اسکے کانوں میں ارمان کے الفاظ گونجنے لگے پورے رمضان ارمان کا عیشا کے آگے پیچھے گھومنا عیشا کو بے چین کرنے لگا۔۔۔
عیشا رونے میں مصروف تھی جب حسنہ کمرے میں آئ جسکے ہاتھوں میں بھر بھر کے مہندی اور چوڑیاں تھی۔۔۔
حسنہ نے عیشا کو ایسے روتے دیکھا تو فورا اسکی طرف لپکی اور کہا۔۔
آپی کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو؟؟؟
حسنہ میں نے ایک بار پھر ارمان کو کھو دیا اپنے ہاتھوں اسے اپنی خوشیاں کو برباد کردیا مجھے نہی پتہ تھا کے میری آنا میری محبت کو ایک بار مجھ سے دور کردے گی۔؟؟؟
آپی یہ کیا بولے جارہی ہو بتاؤ تو ہوا کیا؟؟
حسنہ کے پوچھنے پہ عیشا نے سکینہ بیگم کے کمرے میں ہوئ ساری بات حسنہ کو بتا دی۔۔
حسنہ میں اب انہیں کھونا چاہتی پلیز انہیں بولو نہ رک جائے پلیز میں میں غصہ میں تھی۔۔
عیشا کسی معصوم بچے کی طرح حسنہ سے ضد کررہی تھی۔۔
حسنہ عیشا کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا۔۔
آپی پہلے بتاؤ تم محبت کرتی ہو ارمان بھائ سے ان کو معاف کردیا تم نے؟؟؟
حسنہ اگر محبت نہی کرتی تو آج تک ان کے نام پہ نہی بیٹھی ہوتی۔۔
پھر جاؤ آپی مناؤ ارمان بھائ کو روکو انہیں۔۔
وہ نہی ہے حسنہ اپنے کمرے میں میں نے دیکھا ہے۔وہ چلے گئے حسنہ پکککا چلے گئے۔۔۔
یہ بول کے عیشا رونے لگی ۔
وہ نہی گئے آپی وہ چھت پہ ہیں۔۔
حسنہ کےبولنے پہ عیشا نے چھت کی طرف ڈور لگائ تو ارمان واقعی چھت پہ تھا اور عید کے چاند کو گھور رہا تھا جب پیچھے سےعیشا نے پکارا۔۔
ارمان ؟؟
عیشا کی آواز پہ ارمان نے پلٹ کے عیشا کو دیکھا اور پھر گھوم گیا اور کہا۔
کچھ رہ گیا تھا بولنا عیشا جو بولنے آئ ہو۔۔
ہاں ؟؟
کیا؟ارمان نے دوبارہ بنا گھومے کہا۔
مت جائے پلیز
کیوں تمیں تو میرا ساتھ قبول نہیں نہ اچھا میں نہی ہونگا تو تمہاری عید اچھی گزرے گی۔۔
بن تیرے کیسی عید 💖💖
کبھی محبت کیساتھ کے بنا بھی کوئ عید ہوتی خاص کر جب آپکی محبت آپ س ناراض ہوکے اتنی دور جارہی ہو۔
عیشا کے بولنے پہ ارمان تیزی سے پلٹا اور عیشا کے پاس آکے کہا۔۔
کیا کہا تم نے پھر سے کہو۔۔
عیشا ارمان کے قریب ائ اور کہا۔۔
یہی کے آپکے بنا کیسی عید ناراض ضرور تھی آپ سے مگر کبھی آپ سے دور جانے کا نہی سوچا اب آپ سے دور رہی تو مشکل ہو جائے گا جینا ۔۔
سچ کہہ رہی ہو عیشا؟؟
ارمان نے بے یقینی سے کہا۔
میری آنکھیں میں دیکھے کیا کچھ بتانے کی ضرورت ہے۔۔
عیشا کے ایسے اظہار پہ ارمان نے بے خودی میں عیشا کو گلے سے لگالیا اور پھر کچھ یاد آنے پہ ایک دم پیچھے ہوئے اور کہا ۔
سوری جزباتی ہوگیا۔۔
عیشا نے بھی شرم سے نظریں جھکا لی جب حسنہ نے اینٹری دی ۔۔
اگر میل ملاپ ہوگیا ہوتا زرا سالی کی عیدی کا بھی دیھان رکھیے گا ۔۔
ہاں ہاں کیوں نہی سالی صاحبہ ۔ارمان نے حسنہ کے سر پہ۔ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
ہمم چلے میں زرا امی کو خوشخبری دو کے انکی بیٹی کا دماغ جگہ پہ۔اگیا ۔۔
ابھی حسنہ آگے کچھ بولتی جب کاشان کی آواز آنے لگی ۔
کاشان کی آواز پہ حسنہ تیزی سے نیچے ڈوری۔۔
چھت پہ صرف عیشا اور ارمان تھے جب ارمان نے عیشا کے ہاتھ تھامے اور کہا چلو مہندی لگوادو ۔۔
ارمان یہ بول کے جانے لگا جب عیشا نے اسے آواز دے کے روکا ۔۔
عیشا ارمان کے قریب ائ اور اسکے گالوں کو لبوں سے چوما اور نیچے کو ڈور لگاتے ہوئے کہا۔۔
میں چوڑیاں بھی لونگی۔۔
اور عیشا کے جاتے ہی ارمان کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ آگئ ۔
ختم شد
