Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

حسنہ کے جانے کے بعد عیشا کو اور زیادہ رونا آیا یہ سوچ کے کے اسکی بہن بھی اسکو سمجھ نہی سکی۔۔
4بجے کے قریب حسنہ اور عیشا کچن میں افطاری کا انتظام کرنے گھسے ۔۔
پکوڑے ،دہی بڑے ،فروٹ چاٹ ،کوفتے ،رول سموسے ،چھولو کی چاٹ ،سب ہی وہ دونوں بہنیں بنا رہی تھی مگر کچن میں بلکل خاموشی تھی ۔۔
نہ حسنہ عیشا سے بات کررہی تھی نہ عیشا حسنہ سے۔۔
ارمان نماز پڑھ کے کچن میں ایا تو دونوں بہنوں کام میں جتا پایا مگر ارمان کی نظریں تو عیشا کا ہی طوااف کررہی تھی ۔بلیک اور پنک کلر کے کنٹراس سوٹ میں ڈھیلا سا جوڑا بنائے سائیڈ میں ڈوپٹہ باندھے کام میں مگن تھی۔۔
جب ارمان نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا۔۔
حسنہ میری کوئ ہیلپ چاہیے افطاری بنانے میں۔۔؟؟
ارمان کی آواز پہ فروٹ چاٹ بناتی عیشا کا دل زور سے ڈھرکا وہی اسنے ڈوپٹہ کھول کے سر پہ لیا۔
جبکہ حسنہ نے ڈوپٹہ سینے پہ درست کیا اور پلٹ کے ارمان سے کہا۔۔
ارے ارمان بھائ اپکو افطاری بنانا آتی ہے؟؟
ہاں نہ اب پردیس میں بیوی تو ساتھ تھی نہی جو میرے لیہ افطاری اور سحری بناتی ۔
یہ بات کہہ کے ارمان نے کن اکھیوں سے عیشا کو دیکھا تھا ۔۔
ایک دو دوست تھے جو غیر مسلم تھے تو بس اس لیہ سب کام خودی کرنا پڑتا تھا۔۔
اوہ چلے ارمان بھائ ابھی تو 18 روزے باقی ہیں آپ کو خدمت کا موقع ضرور دینگے ۔۔
حسنہ اور عیشا باتوں میں لگے تھے ۔جب کاشان نے کچن میں اینٹری تھی اور ڈائئنگ ٹیبل پہ بیٹھ کے تھکن زدہ حال میں عیشا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔۔
افف عیشا بھئ تمہارے کراچی میں تو بہت گرمی ہے بات سنو سوئیٹ کزن زرا روح افزا میں برف زیادہ ڈالنا۔۔
کاشان کی بات سن کے عیشا مسکرائ اور ارمان نے تو کبھی غور ہی نہیں کیا عیشا کی مسکراہٹ اتنی حسین ہے ۔۔۔
عیشا کاشان کے پاس پکوڑوں کا سامان لے کے بیٹھی اور کہا۔
بے فکر رہو مجھے پتہ ہے کراچی اور پنڈی کے موسم میں بہت فرق ہے اس لیہ میں تمہاری لیہ لسی بھی بنائ ہے۔
ارے واہ کزن جیو ۔۔۔
تو ادھر ارمان عیشا کو دیکھ کے خالی یہی سوچ سکا کے کب وہ اس سے اس انداز میں بات کرے گی۔۔
مگر حسنہ اسکا تو کاشان کی۔نزاکت دیکھ کے ہی روزے میں پارہ ہائ ہوگیا اور اس نے دہی بڑے بناتے ہوئے کہا۔
افف ارمان بھائ ایک تو پنڈی کے لوگوں میں نزاکت بہت ہوتی ہے اب گرمی ہے تو برداشت کرو روزہ تو ویسے بھی صبر کا نام ہے۔۔
حسنہ کی بات پہ نا چاہتے ہوئے جہاں عیشا کے لبوں پہ مسکراہٹ آئ وہی ارمان کا بھی ایسا ہی حال تھا ۔جبکہ کاشان نے ماتھے پہ بل ڈال کے حسنہ کو دیکھا اور کہا۔
حسنہ میڈم چھولوں میں دہی زرا زیادہ ڈالنا کیا ہے نہ میں نے سنا ہے روزہ رکھ کے کراچی کے لوگوں پارہ ساتویں آسمان پہ ہوتا ایسا لگتا ہے جیسے احسان کیا ہو سامنے والے پہ روزہ رکھ کے کچھ کام بھی کرلو زیادہ آئٹم عیشا نے ہی بنائے ہیں باتیں بنانے کے علاؤہ اور بھی بہت کچھ بنا لو۔۔
یہ بول کے کاشان اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کچن سے نکلا ۔۔حسنہ نے منہ کھولے جاتے ہوئے کاشان کو دیکھا دہی بڑے فریج میں رکھ کے عصر کی نماز پڑھنے چلی گئ۔۔
جبکہ عیشا پکوڑوں کا بیسن گھولنے لگی اور ساتھ ساتھ میں سوچنے لگی۔
اب یہ کچن میں کیا کررہے ہیں جا کیوں نہی رہے۔۔
بیسن گھولتی عیشا جہاں اپنی سوچوں میں گم تھی ۔وہی اپنی بالوں کی لٹوں سے بھی پریشان تھی جو بار بار اڑ اڑ کے اسکے چہرے پہ آرہی تھی جس سے عیشا کافی ڈسٹرب ہورہی رہی تھی۔۔
ارمان نے جب دو بار عیشا کو بیسن والے ہاتھوں سے اپنی لٹوں کو اپنے چہرے سے ہٹاتا دیکھا تو آٹھ کے عیشا کے قریب آیا عیشا جو بیسن گھولنے میں مگن تھی ارمان کے اسطرح قریب آنے پہ گھبراگئ۔۔
ارمان نے آگے جھک کے اسکے جوڑے سے بال پن نکال اور اسکی دونوں لٹو کو سمیت کے پن اپ کردیا۔۔اور کچن سے چلا گیا۔۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا کے عیشا کو سمجھ میں ہی نہی آیا کے وہ کیا کرے۔
کر تو کچھ نہی پائ مگر برابڑائ ضرور۔۔
دکھاوا ۔۔

افطاری خوشگوار ماحول میں کھائ سب ہی ٹیبل پہ اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے جبکہ ارمان کی ۔نگاہیں عیشا کے گلاس پہ تھی جس میں لسی بچی ہوئ تھی۔۔
عیشا نے جیسی ہی ہاتھ آگے بڑھایا گلاس اٹھانے کیلیے ارمان نے جھٹ گلاس اٹھایا اور ہونٹوں سے لگالیاعیشا نے ایک خونخوار نظر ارمان پہ ڈالی اور خاموش ہوگئ۔۔
تراویح کی بعد سب ہی سو گئے تھے مگر عیشا کچن سمیٹ رہی تھی کیونکہ آج باری اس کی تھی جب ارمان کچن میں ایا اور کہا۔۔
ایک کپ کافی ملے گی ؟؟
ارمان کے بولنے پہ کچن صاف کرتی عیشا کا ہاتھ پل بھر کیلیے تھما اور اس نے کافی بنانے رکھی۔
ارمان وہی بیٹھ کے عیشا کی ہر حرکت نوٹ کررہا تھا۔۔
کافی بنتے ہی عیشا نے کافی کا مگ ٹیبل پہ رکھا اور جیسی ہی جانے کیلیے مڑی ارمان نے اسکی کلائی تھام لی اور کہا۔۔
بس کردو عیشا اتنی دور سے صرف تمہارے لیہ آیا ہو جانتا ہو گناہ ہوگیا مجھ سے مگر تم بھی جانتی ہو اکیلے میں قصور وار نہی پلیز معاف کردو۔۔
عیشا نے ایک جھٹکے سے ارمان سے اپنی کلائی آزاد کروائ اور کہا۔
مجھے بھی تو اپنے خلا کا کہا تھا میں نے تو نہی لی میری محبت میں بھی تو اپنے شرک کیا میرے زندگی میں تو کوئ نہی آیا ۔
میں نے نہی کہا آپ سے کے آئے مجھے منائے یہ معافی مانگیں۔۔
آپکی زندگی ہے جیسے چاہے گزراے مجھے اب فرق نہی پڑتا۔۔
یہ بول کے عیشا جانے لگی جب ایک جھٹکے سے ارمان نے اسے کھینچ کے دیوار سے لگایا اور کہا۔
فرق نہی پڑتا تو میری زندگی کی دعائیں کیوں مانگتی ہو ،فرق نہی پڑتا تو کیوں آج تک نمبر نہی بدلا،فرق نہی پڑتا تو کیوں آج تک میرے نام پہ بیٹھی ہو،کیوں نہی لی خلا عیشا میڈم ۔۔
بس بہت ہوا عزت سے عید کے بعد رخصتی کی تیاری کرو ۔۔
میرے ساتھ زبردستی نہی کرسکتے آپ آئ سمجھ۔عیشا نے اپنے اپکو چھڑواتے ہوئے کہا جس میں وہ ناکام رہی۔۔
اوہ رئیلی بیوی ہو میری جائز حق ہے میرا تم پہ جب چاہو جو چاہو تمہارے ساتھ کچھ بھی کرسکتا ہو۔۔ہاں وہ بات الگ ہے جب تم مجھ سے تعلق توڑنا چاہو جب آزاد ہو تم ۔۔
اور مجھے نہی لگتا کے تم مجھ سے دور ہونا چاہتی ہو ارمان نے عیشا کے اور قریب آتے ہوئے کہا۔۔۔
دور رہے مجھ سے عیشا نے جھٹکے سے ارمان کو خود سے دور کیا۔۔
میری قربت کی عادت ڈال لو یا تو مجھے اپناؤ یہ پھر مجھ سے الگ ہوجاو ۔۔
یہ بول کے ارمان کچن سے باہر نکل گیا۔۔
جاری ہے۔۔