Bin Tere Kesi Eid By Maryam Khan Readelle50210

Last updated: 12 September 2025

Bin Tere Kesi Eid

By Maryam Khan

اگلے دن چاند دیکھتے ہی سکینہ بیگم (حسنہ اور عیشا کی والدہ) نے دونوں بچیوں سے باقاعدہ گھر میں تراویح کا اہتمام کروایا بلکہ سحری کا بھی سارا انتظام کروایا۔۔ سکینہ بیگم اور ک,کامران صاحب نے باری باری اپنی دو بہنوں کا فون کرکے رمضان کی مبارک بعد دی پھر حسنہ اور عیشا نے بھی اپنی دونوں پھپھو سے دل کھول کے باتیں کی۔۔ سارے کاموں سے فارغ ہوکے جب عیشا کمرے میں آئ تو اسکا موبائل بجنے لگا عیشا نے جب موبائل اٹھایا یہ دیکھنے کیلیے کے کس کی کال ہے مگر موبائل پہ نمبر آتا دیکھ عیشا کے سامنے کسی کا عکس لہرایا عیشا کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا اور موبائل بند کرکے سونے لیٹ گئ۔۔ حسنہ جو اپنی دوست سے گپ شپ میں لگی تھی بات ختم کرکے اندر آنے لگی تو اسکے نمبر پہ کال آنے لگی جسے دیکھ وہ مسکرائ اور کال اٹھا کے کہا۔ اسلام وعلیکم۔۔ ارمان بھائ کیسے ہیں آپ؟؟ رمضان کا چاند دیکھا وہاں؟؟ ہاں یار دیکھا ارمان کی مایوسی بھری آواز اسپیکر سے ابھری۔۔ کیا ہوا ارمان بھائ آپ اتنے مایوس کیوں ہیں کیا ہوا؟؟ تم جانتی ہو میری مایوسی کی وجہ حسنہ ؟؟؟ ارمان کی بات سن کے حمنہ نے ایک ٹھنڈی اہ بھری اور کہا۔۔ جانتی ہو ارمان بھائ آج بھی انہوں نے اپکی کال نہی اٹھائ مگر ارمان بھائ آپ یہ بھی تو دیکھے ابھی تک انہوں نے نمبر نہی بدلا اپنا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کے آج بھی وہ آپ سے محبت کرتی ہیں بس آپ سے ناراض ہیں اور ارمان بھائ آپ جانتے ہیں بھلے بابا نے باقی سب نے اپکی اس غلطی کو معاف کردیا مگر اپنے انکی محبت میں شرک کیا ہے اتنا تو حق بنتا ہے انکا ناراض ہونے کا۔۔ حسنہ کی کسی بات کا جواب ارمان کے پاس نہی تھا اس لیہ وہ خاموش رہا۔ حسنہ نے کان سے ہٹا کے موبائل دیکھا تو کال لگی ہوئ تھی۔جب حسنہ نے اپنی بات جاری رکھتے و ہوئے کہا۔ دیکھے ارمان پچھلے ڈیڑھ سال سے آپ دور بیٹھ کے اپنی بیوی سے اپنی غلطی کی معافی کسی کے تھرو مانگ رہے ہیں کبھی پھپھو کے زریعے کبھی ماما کے زریعے اور کبھی میرے زریعے۔۔ تم کہنا کیا چاہتی ہو حسنہ میں سمجھا نہی؟؟ ارے میرے بھولے ارمان بھائ اب اتنے بھی معصوم نہی آپ میرے کہنے کا مطلب ہے اب جب دور بیٹھ کے معافی نہی مل رہی بیوی نہی مان رہی تو کیوں نہ اس بار روبرو معافی مانگی جائے یہ عید اپنی بیوی کو منانے کے اس کے ساتھ گزارے اور کچھ روزے بھی سمجھ رہے ہیں نہ میری بات ۔۔ حسنہ یہ بول کے مسکرائے تو ادھر ارمان کے لب بھی دھیرے سے مسکرائے اور اس نے کال کٹ کردی۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!