Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ارمان کو گئے آج ایک مہینہ ہوگیا تھا۔مگر اس نے ایک بار بھی عیشا سےبات نہی کی۔۔
گھر کے تمام افراد سے بات کرتا مگر جب جب عیشا سامنے آجاتی بات کرنے وہ اوف ہوجاتا شروع شروع میں تو عیشا نے نوٹس نہی لیا۔۔
مگر جب ارمان کے رویہ رتی برابر بھی فرق نہی آیا تو اسے تشویش ہونے لگی۔۔
اس نے ارمان کا نمبر لے کے اسے پرسنلی کال کی جو تھوڑی دیر بعد تو ریسیو کرلی گی مگر ارمان نے عیشا کا چہرہ دیکھتے ہی کال کٹ کردی۔۔
عیشا نے ڈھیروں سوری کے میسج ارمان کو کیہ نجانے کتنی وڈیو کال کی مگر ارمان نے ایک بھی کال پک نہی کری ۔۔
عیشا نے پھر بھی۔ہمت نہی ہاری جب عیشا کسی طور پہ ارمان کو کال کرنے سے باز نہی آئ تو ارمان نے عیشا کی کال پک کی اور غصہ میں کہا۔۔
اب کیا مصیبت ہے تمہیں عیشا دور تو ہوگیا ہو تم سے نہی آرہا تمہارے قریب اب کیوں تنگ کررہی ہو مجھے؟؟؟
ارمان اس سے پہلے آگے سے کچھ اور بولتا عیشا کی سسکیوں نے اسکی بولتی بند کردی۔۔
ارمان نے کال کٹ کرکے فورا ویڈیو کال کری۔۔
اور سامنے ہی اسے اسکی دشمن جان نظر ائ،سرخ آنکھوں اور سرخ ناک کیساتھ۔۔
ارمان نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔
اب یہ رونا دھونا کس لیہ تم نے ثبوت دے تو دیا کیا عزت ہے میری تمہاری نظر میں اب یہ ڈرامہ کیوں۔۔؟؟
ارمان کے اتنے سخت الفاظ میں عیشا نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا اور ارمان جسکا سارا غصہ عیشا کی بہتی آنکھیں دیکھ اڑن چھو ہوگیا۔۔
ارمان نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا۔
جانتی ہو عیشا مجھے لگتا تھا تم بھی مجھ سے بچپن سے محبت کرتی ہو جیسے میں کرتا ہو تم بھی مجھے دن رات ایسے ہی سوچتی ہو جیسے میں سوچتا ہو ۔مگر میں غلط تھا تمہارے ایک مہینے پہلے کے رویہ نے مجھے یہ بات اچھی طرح سمجھا دی کے میں نے شاید جلد بازی میں اپنے زندگی کیساتھ ساتھ تمہارے ساتھ بھی زیادتی کرڈالی۔شاید میں غلط سمجھ بیٹھا تمہاری آنکھوں کا پیغام کے تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو؟؟
ارمان اس سے پہلے کچھ اور بولتا عیشا بول پڑی۔۔
نہی ارمان آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں بچپن سے صرف آپ سے محبت کرتی آئ ہو ہمیشہ آپ کیلیے اپنی محبت سنبھال کے رکھی۔۔
تو بچپن کی محبت جب کسی جائز رشتے کی صورت میں اپکو ملے تو اسکے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسا تم نے کیا۔۔ارمان نے بھی آج حساب برابر کرنے کا سوچا۔۔
غلطی ہو گئ نہ مجھ سے پکا اب نہی کرونگی عیشا نے کسی معصوم بچے کی طرح منہ بنا کے کہا۔۔
اور یہ سنتے ہی ارمان کے لبوں پہ مسکراہٹ اگی۔۔
اب عیشا ارمان سے زور باتیں کرتی کبھی پوری پوری رات کبھی دن میں ہر نئے دن کیساتھ ارمان کی ویڈیو پہ فرمائش بڑھنے لگی کبھی وہ عیشا کو کس کا بولتا ،کبھی بنا ڈوپٹہ کے بیٹھنے کو بولتا ،کبھی رومینس کرنے کو بولتا۔۔
ان سب جیسوں سے عیشا بہت جلدی گھبرانے لگی تھی اب وہ ایک بار پھر اپنے خول میں قید ہونے لگی اسے یہ سب بہت عجیب لگنے لگا وہ بہانے بہانے سے ارمان سے یہ تو بات نہی کرتی اور کرتی تو صرف 5منٹ ۔۔
ارمان عیشا کی ساری باتیں بہت اچھی طرح نوٹ کررہا تھا اور اس دن بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔۔
جب ارمان نے بہت دل سے عیشا کو کال کی اور پیاری بھری باتیں کرنے کو کہا۔
مگر عیشا نے یہ کہہ کے کال کٹ کردی کے وہ اپنی دوست کے ہاں ہے بعد میں بات کرے گی۔۔
عیشا کا جواب سن کے فلحال تو ارمان چپ ہوگیا۔مگر پھر پتہ نہی کیا سوچ کے ارمان نے حسنہ کو کال کی۔۔
ہیلو حسنہ کیا کررہی ؟
ارے واہ بھئ آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہمیں کال کی حسنہ نے خوش اسلوبی سے کہا۔۔
ہاں بس ایسی ہی اور کیا ہورہا تھا۔؟؟
ارے ارمان بھائ کچھ نہی بس اسٹڈی کررہی تھی۔۔
ہمم اور تمہارے آپی کہاں ہے؟؟؟
ارمان نے ڈھرکتے دل کیساتھ حسنہ سے پوچھا۔۔
بھائ وہ تو ٹی وی دیکھ رہی ہیں ۔حسنہ نے لاپروائ سے جواب دیا۔۔
حسنہ کے جواب پہ ارمان کے دل میں چھن کرکے کچھ توٹا اور اس نے ادھر ادھر کی بات کرکے کال کٹ کردی۔۔
اور خود سے تہیںہ کیا کے اب وہ عیشا کو کال نہی کرے گا۔
عیشا کے بھی پیپر اسٹارٹ ہوگئے اور وہ بھی اپنی پڑھائ میں مصروف ہوگئ۔۔
اور یوں ارمان اور عیشا کے درمیان ایک مہینے کا وقفہ آگیا نہ تو عیشا نے ارمان کو کال کی اور نہ ارمان نے۔۔
عیشا جو یہ سب کرکے یہ سمجھ رہی تھی کے جب ارمان واپس آئے گا اس کی رخصتی ہوگی تو وہ ارمان سے نہ صرف اپنے جزبات کا اظہار کرے گی بلکے اپنے عمل سے بھی بتائے گی کے اسکا ارمان اسکے لیہ کیا ہے ۔۔
مگر کہتے ہیں نہ اکثر خوش فہمی انسان کو لے ڈوبتی ہے ۔۔ایسا ہی کچھ عیشا کیساتھ ہوا جب عیشا نے ارمان سے دوری اختیار کی اسکے جزبات کی قدر نہی کی۔
تو وہ بہت جلد ارمان کی زندگی میں اسکے جزباتوں کی قدر کرنے والی اگئ۔۔
ماریہ ارمان کے آفس کی نئ۔کولیگ تھی۔۔ارمان سے بہت جلد اسکی دوستی ہوگئ۔۔
ارمان جو پہلے سے ہی توٹا تھا ماریہ کا ساتھ ملتے ہی وہ پھر جی اٹھا۔۔
روز گھنٹوں گھنٹوں باتیں کرنا۔ساتھ گھومنا پھرنا ارمان کی باتیں اسکے جزبات ماریہ کیلیے بہت معنی رکھنے لگے۔۔۔۔
ان سب میں ارمان عیشا کو بھول گیا۔
اب اسکی زندگی میں ماریہ تھی جو کپڑوں سے لے کر ہر بات میں ارمان کی پسند میں ڈھل گئ تھی۔مگر اس میں ایک خرابی تھی وہ فرینک بہت جلدی ہوجاتی تھی ۔ہر کسی سے آفس کے کئ مردوں سے ہنسی مزاق کرتی انکے گلے ملتی۔۔
مگر فلحال ارمان کو ان سب سے کوئ مسئلہ نہی تھا۔
تو ادھر جب ارمان نے دو مہینے تک عیشا کو کال نہی کوئ رابطہ نہی کیا۔تو عیشا کو پریشانی ہونے لگی مگر اب کافی دیر ہوچکی تھی جو جگہ خود عیشانے خالی کی تھی اب وہ بھر چکی تھی اب عیشا ارمان کو کال کرتی رہتی مگر ارمان اب ارمان کے پاس اسکے لیہ ٹائم نہی تھا۔۔
اور پھر وہ ہوا جو کسی نے سوچا نہی تھا جب ارمان نے کہا کے وہ اپنی آفس کی۔کولیگ سے شادی کررہا ہے عیشا چاہے تو خلا لے کے اپنی زندگی گزار سکتی ہے۔۔
ارمان کی بات نے جہاں نزہت بیگم اور کامران صاحب کی دنیا ہلا دی وہی عیشا کو لگا وہ اگلا سانس لے نہی پائے گی۔۔
سب نے ارمان کو بہت سمجھایا مگر بے سود رہا۔
مگر حسنہ سے اپنی آپی کی یہ حالت دیکھی نہی جارہی تھی کئی گھنٹوں وہ ایک جگہ۔کو گھورتی رہتی عیشا کی زندگی جیسے رک سی گئی تھی مگر شاید اسے ابھی تک اس بات کا اندازہ نہی ہوا تھا کے یہ سب اسکے اپنے ہاتھوں کا کیا ہے۔۔۔
حسنہ نے جب ارمان کو کال کرکے ان سب کی وجہ پوچھی تو ارمان نے صرف اتنا کہا۔
کے اپنی آپی سے پوچھو حسنہ کے یہ رشتہ وہ نبھانا نہی چاہتی ۔۔
ارمان کی بات حسنہ کے سر کے اوپر سے گزر گی مگر جب ارمان نے اسے ساری بات بتائی عیشا کا جھوٹ بتایا تو وہ خاموش ہوگی۔۔
نزہت بیگم نے ارمان سے ہر تعلق توڑ لیا۔
تو ادھر ماریہ جو ارمان سے صرف دل لگی کررہی تھی بہت جلدی ارمان سے اکتانے لگی ارمان کی بے جا پابندیاں اب اسے بری لگنے لگی۔۔
اور ایک دن اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کے وہ صرف اسکا دوست ہے اس سے زیادہ کچھ اور شادی وہ ابھی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
ماریہ کی باتیں ارمان کیلیے بہت بڑا جھٹکا تھی اس نے ماریہ کو بہت سمجھانا چاہا ۔مگر ماریہ ایک آزاد خیال لڑکی وہ ساری زندگی شادی کا طوق اپنے گلے میں ڈال کے نہی گھوم سکتی یہ بات وہ ارمان کو صاف صاف لفظوں میں بتا چکی تھی اور ارمان کو یہ بات صحیح طریقے سے تب سمجھ میں آئ جب ارمان نے ماریہ کو اپنے آفس کے باس کیساتھ گاڑی میں جاتے دیکھا۔۔
ارمان کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا کے وہ غصہ میں بہت غلط کرگیا اور گھر والوں کیساتھ اور اس لڑکی کیساتھ جسکے ساتھ اسنے محبت کا دعوا کیا تھا۔
کیا تھا جو عیشا نے اس سے رخصتی تک کا ٹائم مانگا تھا مگر اپنے ناقدری میں ارمان نے بہت غلط کرلیا تھا اپنے ساتھ۔۔
اس نے کئ بار اپنی امی اپنے ماموں سے اپنے کیہ کی۔معافی مانگی بہت رویا اور نزہت بیگم۔ تو ماں تھی معاف کرگئ۔۔
سب نے ہی اسے معاف کردیا مگر جو ارمان کے شرک کو نہ بھول پائ جو زرا سا ٹائم نہ دینے پہ ارمان کی اتنی بڑی سزا کو نہ بھول پائ عیشا نے نہ تو کبھی ارمان سے بات کی اور نہ ہی اسے معاف کیا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔