Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ارمان جیسی ہی کچن سے نکلا تو حسنہ کو اپنا منتظر پایا ۔
ارمان کو دیکھتے ہی حسنہ نے اسے گڈ لک کا اشارہ کیا ارمان مسکراتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
عیشا کمرے میں آئ تو حسنہ اپنے موبائل میں لگی تھی دو دن سے دونوں بہنوں میں بات چیت بند دی ۔
عیشا نے آکے حسنہ سے کہا۔۔
حسنہ ناراض ہو مجھ سے؟؟
عیشا کی بات سن کے حسنہ نے ایک نظر عیشا کو دیکھ کے دوبارہ اپنے موبائل میں مگن ہوتے ہوئے کہا
نہی میں کون ہوتی ہو آپی تم سےناراض ہونے والی ۔۔
ایسی بات نہی ہے حسنہ تم۔جانتی ہو تم میرے لیہ کیا ہو۔۔
یہ بول کے عیشا روہانسی ہوئ تو حسنہ فورا اسکے قریب آئ اور اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔
آپی میں بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتی اور یہ بات تم خود بھی جانتی ہو کے تمہاری خوشی کس کے ساتھ ہے تو ضد چھوڑ دو آپی ایک موقع تو دو ارمان بھائ کو میں نے دیکھا ہے انکی آنکھوں میں صرف پچھتاوا ہے ۔۔
حسنہ میرے لیہ بہت مشکل ہے یہ سب اور پلیز اب تم اس معاملے میں نہی بولونگی وعدہ کرو مجھے سے دل سے فیصلہ کرنے دو حسنہ میں دل سے فیصلہ کرنا چاہتی ہو باتوں میں آکے نہی۔۔
اففف!!!
حسنہ نے ایک لمبی سانس لی اور کہا ۔
ٹھیک ہے آپی نہی بولونگی آج کے بعد تمہیں مگر پلیز فیصلہ واقعی دل سے کرنا دماغ سے نہی۔۔
حسنہ بول کے چپ ہوئ تو عیشا نے صرفہاں میں گردن ہلائ۔۔

#

اگلے دو دن کافی سکون سے گزرے آخری عشرہ شروع ہونے میں دو دن باقی تھے جب کاشان اپنی امی کے کمرے میں گیا جو فون پہ نادر صاحب سے بات کررہی تھی ۔
کاشان کمرے میں بیڈ پہ جاکے لیٹا اور زینب بیگم کی کال کٹ ہونے کا ویٹ کرنے لگا۔۔
زینب بیگم نے کال کٹ کی جب کاشان نے انکی۔گودھ میں سر رکھا اور آنکھیں موند لی۔۔
زینب بیگم نے آہستہ آہستہ اسکے سر میں انگلیاں چلائ جب کاشان نے کہا۔
امی آپ یہاں جس مقصد کیلیے آئ تھی وہ تو آپ بھول ہی گئ۔۔
کاشان کی بات پہ۔زینب بیگم نے کہا۔
اب جوان لڑکے کیساتھ زبردستی کرتے ہوئے اچھی لگونگی۔۔
اب جب تمہاری خوشی ہی نہی تو پھر فائدہ۔۔
آپ سے کس نے کہا میری خوشی نہی۔۔
یہ بات بول کاشان کے لب پر مسکرائے وہی زینب بیگم کا ہاتھ پل بھر کیلیے رکا ۔کاشان اٹھ کے بیٹھا تو زینب بیگم نے اس سے بے یقینی دیکھا اور کہا۔
کیا کہا تم نے پھر سے کہو ۔؟؟
کاشان مسکرا کے دوبارہ زینب بیگم کی گود میں لیٹا اور کہا ۔
یہی کے اپکی نکمی بھتیجی اتنی بھی نکمی نہی آپ ماموں سےبات کرے اور آخری عشرہ شروع ہونے سے پہلے نکاح رکھ لے۔۔۔
ہاے میں صدقے میری جان میں آج ہی کامران بھائ سے بات کرونگی روزے کے بعد۔
روزے کے بعد سارے بڑے کمرے میں موجود تھے جب حسنہ اور کاشان کو بلایا گیا ۔
باہر ارمان اور عیشا ہی رہ گئے ۔۔عیشا پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی جب ارمان نے اس سے کہا۔
بے فکر رہو ابھی رخصتی کی تیاریخ طے نہی ہورہی جو خوشی سے ادھر ادھر چکر کاٹ رہی ہو ۔۔
اب سے کس نے کہا میں اپنی رخصتی پہ خوش ہونگی۔۔
ہاں یہ بھی ہر مشرقی لڑکی اپنے بابا کا گھر چھوڑتے وقت اداس ہوتی ہے ارمان نے اسے نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔۔
افف انسان کو اتنی بھی خوش فہمی بھی نہی پالنی چاہیے ارمان۔۔
میں ابھی رخصتی کا منع کردونگی۔۔
یہ بول کے عیشا دوبارہ بند کمرے کی طرف دیکھنے لگی ۔جب پیچھے سے آکے ارمان نے اسے پیٹ سے تھاما اور اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
سوچ سمجھ کے انکار کرنا آگے کی زمدار تم خود ہوگی جانمن اور اندر بند کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جب کے عیشا کا چہرہ اب ارمان کی قربت سے بلش ہونے لگا تھا۔اب اسے ارمان کا قریب آنا برا نہی لگتا تھا مگر ایک آنا کا خول تھا جیسے شاید توڑنے میں عیشا ہچکچا رہی تھی۔۔

#

بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ میں یہ طے پایا کے دو دن بعد کاشان اور حسنہ کا نکاح تھا اور عید کے بعد دونوں بہنوں کی رخصتی ۔۔
یہ خبر جہاں عیشا کیلیے خوشی کا باعث تھی وہی عیشا کے لیہ پریشان کن بھی کیوں کے وہ ابھی تک ارمان کی طرف سے اپنا دل صاف نہی کرپائ تھی۔۔
جبکہ ماں باپ کے فیصلے پہ حسنہ نے خوشی خوشی سر تو جھکا لیا تھا مگر اسے کاشان کی طرف سے اس بات کی امید نہی تھی۔۔
دو دن کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا صبح میں حسنہ کے ہاتھ میں کاشان کے نام کی مہندی لگی تو وہی عیشا کے ہاتھوں میں سکینہ بیگم نے ذبردستی مہندی لگوائ۔۔
افطاری کے بعد نکاح کا انتظام رکھا گیا۔۔
بلیڈ ریڈ کلر کے برانڈڈ شلوار قمیض کےسوٹ پہ جہاں حسنہ پہ توٹھ کے روپ آیا تھا تو مہرون کلر کے کرتے میں کاشان کی بھی شان نرالی تھی تو ادھر رائل بلیو کلر کی میکسی میں عیشا ارمان کی دنیا ایک بار پھر ہلا چکی تھی۔۔
نکاح کی رسومات کے بعد حسنہ عیشا کے گلے لگ کے خوب روئ تو ادھر آج کامران صاحب اور سکینہ بیگم کی آنکھیں بھی بھیگ گئ تھی دونوں بیٹیوں کے فرض سے آج وہ دونوں سبکدوش ہوگئے تھے۔۔
ارمان نے کسی بیٹے کی طرح ہر زمہداری سبنھالی عیشا کن انکھیوں سے ارمان کی ساری بھاگ ڈور دیکھ رہی تھی سب ہی خوش تھے ارمان سے بس اسکے دل کا میل ہی دھل کے نہی دے رہا تھا۔۔
نکاح ساتھ خیریت سے نبٹا تو سب ہی باہر لان میں بیٹھے تھے سحری میں وقت کم تھا اس لیہ سونے کا کوئ فائدہ نہی تھا عیشا سب کیلے کچن میں چائے بنا رہی تھی اور حسنہ کمرے میں چینج کرنے چلی گئ۔
مسلسل اپنے ڈوپٹہ سے الجھتی حسنہ رونے کو تھی جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا وہ سمجھی عیشا ہوگی اسلیے بنا دیکھے بول پڑی ۔۔
یار آپی یہ پن دیکھو کہاں اٹک گئ ہےڈوپٹہ اتر ہی نہی رہا بہت ہیوی سوٹ ہے یار یہ مجھے گرمی لگ رہی ہے۔۔
یہ بول کے حسنہ دوبارہ ڈوپٹہ سے الجھنے لگی جب کاشان نے آگے بڑھ کے اسکے ڈوپٹے کی پن نکالی ڈوپٹہ جھٹکے سے حسنہ کے پیروں میں اگرا۔
حسنہ نے جھک کے ڈوپٹہ جیسی ہی اٹھایا تو شیشہ میں عیشا کی جگہ کاشان کا عکس دیکھ کے وہ شرما کے نگاہ جھکا گئ۔تو ادھر کاشان بھی بنا ڈوپٹہ کے حسنہ کے حسییین سراپے کو دیکھ کے نظریں چرا گیا۔۔
حسنہ نے وہی ڈوپٹہ اپنے سینے پہ پھیلایا اور کاشان سے کہا۔۔
کوئ کام تھا اپکو؟؟
کاشان نے اسکے سراپے پہ ایک بھر پور نظر ڈالی اور کہا۔
نہی ملنے آیا تھا اپنی بیوی سے جو نکاح کا سننتے ہی سات پردوں میں چھپ گئ تھی۔۔
کاشان کی بات سن کے حسنہ نے اپنے دل میں کب سے مچلتا سوال پوچھ لیا۔
آپ نے مجھے سے شادی کرنے کو کیوں کہا پھپھو کو۔۔
کاشان کو حسنہ سے اسی سوال کی توقع تھی ۔۔
کاشان حسنہ کے تھوڑا اور قریب آیا تو حسنہ کے قدم خود بخود پیچھے کو اٹھے اور وہ ڈریسنگ سے لگ گئ کاشان نے جھک کے اسکے گالوں کو چوما اور کہا۔۔
کیوں کے میں چاہتا ہو تم ساری زندگی میرے کرتے جلاتی رہو۔۔
یہ بول کے کاشان نے جیب میں سے رنگ نکال کے حسنہ کو پہنائ اور کہا۔
نکاح مبارک ہو مسسز کاشان ۔۔
اور کمرے سے چلاگیا۔۔
حسنہ کے لبوں کو ایک حسین مسکراہٹ نے چھوا اور وہ اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا گئ۔۔
جاری ہے۔۔