Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

،جبران صاحب کی تین اولادیں تھیں۔
کامران ،نزہت،زینب۔۔
سب سے بڑی زینب ۔پھر نزہت اور پھر کامران ۔۔
نزہت بیگم کی شادی جبران صاحب نے اپنے دوست کے بیٹے سے کی اور کامران صاحب کی اپنے کزن کی بیٹی سکینہ سے۔۔
زینب کہ شادی انہوں نے اپنے خاندان میں کی۔۔
بہت بڑے کپڑے کے کاروبار کے مالک کامران صاحب نے اپنے والدین کی موت کے بعد اپنی بہنوں کو اکیلا نہی چھوڑا سکینہ بیگم جنہوں نے سگھڑپن کا نہ صرف ثبوت دیا بلکہ اپنی دونوں بیٹیوں کی تربیت میں بھی کوئ کمی نہی چھوڑی۔
نوکر ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی بیٹیوں پہ ہرکام کی زمہ داری لگائ، نماز روزہ کا پابند بنایا۔موبائل وغیرہ ہر چیز کی سہولت گھر میں موجود تھی مگر کبھی کامران صاحب کی بیٹیوں نے اپنی حدود نہی لانگی۔۔
جہاں کامران صاحب کا ایک روب تھا اپنی بیٹیوں پہ وہی انکی جان تھی اپنی بیٹیوں میں خاص کر عیشا میں۔۔
تو ادھر نزہت بیگم کے جوانی میں ہی بیوہ ہونےکا غم انکے بھائ کو بہت پریشان کرتا نزہت بیگم کے شوہر ایک میجر تھے ۔جو ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔۔نزہت بیگم کی دو اولادیں تھی بڑی بیٹی ہانیہ اور ارمان۔جبکہ زینب بیگم خوشحال اپنی شوہر کیساتھ پنڈی میں ہی رہتی تھی جنکا ایک ہی بیٹا تھا کاشان۔۔
نزہت بیگم کے بیوہ ہونے کے بعد کامران صاحب نے اپنی اس بہن کا بہت خیال رکھا پوری کوشش کی انہوں نے کے وہ کسی طرح انکے ساتھ انکے گھر چل کے رہے مگر وہ نہ مانی اور اپنی دو اولادوں کے ساتھ لاہور میں ہی مقیم رہی ۔
کامران صاحب نے ہانیہ کی شادی اچھے خاندان میں کروا دی اور ارمان کو اچھی تعلیم دلوائی آج وہ باہر ملک میں ایک اچھی کمپنی میں جاب کررہا ہے۔۔

#

(ڈھائ سال پہلے)
تم سچ کہہ رہے ہو بیٹا؟؟نزہت بیگم نے خوش ہوکے اپنے خوبرو بیٹے سے کہا۔
ارمان نے مسکرا کے اپنے ماں کی گودھ میں سر رکھا اور کہا۔۔
ہاں میری پیاری امی میں بچپن سے عیشا کو پسند کرتا ہو تھوڑی سے دبو قسم کی ہے شرماتی بہت ہے اور میرے سامنے تو پتہ نہی اسے کیا ہوجاتا ہے گھبرائ گھبرائ سے رہتی ہے مگر پھر بھی امی مجھے وہ بہت عزیز ہے آپ ماموں جان سے بات کرے نہ میں باہر جانے سے پہلے اسے اپنے نام کرنا چاہتا ہو۔۔
اچھا اچھا میری جان میں ابھی بھائ صاحب کو کال کرتی ہو اور انہیں اپنی آمد کا بتاتی ہو ۔۔
نزہت بیگم یہ کہہ کر اٹھی تو ارمان کے سامنے شرمائے لجائ سی عیشا کا سراپا لہرایا اور اسکے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ اگئ۔۔

#

عیشا تھکی ہاری یونی سے آکے بیٹھی جب دھپ کرکے حسنہ اسکے برابر میں ا بیٹھی اور آنکھوں میں شرارت لیہ اسے دیکھنے لگی۔۔
عیشا نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔
کیا بات ہے آج بڑی خوش ہو کیا بریانی بنائ ہے آج امی نے ؟؟
عیشا نے اپنا سامان سمیٹے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔۔
نہی نہ آپی اب تو آپکے نکاح کی بریانی کھائئنگے ۔۔
حسنہ نے بولتے ہی زبان دانتوں تلے دبائ تو ادھر عیشا کا دل زور سے ڈھرکا اور اس نے کہا۔
کیا مطلب حسنہ؟؟؟
کو۔ چ۔۔کچھھ۔
نہی آپی میں چلتی امی بلا رہی ہیں۔یہ بول کے حسنہ جانے لگی۔
جب پیچھے سے عیشا نے کہا۔
تمہں میری قسم ہے حسنہ اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا فورا میرے کمرے میں او۔۔
یہ بول کے عیشا اپنے کمرے میں گئ تو پیچھے پیچھے حسنہ بھی کمرے داخل ہوئ جب عیشا نے گھور کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
اب بتاؤ سچ سچ کیا ماجرا ہے؟؟؟؟
ایک بھی بات اگر گھما پھرا کے کہی تو یاد رکھنا میں بات نہی کرونگی۔۔۔
وہ آپی حسنہ اپنا گلہ تر کیا اور کہا۔۔۔
پہلے وعدہ کرو آپی تم یہ بات اپنے تک رکھوگی اگر تم نے امی سے پوچھا تو بھی بھول جانا کے میں تم سے بات کرونگی!!!
حسنہ نے بھی اپنا مدعا عیشا کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ہاں نہی پوچھونگی پکا عیشا نے حسنہ کو یقین دلاتے ہوئے کہا۔۔
حسنہ عیشا نے سامنے صوفے پہ بیٹھی اور کہا ۔
بڑی پھپھو نے ارمان بھائ کیلیے آپکا رشتہ مانگا ہے کل بابا اور امی رات میں اس موضوع پہ بات کررہے تھے ۔میں انکے کمرے میں پانی کا جگ رکھنے جارہی تھی جب دروازے کے باہر سے سنا۔
اور پھپھو نے یہ رشتہ ارمان بھائ کی خواہش پہ مانگا ہے پرسوں تک پھپھو آفیشلی آپکا ہاتھ مانگنے ائینگی۔۔
حسنہ نے ایک جھٹکے میں اپنی بات ختم کری ۔تو ادھر عیشا کے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہونے لگی۔
بچپن سے جس سے خاموش محبت کی اللہ اسے یو اچانک اسکی جھولی میں ڈال دے گا یہ تو عیشا نے سوچا نہی تھا۔۔
جب تھوڑی دیر تک عیشا حسنہ کی بات سن کے کچھ نہی بولی تو حسنہ اتھ کے عیشا کے برابر میں آکے بیٹھی اور عیشا کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔
“کیا ہوا آپی تم تو ارمان بھائ کو پچپن سے محبت کرتی ہو تمہارے ہر راز سے میں واقف ہو تو پھر اتنی بڑی خوشی کی خبر سن کے تم نے کوئ ریکٹ نہی کیا ؟؟؟کیا اب تم ارمان بھائ کو پسند نہی کرتی؟؟؟
حسنہ کی بات پہ عیشا نے مسکرا کے حسنہ کی طرف دیکھا اور کہا۔
مجھے تو یقین نہی آرہا حسنہ کے اللہ میری محبت پہ بن مانگے اتنی جلدی کن بول دے گا ۔
ارے آپی اللہ ہمارے دلوں کے حال بہتر جانتا ہے تو پھر میری اتنی پیاری اپی کی خواہش کیسے پوری نہی کرتا ۔۔
یہ بول کے حسنہ تو چلی گئ مگر عیشا کا دل ڈرنے لگا یہ سوچ کے جنکو محبت بہت آسانی سے مل جاتی ہے انکی زندگی میں محبت میں جدائی بھی بہت جلدی آتی ہے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔