No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
لاہور ائیرپورٹ پہ اترتے ہوئے جہاں اسکا دل زور سے ڈھرکا وہی اسکے قدم بھی لڑکھڑائے۔۔
پاکستان سے جاتے وقت اسے کے ساتھ سب کچھ تھا مگر آج جب ڈھائ سال بعد وہ واپس آیا تو ایک انجانا ڈر تھا اسکے دل میں نجانے اسے اسکے شرک کی معافی ملے گی یہ نہی۔۔
ارمان نے ایک لمبی سانس لی اور ٹیکسی کرکے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
جہاں اسکی ماں ڈھائ سال سے اسکی راہ تک رہی تھی جنکا دل وہ بہت بار دوکھا چکا تھا۔۔
ٹیکسی اسکے گھر کے پاس رکی تو چوکیدار نے اسے دیکھ کے سلام کیا ۔
ارمان اس سے ملل کے اندر داخل ہوا اسکا خوبصورت سا گھر ویسا ہی تھا ۔۔گارڈن عبور کے کرکے جب وہ ہال میں داخل ہوا تو نزہت بیگم سوچو میں غرق چائے پینے میں مصروف تھی انکی پشت ارمان کی طرف تھی۔ارمان نے آرام سے اپنا سامان سائیڈ میں رکھا اور دبے پاؤں آگے بڑھا اور جاکے اپنی ماں کی پشت کے پیچھا کھڑا ہوا مگر نزہت بیگم کی گودھ میں اپنی تصویر دیکھ کے اسکی آنکھیں بھیگنے لگی ۔
اچانک اس نے نزہت بیگم کے گلے ۔میں اپنی باہیں ڈالی اور کہا۔
اورجنل پیس سے پیار کرے تصویر میں کیا رکھا ہے۔۔
نزہت بیگم اچانک چونکی اور بے یقینی کی حالت میں پلٹ کے ارمان کو دیکھنے لگی۔۔
اسکا چہرہ چھوتے وقت اگر نزہت بیگم کی انکھوں سے آنسو جاری تھی تو کچھ ایسا ہی حال ارمان کا بھی تھا۔۔
نزہت بیگم تیزی سے ارمان کے سینے سے لگ کے رونے لگی ۔
تو تو اگیا ارمان..
اب جائے گا تو نہی نہ اپنی ماما کو چھوڑ کے؟؟؟
نہی۔ماما پردیس میں صرف تنہائ کے اور دھوکے کے سوا کچھ نہی رکھا اب ہمیشہ کیلیے آپکے پاس آگیا ہو اور بہت جلد آپکی بہو کو بھی۔لے اونگا۔۔
نزہت بیگم کو ارمان نے آرام سے صوفے پہ بیٹھاتے ہوئے کہا ۔
ارمان وہ معاف نہی کرے گی بیٹا ؟؟
کرے گی معاف امی جب سچے دل سے معافی مانگنے پہ اللہ ہماری ساری غلطیاں معاف کر دیتا ہے تو وہ تو اللہ کی بندی ہے ۔۔
ارمان کی بات پہ نزہت بیگم نے پریشان لہجے میں کہا ۔۔
ارمان شرک اللہ بھی معاف نہی کرتا۔
جانتا ہو امی مگر سچے دل سے معافی مانگنے پہ وہ ہرگناہ معاف کر دیتا ہے بس آپ میرا ساتھ دیجیے مجھے آپکے ساتھ کی ضرورت ہے۔۔
ارمان نے نزہت بیگم کے ہاتھوں کو چوم کے کہا۔۔
میں ہمیشہ اپنے بیٹے کیساتھ ہو مگر تم یہ بتاؤ یو اچانک کیسے آئے بتایا بھی نہی تم نے ۔۔؟؟؟؟؟
امی سوچا دور بیٹھ کے معافی نہی مل رہی کیوں نہ پاس رہ کے معافی مانگ لو۔۔
مطلب میں سمجھی نہی بیٹا؟؟
ارمان نے اپنی اور حسنہ کے درمیان ہوئ ساری بات نزہت بیگم کو بتا دی۔۔
بس امی آپ خالہ کو اور ماموں کو بھی اس پلین میں شامل کرلے ماموں سے اجازت لے لے میرے کراچی آنے کی۔باقی آپکی بہو کو منانا میرا کام ہے۔۔
نزہت بیگم نے ارمان کی بات پہ ہاں میں ہاں ملائ۔۔
نزہت بیگم نے کال کرکے سب کو ارمان کا پلین بتا دیا اور سب اسکا ساتھ دینے کیلیے تیار ہوگئے۔۔
#
امی بھئ روزے میں تنگ نہی کرے میں نہی جارہا کراچی ۔۔
کاشان نے شکل پہ بیزاریت لاتے ہوئے کہا ۔
کاشان زیادہ مجھے تنگ نہی کرو آپ کچھ بول کیوں نہی رہے اسے ارمان اور اپا کراچی جارہے ہیں انکا فون آیا تھا عید وہی گزارینگی وہ ارمان عیشا کو منانے جارہا ہے ۔۔
زینب بیگم نے اپنے شوہر نادر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو ان دونوں ماں بیٹے کی نوک جھونک بھی سن رہے تھے اور اخبار بھی پڑھے تھے۔۔
تو امی ارمان بھائ کی تو بیوی کا مسئلہ ہے میں کس خوشی میں جاو؟؟کاشان نے بھی حساب برابر کرتے ہوئے کہا ۔
کیونکہ تم بھی بہت جلد اس گھر کے داماد بنے والے ہو میں حسنہ کا ہاتھ مانگ رہی ہو بھائ سے تمہارے لیہ رمضان میں ہی نکاح کرونگی تمہارا۔۔
کیاااااااااااا
کاشان نے تقریبا چیختے ہوئے زینب بیگم کی بات پہ کہا۔
امی میں کسی صورت اس پھوہڑ لڑکی سے نکاح نہی کرونگا یہ بات آپ اچھی طرح سمجھ لے یہ میری زندگی ہے اور مجھے پورا حق ہے اپنا جیون ساتھی چننے کا۔۔
کاشان کیا برائ ہے حسنہ میں تمہارے ماموں کی بیٹی ہے پڑھی لکھی ہونہار سلیقے مند بچی ہے۔۔
زینب بیگم نے کاشان کو غصہ میں گھورتے ہوئے کہا۔۔
ایک نمبر کی پھوہڑ لڑکی ہے امی ایک کرتا تو استری کرنا آتا نہی اسے۔۔
کاشان یہ بہت پرانی بات بتا رہے ہو تم ڈھائ سال ہوگئے ہیں تمہیں حسنہ سے ملے ہوئے آپ کچھ بولتے کیوں نہیں نادر اسے زینب بیگم نے آخر میں اپنی باتوں کی توپوں کا رخ نادر صاحب کی طرف موڑا۔۔
ماما آپ مجھ پہ اپنی مرضی اس بار مسلط نہی کرے پلیز کم از کم نکاح کس سے کرنا ہے یہ حق تو آپ مجھے دے کاشان نے جب زینب بیگم کو روتے دیکھا تو کہا۔۔
ٹھیک تو پھر جو تمہیں پسند ہے وہ بتا دو میں اس کے گھر لے چلتی ہو رشتہ میرے نزدیک تمہاری پسند کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔۔
زینب بیگم نے بھی کاشان کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
ارے یار ماما مجھے کوئ پسند نہی ہے ہوتی تو کیا اپکو نہی بتا تا۔۔
تو پھر اپنی ماں کی بات مان لو کاشان نادر صاحب بیچ میں بول پڑے۔۔
پاپا اب آپ بھی؟؟
کاشان نے مایوسی سے نادر صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
بیٹا کوئ زبردستی نہی ہے تم جاؤ اپنی ماما کیساتھ حسنہ کو دیکھو اسے جانو اگر پھر بھی تمہارا دل اسکی طرف راغب نہ ہو تو پھر تمہاری ماما بھی تمہارے ساتھ زبردستی نہی کرے گی یہ میرا وعدہ ہے۔۔
ٹھیک ہے پاپا چلا جاتا ہو کاشان نے بھی ہار مانتے ہوئے کہا ۔۔
#
سحری میں ہی سکینہ بیگم نے اپنی دونوں بیٹیوں کو اطلاع دے دی تھی کے اسکی دونوں پھپوپیاں یہاں آرہی ہے عید یہی گزراینگی۔۔
عیشا کے علاؤہ سب جانتے تھے کے ارمان بھی آرہا ہے ساتھ مگر فلحال یہ بات سب نے ہی عیشا سے چھپائ۔۔
دوپہر تک سب کراچی پہنچ چکے تھے ۔جب حسنہ ڈورتی ہوئی عیشا کے کمرے میں پہنچی جو نماز پڑھ رہی تھی ۔
آپی آپی پھپھو آگئ ۔۔
اچھا چلو تم میں آتی ہو عیشا نے دعا مانگتے ہوئے کہا۔۔
عیشا تیزی سے جاء نماز لپیٹ کے نیچے آئ اور جیسے ہی نزہت بیگم اور زینب بیگم کو سلام کرا اسکی نظر سامنے صوفے پہ بیٹھے ارمان پہ پڑی ۔۔
ڈھائ سال بعد اس بیوفا کو دیکھ کے عیشا کی آنکھیں بھیگنے لگی یہ منظر کاشان ارمان کیساتھ ساتھ وہاں بیٹھے سب نے دیکھا۔۔
جہاں عیشا کی آنکھوں میں ہزاروں شکوے گلے وہی ارمان کی آنکھوں میں معافی کی درخواست اور ندامت تھی۔۔۔
جب ماحول کو کاشان کی آواز نے درست کیا۔۔
ارے سوئیٹ کزن مجھ سے نہی ملوگی۔۔
کاشان کے بولنے پہ عیشا ایک دم اپنی سوچوں باہر نکلی ایک نظر وہاں بیٹھے ہر نفوس پہ ڈالی اور اوپر چلی گئ۔۔
حسنہ نے ایک اس بھری نظر اگر عیشا پہ ڈالی تو تو رحم بھری نظر ارمان پہ جسکے لبوں پہ ایک تلخ مسکراہٹ تھی۔۔۔
جب کے کاشان کی نظریں بار بار بھٹک کے حسنہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی ۔۔
حسنہ عیشا کے کمرے میں آئ تو وہ بیڈ پہ بیٹھ کے رو رہی تھی۔جب حسنہ نے عیشا کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
آپی ؟؟
حسنہ کے بولنے پہ عیشا نے چہرہ اٹھا کے غصہ سے حسنہ کی طرف دیکھا اور کہا۔۔
تم جانتی تھی یہ بات کے ارمان ساتھ آئینگے؟؟ پھپھو کے ساتھ جھوٹ مت بولنا حسنہ مجھ سے ۔۔
عیشا کے بولنے پہ حسنہ نے نظریں جھکا کے گردن ہلائی تو عیشا نے غصہ میں اسکا کندھا پکڑ کے جھنجھوڑ ڈالا اور کہا۔۔
تم ایسا کیسے کرسکتی ہو حسنہ میرے ساتھ یہ جانتے بوجھتے کے اس شخص نے تمہاری آپی کیساتھ کیا کیا۔
اور اب اب وہ کیا لینے آئے ہیں یہاں ؟؟؟؟
آپی وہ بہت شرمندہ ہے اپنے کیہ پہ پچھلے دو سالوں سے تم سے معافی مانگ رہے ہیں وہ بس کردو آپی محبت اگر ایک بار روٹھ جائے تو بہت کم خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں وہ مناتی ہے تم ان خوش نصیبوں میں سے ہو آپی بس کردو اپی۔۔
تم کچھ نہی جانتی حسنہ محبت میں شرک کرنے والے کو معافی نہی ملتی۔۔عیشا نے اپنے آنسو بے دردی سے ڑگرتے ہوے کہا۔۔
میں سب جانتی ہو آپی معاف کرنا اگر ارمان بھائ نے محبت میں شرک کیا تو مجبور آپ نے کیا آپ بیوی تھی انکی کوئ گرل فرینڈ نہی محرم کا رشتہ تھا آپکے ساتھ انکا کوئ حرام کا نہی ۔۔ارے بیویاں تو شوہر کی انکھیوں کے اشارے سمجھ جاتی ہیں تو آپ کیسی بیوی ہیں۔۔
حسنہ کی باتوں پہ عیشا نے حیران نظروں سے حسنہ کو دیکھا ۔
مگر حسنہ نے عیشا کی نظروں کا خاص نوٹس نہی لیا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
انہوں نے کبھی آپ سے نکاح ہونے سے پہلے کوئ غلط بات کی کوئ فرمائش کی عزت دار طریقے سے اپکو اپنا بنایا ایک پاک رشتہ میں باندھا اور بدلے میں اپنے کیا کیا۔۔ارے دور دیس میں بیٹھا شخص اگر اپنی بیوی سے پیار محبت کی باتیں نہی کرے گا تو کس سے کریگا۔۔
مجے یہ سب پسند نہی ہے حسنہ عیشا نے اپنی کمزور سے وضاحت دی۔۔
ہاں تو اب تو آپ انکی بیوی تھی نہ کوئ منگیتر نہی اور پھر جب جب انہوں نے آپ سے محبت کرنی چاہی آپ نے انہیں اگنور کیا یہاں تک کے جھوٹ تک بولے۔۔
معاف کرنا اپی تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اگر وہ بھٹکے تو موقع اپنے دیا ۔۔
اور اگر اب بھی آپ اپنی ضد پہ قائم ہیں تو ٹھیک ہے پھر ختم کرے یہ شرک شرک کا راگ الاپنا نہی رکھنا تعلق تو ختم کرے یہ نکاح لے لے خلا میں وعدہ کرتی ہو آپ سے میں دونگی اپکاساتھ۔۔
یہ بول کے حسنہ غصہ میں عیشا کے کمرے سے باہر نکلی تو ارمان کو کھڑا پایا جو ان دونوں بہنوں کی باتیں سن چکا تھا جس نے حسنہ کے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہاں خوش رہو۔۔
اور حسنہ نے مسکرا کے صرف اتنا کہا۔
محبت پی خالی دھول جمی ہے ارمان بھائ جیسے صرف اپ۔ہٹا سکتے ہیں یہ بول کے حسنہ چلی گئ ۔ادھر ارمان نے ایک نظر عیشا کے کمرے پہ ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔
مگر پلر کے پیچھے کھڑا کوئ اور بھی تھا جس نے ان دونوں بہنوں کی باتیں سنی تھی اور مسکراتے ہوئے اپنا فیصلہ بدلنے کا سوچا۔۔۔
جاری ہے
