No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
آخری عشرہ تیزی سے گزر رہا تھا جہاں عید کی تیاری جاری تھی عیشا اور حسنہ کی وہی ان دونوں کی رخصتی کی بھی تیاری زور شور سے جاری تھی۔۔
کاشان روز کچھ نہ کچھ حسنہ کو دلانے بازار لے کر جاتا کبھی وہ لوگ سحری باہر کرتے کبھی روزہ باہر کھولتے کبھی ڈنر باہر کرتے۔۔
تو ادھر ارمان ہمشیہ کیسی کے ریفرنس سے عیشا کو شاپنگ پہ لے کے جاتا۔۔
آج بھی وہ عیشا کو لےکے مارکیٹ آیا تھا ۔دل کھول کے عیشا کو شاپنگ کروائی تھی مگر اسکے لبوں پہ مسکراہٹ نہی لاپایا۔
ارمان اب تھکنے لگا تھا وہ ہر ممکن کوشش کرچکا تھا مگر ناکام رہا عیشا کا دل جیتنے میں۔۔
آج جاگنے کی رات تھی عبادت کی رات تھی عیشا تراویح پڑھ کے سوئ نہی تو ادھر پرسنل پرابلم کی وجہ سے حسنہ کو نہ تو روزے رکھنے تھے نہ عبادت کرنی تھی وہ سوئی پڑی تھی عیشا کچن میں کافی بنانے آئ تو نزہت بیگم کو کچن میں پہلے سے کھڑا پایا۔۔
ارے پھپھو آپ اس وقت کچن میں کیا کررہی ہیں؟؟
کوئ کام تھا تو مجھے بتا دیتی ؟؟
بیٹا کام تو تھا مگر شاید تم نہی کرتی اس لیہ میں خودی آگئ کچن میں۔
ایسا بھی کیا کام پھپو آپ بتائے مجھے میں کرتی ہو۔۔
بیٹا وہ اصل میں ارمان کو بہت تیز بخار ہے نزلے سے سر میں اور ناک میں بہت درد ہورہا ہے ۔بہت بولا اسے دوائ لینے کا مگر سن نہی رہا ابھی بھی بخار میں ہے تو سوچا تھوڑی سے چاہے ہی پلا دو زبردستی تاکے دوائ دے دو۔۔
پھپھو آپ جائے آرام کرے میں دیکھ لیتی ہو ۔۔۔
عیشا نے پھپھو کو کچن سے رخصت کیا اور کافی سلائس اور دوائ لے کے ارمان کے کمرے کی۔جانب بڑھ گئ ۔۔۔
عیشا نے ڈھرکتے دل کیساتھ ارمان کے کمرے میں قدم رکھا تو وہ ماتھے پہ ہاتھ رکھا لیٹا تھا کمرے کا دروازہ کھلنے پہ ارمان سمجھا نزہت بیگم ہے اس لیہ بول پڑا۔۔
یار امی میں نے اپکو کہاں ہے نہ مجھے دوائ نہی کھانی بار بار ڈسٹرب نہی کرے پلیز ۔۔
یہ بول کے ارمان نے کروٹ لے لی مگر جب آنے والا کچھ دیر تک کچھ نہی بولا تو ارمان نے پلٹ کے دیکھا تو عیشا سادے سے چاکلیٹی سوٹ میں نماز کی طرح ڈوپٹہ اورھے ٹرے ہاتھ میں لے کے کھڑی تھی۔۔پل بھر کے لیہ ارمان چونکا ۔۔
ارمان نے ایک دم کروٹ لی اور سیدھا ہوکے کہا۔
میں نے امی کو منع کردیا تھا مجھے دوائ نہی لینی انہوں نے خاماخای میں تمہیں تکلیف دی۔۔
ارمان کی کسی بات کا جواب عیشا نے نہی دیا خاموشی سے ٹرے ارمان کے سامنے رکھی اور خود بھی بیٹھ گئ۔۔
پہلے سلائس اور کافی دی اسکے بعد میڈیسن ۔!!
ارمان کسی بچے کی طرح اسکی ساری بات مان رہا تھا جب عیشا آٹھ کے جانے لگی تو ارمان نے عیشا کی کلائی تھامی اور کہا۔۔
سر میں بہت درد ہے کیا دبا دوگی تھوڑی دیر یہ پھر کوئ بام لگا دو۔۔
ارمان کے لہجہ میں کچھ ایسا تھا کے عیشا منع نہی کرسکی ۔۔
سائیڈ ٹیبل کی ڈرار میں سے بام نکال کے اس کے لگائ اور پھر آہستہ آہستہ اسکا سر دبانا شروع کیا ۔ارمان کے اتنے قریب بیٹھ کے عیشا کا سانس لینا محال تھا۔مگر عیشا نے جب اسکے ماتھے پہ۔ہاتھ رکھا تو اسے اندازہ ہوا ارمان کو واقعی بخار ہے۔۔
ارمان تھوڑی دیر میں سوگیا اور عیشا اسکا سر دباتے دباتے اسکے سینے پہ سر رکھ کے سوگئ۔۔
سحری کے ٹائم پہ الارم پہ حسنہ کی آنکھ کھلی بھلے روزہ نہی رکھنا ہو یہ نہ رکھنا ہو مگر سحری تو بنانی تھی۔۔
حسنہ یہ سوچ کے کچن میں آئ کے عیشا کچن میں ہوگی مگر وہاں دونوں پھپھو کو دیکھ کے حیران ہوئ اور نزہت بیگم سے کہا۔۔
ارے پھپھو آپ کیوں بنارہی ہیں سحری مجھے اٹھا دیتی اور آپی کہاں ہے ؟؟
ارے بیٹا رات ارمان کی طبیعت ٹھیک نہی تھی اسے میڈیسن دینے گئ تھی ۔شاید تھک گئ ہو اس لیہ اپنے کمرے میں ہو تم دیکھو اسے ہم بنا لینگے سحری۔۔
نزہت بیگم کی بات پہ حسنہ ارمان کے کمرے میں پہنچی دروازہ ہلکا سا کھلا تھا حسنہ نے دروازہ کھول کے اندر جھانکا تو اسے یقین نہی آیا جہاں اسے خوشی ہوئ وہی حیرت بھی ۔۔
عیشا ارمان کے سینے پہ سر رکھ کے سورہی تھی اور ارمان کا ہاتھ عیشا کی کمر پہ تھا۔۔
یہ منظر دیکھ کے حسنہ کے لب مسکرائے اور اوہ بنا ان للو برڈ کو ڈسٹرب کیہ کمرے سے باہر نکلنے لگی جب کاشان سے تکراتے تکراتے بچی۔۔۔
کاشان نے حسنہ کو ارمان کے کمرے سے ایسے نکلتے دیکھا تو پوچھا ۔۔
یہ چوروں کی طرح تم ارمان کے کمرے سے کیوں نکل رہی ہو ؟؟
حسنہ نے اپنی مسکراہٹ دبائ اور کاشان کو کہا آپ بھی اندر جائینگے تو واپس میری طرح ہی ائئینگے۔۔
حسنہ کی بات پہ کاشان نے ایک ایبرو اٹھا کے اسے دیکھا اور کمرے کے اندر چلا گیا مگر وہ بھی دو سیکنڈ بعد حسنہ کی طرح کمرے سے باہر نکلا اور ارمان کے نمبر پہ کال کی۔۔
بیل کی آواز میں ارمان کی نیند میں خلل پڑا اس نے اپنے موبائل اٹھا کے کان سے لگایا جب کاشان کی آواز ابھری ۔۔
لو برڈ اگر رومینس ختم ہوگیا ہوتا اٹھ جائے سحری کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔
یہ بول کے ارمان نے کال کٹ کی اس سے پہلے وہ کاشان کی بات کا مطلب سمجھتا اپنے سینے پہ سوئے عیشا پہ اسکی نظر پڑی اور اسے کاشان کی بات کا مطلب سمجھ میں آیا ۔۔
عیشا کسی معصوم گڑیا کی طرح ارمان کے سینے سے لگ کے سورہی تھی۔۔
شاید رات کافی دیر تک وہ ارمان کا سر دباتی رہی جبھی موبائل کی آواز پہ بھی اسکی آنکھ نہی کھلی ۔۔
ارمان نے عیشا کے چہرے پہ سے بال ہٹائے اور پیار سے عیشا کو آواز دی۔۔
عیشا عیشا؟؟
ارمان کے پکارنے پہ عیشا کی ایک دم آنکھ کھلی اور اپنی پوزیشن محسوس کرتے ہوئے وہ فورا ارمان سے الگ ہوئی اور نیچے کو بھاگی۔۔
سحری میں جہاں کاشان اور حسنہ کے لبوں پہ ارمان اور عیشا کو دیکھ کے شرارتی مسکراہٹ تھی وہی عیشا کا چہرہ ہر قسم کے جزبات سے آری تھا۔۔
دوپہر کے وقت حسنہ کو شدید بھوک اور پیاس کا احساس ہوا اس نے ادھر ادھر کا بھر پور جائزہ لے کے دو تین سیب اور ایک پانی کی بوتل لےکے اوپر چھت کی طرف ڈور لگائ ۔
مگر کاشان کی نظروں نے بچ سکی۔۔
عیشا اسٹور روم میں بیٹھ کے مزے سے سیب سے انصاف کررہی تھی جب اسٹور روم کا دروازہ کھلا اور کاشان اندر آیا ۔۔
کاشان کو اندر آتا دیکھ حسنہ کے ہاتھوں سے سیب چھوت کے نیچے گرا ۔۔
اور اسکا دل چاہا وہ منظر سے فورا غائب ہوجائے۔۔
کاشان آرام سے حسنہ کے برابر میں آکے بیٹھا اور کہا۔
آج کا روزہ نہی رکھا حسنہ؟؟
حسنہ نے بہت شرمندگی کیساتھ نفی میں گردن ہلائی ۔۔
کیوں؟؟
وہ مجھے رکھنے نہی ہیں روزرے حسنہ نے گردن نیچے کرکے جواب دیا۔۔
اوووووو۔۔
سمجھ گیا کے کیوں نہی رکھنے روزے ۔مگر اسطرح چھپ کے کیوں کھا پی رہی ہو یہ تو اللہ کی طرف سے سب کے سامنے کھاؤ پیو۔۔
کاشان کی بات پہ حسنہ نے حیران ہوکے کاشان کو دیکھا اور کہا۔۔۔۔
بھلے اللہ کی۔طرف سے ہو کاشان مگر شرم وحیا بھی کوئی چیز ہے گھر میں بابا ارمان بھائ اور آپ ہیں میں ایسے کیسی سب کے سامنے کھا پی سکتی ہو جنکو نہی بھی پتہ ہو انہیں بھی میں بتا دو میں ناپاک ہو۔۔
اللہ نے بھلے عورت کیساتھ یہ مسئلہ رکھا مگر اسکا یہ مطلب نہی کے ہم رمضان کا احترام بھول کے اس چیز کا ڈھنڈورا پیٹنے رہے۔۔
حسنہ کے جواب پہ۔کاشان کو اپنے فیصلے پہ فخر محسوس ہوا اور اسنے حسنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
پتہ ہے حسنہ میں نے کئ گروپ میں لڑکیوں ,,,,عورتوں کو ایسے ایسے پرسنل سوال پوچھتے دیکھا ہے کے بعض اوقات وہ سوال پڑھ کے مجھے شرم آجاتی ہے اور اگر کوئ شرم وحیا والی لڑکی ایسی پوسٹ پہ انہیں ٹوک دے تو بس اسے ہر طرح کا لیکچر دینے لگ جاتی ہے ۔میرے کتنے دوست ہے جو لڑکیوں کے گروپ میں لڑکی بن کے پوسٹ پہ جواب دیتے ہے اسیے ایسے سوالوں پہ لڑکی بن کے جواب دیتے ہیں کے مت پوچھو اور اگر کوئ بائ چانس کوئ دوست انہی منع کرتا ہے تو اگے سے کہتے ہیں کے لڑکیاں جب خود بے شرم ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں ورنہ پرسنل پرابلم وہ اپنی کسی بزرگ سے اپنی امی بہن،ممانی خالا پھپھو سے بھی پوچھ سکتی ہیں۔
افف خیر چھوڑو مجھے فخر ہے تم پہ حسنہ اور تم اپنے کھانے پینے کی ٹینشن بلکل مت لینا جب تک تم روزے نہی رکھ رہی روزانہ اسی ٹائم اسٹور میں آجانا یہاں رکھ جاونگا میں تمہارے لیہ کھانے کا سامان اب تم بیوی ہے میری تمہاری ہر ضرورت کا خیال رکھنا میرا فرض ہے یہ بول کے کاشان نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور چلا گیا۔۔
جاری ہے ۔
