Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

افف حسنہ بس کردے کب سے چھت پہ کھڑی ہو کل نہی پرسو کا روضہ ہے ۔۔
افف آپی تم تو رہنے دو ہر بار پہلے سے تکے لگالیتی ہو ہر بات کے۔۔
ارے میری ماں میں تکے نہی لگارہی۔۔عیشا نے منہ بنا کے کہا۔۔
ابھی خبروں میں دیکھ کے آرہی ہو کل ہے سعودیہ عرب میں روزہ تو ہمارا پرسوں ہوگا نہ۔۔
اور ابھی بابا اجائینگے مسجد سے نہ تو تم نے روٹیاں بنائ ہے نہ سلاد ۔۔
یہ بول کے عیشا نیچے جانے لگی ۔
جب اسٹول پہ چڑھی حسنہ تیزی سے نیچے اتری اور عیشا کو پیچھے سے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
ہائے میری پیاری اپی تم تو بہت اچھی ہو ہائے قسم سے دیکھو میری ہاتھ حسنہ نے ایک دم اپنے ہاتھ آگے کیہ اور کہا ۔روٹی تم۔بنا دو ۔۔
قسم سےصبح سے امی نجانے کون کون سی نسل کی چٹنی بنوا کے فریج میں رکھوا رہی ہیں کبھی بیسن چھان کے ڈبے میں ڈلوارہی رہی ہیں تو کبھی چھولے صاف کروا رہی ہیں۔۔اور فریج تو مت پوچھو کتنی بار صاف کرا ہے میں نے۔۔۔
اوہ ہیلو میڈم تم نے تو خالی کچن کا کام کیا ہے میں نے تو پورا گھر صاف کیا کے ایک ایک کشن ،،پردے پتہ نہی کتنی بار میں نے کارپیٹ کی چادر بدلی ہے مجھے تو معاف کرو بہن اور ویسے بھی مجھے کل سب سے پہلے اٹھنا ہے سحری کیلیے تم جانتی ہو امی پورا دن سونے نہی دیتی رمضان میں کچھ نہ کچھ کرواتی ہی رہتی ہیں اوپر سے سلائ الگ کرواتی ہیں ۔۔اپنے کپڑوں کیساتھ ساتھ تمہارے کپڑے بھی سیتی ہو بھولو۔۔مت عیشا نے بھی حساب برابر کرتے ہوئے کہا ۔
زرا سے تمہیں روٹیاں کیا پکانے کو بول دی تم نے تو اتنا بڑا لیکچر ہی سنا ڈالا آپی اور اکیلے میرے کپڑے نہی سیتی میڈم اپنی پیاری پھپھو جان کا تو آپ نام لینا ہی بھول گئ جو اب آپکی ساس بھی ہیں۔۔
پھپھو کا ذکر کرتے ہی ایک تاریخ سا عکس عیشا کی آنکھوں کے سامنے لہرایا اور وہ ایک دم سنجیدہ ہوگئ۔۔
حسنہ یہ بات نوٹ کرچکی تھی اس لیہ فورا بولی۔
آپی ارمان بھائ کو معاف کردو صرف ایک تمہاری معافی کی وجہ سے وہ دو سال سے پاکستان نہی ائے ہیں۔ پھپھو بھی ان کو دیکھنے کیلیے ترستی ہیں۔
بیویوں کا تو دل اللہ نے ویسے ہی بہت بڑا بنایا ہوتا ہے معاف کردو آپی وہ واقعی بہت شرمندہ ہیں پلیز۔۔
عیشا نے ایک تلخ مسکراہٹ لیہ حسنہ کی طرف دیکھا اور کہا۔۔
کس نے کہا ایسا کے عورتوں کو درد نہی ہوتا انہیں تکلیف نہی ہوتی مانا اللہ نے عورت کو قربانی کا جذبہ صبر کا جزبہ مردوں سے زیادہ دیا ہے اسکا مطلب یہ نہیں انہیں تکلیف نہہی ہوتی۔۔پھپھو کو تکلیف میری وجہ سے نہی ہوئ حسنہ میں تو تب بھی خاموش تھی آج بھی ہو میں تو ارمان سے کوئ شکوہ نہی کیا ہاں بس اب مجھے کوئ فرق نہی پڑتا انکے ہونے سے یہ نہ ہونے سے ایک وقت تھا جب میں انکا ہر عید پہ انتظار کرتی تھی ۔اور وہ جان بوجھ کے بےگانگی ظاہر کرتے تھے میں نے محبت دل سے کی اور انہوں نے شاید زبان سے۔۔
یہ بول کے عیشا جانے لگی تب حسنہ نے پیچھے سے کہا۔
آپی اللہ اتنی دفعہ معافی مانگنے پہ اپنے بندے کو معاف کر دیتا ہے اور اپنے بندوں سے یہی توقع کرتا ہے کے وہ بھی اسکے بندوں کو معاف کردے۔۔
اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔
عیشا نے بنا حسنہ کی طرف مڑے اسکی بات کا جواب دیا۔۔
بے شک اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے مگر حسنہ شرک تو اللہ کوبھی پسند نہی تو پھر میں کیسے اپنی محبت میں شرک کرنے والے کو معاف کردو۔
اور عیشا حسنہ کو ہمیشہ کی طرح لاجواب کرگئ۔۔

#

اگلے دن چاند دیکھتے ہی سکینہ بیگم (حسنہ اور عیشا کی والدہ) نے دونوں بچیوں سے باقاعدہ گھر میں تراویح کا اہتمام کروایا بلکہ سحری کا بھی سارا انتظام کروایا۔۔
سکینہ بیگم اور ک,کامران صاحب نے باری باری اپنی دو بہنوں کا فون کرکے رمضان کی مبارک بعد دی پھر حسنہ اور عیشا نے بھی اپنی دونوں پھپھو سے دل کھول کے باتیں کی۔۔
سارے کاموں سے فارغ ہوکے جب عیشا کمرے میں آئ تو اسکا موبائل بجنے لگا عیشا نے جب موبائل اٹھایا یہ دیکھنے کیلیے کے کس کی کال ہے مگر موبائل پہ نمبر آتا دیکھ عیشا کے سامنے کسی کا عکس لہرایا عیشا کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا اور موبائل بند کرکے سونے لیٹ گئ۔۔
حسنہ جو اپنی دوست سے گپ شپ میں لگی تھی بات ختم کرکے اندر آنے لگی تو اسکے نمبر پہ کال آنے لگی جسے دیکھ وہ مسکرائ اور کال اٹھا کے کہا۔
اسلام وعلیکم۔۔
ارمان بھائ کیسے ہیں آپ؟؟
رمضان کا چاند دیکھا وہاں؟؟
ہاں یار دیکھا ارمان کی مایوسی بھری آواز اسپیکر سے ابھری۔۔
کیا ہوا ارمان بھائ آپ اتنے مایوس کیوں ہیں کیا ہوا؟؟
تم جانتی ہو میری مایوسی کی وجہ حسنہ ؟؟؟
ارمان کی بات سن کے حمنہ نے ایک ٹھنڈی اہ بھری اور کہا۔۔
جانتی ہو ارمان بھائ آج بھی انہوں نے اپکی کال نہی اٹھائ مگر ارمان بھائ آپ یہ بھی تو دیکھے ابھی تک انہوں نے نمبر نہی بدلا اپنا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کے آج بھی وہ آپ سے محبت کرتی ہیں بس آپ سے ناراض ہیں اور ارمان بھائ آپ جانتے ہیں بھلے بابا نے باقی سب نے اپکی اس غلطی کو معاف کردیا مگر اپنے انکی محبت میں شرک کیا ہے اتنا تو حق بنتا ہے انکا ناراض ہونے کا۔۔
حسنہ کی کسی بات کا جواب ارمان کے پاس نہی تھا اس لیہ وہ خاموش رہا۔
حسنہ نے کان سے ہٹا کے موبائل دیکھا تو کال لگی ہوئ تھی۔جب حسنہ نے اپنی بات جاری رکھتے و ہوئے کہا۔
دیکھے ارمان پچھلے ڈیڑھ سال سے آپ دور بیٹھ کے اپنی بیوی سے اپنی غلطی کی معافی کسی کے تھرو مانگ رہے ہیں کبھی پھپھو کے زریعے کبھی ماما کے زریعے اور کبھی میرے زریعے۔۔
تم کہنا کیا چاہتی ہو حسنہ میں سمجھا نہی؟؟
ارے میرے بھولے ارمان بھائ اب اتنے بھی معصوم نہی آپ میرے کہنے کا مطلب ہے اب جب دور بیٹھ کے معافی نہی مل رہی بیوی نہی مان رہی تو کیوں نہ اس بار روبرو معافی مانگی جائے یہ عید اپنی بیوی کو منانے کے اس کے ساتھ گزارے اور کچھ روزے بھی سمجھ رہے ہیں نہ میری بات ۔۔
حسنہ یہ بول کے مسکرائے تو ادھر ارمان کے لب بھی دھیرے سے مسکرائے اور اس نے کال کٹ کردی۔۔
جاری ہے۔۔
ہاں جی حاضر ہے آپ سب کا نوول روزانہ ایک اپیسوڈ آئیگی ۔۔ٹائم کی کوئ لمٹ نہی کبھی رات کے بارہ بھی بج سکتے ہیں تو کبھی دن کے بھی بارہ تو اس لیہ کوئ جلدی جلدی ،اپیسوڈ کب آئے گی اس قسم کے نعرے لگانے سے گریز کرے۔۔
شکریہ۔۔
See translation