Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Last Episode

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Last Episode

اور آج تک اُس نے ہانیہ کو مسجد میں بیٹھے نعت پڑھتے یا نماز پڑھاتے نہیں دیکھا تھا..
اُس نے اداسی سے اپنا چہرہ جھکا لیا
“میں جانتی ہوں کہ میں ایک اچھی بیٹی نہیں ہوں..لیکن میں آپ سے اور پاپا سے بہت پیار کرتی ہوں..میں بدتمیز ہوں..بد لحاظ بھی ہوں لیکن کبھی بھی یہ سب کر کے مجھے سکون نہیں ملا”…اُس کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ جمع ہوگیا
“جب کبھی بھی آپ لوگوں کو ناراض کیا یے اللہ بھی مجھ سے ناراض ہوئے ہیں.مجھ میں تو کبھی اتنی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ میں آپ دونوں سے معافی مانگ سکوں..
لیکن میں بدل دوں گی خود کو..میں سہارا بنوں گی آپ دونوں کا..پھر ہماری ساری آزمائشیں ختم ہوجائیں گی”ہانیہ گردن جھکا کر آنکھوں میں نمی لیے خود سے مخاطب ہوئی
“ہانیہ اب تم نعت پڑھ لو پھر باجی نے بیان بھی کرنا ہے”
نمرہ کی آواز پر ہانیہ چونکی
اُس نے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا اور فوراً سے مائیک ہاتھ میں لیا
ایک سرسری نظر ہال میں دوڑائی سب منتظر تھے
“رحمت دا مہینہ اے
لوکاں دیاں لکھ ٹھاڑاں
ساڈی ٹھاڑ مدینہ اے”
“صل اللہ علیک یا رسول اللہ
وسلم علیک یا حبیب اللہ “
خوبصورت آواز نے ہال کی خاموشی کو اپنے حصار میں لیا
“اُن کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
یہ حوالے مجھے رسوا نہیں ہونے دیتے”
وہ محوت سی سر جھکائے آنکھوں کو بند کیے نعت پڑھنے میں مگن ہوگئی..اُس لے لب آہستہ آہستہ ہل رہے تھی
عائشہ بھی اُسی وقت ہال میں داخل ہوئی
“ماشاءاللہ”ہانیہ کو دیکھ کر اُس کی آنکھیں بھر آئی تھیں جو عزت اور وقار سے سب کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی..عائشہ دروازے کے قریب ہی خالی صف پر بیٹھ گئی اور نعت پڑھتی ہانیہ کو دیکھنے لگی
“جب بھی پڑھتی ہوں تو سانسوں سے مہک آتی ہے”
“میرے لہجے کو وہ میلا نہیں ہونے دیتے”
ہانیہ نے ایک نظر اٹھا کر سامنے دیکھا.
عائشہ دروازے میں بیٹھی اُسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
وہ بھی جوابا مسکرائی اور نعت کو مکمل کرنے لگی
عائشہ کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی…
یہ مقام یہ عزت اُسے ہر شے سے عزیز تھا..اُس نے کب سوچا تھا کہ وہ اُس قابل بھی ہوگی کہ امام کی جگہ پر عزت سے بیٹھی لوگوں کو دین سکھائے گی…رب کی تعریف کرنے کا موقع ملے گا..حضور کی تعریف کیلئے اللہ اُسے چن لے گا
وہاں بیٹھے لوگ اُسے رشک سے دیکھ رہے تھے..
یہ چھوٹی سی لڑکی ہر مرتبہ سب کا دل جیت لیتی تھی..سب محبت کرتے تھے اُس سے بہت.
“ماشاءاللہ سے اُس بچی کی آواز بہت پیاری ہے.. اور نماز بھی بہت اچھی پڑھاتی یے”عائشہ کے پاس بیٹھی عورت نے ہلکی آواز میں کہا
“جی الحمد للہ.. یہ بیٹی یے میری حافظہ ہانیہ “عائشہ نے فخر سے بتایا.. اُس کی نظریں ابھی بھی ہانیہ پر جمی ہوئی تھیں
“ماشاءاللہ بہت پیاری بیٹی یے..بہت خوش نصیب ہیں آپ جو آپ کو ہانیہ جیسی بچی ملی..حافظِ قرآن..آپ کا مقام بھی بہت افضل ہے..اُس عورت نے خوشدلی عائشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا
“جی اللہ پاک کا شکر ہے بہت”عائشہ نے ہانیہ کو دیکھا جو نعت کے آخری کملات ادا کر رہی تھی
“سبحان اللہ”ایک مرتبہ پھر پورا ہال بلند آواز سے گونجا
ہانیہ نے کھڑے ہوکر مائیک باجی کے حوالے کیا..اب باجی کا درس شروع ہونے والا تھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھتی عائشہ کی جانب بڑھی
ساری نارضگی ہوا ہوگئی تھی
“اسلام علیکم”اُس نے ادب سے سلام کیا اور آہستگی سے وہاں بیٹھ گئی
“وعلیکم اسلام”
“ماشاءاللہ بہت اچھی نعت پڑھی ہے”عائشہ نے داد دی جس پر ہانیہ خوش ہوگئی
“آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟وہ عائشہ کو دروازے میں بیٹھا دیکھ کر بولی
“آپ آگے آجائیں ماما..یہاں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگے گا”اُسے ماں کا دروازے کی اوٹ میں بیٹھنا برا لگا تھا..ہانیہ کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی
پاس بیٹھی ایک خاتون نے عجیب نظروں سے اُسے دیکھا
“ہانیہ میری بچی کچھ نہیں ہوتا میں تو تمہاری نعت سننے اور تمہیں دیکھنے کیلئے یہاں آئی تھی بس”..عائشہ ہاتھ کا سہارا لیتے ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی
“میں اب باہر جا کر بیٹھتی ہوں..تم اچھی سی نماز پڑھانا”.وہ داخلی دروازے سے باہر نکلی ہانیہ بھی پیچھے ہی تھی..
مسجد کے سپیکر میں باجی کے بیان کی آواز گونج رہی تھی..
“لیکن ماما مجھے اچھا نہیں لگے گا آپ کا یوں پیچھے بیٹھنا..اکثر خواتین لیٹ آتی ہیں اور پھر بھی لڑائی جھگڑا کر کے آگے ہی بیٹھتی ہیں..اور آپ تو میری ماما ہیں آپ کیوں پیچھے بیٹھیں گی”وہ نروٹھے انداز میں بولی
تب تک عائشہ ہال سے باہر بچھی صفوں میں سے ایک پر براجمان ہوچکی تھی
ہانیہ نے ناراض نظروں سے اُسے دیکھا
“نیچے بیٹھو”اُس کی بازو کھینچ کر نیچے بٹھایا
“آگے یا پیچھے بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا ہے..اور ویسے بھی یہ مسجد کا اصول ہے کہ جو شخص پہلے آتا ہے وہ آگے بیٹھنے کا حق دار ہے..لڑائی جھگڑا کر کے,ماحول میں بدمزگی پیدا کر کے کیا ہم اللہ کو راضی کر سکیں گے.؟.عائشہ نے بغور اُس کا چہرہ دیکھا وہ ابھی بھی نا مطمئن سی ماں کو دیکھ رہی تھی
“لیکن آپ کا مقام افضل ہے ماما جب لوگ مجھے عزت دے سکتے ہیں تو کیا آپ عزت کی حق دار نہیں ہیں”؟آپ آگے آتی تو سہی آپ کو دیکھ کر سب جگہ دیتے مجھے یقین ہے”وہ فخریہ انداز میں گویا ہوئی
“ہمارا مقام اللہ کے ہاں بڑا ہونا چاہیے بس..میں یہاں بالکل آرام سے بیٹھی ہوں..خوامخواہ اندر جاکر دوسروں کو بھی تنگ کروں گی..تم جاؤ جاکر بیٹھو اندر مجھے نظر آرہی ہو یہاں سے بھی”اب کی بار عائشہ نے بات ختم کرنا چاہی
“اوکے آپ نماز پڑھ کر اندر آجانا جب میں دعا کروانے لگوں گی..میں نے آپ کو ملوانا یے سب سے.اکثر لوگ مجھ سے آپکا پوچھتے ہیں”وہ کھڑی ہوتی مسکرا کر بولی
“ہاں میں آ جاؤں گی”عائشہ بھی جوابا مسکرائی
ہانیہ دوبارہ اندر کی جانب بڑھی..باجی کا بیان آخری مراحل پر تھا
“عورتیں تو لڑ کر بھی آگے بیٹھنے کی کوشش کرتی ہیں..اور ایک آپ ہیں ماما حافظہ ہانیہ کی ماں ہونے کے باوجود سب سے پیچھے بیٹھی ہیں”وہ دل میں سوچ کر مسکرائی
بیان کے بعد ہانیہ نے صلوۃالتسبیح پڑھائی..(عورت جماعت نہیں کرواسکتی..ہانیہ کے ساتھ ساتھ باقی خواتین بھی نماز کے تمام کلمات ادا کرتی ہیں)
رمضان کا آخری جمعہ ہونے کے باعث سب کی آنکھیں نم تھیں
ہانیہ دعا کے بعد تمام خواتین سے ملنے لگی..عائشہ بھی اُس کے قریب کھڑی فخر سے اُسے دیکھ رہی تھی..وہ اب بھی ایک ہاتھ میں مائیک پکڑے نعت پڑھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ عورتوں سے ہاتھ ملا رہی تھی..عورتیں ایک لائن میں اُس سے ملتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں..
اُس نے نعت کا اختتام کر کے مائیک کو پیچھے رکھ دیا..اُس کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی.. آنکھوں میں آئی نمی عائشہ سے چھپی نہیں تھی..عائشہ نے آگے بڑھ کر اُسے گلے سے لگایا
وہ ایک دم بوکھلائی اور پھر مسکرانے لگی
عائشہ نے اب کی بار اُس کا پیشانی چومی
“ماشاءاللہ اللہ تمہیں مزید کامیابیوں سے نوازے”اُس نے بھیگی آنکھوں سے دعا دی
“جب تک آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں میں یونہی اپنی اوقات سے بڑھ کر عزت پاؤں گی..بس اللہ مجھے کبھی وہ کامیابی نہ دے جس سے مجھ میں غرور اور تکبر پیدا ہو”ہانیہ نے آنکھوں کے نم گوشے کو صاف کیا
عائشہ نے خوش ہوکر اُسے دیکھا وہ کتنی بڑی باتیں کرنے لگی تھی
“آپ کی آواز بہت پیاری ہے..بہت محبت سے پڑھتی ہیں آپ”ایک لڑکی مسکراتے ہوئے اُس سے مصافحہ کر کے بولی
“یہ تو اللہ پاک کا کرم ہے جس نے مجھے اپنی اور اپنے حبیب کی تعریف کیلئے چن لیا ہے..دعا میں یاد رکھیے گا”ہانیہ مسکراتے ہوئے بولی
اُس لڑکی نے ہانیہ کے ہاتھوں کو چوما
“ارے یہ آپ کیا کر رہی ہیں”ہانیہ کو لگا وہ اِس مقام کے قابل نہیں ہے
“آپ ہمارے لئے قابل احترام ہیں..اللہ خوش رکھے آپ کو میرے لیے دعا ضرور کیجیے گا”وہ مسکرا کر کہتی آگے بڑھ گئی
ہانیہ نے دور کھڑی عائشہ کو دیکھا جو باجی سے باتیں کر رہی تھی
#########
“ہانیہ اگر تمہیں کبھی بھی کسی چیز کی ضروت ہو تو مجھ سے بلا جھجک مانگ لینا”مریم نے فون کان کے ساتھ لگائے کہا
“مریم آپی تم اللہ کے گھر میں رہتی ہوں میرے حق میں ایک دعا کردینا”ہانیہ کچھ دیر خاموش ہوئی
مریم اسد کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی جو لیپ ٹاپ لیے کام کرنے میں مصروف تھا
“تم دعا کرنا کہ اللہ مجھے کبھی بھی وہ دن نہ دکھائے جب میں اپنی عزت نفس کو مجروح کر کے کسی سے سوال کروں..وہ مکمل سنجیدگی سے بولی
“تم پاگل ہوگئی ہو کیا اگر مجھ سے کچھ مانگ لو گی تو تمہاری عزت نفس کو کیڑا نہیں لگ جائے گا”مریم کو ہانیہ کی بات بری لگی تھی
“اوہو میرا مطلب یہ نہیں تھا..تم بہن ہو میری اگر مجھے کچھ چاہئے ہوگا تو ضرور مانگ لوں گی”وہ فورا مریم کو سمجھاتے ہوئے بولی
عائشہ مشین پر بیٹھی کپڑے سلائی کر رہی تھی
“تم نے آج تک مجھ سے کچھ نہیں مانگا..کیا کبھی کسی چیز کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تمہیں”مریم کو ہانیہ پر ترس آیا
“میرے پاس سب کچھ تو ہے..اور تم نے سعودیہ جاتے ہوئے مجھے کپڑے بھی دیے تھے..اور بیگ اور سٹولر بھی بھجوایا تھا”ہانیہ گنتی کرنے لگی
“ہاں پر یہ سب میں نے خود دیا تھا تم نے تو کچھ نہیں نا مانگا”وہ تنگ آکر بولی
اسد نے بغور اُس کا چہرہ دیکھا جو خفگی کی نشاندہی کر رہا تھا
“اِس حالت میں بھی لڑ رہی ہے کوئی حال نہیں اِس کا”وہ سرجھٹکتا پھر سے کام کرنے لگا
“اچھا مجھے یہ بتاؤ آگے کالج کی فیس کیسے دو گی”مریم نے سنجیدگی سے پوچھا
“میں نے کمیٹی ڈالی ہوئی تھی ایک سال کی فیس ادا کر دوں گی اور اگلے سال کیلئے پھر سے جوڑ لوں گی پیسے..فکر مت کرو ماما پاپا کو تنگ نہیں کرتی میں”ہانیہ نے آخر میں ہنستے ہوئے کہا
“اچھا ٹھیک ہے پاپا نہیں آئے ابھی تک اور حارث کہاں ہیں؟”
“نہیں آج چاند رات ہے تو لیٹ ہی آئیں گے”ہانیہ کمرے میں لگی گھڑی دیکھنے لگی..رات کے بارہ بج رہے تھے
“حارث باہر نکلا ہوا آوارہ گردی کرنے اور تم بتاؤ اسد بھائی خیال رکھتے بھی ہیں یا نہیں”وہ شرارت سے بولی
“مت پوچھو یار کھلا کھلا کر موٹا کردیا ہے مجھے”وہ محبت بھری نظروں سے اسد کو دیکھنے لگی جو اُس کا بہت خیال رکھتا تھا
“ہاں موٹاپے میں تو تم دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑنا ہے”ہانیہ نے شرارت سے کہا
“ہانیہ بہت بد لحاظ ہو تم “وہ دانت پیس کر رہ گئی
“الحمد للہ”ہانیہ آسانی سے قبول کرتے ہوئے ہنسنے لگی
##########
ساجد دکان میں بیٹھا سلائی کرنے میں مصروف تھا..چاند رات تھی…وہ کسی کی دکان پر کام کرتا تھا..بڑی اور موٹے شیشوں والی عینک کو آنکھوں پر لگائے اُس نے اپنا کام جاری رکھا..کپڑے زیادہ ہونے کے باعث وہ اپنی نیند پوری نہ کرسکا..ابھی حارث کا اور اُس کا بھی سوٹ سلائی کرنے والا تھا..عائشہ نے ایک ہفتہ پہلے اُسے کپڑے لا کر دیے تھے تاکہ عید تک نئے کپڑے سلائی ہوسکیں
#####
“ہم رمضان کا سارا مہینہ لوگوں کے کپڑے سلائی کرتے رہیں اور ہمارے بچے عید کے روز نئے کپڑے نہ پہنے..لوگ سمجھتے ہیں پتا نہیں کتنا کما لیتے ہیں ہم سارا رمضان..ہمارے تو کرائے بل ہی پورے نہیں ہوتے”عائشہ غصے سے برتن رکھتی بولی
ساجد رات کے ایک بجے گھر آیا تھا دکان پر کپڑے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا اور حارث کا سوٹ نہیں سی سکا تھا اور عائشہ اِسی بات پر غصہ کر کے بول رہی تھی
“تمہیں بتایا بھی ہے عائشہ کہ دکان پر کپڑے زیادہ تھے اور اگر نہ سلائی کرتا تو لوگ لڑنے آجاتے”ساجد بیچارگی سے بولا
“پاپا پانی”ہانیہ نے پانی کا گلاس تھمایا
حارث پاس کھڑا پریشانی سے سب دیکھ رہا تھا چاند رات میں بھی دونوں لڑ رہے تھے.اور وہ صبح کیا پہنے گا
“ہاں تو اپنا سوٹ نہ سیتے میرے بچے کا سلائی کر دیتے..ایک ہفتہ ہوگئا ہیں لا کر دیے ہوئے کہ جلدی سلائی ہوجائے..اب میرا بچہ کیا پہنے گا صبح”عائشہ صدمے سے بولی
“میں نے کٹنگ بھی کر لی تھی بس نہیں سی سکا تو اب کیا کروں میں”ساجد نے سوٹ شاپر سے باہر نکال کردکھایا
“ماما پاپا بس کرجائیں آپ دونوں..چاند رات میں بھی لڑائی ختم نہیں ہورہی”ہانیہ اکتا کر بولی
عائشہ اور ساجد ایک لمحے کیلئے خاموش ہوگئے
“لائیں مجھے دیں میں سلائی کردیتی ہوں..عید کے روز حارث نیا سوٹ ہی پہنے گا”اُس نے آگے بڑھ کر سوٹ اٹھایا اور استری لگانے لگی
حارث کی آنکھیں چمکی..اُسے ہانیہ پر پیار آیا
“نہیں رہنے دو تم..صبح کی تھکی ہوئی ہو سوجاؤ جاکر”عائشہ کو ترس آیا ہانیہ پر
“اوہو ماما کچھ نہیں ہوتا مجھے آتی ہیں سلائی کرنا اور حارث تم
وہ حارث کی جانب مڑی جو اب موبائل میں لگا ہوا تھا
“تم بھی مت سونا میں قمیض سلائی کروں گی تو کاج کروا لانا ساری رات دکانیں کھکی ہوتی ہیں”وہ اپنی بات مکمل کرتی کٹنگ کیے کپڑوں کو دیکھنے لگی
حارث سر اثبات میں ہلاتا گلی میں چلا گیا
“ہانیہ لاؤ میں سلائی کردیتا ہوں”ساجد نیند بھری آنکھوں کے ساتھ بولا
عائشہ نے خفگی سے اُس کی جانب دیکھا
“لیکن پاپا آپ تھک گئے ہیں بہت”وہ پریشانی سے بولی
“نہیں زیادہ نہیں تھکا..میں پٹی بین بنا دیتا ہوں باقی تم سلائی کردینا…وہ مشین پر دھاگہ ڈالتے بولا
“اور میری بیگم کو مہندی لگا دو کب سے گھور رہی ہیں مجھے غصے سے”ساجد شرات سے گردن موڑ کر عائشہ کو دیکھتا بولا
ہاں تو لگواؤں گی میں مہندی اور آپ مجھ سے بات مت کریں”عائشہ منہ پھلا کر بولی غصہ ابھی برقرار تھا
ساجد ہنستے ہوئے عینک لگانے لگا
“ہانیہ نے کمرے میں جاکر عائشہ کو مہندی لگائی اور کمرے کی لائٹ بند کرتی کچن میں چائے بنانے چلی گئی
عائشہ کمرے میں لیٹی باہر دیکھ رہی تھی
“یہ لیں پاپا چائے”اُس نے چائے کا کپ ساجد کے پاس رکھا اور قریب ہی زمین پر بیٹھ گئی..اُس نے ساجد کو دیکھا
ساجد مشکل سے اپنی آنکھیں کھولے بیٹھا تھا.عینک کے نیچے چھپی آنکھوں میں نیند بھر پور تھی.سارا دن مشین پر بیٹھنے سے اُس کی کمر دکھ رہی تھی..اُسے شدت سے نیند آرہی تھی..جب نیند کی شدت بڑھی تو اُس نے اپنی موٹے شیشوں والی عینک اتار کر آنکھوں کو زور سے مسلا اور پھر عینک لگا لی
عائشہ نے اپنا چہرہ دوسری جانب موڑ لیا..اُسے کہاں نیند آنے والی تھی یہ سب دیکھ کر
“پاپا بس کریں اب آپ میں کر لوں سلائی آپ جائیں سو جائیں اندر جاکر”..ہانیہ نے ساجد کو اٹھانا چاہا
“ہاں بس یہ ہوگیا ہے تم بھی جلدی سے سلائی کر کے سو جانا”ساجد اُس کا سر تھپکتا مشین سے دور ہوا اور چائے کا کپ اٹھاتا اندر کی جانب چلا گیا
عائشہ بے چین سی یہ سب دیکھ رہی تھی..اُس نے محبت سے ہانیہ کو دیکھا جو اب مشین پر بیٹھی دلجمئی سے سوٹ سلائی کر رہی تھی..ساجد کو اندر آتا دیکھ کر اُس نے اپنی آنکھیں موند لیں..ساجد جلتی آنکھوں کے ساتھ عائشہ کے قریب ہی لیٹ گیا
کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں ۔
جانے کس کس کا حوصلہ ہوں میں ۔
#########
ہانیہ نے %80 نمبر حاصل کر کے میٹرک پاس کیا تھا.. سب فخر محسوس کر رہے تھے اُس پر..اُس نے دن رات محنت کر کے اپنا مقام پایا تھا..اور اب اُس نے اپنے ایک اور خواب کو تکمیل تک پہنچایا تھا..پنجاب کالج میں جانا بھی اُس کئ بہت بڑی خواہش تھی..کالج شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ ہونے کو تھا..وہ مطمئن تھی..اب اُس کا صرف ایک مقصد تھا آرمی میں جانے کیلئے کوشش کرنا
مریم اور اسد کو اللہ نے بیٹے جیسی نعمت سے نوازا تھا..وہ دونوں رب کے مشکور تھے..اسد ابھی سعودیہ ہی تھا جبکہ مریم پچھلے ماہ پاکستان آگئی تھی…گھر میں نئے مہمان کی آمد نے سب کےچہروں کو کھلا کر رکھ دیا تھا..
عائشہ کی بہنیں اور بھائی وغیرہ بھی وقفے وقفے سے نئے آئے مہمان کو دیکھنے آرہے تھے
پرائیویٹ پاسپئل کے روم میں ہانیہ(محمد ایحاب)کو پکڑے گود میں بیٹھی تھی..سب کزنز خوش گپیوں میں مصروف تھے..مریم مسکراتے ہوئے سب کو آپس میں باتیں کرتا اور ایک دوسرے کا مذاق اڑاتا دیکھ رہی تھی…
“چلو سارے اب ہانیہ کے کارنامے سنو”ایک کزن نے سب کو مخاطب کیا
سب شوق سے سننے بیٹھ گئے
“میرے جتنے کارنامے ہیں نا وہ میں جانتی ہوں یا میرا اللہ.”ہانیہ نے اپنی اصلیت بتائی
سارے کزنز ہنسنے لگے
“اچھا ماریہ آپی آپ بتائیں نا اِس کا کوئی کارنامہ.. کب سے سب کا مذاق بنا رہی تھی اب اِس کا بھی تو بنے”حارث نے ہانیہ کو زبان دکھائی
ہانیہ نے اُسے آنکھیں دکھائی
“پتا ہے جب ہانیہ چھوٹی ہوتی تھی نا تو یہ چوزے کو شاپر میں ڈال کر اور شاپر کے منہ پر لمبی سی رسی باندھ کر اُسے گھسیٹتے ہوئے ہمارے گھر لاتی تھی..اور وہ بیچارہ چوزہ راستے میں اللہ کو پیارا ہوجاتا تھا”ماریہ نے پاس بیٹھی کزن کے ہاتھ پر ہاتھ مارا
پورے کمرے میں سب کے قہقہے گونجنے لگے
“ہاں تو میں چھوٹی ہوتی تھی نا مجھے کیا پتا تھا ایسا کرنے سے وہ مر جائے گا”ہانیہ نے اپنی صفائی پیش کی
اور احمقانہ حرکت پر خود ہی ہنس دی
“اور جب کوئی گانا لگاتا تھا بولے چوڑیاں والا تو ہانیہ سوئی ہوئی اٹھ کر بھی ناچنے لگتی تھی”اب کی بار عائشہ بولی
مریم بھی ہنستے ہوئے ہانیہ کی شامت دیکھ رہی تھی
“میں بچی تھی اُس وقت مجھے کیا عقل تھی کہ ڈانس نہیں کرتے”اُس نے گود میں ہلتے ایحاب کو تھپکی سی
شاید آوازوں کی وجہ سے وہ ڈسٹرب ہورہا تھا
سب پھر سے ایک دوسرے پر طنزو مزاح کی بارش کرنے لگے
اُس نے آہستہ سے اٹھ کر ایحاب کو مریم کے پاس لٹایا اور خود کمرے سے باہر نکل گئی
#######
“وہ بہت اچھا لڑکا ہے ہانیہ اور اُس کے گھر والے بھی بہت اچھے ہیں..لڑکے کی خواہش تھی کہ وہ کسی چھوٹے گھرانے سے تعلق رکھنے والی سلجھی ہوئی لڑکی سے شادی کرے..وہ سادگی سے شادی کرنا چاہتا ہے..اُن کے گھر والوں کو کسی قسم کے جہیز کی خواہش نہیں ہے..”مریم نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا
“لیکن میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی مجھے پڑھنا ہے اور کچھ بن کر دکھانا ہے”ہانیہ بے چارگی سے بولی
شادی میں ملنے والی آنٹی نے اپنے بیٹے کا رشتہ مانگا تھا..وہ ایک پڑھا لکھا اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والا تھا
“وہ لوگ تمہیں خود پڑھانا چاہتے ہیں..اور وہ لڑکا بھی ایم اے کر رہا ہے..اور رینجرز میں اپلائی بھی کیا ہوا ہے..اور جہاں تک بات ہے شادی کی تو وہ ہم ابھی نہیں کریں گے دو تین سال بعد جب تم یونیورسٹی جاؤ گی ان شاءاللہ تب”مریم ایحاب کو لئے کمرے میں چل رہی تھی
“یہی تو مجھے سمجھ نہیں آرہا جب وہ لڑکا اتنا پڑھا لکھا دیکھنے میں بھی اچھا ہے اور ویل سیٹلڈ بھی ہے تو پھر وہ مجھ جیسی کم حیثیت لڑکی کو اپنی بیوی کے طور کیوں پسند کرے گا؟ہانیہ نے الجھ کر پوچھا
“میری جان وہ لوگ ہمارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں.اور عید پر بھی تو آئے تھے وہ لوگ ملنے..انہوں نے تو کوئی شکایت نہیں کی کہ آپ لوگ اتنے چھوٹے سے گھر میں کیوں رہتے ہیں.اور تم حافظہ ہو یہی بات اُنہیں سب سے زیادہ پسند آئی یے..”.مریم اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی
“ٹھیک ہے جیسا ماما اور پاپا اور سب کو بہتر لگے..لیکن میں اپنی پڑھائی جاری رکھوں گی..اور اگر موقع ملا تو آرمی میں بھی جاؤں گی”ہانیہ نے ہار مانتے ہوئے کہا
“ان شاءاللہ اگر وہ شخص تمہارے حق میں بہتر ہوا تو ضرور تمہارا نصیب بنے گا”مریم نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا
“جانتی ہوں اللہ مجھے بہتر عطا فرمائے گا “ہانیہ نے دل میں سوچا اور ایحاب کو گود میں لے لیا
بنا کر اپنی ٹھوڑی کو سجا کر اشک آنکھوں میں !!
ذرا سا غم بتاتا ہوں وہ سارا چھین لیتا ہے
کبھی رہنے نہیں دیتا سوالی غیر کے آگے !!
مجھے چلنا سکھانے کو سہارا چھین لیتا ہے
مجھے حاجت نہیں کوئی کہ پُوچھوں زائچہ اپنا !!
جو دُشمن ہو فلک سے وہ ستارا چھین لیتا ہے
فرشتے بھیج دیتا ہے اُسے بہلانے دُنیا میں !!
کسی بچے سے کوئی جب غبارا چھین لیتا ہے
میں اپنے رب کی رحمت کا کروں کیا تذکرہ عابی !!
منافع مجھ کو دیتا ہے خسارہ چھین لیتا ہے
۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
#ختم_شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *