Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid

مریم بیٹا میں کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے...عائشہ نے خاموش بیٹھی مریم کو دیکھا
ماما وہ...وہ بس عجیب باتیں کرتے ہیں...عجیب طرح سے دیکھتے ہیں..مریم کو سمجھ نہ آیا کہ کیسے اپنی بات بتائے
افف او ماما میں بتاتی ہوں آپ کو..ہانیہ جو کرسی پر بیٹھی سب دیکھ رہی تھی فوراً اٹھ کر عائشہ کے قریب کھڑی ہوگئی
عائشہ کا دل ایک دم دھڑکا تھا اُس نے روٹی کو چھوڑ کر ہانیہ کو دیکھا
دیکھیں ماما.. میں نے آپ کو بتایا تھا نا غفور انکل آئے تھے آج..ہانیہ نے یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا
ہاں ہانیہ لیکن ہوا کیا تھا یہ بتاؤ کچھ کہا تھا کیا انکل نے آپ دونوں کو..عائشہ نے نرمی سے پوچھا اور پاس بیٹھی مریم کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی
ماما آج تو کچھ نہیں کہا..میں اور حارث جب گھر آئے تو تو وہ چلے گئے. اور کہہ رہے تھے کہ ماما کو کہنا مجھ سے بات کرے.. ہانیہ باقائدہ ایکشن کر رہی تھی...
اور آپ کو پتا ہے ایک دن پہلے بھی آئے تھے اور کافی دیر بیٹھے رہے..بس مجھے اچھا نہیں لگتا ان کا آنا..کیوں آتے ہیں وہ یہاں...ہانیہ نے آخر میں جھنجلا کر کہا اور عائشہ کے پاس ہی بیٹھ گئی
عائشہ دھڑکتے دل کیساتھ سب سن رہی تھی
بری بات ایسے نہیں کہتے بیٹا یہ ان کا گھر ہے وہ جب چاہیں یہاں آسکتے ہیں...عائشہ نے ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا.ورنہ ہانیہ کا کیا بھروسا تھا کبھی بھی کچھ بھی بول دیتی
غفور کا آنا اور فون کرنا تو عائشہ کو بھی پسند نہیں تھا
لیکن ماما ہم کرایہ تو دیتے ہیں نا...ہانیہ منہ بناتے بولی
اچھا جاؤ میرے لیے چائے بنا کر لاؤ...عائشہ نے ہانیہ کو
وہاں سے بھیجنا چاہا
چائے.... ہانیہ رونے والی شکل بناتی کچن کی جانب چل دی
مریم بیٹا...
جی ماما...مریم نے چونک کر سر اٹھایا
میں آپ کی دوست ہوں نا تو بتاؤ مجھے کیا کہتے ہیں غفور بھائی...عائشہ نے مریم کے چہرے پر پیار کرتے پوچھا
ماما وہ بس اچھے نہیں لگتے مجھے...میں نے انہیں کہا بھی تھا کہ آپ گھر میں نہیں ہیں لیکن وہ پھر بھی بیٹھ گئے تھے... مریم نے ڈرتے ڈرتے کہا..اور وہ دروازہ کھٹکٹا کر بھی نہیں آتے..ویسے ہی آجاتے ہیں..میں نے ڈوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا تھا پھر جلدی سے پکڑا ڈوپٹہ...مریم کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے
اچھا کچھ نہیں ہوتا گھبراؤ مت...عائشہ نے مریم کو سینے سے لگا لیا
اور آئندہ جب بھی وہ آئیں تو آپ ساجدہ آنٹی کی طرف چلی جانا یا انہیں بلا لینا یہاں... ٹھیک ہے.. عائشہ نے مریم کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا
جی ٹھیک ہے ماما...مریم نے سر اثبات میں ہلایا
ڈرنے کی ضرورت نہیں بیٹا.. یہ دنیا ہے..بہت سے امتحان دینے پڑتے ہیں اس میں انسان تبھی رہ پاتا ہے جب تک وہ برائی کو ختم کرے اور اپنے حق کیلئے لڑتا رہے. اور ابھی تو آپ نے بہت کچھ دیکھنا ہے اور سبق حاصل کرنا ہے..عائشہ مریم نے مریم کے ہاتھوں کو پکڑتے کہا
پتا ہے ہم اپنی زندگی میں آنے والے ہر شخص سے کچھ نا کچھ سیکھتے ہیں...عائشہ مریم کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی.. مریم نے سکون سے اپنی آنکھیں بند رکھی تھی اور غور سے بات سن رہی تھی
اچھے لوگ ہمیں محبت کرنا مسکراہٹیں بانٹنا سیکھاتے ہیں.. جبکہ برے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں کیسے حالات کا مقابلہ کرنا ہے کیسے صبر کرنا ہے کیسے اپنے حق کیلئے لڑنا ہے...عائشہ کی آنکھوں کے سامنے غفور کا چہرہ آیا...اس نے نفرت سے اپنے تصور کو دیکھا
وہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی تھی.. کب اس کی بیٹیاں اتنی بڑی ہوگئی تھیں کہ لوگ انہیں گندی نظروں سے دیکھنے لگے تھے..اُس نے بہت سے لوگوں کی نظریں برداشت کیں تھی..لیکن وہ یہ کیسے برداشت کرتی کہ کوئی اس کی بیٹیوں پر بری نظر رکھے..ماں کا دل ہول اٹھا تھا ایسی بات پر
مریم نے عائشہ کی خاموشی پر اپنا سر اٹھایا
عائشہ کی آنکھیں بھیگ چکی تھی
ماما..مریم نے خوف سے ماں کے آنسو دیکھے..
جی میری جان..عائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور محبت سے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا
ماما میں اب چھوٹی نہیں ہوں...ہر بات سمجھتی ہوں اور میں آپ کا سر میری وجہ سے کبھی جھکنے نہیں دوں گی یہ میرا وعدہ ہے آپ سے... مریم عائشہ کے ہاتھوں کو پکڑتی اعتماد سے بول رہی تھی
عائشہ نے فخر سے اپنی بیٹی کو دیکھا
میں بھی سمجھدار ہوں.. اور دیکھنا جب میں حفظ کرلوں گی نا تب ماما کو مجھ پر بھی فخر ہوگا.. سب کہیں گے یہ ہے حافظہ ہانیہ ساجد کی ماما....ہانیہ اچانک سے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے کمرے میں نمودار ہوئی اور اپنے تعریف کرنے میں مصروف ہوگئی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *