Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode03

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode03

ساجد بھائی بس یہی اُتار دیں آگے ہم خود چلے جائیں گے…. صائمہ نے رکشہ رُوکنا چاہا
نہیں بھابھی میں چھوڑ آتا ہوں آگے تک… ابھی ویسے بھی گھر کافی دور ہے…. ساجد رکشہ چلاتے ہوئے بولا
نہیں نہیں آپ بس یہی اتار دیں ہمیں…میرے گھر والے دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے کہ کتنے خراب رکشے میں آئی ہوں میں… ہم چلے جائیں گے آگے خود ہی آپ بس روک دیں رکشہ….صائمہ نے الفاظوں کا بے دردی سے استعمال کیا..
صائمہ کو رکشے میں بیٹھنا اپنی توہین کے مترادف لگ رہا تھا
لیکن اس رکشے کی کمائی سے ساجد کے بچوں کا پیٹ بھرتا تھا…سارا سارا دن وہ سڑکوں پر سواری کی تلاش میں خوار ہوتا پھرتا…. اکثر لوگ اچھے رکشے کی تلاش میں اُس کے خراب حالت کے رکشے کو نظر انداز کر دیتے اور وہ سارا دن دعا کرتا رہتا کہ کوئی سواری مل جائے جس سے گھر کا سرکل چلتا رہے….
جی اچھا بھابھی…. ساجد نے خاموشی سے رکشہ روک دیا
چلو بچوں اترو نیچے…دھیان سے اُترنا…صائمہ نے بچوں کو ہدایت دی اور خود بھی رکشے سے نیچے اتر کر چل دی
کرایہ…..ساجد کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے اور صائمہ کرائے سے بے خبر اپنے بچوں کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہوگئی
ساجد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی….دل کیا رب سے شکوہ کرے.. روئے گڑگڑائے…..سارا ضبط توڑ دے….ابھی تو خوش ہوا تھا کہ کوئی سواری تو ملی اور سواری بنا کرائے دیے ہی چل دی……اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی…بے دردی سے آنکھوں کو مسلا کہ کوئ آنسو باہر نہ آجائے…. رکشے میں بیٹھا اور اگلی سواری کا انتظار کرنے لگا
######
ہانیہ میری بچی کھا لو نا کھانا کیوں تنگ کر رہی ہو ماما کو…..دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا تم نے اب رات ہونے کو ہے کھانے سے ناراضگی نہیں رکھتے…عائشہ جو کب سے ہانیہ کو پیار سے سمجھا رہی تھی ایک بار پھر کوشش کی
ہانیہ نے دوپہر کی مار کی وجہ سے ناراض ہوکر کھانا نہیں کھایا تھا…تب تو عائشہ خاموش رہی کہ جب بھوک لگے گی تو خود ہی کھا لے گی لیکن اب رات کے 8 بج رہے تھے اور ہانیہ نے ایک نوالا بھی نہیں کھایا…ماں کے دل کو کچھ ہوا تھا….اپنی اولاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے..
مجھے نہیں کھانا.. آپ حارث کو کھلائیں وہی آپ کا بیٹا ہے…ہانیہ نے منہ موڑتے ہوئے کہا…. ایک پل کو دل کیا کہ ساری ناراضگی بھول جائے اور کھانے پر ٹوٹ پڑے…. لیکن نہیں وہ ہانیہ ہی کیا جو آسانی سے مان جائے…آخر حارث کو بھی تو مار پڑوانی تھی نا
دیکھو ہانیہ تمہاری بھی تو غلطی تھی کتنا مارا تھا تم نے حارث کو….ابھی بھی اس کے منہ پر ناخنوں کے نشان نظر آرہے ہیں دیکھو زرا اس کی شکل….. عائشہ نے حارث کے چہرے کی طرف اشارہ کیا جو دور بیٹھا ہنس رہا تھا
اور اُس نے جو میری بک بنا پوچھے نکالی…اُس کی وجہ سے ڈانٹ پڑی مجھے اتنی وہ نہیں نظر آئی آپ کو…. ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
اچھا نا ماما سوری بول رہی ہے اب تو کھا لو کھانا…عائشہ نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے کہا
ایک شرط پر مانوں گی…
کیسی شرط ؟
پہلے آپ حارث کو بھی تھپر ماریں جتنی زور سے آپ نے مجھے مارا تھا…ہانیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
اچھا ٹھیک ہے ادھر آؤ حارث….عائشہ نے حارث کو آواز دی اور ساتھ ہی آنکھ ماری
حارث اپنی ہنسی دباتا معصوم سی شکل بنا کر آیا
ہانیہ مزے سے دیکھ رہی تھی
آہ…..عائشہ نے حارث کی کمر پر ہلکا سا تھپر مارا اور حارث ڈرامائی انداز میں رونے لگا
مجھے پتا ہے یہ ڈرامہ کر رہا ہے… اتنا ہلکا مارا ہے آپ نے اسے…. ہانیہ کو پھر شکایت ہوئی
عائشہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے جو اتنی گندی اولاد پیدا کی
ماما چھوڑیں اسے…اِس کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے…نہیں کھانا نہ کھائے…. بدتمیز لڑکی….مریم جو کتابوں میں سر دے کر بیٹھی تھی اب کی بار مداخلت کی
مریم آپی تم چپ رہو…..کھارہی ہو میں کھانا صرف مما کے کہنے پر ورنہ میں پاپا کو بتاتی کے کیسے سارے ظلم کرتے ہیں مجھ پر…. ہانیہ نے دہائی دی …..اُس سے بھوک برداشت کرنا اب مشکل ہوگیا تھا
ہاں جیسے پاپا نے فوراً تمہاری بات مان لینی تھی انہیں بھی پتا ہے کتنی لڑاکی ہو تم…حارث نے مذاق اڑایا
مما……. ہانیہ نے بیچارگی سے عائشہ کی طرف دیکھا
مریم اور حارث اب بس کر جاؤ تم دونوں….
چلو میرا بچہ یہ لو کھانا کھاؤ…عائشہ نے نوالہ بنا کر ہانیہ کے منہ میں ڈالا
صرف آپ کے کہنے پر کھا رہی ہوں…ہانیہ نے پھر یاد کروایا اور کھانے میں مصروف ہوگئی
پاگل لڑکی…. عائشہ نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی اور ہانیہ کو کھانا کھلانے لگی
حارث اور مریم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل کمرے میں قہقہوں کی آواز بلند ہوئی جس میں ہانیہ اور عائشہ بھی شامل تھیں
#######
ساجد مجھ سے نہیں ہوتا اب 400 روپے میں گزارا……دوسرے لوگوں کو دیکھا ہے پورے پورے مہینے کا اکٹھا راشن ڈلوا لیتے ہیں…اور ایک میں ہوں ہر روز پیسوں کے حساب سے چلنا پڑتا ہے..کلو آٹا, پاؤ گھی نمک مرچ سب کچھ تھوڑا تھوڑا لانا پڑتا ہے….عائشہ نے روہانسی ہوتے ہوئے کہا
میں کیا کر سکتا ہوں عائشہ سارا دن سڑکوں پر خوار ہوتا…تم لوگوں کی خاطر ہی ہوتا ہوں نا… مجھے بھی شوق ہے میرے بچے اچھا کھائیں اچھا پہنیں کبھی کسی کے محتاج نہ ہو…. لیکن جب قسمت میں ہی یہ سب لکھا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں….. ساجد نے روٹی کا لقمہ منہ میں ڈالا
آپ تو تین چار سو پکڑا کر چلے جاتے ہیں کام پر…مجھے پتا ہے میں کیسے گزارا کرتی ہوں… بچے سبزی کو پسند نہیں کرتے..کسی ایک کی فرمائش پوری کروں تو دوسرے کا منہ بن جاتا…عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
میں کیا کروں عائشہ مجھے یہ بتا دو کوئی ایسا دم کوئی وظیفہ جس سے سواریاں میرے رکشے میں بیٹھیں….شکر کروں کہ 400 دے دیے ہیں یہ بھی دو سواریاں ملی تھی رات کو…..ورنہ تو آج خالی ہاتھ ہی آنا تھا میں نے گھر…. ساجد نے پانی کا گھونٹ بھرا
پڑھ لکھ جاتے تو آج کوئی اچھی نوکری کر رہے ہوتے… یوں میرے بچے اور میں افلاسی کی زندگی نہ بسر کرتے…. عائشہ نے ڈوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کیے
ہاں پڑھ لکھ جاتا تو تم جیسی عورت سے شادی نہ کرتا کبھی ..جسے شوہر کے حالات کا زرا بھی خیال نہ ہو…..تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں سارا دن آرام کرتا پھرتا ہوں؟…ایک پل بھی سکون کا نہیں گزرتا میرا ہر وقت تم لوگوں کی طرف دھیان لگا رہتا ہے….ساجد کا دل چاہا اپنا سر پھاڑ لے
قسمت تو میری خراب ہے جو میری امی نے تمہارے ساتھ بیاہ دیا مجھے… نہ گھر بار دیکھا نہ کاروبار… عائشہ نے کھانے کے برتنوں پر غصہ اتارنا چاہا
ہاں تو میں کونسا مرا جا رہا تھا تمہارے لیے…..
ماما پاپا بس کر دیں آپ دونوں کب سے لڑ رہے ہیں… نیند خراب کردی ہے…..ہانیہ اور حارث بھی جاگ جائیں گے اگر آپ لوگوں نے لڑنا بند نہ کیا…..مریم نے آنکھیں مسلتے ہوئے کہا
اچھا مریم بیٹا آپ سو جاؤ جا کر اب نہیں آئے گی ہماری آواز… ساجد نے پیار سے مریم کو سمجھایا
پاپا…. کیوں لڑتے ہیں آپ دونوں…ہر دوسرے دن آپ لوگوں کی لڑائی ہوتی ہے مجھے اچھا نہیں لگتا…. مریم ساجد کے پاس چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی اور ایک نظر خاموش آنسو بہاتی عائشہ کو دیکھا
اچھا میرا بچہ اب نہیں لڑتے ہم….ساجد نے مریم کے سر پر ہاتھ پھیرا
ماما یہاں آئیں…. مریم نے عائشہ کو پکارا جو غصے میں بھری بیٹھی تھی
ادھر آئیں نا ماما….اب کی بار مریم نے عائشہ کو بازو سے کھینچ کر ساجد کے ساتھ بٹھایا
چھوڑو مریم…مجھے نہیں بیٹھنا اس شخص کے ساتھ…. عائشہ نے منہ موڑ لیا
یہ کوئی شخص نہیں پاپا ہے میرے…اور پاپا آپ چلیں سوری کرے ماما کو جلدی…
ساجد نے پیار بھری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھا
پاپا….سوری کریں نا…. مریم نے ساجد کی بازو سے جھنجھوڑا
اچھا میری ماں…یہ لو بھئی سوری….. ساجد نے کانوں کو پکڑتے ہوئے کہا
عائشہ نے ایک نظر ساجد کو دیکھا
چلیں ماما اب آپ دل بڑا کریں اور معاف کر دیں پاپا کو… مریم نے پریشانی سے ماں کو دیکھا جس کی رو رو کر آنکھیں لال ہوچکی تھی
ماما……
اچھا نا مریم میں نہیں ناراض تمہارے پاپا سے.. اب تم جاؤ جا کر سو جاؤ کمرے میں عائشہ نے سنجیدگی سے کہا
آپ دونوں پیسوں کی وجہ سے لڑتے ہیں نا… میں پڑھ جاؤ گی نا تو کوئی اچھی سی جاب کروں گی پھر کبھی آپ دونوں کی لڑائی نہیں ہوگی.. مریم نے ماں کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا
اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے اور تمہیں ایسی آزمائشوں سے دور رکھے… عائشہ نے بھیگی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا
آمین….ساجد ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
صائمہ….. جمیل نے بیڈ پر بیٹھی صائمہ کو پکارا جو ہاتھوں پر لوشن لگانے میں مصروف تھی
صائمہ میں تم سے بات کر رہا ہوں…. جمیل کی آواز بلند ہوئی
ہاں ہاں سن رہی ہوں میں کان بند نہیں میرے…. صائمہ نے پاؤں پر لوشن لگانا شروع کیا
تم نے میرے میسج کا جواب نہیں دیا تھا….جمیل صوفے پر لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا
کونسا میسج…. اُس نے جمیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
یار کل جب تم لوگوں کو رکشے پر بیٹھا کر آیا تھا تو مجھے یاد نہیں رہا تمہیں کرایہ کا کہنا…. اسی لئے میں نے پھر میسج کر دیا کہ 200 روپے کرایہ دے دینا…. جمیل کی انگلیاں کی بورڈ پر چلاتے ہوئے کہا
اوہ نہیں میں نے میسج نہیں دیکھا تمہارا…مجھے لگا تم نے کرایہ دے دیا ہوگا خود ہی…. صائمہ نے لاپرواہی سے کہا
کیااااا….تم ایک مرتبہ میسج تو پڑھ لیتی یا کم از کم ساجد سے ہی پوچھ لیتی…. حد کرتی ہو تم بھی… جمیل کو صائمہ سے اس قدر بے وقوفی کی امید نہیں تھی
ہاں تو نہیں پڑھا میں نے میسج تم کال کر دیتے… اور ویسے بھی خراب سے رکشے میں بیٹھا دیا مجھے اور میرے بچوں کو… وہ تو اچھا ہوا کہ میں نے پہلے ہی رکوا لیا رکشہ نہیں تو کتنی انسلٹ ہوتی میری…صائمہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اور لوشن ڈریسنگ ٹیبل پر رکھنے کیلئے اٹھی
شرم آنی چاہئے تمہیں صائمہ… جس رکشے کو تم خرا ب کہہ رہی ہو اُس کی کمائی پر ساجد کے بچے پلتے ہیں…..جمیل اافسوس میں سر ہلاتا بولا
ہاں ہاں میں ہی شرم کروں تم جو اُس دو ٹکے کے آدمی کی وجہ سے مجھ سے ایسے بات کر رہے ہو اُس کا کیا….میں تو ویسے بھی تمہیں زہر لگتی ہوں…..صائمہ کو موقع مل گیا تھا کل کی بات پر لڑنے کا
اب تم خوامخواہ بات کو بڑھا رہی ہو… اور وہ جو بھی ہے جیسا بھی ہے کم از کم آج تک کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے… چاہے جیسے مرضی حالات دیکھے ہو لیکن کبھی اُس کی زبان سے شکوہ نہیں سنا میں نے…جمیل کو برا لگا تھا صائمہ کا اس طرح سے بات کرنا
تو مانگ لیا کرے تم سے پھیلا لیا کرے تمہارے آگے ہاتھ… صائمہ کسی بھی قسم کا لحاظ رکھے بغیر بولی
پیسے پر اتنا غرور مت کرو صائمہ پیسہ آنی جانی چیز ہے…اللہ جب چاہے تم سے چھین سکتا ہے اور مت بھولو جس پیسے پر تم عیاشی کرتی پھرتی ہو یہ اللہ کا ہی دیا ہوا ہے…اور اللہ ایک ایک پیسے کا حساب لے گا تم سے…جمیل نے صائمہ کو سمجھانا چاہا
تم ایک کام کرنا پھر کل سے پھٹے پرانے کپڑے پہن کر رکشہ چلانا شروع کر دو تاکہ تم سے حساب نہ ہو پیسوں کا یا اپنے نام کا دربار بنا لو ایک جہاں سارے غریبوں کا پیٹ بھرنا بیٹھ کر…صائمہ جمیل کی بات کا مذاق بناتے ہوئے بولی
تمہیں سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے جیسا ہے اللہ ہی ہدایت دے تمہیں….جمیل کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
اور ہاں جب میں مر جاؤں گا نا تو بنا لینا میرے نام کا دربار…..وہ غصے سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا
#######
ہانیہ…..یار دیکھنا کس کا فون آرہا ہے کب سے بج رہا ہے فون تمہارے کانوں کو آواز نہیں آرہی….مریم جو صحن میں برتن دھو رہی تھی کمرے میں ٹی وی دیکھتی ہانیہ کو آواز لگائی
مجھے نہیں پتا خود ہی دیکھ لو آکر میرے ڈرامے کا سین مس ہوجائے گا… ہانیہ نے لاپرواہی سے کہا اور پھر سے ڈرامے میں مگن ہوگئی
ہانیہ چھوڑ دو ٹی وی کی جان تھوڑی دیر کیلئے اور دیکھ لو کس کا فون ہے.. عائشہ نے کپڑے سلائی کرتے آواز دی
کیا مسئلہ ہے….. اتوار والے دن بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے…سارا ہفتہ سکول جاؤ ٹیوشن جاؤ سپارہ پڑھو… اور اتوار کو بھی ٹی وی نہ دیکھو…. ہانیہ غصے سے اٹھی اور موبائل پر نظر ڈالی جہاں فون آنا بند ہوچکا تھا
بہت بگاڑا ہوا ہے ماما آپ نے اسے… مریم نے افسوس سے کہا اور دھلے ہوئے برتن اٹھانے لگی
یہ لیں پکڑے فون…غفور انکل کا آرہا ہے…..جب پاپا کا نمبر ہے ان کے پاس تو پھر کیوں کرتے رہتے ہیں یہاں فون….. ہانیہ نے مشین پر بیٹھی عائشہ کے ہاتھ میں فون تھمایا
پتا نہین تمہیں کیا چڑ ہے ان کے فون سے اور یہ جو تمہاری گز بھر کی زبان ہے نا اسے قابو میں رکھا کرو اگر غفور بھائی نے سن لی تو ایک منٹ میں ہمیں یہاں سے نکال دیں گے….. عائشہ نے ہانیہ کی بداخلاقی سے تنگ آکر کہا
ساری برائیاں تو مجھ میں ہی نظر آتی ہیں اور یہ جو ہر روز منہ اٹھا کر فون کر لیتے ہیں ان کا پتا نہیں…. ہانیہ آہستہ آواز میں بڑبڑائی اور دوبارہ ٹی وی کے سامنے جا کر بیٹھ گئی
######
اسد مجھے عائشہ کی طرف لے جاؤ…اسوہ کے گھر رہنے کی وجہ سے کافی دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی میری…..نسیمہ نے اپنے بیٹے کو کہا
مجھے تو حیرانی ہورہی ہے آپ نے اتنے دن کیسے گزار لیے عائشہ خالہ کے بنا…اسوہ کے گھر یاد نہیں آئی آپ کو…اسد نے ماں کو شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا
ہاں تو چھوٹی بہن ہے میری بیٹیوں جیسی ہے میرے لئے…. وہ تو اسوہ نے ضد کی تو اس کی طرف رہنے چلی گئی میں..تم نہیں کرتے کیا اپنی بہنوں سے پیار….نسیمہ بیڈ پر پڑے کپڑوں کو تہہ لگانے لگی
کرتا ہوں امی…بہنیں ہوتی ہی اتنی پیاری ہیں…. اسد مسکرا کر بولا
اچھا آپ جلدی سے تیار ہوجائیں میں لے جاتا ہوں آپ کو خالہ کی طرف مجھے بھی کافی دن ہوگئے ہیں ان سے ملے ہوئے…اسد بیڈ پر بیٹھا اور کپڑوں کو تہہ لگانے میں مصروف ہوگیا
ارے تم رہنے دو میں کر رہی ہوں نا…نسیمہ نے اسد کو روکنا چاہا
اوہو امی کچھ نہیں ہوتا میں کر لوں گا تو کیا ہوگا… آپ جائیں تیار ہوجائیں میں تب تک کپڑے تہہ کر دیتا ہوں
اچھا میری جان….نسیمہ نے فخر سے اپنے بائیس سالہ بیٹے کو دیکھا جس نے وقت سے پہلے ہی بہت سی زمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی.اُس کے ہونٹوں پر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی
نسیمہ عائشہ کی بڑی بہن تھی…نسیمہ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھی… ایک بیٹی شادی شدہ تھی… عائشہ کو باقی بہنوں کی نسبت نسیمہ سے زیادہ محبت تھی…اُس نے ہر اچھے برے وقت میں عائشہ کا ساتھ دیا…اور نسیمہ کی اولاد بھی عائشہ اور بچوں کا بہت خیال رکھتی..حارث کی پیدائش سے دو مہینے پہلے نسیمہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا…. تب سے نسیمہ کے بڑے دو بیٹوں نے گھر کی ساری زمہ داری اٹھا لی… اسد نے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی اور کام بھی کرتا رہا…. آہستہ آہستہ نسیمہ کے گھر کے حالات بہت بہتر ہوگئے
#######
ٹرن ٹرن…..ٹرن ٹرن…..ایک بار پھر موبائل کی سکرین روشن ہوئی اور اب کی بار عائشہ نے دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا
اسلام علیکم غفور بھائی… عائشہ نے سلام میں پہل کی
وعلیکم اسلام…. دوسری جانب سے ایک بھاری مردانہ آواز آئی
میں جب بھی فون کرتا کوئی اٹھاتا کیوں نہیں ہے… پرسوں بھی کر رہا تھا فون تب بھی نہیں اٹھایا کسی نے…. غفور کے الفاظ میں شکوہ تھا جو عائشہ کو اچھا نہیں لگا
جی بھائی بس موبائل پاس نہیں ہوتا اور جب تک بچے موبائل پکڑاتے ہیں آپ کا فون بند ہوجاتا ہے… عائشہ نے دھیمے لہجے میں کہا
تو پاس رکھا کریں نا موبائل کبھی بھی کسی کا فون آ سکتا ہے…غفور نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
جج… جی بھائی کیا مطلب…. عائشہ نے نا سمجھی سے پوچھا
ارے کچھ نہیں میں تو بس مذاق کر رہا تھا…. اور ساجد نے کرایہ نہیں بھیجا ابھی تک آج دس تاریخ ہو گئی ہے… غفور کا لہجہ کچھ سخت ہوا
جی بھائی انہوں نے پیسے لینے ہیں کہی سے تو وہ کل ملے گے… آپ کو کل تک کرایہ مل جائے گا…. اللہ حافظ…. عائشہ نے سنجیدگی سے جواب دیا اور رابطہ منقطع کر دیا۔
جاری ہے….🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *