Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode08

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode08

ماضی
عائشہ کی شادی کو تین سال سے زیادہ ہوچکے تھے….مریم کی عمر ڈھائی سال کے قریب تھی..اور عائشہ پھر امید سے تھی.. شادی کے تین سالوں میں اُس نے بہت سے دکھ جھیلے.. بہت سی باتیں برداشت کیں..سسرال والوں کی باتوں میں آکر ساجد کی بے رخی نے اُسے دن بہ دن مارا تھا اندر سے…اکثر ساجد اُس پر ہاتھ بھی اٹھا چکا تھا..وہ خود کو کمزور نہیں سمجھتی تھی. وہ ہمیشہ سے ہی ایک ہمت والی لڑکی تھی.. لیکن اپنے ماں باپ کے دکھ کا سوچ کر وہ اکثر ہار مان جاتی تھی.. ساجد کی انا کے آگے جھک جاتی تھی..
شاید جوانی کا فتور ہی کچھ ایسا ہوتا ہے مرد خود کو طاقتور اور ایک عورت کو کمزور سمجھتا ہے..اور پھر اُس عورت کو کمزور سمجھنا جو رب کی طرف سے امانت ہیں..عورت پر ہاتھ اٹھا کر خود کو مرد تصور کرنا میری نظر میں جہالت کی انتہا ہے
ایک عورت کمزور نہیں ہوتی…وہ عورت جو موت کی گہرائیوں کو چھو کر آپ کو باپ ہونے کا درجہ دیتی ہے..جو اپنا گھر بار چھوڑ کر آپ کے نام اپنی ساری عمر لگا دے وہ کمزور کیسے ہوسکتی ہے…؟
ایک مرد کو دنیا میں لانے والی بھی عورت ہی ہوتی ہے.. اور پھر وہی مرد جسے باپ کی صورت میں شفیق پایا ہو.. بھائی کی صورت میں محبت کرنے والا,کبھی اپنا مان سمجھنے والا دیکھا ہو..لیکن جب تیسرا روپ..جو سب سے اہم ہے سب سے اوپر ہے..جو آپ کا ہمراز ہو..مہربان ہو…آپ کی روح کا ساتھی ہو..اور وہی آپ کو رسوا کر کے ذلیل و خوار کرکے.. آپ کا مان توڑ کر آپ کو گھر سے بے گھر کر دے.. تو یہ سب عورت کو تکلیف کے اُس درجے تک لے جاتا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا…اور کبھی کبھی نا ممکن سا
اپنی بیویوں کی قدر کرنا سیکھیں..ماں باپ اپنا کلیجہ کاٹ کر آپ کو بیٹی سونپتے ہیں اُن کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں..اُن کا حق ادا کریں.. اپنے فرائض انجام دیں تبھی آپ اس قابل ہوگے کہ اپنا حق طلب کر سکیں…
######
عائشہ خاموش سی اپنی امی کے گھر کی جانب چل رہی تھی. .دروازے کے باہر کھڑے اُس کا جسم کانپنے لگا..آنکھوں کے سامنے آنسوؤں کا ڈھیر سا جما ہوگیا.. اُس کی آنکھیں دھندلانے لگی تھی… اُس نے اپنی آنکھوں کو مسلا اور اپنے قدم گھر کے اندر داخل کیے…
امی….عائشہ نے کمرے میں داخل ہوتے اونچی آواز سے بولنا چاہا.. مگر آواز حلق میں دب کر نکلی تھی
عائشہ کی امی اپنے بستر پر بیٹھی پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی
عائشہ کی آواز پر دکھڑکتے دل کے ساتھ پلٹی تھی..
عائشہ مریم کو گود سے اتارتی بھاگتی ہوئی ماں کے سینے سے لپٹ گئی تھی..
اور رونے لگی..
عائشہ میرے بچے کیا ہوا ہے.. ادھر دیکھو میری طرف…عائشہ کی ماں نے آہستہ سے اُس کا سر اٹھایا اور چہرے پر ہاتھ رکھتے پیار سے پوچھا..
امی.. میں نے کبھی منع نہیں کیا کسی کو کہ میری چیزیں استعمال نہ کریں.. ماں جی نے غلط بات بتائی ہے ساجد کو.. عائشہ نے اپنے صفائی دیتے بہتے آنسو صاف کیے…آنسو لے نشان جم چکے تھے چہرے پر
امی نے پریشانی سے عائشہ کو روتے دیکھا.. دل بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا تھا
ساجد بیٹا عائشہ کیوں رو رہی یے…امی نے سوالیہ نظروں سے ساجد کو دیکھتے پوچھا جو دروازے کی دہلیز میں خاموش کھڑا سب دیکھ رہا تھا
خود ہی پوچھ لیں اِس سے.. ایسے کوئی ظلم کے پہاڑ نہیں توڑ دیے ہم نے اِس پر جو یوں رو رہی ہے…بدتمیزی کرتی ہیں میرے گھر والوں کے ساتھ… ساجد سخت لہجے بولا تھا..شاید وہ خود کو غلط نہیں دکھانا چاہتا تھا
نہیں امی….میں نے..
اور اب اِسے تب ہی بھیجیے گا جب یہ میرے گھر والوں کی عزت کرنا سیکھ لے… عائشہ نے اپنا سر اٹھا کر کچھ کہنا چاہا تھا..لیکن ساجد عائشہ کی بات کاٹتا فوراً بولا
عائشہ کی ماں نے خوف سے اپنی بیٹی کی جانب دیکھا.. رونے سے آنکھوں میں لال دڑاڑیں پر چکی تھی..
ساجد بیٹا تم ادھر آؤ بیٹھو یہاں. بیٹھ کر بات کرو تحمل سے.. امی نے پاس پڑے صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کا کہا
مریم ڈرتے ہوئے ماں کی جانب بڑھی..سب بچے پھپھو کو دیکھتے اپنے اپنے پورشن کی جانب بھاگے.
میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا..آپ کی جاہل بیٹی واپس دینے آیا ہوں..ساجد اونچی آواز میں بولا تھا…وہ اپنا رعب اور دبدبہ برقرار رکھنا چاہتا تھا
عائشہ کے بھائی اور بھابھی نیچے سے آوازیں سنتے اپنی کمروں سے نکل آئے تھے
اتنی ہی جاہل تھی تو شادی نہ کرتے مجھ سے..بس ہر وقت اپنی مردانگی جتانی آتی ہیں..مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی ماں کی تربیت دکھاتے ہیں آپ…عائشہ غصے سے اٹھی اور ساجد کے مقابل کھڑے ہوکر بولنے لگی
آنسو مسلسل بہہ رہے تھے..اُس کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا
ساجد کو اپنا آپ چور لگنے لگا…تین سال پہلے والی عائشہ کہی نظر نہ آئی..اُسے عائشہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر خوف آنے لگا تھا
وہ عائشہ کو نظر انداز کرتا امی کی جانب بڑھا
دیکھ رہی ہیں آپ امی.. ایسے چلتی ہے اِس کی زبان سارا دن گھر میں.. بات تک کرنے کی تمیز نہیں اِس عورت کو.. ساجد عائشہ کو دیکھتا آہستہ آواز میں غرایا
مریم نے عائشہ کی ٹانگ پکڑی اور اوپر منہ کرتی کبھی ساجد کو دیکھتی کبھی عائشہ کو…وہ ڈری سہمی سی کھڑی تھی..
عائشہ اپنے آنسو صاف کرتی مریم کو اٹھانے کیلئے جھکی
بیٹا کم از کم اِس کی حالت تو دیکھ لیتے.. ماں بننے والی ہیں یہ..آگے ہی اِس میں جان نہیں ہے.. اگر کوئی غلطی کر دی تھی تو نظر انداز کر دیتے.. امی اپنا بھارا وجود سنبھالتے ہوئے دروازے کی طرف آئی اور ایک نظر آنسو بہاتی عائشہ پر ڈالی جو مریم کو گود میں لئے سلانے کی کوشش کر رہی تھی
یہ اِن سب کی خود ذمہ دار….
ارے بس کر جاؤ ساجد میاں.. اور کتنے ظلم کرنے ہیں میری بہن پر… ساجد کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی عائشہ کا بھائی اونچی آواز میں ساجد پر برس پڑا.. بھابھیاں ساجد کو گھورتے ہوئے عائشہ کی طرف بڑھی
اپنی بہن کو رکھے اپنے پاس ہی.. آپ جیسے بھائی گھر نہیں بسنے دیتے.. جو اپنی بہن بیٹیوں کو شہہ دیتے ہیں.. ساجد نے بھی ترکی با ترکی جواب دیا
عائشہ نے درد سے اپنی آنکھیں بند کی..اُس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا ..وہ مریم کو لٹاتی دور کھڑے ساجد کو دیکھنے لگی.. جو بھائیوں کے ساتھ بحث میں لگ چکا تھا
بھابھیاں عائشہ کے قریب کھڑی اسے تسلی دینا چاہ رہی تھی…عائشہ کی امی نے ڈوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کیے…
عائشہ کے ابو گھر میں نہ تھے اِس وقت
عائشہ کو اپنی سماعت ختم ہوتی محسوس ہوئی..اُس نے بولنا چاہا مگر حلق سے آواز نہ نکلی…
وہ غائب دماغی سے سامنے چھڑی جنگ دیکھ رہی تھی
ساجد بھائیوں کو سناتا غصے سے پیر پٹختا وہاں سے روانہ ہوگیا
امی….عائشہ اپنے سر پر ہاتھ رکھتی حلق کے بل چلائی اور ہوش سے بےگانہ ہوکر صوفے پر ہی گر گئی
سب گھر والے بھاگتے ہوئے عائشہ کی جانب آئے
ساجد گھر سے باہر نکلتے سڑک پر چلنے لگا…اُسے اپنا آپ ادھورا لگنے لگا تھا.. وہ عائشہ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا لیکن ماں کا حکم ماننے سے بھی انکار نہیں کرسکتا تھا…وہ بھی ایک پر سکون زندگی بسر کرنا چاہتا تھا..عائشہ کا روتا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا… شکوہ کرتی نگاہیں جو ساتھ مانگنے کی طلب گار تھی.. اُسے اپنی بے رخی یاد آگئی…. اپنا دھتکارنا یاد آگیا تھا…عائشہ کی منت بھری آواز کانوں میں گونجنے لگی.اُس نے خوف سے دل پر ہاتھ رکھا دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی تھی..اُس نے ہاتھ گرایا اور آسمان کی جانب نظر اٹھائی…روشنی کی چمک سے آنکھوں میں چبھن ہونے لگی.. وہ اپنی پلکیں گراتا بھاری قدموں کے ساتھ گھر کی جانب چل دیا
###########
عائشہ کو امی کی طرف آئے 7 ماہ ہوچکے تھے….بیٹی کی پیدائش ہوکر وفات ہوگئی تھی..جبکہ 6 ماہ پہلے ابو بھی وفات پاگئے تھے.. عائشہ خاموش اور گم سم سی رہنے لگی تھی… ساجد کو کبھی جو بیوی اور اولاد کی محبت ستاتی تو وہ چھپکے سے ملنے آجاتا.. عائشہ ساجد کی موجودگی سے بچتی خود کو پہلے سے زیادہ کام میں مصروف کر دیتی…ساجد کی ماں اور بھائی عائشہ کا گھر بسانا چاہتے تھے…امی منتظر تھیں کہ ساجد کب عائشہ کے حوالے سے بات کرے… اور ساجد اپنی ماں کے حکم کا منتظر
عائشہ بیٹا ادھر آؤ.. چھوڑ دو یہ کام.. ادھر آکر بیٹھو میرے پاس…امی نے پلنگ پر بیٹھے عائشہ کو آواز لگائی جو فریج صاف کرنے میں مصروف تھی..
جی امی بس آئی.. تھوڑا سا کام رہ گیا ہے..عائشہ مصروف سے انداز میں فریج کے اندر گردن گھسائے بولی
چھوڑ دو کام. ادھر آکر بات سنو میری…جب دیکھو کام میں ہی لگی رہتی ہو.. کبھی ماں کے پاس بھی دو گھڑی بیٹھ جایا کرو.. امی نے حکم دیتے مصنوئی ناراضگی سے کہا
عائشہ نے فریج سے گردن باہر نکال کر ماں کو دیکھا..جو غصے سے اُسے گھور رہی تھی وہ مدھم سا مسکراتے ہوئے ان کی جانب بڑھی
جی امی…کہیے کیا بات ہے.. آپ کو کچھ چاہئے کیا..؟عائشہ پلنگ کے کنارے پر ماں کے پاس بیٹھی اور محبت سے پوچھا
مجھے میری بیٹی کی خوشیاں چاہئے.. کیا مل سکتی ہیں مجھے.. امی نے عائشہ کے رخسار پر ہاتھ رکھا..
عائشہ نے الجھی نظروں سے دیکھا..اُس کی آنکھوں کی ویرانی ماں کی آنکھوں میں جھلک رہی تھی..
کیا مطلب امی…عائشہ نے انجان بنتے پوچھا
عائشہ بیٹا میں چاہتی ہوں کہ تم اپنے گھر کی ہوجاؤ.. ساجد آئے دن ملنے آتا ہے تم لوگوں سے..
امی مجھ سے نہیں صرف اپنی بیٹی سے. عائشہ بات کاٹتی بے رخی سے ببولیقہ ساجد کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ تم سے بھی ملنے آتا ہے.. پر تم تو اُس کے پاس تک نہیں بیٹھتی..وہ کتنی کتنی دیر انتظار کرتا ہے تمہارا… امی نے عائشہ کو سمجھانا چاہا
مجھے کوئی غرض نہیں ہے اِن سب سے.. عائشہ نے منہ موڑ کر کہا اور دور بیٹھی مریم کو دیکھا جو بھائی کے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی..وہ جلتے دل کے ساتھ نظریں جھکا گئی
بیٹا زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے.. تمہارے ابو بھی رخصت ہو چکے ہیں اِس دنیا سے.. اور ناجانے کب میری سانسوں کا اختتام ہوجائے..میں چاہتی ہوں تم ساجد کے ساتھ چلی جاؤ…میں خود کر لوں گی اُس سے بات…ابھی تو میں ہوں.. کیا میرے بعد بھی بھائیوں کے سہارے بیٹھی رہو گی…وہ عائشہ کو دیکھتی بے بسی سے بولی
عائشہ نے اپنی جھکی پلکیں اٹھاتے ماں کو دیکھا.اُسے تکلیف پہنچی تھی ماں کی بات سے.. اُسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے
دیکھو عائشہ مریم کو باپ کے پیار کی ضرورت ہے. وہ اکثر تم سے گھر جانے کا پوچھتی ہے آخر کب تک ٹالو گی اُسے..امی نے بے بسی سے ایک اور جواز پیش کیا
امی آپ کو برا لگتا ہے میرا یہاں رہنا تو میں دارالامان چلی جاؤں گی لیکن ساجد کے پاس واپس نہیں جاؤں گی..وہ بے یقینی سے ماں کو دیکھتے دو ٹوک انداز میں بولی اور پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوئی
امی نے افسوس سے عائشہ کو دیکھا
اور آپ واپس جانے کی بات کر رہی ہیں اُس شخص کے پاس جس نے ایک دن بھی آپ سے بات تک نہیں کی اُس موضوع پر.وہ مجھے نہیں مریم کو ملنے آتے ہیں..اور میں بہت جلد اُن سے خلاء لے لوں گی. پھر چاہے مجھے ساری زندگی دربدر ہی کیوں نا گزارنے پڑے… عائشہ آنکھوں میں نمی لئے وہاں سے کچن کی جانب چلی گئی
امی نے ڈر سے عائشہ کی باتیں سنی.. وہ باغی ہونے لگی تھی
###########
مزید دو ماہ گزر چکے تھے…امی عائشہ کو دیکھ کر پریشان ہوتی تھیں..انہیں بیٹی کا غم اندر اندر کھا رہا تھا..
ساجد اکثر فون بھی کرتا تھا گھر کے نمبر پر تاکہ عائشہ سے بات ہوسکے..لیکن عائشہ ہر بار ٹال دیتی تھی…وہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی…لیکن راتوں کی تنہائی میں اکثر آنسو بہاتی.. اپنے نصیبوں پر روتی.. کبھی رب سے شکوہ کر لیتی…
گھر والوں کے کام بھر چڑھ کر کرتی تاکہ کسی کو بات کا موقع نہ ملے… نسیمہ بھی اپنی بہن کو دیکھ کر افسردہ ہوجاتی…ساجد نے بات کی تھی نسیمہ سے عائشہ کے حوالے سے.. وہ اُسے واپس لے جانا چاہتا تھا…عائشہ نے کچھ وقت مانگا تھا..آخر وہ کب تک ماں کے در پر پڑی رہتی.. اور سب سے بڑھ کر مریم کا سوچنا تھا… اُسے باپ کی محبت سے کیسے دور رکھتی…
رات کا وقت تھا…عائشہ صحن میں اوپر جاتی سیڑھیوں میں بیٹھی تھی…وہ ساجد کے بارے میں سوچ رہی تھی…کتنی آسانی سے اُسے اپنے گھر سے نکال دیا تھا..اور اب پچھتانا..کیا یہ اہمیت ہوتی ہے شوہر کی نظر میں بیوی کی..؟ کیا بیوی کے حق کیلئے آواز بلند کرنا گناہ ہوتا ہے..؟کیا صرف ماں کا حکم ماننے کا کہا گیا ہے اسلام میں… بیوی کے کوئی حقوق نہیں…
عائشہ کو شادی سے لے کر اب تک کی ساری باتیں یاد آگئی.. نا چاہتے ہوئے بھی آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکل آئے…وہ سیڑھیوں سے اٹھی اور آنسو صاف کرتی اندر کی جانب بڑھی جہاں امی,مریم اور عائشہ کی چھوٹی بہن سو رہے تھے…
عائشہ….جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی ماں کی آواز کانوں میں پڑی…
جی امی آپ کو کچھ چاہئے… عائشہ نے نظریں چراتے کہا
بیٹا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے.. سانس نہیں آرہا… امی بامشکل بولی تھی
عائشہ نے نم آنکھوں سے ماں کو دیکھا.. جو اپنے سینے پر ہاتھ رکھے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھیں
امی..کیا ہوا ہے آپ کو… وہ حواس باختہ سی ماں کی طرف دوڑی.. اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر سینا مسلنے لگی
بیٹا شاید زندگی کا سفر یہی تک تھا… تم فکر مت کرنا..اپنا گھر بسا لینا پھر سے.. ساجد تمہارا منتظر ہے…امی نے عائشہ کے ہاتھوں کو تھامتے کہا
عائشہ نے خوف سے ماں کو دیکھا…
نہیں امی…. وہ چلاتے ہوئے بولی.. پاس لیٹی بہن اچانک گھبرا کر اٹھی اور عائشہ کو روتے دیکھا
امی کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگی…
عائشہ کی کہنے پر بہن بھاگتے ہوئے بھائیوں کے کمروں کی جانب بڑھی اور زور زور سے دروازے کھٹکٹانے لگی
امی.. آپ کو کچھ نہیں ہوگا.. بھائی آتے ہیں ابھی تو آپ کو ہسپتال لے کر جاتے ہیں…وہ ٹوٹے لہجے میں ماں کے بال سہلاتی بولی
عائشہ میری جان..میرا بلاوا آگیا ہے.. تمہارے ابا جان کے پاس بھی تو جانا ہے نا میں نے.. وہ میرا انتظار کر رہے ہیں… امی آہستہ سے بولی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی
عائشہ کو لگا اُس کا دل بند ہوجائے گا… ابھی تو باپ کی موت کا صدمہ برداشت نہ ہوا تھا.. اور ماں کا یہ حال کلیجہ پھاڑنے کو کافی تھا
بھائی بھابھیاں بھاگتے ہوئے امی کے گرد جمع ہوئے…بہن اونچی اونچی آواز میں رونے لگی تھی.. اور امی کو اٹھنے کا کہنے لگی
امی کا سر اب بھی عائشہ کی گود میں تھا..عائشہ آنکھیں پھاڑے ماں کو دیکھ رہی تھی..
بھائی نے ماں کو اٹھانا چاہا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا..
امی نے مسکراتے ہوئے کلمہ ادا کرنے کیلئے ہونٹوں کو کھولا بھائی عقیدت اور محبت سے سر جھکائے کھڑے ہوگئے
کلمے کے الفاظ کمرے میں گونجنے لگے….امی نے آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کیں اور عائشہ کی گود میں گردن گرا دی
##########
ساجد اور اُس کے گھر والے بھی آگئے تھے.. ہر طرف کہرام کا منظر تھا.. ہر آنکھ اشک بار تھی.. عائشہ جنازے کی چارپائی سے لپٹی ماں کو دیکھ رہی تھی..
عائشہ اپنا گھر بسا لینا.. اُس کے کانوں میں ماں کے آخری الفاظ گونجنے لگے…اُسے لگا شدت غم سے دل پھٹ جائے گا
مریم ساجد کے پاس تھی.. ساجد بھی دور سے کھڑا عائشہ کو روتے دیکھ ریا تھا.. اُسے تکلیف ہورہی تھی.. وہ عائشہ کو حوصلہ دینا چاہتا تھا..اُس سے معافی مانگ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا تھا..اسے گلے سے لگانا چاہتا تھا.. ُلیکن یہ موقع نہ تھا کچھ کرنے کا..
رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا.. بھابھیوں نے مشکل سے عائشہ کو جنازے سے دور کیا تھا.. وہ حلق کے بل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی..نسیمہ نے آگے بڑھ کر عائشہ کو اپنے حصار میں لیا
بھائی آخری بار ماں کا دیدار کرتے نم آنکھوں کے ساتھ جنازے کو کندھا دینے کیلئے بڑھے.. اور کلمہ شہادت کا ورد کرتے انہیں آخری آرام گاہ کی طرف لے چلے
اگلے دن ساجد نے بھائیوں سے عائشہ کی رخصتی کی اجازت چاہی..اور انہیں کہا کہ اب سے عائشہ اور وہ ایک الگ گھر میں رہیں گے..
عائشہ کے بھائی نے اجازت دے دی… اور عائشہ اپنا دل صاف کرتی ماں کی آخری بات دل میں رکھے ایک نئی زندگی کی شروعات میں نکل پڑی… یہ امید کرتی کہ مستقبل بہتر ہوگا..
انشاءاللہ
############
#حال
ساجد خاموش سا رکشے میں پیچھے کی جانب سر جھکائے بیٹھا تھا اسے عائشہ پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں لگا تھا…
وہ کیسے عائشہ کو سمجھاتا کہ ماضی کو بھول جائے.. جو زیادتیاں اُس کے ساتھ ہوئی تھی وہ نصیب میں لکھی تھی.. اب تو اُس کی ماں مر چکی ہے.. اور مرنے والوں کی برائی نہیں کرتے….عذاب بڑھ جاتا ہے…
وہ اپنا سر جھٹکتا رکشے سے باہر نکلا.. اور پاس ہی ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا…آج پھر غفور کا فون آیا تھا.. ساجد نے کچھ پیسے مشکل سے جوڑ کر دے دیے تھے جو پچھلے مہینے کا کرایہ بھی پورا نہ تھا.. غفور نے ساجد کی منتوں پر مزید کچھ دنوں کی محلت دی تھی..اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر کرایہ ادا نہ کیا تو گھر خالی کرنا ہوگا.
فون کی آواز پر وہ سوچوں کے دلدل سے نکلا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا..حمید کی کال تھی
اسلام علیکم
.کیسے ہو حمید.. ساجد نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں میں بالکل ٹھیک اللہ کا شکر.. وہ ارد گرد دیکھتے ہوئے بولا
جی…
ضرور ضرور کیوں نہیں میں لے جاؤں گا بچوں کو.. تم بات کر لو اُن لوگوں سے.. یا میری بات کروا دو.. ساجد کی آنکھوں میں ایک دم خوشی کی لہر دوڑی تھی
حمید نے ساجد کو کسی گھر کا بتایا تھا جسے رکشے والے کی ضرورت تھی…
ساجد حمید سے بات کرنے لگا..
ہاں ٹھیک ہے میں کل آؤں گا انشاءاللہ..وہ آہستہ سے بڑے پتھر سے اٹھ کھڑا ہوا
اوکے اللہ حافظ.. ساجد نے گہری مسکراہٹ سے کہا اور موبائل جیب میں رکھ دیا
آذان کی آواز مسجدوں میں بلند ہوئی..ٹریفک کے شور میں بھی کانوں میں رس گھول رہی تھی..
حی علی الفلاح..موؤذن نے کامیابی کی طرف بلایا
ساجد کے قدم خود بخود مسجد کی جانب چلنے لگے
وہ اذان کے سحر میں کھویا مسحور سا مسجد میں داخل ہوا…
وضو کر کے تر چہرہ لئے اندر کی جانب بڑھا اور پہلی صف میں کھڑا ہوگیا…
رب کے سامنے جھکتا وہ اپنی ساری تکلیف سجدے میں گرا چکا تھا
#############
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *