Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode11

Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode11

اسد پاکستان واپس آچکا تھا.. اور آج عائشہ کے کہنے پر ملنے آنا تھا….وہ جھجک رہا تھا..مریم کا سامنا کرنا پہلی بار مشکل لگا اُسے….اِس گھر میں وہ پہلے بھی آتا تھا لیکن اب رشتہ بدل چکا تھا..اب مقام الگ تھا..تین دن بعد نکاح تھا اُس کا مریم سے….
اُس نے آج تک کبھی مریم کے بارے میں ایسا کچھ نہیں سوچا تھا..وہ ہمیشہ اُسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا..لیکن وقت اور حالات کتنے بدل چکے تھے..وہ دونوں اب ایک دوسرے کے ہمسفر بننے والے تھے..وہ اب بھی سب سے محبت کرنے والا بڑوں کی عزت کرنے والا اسد ہی تھا..لیکن ماں کی کمی کی خلش تھی دل میں…وہ دو دن پہلے واپس آیا تھا پاکستان اور گھر کی ویرانی دیکھ کر اُس کا دل پھر سے اداس ہوگیا تھا..لیکن وہ مرد تھا اپنا دکھ اپنا غم کسی پر آشکار کر کے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتا تھا….اُسے عائشہ سے مل کر سکون حاصل ہوتا…اُسے عائشہ میں اپنی ماں کی جھلک نظر آتی..
مریم بیٹا دیکھو کس کا فون آرہا ہے…؟
عائشہ نے سلائی کرتے ہوئے آواز لگائی….
اِن کچھ سالوں میں عائشہ کی روٹین اب بھی وہی تھی تبدیلی یہ آئی تھی کہ اُسے نظر کا چشمہ لگ گیا تھا
جی ماما دیکھتی ہوں برقع تو اتار لوں زرا…مریم تھکے تھکے انداز میں بولی.. وہ ابھی سکول سے پڑھا کر واپس آئی تھی
موبائل پھر سے بجنے لگا
ہانیہ بھی کچھ دیر پہلے مدرسے سے آئی تھی..
اِس سے پہلے کہ مریم پکڑتی.. ہانیہ نے کمرے میں آکر پیٹی پر پڑا موبائیل اٹھا لیا..مریم ہانیہ کو ایک نظر دیکھتی کمرے سے باہر چلی گئی
اسلام علیکم….ہانیہ نے چھوٹتے ہی سلام کیا
وعلیکم اسلام آنٹی جی….
دوسری جانب سے اسد کی خوشگوار آواز آئی ہمیشہ کی طرح ہانیہ کو چڑانے کیلئے آنٹی پر زور دیا گیا
ہانیہ ہنسنے لگی.. اُس نے پہلے کی طرح برا نہیں منایا تھا
کیا حال ہے بیٹا جی..ہانیہ بھی اُسی کے انداز میں بولی
وہ کہاں پیچھے رہنے والی تھی
اسد ہانیہ کے انداز پر مسکرا دیا
کہاں پر ہیں آپ..ہم انتظار کر رہے ہیں آپ کا کب سے..اُس دن بھی آپ ہم سے مل کر چلے گئے تھے کہیں اور آج بھی ابھی تک ملنے نہیں آئے…ہانیہ نے لڑائی کرنے کے انداز میں سوالات کی لائن لگا دی
اوہ بی بی حوصلہ….اسد نے اُسے چپ کروانا چاہا
توبہ توبہ کتنا بولتی ہو تم.. مجھے لگا تھا دو سالوں میں بولنے میں کمی آجائے گی.. سمجھدار ہوجاؤ گی پر تم تو ابھی بھی ویسی کی ویسی ہی ہو…..اسد نے مصنوئی افسوس سے کہا
ہاں تو جو زیادہ بولتا ہے کیا وہ سمجھدار نہیں ہوتا…ہانیہ پھر ہنسنے لگی
میں سمجھدار ہوگئی ہوں الحمد للہ.. اور میرا حفظ بھی مکمل ہوگیا ہے..میرے نام کے ساتھ حافظہ بھی لگ گیا ہے ..اور آگے سٹڈی بھی کنٹی نیو کردی ہے…ہانیہ نے شیخی بگاڑی..
اچھا جی…بہت مبارک ہو بہن جی آپ کو..آخر اتنا بڑا خواب پورا ہوگیا آپ کا…اب عمل بھی کرنا صرف حفظ کرنا ہی کافی نہیں ہوتا..اسد نے سمجھاتے ہوئے کہا
جی ان شاءاللہ ضرور عمل کروں گی بھی اور آپ کو بھی کرواؤں گی.. ہانیہ نے پہلے ادب سے اور آخر میں شرارت سے کہا
ماسی پہلے خود تو کرو عمل پھر ہمیں بھی کروا دینا..
میک تو تم نے چھوڑا نہیں ہوگا ابھی تک.. بلکہ اور نئے نئے طریقے سیکھ لئے ہوگے لوگوں کو ڈرانے کے…اسد اونچی نے آواز میں قہقہہ لگایا
جی اور آپ کو پتا یے سارے طریقے مریم آپی سے سیکھیں ہیں میں نے..اور وہ اب آپ کی بیوی بننے والی ہیں… پھر آپ کو بھی ڈرائیں گی میک اپ کر کے…ہانیہ نے ترکی با ترکی جواب دیا
مریم کو میک اپ میں کافی مہارت حاصل تھی..وہ اکثر محلے کی لڑکیوں کو بھی تیار کردیتی.. اور مہندی لگانے میں بھی وہ بہت ماہر تھی
مریم ماشاءاللہ سے بہت پیاری ہے.. اُسے میک اپ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے…اسد نے ہانیہ کو تنگ کرنے کیلئے مزید کہا
جی جانتی ہوں..وہ بہت پیاری ہے ماشاءاللہ..ہانیہ نے آسانی سے قبول کیا
مریم اور ہانیہ دونوں ہی خوبصورت تھی..اور سب سے بڑھ کر اللہ نے انہیں مکمل بنایا تھا.. مریم کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں جو اُسے مزید دلکش بنا دیتیں
ہانیہ اور مریم اکثر ایک جیسے کپڑے پہنتی اور تیار ہوکر جڑواں لگتی..
اچھا یہ بتائیں کب آرہے ہیں آپ.. ہانیہ نے یاد آنے پر پھر پوچھا
ہاں ابھی گھر پر ہوں.. شام میں آؤں گا…خالہ کہاں ہیں…اسد نے صوفے پر لیٹتے ہوئے کہا
وہ ابھی ابھی بازار سے آیا تھا
جی ماما تو کچن میں ہیں.. مریم آپی کیلئے کھانا گرم کر رہی ہیں.. اور مریم آپی ابھی فریش ہورہی ہیں..اور حارث سکول سے نہیں آیا ابھی تک. ہانیہ نے تفصیل سے بتایا اور بیڈ کے کونے پر ہی بیٹھ گئی
ایک نظر گھڑی کو دیکھا
دوپہر کے 2 بج رہے تھے
مریم منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آئی اور ہانیہ کو فون پر باتیں کرتے دیکھا
کس سے بات کر رہی ہو ہانیہ…مریم نے ابرو اچکا کر پوچھا..اور تولیے سے منہ پر چمکتی پانی کی بوندیں صاف کرنے لگی
ماما کھانا دے دیں بہت بھوک لگی یے…آپ کو پتا یے میں سکول میں بھی کچھ نہیں کھاتی.. مریم نے عائشہ کو بھی آواز دی..وہ بھوک سے ہلکان ہورہی تھی
ہاں لا رہی ہو مریم بس ہوگیا ہے گرم.. عائشہ نے کچن سے ہی آواز دی
یہ لو بات کرو اسد بھائی سے…ہانیہ نے مریم کے سوال کے جواب میں بنا کچھ کہے زبردستی فون اُس کے کان کے ساتھ لگا دیا
مریم نے ہانیہ کو گھور کر دیکھا..
اسد کے نام پر اُس کا دل زور سے دھڑکنے لگا
بدتمیز لڑکی….وہ دل میں ہانیہ کو کوسنے لگی
اور خاموشی سے فون کو کان کے ساتھ لگائے رکھا
وہ کچھ نہیں بولی
میڈم کچھ بولیں گی بھی اب آپ یا میں بولوں… اسد نے شرارت سے کہا
جج…جی… اسلام علیکم.. مریم نے نروس ہوتے کہا..
ہارٹ بیٹ رفتار پکڑ گئی تھی..
جس دن سے اُس کا رشتہ طے ہوا تھا وہ میسج پر کبھی کبھی بات کر لیتی وہ بھی صرف شادی کے حوالے سے…
اور آج فون پر بات کرنا اُسے عجیب لگ رہا تھا.. اور اوپر سے ہانیہ کی موجودگی بھی..
ہانیہ دور بیٹھے اُسے اشارے کر رہی تھی..
وعلیکم اسلام….کیسی ہو مریم.. اسد نے آرام سے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
وہ مریم کا جھجکنا سمجھ گیا تھا
جی میں ٹھیک ہوں.. آپ کیسے ہیں..؟مریم نے بھی رسما حال چال پوچھا
“الحمد للہ بالکل ٹھیک”
اسد کچھ دیر خاموش ہوگیا..
مریم بھی خاموش تھی..
اُسے سمجھ نہ آیا وہ کیا بات کرے
بولو بھی.. اسد بھائی انتظار کر رہے ہوگے… ہانیہ نے مریم کے پاس بیڈ پر بیٹھتے سرگوشی کی
کیا بولوں..مجھ سے نہیں ہوتی بات…مریم نے فون کو کان سے دور کرکے بیچارگی سے کہا
اُس کی آواز اسد کے کانوں تک پہنچ چکی تھی
اسد کے لبوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی
افف او مریم آپی… ہانیہ نے اکتا کر اپنے سر پر ہاتھ مارا
میں جا رہی ہوں کچن میں تم کر لو بات اپنے “اُن”سے
ہوسکتا یے کوئی ضروری بات کرنی ہو…
ہانیہ ہاتھ ہلاتی شرارت سے بول کر کچن میں چلی گئی
اسد نے پھر سے بات کا سلسلہ شروع کیا اور مریم ہچکچاتے ہوئے. اُس سے بات کرنے لگی
کس کا فون تھا ہانیہ…عائشہ نے ہانیہ کو کچن میں آتا دیکھ کر سوال کیا
اسد بھائی کا ہے.. میں نے مریم آپی کو پکڑا دیا ہے کہ بات کر لیں..اسد بھائی نے صبح بھی کال کی تھی تب مریم آپی سکول گئی ہوں تھی…ہانیہ نے تفصیل سے بتایا.
وہ کچن کے دروازے میں کھڑی ماں کو دیکھ رہی تھی
اچھا…کب تک آرہا یے اسد..پوچھا نہیں اُس سے.. عائشہ نے کھانا برتن میں ڈالا
جی کہہ رہے تھے شام تک آئیں گے.. ابھی گھر پر ہی ہیں… ہانیہ نے سنجیدگی سے جواب دیا
وہ ایک دم اداس ہوگئی تھی..جس دن سے مریم کا رشتہ ہوا تھا وہ اداس رہنے لگی تھی..مریم کی مشقت اُس کے سامنے تھی..وہ کچھ کرنا چاہتی تھی مریم کیلئے. لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی…اُسے ایک سکول سے آفر آئی تھی..بچوں کو قرآن پڑھانے کی…لیکن وہ مریم کی شادی کے بعد ہی کچھ کرسکتی تھی..وہ خود بھی سارا دن تھک جاتی تھی
ہاں صحیح ہے..آرام سے آئے میرا بچہ..پورے دو سال بعد آرہا ہے..عائشہ نے لہجے میں محبت بھر کر کہا
جس دن اسد آیا تھا سب اُسے ملنے گئے تھے…سوائے مریم کے..
وہ سب سے بہت اچھے سے ملا تھا. لیکن کچھ مصروفیات کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکا انہیں..
اسی لیے آج عائشہ کے کہنے پر آرہا تھا تاکہ کچھ وقت گزار لے اور پھر شادی کے حوالے سے بھی کچھ باتیں کرنا تھی…
###########
مریم کا نکاح تھا آج…اُس نے اور ہانیہ نے مل کر رات کو مہندی لگائی تھی….وہ کسی پارلر میں نہیں گئی تھی..اُسے زیادہ بھری ہوئی مہندی پسند نہیں تھی…
جمعہ کے دن نکاح رکھا گیا تھا اور رات کو اکٹھے ہی مہندی کا فنکشن تھا اسد کے گھر
اسد نے عائشہ کو کسی قسم کا بھی جہیز لینے سے منع کیا تھا.. وہ بہت احساس کرنے والا تھا….وہ عائشہ کے گھر کے حالات سے بخوبی واقف تھا….وہ شادی بھی سادگی سے کرنا چاہتا تھا لیکن مریم کی خواہش تھی کہ سب خاندان والوں کو شامل کیا جائے اور پھر اسد اور مریم کا خاندان ایک ہی تو تھا…اور سب سے بڑھ کر خاندان میں عرصے بعد کوئی رشتہ اپنوں میں ہوا تھا.. سب خوش تھے اور شادی پر آنے کے خواہش مند بھی
وہ لوگ اب بھی اُسی چھوٹے سے گھر میں ہی رہتے تھے….جس میں گزارا کرنا کبھی کبھار بہت مشکل لگتا.. اگر کوئی مہمان آجاتا تو بیٹھنے کیلئے جگہ کم پڑجاتی….
ساجد کے گھر والوں میں سے بس اُس کا چھوٹا بھائی سلیم ہی تھا.. جو اپنے بیوی بچوں کا ساتھ گوجرانوالہ رہتا تھا
والدہ کا کافی عرصہ پہلے انتقال ہوچکا تھا..جبکہ بڑا بھائی بھی جوانی میں ہی چل بسا اور اُس کی بیوہ نے دوسری شادی کرکے اپنا گھر بسا لیا….بڑے بھائی کے دو بیٹے تھے جو اپنے مامو کے پاس ہی رہتے تھے البتہ کبھی کبھی اپنے چاچو سے ملنے آجاتے
اور ساجد کی بہن بھی بیماری کی وجہ سے جوانی میں ہی وفات پاگئی تھی…اب صرف گنے چنے لوگ ہی بنتے تھے…
##
ہانیہ یار دیکھنا میں ٹھیک لگ رہی ہوں نا…مریم نے آئینے سے پیچھے ہو کر مڑتے ہوئے کہا
ہانیہ چھوٹا شیشہ پیٹی پر رکھ کر حجاب کر رہی تھی.. اُس نے حجاب کرتے ہوئے ایک نظر مریم کو دیکھا…
مریم نے لال رنگ کا گرارہ اور اُس کے اوپر سکن کلر کی قمیض پہنی تھی..جس پر ہلکا ہلکا سا کام ہوا تھا…اور سر پر اچھے سے ڈوپٹے کو رکھے وہ بالکل تیار کھڑی تھی…
ماشاءاللہ سے بہت پیاری لگ رہی ہو….ہانیہ اپنا حجاب مکمل کرتی اُس تک آئی اور محبت سے اُس کی گردن کے گرد بازو حائل کردیے
اچھا جی خیریت ہے آج بہت پیار آرہا ہے….مریم نے ہانیہ کو محبت سے دیکھا..وہ سادہ سی حجاب میں پیاری لگ رہی تھی
ہانیہ نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا..اور نفاست سے ڈوپٹے کو حجاب کی شکل دی تھی…
ہاں بس ایسے ہی.. پتا نہیں کیوں آج زیادہ پیاری لگ رہی ہو مجھے…ہانیہ مریم سے دور ہوئی..
اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی جسے وہ آسانی سے چُھپا گئی تھی
مریم نے بھی دوسری طرف منہ کرکے اپنی آنکھوں کو جھپکا….آنسو پیچھے دکھیلنے کیلئے
کب وہ دونوں اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ بچھرنے کا وقت بھی آگیا تھا..
ہانیہ چاہے جتنا مرضی لڑتی ہو لیکن بہن بھائی سے دوری برداشت کرنا مشکل تھا..
اور پھر مریم تو اُس کا بہت بڑا سہارا تھی
اُن دونوں نے بہت سے مشکل حالات دیکھے تھے ایک ساتھ
وہ دونوں ہر روز رات کو اپنی ساری دن کی روٹین بتاتی..
مریم کبھی سکول کی کوئی بات بتاتی اور ہانیہ اپنے مدرسے کی..
کچھ دیر خاموشی رہی..مریم اگر ہانیہ کو ایک بار گلے سے لگا لیتی تو شاید وہ رو دیتی
لیکن ہانیہ رونا نہیں چاہتی تھی..وہ ایک مضبوط لڑکی تھی.. حالات سے لڑ کر یہاں تک پہنچی تھی…وہ دونوں عمر سے پہلے ہی بہت بڑی ہوگئی تھی..
ماما نے بھیجا نہیں ابھی تک حارث کو لینے….مریم نے خاموشی توڑی
ہاں.. کیا
ہانیہ خیالوں میں الجھی تھی
آرہا ہوگا بس..
جمعہ ختم ہوگیا ہوگا نمازی مسجد سے نکلیں گے تو وہ آجائے گا لینے ہمیں…وہ چونکی پھر خود کو سنبھالتی ہوئی بولی
ہاں ٹھیک ہے.. مریم آہستہ سے کہتی کرسی پر بیٹھ گئی
وہ بالکل سادہ سی تیار ہوئی تھی..بڑی بڑی آنکھیں کاجل سے بھر کر اور دلکش لگ رہی تھیں
اُس نے جو سوٹ پہنا تھا وہ ہانیہ نے اُسے سلائی کر کے دیا تھا…اِن کچھ سالوں میں ہانیہ سلائی بھی سیکھ لی تھی لیکن صرف اپنے اور مریم کیلئے….
مریم آپی چلو جلدی سے ماما بلا رہی ہیں اسد بھائی آگئے ہیں بس نکاح شروع کرنے کیلئے آپ کا انتظار ہیں…حارث گھر میں داخل ہوتا اونچی آواز سے بولا
ہانیہ خاموشی سے سر جھکائے مریم کے موبائیل میں ساری تصویریں دیکھ رہی تھی.. ہر یاد تازہ ہوگئی تھی
مریم نے ہانیہ کو دیکھا اور اٹھ کر چادر اوڑھ لی..
ہانیہ کو نہیں لے کر جاؤ گے ساتھ.؟
مریم نے نقاب کرتے ہوئے پوچھا
نہیں ابھی تم چلی جاؤ پہلے پھر یہ مجھے بھی آکر لے جائے گا…ہانیہ موبائیل مریم کے آگے کرتے بولی
اچھا ٹھیک ہے تم بھی نقاب کر کے بیٹھ جاؤ..اور گھر کو تالا لگا کر آنا…حارث مجھے چھوڑ کر آتا ہے بس
مریم نے موبائل پکڑتے ہدایت دی
“ہاں ٹھیک ہے میں بس تیار ہوں”
مریم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی صحن تک آئی
اُس نے مڑ کر ہانیہ کو دیکھا جس کی آنکھوں میں نمی تھی.
ہانیہ نے ہاتھ ہلا کر اُسے الوداع کیا اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی
حارث کسی کی بائیک لے کر آیا تھا تاکہ دونوں کو لے جاسکے..
عائشہ اور ساجد پہلے ہی چلے گئے تھے.. نکاح ہانیہ کے قاری صاحب نے پڑھانا تھا..نکاح کا انتظام مدرسے کے نیچے بنی مسجد میں کیا گیا…اسد اور خاندان کے بڑے افراد نکاح میں شامل تھے…
########
نکاح شروع ہوا..ساتھ ہی مریم کی دھڑکنیں تیز ہوگئی…اُس کا دماغ ایک دم سُن ہوگیا تھا…ہاتھ کانپنے لگے تھے..اُس کا ووجود ٹھنڈا پڑنے لگا.وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے جارہی تھی اپنی زندگی کا…ماں باپ کے گھر کو چھوڑ کر وہ اپنے مجازی خدا کے پاس جارہی تھی…
اسد کا نکاح ہوچکا تھا.. قاری صاحب اٹھ کر مریم کے قریب آئے…مریم سر جھکائے بیٹھی تھی..
مریم کی ایک طرف عائشہ بیٹھی تھی.. اور عائشہ کے ساتھ ہی ساجد بیٹھا تھا..
ہانیہ تھوڑے فاصلے پر کھڑی موبائیل میں ویڈیو بنا رہی تھی….
ایک طرف مامو کھڑے کیمرہ میں مووی بنا رہے تھے اور ساتھ ہی دوسرے مامو ہاتھ میں کیمرہ تھامے وقفے وقفے سے تصویریں کھینچ رہے تھے
قاری صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا…نکاح کا ایک ایک حرف مریم کو اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا…
دستخط کرتے وقت مریم کے ہاتھ کانپنے لگے…گلے میں آنسوؤں کا گولا جمع ہوگیا تھا
مریم بیٹا سائین کرو…عائشہ نے شفقت سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا..
ہانیہ بھی دم سادے اُسے دیکھ رہی تھی
مریم نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ دستخط کیے
ہر طرف مبارک باد کی صدا بلند ہوئی… سب نے آگے بڑھ کر مریم کو پیار دیا..
مریم کا ضبط جواب دے گیا تھا.. وہ عائشہ کے گلے لگ کر رونے لگی..
ساجد بھی وقفے وقفے سے اپنی آنکھیں مسلتا..اُس نے آگے بڑھ کر مریم کو گلے لگایا..
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے.. اور ڈھیر ساری خوشیاں دیں..
عائشہ نے روتے ہوئے کہا
مریم خاموش آنسو بہا رہی تھی..
وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن پھر بھی آنسو بہہ رہے تھے..تھوڑی دیر بعد اسد کو بھی مریم کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا
ہانیہ کی آنکھ سے ایک آنسو لڑھک کر زمین پر گرا
وہ سب کی نظروں سے اوجھل دور ہوکر کھڑی ہوگئی
وہ رو رہی تھی…
ہانیہ…مریم نے اُسے پکارا
ہاں جی.. ہانیہ اپنی کتاب بند کرتی اُس کی جانب متوجہ ہوئی
تم مجھے مس کرو گی شادی کے بعد…مریم نے جیسے کسی امید کے تحت پوچھا
نہیں تو. میں بھلا کیوں مس کروں گی..ہانیہ لاپرواہی سے کہتے دوبارہ اپنی کتاب پر جھک گئی
مریم نے ٹوٹے دل کے ساتھ ہانیہ کو دیکھا
تھوڑا سا بھی نہیں.. مریم نے معصوم شکل بنائی
ہانیہ نے کتاب سے نظر اٹھا کردیکھا
نہیں تھوڑا سا بھی نہیں..ہانیہ نے آرام سے کہا
مریم آنکھیں کھولیں اُسے دیکھ رہی تھی.. کتنی بے مروت تھی وہ
مریم اٹھ کر جانے لگی
ہانیہ نے کتاب بند کی..وہ بیڈ پر دو زانوں ہو کر بیٹھ گئی
میں تمہیں بہت مس کروں گی..ہانیہ سرگوشی کے انداز میں بولی
مریم نے بیڈ سے نیچے اتارتے قدم دوبارہ اوپر اٹھا لیے
ہانیہ نے آگے آکر مریم کے ساتھ ٹیک لگا لی
مریم کو خوشگوار حیرت ہوئی
ماما کو اتنی جلدی شادی نہیں کرنی چاہیے.. ابھی تو میرا میٹرک بھی نہیں ہوا..
ہانیہ اداس ہوتے بولی
مریم گہری مسکراہٹ کے ساتھ اُسے سُن رہی تھی
میں جب کالج سے واپس آؤں گی تو پھر کس کو بتاؤں گی کہ میرا دن کیسا گزرا..اپنی باتیں کس سے شیئر کروں گی…ہانیہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ڈھیر جمع ہوگیا
وہ اب بھی مریم کے کاندھے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی تھی..
ہانیہ کیا ہوا یے.. مریم نے پریشانی سے اُس کا چہرہ اوپر
جو آنسوؤں سے گیلا تھا
مریم نے اُس کو گلے سے لگایا اور اُسے خاموش کروانی لگی
میری جان…جب تم کالج جاؤ گی تو تم موبائیل لے لینا اور پھر مجھے اپنے سارے دن کی باتیں بتانا.. مریم نے پیار سے اُس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا
ہاں تب تک تم نے اسد بھائی سے ہی فارغ نہیں ہونا..ہانیہ نے منہ بنایا..رونے سے ناک سرخ ہوگئی تھی
ہاہاہا پاگل ہو تم بالکل….مریم نے پھر سے ہانیہ کو اپنے ساتھ لگا لیا
اوہ دلہن کی بہن صاحبہ..آپ یہاں بیٹھی آنسو بہا رہی ہیں اور ادھر مریم آپ کو ڈھونڈ رہی ہے…ہانیہ کی کزن اُس کے پاس آتی ہنستے ہوئے بولی
جی بس جانے ہی لگی تھی…ہانیہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور مریم کو ملنے چلی گئی
############
مریم کی شادی کو ایک ماہ ہوچکا تھا…وہ بہت خوش تھی اسد کے ساتھ..
عائشہ بھی مطمئن تھی مریم کی طرف تھی….وہ رب کا شکر ادا کرتی جس نے اُس کی لاج رکھ لی تھی اور مریم کو اپنے گھر کا کردیا تھا.. اسد مریم کا بہت خیال رکھتا تھا.. اُس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش بھی پوری کرتا
ہانیہ اب بھی اکثر مریم کو یاد کرکے رو دیتی..اور جب دل کرتا وہ مریم سے بات کرلیتی
#####
آج اسد سعودیہ واپس چلا گیا تھا..لیکن وہ سختی سے مریم کو منع کر کے گیا تھا کہ اُس کے پیچھے سے آنسو نہ بہائے
مریم اسد کے جانے پر بہت روئی تھی..اسد نے اُسے امید دلائی تھی کہ وہ بہت جلد مریم کو بھی سعودیہ بلا لے گا…
ہانیہ کچھ دیر میرے پاس بھی بیٹھ جاؤ…بندہ چھٹی ہی کرلیتا یے..دیکھ بھی رہی ہو کہ بہن آئی ہوئی یے..مریم نے ہانیہ کو ٹوکتے ہوئے کہا
ہانیہ برقع پہن رہی تھی…
سوری مریم آپی.. مجھے آج اکیڈمی جانا ضروری یے بہت.. ٹیسٹ یے نا میرا..ہانیہ نے جلدی جلدی کہا اور نقاب کرنے لگی
ہاں ٹیسٹ ہے..جب نہیں آئی تھی پورا مہینہ تو روز فون کر کے روتی تھی اور مجھے بھی رلاتی تھی.. اور اب جب آگئی ہوں رہنے تو اکیڈمی کی پڑی ہوئی یے..مریم نے اموشننل بلیک میل کرنا چاہا
ہانیہ نے بیگ کندھے پر لٹکایا اور مریم کا پھولا ہوا منہ دیکھا
میری جان.. میں بس ٹیسٹ دے کر آجاؤں گی پھر ساری رات باتیں کریں گے.. ہانیہ مریم کے قریب آتی اُس کا گال چوم کر بولی
اچھا ٹھیک یے..لیکن جلدی آنا.. مریم نے انگلی اٹھا کر اُسے وارننگ دی
ہاں پکاا جلدی آؤں گی..دعا کرنا اچھا ہو ٹیسٹ..ہانیہ جاتے جاتے مڑی
ان شاءاللہ..اللہ تمہیں ہمیشہ کامیاب کرے..مریم نے دل سے دعا دی
ہانیہ مشین پر بیٹھی عائشہ کو سلام کرتی گھر سے نکلی
وہ چھوٹی گلیاں عبور کرتی بڑی گلی میں آگئی…وہ سر جھکائے دونوں ہاتھوں کو آگے باندھے چل رہی تھی..ہانیہ کی عادت تھی وہ ہمیشہ سے نظریں نیچے کر کے چلتی..درمیان میں کبھی ایک نظر اٹھا کر سامنے دیکھ لیتی اور دوبارہ سے نظریں جھکا دیتی
اُس کی نظر راستے میں چلتے ایک بچے پر پڑی جو برف والی دکان سے برف شاپر میں ڈال کر چل رہا تھا.. میلے کپڑے.. سونی آنکھیں اور ٹوٹے ہوئے جوتے کے ساتھ… وہ بچہ اُس کے قریب سے گزرا
ہانیہ نے مڑ کر اُسے دیکھا..اور دور تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا
اُس نے پھر سے اپنے قدم چلانا شروع کیے…بچپن کی ایک تلخ یاد اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگی..تلکیف آنکھوں میں چبھن بن کر ابھری
آنٹی ماما کہہ رہی ہے برف دے دیں…ہانیہ نے ہمسائی کے گھر جاکر برف مانگی
اُس نے ہاتھ میں شوپر پکڑا ہوا تھا
اُس گھر میں موجود عورت نے بے زار ہوکر ہانیہ کو دیکھا
آج برف نہیں ہے.. وہ عورت سکون سے کہتی ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہوگئی
لیکن آنٹی ہم نے آج صبح سے برف نہیں لی تھی…ہانیہ کا دل چاہا اُس موٹی عورت کو برا بھلا کہہ کر گھر واپس آجائے.. روز روز کون بے عزتی کرواتا ہے اپنی بھلا
ہاں لیکن برف کسی اور کو دے دی تھی میں نے.. اب جاؤ تم بازار سے خرید لو گے ایک دن تو کیا بگڑ جائے گا..اُس عورت نے بات ختم کرتے ہانیہ کو جانے کا کہا
ہانیہ خشک گلے کے ساتھ خالی ہاتھ گھر واپس آگئ
رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا کولر میں پڑا پانی گرم ہوچکا تھا..
ماما آنٹی کہہ رہی ہے کہ انہوں نے برف کسی اور کو دے دی ہے..پر وہ جھوٹ بول رہی تھی.. ہانیہ نے غصے سے کہا
کیوں کسی اور کو کیوں دے دی برف..کولر میں تو بالکل بھی ٹھنڈا پانی نہیں ہے اور مریم کو بھی پیاس لگی ہے.. عائشہ نے کولر میں سے چند قطرے اپنے ہاتھ پر بہائے جو گرم تھے
گرمی بھی اپنے عروج پر تھی
انہوں نے کسی کو نہیں دی برف.. اپنے پاس سنبھالی ہوئی ہے.. دیکھنا قیامت کے دن حساب ہوگا اُن کا…ہانیہ نے کولر کے پاس آکر کہا اور گرم پانی ڈالنے لگی
اب کیا کرنے لگی ہو گرم پانی کا..عائشہ نے ابرو اچکائے
پینے لگی ہوں… گلا خشک ہوگیا میرا…ہانیہ نے گرم پانی کو حلق میں انڈیلا
جو اُس کی پیاس کسی صورت کم نہ کرسکا
عائشہ نے تڑپ کر اپنی بیٹی کو دیکھا.. اُس کی معصوم شکل پر ترس آنے لگا
ماما..جب ہم فریج لے لیں گے نا.. تو سب کو برف دیں گے تاکہ کوئی بھی گرم پانی نہ پیے.. اور دیکھنا پھر سب ہمیں دعا دیں گے…ہانیہ نے معصومیت سے کہا
عائشہ نے نم آنکھوں سے بیٹی کی سوچ دیکھی
کتنا معصوم دل ہوتا ہے بچوں کا..انتقام سے عاری.. محبت سے بھر پور..احساس کرنے والا
ہانیہ کا اکیڈمی کا راستہ طے ہوا.. اُس نے ماضی کے خیال کو جھٹکا اور درود پڑھنا شروع کیا وہ آنکھوں کو صاف کرتی اندر داخل ہوئی اور ٹیسٹ دینے میں مصروف ہوگئی
بچپن بہت معصوم ہوتا یے….ہاں ٹینشن فری بھی ہوتا یے.. لیکن بچپن میں گزری تلخ یادیں انسان کی روح پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ہیں…وہ جب جب کسی اپنے جیسے کو دیکھتا یے..اُس کی یاد پھر سے تازہ ہوجاتی ہیں جو کبھی کبھی بہت تکلیف پہنچاتی ہیں..اور ایک لمحے میں انسان کو تکلیف کی گہرائیوں میں اتار دیتی ہیں
#########
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *