Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid NovelR50809 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode02
Rate this Novel
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode01 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode02 (Watching)Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode03 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode04 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode05 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode06 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode07 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode08 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode09 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode10 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode11 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode12 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode13 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode14 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Last Episode
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode02
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode02
صبح صادق کا وقت تھا….آسمان پر ابھی قدرے اندھیرا چھایا ہوا تھا….کچھ لوگ اپنی نیند کو قربان کر کے رب کے آگے سجدے میں جھکے ہوئے تھے اور کچھ رضائیوں اور کمبلوں میں خود کو لپیٹ کر دنیا سے بے خبر سو رہے تھے..فروری کی یخ بستہ ہوائیں روئی کے گالوں کی طرح چہرے کو چھو رہی تھیں…پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں کانوں میں پڑتی جو صبح کے نظارے کو مزید دلکش بنا رہی تھیں….پیدل چلتے مسافر…..اور پارک میں واک(walk)کرتے لوگ موسم کا لطف اٹھانے میں مصروف تھے….
جہاں سردی لوگوں کو باعث راحت لگتی وہیں کچھ لوگوں کو زحمت کے مترادف محسوس ہوتی…فٹ پاتھ اور سڑکوں پر اکثر لوگ پھٹی پرانی چادروں اور لحافوں میں خود کو سمیٹے لیٹے تھے… جو ہر روز امیر اور بے حس لوگوں کی ٹھوکریں برداشت کرتے
آج ساجد فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے ایک دوست سے ملاقات کرنے آیا تھا…… جہاں اور بھی کافی آدمی ایک چوک میں کھڑے باتیں کرنے میں مصروف تھے… حلوہ پوری, نان, چنے, بونگ پائے اور دیگر کھانوں کی خوشبو ہر راہ گیر کو اپنی طرف دعوت دیتی…
اسلام علیکم حمید….ساجد نے حمید کی جانب بڑھتے ہوئے سلام کیا
وعلیکم اسلام… کیسے ہو ساجد میاں؟حمید نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا
اللہ کا شکر ہے گزر رہی ہے زندگی… حمید دراصل مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی…. ساجد نے اپنے آنے کا مقصد پیش کیا
ہاں ہاں کہو ساجد کیا بات کرنی ہے…. بلکہ ایک کام کرو سامنے ہوٹل میں بیٹھتے ہیں دونوں… ناشتہ واشتہ کرتے ہیں پھر ساتھ باتیں بھی ہوتی رہیں گی
ساجد اور حمید دونوں ہوٹل کی جانب چل دیے
######
مریم….مریم بیٹا اٹھ جاؤ
صبح کے سات بج رہے تھے…. عائشہ نے بچوں کے سکول یونیفارم استری کرتے ہوئے مریم کو آواز لگائی
مریم…. اٹھ جاؤ سات بج گئے ہے… منہ ہاتھ دھو لو اٹھ کر… پھر حارث اور ہانیہ نے بھی اٹھنا ہے… عائشہ نے ایک بار پھر مریم کو آواز دی
اچھا ماما اٹھ گئی ہوں….. مریم سستی سے اٹھتی واش روم کی جانب چل دی
عائشہ نے استری کا سوئچ نکالا اور ہانیہ اور حارث کو اٹھانے لگی…
مریم نہم جماعت کی جبکہ ہانیہ پانچوںں جماعت کی طالبہ تھی… مریم کی عمر 15 برس تھی جبکہ ہانیہ کی 11 برس….ہانیہ مریم سے چار سال چھوٹی تھی… لیکن لڑائی میں ہمیشہ سب سے آگے رہتی…ہانیہ اور مریم دونوں ایک ساتھ گرلز سکول میں پڑھتی جبکہ حارث بوائز سکول میں جاتا…….تینوں بچے پڑھائی میں بہت زہین تھے…..
ساجد اور عائشہ کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ بچے پڑھ لکھ جائیں اور اپنا مستقبل سنوار لیں……تاکہ جو حالات انہوں نے اپنی زندگی میں برداشت کیے ہیں وہ ان کے بچوں کی زندگی کا حصہ نہ بنیں… بچوں کے سکول اور ٹیوشن کی فیس پہلے ساجد ادا کرتا تھا لیکن جب سے گھر کے اخراجات میں اضافہ ہوا تھا یہ ذمہ داری عائشہ نے اٹھا لی اور لوگوں کے کپڑے سلائی کرنا شروع کر دیے
######
حمید اور ساجد ہوٹل کے باہر لگے پھٹے پر بیٹھے
کیا ناشتہ کرو گے ساجد…بھئی مجھے تو حلوہ پوری دیکھ کر ہی بھوک لگ گئی ہے… حمید نے خوشدلی سے پوچھا
نہیں یار مجھے ابھی بھوک نہیں ہے…. میں بس چائے پیو گا…. بھوک تو ساجد کو بھی لگی تھی لیکن اس وقت اُس کی جیب میں صرف 100 سو روپے تھے اور ابھی رکشے میں پیٹرول بھی ڈلوانا تھا….اسی لیے اس نے صرف چائے ہی منگوائی…
ارے چھوٹو…. دو حلوہ پوری اور ساتھ دو چائے لے آؤ….. حمید نے بیرے کو آواز لگائی
اب بتاؤ ساجد کیا بات کرنی تھی؟
حمید میں جس گھر کی بچیاں کالج لے کر جاتا تھا انہوں نے کوئی اور رکشے والا لگوا لیا ہے اور مجھے فارغ کروا دیا ہے…. اب اگر تمہاری نظر میں کوئی گھر ہو جسے رکشے والے کی
ضرورت ہو تو مجھے لگوا دینا…. تاکہ کرائے کی فکر تو کم ہوجائے…ساجد نے سر جھکائے کہا…..
بہت افسوس ہوا یار ویسے…. ایک سال سے لے کر جا رہے تھے تم بچیوں کو…تمہارے حالات سے بھی واقف تھے وہ لوگ پھر بھی ایسا کیا….حمید نے ساجد کے جھکے سر کو دیکھا…محنت اور مشقت نے اسے عمر سے زیادہ بڑا بنا دیا تھا…. ورنہ کہاں وہ پہلے والا خوبصورت اور دلکش ساجد جس پر ہر ایک کی نظر ٹھہر جاتی تھی….. اور کہاں یہ وقت اور حالات سے ہارا ہوا شخص….
ساجد خاموش نا جانے کن سوچوں میں گم تھا…
اچھا تم پریشان نہ ہو… میں دیکھتا ہوں اگر کسی گھر کو ضرورت ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤ گا…. باقی اللہ مالک ہے وہ کوئی نا کوئی سبب ضرور بنا دے گا… حمید نے ساجد کو تسلی دینا چاہی جس پر ساجد نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا..
یہ لیں بھائی صاحب آپ کی چائے اور پوریاں..بیرے نے ان کے پھٹے پر ناشتہ رکھ دیا
ساجد نے جیب سے 100 سو روپے کا نوٹ نکال کر بیرے کی جانب بڑھایا
ارے ساجد یار تم کیوں پیسے دے رہے ہو میں دے دیتا ہوں پیسے…. حمید نے فوراً پیسے نکال کر بیرے کو پکڑائے…..
اب میں اچھا لگوں گا تم سے چائے کے پیسے لیتا…. حمید نے مذاق میں بات اڑائی
ساجد نے اپنا کپ اٹھایا اور پھیکا سا مسکرا دیا
######
گڈ مارننگ ٹیچر ہیو آ نائس ڈے… ٹیچر فرینہ کے کلاس میں آتے ہی سب بچوں نے بلند آواز میں کہا
گڈ مارننگ سٹوڈینٹس…سٹ ڈاؤن….مس فرینہ نے خوشدلی سے جواب دیا
سب بچے اپنی اپنی اسلامیات کی کتاب نکالیں….
ہانیہ اپنی جگہ پر بیٹھی اور بیگ سے اسلامیات کی کتاب نکالنے لگی….
جی تو سب بچوں نے اپنی اپنی کتابیں نکال لی ہیں ؟مس فرینہ نے سوال کیا
یس ٹیچر…..بچوں کی بلند آواز کلاس روم میں گونجی
ہائے اللہ کہاں رکھ دی ہے میں نے کتاب… مل کیوں نہیں رہی… میں نے تو یاد سے رکھی تھی کل…. ہانیہ کو کتاب نہیں مل رہی تھی اور یہ اُس کا سب سے زیادہ favorite subject تھا
اللہ اب میں کیا کروں ؟مس کو پتا چلا کہ میرے پاس کتاب نہیں ہے تو وہ ماریں گی سب کے سامنے…. ہانیہ پریشانی میں بڑبڑائی
ہانیہ……..مس فرینہ کی گرج دار آواز پر ہانیہ اپنی جگہ پر سہم گئی
حج… جی… جی مس…..وہ ہکلاتے ہوئے بولی
Where is your book?
مس فرینہ نے سختی سے پوچھا
وہ… مس میں نا گھ…گھر میں پڑھ رہی تھی پھر میں نے بیگ میں بھی رکھی تھی…. لیکن پھر پتا نہیں کہاں چلی گئی… ہانیہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا
اوووہ… تو آپ کا مطلب ہے کہ کتاب کو پاؤں لگ گئے اور وہ خود چل کر بیگ سے باہر نکل گئی…..مس فرینہ نے ہانیہ کو ڈھیٹ کرتے ہوئے کہا
سب بچے ہنسنے لگے
خاموش ہو جائیں سب بچے…. مس فرینہ کی آواز پر سب بچے خاموش ہوگئے
ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے…. اس نے تو یاد سے رکھی تھی کتاب پھر کہاں چلی گئی؟
اب یہاں کھڑی ہو کر آنسو مت بہانا…. اپنی ساتھ والی لڑکی کی کتاب سے پڑھو اور پورے پیریڈ میں تم کھڑی رہو گی….. مس فرینہ اپنا حکم صادر کرتی سب بچوں کو سبق پڑھانے لگی….
ہانیہ کے آنسو اس کے چہرے پر گرنے لگے.
سبزی والے کی دکان پر رش لگا ہوا تھا…. صبح کے 11 بج رہے تھے….کوئی سبزی کا ریٹ کم کروانے میں لگا تھا تو کوئی سبزی لے کر جا رہا تھا….
بھائی صاحب گوبھی اور آلو کتنے کے کلو ہیں ؟ عائشہ نے سبزی والے سے پوچھا جو کسی اور کی سبزی تولنے میں مصروف تھا..
باجی آلو 40 روپے کلو اور گوبھی 60 روپے کلو…….سبزی والے نے شاپر میں سبزی ڈالتے ہوئے کہا اور آدمی سے پیسے لینے لگا
بھائی کچھ تو کم کریں…بہت زیادہ مہنگی لگا رہے ہے آپ سبزی……دوسری دکانوں پر تو 50 روپے کی گوبھی دے رہے ہیں…. عائشہ نے دکان پر پڑی باقی سبزیاں دیکھتے ہوئے کہا.
باجی ہماری سبزی خراب نہیں ہوتی….اور گوبھی تو منڈی میں بھی بہت مہنگی مل رہی ہے…. آپ کو جہاں سے 50 کی ملتی ہے آپ لے لیں….سبزی والا چڑ کر بولا
عائشہ نے اپنے پرس میں موجود پیسے دیکھے جہاں سو سو روپے کے دو اور دس دس کے تین نوٹ پڑے تھے….
اچھا آپ ایسا کریں آدھا کلو آلو دے دیں اور ایک کلو گوبھی….عائشہ نے پرس سے 100 روپے کا نوٹ نکال کر سبزی والے کو تھمایا….اور چادر درست کرنے لگی
یہ لیں باجی آپ کی سبزی…ایک کلو سے اوپر ہی ہے گوبھی…سبزی والے نے شاپر آگے کیا.عائشہ نے سبزی والا شوپر اور بقیا پیسے ہاتھ میں تھامے اور کریانے کی دکان کی جانب قدم بڑھا دیے
#######
ارے ساجد تم یہاں….
ساجد سڑک کنارے رکشے میں بیٹھا سواریوں کے انتظار میں تھا جب کسی نے اُس کا نام پکارا…. ساجد نے آواز کی سمت مڑ کر دیکھا تو وہاں حمید کا بھائی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ کھڑا تھا
؟اسلام علیکم..کیسے ہو جمیل ؟… ساجد نے جمیل اور اُس کی بیوی کو سلام کیا…..اُس نے نخوت سے سلام کا جواب دیا اور اپنے بچوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی
ہاں یار میں ٹھیک ہوں…تم بتاؤ؟
اللہ کا شکر ہے….ساجد نے نرمی سے جواب دیا
تم یہاں خیریت سے آئے؟ساجد نے سوالیہ نظروں سے جمیل کو دیکھا
جمیل ایک مال دار شخص تھا… بڑا گھر,گاڑی غرض دنیا کی ہر نعمت موجود تھی..جب بھی سفر کرنا ہوتا گاڑیوں پر ہوتا اور آج جمیل کو سڑک کنارے کھڑا دیکھ کر ساجد کو حیرانی ہوئی تھی ..
ہاں دراصل صائمہ(جمیل کی بیوی)نے اپنے بھائی کی طرف جانا تھا اور گاڑی خراب ہوگئی بس اسی لئے میں رکشے کا انتظار کر رہا تھا….چلو اچھا ہوگیا تم نظر آگئے اب تم ہی چھوڑ آؤ ان لوگوں کو…جمیل نے بیوی بچوں کی جانب دیکھا….صائمہ نے جمیل کو گھورا کیونکہ اسے خراب حالت کے رکشے میں بیٹھنا اپنی توہین لگی
کیوں نہیں میں چھوڑ آتا ہوں بھابھی اور بچوں کو کہاں ہے بھائی کا گھر….ساجد نے حامی بھرتے ہوئے پوچھا…..آج صبح سے اُسے کوئی سواری نہیں ملی تھی
لکشمی چوک والی سائیڈ پر ہے… باقی صائمہ سمجھا دے گی آگے کہاں جانا ہے تم یہ بتاؤ کہ کرایہ کتنا لو گے؟جمیل نے صائمہ کے اشاروں کو نظر انداز کیا
کرایہ جو بنتا ہے وہ دے دینا…. ساجد مسکرایا اور سر جھکا دیا
نہیں یار تم بتا دو پھر ہی میں بچوں کو بٹھاتا ہوں…. جمیل نے ساجد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
200 روپے دے دینا…. ساجد نے جھکا سر اٹھاتے ہوئے کہا
چلو ٹھیک ہے…. صائمہ اور بچوں آؤ بیٹھو رکشے میں….یہ انکل آپ کو چھوڑ آتے ہیں…جمیل بچوں کی جانب مڑا
لیکن پاپا ان کا رکشہ کتنا گندا لگ رہا ہے میں نہیں جاؤں گی اس میں….جمیل کی چھوٹی بیٹی نے برا سا منہ بنایا
کچھ نہیں ہوتا بیٹا آؤ بیٹھ جاؤ اور کوئی رکشہ نہیں مل رہا ابھی چلو آؤ شاباش بیٹھو..صائمہ اور بچے منہ بناتے رکشے میں بیٹھ گئے
اچھا ساجد میں چلتا ہو دھیان سے لے کر جانا انہیں ….جمیل نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ساجد نے اثبات میں سر ہلا دیا
اور صائمہ مجھے فون کرنا گھر پہنچ کر اللہ حافظ
ساجد نے اپنی سیٹ سمبھالی اور منزل کی جانب چل دیا
######
تم نے نکالی تھی نا میری اسلامیات کی بک (کتاب) میرے بیگ سے؟ہانیہ نے سکول سے گھر آتے ہی حارث سے سوال کیا….جو اپنے سکول شوز اتارنے میں مصروف تھا
نہیں تو میں کیوں نکالوں گا تمہاری بک….. حارث نے اپنی ہنسی دبائی اور جرابیں اتارنے لگا
سچ سچ بتا دو حارث…ہانیہ نے کمر پر ہاتھ رکھے لڑاکا عورتوں کی طرح گھورا
مجھے کیا پتا میں کیوں نکالوں گا…. حارث نے کندھے اچکائے
مجھے پتا ہے تم نے ہی نکالی ہوگی تمہاری وجہ سے میں پورے پیریڈ میں کھڑی رہی… آج سے پہلے مجھے کبھی ڈانٹ نہیں پڑی ٹیچر نے سب بچوں کے سامنے مجھے ڈانٹا بھی….ہانیہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی اُسے اپنی صبح والی بےعزتی یاد آگئی
سوری ہانیہ آپی میں نے ہی نکالی تھی..میں پڑھ رہا تھا پھر مجھے یاد ہی نہیں رہا واپس رکھنا….. وہ ہانیہ کی معصوم شکل دیکھتے ہوئے بولا جو کہ صرف دیکھنے میں ہی معصوم تھی
کیااااا………
کتنی مرتبہ کہاں ہے تم سے میری کتابیں مت چھیڑا کرو….تمہاری وجہ سے مجھے آج اُس نالائق لڑکی کی بک سے پڑھنا پڑھا.. کیوں نکالی تھی تم نے میری کتاب…..ہانیہ نے حارث کے بال ہاتھوں میں دبوچتے ہوئے کہا
آہ…….ماما دیکھیں یہ چڑیل میرے بال کھینچ رہی ہے…آہ….چھوڑو مجھے… مامااااا…..حارث نے عائشہ کو آواز لگائی جو کچن میں روٹیاں پکا رہی تھی
آئندہ پکڑو گے میری کتاب….ہانیہ نے حارث کے بالوں پر اپنی گرفت اور مظبوط کر دی
ہاں ہاں پکڑو گا بلکہ اب تو پھاڑوں گا بھی تمہاری کتاب…حارث نے ڈھٹائی سے کہا اور ہانیہ کی گرفت سے خود کو چھڑوانے میں لگ گیا…. حارث کو غصہ آیا کہ اُس نے کیوں سچ بتایا تھا… مکر ہی جاتا تو اچھا تھا
میں بتاتی ہوں تمہیں…پھاڑ کر دکھانا تم میری کتاب پھر دیکھنا کیا حشر کرتی ہوں میں تمہارا…. ہانیہ نے ایک ہاتھ سے حارث کی بازو دبوچی
ماما…….. اب کی بار حارث کی آواز قدرے بلند تھی…
ماما ہانیہ اور حارث دونوں لڑ رہے ہیں اندر… مریم جو ابھی ابھی کمرے کا نظارہ دیکھ کر آرہی تھی عائشہ کو بتایا
یا اللہ خیر…. ان دونوں نے تو میری زندگی عذاب بنا دی ہے… مریم تم ادھر آؤ یہ روٹی سینکو میں ان دونوں کو دیکھ لوں زرا…..
عائشہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ہانیہ اور حارث دونوں ایک دوسرے کو مارنے میں مصروف تھے….
ہانیہ…..چھوڑو حارث کو….. عائشہ نے ہانیہ کے ہاتھوں سے بال چھڑوائے….حارث رونے میں مصروف ہوگیا
کیوں چھوڑوں اس کو میں…پوچھیں اس سے کیوں نکالی تھی اس نے میری کتاب…. ہانیہ ایک بار پھر حارث پر جھپٹی….لیکن اب کی بار عائشہ نے ہانیہ کو تھپر لگا دیا
شرم نہیں آتی تم دونوں کو جب دیکھو لڑتے رہتے ہو کبھی کھانے پر لڑتے ہو کبھی سونے سے لڑتے ہو… عائشہ نے اپنا سر پکڑتے ہوئے کہا
آپ کو ہمیشہ میری غلطی ہی نظر آتی ہے… میں ہی بری لگتی ہوں سب کو… حارث کی وجہ سے آج کتنی انسلٹ ہوئی میری سارے بچے ہنس رہے تھے مجھ پر….. تھپر بھی آپ نے مجھے ہی مارا ہے…. اور…. اسے کچھ بھی نہیں کہا…. ہانیہ نے روتے ہوئے کہا
اسے تم نے جو اتنا مار دیا ہے کیا یہ کافی نہیں ہے… ایک بک ہی نکالی تھی نا اس نے کونسی جان نکال لی تھی….تمیز تو تمہیں بالکل بھی نہیں ہے….عائشہ نے حارث کے چہرے کو دیکھا جہاں ناخنوں کے نشان پڑ گئے تھے
مجھے تو لگتا ہے آپ نے مجھے اٹھایا ہوا ہے کہیں سے…ہمیشہ مجھے ہی مارتی ہے مجھے ہی ڈانتی ہے بس…. ہانیہ نے غصے سے حارث کی طرف دیکھا…حارث نے اپنی زبان باہر نکال کر اسے چڑانا چاہا
وہ پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ عائشہ پریشان سی کچن کی جانب چل دی.
جاری ہے…
