Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid NovelR50809 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode12
Rate this Novel
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode01 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode02 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode03 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode04 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode05 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode06 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode07 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode08 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode09 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode10 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode11 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode12 (Watching)Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode13 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode14 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Last Episode
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode12
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode12
ماما….ماما کہاں ہیں آپ..؟
مریم اونچی آواز میں بولتی گھر میں داخل ہوئی
عائشہ نے کمرے سے باہر آکر دیکھا..وہ گھبرا گئی تھی مریم کے ایسے بولنے پر
ہاں مریم کیا ہوا ہے.. نہ سلام نہ دعا آتے ہی بس ماما ماما.. عائشہ مریم کو مسکراتا دیکھ کر تپ گئی تھی
اوہو ماما…اسلام علیکم.مریم نے عائشہ کے قریب ہوکر کہا اور اُسے گلے سے لگا لیا
وعلیکم اسلام..کیسی ہیں میری بیٹی..عائشہ نے مریم کے چہرے پر پیار کیا
جی میں بالکل ٹھیک..اللہ کا شکر…مریم نے چمکتی آنکھوں سے کہا اور عائشہ سے پیچھے ہوئی
کس کے ساتھ آئی ہو…عائشہ اُسے لے کر کمرے کی جانب چل دی
علی کے ساتھ آئی ہوں وہ واپس چلا گیا ہے..کہہ رہا تھا واپسی پر لے جائے گا…اُس نے دیور کا نام بتایا..
مریم بیڈ پر بیٹھ گئی اور کمرے کا جائزہ لینے لگی….
اچھا تم بیٹھو میں آتی ہوں ابھی.. سالن دیکھ لوں زرا…عائشہ مریم کو کہتی عجلت میں کمرے سے باہر چلی گئی
کمرہ ابھی بھی ویسا ہی تھا..چھوٹا سا.. دیواروں پر جگہ جگہ سے کلی اُتری ہوئی تھی..جو صفائی کو اکثر خراب کردیتی…بیڈ کے ساتھ ایک الماری تھی..مریم نے اٹھ کر الماری کھولی .میک اپ اب بھی ویسے ہی پڑا ہوا تھا..مختلف رنگوں کی نیل پالش کی لائن لگی ہوئی تھی..اُس نے ایک نیل پینٹ اٹھائی اور اُسے کھولا..وہ سوکھ گئی تھی..شاید ہانیہ نے اُسے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا..
اُس نے نیل پالش رکھ کر الماری بند کی اور کمرے میں نظر دوڑائی اُس کی نظر بیڈ کے ساتھ دیوار پر گئی
وہاں اُس کی اور ہانیہ کی بچپن کی تصویریں لگی ہوئی تھی..
ہانیہ نے مریم کی گردن میں بازو ڈالا ہوا تھا..وہ تصویر دیکھ کر مسکرائی
ایک اور تصویر میں ہانیہ اور مریم عائشہ کے ساتھ کھڑی تھیں..
بچپن کی حسین یاد…مریم ذیرِ لب بڑبڑائی
ایک پل میں آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہوگیا تھا
وہ پلکوں کو جھپکتی کمرے سے باہر نکل آئی
ماما…اُس نے کچن میں بیٹھی عائشہ کو پکارا
میں آپ سے ملنے آئی ہوں اور آپ کچن میں چلی گئی ہیں..
مریم کچن کے دروازے میں کھڑی ہوتی بولی…لہجہ روٹھا ہوا تھا
عائشہ نے سالن کے نیچے چلتی آنچ آہستہ کی اور مریم کی طرف دیکھا جو منہ پھلائے کھڑی تھی
جی میری جان..میں بس ہانڈی دیکھنے آئی تھی.. ابھی ہانیہ اور حارث آجائیں گے واپس..تو پھر کھانا کھانا کریں گے دونوں.. عائشہ ہنستے ہوئے بولی
بس وہی دونوں آپ کی اولاد ہیں..مجھے تو آپ شادی کے بعد بھول ہی گئے ہیں.مریم مصنوئی خفگی سے گویا ہوئی
وہ دونوں تمہارے بعد پیدا ہوئے ہیں…اور ماں کیلئے سارے بچے ایک جیسے ہوتے ہیں..عائشہ کھڑی ہوئی اور مریم کی طرف بڑھی
اور جب تم بھی ماں بن جاؤ گی نا تب سجھو گی اولاد کی محبت…یہ میں ہی جانتی ہوں کہ کیسے میں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو خود سے الگ کیا ہے…عائشہ نے مریم کو محبت سے دیکھ کر کہا
ماما کیا بیٹیاں ہمیشہ ماں باپ کے گھر نہیں رہ سکتی.. مریم اچانک سے اداس ہوئی
نہیں..کیونکہ بیٹیاں امانت ہوتی ہیں…اور انہیں شادی کر کے اپنے محرم کے پاس جانا ہوتا ہے.. عائشہ نے پیار سے اُسے سمجھایا
وہ دونوں کچن کے دروازے سے باہر آگئی تھی
“ماما” مریم نے کچھ کہنا چاہا
“جی ماما کی جان”…
مریم کچھ دیر خاموش رہی
ماما میرا بلاوا آگیا ہے..مریم نے سرگوشی کے انداز میں کہا
عائشہ نے نا سمجھی سے اُسے دیکھا
“اللہ نے مجھے اپنے در کی حاضری کیلئے چن لیا ہے ماما”
وہ ایک دم جوش سے بولی
میں بھی روضئہ رسول کو دیکھوں گی..میں بھی جاؤں گی اللہ کے دربار..م..ماما..
مریم نے کانپتی آواز کے ساتھ کہا
اُس سے مزید بولا نہ گیا..وہ خاموش ہوگئی
عائشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کی بات سُنی..وہ بے یقینی سے مریم کو دیکھنے لگی..
مریم میری جان..کیا واقعی.. تم سعودیہ جارہی ہو..؟..عائشہ خود کو سنبھالتی مریم تک آئی..اُس کے الفاظ بے ربط ہونے لگے..
وہ خوش تھی.. بہت خوش…اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی..
اُس نے زور سے مریم کو گلے سے لگایا
جی ماما…میرا ویزا لگ گیا ہے.. سارا پروسیجر بھی کمپلیٹ ہوگیا یے..اُس نے مسکراتے ہوئے عائشہ کو یقین دلانا چاہا
اب بس کچھ دن ہیں میرے یہاں پھر میں چھ ماہ کیلئے سعودیہ چلی جاؤں گی..اسد کے پاس.. مریم نے جوش سے کہا
وہ اسد کو یاد کر کے مسکرائی
اُس کا دل چاہا وہ ابھی اُڑ کر سعودیہ پہنچ جائے
ماشاءاللہ…عائشہ نے مریم کی پیشانی چومی
یا اللہ تیرا شکر ہے..عائشہ نے بھیگتی آنکھوں سے رب کا شکر ادا کیا
وہ مریم کو ہر روز دیکھ کر خوش ہوتی تھی..رب کا شکر ادا کرتی…اپنے بچوں کے نیک نصیب کی دعائیں مانگتی
اور یہ ماؤں کی ہی دعائیں ہوتی ہیں.. جو آپ کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرواتی ہیں….ماں باپ کی دعائیں اولاد کیلئے ہوتی ہیں.. دل سے دی گئی دعائیں..جو عرش تک جاتی ہیں….
ماما آپ رو کیوں رہی ہیں… مریم نے عائشہ کے سینے سے سر اٹھایا.. عائشہ کے آنسو جاری تھی..البتہ ہونٹوں پر ایک دلکش مسکرہٹ تھی
میں چھ ماہ بعد واپس آجاؤں گی ماما آپ مت روئیے.. مریم کو لگا کہ عائشہ اُس کے دور جانے سے رو رہی ہے..
نہیں مریم.. میں اِس لیے نہیں رو رہی ہوں کہ تم مجھ سے دور چلی جاؤ گی..عائشہ نے اپنے آنسو صاف کیے
یہ تو خوشی کے آنسو ہیں…اللہ تمہیں بار بار اپنے در پر بلائے..تمہاری ساری خواہشات پوری کرے…عائشہ بھیگی آنکھوں سے مسکرائی
آمین….مریم کے لب ہلے تھے
ماما میں بہت خوش قسمت ہوں جو مجھے اسد جیسے ہمسفر ملے…وہ بہت اچھے ہیں ماما.. بہت زیادہ اچھے..مریم مسحور کن انداز میں بولی
عائشہ نے اپنی پلکوں کو جھپکا
وہ دوبارہ رونا نہیں چاہتی تھی
اور….آپ نے میرے لیے بہت اچھے شخص کا انتخاب کیا یے ماما…بہت شکریہ.. مریم نے عائشہ کے ہاتھوں کو پکڑا
وہ مسکرا رہی تھی.. اسد کی محبت نے اُس کے دل میں اپنی جگہ بنا لی تھی…دل کی گہرائیوں میں اترتی محبت..وہ بہت خیال رکھنے والا تھا.. محبت لٹانے والا..احساس کرنے والا
تم دونوں کا ساتھ اللہ نے لکھا تھا..ہم تو وسیلہ بنے ہیں بس..اور میری اللہ سے دعا ہے کہ جیسے میری بیٹی کی نصیب اچھے کیے ہیں ویسے ہی ہر بیٹی کے نصیب اچھے ہو…عائشہ نے دل سے دعا دی
میں پاپا کو فون کرکے بتاتی ہوں..مریم نے چارپائی کے ساتھ لٹکتا پرس اتارا اور فون نکالنے لگی
“ہاں تم فون کرو میں روٹی بنانے لگی ہوں تم کھاؤ گی.”؟.عائشہ کچن جاتی جاتی مڑی
جی ماما بنا دیں..اور ایک اور بات
مریم نے ساجد کو فون ملایا.. بیل جارہی تھی..وہ فون کان کے ساتھ لگائے ہی بولی
“ہاں کیا”..عائشہ نے پوچھا
مجھے کپڑے بھی سلائی کر کے دینے ہیں آپ نے..اور ہانیہ سے بھی کہہ دوں گی کہ میرے دو چار سوٹ سی دے..مریم نے فون کان سے ہٹا دیا..ساجد فون نہیں اٹھا رہا تھا
اچھا ٹھیک ہے..میں سی دوں گی..فون نہیں اٹھایا تمہارے پاپا نے.. عائشہ کچن میں داخل ہوتی بولی..کچن میں لگی چھوٹی کھڑکی سے باہر آواز با آسانی پہنچتی تھی
“نہیں..
وہ ابھی رکشہ چلا رہے ہوگے.تھوڑی دیر بعد کرلوں گی”..مریم نے موبائل واپس بیگ میں ڈالا اور روٹیاں پکاتی عائشہ کو دیکھنے لگی
#########
مریم کے جانے میں دو دن باقی تھے…
ہانیہ کے نہم جماعت کے پیپرز شروع ہوچکے تھے..اور وہ آجکل پڑھائی میں بہت زیادہ مصروف تھی….اتنے سالوں بعد کلاسز چھوڑ کر کے دوبارہ پڑھائی کا آغاز کرنا بہت مشکل تھا
وہ مریم کے سعودیہ جانے سے خوش تھی بہت. لیکن مریم کا اُس سے دور ہوجانا..یہ سوچتے ہی وہ افسردہ ہوجاتی
مریم بھی گن گن کر دن گزار رہی تھی.. وہ جلد از جلد سعودیہ جانا چاہتی تھی..
#########
“ہانیہ مجھے سوٹ سلائی کردیا کردینا…دو دن رہ گئے ہیں میرے جانے میں”
مریم نے نیل پالش لگاتے ہوئے کہا
میں فارغ نہیں ہوں..میرے پیپرز ہورہے ہیں”..ہانیہ بیگ سے کتاب نکال رہی تھی..وہ مصروف سے انداز میں بولی
اُس نے آرام سے مریم کو منع کردیا جو اب منہ بنا کر اُسے دیکھ رہی تھی
“کتنی بے مروت ہو ویسے تم..بندہ ٹائم نکال کر ایک آدھا سوٹ ہی سی دیتا ہے”…مریم کو ہانیہ سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی
اُس نے پھر سے نیل پالش لگائی اور ہاتھ آگے کر کے پھونک مارنے لگی
“یار تمہیں پتا ہے میرے پیپرز ہورہے ہیں..اور آگے اتنے سالوں بعد میں نے پڑھائی شروع کی ہے..بہت مشکل ہوتی ہیں پڑھنے میں..اسپیشلی میتھ کو (specially mathematics)…ہانیہ رونی صورت بنا کر بولی
اُس نے میتھ کی کتاب ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی..جسے دیکھ دیکھ کر ہول پڑ رہا تھا
اچھا اچھا ٹھیک ہے رو مت..ماما سے ہی سلوا لوں گی سارے کپڑے…مریم نے ہانیہ کی بے زار شکل دیکھ کر کہا اور نیل پالش بند کر کے بیڈ پر رکھ دی
ہانیہ کتاب رکھتی اپنے نوٹس ڈھونڈنے میں لگ گئی..اُس نے سارا بیگ ڈھیر کیا ہوا تھا لیکن اُسے کہیں نوٹس نہیں ملے..وہ پریشان سی بار بار بیگ دیکھ رہی تھی
“کل میتھ کا پیپر ہے تمہارا..؟”…مریم پھر سے بولی..وہ کب سے ہانیہ کو دیکھ رہی تھی جو بیگ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی
“ہاں یار اور میرے نوٹس بھی نہیں مل رہے..نیا سیاپا”وہ تھک ہار کر بیٹھ گئی
“تو دھیان سے رکھنے تھے نا تم نے…اب ڈھونڈتی رہو”..مریم افسوس سے سر ہلا کر بولی
“میں اپنی چیزوں کو دھیان سے ہی رکھتی ہوں..ایک تو میں آگے پریشان ہوں اور اوپر سے تمہاری باتیں…..ہانیہ نے بیڈ سے نیچے اتر کر مریم کو گھورا
“شرم نہیں آتی بڑی بہن کو گھورتے ہوئے”مریم نے اس کے کندھے پر ایک چپت لگائی اور نیل پالش اٹھا کر الماری کی جانب چلی گئی
ہانیہ برا سا منہ بناتی وہاں سے چلی
“ماما…میرے نوٹس نہیں مل رہے..آپ نے تو نہیں رکھے کہیں”.؟.ہانیہ صحن میں آتی بولی
رات کے دس بجے کا وقت تھا عائشہ چارپائی بچھا رہی تھی
“پتا نہیں ہانیہ..اپنے بیگ میں دیکھنے تھے”عائشہ چارپائی بچھا کر بسترا کرنے لگی..
“نہیں مل رہے نا.. کب سے ڈھونڈ رہی ہوں.. پیٹی پر بھی دیکھے تھے پر نہیں ملے..”وہ جھنجلا کر بولی
“اُچھا چلو کوئی بات نہیں میں ڈھونڈ دیتی ہوں..جا کر آرام کرو تم..دیکھو کتنا تیز بخار ہے تمہیں..”عائشہ ہانیہ قریب آئی اور اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا جو بخار سے تپ رہی تھی..
“نہیں مجھے نہیں کرنا آرام..صبح پیپر ہے میرا اور مجھے ابھی تیاری کرنی ہے”..وہ نیند بھری آنکھوں کے ساتھ پریشان سی واپس کمرے میں آگئی
“یہ سارا بخار صرف میتھ کے پیپر کا ہے”عائشہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی
“کیا مصیبت ہے..کب سے ڈھونڈ رہی ہوں میں”وہ نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ منہ میں بڑبڑاتی پیٹی پڑ پڑی کتابیں دیکھنے لگی
“یہ دیکھو تمہارے نوٹس..ایک مرتبہ الماری میں بھی نظر ڈال لیتی”…مریم الماری کھولے ہاتھ میں ہانیہ کے نوٹس لئے کھڑی تھی
“شکر ہے اللہ کا مل گئے”..ہانیہ کی جان میں جان آئی تھی
اُس نے فوراً اپنی آنکھیں صاف کی
“اتنی سی بات پر رونے بیٹھ گئی ہو”مریم نے تاسف سے سر ہلایا
“یہ اتنی سی بات نہیں ہے..میرے پورے سال کی محنت ہے..اگر نوٹس نہ ملتے تو میرے تیاری اچھی نہ ہوتی اور پھر نمبر اچھے نہ آتے”..ہانیہ نے رجسٹر کے صفحے پلٹتے ہوئے کہا
“چلو اب اچھا اچھا پیپر دینا..میں پانی لے کر آتی ہوں میڈیسن کھا لو”مریم الماری بند کرتی وہاں سے چلی گئی
ہانیہ بیڈ پر دو زانوں ہوکر بیٹھی اور نوٹس پر سر جھکا دیا
#####
جاری ہے
