Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid NovelR50809 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode01
Rate this Novel
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode01 (Watching)Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode02 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode03 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode04 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode05 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode06 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode07 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode08 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode09 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode10 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode11 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode12 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode13 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode14 Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Last Episode
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode01
Azmaishain by Hafiza Kanza Shahid Episode01
سردیوں کی صبح تھی… ہوا میں خنکی محسوس کی جارہی تھی….لوگ موٹے اور گرم کپڑے پہن کر خود کو سردی سے بچاتے ہوئے گھروں سے نکلتے…ہر شخص اپنی دنیا میں مگن و مصروف تھا….کوئی آفس جانے کی غرض سے گھر سے نکلتا تو کوئی محنت مزدوری کرنے نکل پڑتے….
وہیں ایک چالیس سال کا آدمی (جو محنت اور مشقت کی وجہ سے اپنی عمر سے کئی زیادہ بڑا لگ رہا تھا) کب سے ایک بڑے سے گھر کی بیل bell بجانے میں مصروف تھا…چہرے پر سنجیدگی طاری کیے,ماتھے پر پریشانی کے بل ڈالے سادہ سے کپڑوں اور کندھوں کے گرد گرم شال لپیٹے وہ بار بار گیٹ کے قریب لگی بیل بجا رہا تھا…لیکن گھر کے مکین تو جیسے سن ہی نہ رہے ہو…
وہ شخص دو دن سے یہاں کے چکر کاٹ رہا تھا پریشانی تھی جو اسے رات رات بھر سونے نہ دیتی…دو دن سے گیٹ نہیں کھلا اور آج پھر وہ اسی چوکھٹ پر آ کھڑا ہوا تھا لیکن آج بھی گیٹ نہیں کھلا آخر کار نا امید ہو کر وہ واپسی کیلئے پلٹا ہی تھا کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی…. اُس نے عجلت میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو گیٹ میں ایک انیس بیس سال کا نوجوان چہرے پر بیزاری لئے کھڑا تھا…
جی کہیے…؟دروازے میں کھڑے نوجوان نے اس آدمی کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا
بیٹا مجھے شیرازی صاحب سے ملنا ہے…دو دن سے بچیاں میرے ساتھ کالج نہیں جارہی…کل بھی میں ان کو صبح لینے آیا تھا..لیکن وہ کسی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی…اسی سلسلے میں مجھے شیرازی صاحب سے…..
شیری بیٹا کون ہے گیٹ پر؟کوئی بھکاری ہے تو گیٹ بند کر کے اندر آجاؤ…آجکل حالات ٹھیک نہیں شہر کے…
اس سے پہلے کہ دروازے پر کھڑا آدمی اپنی بات مکمل کرتا اسے اندر سے شیرازی صاحب کی آواز سنائی دی..
جی پاپا آگیا اندر….
بیٹا مجھے شیرازی صاحب سے بہت ضروری بات کرنی ہے…آپ انہیں میرا بتا دیں کہ ساجد انکل رکشے والے آئے ہے … میں….میں دو دن سے یہاں آرہا ہوں لیکن گیٹ نہیں کھلتا اور میں واپس چلا جاتا ہوں..آپ کی بڑی مہربانی ہوگی… نوجوان دروازہ بند کرنے ہی والا تھا جب ساجد نے تقریباً منت کرنے والے انداز میں اسے شیرازی صاحب سے ملاقات کا کہا…
پاپا….پاپا…..
باہر آ کر دیکھیں انہیں…آپ نے ان کا معاملہ ختم نہیں کیا تھا کیا؟دو دن سے دروازہ بجا بجا کر دماغ خراب کر دیا ہے…آج بھی صبح صبح پہنچ گئے ہے نیند خراب کرنے…..شیری نے نہایت بدتمیزی سے اپنے والد شیرازی کو آواز دی..
کیا ہوگیا ہے کس نے دماغ خراب کر دیا ہے؟شیری کی آواز پر شیرازی صاحب باہر کی جانب آئے
پاپا آپ نے ساجد انکل کو بتایا نہیں تھا کہ اب سے انہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے.. تو پھر کیوں وہ دو دن سے یہاں آرہے ہے… ان کی باتوں سے تو لگتا ہے جیسے انہیں کوئی خبر ہی نہیں ہے… شیری نے اندر آتے ہوئے چڑ کر کہا اور شیرازی صاحب کی بات سنے بغیر ہی اپنے کمرے کی جانب چلا گیا…
جبکہ گیٹ کے باہر ساجد شیرازی صاحب کے انتظار میں کھڑا تھا…..
######
یہ ساجد کا گھر تھا..ایک کمرہ, چھوٹا سا صحن اور صحن کی ایک طرف کچن اور واش روم بنا ہوا تھا… ساجد کرائے کے مکان میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا…
ساجد کی بیوی عائشہ ایک صابر خاتون تھیں…مشکل سے مشکل حالات دیکھ چکی تھی اپنی زندگی میں.. اور ناجانے یہ آزمائشیں کب ختم ہونی تھیں…
ساجد رکشہ چلانے کے ساتھ ساتھ سلائی کا کام بھی جانتا تھا…لیکن نظر کمزور ہونے کی وجہ سے سلائی کرنا کم کردیا تھا…اور رکشے سے جو کمائی ہوتی اس سے گھر کا کرایہ اور دوسرے اخراجات پورے کیے جاتے…
جبکہ عائشہ بھی اپنے بچوں کی تعلیم اور دوسرے اخراجات کی خاطر لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی…
کرائے کا گھر,کرائے کا رکشہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کسی بھی غریب آدمی کی کمر توڑ دیتی ہے…. ساجد کو ایک گھر کی بچیاں کالج لے جاتے ہوئے تقریباً ایک سال ہوگیا تھا…اس گھر سے ملنے والی رقم سے مکان کے کرائے کی فکر کافی حد تک اب کم ہوگئی تھی…. زندگی پہلے سے بہتر گزررہی تھی….لیکن کوئی نہیں جانتا کہ مشکلات اور پریشانیاں کب ان کی دہلیز پر دستک دے دیں…
#######
ماما… ماما….
غفور انکل کا فون آرہا ہے…ساجد کی بڑی بیٹی مریم ہاتھ میں فون تھامے کچن کے دروازے میں کھڑی تھی…..جہاں ساجد کی بیوی عائشہ آٹا گوندھنے میں مصروف تھی
غفور بھائی نے کرائے کا کہنا ہوگا.. تم فون نہ اٹھاؤ ابھی… تمہارے پاپا آتے ہے رات کو تو خود ہی بات کر لیں گے….ویسے بھی انہوں نے آج جانا تھا شیرازی صاحب کی طرف..دو دن سے ناجانے کیوں بچیاں نہیں بھیج رہے اُن کے ساتھ…عائشہ نے اپنی پندرہ سالہ بڑی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے ہدایت دی…
اچھا ٹھیک ہے…مریم نے فون رکھ دیا…
اور ماما اندر ہانیہ اور حارث لڑ رہے ہیں دونوں… میں سمجھاتی ہوں تو بدتمیزی کرتے ہیں…مریم نے کچھ یاد آنے پر عائشہ کو چھوٹے بہن بھائی کا بتایا…
ان دونوں نے تو میرا دماغ خراب کیا ہوا ہے… پورے دو سال کا فرق ہے دونوں میں..پھر بھی ایسے لڑتے ہیں جیسے جڑواں ہو…عائشہ نے غصے میں تپتے ہوئے کہا… اور گوندھا ہوا آٹا ایک برتن میں نکالنے لگی…
اچھا تم جاؤ اندر ان دونوں کو کہو کہ لڑنا بند کر دیں…اگر میں آئی تو دونوں کو مار پڑے گی پھر… عائشہ نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا اور مریم سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے اندر کمرے کی طرف چل دی…
شیرازی صاحب گیٹ کی جانب آئے جہاں ساجد کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا….
ساجد کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے….وہ چہرہ جھکا کر کھڑا تھا….پلکوں کو نیچے گرائے وہ سوچوں کے محور میں گم تھا…اس کی آنکھوں کے سامنے عائشہ کا چہرہ آیا…غصے سے پھولا ہوا…بھیگیں ہوئی آنکھیں…سرخ پڑتی ناک جسے وہ بار بار رگڑ رہی تھی…. ساجد کا ایک بار ایکسیڈینٹ ہوا تھا اور عائشہ نے اپنا رو رو کر بُرا حال بنا لیا تھا….ساجد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی…
قدموں کی آواز نے اُسے خیالات کی دُنیا سے باہر نکالا….اس نے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا تو شیرازی صاحب اس کی طرف آرہے تھے….
اسلام علیکم شیرازی صاحب….
ساجد نے شیرازی کو دیکھ کر مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا
وعلیکم اسلام…شیرازی نے ہاتھ تھام لیا… ہاں بھئی ساجد خیریت ہے تم دو دنوں سے یہاں کے چکر کاٹ رہے ہو؟شیرازی نے انجان بنتے ہوئے کہا
شیرازی صاحب پچھلے دو دن سے بچیاں میرے ساتھ کالج نہیں جا رہی..میں کل بھی آیا تھا انہیں لینے لیکن وہ کسی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی…اور میری دو دن سے آپ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی…بس میں اسی سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتا تھا….ساجد نے نہایت نرم لہجے میں اپنی بات مکمل کی..
او ہاں ساجد…..مجھے یاد نہیں رہا تمہیں بتانا… دراصل میں نے بچیوں کیلئے کوئی اور رکشے والا لگوا لیا ہے تو اب سے تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے….
شیرازی نے اطمینان سے کہا اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا…
لیک….لیکن…شیرازی صاحب بچیاں تو میرے ساتھ جاتی تھی….میں تو کوئی چھٹی بھی نہیں کرتا روزانہ لے کر جاتا ہوں بچیوں کو پھر آپ نے دوسرا رکشے والا کیوں لگوایا؟….ساجد کو لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر آسمان گرا دیا ہو.
ہاں بس میں دو دن سے شہر سے باہر تھا…..اسی لیے تمہاری ملاقات نہیں ہوئی مجھ سے ….اور مجھے یاد بھی نہیں رہا تمہیں بتانا نہیں تو تمہیں یہاں کے چکر نہ کاٹنے پڑتے…خیر اب تو پتا چل گیا ہے نا تمہیں.. اب کل سے مت آنا بچیوں کو لینے…شیرازی نے بیزار لہجے میں کہا اور سگریٹ کا کش بھرا
دیکھیے شیرازی صاحب اگر مجھ سے کوئی شکایت ہے یا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو آپ بتائیں مجھے…. لیکن ایسا مت کیجئے… آپ جانتے ہے کہ آپ کے گھر سے ملنے والی رقم سے میں نے گھر کا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے… م…میں اب وہ سب… اس سب کا کیا کروں گا… ؟ساجد کے الفاظ بے ربط ہو رہے تھے جیسے بہت بڑا صدمہ پہنچا ہو
بھئی ساجد مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے…تم اپنا کوئی اور بندوبست کر لو… اور ویسے بھی تمہارا رکشہ اب کافی خراب ہو چکا ہے….میری بچیوں کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے اُس میں بیٹھتے ہوئے بس اسی لئے میں نے کوئی اور رکشے والا لگوایا ہے… اور تمہارا جو باقی حساب ہے وہ دو دن بعد آ کر کر لینا..جو باقی پیسے بنتے ہیں میں تمہیں دے دوں گا…اور اب روز روز میرا دماغ مت خراب کرنا یہاں آکر….شیرازی نے حقارت بھری نظر ساجد پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا…
جبکہ ساجد خالی خالی نظروں سے بند دروازے کو دیکھنے لگا…ساجد کو لگا کہ دن کے اجالے میں رات کا سیاہ اندھیرا چھا گیا ہو….
######
ہانیہ…. ہانیہ یہاں آؤ زرا…
اپنے پاپا کو فون تو ملاؤ رات کے دس بجنے کو ہے اور ابھی تک وہ گھر نہیں آئے…عائشہ نے اپنی چھوٹی بیٹی ہانیہ کو آواز دی….
اللہ خیر کرے پتا نہیں ابھی تک کیوں نہیں آئے.. آٹھ نو بجے تک تو آجاتے ہے ساجد… عائشہ پریشانی میں بڑبڑائی..
لائیں ماما موبائل پکڑائیں میں پاپا کو کال کروں … ہانیہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا کیونکہ اسی بہانے اُسے فون پکڑنے کا موقع جو مل گیا تھا
ہاں یہ لو ملاؤ اپنے پاپا کو فون میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے… عائشہ صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی اور اپنے پرس سے موبائل نکالنے لگی….
ماما میں ملا دیتی ہوں آپ کو فون اسے کہاں آتا ہے ملانا …اس سے پہلے کہ ہانیہ موبائل پکڑتی مریم نے جلدی سے پکڑ لیا….
لیکن ماما….ہانیہ نے ماں کی جانب دیکھا… اُس کو ایک دم سے غصہ آیا
عائشہ نے ہانیہ کو انگلی سے خاموش کروانا چاہا
یہ نا انصافی ہے ماما آپ نے مجھے کہا تھا فون ملانے کا اور مریم آپی نے جان بوجھ کر پکڑا ہے موبائل…. مجھے بھی آتا ہے فون ملانا… ہانیہ نے غصے سے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا جبکہ مریم ہانیہ کو منہ چڑا کر فون ملانے لگی…
ہانیہ بیٹا کچھ نہیں ہوتا… تم جاؤ کمرے میں جا کر سو جاؤ صبح پھر سکول کیلئے بھی اٹھنا ہے اور دیکھو حارث سویا ہے کہ نہیں ابھی تک… عائشہ نے ہانیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا
آپ ہر بار ایسے ہی کرتی ہے ماما مجھے موبائل کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی اور آپی جب مرضی پکڑ لیتی ہیں .. ہانیہ غصے سے پیڑ پٹختی کمرے میں چلی گئی …
مریم ملا نہیں فون ساجد کو ؟عائشہ نے مریم کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا
ماما بیلینس ختم ہوگیا ہے کال نہیں…..
اسلام علیکم…مریم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ساجد کی آواز آئی…ساجد کی آواز پر عائشہ نے مڑ کر دیکھا جہاں ساجد دروازے میں کھڑا جوتے اتار رہا تھا…
وعلیکم اسلام….
ساجد آپ نے آج کافی دیر کر دی آنے میں…دس بجے سے اوپر ٹائم ہوگیا ہے…عائشہ نے سلام کا جواب دیتے ہی عجلت میں پوچھا…
ہاں بس سواری مل گئی تھی اسی لئے دیر ہوگئی…. ساجد صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا…وہ اب خود کو کافی حد تک سمبھال چکا تھا….وہ نہیں چاہتا تھا کہ عائشہ اُس کی وجہ سے پریشان ہو…
مریم بیٹا جاؤ پاپا کیلئے پانی لے کر آؤ…..عائشہ نے مریم کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے کہا
اچھا ماما…مریم سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے چلی گئی
کیا بات ہے ساجد آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟عائشہ نے ساجد کا چہرہ کھوجتے ہوئے پوچھا
ہاں ٹھیک ہوں میں.. ویسے بھی ہم غریبوں کو کہاں کچھ ہوتا ہے جلدی…ساجد نے تلخی سے کہا
اللہ خیر کرے ساجد… کیسی باتیں کر رہے ہے آپ.. اللہ آپ کو لمبی عمر دے… آپ کے اور اپنے بچوں کے سہارے ہی تو میں بھی جی رہی ہوں..ساجد کی بات پر عائشہ کا دل ہول اٹھا تھا….
کیا فائدہ عائشہ ایسی لمبی عمر کا جہاں ایک پل بھی سکون کا میسر نہ ہو… ہر وقت گھر کے کرائے,رکشے کے کرائے اور بچوں کی روٹی کی فکر سر پر منڈلاتی رہتی ہے…. ساجد کی آنکھوں میں نمی آئی جسے وہ بڑی مہارت کے ساتھ عائشہ سے چھپا گیا
پاپا یہ لیں پانی… مریم نے سٹیل کا پانی سے بھرا گلاس ساجد کے آگے کیا…ساجد نے گلاس ہاتھ میں تھام لیا
اچھا آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں ؟اب تو پہلے سے بہت بہتر حالات ہوگئے ہیں ہمارے… اللہ آگے بھی بہتر کرے گا..سب ٹھیک ہو جائے گا آپ پانی پیے…. عائشہ نے ساجد کو تسلی دینا چاہی
حالات بہتر نہیں اور خراب ہوگئے ہیں اب… جس گھر کی میں بچیاں لے کر جاتا تھا انہوں نے فارغ کرا دیا ہے مجھے… کوئی اور رکشے والا لگوا لیا ہے…ساجد نے پانی کا گھونٹ بھرا..
لیکن کیوں ساجد… آپ تو ایک سال سے لے کر جارہے تھے ان کی بچیاں پھر ایسے کیسے کسی اور کو لگوا لیا آپ کی جگہ ؟….عائشہ کو ایک دم سے غصہ آیا تھا اُن لوگوں پر
اب کیا کہہ سکتے ہیں ہم…بڑے لوگ ہیں وہ جب چاہیں جسے رکھیں جب چاہیں فارغ کروا دیں…ساجد نے خالی گلاس مریم کو تھمایا جو پاس کھڑی باتیں سن رہی تھی…
پر ساجد اب کرائے کا کیا ہوگا؟عائشہ کو کرائے کی پریشانی نے آن گھیرا..
اس مہینے کے پیسے لینے ہیں میں نے ابھی شیرازی صاحب سے… دو تین دن تک مل جائیں گے پھر دے دوں گا کرایہ…. آگے اللہ مالک ہے….کرتا ہوں کسی دوست سے بات کہ کوئی گھر نظر میں ہو تو مجھے لگوا دے… ساجد نے عائشہ کو پریشان ہوتے دیکھ کر تسلی دی
کرائے سے یاد آیا صبح غفور بھائی کا فون آرہا تھا دوپہر میں… شاید کرائے کا کہنا ہو… عائشہ نے یاد آنے پر بتایا
ہاں میں انہیں فون کر کے بتا دوں گا کہ دو دن تک کرایہ مل جائے گا…. ساجد اپنی بات ختم کرتا واش روم کی جانب چل دیا… جبکہ عائشہ سوچوں میں گم ہوگئ۔
جاری ہے….
