Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ay Raaz e Dil (Episode 10)Part 1,2

Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz

اگلی صبح ہمیشہ کی طرح الہام پارسا کے اٹھنے سے پہلے ہی ہسپتال چلی گئ تھی۔۔ یہ اسکی روٹین تھی وہ روز فجر کے بعد ہی ناشتہ کر کے پارسا کے اٹھنے سے پہلے ہسپتال پہنچ جاتی تھی۔۔ وجہ اسکی کچی نیند تھی۔۔ وہ اتنی گہری نیند سوہی نہیں پاتی تھی کہ صبح دیر ہوجائے۔۔ اتنے سالوں سے اسے ایسی ہی کچی نیند نصیب ہورہی تھی ۔۔ اور اس کچی نیند کی وجہ وہ تینوں ہی جانتے تھے۔۔

اس وقت بھی وہ ہسپتال جاچکی تھی۔۔ پارسا بھی اب جانے کے لئے بلکل تیار تھی۔۔ وہ روز ٹیکسی سے جاتی تھی کیونکہ گاڑی الہام لے جاتی تھی۔۔ جوکہ ان دونوں کی مشترکہ تھی۔۔ واپسی پر دونوں ساتھ ہی آتے تھے۔۔ احتشام کیونکہ ایک الگ ہسپتال میں ہوتا تھا۔۔ اسلئے اسکا وے بھی انکے ہسپتال سے الگ ہوتا تھا۔۔ ابھی بھی وہ تیار ہوکر باہر نکلی تھی۔۔ ارادہ ٹیکسی لینے کا ہی تھا مگر احتشام کو اپنے پیچھے آتے دیکھ کر وہ چونکی تھی۔۔

’’ آپ آج جلدی جارہے ہیں ؟ ’’ وہ اس کےساتھ چلنے لگا تھا۔۔

’’ ہاں۔۔ سوچا تمہیں ڈراپ کردوں ’’ لفٹ کا بٹن پریس کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

’’ اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں خود چلی جاؤنگی ’’ وہ کل رات سے اسے حیران کر رہا تھا۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ احتشام کو اچانک کیا ہوا ہے ؟ آج سے پہلے تو اس نے کبھی بھی اسے ڈراپ کرنے کا نہیں کہا تھا۔۔

’’ ضرورت تو اب بہت ہے ’’ وہ دھیمی آواز میں بولا تھا۔۔ لہجہ عجیب تھا ۔۔

’’ کیا مطلب ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔ اسی وقت لیفٹ کا دروازہ کھلا تھا۔۔ اور وہ دونوں اب پارکنگ ایریا کی طرف آئے تھے۔۔ احتشام نے اسکی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔۔ وہ بھی خاموش ہوگئ تھی۔۔ وہ جب اسے ہسپتال لے کر آیا تو اسی وقت حامد کی گاڑی بھی وہاں آئی تھی۔۔ جسے دونوں نے دیکھ لیا تھا۔۔

’’ ارے حامد بھی آگیا ہسپتال ؟ مگر ابھی تو چھٹیاں باقی تھیں ’’ پارسا نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا۔۔ احتشام نے دیکھا۔۔ وہ حامد کی طرف بڑھی تھی۔۔ جو اسے دیکھ کر ہاتھ میں کی چین گماتا اسی کی طرف آرہا تھا۔۔ احتشام بھی گاڑی سے باہر نکل کر اس طرف آیا تھا۔

’’ کیا بات ہے آج صبح صبح ہی چاند نکل آیا ؟ بہت جلدی تھی کیا ؟ ’’ حامد نے اسکی طرف جھکتے ہوئے شرارتاً کہا تھا۔۔ اسکی یہ شرارت احتشام کو اچھی نہیں لگی تھی۔۔

’’ ہاں۔۔ کالے بادل بھی صبح صبح نازل ہوگئے۔۔ پھر چاند بھی آسکتا ہے ’’ پارسا نے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔۔

’’ ہاہا۔۔۔ چاند اور کالے بادلوں کا تعلق تو بہت پرانا ہے ڈئیر ۔۔۔ ارے احتشام بھائی کیسے ہیں آپ ؟ ’’ احتشام پر نظر پڑتے ہی اس نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔۔

’’ بلکل ٹھیک ہوں۔۔ تم بتاؤ جلدی آگئے واپس ؟ ’’ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا تھا۔۔

’’ ہاں۔۔ کیا کروں بس اب دل کے بغیر بھی تو گزارا نہیں ہے ’’ اس نے پارسا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ جیسے کوئی اشارہ دیا ہو ۔۔

’’ اور وہ تو یہی تھا ’’ پارسا نے آگے جھک کر ایک آنکھ دبا کر کہا تھا۔۔ جواب میں وہ ہنسا تھا ’’ بے شک ’’

احتشام کا موڈ اچانک ہی آف ہوگیا تھا۔۔ سو وہ بنا کچھ کہے وہی سے پلٹ گیا تھا۔۔ جبکہ پارسا اور حامد اب ہسپتال کے اندر جارہے تھے ۔۔ پتہ نہیں اسے یہ حامد اچانک برا کیوں لگنے لگا تھا ؟ احتشام خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔

وہ اپنے مریض کے روم سے نکلنے کے بعد اب الہام کو ڈھونڈھ رہا تھا۔۔ مگر اسے وہ آفس میں نہیں ملی تھی۔۔ تبھی پاس سے گزرتی ایک نرس سے پوچھا تھا ’’ ڈاکٹر الہام کہا ہیں ؟ ’’

’’ وہ ایمرجنسی وارڈ میں ہیں۔۔۔ ابھی ابھی ایک ایکسیڈینٹ کیس آیا ہے۔۔ وہاں پولیس بھی موجود ہے ’’ نرس کی ساری بات سنتے ہی وہ لفٹ کی طرف تیزی سے بڑھا تھا۔۔ وہ جانتا تھا۔۔ الہام کو اسکی ضرورت نہیں ہوگی۔۔ مگر وہ بنا ضرورت بھی اسکے ساتھ ہونے کا عادی تھا۔۔

اسے سامنے ہی الہام نظر آئی تھی۔۔ پاس ہی دو پولیس آفیسر کھڑے تھے اور وہ شاید مریض کے گھر والوں سے بات کر رہی تھی۔۔ حامد تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا۔۔

’’ دیکھیں انکا خون کافی بہہ چکا ہے اور کانچ کے کچھ ٹکڑے باڈی کے اندر تک جاچکے ہیں ہمیں فوراً آپریٹ کرنا ہوگا۔۔ پر پلیز آپ لوگ جلدی سے بلڈ کا انتظام کر لیں ’’ اسکے پاس پہنچتے ہی اس نے الہام کی آواز سنی تھی۔۔

’’ آپ آپریشن سٹارٹ کریں۔۔ میں بس دس منٹ میں بلٹ اریج کر کے آتا ہوں ’’ وہ شاید اس مریض کا بھائی یا دوست تھا۔۔ جس نے جواب دیا تھا۔۔

’’ اوک۔۔ بی فاسٹ ’’ وہ اب نرس کی طرف مڑی تھی۔۔

’’ پیشینٹ کو آپریشن تھیٹر لے کر جائیں اور سب اریج کریں۔۔ ہم ابھی آپریشن کریں گے ’’ اس کی بات سنتے ہی نرس اندر کی طرف بھاگی تھی۔۔ ہر طرف ہل چل تھی۔۔

’’ میں بھی ساتھ آتا ہوں ’’ حامد کی آواز پر الہام نے اسے دیکھا تھا۔۔

’’ نہیں۔۔ اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں ہینڈل کر لونگ۔۔ ی تم باقی پیشینٹز کو دیکھو ’’ ہاتھ پر گلوز پہنتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

’’ ہوسکتا ہو تمہیں میری ضرورت پڑے ’’ وہ اس کے ساتھ چلنے لگا تھا۔۔ وہ مسکرائی تھی۔۔

’’ تم جانتے ہو مجھے ڈر نہیں لگتا حامد ، تھینک یو ’’ اسے کہہ کر وہ آپریشن تھیٹر کے اندر چلی گئ تھی۔۔ اور وہ بھی مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا۔۔ وہ جانتا تھا۔۔ اسے ڈر نہیں لگتا۔۔ اسے کسی بھی چیز سے ڈر نہیں لگتا تھا ۔۔ شاید ؟

وہ دو دن سے ہسپتال میں تھا۔۔ ایسا نہیں تھا کہ یہاں اسکی بہت ضرورت تھی یا پھر کوئی ایمرجنسی ۔۔ وہ اپنی مرضی سے دن رات یہاں گزار رہا تھا۔۔ وہ گھر نہیں جانا چاہتا تھا۔۔ اسے پاپا پر غصہ تھا۔۔ اور اسے اس مسئلے سے نکلنے کا حل بھی سوچنا تھا۔۔ آج وہ دو دن کے بعد گھر لوٹا تھا۔۔ پاپا گھر پر موجود نہیں تھے۔۔ اس نے سکھ کا سانس لے کر ملازمہ کو کھانا لگانے کا کہا تھا۔۔ باہر کا کھانا اسے زیادہ اچھا نہیں لگتا تھا۔۔ اور دو دن سے وہ باہر کھانا کھا رہا تھا۔۔ اب اسے بھوک لگ رہی تھی۔۔ وہ فریش ہوکر آیا تھا۔۔ ملازمہ جب تک کھانا لگا چکی تھی۔۔ اس نے فرصت سے کھانا کھایا اور پھر ایک کپ چائے کا کہہ کر وہ رانیہ کے کمرے کی طرف آیا تھا۔۔

’’ یاد آگئ تمہیں گھر کی ؟ ’’ اسے سامنے دیکھ کر اس نے طنز میں کہا تھا۔۔

’’ ہاں مجبوری تھی۔۔ آنا ہی پڑا ’’ وہ کہہ کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔

’’ آخر کیا مسئلہ ہے اب ؟ ’’ اسے اس پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔

’’ آپ اچھی طرح جانتی ہیں میرا مسئلہ۔۔ پھر پاپا کو سمجھاتی کیوں نہیں ہیں ؟ ’’

’’ تمہیں کیا لگتا ہے؟ میں نے سمجھانے کی کوشش نہیں کی ہوگی ؟ ’’ وہ اسکا مسئلہ جانتی تھی۔۔ اس لئے پرسکون ہوکر جواب دیا تھا ۔۔

’’ تو پھر کیا کہا انہوں نے ؟ ’’

’’ وہ اس بار کسی کی نہیں سنے گے۔۔ اور بقول پاپا کے تم انکے بیٹے ہو اور انہیں پورا حق ہے تمہارے لئے فیصلہ کرنے کا۔۔ اس لئے وہ زبردستی بھی کر سکتے ہیں ’’ اس نے اسے پاپا کے ارادے بتانا ضروری سمجھا تھا۔۔

’’ وہ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔۔ میں نہیں کرنا چاہتا شادی ’’ اسے اب مزید غصہ آیا تھا۔۔ ابھی رانیہ نے اسکی بات کا جواب دینے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ مظہر صاحب کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔

’’ شادی تو تمہیں کرنی پڑے گی اب ۔۔بہت سن لی میں نے تمہاری ۔۔ اب تم میری سنو گے ’’ عرش پاپا کو دیکھ کر فوراً کھڑا ہوا تھا۔۔ دونوں اب آمنے سامنے تھے۔۔

’’ میں شادی نہیں کرنا چاہتا اور آپ زبردستی نہیں کر سکتے پاپا ’’ وہ دھیمے مگر سخت لہجے میں بولا تھا۔۔

’’ میں ساجد سے بات کر چکا ہوں۔۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ اس لئے اس سنڈے کو ہم تم دونوں کی منگنی کر رہے ہیں۔۔ اگر تم چاہو تو لڑکی سے ملاقات کر لو۔۔ ورنہ منگنی والے دن ملاقات ہو ہی جانی ہے ’’ وہ فیصلہ سنا کر اسے ہکابکا چھوڑ کر وہاں سے جاچکے تھے۔۔

’’ یہ کیا کہہ کر گئے ہیں ؟ ’’ اس نے رانیہ سے کہا تھا۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے پاپا بھی اس کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں ؟

’’ میں نے کہا تھا عرش۔۔ اس بار انہیں ہم نہیں مناسکتے ’’ رانیہ نے ہار مان لی تھی۔۔ وہ جانتی تھی کہ پاپا جب ضد پر آجائیں تو انہیں منانا کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔۔

’’ میں بھی انہیں کا بیٹا ہوں پھر ’’ وہ اسے کہہ کر وہاں سے جاچکا تھا اور رانیہ اسکی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی۔۔ اب ناجانے کیا کرے گا وہ ؟ مگر جو بھی کرے کا اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔ اس نے فوراً عامر کو کال کر کے ساری صورتحال بتا دی تھی ۔۔ شاید عامر ہی ان سب کا کوئی حل نکال سکے ؟ اسے ایک امید تھی ۔۔

وہ اپنے کمرے میں اب مسلسل چکر لگا رہا تھا۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔۔ شادی تو وہ کسی بھی صورت میں نہیں کرسکتا تھا ۔۔ آخر کیسے کر لیتا وہ شادی ؟

اسے ایک یقین سا تھا کہ اسکا انتظار رائیگا نہیں جائیگا ۔۔

اسے ایک یقین سا تھا کہ اسکا الہام اسے اسکی منزل تک لے جائیگا ۔۔۔

اسے ایک یقین سا تھا کہ وقت اسے مایوس نہیں کرے گا۔۔۔

وہ مایوس نہیں ہونا چاہتا تھا ۔۔ وہ اپنے دل کو مارنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔مگر اس صورتحال سے بچنا بھی بہت ضروری تھا۔۔ یہ وہ بھی جانتا تھا کہ پاپا کو منانا اب ناممکن ہے۔۔ اس نے سات سال تک پاپا کو روک کر رکھا تھا ۔۔اب وہ نہیں رک سکتے تھے ۔۔ اور وہ ؟

اس نے اپنی کھڑکی سے باہر آسمان کی طرف دیکھا تھا ۔۔ وہ ان سات سالوں کے انتظار کو رائیگا جانے دے سکتا تھا کیا ؟ اس نے دل سے پوچھا تھا ۔۔ جواب فوراً آیا تھا ۔۔ نہیں !

موبائل کی آواز نے اسے سوچوں کی دنیا سے باہر لایا تھا۔

’’ سلام عامر بھائی۔۔ کیسے ہیں آپ ؟ ’’نظریں آسمان پر جمی تھیں۔۔

’’ ٹھیک ہو ۔۔ تم کیسے ہو ؟ ’’ انکا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ حالات سے واقف تھے۔۔

’’ آپ جانتے ہیں کہ میں کیسا ہوں ؟ اور یقیناً رانیہ نے آپکو سب بتا دیا ہوگا اور اب آپ مجھے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ میں پاپا کی بات مان لوں۔۔ اور اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ان کی مرضی اور اپنی خوشی کے خلاف کرلوں ’’ اس نے انہیں بولنے کا موقع بھی نہیں دینا تھا۔

’’ ہاں ۔۔ رانیہ نے مجھے سب بتا دیا ہے اور میں نے اسی لئے تمہیں کال کی ہے کہ میں تمہیں سمجھا سکوں ۔۔ مگر’’ وہ خاموش ہوئے تھے اور عرش الجھا تھا۔۔

’’ مگر ؟ ’’

’’ مگر میں تمہیں یہ نہیں سمجھانا چاہتا کہ تم انکی مرضی سے شادی کرلو بلکہ میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ تم اپنی خوشی کے لئے فرار ہوجاؤ ’’ انکی بات نے اسے چونکا دیا تھا

’’ فرار ہوجاؤں ؟ ’’ اس نے آسمان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔ اسے لگا۔۔ کوئی جواب آیا تھا ۔۔ آسمان سے ۔۔

وہ اور احتشام لاونچ میں بیٹھے مووی دیکھ رہے تھے اور پارسا کچن میں کھانا بنا رہی تھی۔۔ ان دونوں کی فرمائش پر آج وہ کھانا بنارہی تھی اور مجال ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اسکی مدد کے لئے کچن گیا ہو ۔۔

’’ احتشام بھائی ۔۔ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی ’’ مووی کے درمیان میں ہی اس نے احتشام سے کہا تھا۔۔

’’ ہاں بولو ؟ ’’ ایل۔ای۔ڈی پر نظریں رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

’’ڈاکٹر پارسا اتنے سالوں سے ہمارے ساتھ ہیں اور وہ بھی صرف ہمارے لئے۔۔ کتنی اچھی ہیں نہ وہ ؟’’ اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ ہاں صحیح کہہ رہی ہو وہ واقعی بہت اچھی ہے’’ اس نے دل سے کہا تھا۔

’’ اگر وہ نہ ہوتیں تو شاید آج یہ سب ایسا نہ ہوتا ۔۔ شاید آج ہم اتنے پرسکون نہ ہوتے ۔۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھی انکے لئے کچھ سوچنا چاہئے ۔ یہ تو خودغرضی ہے کہ صرف اس لئے ہم نے انہیں اپنے ساتھ باندھ رکھا ہے کہ ہم اکیلے نہیں رہ سکتے۔۔ کیونکہ ہم نامحرم ہیں ۔۔ ؟ ’’ الہام نے سنجیدگی سے کہا تھا اور اسکی بات نے احتشام کو اسکی طرف دیکھتے پر مجبور کیا تھا۔۔

’’ کیا مطلب ؟ ’’

’’ مطلب یہ کہ ڈاکٹر پارسا کے والدین انکی شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔ مگر وہ انکار کر رہی ہیں۔۔ صرف ہماری وجہ سے ۔۔ آپکو نہیں لگتا کہ یہ ان فئیر ہے ؟ ’’ الہام کی بات پر وہ حیران ہوا تھا۔۔

’’ پارسا کی شادی ؟ کس کے ساتھ ؟ ’’

’’ یہ تو انہیں ہی معلوم ہوگا مگر میں چاہتی ہوں کہ ہم انہیں شادی کرنے کے لئے منائیں۔۔ آخر ساری زندگی تو وہ ایسے نہیں رہ سکتی ہیں نہ ؟ ’’ اس نے کہا تھا اور احتشام اسکی بات سمجھ رہا تھا۔۔۔

’’ میں کرونگا اس سےبات ’’ اس نے دھیمی لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ میں نے کب کہا کہ آپ ان سے بات کریں ؟ ’’ الہام کی بات پر اس سے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔

’’ منڈے کو ان کی سالگرہ ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ انہیں زندگی کا سب سے اہم تحفہ دیں’’

’’کیسا تحفہ ؟ ’’ وہ اب بھی نہیں سمجھ رہا تھا۔۔

’’ شادی کا تحفہ ۔۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ ان سے شادی کر لیں ’’ الہام نے اسکے سر پر ایک بم پھوڑا تھا اور وہ فوراً کھڑا ہوا تھا۔۔

’’ یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟ ’’ الہام جانتی تھی کہ انکا یہی ردعمل ہوگا۔۔ وہ بھی انکے سامنے کھڑی ہوگئ تھی۔۔

’’ کچھ غلط نہیں کہہ رہی میں۔۔۔ آخر ہم کب تک ایسے زندگی گزارتے رہیں گے ؟ اور انہیں بھی اس طرح اپنے ساتھ رکھیں گے ۔۔ یہ تو آپکو سوچنا چائیے تھا مگر یہ میں سوچ رہی ہوں ۔۔ آپکو کیا لگتا ہے وہ اتنے سالوں سے صرف دوستی کی خاطر یہاں موجود ہیں ؟ اور آپ ؟ آپنے صرف دوستی کی خاطر انہیں یہاں رکھا ہوا ہے ؟ ’’ اس کے سوالوں کا احتشام کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔ وہ تو بس حیران تھا کہ الہام کیسے یہ سب جان سکتی ہے ؟ اور کب سے ؟ یہ سب تو وہ کچھ سے بھی چھپانا چاہتا تھا ۔۔

’’ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔۔ اور آپ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھی بن سکتے ہیں۔۔ میں مزید آپ دونوں کو اس طرح ایک دوسرے سے چھپتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی ہو ’’ وہ رکی تھی ۔۔۔ اچانک ہی ۔۔اس کے کانوں میں کسی کے الفاظ گونجے تھے۔۔ الہام نے ان الفاظوں کو زبان سے ادا کیا تھا۔۔

’’ دل سے بھاگا نہیں جاتا ۔۔ دل کا سامنا کیا جاتا ہے ۔۔ ایک دل ہی تو ہوتا ہے جس کے سامنے انسان کو ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہئے اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنا چاہئے: ’’ ہاں جو تو چاہتا ہے وہی میں چاہتا ہوں اور جو میں چاہتا ہوں تو مجھ سے وہی کروا اب ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ایک پرانی یاد تازہ ہوئی تھی ۔۔ ایک چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا تھا ۔۔ انکھوں میں نمی گہری ہونے لگی تھی۔۔ اور وہ گھبرا کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔ اور احتشام اسے دیکھتا رہ گیا تھا ۔۔۔ دل کو آج وہ بھی جان گیا تھا ۔۔۔ دل سے اب وہ بھی بھاگ نہیں سکتا تھا ۔۔

وہ اس وقت ہسپتال میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔۔ سامنے ہی معاذ بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔۔

’’ تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ؟ ’’ اس کے مسلسل گھورنے سے وہ چڑ گیا تھا۔۔

’’ یقین کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تم نے ہی مجھ سے یہ بات کی ہے ؟ ’’ اسے واقعی یقین نہیں آرہا تھا۔۔

’’ میں نے ایسی کوئی انوکھی بات نہیں کی ہے۔ تم خود ہی بتاؤ اس کے علاوہ اور کیا حل ہے ؟ ’’ وہ آگے کو جھک کر بولا تھا ۔۔

’’ مگر بھاگنا بھی تو ٹھیک نہیں ہے عرش ۔۔ جانتے ہو انکل تمہیں کبھی معاف نہیں کرینگے ’’ اس نے اسکی توجہ ایک اور مسئلے کی طرف کرنا چاہی تھی۔۔

’’یہی میں نے عامر بھائی سے بھی کہا تھا۔۔۔ پر انہوں نے کہا کہ وہ سنبھال لیں گے ’’ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ تمہیں لگتا ہے کہ وہ واقعی سنبھال لیں گے ؟ تمہارا ساتھ دینے کی وجہ سے انکل کا ان کے ساتھ بھی رویہ سخت ہے ’’

’’ جانتا ہوں مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر وہ اتنے سکون سے مجھے یہ کہہ رہے ہیں تو یقیناً انہوں نے کچھ سوچ رکھا ہوگا’’ اس کے گرد چکر لگاتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔۔

’’ اور یہ جو تمہاری بے چینی ہے اسکا کیا ؟ تم بھاگنے والوں میں سے نہیں ہو۔۔ مگر آج تم بھاگنے کا سوچ رہے ہو۔۔ تو پھر سکون کیسے آئیگا تمہیں ؟ ’’ اسے چکر لگاتے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ میں واقعی بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں معاذ ۔۔ مگر کل جب عامر بھائی نے مجھے فرار ہونے کا کہا۔۔ تو ایسا پہلی بار ہوا کہ دل نے انکار نہیں کیا ۔۔وہ فوراً مان گیا ۔۔ میں کیسے یہ بات مان گیا مجھے نہیں معلوم۔ ۔ یہ بھی سچ ہے کہ میں بے چین ہوں۔۔ کیونکہ میں پہلی بار حالات سے بھاگ رہا ۔۔ میں پہلی بار مجبوریوں کے آگے جھک رہا ہوں۔۔ مگر اس کے باوجود دل ناجانے کیوں مطمئن ہے ۔۔ اس لئے میں بھی مطمئن ہوں ‘‘ اس کی باتوں میں سچائی تھی اور معاذ سمجھ چکا تھا کہ اب اسے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔۔ اس لئے وہ بھی مان گیا تھا۔۔

’’ مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا کیونکہ مجھے یہاں انکل کو بھی سنبھالنا ہے۔۔ مگر ایک بات پکی ہے۔۔ میں زیادہ دن تمہیں نہیں بخشنے والا ۔۔ جلدی آجاؤنگا تمہارے پاس ’’ اس نے بھی کھڑے ہوکر اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ جانتا ہوں۔۔ میرے اتنے اچھے نصیب کہاں ؟ مگر میں اکیلا نہیں ہونگا عامر بھائی کا ایک جاننے والا وہاں ہے۔۔ میں اسی کے ساتھ رہونگا ’’ عرش کی بات پر وہ مسکرایا تھا۔۔

’’ ویسے عامر بھائی نے بھی پوری تیاری کی ہوئی ہے ’’ اس نے ہنس کر کہا تھا۔۔ عرش بھی مسکرایا تھا۔۔

’’ ویسے جا کہاں رہے ہو تم ؟ ’’ معاذ کو یہ پوچھنے کا خیال اب آیا تھا۔۔۔ عرش نے پلٹ کر اپنے ٹیبل پر رکھی ایک میگزین کو دیکھا تھا۔۔

جس کے سرورق پر آئیفل ٹاور کی تصویر بنی تھی ۔۔ معاذ سمجھ چکا تھا ۔۔ وہ پیرس جارہا تھا ۔۔

part 2

وہ دو دن سے الہام کی باتوں کو سوچ رہا تھا ۔۔ اور فیصلہ وہ کر چکا تھا۔۔ اور یہ فیصلہ وہ الہام کو بھی سنا چکا تھا۔۔ جس پر وہ بے حد خوش ہوئی تھی۔۔۔ مگر پارسا کو ابھی اس بارے میں ان دونوں نے کچھ نہیں بتایا تھا۔۔ چار دن بعد پارسا کی سالگرہ تھی اور اسی دن وہ اسے سب بتانے والے تھے۔۔ الہام کو اس کے لئے بہت سی تیاریاں کرنی تھی اور حامد اسکے ساتھ ساتھ تھا۔۔ احتشام کی آج کل ڈبل ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔۔ جس کی وجہ سے اسے بلکل بھی ٹائم نہیں مل رہا تھا ۔۔ اس وقت بھی وہ حامد کے ساتھ شاپنگ پر آئی تھی۔۔ اسے پارسا کے لئے گفٹ لینا تھا۔۔ جوکہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ پورا مال گھوم کر بھی اس نے کچھ نہیں لیا تھا۔۔

’’ خدا کا خوف کرو الہام۔۔ پورا مال گھوم چکی ہو تم۔۔ ابھی تک ایک چیز نہیں لی تم نے ’’ وہ جو اتنی دیر سے اسکے ساتھ گھوم رہا تھا۔۔ آخر بول ہی پڑا۔۔

’’ ہاں تو کیا کروں؟ کچھ پسند ہی نہیں آرہا ’’ الہام کو جیسے اس سے بڑی پریشانی تھی۔۔

’’ ہر سال تو تم پہلے سے سوچ کر آتی تھی کہ کیا لینا ہے۔۔ اس بار کیا ہوا تمہیں ؟ ’’ وہ اب تھک چکا تھا۔۔ اس لئے رک کر پوچھنے لگا۔۔ اسکی وجہ سے الہام کو بھی رکنا پڑا تھا۔۔

’’ کیونکہ ہر بار تو میں صرف انکی سالگرہ کا تحفہ لیتی تھی مگر اس بار بات کچھ الگ ہے’’ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔ حامد نے اسے غور سے دیکھا تھا۔۔ آج اسکے چہرے پر ایک خوشی تھی ۔۔

’’ اس مرتبہ بات الگ کیوں ہے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ کیونکہ احتشام بھائی پارسا کو اس دن پرپوز کرنے والے ہیں ’’ اس نے اسکے کان کے پاس آکر کہا تھا اور حامد ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا۔۔

’’ سچ میں ؟ ’’ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔

’’ یس ۔۔ اس لئے تو میں کچھ سپیشل لینا چاہتئ ہوں۔۔ مگر سمجھ ہی نہیں آرہا ’’ اسے دوبارہ اپنی پریشانی یاد آئی تھی۔۔

’’ ارے تو پہلے بتاتی نا۔۔ آؤ میرے ساتھ ’’ وہ اب اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک گولڈ کی شاپ کی طرف لے کر آیا تھا۔۔ وہ خاموشی سے وہاں بیٹھ گئ تھی۔۔ جبکہ حامد شاپ کیپر سے کچھ کہہ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر بعد دکاندار نے ایک بکس اسکے سامنے رکھا اور اسے کھولا تھا۔۔ سامنے ہی دو کپل رنگز جگمگا رہی تھی۔۔ جن میں سے ایک گولڈ کی اور ایک سلور میں مردانہ سٹائیل کی تھی۔۔

’’ واؤ ! کتنی خوبصورت ہیں ’’ الہام نے انہیں چھوتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں یہ کپل رنگز ہیں ویسے تو یہ دونوں ہی گولڈ کی ہوتی ہیں مگر کیونکہ ہم مردوں پر سونا حرام ہے۔۔ اس لئے میں نے ان سے مردانہ انگوٹھی سلور کی لانے کو کہا تھا۔۔ شکر ہے کہ پہلے سے بنی تھی اور ایک ہی تھی یہ۔۔ ورنہ مسئلہ ہوجاتا ’’ حامد اسے بتا رہا تھا اور وہ ان انگوٹھیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

’’ بہت پیاری ہیں۔۔ تم یہ پیک کروا دو’’ اس نے اپنا کارڈ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا اور وہ اب کارڈ سے پیمنٹ کررہا تھا۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ الہام اپنا تحفہ اپنے پیسوں سے ہی لیتی تھی۔۔

’’ چلیں اب ؟ ’’ اس نے بیگ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں چلو ’’ وہ مسکرا کر آگے بڑھی تھی۔۔

آج اسکی فلائیٹ تھی پاپا کے علاوہ سب جانتے تھے اسکے جانے کا۔۔ اس لئے سب ہی اسے ائیرپورٹ تک چھوڑنے گئے تھے اور ساتھ ہی گھر واپس آئے تھے۔۔ جہاں پاپا ان لوگوں کا انتظار کر رہے تھے ۔۔ وہ سب انہیں دیکھ کر چونک گئے تھے۔۔

’’ عرش کہاں ہے ؟ ’’ پاپا کی گرجدار آواز نے سب کو سہما دیا تھا۔۔ سوائے عامر کے۔۔

’’ جاچکا ہے وہ ’’ جواب بھی اسی نے دیا تھا۔۔

’’ کہاں ؟ ’’ ایک اور سوال تھا۔۔

’’ یہاں سے بہت دور جہاں کوئی اس کے ساتھ زبردستی نہ کر سکے ’’ جواب پھر اسی کی طرف سے آیا تھا۔۔

’’ یہ پٹی بھی تم نے ہی اسے پڑھائی ہوگی۔۔ آخر تم چاہتے کیا ہو ؟ ’’ وہ اب اس پر گرجے تھے۔۔

’’ انکل پلیز ۔۔ آپ آرام سے بات کریں۔۔ ہم آپکو سب سمجھا دینگے ’’ اس بار جواب معاذ کی طرف سے آیا تھا۔۔

’’ تم سے تو میں بعد میں نمٹونگا۔۔ تمہیں اپنے بیٹے کے ساتھ میں نے اس لئے نہیں رکھا تھا کہ تم اسے گھر سے بھگا دو’’ توپوں کا رخ اب معاذ کی طرف ہوا تھا۔

’’ میں نے وہی کیا جو ایک اچھے دوست کو کرنا چاہئے اور مجھے اس میں اپنی کوئی غلطی نظر نہیں آتی ’’ معاذ نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں تم دونوں نے دوستی نبھائی ایک بیٹے کو اسکے باپ سے دور کر کے ؟ ’’ دونوں کی طرف اشارہ تھا۔۔ رانیہ خاموش کھڑی تھی۔۔ اس میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔

’’ دور ہم نے نہیں آپ نے کیا ہے اسے خود سے ۔۔ اگر آپ اسے اپنے قریب رکھتے تو وہ آپکے ساتھ ہوتا ’’ عامر نے جواب دیا تھا۔۔۔

’’ میں اسکا باپ ہوں۔۔ میں اسکے لئے کچھ برا نہیں کرسکتا ‘’ وہ اب بھی اپنی بات پر قائم تھے۔۔

’’ اگر باپ تھے آپ۔۔ تو ایک باپ بن کر اس سے پوچھتے کہ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے ؟ اسکے دل کا حال جاننے کی کوشش کرتے ۔۔ اسکے مسئلے۔۔ اسکی پریشانی جاننے کی کوشش کرتے ۔۔ اسے احساس دلاتے کہ آپ اسکےساتھ ہیں۔۔ تاکہ وہ آپکو اپنا حال بتاتا ’’ عامر کی بات پر وہ چونکے تھے۔۔ ایسا کیا تھا جو انہیں نہیں معلوم تھا ؟

’’ کیا کہنا چاہتے ہوں ؟ کیا مسئلہ ہے اسے ؟ ’’ وہ اب پہلے سے تھوڑے دھیمے لہجے میں بولے تھے۔۔

’’ محبت ’’ جواب معاذ کی طرف سے آیا تھا اور مظہر صاحب کے سر پر بجلی گری تھی۔۔

’’ آپ اسکے سامنے دنیا کی کسی بھی لڑکی کو لے آئیں انکل ۔۔ وہ کتنی کی حسین کیوں نہ ہو ، عرش کبھی کسی سے شادی نہیں کرسکتا۔۔ وہ کبھی کسی کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ اسکا دل تو سات سال پہلے ہی کسی کو قبول کر چکا تھا ۔۔۔ وہ تو سات سال پہلے ہی۔۔دل کو بھانے والی سب سے حسین لڑکی سے مل چکا تھا ۔۔ وہ تو سات سال پہلے ہی کسی سے شادی کی خواہش پال چکا تھا ۔۔ وہ اب کسی سے شادی کرنے کے قابل نہیں رہا انکل۔۔ کیونکہ اسے مرض ہے ۔۔ایک لاعلاج مرض۔۔ محبت کا مرض۔۔۔ اور اسی محبت کے انتظار میں اس نے سات سال گزارے ہیں ۔۔وہ آپکے دیئے ہوئے سات دنوں پر اپنے سات سال کے انتظار کو قربان نہیں کر سکتا انکل ۔۔ وہ آخری دم تک انتظار کرتا رہے گا ۔۔ اس الہام کا جو اسے اسکی محبت کا پتہ دے ۔۔ وہ آپکی ضد کے لئے ۔۔ اس الہام کا انتظار ختم نہیں کر سکتا تھا ۔۔ کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ الہام اسے ضرور آئیگا ’’ معاذ نے کہا تھا۔۔ اور وہاں موجود ہر شخص اسے خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔ مظہر صاحب تو جیسے صدمے میں تھے۔۔ انہیں تو کبھی یہ احساس تک نہیں ہوا تھا ۔۔ وہ اپنے ہی بیٹے سے اتنے انجان رہے تھے ۔۔ واقعی وہ اسکے ساتھ نہیں تھے۔۔ تو پھر اسنے جانا ہی تھا انہیں چھوڑ کر ۔۔ عرش غلط نہیں تھا ۔۔ وہ صحیح نہیں تھے ۔۔

وہ اس وقت پیرس کے ائیر پورٹ کے باہر کھڑا تھا۔۔ یہ اکتوبر کا مہینہ تھا۔۔ ویسے تو اس مہینے میں وہاں خزا کا موسم ہوتا ہے۔۔ مگر موسم ٹھنڈا اور بارشوں کی وجہ سے سردی ہی محسوس ہوتی تھی۔۔ بادلوں سے بھرے آسمان اور خزاں کی ملاوٹ نے پیرس کا موسم نہایت خوشگوار بنایا ہوا تھا۔۔ وہ بھی اسی حساب سے ڈریسنگ کیے ہوئے تھا۔۔ بلو کلر کی پینٹ کے اوپر ٹی شرٹ اور اسکے اوپر بلیک کلر کی جیکیٹ پہنے ہوئے ، اپنے ماتھے تک آتے بالوں کو انگلیوں کی مدد سے پیچھے کرتے اس نے سامنے دیکھا تھا ۔۔۔ اور بال دوبارہ ماتھے پر گر گئے تھے ۔۔ سامنے لوگوں کی ایک قطار بنی تھی۔۔ جہاں سب کسی ناکسی اپنے کو پِک کرنے آئے ہوئے تھے۔۔ اور کچھ لوگ نام کا بینل لے کر کھڑے ہوئے تھے۔۔ یہ اس لئے تھا کہ کچھ لوگ کئ ایسے لوگوں کو پِک کرنے آتے تھے جنہیں وہ پہچانتے نہیں تھے۔۔ اس لئے آنے والا اپنا نام پڑھ کر خود ان تک آجاتا تھا۔۔ وہ بھی اسی قطار میں نظریں گما رہا تھا۔۔ عامر بھائی کا کوئی جاننے والا اسے لینے آنے والا تھا۔۔ یقیناً وہ بھی انہیں میں سے کوئی تھا ۔۔ تھوڑی دیر کی تلاش کے بعد اسے اپنا نام نظر آہی گیا تھا جو کہ ایک لڑکے نے پکڑ رکھا تھا۔۔ عرش نے اسکی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔ اس نے بھی اسے آتے دیکھ کر بینل رکھ دیا تھا۔۔

’’ ہیلو آئی ایم عرش ’’ عرش نے پاس پہنچ کر ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ تھینک گاڈ آپ آگئے مسٹر عرش ! آئی ایم حامد ’’ حامد نے عرش سے ہاتھ ملایا تھا اور اب وہ دونوں حامد کی گاڑی کی طرف جارہے تھے ۔۔

‘‘ سفر کیسا رہا آپکا ؟ ’’ اسکا سامان رکھنے کے بعد حامد نے پوچھا تھا۔۔ ساتھ ہی اسکے لئے فرنٹ ڈور کھولا تھا۔۔

’’ اچھا رہا ۔۔ یہاں کا موسم بہت اچھا ہے ’’ حامد نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔۔ جب عرش نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں۔۔ موسم تو یہاں کا بہت اچھا ہے مگر سردی ہم پاکستانیوں کے لئے بہت زیادہ ہے۔۔ امید ہے آپ تیاری کے ساتھ آئیں ہونگے ؟ ’’ حامد نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں ۔۔ مگر مجھے لگ رہا ہے کہ اس موسم کے حساب سے مجھے شاپنگ کرنی ہوگی ’’ اسکی نظریں اب بھی آسمان پر تھی۔۔

’’ بلکل ۔۔ آج آپ آرام کر لیں پھر کل ہم آپکی شاپنگ کرنے جائینگے ’’ حامد کی بات پر عرش نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا تھا۔۔

’’ آپکو میری وجہ سے تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں خود کر لونگا ’’ وہ واقعی اسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔

’’ ارے پریشانی والی بات نہیں۔۔ ایک تو یہ کہ مجھے بھی کل جانا ہے کچھ لینے اور دوسرا یہ کہ اب ہم دوست ہیں۔۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہینگے تو ایک دوسرے کا ساتھ بھی تو دوینگے نا ؟ ’’ حامد نے مسکرا کر کہا تھا۔۔

’’ بلکل ’’ عرش نے کہہ کر دوبارہ باہر نظر دوڑائی تھی۔۔

جانے کیوں اسے یہ موسم بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔ ایک عجیب سا سکون تھا جو اسے محسوس ہورہا تھا۔۔ وہ تو سوچ رہا تھا کہ اپنے ملک سے دور رہ کر ، اپنوں سے دور رہ کر وہ بے چین ہوگا ؟ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔ یہاں تو سب کچھ اچھا لگ رہا تھا اور اپنا اپنا سا ۔۔ جانے کیوں ؟

حامد نے اپنے فلیٹ کے سامنے گاڑی پارک کی تھی۔۔

’’ سوری عرش۔۔ ایکچولی مجھے ہسپتال جانا ہے اس لئے ابھی میں آپکو کمپنی نہیں دے سکوں گا۔۔ پر شام کو میں آپکےساتھ ہونگا ’’ حامد نے معذرت خوا لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ ارے اسکی ضرورت نہیں میں۔۔ خود ایک ڈاکٹر ہوں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں ’’ عرش نے اپنا سامان گاڑی سے نکالتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ تھینک یو ۔۔ یہ چابی ہے فلیٹ کی۔۔ شام کو ملاقات ہوتی ہے ’’ اس نے عرش کی طرف چابی بڑھائی تھی۔۔ جسے اس نے تھام لیا تھا اور اب وہ فلیٹ کی اندر جارہا تھا۔۔ جبکہ حامد ہسپتال کا رخ کر چکا تھا ۔



اس نے فلیٹ پر ایک طاہرانہ نظر ڈالی تھی۔۔ یہ جدید طرز کا بنا ہوا چھوٹا سا فلیٹ تھا۔۔ جس میں دو بیٹ روم ، ٹی وی لانچ ، امیرکن سٹائیل کا بنا ہوا کچن۔۔ جہاں ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں ، سامنے ہی ایک ڈائیننگ ٹیبل جس کے درمیان میں ایک پھولوں کا گلدان اور آس پاس کرسیاں موجود تھیں۔۔ تقریباً آٹھ چھ افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی ۔ اس نے دونوں کمروں کو دیکھا تھا۔۔ ایک کمرے میں حامد کا سامان موجود تھا اور ایک یقیناً اسی کے لئے سیٹ کیا گیا تھا۔۔اس کمرے میں بھی ضرورت کی ہر چہز موجود تھی۔۔ بلیو اور وائیٹ کلر کے کامبنیشن سے بنے ہوئے وال اور اسی کے ہم رنگ پردے ، بیڈ اور فرنیچر سے روم نہایت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔ اس نے ہر چیز کی نظروں سے تعریف کی تھی اور پھر اپنا سامان اٹیچ باتھ کے ساتھ بنی الماری میں سیٹ کرنے لگا تھا ۔۔ سامان سیٹ کرنے کے بعد اس نے کھڑکی کے آگے سے پردے ہٹائے تھے۔۔ جہاں ایک دروازہ موجود تھا اور اسکے باہر ایک چھوٹا سا ٹیرس تھا ۔۔ تھوڑی دیر بعد اپنے لئے ایک چائے کا کپ اور لیپ ٹاپ لے کر وہ ٹیرس پر موجود کرسی پر آکر بیٹھ گیا تھا۔۔ کپ سامنے رکھی میز پر رکھ دیا تھا اور اب وہ معاذ اور عامر بھائی کو اپنے پہنچ جانے کی اطلاح دینے کے لئے ای میل کر رہا تھا ۔۔ اس کام سے فارخ ہوکر اسے نیند کا احساس ہوا اور وہ بیڈ پر آکر لیٹا تھا ۔۔ اسے یہاں سب اچھا لگ رہا تھا ۔۔ وہ جانتا تھا پاپا کو جب معلوم ہوگا تو وہ بہت غصہ ہونگے مگر اسے اس وقت انکے غصے کی فکر نہیں ہورہی تھی ۔۔ وہ یہاں آگیا تھا اور اسے اب یہاں جاب تلاش کرنی تھی ۔۔ اسے یہاں رہنا تھا اور اسے لگ رہا تھا کہ یہاں رہنا اتنا برا نہیں ہوگا ۔۔ ایک سکون تھا اس جگہ پر ۔۔ ناجانے کیوں مگر جس پریشانی کے عالم میں وہ یہاں آیا تھا اب وہ اسکے دماغ پر حاوی نہیں تھی ۔۔ اس نے سوچا ۔۔ اسکا یہاں آنے کا فیصلہ ٹھیک تھا ۔۔ اور اسی سوچ میں وہ جانے کب سوچکا تھا ۔۔

شام کو وہ عرش کی وجہ سے جلدی گھر آگیا تھا ۔۔وہ اسکا مہمان تھا اور اسے وقت دینا بھی ضروری تھا۔۔ جس وقت وہ اپنے فلیٹ میں آیا۔ عرش کچن میں چائے بنا رہا تھا۔۔

’’ ارے آج ہی تو تم آئے ہو ۔۔ آرڈر کر دیتے چائے ۔۔تھکن ہورہی ہوگی تمہیں ’’ وہ اسے چائے بناتے دیکھ کر اسکے پاس آیا تھا۔۔

’’ میں پورا دن سوتا رہا تھا۔۔ اب تھکن اتر گئ ہے۔۔ تم فریش ہوکر آجاؤ پھر ساتھ چائے پیتے ہیں ’’ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ اوک ’’ حامد مسکرا کر اندر چلا گیا تھا۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں ٹی وی لاونچ میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔

’’ اور اب آگے کا کیا پلین ہے تمہارا ؟ عامر بھائی بتا رہے تھے کہ تم لمبے عرصے کے لئے آئے ہو ؟ ’’ حامد اب اسکے متعلق پوچھ رہا تھا۔۔

’’ ہاں۔۔ مجھے یہاں کافی لمبا عرصہ گزارنا ہے اس لئے مجھے اب جاب کی تلاش شروع کرنی ہے ’’ اس نےچائے کا گھونٹ لیتےہوئے کہا تھا۔۔ یہ تو وہ پاکستان سے ہی سوچ کر آیا تھا کہ وہ اب پانچ یا چھ سال سے پہلے وہ یہاں سے واپس نہیں جائیگا۔۔

’’ یہ بھی اچھا ہے۔۔ ویسے میرے ایک جاننے والے سینئیر ڈاکٹر ہیں۔۔ مجھے یقین ہیں وہ کسی ہسپتال میں تمہاری جاب کروا دیں گے ’’

’’ تم نے ویسے ہی مجھے اپنے فلیٹ میں جگہ دی ہے۔۔ میں تمہیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا ’’ عرش کو اسے تکلیف دینا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔

’’ یہ کیا بات کردی تم نے ۔۔ بھئی ہم دوست ہیں ۔۔ تو ایک دوسرے کا ساتھ دینگے نہ ؟ اور تم پریشان مت ہو۔۔ فری میں تھوڑی کر رہا مدد ۔۔ جیسے ہی جاب لگے گی تم مجھے اچھی سی ٹریٹ دینا ’’ حامد نے کہا تھا۔۔

’’ ضرور دونگا ’’ عرش کو فوراً معاذ کا خیال آیا تھا۔۔ وہ بھی ہر کام کرنے کی ٹریٹ لیتا تھا۔۔

’’ پھر ایسا کرتے ہیں کل ہم شاپنگ پر جائیگے اور پرسوں میں تمہیں ان سے ملوا دونگا۔۔ بلکہ ایک اور آئیڈیا ہے ’’ حامد نے اچانک ہی ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ پرسوں ہماری ایک فرینڈ کی برتھ ڈے ہے۔۔ تم میرے ساتھ چلنا ’’ حامد کی بات عرش کو تھوڑی عجیب لگی تھی۔۔

’’ میں کیسے جاسکتا ہوں؟ میں انہیں جانتا تک نہیں ہو اور اس طرح بناجان پہچان کے جانا عجیب لگے گا ’’ عرش کی بات پر حامد ہنسا تھا۔۔

’’ ارے بھائی۔۔ جان پہچان کے لئے ہی تو جارہے ہیں اور پھر تم میرے دوست ہو۔۔ اس لیے انجان نہیں ہو۔۔ بس تم کل گفٹ بھی لے لینا ۔۔ پرسوں ہم دونوں ساتھ جائینگے ’’ حامد سب ڈیسائیڈ کر کے اپنی چائے کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔۔ جبکہ عرش بھی مسکرایا تھا۔۔ وہ جانتا تھا یہاں اتنی جلدی جاب ملنا بہت مشکل تھا۔۔ ہاں اگر کوئی اپکی مدد کر دے تو جاب آسانی سے لگ جانی تھی۔۔۔ اور اس وقت اسے جاب کی ضرورت تھی۔۔ کیونکہ وہ زیادہ عرصہ حامد کے فلیٹ میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔۔ اسے اپنے رہنے کا خود بندوبست کرنا تھا۔۔ اور اس کے لئے اسے جاب چاہئیے تھی ۔۔ اور اس کے لئے اسے حامد کے اس جاننے والے سے بھی ملنا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *