Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz NovelR50632 Ay Raaz e Dil (Episode 02)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Ay Raaz e Dil (Episode 02)Part 1,2
Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz
’’ رابعہ نے تو آج میرے دل کی بات کہہ دی ہے۔۔ احتشام کو میں ہمیشہ تمہارے لئے ہی سوچتی تھی ’’ وہ اربش سے اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔۔
’’ خوش تو میں بھی بہت ہوں مگر احتشام انکار نہ کردے ’’ اس نے اپنا خدشہ بیان کیا تھا۔۔
وہ کیوں انکار کریگا ؟؟ رابعہ کی کسی بات سے آج تک اسنے انکار نہیں کیا ’’ انہوں نے اسے مطمئن کیا تھا۔۔ ’’
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ انکار کی کوئی وجہ بھی نہیں اسکے پاس۔۔ مگر الہام ؟؟ ’’ اس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا۔۔ ’’
’’ وہ کچھ نہیں کرسکے گی ۔۔ ویسے بھی دونوں بہن بھائی بنے پھرتے ہیں ۔۔ تو پھر الہام کا نام تو احتشام لے ہی نہیں سکتا’’ انکی بات پر اربش نے سر ہلایا تھا۔۔
’’ اللہ کرے ایسا ہی ہو ’’
’’ بس آج تمہارے پاپا آجائیں تو میں ان سےبات کرونگی۔۔ رابعہ بھی کچھ دن میں باقاعدہ بات کرنے آجائے گی۔۔ میں دیر بلکل نہیں کرونگی ۔۔ شادی فوراً ہوگی ’’ وہ فیصلہ کن انداز میں کہتی ہوئئں اسکے کمرے سے چلی گئی تھی۔۔
’’ دیر تو میں بھی نہیں کرنا چاہتی ’’ وہ مسکرائی تھی ۔۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ ۔۔
وہ دونوں یونیورسٹی سے ساتھ نکلی تھیں۔۔ جب سامنے ہی اسے احتشام بھائی نظر آئے تھے۔۔
آؤ اریج تمہیں میں اپنے بھائی سے ملواتی ہوں ’’ وہ اسکا بازو پکڑ کر کہہ رہی تھی۔۔ ’’
’’ نہیں یار میرا ڈرائیور آگیا ہے ۔۔ پھر کبھی صحیح ’’ اس نے اپنے ڈرائیور کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ جو اسکی انتظار میں کھڑا تھا۔
’’ چلو ٹھیک ہے کل ملتے ہیں۔۔ بائے’’ وہ اسے الوداع کہہ کر احتشام کی جانب آئی اور کار کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔۔ احتشام نے اسکے بیٹھتےہی گاڑی آگے بڑھائی تھی ۔۔۔
’’ جی تو کیسا رہا آپکا آج کا دن؟ ’’ اس نے تھوڑی دیر بعد پوچھا تھا۔۔
اچھا تھا’’ وہ تھک گئ تھی ۔۔ ’’
’’ کوئی فرینڈ تو نہیں بنی ہوگی ابھی؟’’ وہ اس کی عادت سے واقف تھا۔۔ وہ اتنی جلدی دوستی نہیں کرتی تھی ۔۔
۔۔ بلکل بنی ہے ’’ اس نے احتشام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا ’’
’’ سچ میں ! ’’ وہ چونکا تھا ۔۔ ’’ پہلے دن تمہیں تمہارے ٹائیپ کی لڑکی مل گئی ’’ وہ حیران ہوا تھا یہ پہلی بار تھا کہ اس نے کسی سے اتنی جلدی دوستی تھی۔۔۔
بلکل مل گئی اور وہ ہے بھی بہت اچھی’’ وہ مسکرائی تھی ۔۔ ’’
’’ گریٹ’’ وہ کہہ کر خاموش ہوا تھا ۔۔۔ اسے خود بھی ہسپتال جلدی پہنچنا تھا اور الہام بھی کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔کچھ دیر بعد اس نے خان ہاؤس کے سامنے گاڑی روکی تھی۔۔
’’ اندر آجائیں چائے پیتے ہیں ساتھ’’ الہام نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ نہیں میں نے جلدی ہسپتال جانا ہے اگلی بار ضرور پیونگا ’’
اوک ۔۔ صبح آٹھ بجے پک کر لیجئے گا کلاس ہے میری ’’ باہر نکلتے ہوئے اس نےکہا تھا ۔۔ ’’
’’ ضرور میڈم ’’ وہ گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر جانے کے لئے پلٹی تھی اور احتشام نے گاڑی آگے بڑھائی تھی۔۔
مین گیٹ سے اندر آکر اسے لان میں ہی ماما پاپا اور اربش چائےپیتے ہوئے نظر آئے تھے۔۔ صبح بھی اس کی پاپا سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ ان کی طرف بڑھی تھی۔۔
’’ اسلام و علیکم ! کیسے ہیں آپ؟ ’’ پاپا کی گلے میں بازوں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔۔
پہلے ٹھیک تھا مگر اپنی بیٹی کو دیکھ کر اور اچھا ہو گیا ہوں’’ انہوں نے پیار سے اسکے ماتھے کو چوما تھا ۔۔ ’’
’’ چائے منگواتی ہوں تمہارے لیے۔۔ بیٹھوں تم ’’ عائشہ بیگم نے اپنا چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ نہیں میں پہلے فریش ہوجاؤں پھر چائے پیونگی’’ اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے تم فریش ہوجاؤ۔۔ میں تمہاری چائے روم میں ہی بھجواتی ہوں ۔۔تھوڑا آرام کرو اب’’ عائشہ بیگم نے کہا تھا۔’’
وہ کہہ کر اب اندر چلی گئ تھی ۔۔۔ ’’اوکے’’
وہ شاور لے کر باہر آئی تھی۔ جب کمرے کے دروازے پر کسی نے دستک دی تھی۔۔
’’ آجائیں’’ آئینے کے سامنے وہ اپنے بال ڈرائے کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ اربش چائے کا کپ لے کر کمرے میں داخل ہوئی اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر کپ رکھا تھا۔۔ وہ حیران ہوکر پلٹی تھی۔۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ اس کے لئے خود چائے لے کر آئی تھی۔۔۔ یقیناً کوئی بات تھی۔۔
’’ اتنی حیران کیوں ہورہی ہو اپنی بہن کے لئے چائے تو لاسکتی ہوں میں اب’’ وہ عجیب مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔۔
‘’ بلکل لاسکتی ہو۔۔ شکریہ تمہارا تم نے اپنی اس بہن کا خیال رکھا’’ عام سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے چائے کا کپ اٹھایا تھا۔۔
’’ ارے شکریہ کیسا ؟ ویسے بھی آج میں بہت خوش تھی تو سوچا اپنی بہن سے اپنی خوشی شیئر کر لوں ’’ وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں چمک تھی۔۔ الہام کو یہ چمک کسی خطرے کی نشانی لگی تھی ۔۔
’’ تو شیئر کرو ’’ مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ کوئی بات ہ۔۔ے جو اس کی آنکھوں میں چمک لائی ہے اور شاید اس کے لئے وہ خوشی کی خبر نہ ہو۔۔
آج پھوپھو آئی تھیں۔ پوچھو کیوں؟ ’’ ایکسائیٹمنٹ سے کہا تھا ۔۔۔ ’’
’’ کیوں ؟’’ چائے تھا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔۔
’’ احتشام کا پروپوزل لے کر وہ بھی میرے لئے ! ہے نا خوشی کی بات’’ وہ اچھل کر کہہ رہی تھی ۔۔۔ اور اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھیں۔۔۔ اپنے کانوں پر اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ کیا یہ سچ تھا؟ مگر ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟
’’ ارے دیکھو۔۔ تم سےتو خوشی سے کچھ کہا ہی نہیں جارہا ’’ وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ بول رہی تھی۔۔ اور اسکی زبان جیسے بولنا بھول گئی تھی۔۔۔
’’ کہا تھا نہ ۔۔ تمہاری ہر چیز میری ہے ۔۔ تمہاری نہیں ’’ اس نے اسکےکان کے قریب آکر کہا تھا ۔۔۔ اور پھر وہ پلٹی تھی۔۔ کمرے کا دروازہ کھول کر دوبارہ پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔۔
’’ ویسے الہام۔۔ تمہیں احتشام نے تو نہیں بتایا ہوگا نہ اس بارے میں ؟ شاید سرپرائز دینا چاہ رہا ہوگا’’ آخری بات کہہ کر وہ کمرے سے جاچکی تھی۔۔ مگر وہ اپنی جگہ ہل بھی نہیں سکی تھی۔ آخر یہ کیا ہورہا تھا ؟ احتشام نے اسے کیوں نہیں بتایا تھا ؟ کیا وہ اربش کو پسند کرتے ہیں ؟ کیا محبت کرتے ہیں ؟ انہیں معلوم تھا وہ اس بات کی مخالفت کرے گی؟ کیا اس لئے انہوں نے اسے اندھیرے میں رکھا تھا ؟ کیا اسکا اہم رشتہ اس سے دور جانے والا تھا ؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔ وہ ایسا نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔ وہ اپنا بھائی نہیں کھو سکتی تھی۔۔۔ اس نے موبائیل اٹھایا تھا۔۔ ایک نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔ بیل جارہی تھی مگر کوئی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا۔۔ اس نے دوبارہ نمبر ملایا تھا۔۔۔ پھر کوشش کی تھی ۔۔۔بار بار کی تھی۔۔۔ مگر کوئی جواب نہیں آرہا تھا۔۔۔ کچھ دیر بعد اس نے موبائیل بیڈ پر پھینکا تھا۔۔ جانے کتنا وقت کمرے کے چکر لگاتے ہوئے گزرا تھا؟؟ شاید پورا دن ہی ۔۔۔۔
ملازم رات کے کھانے پر اسے بلانے آئے تھے ۔۔ مگر اس نے تھکن کا بہانہ بنا کر منع کر دیا تھا۔۔ وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ وہ اس وقت صرف ایک انسان سے بات کرنا چاہتی تھی ۔۔
دس بجے کے قریب اس کا موبائیل بجا تھا۔۔ اس نے نام دیکھتے ہی کال ریسیو کی تھی۔
’’ کہا تھے آپ ؟ اتنی کالز کی میں نے ’’ وہ فوراً بولی تھی۔۔
’’ سوری یار ایک آپریشن میں مصروف تھا۔۔ کالز کا پتہ ہی نہیں لگا۔۔ ابھی ابھی ہی فری ہوا ہوں میں ’’ وہ ہسپتال سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے کان سے فون لگائے بول رہا تھا۔۔۔
’’ آپ جانتے ہیں آج پھوپھو گھر آئی تھیں ’’ اس نے سوال کیا تھا۔۔ ایک امید سے ۔۔ کہ شاید وہ نہ جانتا ہو ۔۔
ہاں ماما صبح کہہ رہی تھیں جانے کا ’’ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھا تھا۔۔ ’’
آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ یہاں کیوں آئی تھیں ؟’’ ایک اور سوال ہوا تھا ۔۔ تو’’
’’ ظاہر ہے آنٹی سے ملنے گئی تھیں ’’ عام سا انداز تھا اور اس عام سے انداز نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔۔
’’ وہ صرف ملنے نہیں۔۔ بلکہ آپکا پروپوزل لے کر آئیں تھیں’’ اس نے دھماکہ کیا تھا۔۔ اس گاڑی چلاتے اس کے ہاتھ ہاتھ رک گئے تھے۔۔۔ وہ حیران تھا۔۔ یہ کب کیسے ہوسکتا تھا ؟
’’ پروپوزل کس کے لئے ؟ ’’ اسے اب بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ظاہر ہے اربش کے لئے ۔ اور کون ہے یہاں ؟’’ وہ اسکی ناسمجھی پہ چڑ گئی تھی۔ ’’
’’ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ماما مجھ سے پوچھے بنا ایسا نہیں کر سکتیں ہیں ’’ اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔۔ اسے بتائے بنا وہ ایسا کیسے کر سکتی تھیں ؟
ایسا ہوچکا ہے احتشام بھائی اور اگر آپ کو سچ میں کچھ نہیں معلوم تو جائیں اور جاکر آنٹی سے پوچھے’’ وہ غصے میں تھیں ۔’’
’’ میں ابھی جاکر بات کرتا ہوں ماما سے ’’ اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔
صرف بات نہیں اس قصے کو ختم بھی کیجیئے گا’’ اس نے دہرایا تھا ۔’’
۔ ’’ مطلب؟’’ اسے اسکا انداز سمجھ نہیں آرہا تھا
’’ مطلب یہ کہ مجھے یہ شادی قبول نہیں ہے اور آپ ابھی جاکر انکار کرینگے آنٹی کو’’ اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا تھا۔
’’ مگر میں ایسے کیسے انکار کر سکتا ہوں ماما کو؟ وہ وجہ پوچھیں گی’’ وہ اب کنفیوز ہوگیا تھا ۔۔، الہام کیا چاہتی تھی ؟ اور وہ کیوں نہیں چاہتی تھی ؟
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔۔ مجھے بس انکار چاہئے ’’ اس نے حتمی انداز میں کیا تھا ۔۔ ’’
خیر تم پریشان نہ ہو۔ میں گھر جاکر بات کرتا ہوں’’ اس نے بات ختم کی تھی ۔۔ ’’
’’ جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوتا میں پریشان ہی رہونگی’’ وہ جانے کیا جتانا چاہتئ تھی۔۔۔ جانے وہ اتنی بے چین کیوں تھی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔میں صبح بتاتا ہوں تمہیں ماما سے بات کر کے’’ ’’
’’ اوکے بائے’’ الہام نے کال کٹ کر دی تھی۔۔ اب اسے صبح کا انتظار تھا اور کمرے کے دروازے کے باہر کھٹری اربش بھی پلٹ کر اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔۔
اس نے کمرے میں آکر دروازہ لاک کیا تھا ۔۔ وہ تو خوش تھی کہ احتشام سے اسکی شادی ہوگی مگر یہ الہام ؟ وہ اب بے چینی سے کمرے کے چکر لگا رہی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی کہ وہ اتنی آسانی سے احتشام کو اسکا نہیں ہونے دیگی اور اسکا شک صحیح نکلا تھا۔۔
’’ اگر احتشام نے رابعہ پھوپھو کو انکار کردیا تو ؟ ’’ یہ سوچ کر ہی اسے وحشت ہورہی تھی۔۔ اس نے فوراً سے موبائیل اٹھایا کر کسی کو کال ملائی تھی مگر کوئی جواب نہیں آرہا تھا۔۔ اس نے دوبارہ کال ملائی کی تھی۔۔ اب کی کال اٹھا لی گئ تھی۔۔
’’ اسلام و علیکم ’’ احتشام کی آواز تھی۔۔
’’ وعلیکم اسلام ! میں نے آپکو ڈسٹرب تو نہیں کیا ؟ ’’ اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ نہیں بولو تم اس وقت کیسے کال کی ؟ ‘’ اس نے گھڑی میں گیارہ کا ٹائم دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ میں بہت پریشان ہوں احتشام۔۔۔ مجھے لگا شاید آپ میری مدد کر سکیں ’’ آواز میں پریشانی واضح تھی۔
’’ ہاں کہو تم کیا بات ہے ؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ’’ وہ بھی پریشان ہوگیا تھا۔ آج سے پہلے تو کبھی اس نے کال نہیں کی تھی۔۔
’’ آپکو معلوم ہوگا کہ پھوپھو نے آج یہاں کیا بات کی ہے’’ اس نے بات کا آغاز کیا تھا اور دوسری جانب وہ سمجھ گیا تھا۔۔ اس کال کا مقصد ۔۔
ہاں جانتا ہوں ’’ ’’
’’ احتشام آپ بہت اچھے ہیں۔۔ میرے لئے یہ خوش نصیبی کی بات ہے کہ آپ میرے لائف پارٹنر بنے مگر الہام۔۔’’ وہ رکی تھی۔۔’’ اس نے آج مجھے بہت باتیں سنائی ہیں ’’ اس نے تیر کمان سے نکالا تھا ۔۔۔
کیا کہا اسنے ؟ ‘’ وہ حیران ہوا تھا۔۔ ’’
’’ احتشام میں تو آپ سے ایک کزن کی حیثیت سے بات کرتی ہوں۔۔ میں جانتی ہوں کہ الہام کو آپ اپنی بہن کی طرح سمجھتے ہیں اور میں بھی آپکی بہت عزت کرتی ہوں ۔۔۔ ہماری شادی کی خواہش تو ماما اور پھوپھو کی ہے۔۔ میں نے کبھی آپکو اس نظر سے نہیں دیکھا ۔۔ اور میں کیوں آپکو اس سے الگ کرونگی ۔۔ اس تمام قصے میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔۔ آپ یقین کریں میرا ’’ اب باقاعدہ آنسو بھی نکلے تھے۔۔۔
’’ اربش دیکھو رؤ مت۔۔ مجھے بتاو کیا کہا ہے الہام نے تمہیں ’’ وہ اب اس کے رونے پر پریشان ہوگیا تھا۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ اسے روتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
’’ اس نے کہا کہ میں آپکو پھانسنا چاہتی ہوں ۔۔ آ سے شادی کر کے میں آپکو اس سے دور کرنا چاہتی ہوں۔۔ اس نے بہت غلط الزامات لگائے ہیں مجھ پر احتشام ۔۔آپ پلیز الہام کو سمجھائیں ۔۔ میں ایسی ہرگز نہیں ہوں ’’ اس نے آخری پتہ پھینکا تھا۔۔۔
’’ یہ سب الہام نے کہا ہے ؟ ’’ الہام کی عادتوں سے واقف تھا۔۔ وہ اس طرح کی بات کسی سے کیسے کہہ سکتی تھی؟ وہ ایسی تو نہیں تھا ۔۔ مگر اس نے اس رشتے کو قبول نہ کرنے کا بھی تو کہا تھا ؟
’’ جی اسی نے کہا مجھے سب۔۔ اگر آپکو یقین نہیں ہے تو پوچھ لیجئے گا اس سے۔۔ پر پلیز آپ میری کال کا مت بتایئے گا ۔۔ورنہ وہ سمجھے گی کہ میں نے آپکو بھڑکانے کی کوشش کی ہے ’’ اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
اچھا تم فکر مت کرو میں اسکو سمجھاؤ گا ۔۔ وہ آئیندہ تمہیں کچھ نہیں کہے گی’’ وہ اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتا تھا ؟ ’’
تھینک یو احتشام۔۔ مجھے معلوم تھا آپ مجھے ضرور سمجھیں گے ’’ اب ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔ ’’
’’ تم اب جاکر فریش ہو اور رونا مت اب ’’ اس نے بات ختم کرنی تھی۔۔
اوک اللہ حافظ ’’ اربش نے کہہ کر کال کٹ کر دی تھی اور ایک بھرپور مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی۔۔ ’’
دوسری طرف وہ پریشان ہوگیا تھا۔۔ وہ تو ماما سے بات کرنے جارہا تھا مگر اربش کی کال نے اس کی سوچوں کا رخ بدل لیا تھا۔۔ اب اس نے ماما سے بات کرنے کا ارادہ ترک کر کے الہام سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ جس کے لئے اسے صبح کا انتظار تھا۔۔۔
آ ج خلاف معمول اس کی آنکھ خود ہی کھل گئ تھی۔۔
احتشام نے گھر کے باہر گاڑی روکی ہی تھی کہ اسے وہ سامنے سے بھاگتی ہوئی آتی نظر آئی تھی۔۔۔ وہ حیران رہ گیا تھا ’’ الہام خان اور صبح وقت پر تیار؟ ’’ یہ قدرت کا کونسا کرشمہ تھا ۔ وہ اس تک آئی تھی اور خود ہی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ بھی گئ تھی۔۔۔ وہ بھی حیرانگی لئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔۔
’’ کیا بات ہے آج تو میڈم بہت جلدی اٹھ گئیں۔۔ لگتا ہے سورج مغرب سے نکلنے والا ہے ’’ اس نے اپنی حیرانگی کا اظہار مزاق کی صورت کیا تھا۔۔۔
’’ سورج مغرب سے نا آجائے اس لئے جلدی آنکھ کھل گئ ’’ وہ سنجیدہ تھی۔۔
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ سورج مغرب سے آجائیگا ؟ ’’ وہ بھی اب اپنے سوالات کے جواب چاہتا تھا۔۔ ’’
آپکو قیامت سے ڈر نہیں لگتا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔۔ ’’
’’ نہیں کیونکہ جو ہونا ہے۔۔ اس سے نہیں ڈرنا چاہئے۔۔ ہاں ڈر صرف اللہ کا ہوتا ہے کہ روز قیامت جانے وہ بخشے گا یا نہیں؟ ’’ اسکی بات بھی ٹھیک تھی۔۔
’’ لیکن میں اس قیامت کی بات نہیں کر رہی ہوں ۔۔۔ میں اس قیامت کی بات کر رہی ہوں جو کہ زندگی میں آتی ہے۔۔ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے احتشام بھائی ’’ اس نے دیکھا۔۔ اس کی آنکھوں میں ڈر واضح تھا۔۔ وہ خوفزدہ تھی۔۔ وہ کس چیز سے ڈر رہی تھی ؟ کیا کچھ ہوا تھا ؟؟ یا کچھ ہونے والا تھا ؟؟ قیامت جیسا۔۔۔
تمہیں کونسی بات ڈرا رہی ہے الہام ؟ ایسی کیا چیز ہے جس سے قیامت کا ڈر ہے ؟ ’’ اس نے ایک پوچھا تھا۔۔ ’’
’’ مجھے رشتے ڈرا رہے ہیں۔۔۔ مجھے آپکی دوری ڈرا رہی ہے ، میرے پاس آپکے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ’’ اس نے کہا تھا اور احتشام کو اربش کی بات یاد آئی تھی۔۔
’’ تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تم سے دور ہوجاؤنگا ؟ یا تم مجھے کھو دوگی ؟ ’’ اب اگلا سوال ہوا تھا۔۔
’’ کیونکہ ایسا ہوجائیگا۔۔ اگر آپکی شادی اربش سے ہوگئ تو وہ ایسا ہی کریگی ’’ اس کی بات پر احتشام چونکا تھا یہی تو کل اربش نے اس سے کہا تھا۔۔۔ تو کیا الہام نے واقعی اس سے وہ سب باتیں کی تھیں ؟ یعنی اربش سچ کہہ رہی تھی۔۔
’’ تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ اربش مجھے تم سے چھین لے گی ؟ ’’ گاڑی یونیورسٹی کے سامنے روکتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ کیونکہ وہ بچپن سے مجھ سے سب چھینتی ہوئی آئی ہے ۔۔۔ اسےوہ سب چاہئے جو میرا ہے ’’ وہ نظریں جھکائے کہہ رہی تھی۔۔
’’ وہ تمہاری بہن ہے۔۔ تمہارا برا کیسے کر سکتی ہے؟ ’’ احتشام اب اربش کی باتوں کو سوچ رہا تھا۔۔
’’ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ میری بہن نہیں ہے اور آج آپ اسکی طرفداری کیوں کر رہے ہیں ؟ ’’ وہ اب غصہ ہوئی تھی۔۔ آج سے پہلے تو احتشام بھائی نے کبھی اس کی طرف داری نہیں کی تھی۔۔ پھر آج کیوں ؟؟
’’ میں اسکی طرفداری نہیں کر رہا۔۔ میں بس تمہیں اس بات کا احساس دلانا چاہتا ہوں کہ تم اسے اپنی سوتیلی بہن کی نظر سے مت دیکھو ، اس سوتیلے پن کی پٹی اتار کر دیکھوگی تو تمہیں احساس ہوگا کہ وہ تمہاری بہن ہے اور تمہارا برا نہیں چاہ سکتی ’’ احتشام کو احساس نہیں ہوا کہ وہ کیا کہہ گیا ہے؟ الہام اسکی بات پر تھوڑی دیر کے لئے سکتے میں چلی گئی تھی۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب احتشام اس سے کہہ رہا ہے ؟؟ اسکا بھائی ؟؟ اس کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔۔
’’ الہام تم ’’ وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر اسکی بات شروع ہونے سے پہلے ہی وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی اور بہت تیزی سے اس سے دور جارہی تھی۔۔ اسے اب احساس ہوا تھا کہ وہ کیا بول گیا ہے؟
وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے تیزی سے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتے کسی کے پاس سے گزری تھی۔۔ اسے احساس نہ ہوا کہ کوئی اس کے آنسو دیکھ چکا تھا۔۔۔ کسی کے چلتے قدموں کو اس کے آنسوؤں نے روک دیا تھا۔۔ کسی کے دل پر اسکے آنسوؤں نے اثر کیا تھا ۔۔ اور وہ اسے کلاس کی طرف جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔ بہت غور سے۔۔
کلاس شروع ہوچکی تھی۔۔۔ مگر وہ کچھ بھی سن نہیں رہی تھی۔۔ کانوں میں احتشام کے الفاظ بار بار گونج رہے تھے۔۔ اسے اریج نے بھی ایک دو بار بلایا مگر اسے اس کی آواز نہ آئی تھی۔۔۔
الہام ’’ اب کی بار اریج نے اسکا بازو پکڑ کر اسے ہلایا تھا۔۔ ’’
’’ ہوں ’’ وہ جیسے کسی خواب سے واپس آئی تھی۔۔
’’ دھیان کہا ہے تمہارا ؟ لیکچر بھی نوٹ نہیں کیا ’’ وہ کافی غور سے اسے دیکھا رہی تھی۔۔ آج وہ کسی اور ہی دنیا میں تھی ۔۔
’’ یہی ہے دھیان ’’ اس نے بس اتنا ہی کہا تھا اور اپنا بیگ اٹھانے لگی تھی۔۔
’’ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو ؟ ’’ اس نے تشویش سے پوچھاتھا۔۔
’’ ٹھیک ہوں میں۔۔ تم پریشان مت ہو’’ وہ کہہ کر اٹھی تھی اور اریج بھی اسکے ساتھ کھڑی ہوگئ تھی۔۔
’’ چلو کینٹین میں جاکر بات کرتے ہیں ’’ اریج نے کہا تھا۔۔
’’ نہیں مجھے کہیں جانا ہے۔۔ اگر آف ٹائم میں مجھے کوئی لینے آیا تو کہہ دینا کہ میں کہیں گئ ہوئی ہوں ’’وہ کہہ کر آگے بڑھ گئ تھی اور اریج اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔
’’ اس وقت اتنی امپورٹنٹ کلاس چھوڑ کر وہ کہاں جارہی ہے یہ ’’ وہ سوچ کر رہ گئ تھی۔۔
وہ جب سے اسے یونیورسٹی چھوڑ کر آیا تھا بے حد پریشان تھا۔۔ اس نے دو آپریشن کرنے تھے۔۔ اس لئے وہ اسے مسیج اور کال بھی نہیں کر سکا تھا۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ بہت غلط بات کر گیا ہے۔۔۔ ناجانے وہ کیسے اربش کی باتوں میں آگیا تھا؟ اب وہ فری ہوکر بیٹھا تو اس نے الہام کو کال کی تھی۔۔ مگر نمبر آف جارہا تھا۔۔۔ وہ بار بار چیک کر چکا تھا۔۔ مگر نمبر آف تھا ۔۔ اب وہ اسے مل کر ہی مناسکتا تھا۔۔ اس کے لئے اسے اسکی یونیورسٹی کے آف کا ویٹ کرنا تھا۔۔۔
وہ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب ماما نے اس سے کہا تھا ۔۔
’’اربعہ نے اب تک کوئی بات نہیں کی ’’ انہیں تشویش ہورہی تھی۔
’’ کل تو وہ بات کرکے گئ ہیں۔۔ اب اتنی جلدی تھوڑی کچھ کہیں گی ’’ اربش کھانے کے ساتھ ہی بولی تھی۔۔
’’ ہاں مگر اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ احتشام نے کیا جواب دیا؟ مجھے ڈر ہے کہ اس نے منع نہ کردیا ہو’’ انہوں نے اپنے شک کا اظہار کیا تھا۔۔
’’ وہ انکار نہیں کریگا یہ میں جانتی ہوں اور پھوپھو نے ابھی اس سے بات کی ہی نہیں ہے ’’ اس نے آرام سے کہا تھا۔
’’ تمہیں کیسے پتہ ؟’’
’’ بات ہوئی تھی رات کو’’
’’ کیا کہا اس نے ؟ ’’
’’ کچھ نہیں۔۔ مگر مجھے اندازہ ہوگیا کہ ابھی پھوپھو نے اس سے بات نہیں کی ہے ’’
’’ تمہارے اندازے سے کچھ نہیں ہونے والا ۔۔ میں چاہتئ ہوں کہ یہ کام جلد ہوجائے ’’ وہ اب بھی پریشان تھیں۔۔ جانے انہیں کس بات کی جلدی تھی۔۔
’’ چاہتی تو میں بھی یہی ہوں مگر اب انتظار تو کرنا ہے نہ’’ وہ لاپرواہی سے بولی تھی ۔۔ اور عائشہ بیگم سر ہلا کر رہ گئ تھیں۔۔
وہ یونیورسٹی سے باہر نکلی تھی۔۔ جب اسے سامنے ہی وہ گاڑی نظر آئی تھی جو روز الہام کو لینے آتی تھی۔۔ گاڑی کے ساتھ ہی ٹیک لگائے کوئی رخ دوسری طرف کئے کھڑا تھا۔۔۔ یقیناً وہ الہام کا بھائی تھا۔۔۔ اس نے اب اپنے قدم اسکی سمت بڑھائے تھے۔۔
’’ ایکسکیوزمی ’’ اس نے کہا تھا اور وہ شخص پلٹا تھا۔۔ وہ دونوں تھوڑی دیر کے لئے رک گئے تھے۔۔ ناجانے کیوں دونوں ایک دوسرے کو کچھ پل دیکھتے ہی رہے تھے۔۔
وہ ڈریس پینٹ پر بلیو شرٹ پہنے ، کلین شیو ، سٹائیلش کٹے ہوئے بال ، گہری براؤن آنکھوں اور اپنے چوڑے کاندھوں کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا ’’ کتنا ہینڈسم ہے ’’ کہیں سے آواز آئی تھی۔۔ وہ چونکی تھی۔
وہ لائیٹ پنک کلر کی کرتی کے ساتھ ٹراوزر پہنے ، پونی ٹیل بنائے ، آنکھوں میں کاجل لگائے ، گورے رنگ اور ہونٹوں پر ہلکی پنک لپ سٹک لگائے اس کے سامنے کھڑی تھی ’’ کتنی خوبصورت ہے ’’ کہیں سے آواز آئی تھی۔۔ وہ چونکا تھا۔
’’ آپ الہام کی بھائی ہیں ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔ نظریں اب اس پر نہیں تھی۔۔
’’ جی ’’ اس نے کہا تھا۔۔ نظریں اب بھی اس پر تھیں۔۔
’’ وہ جاچکی ہے ’’ اس نے کہا تھا۔۔اور وہ چونکا تھا۔۔
’’ کب ؟ ’’
’’ صبح ہی ’’ اس نے اسکی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ کہا گئ ؟ ’’
’’ پتہ نہیں بس اتنا کہہ کر گئ تھی کہ کوئی آئے تو اسے بتا دینا کہ وہ کہیں گئ ہے’’ وہ اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ رہی تھی۔۔
’’ اوہ اچھا ’’ اس نے کہا تھا۔۔ اور وہ پلٹی تھی۔۔
’’ آپ کہا جارہی ہیں ’’ بے اختیار پوچھا تھا اور وہ حیران ہوکر اسے دیکھ رہی تھی۔۔
’’ اپنے گھر ’’ اس نے اتنا ہی کہا تھا۔۔ سوال بے تکا لگا تھا۔۔
’’ میں چھوڑ آ تا ہوں ’’ اس نے اسے آفر کی تھی ۔
’’ نہیں شکریہ میرا ڈرائیور آچکا ہے۔۔۔ اللہ حافظ ’’ وہ کہہ کر پلٹ گئ تھی۔۔ اور احتشام اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔۔ اس کے چلے جانے کے بعد وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے اس نے ایک اور بار کال ملائی تھی۔۔ مگر نمبر اب بھی بند تھا۔۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کر کے اسکا رخ اسکےخان ہاؤس کی طرف کیا تھا۔ ۔
تھوڑی دیر بعد اس نے خان ہاؤس کے سامنے گاڑی روکی تھی اور پھر اتر کر اندر گیا تھا۔۔ لان میں ہی اسے اربش اسکی ماما اور پاپا نظر آئے تھے۔۔ شاید کوئی بات کر رہے تھے۔۔ اس نے اب انکی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔
’’ ارے احتشام تم ! آؤ بیٹھو ’’ آنٹی نے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہوکر کہا تھا۔۔
’’اسلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ ؟ ’’ اس نے کھڑے کھڑے انکل سے پوچھا تھا ۔۔
’’ میں تو ٹھیک ہوں تم بتاو کہا گم رہتے ہو ؟ ’’ انہوں اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ بس انکل آپ تو جانتے ہیں کہ ڈاکٹرز کی لائف میں صرف ہسپتال ہی ہوتا ہے میں بھی وہی گم رہتا ہوں ’’ مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ احتشام تم کھڑے کیوں ہو ؟ بیٹھو میں چائے لاتی ہوں ’’ اربش اسے کھڑا دیکھ کر بولی تھی۔۔
’’ ارے نہیں اسکی ضرورت نہیں میں بس الہام سے ملنے آیا تھا کہا ہے وہ ؟ ’’ الہام کا نام سنتے ہی اربش کے چہرے کی مسکراہٹ ختم ہوئی تھی۔۔
’’ وہ تو ابھی یونیورسٹی سے نہیں آئی۔۔ تم آج گئے نہیں اسے لینے ؟ ’’ عائشہ بیگم نے کہا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھیں کہ احتشام ہمیشہ اسے لینے جاتا تھا۔ حالانکہ اسکی اپنی گاڑی بھی گھر پر موجود تھی۔۔ مگر وہ اسے اکیلے جانے نہیں دیتا تھا۔۔
’’ جی وہ آج مجھے دو آپریشن کرنے تھے اس لئے میں نہیں گیا ۔۔ مجھے لگا شاید آگئ ہوگی ۔۔ چلیں میں اسے لے کر آتا ہوں پھر ’’ وہ اسکے گھر نہ آنے کی وجہ سے پریشان ہوگیا تھا۔۔ مگر وہ انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ اس لئے اب وہ جلدی یہاں سے جاکر اسے ڈھونڈنا چاہتا تھا۔۔ آخر وہ اور کہاں جاسکتی تھی ؟
’’ ارے اب تم کیا اسے لینے جاؤگے؟ راستے میں ہی ہوگی ۔۔ تم بیٹھو میں چائے لاتی ہوں ’’ اربش کہہ کر چائے لینے چلی گئ۔۔ مگر وہ اب کسی صورت یہاں نہیں رکنا چاہتا تھا۔۔ اسے الہام کو ڈھونڈنا تھا ۔۔
’’ آنٹی میں جاتا ہوں۔۔ وہ انتظار کر رہی ہوگی ’’ وہ کہہ کر فوراً گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا تھا۔۔ اس نے جواب کا بھی انتظار نہیں کیا تھا ۔۔
’’ یہ احتشام الہام کے معاملے میں بہت حساس ہے ’’ تیمور صاحب نے عائشہ بیگم سے کہا تھا۔۔
’’ ہاں بہت زیادہ ’’ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا تھا جسے وہ محسوس نہیں کر سکے تھے ۔۔
’’ یہ احتشام کہا گیا ؟ ’’ اربش احتشام کے لئے چائے لے کر آئی تھی۔
’’ وہ تو الہام کو لینے چلا گیا۔۔ تم یہ چائے واپس لے جاؤ’’ ماما نے جواب دیا تھا۔۔ وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے واپس کچن میں آئی تھی ۔۔
’’ الہام ! الہام ! الہام ! پتہ نہیں اسے الہام کے علاوہ کوئی دکھتا کیوں نہیں ہے؟ ’’ اس نے کہتے ہوئے چائےکا کپ کچن کی سلپ پر پٹخا تھا۔۔۔ الہام اسے اب مزید بری لگنے لگی تھی۔
Part 2
سمندر کی لہریں ساحل تک آکر واپس جارہی تھیں ۔۔۔ ماحول میں ان لہروں کا شور پھیل رہا تھا ۔۔۔ہوا اپنے دوش پر چل رہی تھی ۔۔ موسم تو ان دنوں ویسے بھی بہار کا تھا ۔۔مگر سمندر کے پاس موسم اور بھی سہانا لگتا ہے ۔۔۔ مگر صرف تب جب اندر کا موسم بھی سہانا ہو ۔۔۔۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کب سے اس دیوار پر بیٹھی ان لہروں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ یونیورسٹی سے سیدھا یہیں آئی تھی۔۔ اور جانے وہ کتنے گھنٹوں سے ایک پتھر پر بیٹھی تھی ؟ اسے تو یہ احساس بھی نہیں ہورہا تھا کہ جانے کب سے دو آنکھیں اسی کو دیکھ رہی تھیں ؟؟ اور اسے احساس ہوتا بھی کیسے ؟ وہ تو اس وقت اس دنیا میں تھی ہی نہیں۔۔ وہ تو اپنے ماضی میں کھوئی ہوئی تھی۔۔ ماضی ! جو انسان کو گھیر لیتا ہے ۔۔ہر تنہا لمحے میں ۔۔
ماما کو تو کبھی اس نے دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ پاپا نے بتایا تھا کہ ماما اسکی پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئ تھیں۔۔۔ ماما کے گھر والوں میں صرف نانا اور نانی ہی تھے۔۔۔ کیونکہ ماما انکی اکلوتی اولاد تھیں تو نانا نانی کے انتقال کے بعد ننیال تو ختم ہی ہو گیا تھا۔۔۔ اب صرف پاپا ہی تھے اور اس کے پاپا کے رشتہ دار جو کہ دوسرے شہروں میں رہتے تھے۔۔ جن سے کبھی کبھی ملاقات ہوجاتی تھی۔۔۔ اب ماما کے انتقال کے بعد پاپا کے لئے اسے سنمبھالنا اور پھر بزنس کو ٹائم دینا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ اس صورتحال میں اس کے چچا صاحب نے انہیں انکی ایک بیوہ کزن سے شادی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔۔۔ پاپا بھی اب مجبور ہی تھے۔۔۔ گھر میں اسے ملازموں کے ہاتھوں نہیں چھوڑ سکتے تھے۔۔۔ اس لئے وہ اس شادی کے لئے مان گئے تھے۔۔ پاپا کی کزن عائشہ جن کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔۔۔ انکی ایک بیٹی بھی تھی جوکہ اس سے تقریباً چار سال بڑی تھی۔۔ پاپا نے ان سے سادگی سے نکاح کیا تھا۔۔۔ اور وہ دوںوں ان کے گھر میں آچکی تھیں۔۔ یہ سب تب ہوا جب اسکی عمر ایک سال تھی۔۔ اور اس عمر میں تو ایک بچے کو جس سے محبت ملے وہی اسکا سگا ہوجاتا ہے ۔۔۔ ماما اس سے بہت پیار کرتی تھیں۔۔ اسے تو کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ اسکی سگی ماما نہیں ہیں۔۔ اور نا ہی وہ اس بارے میں کچھ جانتئ تھی۔۔۔ یہ تو اربش کی مہربانی تھی کہ اس پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی۔۔ کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے جانتی تھی کہ وہ اسکی سگی ماما نہیں ہیں۔۔ بچپن میں اسکی اور اربش کی اکثر لڑائی ہوتی رہتی تھی۔۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں ۔۔ الہام کیونکہ ہر بات سے انجان تھی اس لئے اسے کبھی اربش کو رویہ سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔۔
وہ سکول میں اسکا لنچ باکس لے لیتی تھی۔۔ اسے ملنے والی پاکٹ منی غائب ہوجاتی تھی۔۔ اس کے پسندیدہ کھلونے بھی یا تو وہ توڑ دیتی تھی یا پھر وہ اس سے چھین لیتی تھی۔۔۔ اور اسکا اگر کوئی ڈریس اسے پسند آجاتا تو وہ اسے اسکے کمرے سے لے جاتی تھی۔۔ اور اگر وہ اس کے حوالے نہ کرے تو اس کی غیرموجودگی میں اسے قینچی سے کاٹ دیتی تھی اور جب روتی ہوئی وہ ماما کے پاس اسکی شکایت لگانے جاتی تھی۔۔۔ تو ماما اربش کو ڈانٹ کر ان دونوں کی دوستی کروا دیتی تھیں۔۔ مگر وہ ڈانٹ ایسی تو نہیں ہوتی تھی جیسی اسکی غلطی پر اسے سننے کو ملتی تھی ۔۔ مگر اسکا معصوم ذہن کچھ بھی سمجھ نہیں پاتا تھا ۔۔۔ اربش ماما اور پاپا کے سامنے ایسے ظاہر کرتی تھی جیسے وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہو یا پھر کئ بار تو اس نے مانا ہی نہیں کہ اس نے کچھ کیا ہے؟ اور آخر میں اسے ہی بہلاپھسلا کر منا لیا جاتا تھا۔۔۔ یہ سب کبھی بھی ختم نا ہوا۔۔ وقت کے ساتھ چیزیں بدلتی گئ۔۔۔ اور اربش کی حرکتیں بھی۔۔۔
پھر ایک دن ایسا آیا جب اسے پتہ لگ ہی گیا کہ وہ اسکی سگی بہن نہیں ہے ؟؟ وہ اس وقت میٹرک کلیئر کر چکی تھی اور اب اسکا داخلہ ایک اچھے کالج میں کروانے کے لئے پاپا اور ماما آپس میں بات کر رہے تھے۔۔ وہ ایک طرف بیٹھی دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ اس کا ریذلٹ بہت اچھا آیا تھا۔۔۔ اس نے پورے سکول میں ٹاپ کیا تھا۔۔۔ اسے اب ایک اچھے سے کالج میں میڈیکل میں آرام سے ایڈمیشن مل سکتا تھا۔۔۔ جبکہ اربش کا ریزلٹ اتنا خاص نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے اب اسے ایک عام کالج میں جانا تھا۔۔
’’ آپ الہام کے لئے اتنے اچھے کالج کا فارم لائے ہیں اور اربش کی مرتبہ ایک عام سا کالج ؟ ’’ ماما اس وقت غصے میں تھیں۔
’’ ظاہر ہے الہام کے نمبر اتنے اچھے آئے ہیں کہ اسے اسی کالج میں جانا چاہئے ’’ پاپا نے کہا تھا۔۔
’’ اور اربش اس کالج کے لائق نہیں تھی۔۔ یہی کہنا چاہ رہے ہیں آپ ؟ ’’ وہ اب بھڑک گئ تھیں۔۔
’’ عائشہ یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟؟ اربش کے نمبر اتنے کم ہیں کہ اسے اس کالج میں داخلہ نہیں مل سکتا ’’ پاپا نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔
’’ تو ٹھیک ہے پھر ۔۔ الہام بھی اسی کالج میں جائے گی جس میں اربش تھی ’’ ماما نے فارم رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تھا اور الہام ڈر گئ تھی۔۔۔ وہ ایک اچھے کالج سے پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے تو کی تھی اس نے اتنی محنت۔۔۔
’’ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔ اس نے اتنے اچھے مارکس لائے ہیں۔۔ میں اسے ڈاکڑ بنتے دیکھنا چاہتا ہوں اور اس لئے اسکا ایڈمیشن اسی کالج میں ہوگا ’’ پاپا نے انکی بات نہیں مانی۔۔ الہام کو کچھ سکون ملا تھا۔۔ شکر ہے پاپا نے آج تو اسکا ساتھ دیا۔۔
’’ میں آپکو یہ نا انصافی نہیں کرنے دونگی۔۔۔ آپنے میری بیٹی کو ایک تھرڈ کلاس کالج میں بھیجا۔۔ جبکہ اپنی بیٹی کے لئے سب سے بہترین کالج کا انتخاب کیا ہے ’’ ماما کو ناجانے کیا ہوگیا تھا ؟ وہ اتنا غصہ کیوں تھی؟ اور میری اور اپنی بیٹی سے کیا مطلب تھا انکا ؟؟ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
’’ اربش میری بھی بیٹی ہے۔۔ میں اسکے لئے بھی وہی فیصلہ کرونگا جو اسکے لئے بہترین ہوگا ‘’
’’ اگر وہ آپکی سگی بیٹی ہوتی تو آپ دونوں کے لئے ایک جیسا فیصلہ ہی کرتے ’’ ماما کی بات پر اسے جیسے کرنٹ لگا تھا۔۔ وہ چونک گئ تھی۔۔
’’ اربش پاپا کی سگی بیٹی نہیں ہے؟ یعنی وہ میری سگی بہن نہیں ہے ؟ ’’ وہ اب باتوں کو سمجھنے لگی تھی۔۔
’’ اور تم اگر الہام کی سگی ماں ہوتی تو مجھ سے آج اس طرح کی بات نہ کر رہی ہوتی ’’ پاپا غصے سے کہتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے۔۔
’’ میں نے کبھی دونوں میں کوئی فرق نہیں رکھا۔۔ اور نا آگے رکھونگی۔۔ یہ آپ ہیں جو یہ سب کر کے میری بیٹی کو احساس دلا رہے ہیں کہ آپ اپنی سگی بیٹی سے زیادہ اور اس سے کم پیار کرتے ہیں ۔۔ میں آپکو ایک بات بتا رہی ہوں تیمور۔۔۔ اگر میری بیٹی کے اندر احساس کمتری پیدا ہوئی۔۔۔ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔ میں نے آپ سے شادی صرف اپنی بیٹی کے لئے کی تھی۔۔ ’’ ماما کہہ کر فوراً چلی گئ تھیں۔۔ پاپا بھی غصے سے جاچکے تھے ْ۔۔
مگر الہام وہیں بیٹھی رہ گئ تھی۔۔ یہ ایک دن میں کیسےکیسے پردے اٹھے تھے ؟؟ وہ جسے اپنی ماں سمجھتی تھی۔۔ وہ اس کی سگی ماں نہیں تھی۔۔۔ اور اسکی سگی ماں ؟؟؟ یہ بات اس کے لئے کتنی تکلیف دہ تھی یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔ اسے آج تک سمجھ نہیں آئی تھی کہ اربش اس کے ساتھ ایسا رویہ کیوں رکھتی؟ اور آج ۔۔ اسے چند لمحوں میں سب سمجھ آگیا تھا۔۔۔ وہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔۔۔ آنسو اسکت چہرے پر بہہ رہے تھے ۔۔ وہ جانے کب تک وہاں بیٹھی رہی تھی ۔۔ جنہیں وہ اپنا سمجھتی تھی ۔۔وہ اپنے نہیں تھے ۔۔۔ اربش ۔۔ اور ماما ؟؟ وہ آج کیا بن گئ تھیں ؟؟ کیوں وہ اسے اربش جیسا نہیں سمجھتی تھیں۔۔۔ کیونکہ وہ سوتیلی بیٹی تھی ؟؟؟ اسکا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو کر رہا تھا ۔۔ اور جب دل بھر آئے تو رو لینا چاہئے ۔۔ ہر درد بہا دینا چاہئے ۔۔ان آنسوؤں کو آزاد کر دینا چاہئے ۔۔۔ اور الہام نے آنسوؤں کو آزاد کر دیا تھا ۔۔۔
اور پھر رات پاپا اسکے پاس آئے تھے ۔۔ اسے یہ خبر سنانے کہ وہ اسکا ایڈمیشن اسی کالج میں کروا رہے ہیں۔۔ جس میں اربش جارہی ہے۔۔ ہاں ایک یہ احسان ضرور تھا کہ اسے میڈیکل میں ہی ایڈمیشن لینے دیا گیا تھا۔۔۔ بلکہ اسے بھی احسان نہیں کہہ سکتے تھے۔۔ کیونکہ یہ بھی پاپا کی ہی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے۔۔۔ اور وہ پاپا کی ہر خواہش پوری کرنا چاہتی تھی۔۔ بنا کسی شکوے کے۔۔ اور پھر اسکا احتشام بھائی بھی تو ڈاکڑ بن رہے تھے۔۔۔بس ایک یہی واحد رشتہ تو تھا ۔۔ جو اسکا اپنا تھا ۔۔ اسکا احساس کرنے والا ۔۔ تو اسکا خیال رکھنے والا ۔۔ اسے بھی اپنے بھائی کی طرح بننا تھا۔۔۔ اس نے احتشام کو جب کالج کا بتایا ۔۔ تو وہ بہت ناراض ہوا تھا۔۔۔ مگر پاپا نے اسے یہ کہہ کر منایا کہ وہ دونوں بہنوں کو قریب کرنے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں۔۔ اب کوئی تو بہانہ بنانا تھا نہ ؟ احتشام اس بے تکی وجہ پر کچھ بھی نہیں کہہ سکا تھا ۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اصل وجہ کیا ہوگی ؟ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ الہام کی ماما اور اربش اسکے سگے رشتے نہیں ہیں۔۔ اس لئے تو وہ الہام کا خیال رکھتا تھا ۔۔ مگر اس نے کبھی الہام کو کچھ نہیں بتایا تھا اور نا ہی آج بتا رہا تھا۔۔ ہاں وہ تو آج خود ہی الہام نے اسے ماما پاپا کی ساری باتیں بتائیں تو اس نے یہی ظاہر کیا کہ جیسے اسے آج معلوم ہوا ہے ۔۔۔ بچپن سے اب تک اربش سے ہونے والا ہر جھگڑا وہ اسے کال اور مسیج کر کے بتاتی تھی یا پھر جب وہ اس سے ملنے آتا تب ۔۔۔ وہ ہر بات سے واقف تھا۔۔۔ وہ سب جانتا تھا۔۔۔ ایسی کونسی بات تھی جو وہ نہیں جانتا تھا ؟؟
پھر آج ؟؟ آج اس نے الہام سے یہ کیسے کہہ دیا ؟؟ وہ الہام کے خلاف اور اربش کے حق میں کیسے ہوگیا ؟ اربش تو آج بھی وہی اربش تھی ۔۔ الہام تو آج بھی وہی الہام تھی۔۔۔ تو پھر احتشام کیسے بدل گیا ؟ اسکا بھائی کیسے بدل گیا ؟ ایک ہی تو رشتہ تھا۔۔ اس کا مخلص اور اب وہ بھی ۔۔؟؟ یہ صدمہ اس کے لئے بہت بڑا تھا۔۔ اس نے ماما کا پیار دیکھا ہی نہیں تھا ۔۔۔ اس نے بہن کا رشتہ محسوس ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔ اس نے پاپا کو کسی اور کا پاپا بنتے دیکھا تھا ۔۔۔ اور اب اسکا بھائی ؟؟؟ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کب سے انہیں سوالوں کو سوچ رہی تھی۔۔۔ اسے وقت کا احساس نہیں تھا۔۔صبح سے دوپہر اور دوپہر سے شام ہورہی تھی ۔۔۔ اور اس کے ذہن میں پرانی باتیں تھی۔۔۔ سوال تھے۔۔ اور جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔ وہ یہاں سورج کی روشنی میں آئی تھی۔۔۔ اور اب وہ سورج اپنے غروب کے سفر کے بہت نزدیک تھا۔۔ مگر وہ ؟ وہ اب بھی وہی بیٹھی تھی کہ ایک آواز نے اسے چونکا دیا ۔۔۔
’’ جانتی ہو ۔۔۔ یہ سمندر کی لہریں اتنا شور کیوں مچاتی ہیں ؟ ’’ کوئی اس کے قریب بیٹھا بولا تھا۔۔ اس نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔ وہ اسکے قریب ہی بیٹھا تھا ۔۔ اور جانے کب آکر بیٹھا تھا ؟ یہ چہرہ انجان نہیں تھا۔۔ وہ اسے کئی بار دیکھ چکی تھی۔۔
’’ کیونکہ یہ سمندر جب اپنے اندر کے سناٹے سے گھبرا جاتا ہے ۔۔ جب اسکے اندر گھٹن بڑھنے لگتی ہے۔۔ تو وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے سنے۔۔ اس کے اندر کے اس اندھیرے اور گھٹن سے اسے آزاد کروائے ۔۔۔ اس لئے وہ ان لہروں کی صورت میں شور مچاتا ہے اور اسکا یہ شور ۔۔ اس کے اندر کا بوجھ کم کر دیتا ہے اور جب یہ بوجھ کم ہوجاتا ہے۔۔۔ تو وہ پھر سے نارمل ہوجاتا ہے ۔۔۔ اپنے اندر دوبارہ سب جمع کرنے لگتا ہے ۔۔۔ جانتئ ہوں۔۔ انسان اس سمندر کے پاس آکر کیوں خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے ؟ انسان کیوں یہاں آتا ہے ؟ ’’ اس نے الہام کو سوالیاں نظروں سے دیکھا تھا۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ مگر اب اسکی آنکھوں کی حیرت کم ہو چکی تھی۔۔ اس نے ہولے سے سر ہلایا تھا ۔۔ اس سوال کا جواب وہ جانتی تھی۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔ اسکی آنکھیں اسکے جواب کی منتظر تھیں۔۔۔
’’ کیونکہ یہ سمندر بھی ہماری ہی طرح ہوتا ہے۔۔۔ انسان کو اس میں اپنا عکس نظر آتا ہے۔۔۔ اس کے اندر اتنا ہی سناٹا ہے جتنا ہمارے اندر ۔اسکا یہ شور ہمارے اندر کے شور کو راستہ دکھاتا ہے۔۔ مگر افسوس ہم اسکی طرح شور نہیں کر سکتے ’’ الہام نے سامنے سمندر پر ڈوبتے سورج کے رنگ دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ کیوں نہیں کرسکتے شور ؟ جب جانتی ہو کہ یہ شور کر کے اپنے اندر کے سناٹوں سے نجات حاصل کرتا ہے۔۔۔ تو ہم کیوں نہیں کر سکتے ؟ ہم بھی تو نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں نہ ؟ یا آپ نہیں چاہتیں ؟ ’’ اس نے کئ سوال ایک ساتھ کئے تھے۔۔ جس کے جواب الہام کے پاس پہلے سے تیار تھے ۔۔۔
’’ کیونکہ یہ بہت خوش نصیب ہے۔۔ اسکے پاس ہم سب ہیں۔۔۔ اسکا شور سننے کے لئے۔۔ اسکا درد محسوس کرنے کے لئے ۔۔ لیکن ہمارے پاس ؟ ہمارے پاس ایسا کوئی نہیں جو ہمیں سن سکے۔۔ جو ہمیں محسوس کر سکے ’’ اس نے کہا تھا اور اس کے جواب پر اس شخص نے اس پر سے نظر ہٹا کر سامنے ڈوبتے سورج پر ڈالی تھیں۔۔
’’ یہ بھی تو ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی ہو جو آپکو سننا چاہتا ہو؟ کوئی ہو جو آپکو محسوس کر سکتا ہو ؟ ایسا بھی کوئی ہو شاید جو کہ آپکی خاموشی بھی سن سکتا ہو اور آپکو وہ نظر نا آرہا ہو ؟ آپ اسے محسوس نہ کر پارہی ہوں ؟ ہو سکتا ہے نہ ایسا ؟ ’’ اس نے دوبارہ نظریں اسکے چہرے پر لائیں تھیں۔۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ ڈوبتے سورج کی کرنیں دونوں کے چہروں کو روشن کر رہی تھیں۔۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر تھیں۔۔ دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کا عکس تھا۔۔
’’ یہ بھی تو ہو سکتا کہ کوئی ہر وقت آپکے پاس ہو اور آپ اسے محسوس نہ کر پارہی ہوں ؟ ’’ اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ وہ جیسے اس کے الفاظوں اور اس کے سحر میں گم تھی۔۔۔ وہ اسے گم دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔
’’ یہ بھی تو ہوسکتا ہےنہ کوئی منتظر ہو کہ آپ اسے دیکھیں اور وہ مسکرا سکے ’’ اس نے ایک بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔ انداز شرارتی تھا ۔۔۔ وہ ہوش میں آئی تھی۔۔۔ اس سے فوراً اس کے چہرے سے نظریں ہٹائی تھیں۔۔۔
’’ آپ ۔۔ آپ یہاں کیسے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔ اور اس شخص نے ایک گہری سانس لے کر سامنے دیکھا تھا۔۔
’’ آپ آج بہت پریشان تھیں۔۔ مجھے لگا کہ مجھے آپکے ساتھ ہونا چاہئے ’’ اس نے ایسے کہا تھا کہ جیسے وہ اسے بہت عرصے سے جانتا ہو۔۔ جیسے اسے واقعی اسی کا انتظار ہو ۔۔
’’ آپکو کیسے پتہ میں یہاں ہو ؟ ’’ اس نے حیران ہوکر کہا تھا۔۔
’’ آپکا پیچھا کر کے آیا ہوں ’’ اس نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔
’’ آپ اتنے گھنٹوں سے یہاں موجود ہیں ’’ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
’’ جی اور مجھے ڈر تھا کہ میری رات بھی یہاں نا گزر جائے اس لئے آپکو ہوش میں لانے کے لئے مجھےآپکے سامنے آنا پڑا ’’ نظریں اب بھی اسکی حیران آنکھوں میں تھی۔۔اسے یہ حیرت اچھی لگی تھی ۔۔۔ …
’’ لیکن کیوں ؟ آپ یہاں کر کیا رہے تھے ؟ وہ بھی اتنے گھنٹے ؟ ’’ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔ پاس بیٹھا یہ شخص جس سے آج پہلی بار وہ بات کررہی تھی ۔۔۔ وہ اسکے لئے اتنے گھنٹے یہاں کیوں تھا ؟؟
’’ سن رہا تھا ’’ اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔۔
’’ کیا ؟ ’’
’’ آپکی خاموشی کو ’’ جواب میں جانے ایسا کیا تھا کہ الہام کچھ لمحے اسے دیکھتی ہی رہ گئ تھی ۔۔۔
’’ میں نے تو سنا تھا کہ آپ کسی لڑکی سے دوستی نہیں کرتے ’’ اس نے بات بدل کر کی تھی۔۔
’’ وہ تو میں اب بھی نہیں کرتا۔۔ نا ہی کرونگا کبھی ’’ اس نے سامنے نظریں کی تھیں ۔۔
’’ تو میں بھی تو ایک لڑکی ہونا ’’ اس نے جیسے یاد دلایا تھا۔۔
’’ جانتا ہوں کہ آپ بھی ایک لڑکی ہیں اور میں آپ سے بھی دوستی نہیں کرنا چاہتا ’’ اس کی بات پر وہ مزید حیران ہوئی تھی۔
’’ تو پھر کیا چاہتے ہیں آپ ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔
’’ میں آپکا دوست نہیں ۔۔ آپکا رازِدل بننا چاہتا ہوں ’’ اسکی آنکھوں میں دیکھتے اسنے کہا تھا۔۔
’’ رازِدل ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں۔۔ آپکے دل کے ہر راز سے واقف ہونے والا ۔۔ آپکے دل کا ایک راز بننا چاہتا ہوں ’’ وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جیسے اس کے اندر جھانک رہا ہو۔۔
’’ کیوں ؟ ’’ اس کا سوال تھا اور وہ فوراً کھڑا ہوا تھا۔۔۔ ہاتھ اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔ سورج ڈوب چکا تھا۔۔ اندھیرا پھیل رہا تھا۔۔ ایسے میں سمندر کی ہواؤں کے درمیان ۔۔ لہروں کے شور پر ۔۔ وہ اس کے سامنے ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔۔
’’ کیونکہ آپ میرا رازِدل بن چکی ہیں۔۔۔’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور الہام کو لگا جیسے کسی نے دل کے جلتے صحن میں ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہو ۔۔۔ ’’ گھر چلیں ؟ ’’ وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔ اور الہام اس کے سحر میں گم ہولے سے سر ہلا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر ۔۔۔ اب وہ اسے اپنی گاڑی میں اس کے گھر چھوڑنے جارہا تھا۔۔۔ دوبارہ دونوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔۔ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔۔ اور دونوں ایک دوسرے کی سوچوں میں گم تھے ۔۔
