Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ay Raaz e Dil (Episode 06)Part 1,2

Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz

شادی والے گھر کے کام ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتے۔۔۔ الہام بھی صبح سے پھوپھو کے ساتھ کاموں میں مصروف رہی تھی۔۔ اور اب اریج کو پارلر بھی لے کر جانا تھا۔۔ مگر وہ کاموں کی وجہ سے لیٹ ہوگئ تھی۔۔۔ اور اریج اپنی کزن کے ساتھ ہی پارلر چلی گئ جس پر اسے افسوس ہوا۔۔ اسے احساس تھا کہ وہ اریج کو ٹائم نہیں دے پارہی تھی۔۔۔ مگر شادی کے بعد وہ اسکی ساری ناراضگی ختم کر دینے والی تھی۔۔

وہ سب تیار ہوکر ہال میں پہنچ چکے تھے۔۔ اریج کو اسکی کزن نے ڈائرکٹ ہال ہی لانا تھا۔۔ بارات کے آنے میں بس کچھ ہی وقت باقی تھا۔۔ وہ سب بارات کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔

الہام نے آج وہی ڈریس پہنا تھا جو اسے احتشام نے دلوایا تھا۔۔ اس ڈریس میں بال کھولے اور نفاست سے کئے گئے میک اپ کے ساتھ وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔ ہر نگاہ بس اسی پر اٹھ رہی تھی۔۔ اور ساتھ کھڑا احتشام دلہے کی شیروانی پہنے کسی دیس کا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔ پھوپھو تو ناجانے کتنی بار اسکی نظر بھی اتار چکی تھیں۔۔ وہ لوگ اب بارات لے جانے کی تیاری میں تھے ۔۔۔

بارات آنے والی تھی مگر اب تک اریج اور اسکی کزن کی کچھ خبر نہیں تھی ۔۔ وہ لوگ اب پریشان ہورہے تھے۔۔ اتنی کالز کرنے کے بعد بھی ان دونوں کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔۔ نا ہی کوئی کال اٹھا رہا تھا۔۔ اور نا ہی کوئی وہاں موجود تھا۔۔ کیونکہ پارلر سے کال کر کے معلوم کیا تو انہوں نے کہا وہ ایک گھنٹہ پہلے ہی جاچکی ہیں۔۔ مگر اب تک وہ ہال نہیں پہنچی تھیں۔۔ اور دوسری طرف بارات بھی اپنے گھر سے نکل گئ تھی۔۔۔ اریج کی ماما اور پاپا کو عجیب عجیب وہم آرہے تھے۔۔ مہمان الگ باتیں بنانے میں مصروف تھے۔۔۔ اور پھر اسی طرح وقت گزرتا جارہا تھا۔۔ اور ان دونوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ اب باراتیوں کی آمد بھی ہوچکی تھی۔۔ احتشام سر پر سہرا سجائے۔۔ ہال میں داخل ہوا تھا۔۔ اسکے دائیں ہاتھ کی طرف رابعہ اور بائیں ہاتھ کی طرف الہام موجود تھی۔۔ پیچھے اربش۔۔ اسکی ماما اور پاپا کے ساتھ ساتھ خاندان کے باقی لوگ بھی موجود تھے۔۔ اور آج تو ڈاکٹر پارسا بھی اسی بارات میں شامل تھیں۔۔

اپنی محبت کی بارات میں شامل ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔ یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔۔ مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے۔۔ وہ احتشام کی بارات کا حصہ تھی۔۔ اور اسکی خوشیوں کے لئےدعاگو تھی۔۔ وہ خوشیاں جوکہ ختم بھی ہوچکی تھی۔۔ مگر ابھی تک اسکا احساس کسی کو نہیں ہوا تھا۔۔

احتشام اب اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا۔۔ قاضی صاحب بھی آچکے تھے۔۔ اور اب سب نے دلہن کو بلانے کے لئے کہنا شروع کر دیا تھا۔۔ اریج کی ماما کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے لوگوں میں کسے اپنا مسئلہ بتائیں؟ ناجانے آج قسمت نے کونسی ذلت انکے نصیب میں لکھی تھی۔۔ دل ڈر رہا تھا ۔۔

’’ آنٹی اریج کہا ہے ؟ ’’ الہام نے انکے پاس آکر کہا تھا۔۔

’’ وہ اریج ۔۔ ’’ وہ اتنی کنفیوز تھیں کہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی کہ انہیں کیا کہنا چاہئے۔۔

’’ کہاں ہے اریج ؟ ’’ اب اربش بھی انکے پاس آچکی تھی۔۔

’’ وہ الہام بیٹا۔۔ دراصل اریج ۔۔’’ ناجانے وہ کیا کہنا چاہ رہی تھیں۔۔ کہ اچانک وہ رک گئ تھیں۔۔ انکی نگاہیں کسی کو دیکھ کر حیران ہوئی تھیں۔۔ الہام اور اربش نے دیکھا کہ وہ سامنے بھاگتی ہوئی آتی اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔ جوکہ اریج کی کزن تھی۔۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ صاف نظر آرہی تھی۔۔

’’ آنٹی ’’ وہ اب انکے پاس پہنچی تھی۔۔ بھاگنے کی وجہ سے اسکی سانس پھول رہی تھی۔۔ اور آس پاس موجود تمام لوگ اب انکی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔۔

’’ اریج کہاں ہے ؟ ’’ اربش نے پوچھا تھا۔۔ ہر طرف ایک خاموشی تھی۔۔ رابعہ بھی اب انکے پاس آچکی تھی جبکہ احتشام اپنی جگہ سے کھڑا ہوچکا تھا۔۔وہ اب اسی طرف متوجہ تھا۔۔

’’ وہ چلی گئ ’’ اس لڑکی نے کہا تھا۔۔ اور ایک بجلی تھی۔۔ جوکہ وہاں موجود ہر شخص پر گری تھی۔۔

’’ کیا بکواس کر رہی ہو تم ؟ کہاں گئ وہ ؟ ’’ الہام نے اسکا بازو جھنجھوڑا تھا۔۔ اریج کی ماما ایک سکتے میں بس انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔ اریج کے پاپا کا سر جھک گیا تھا۔۔۔یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟؟ انکی بیٹی کہا جاسکتی تھی ؟؟ اور کیوں ؟؟

اربش کی آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی۔۔ یہی تو وہ چاہتی تھی ۔۔۔

’’ وہ ملک چھوڑ کر چلی گئ ہے۔۔ یہ خط اور یہ یو۔ایس۔بی مجھے اسکی گاڑی سے ملی ہے ’’ اس نے ایک خط اریج کی ماما کی طرف بڑھایا تھا اور وہ یو۔ایس۔بی ؟ اربش اسے پہچان گئ تھی۔۔ الہام نے اس خط کو تھامنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی اریج کے پاپا نے تیزی سے آکر اسے لے لیا تھا۔۔ اور اب وہ خط پڑھ رہے تھے۔۔

آس پاس کے لوگ اب لڑکی کے شادی والے دن گھر سے بھاگ جانے کی باتوں میں مصروف تھے۔۔ احتشام اپنی جگہ کھڑا حیرانی سے سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر پارسا احتشام کے پاس آئی تھیں۔۔ مگر کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ الہام اپنی جگہ سن سی کھڑی انکل کو دیکھ رہی تھی۔۔ جنہوں نے خط پڑھ کر اب اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔۔ اور انکی آنکھیں ؟ ناجانے انکل کی آنکھوں میں ایسا کیا تھا کہ خط تھامتے الہام کا ہاتھ کانپ کیا تھا۔۔۔ یہی وہ لمحہ تھا۔۔۔ جب کسی نے اس کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھا تھا۔۔۔ اور اسکا خوف محسوس کیا تھا۔۔۔ یہی وہ لمحہ تھا۔۔۔ جب عرش وہاں آیا تھا۔۔ اور وہ دیکھ رہا تھا۔۔ الہام کا کانپتا ہوا ہاتھ ۔۔ اور اس ہاتھ میں پکڑا خط۔۔

اس نے خط پڑھا تھا۔۔ اور پھر نظر اٹھا کر احتشام کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ دونوں کی نظریں ملی تھیں۔۔ الہام کی آنکھوں کا خوف ۔۔اسکی آنکھوں کی بے یقینی ۔۔ اسکی آنکھوں میں موجود کرب نے اسے اپنی جگہ سے ہلنے پر مجبور کیا تھا۔۔ وہ اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔۔ پارسا وہی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔

’’ کیا لکھا ہے خط میں ؟ ’’ رابعہ پھوپھو نے الہام کا بازوں پکڑ کر پوچھا تھا۔۔ مگر وہ تو بس اپنی طرف آتے احتشام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اسکے پاس آیا تھا۔۔ اسکے ہاتھ سے خط لیا اور اسے پڑھنا شروع کیا تھا۔۔

’’ بتاؤ الہام۔۔ کیا لکھا ہے اس میں ؟ ’’ یہ آواز الہام کی ماما کی تھی۔۔

’’ احتشام۔۔ تم بتاؤ کیا لکھا ہے اس میں ؟ ’’ عائشہ بیگم نے کہا تھا۔۔

مگر وہ دونوں خاموش تھے۔۔ اربش نے آگے بڑھ کر وہ خط لیا تھا اور اب وہ اونچی آواز میں اسے پڑھ رہی تھی۔۔ جبکہ احتشام اپنی جگہ سن کھڑا تھا ۔ جبکہ وہ الہام کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ الہام اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ پارسا اور عرش ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

’’ ماما ! پاپا ! میں جانتی ہوں جب آپکو یہ معلوم ہوگا کہ میں اپنی شادی والے دن آپکو چھوڑ کر ملک سے باہر چلی گئ ہوں۔۔ تو آپکو مجھ پر بہت غصہ آئے گا۔۔۔ اور آنا بھی چایئے۔۔ میں آپکی عزت کے ساتھ کھیل گئ ہوں۔۔ مگر ماما میں مجبور ہوں۔۔ اور میں جانتی ہوں جب آپ سب کو میری مجبوری اور اتنے بڑے فیصلے کے پیچھے کی وجہ کا معلوم ہوگا۔۔ تو آپ مجھے معاف کر دیں گے۔۔ میرا یہ خط آپکو ذلت کی کھائی میں گرنے سے بچا دے گا۔۔ کیونکہ میں یہ بات سب کو بتا کر جارہی ہوں کہ آج اس شادی سے میرے جانے کی وجہ میں نہیں۔۔ بلکہ میری وہ دوست ہے ۔۔ جس پر میں نے اعتبار کیا تھا۔۔ اور اس نے مجھے دھوکہ دیا ۔۔۔ ہاں ماما ۔۔ آپکی بیٹی کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔۔ الہام اور احتشام نے مل کر۔۔ آپکی بیٹی کے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے۔۔ اگر آپ سب اسے جان جائیں۔۔ تو آپ سب کو میرا یہ فیصلہ بلکل ٹھیک لگے گا ۔۔ماما ! پاپا ! آپکا دیا ہوا شادی کا تحفہ۔۔ اس شادی کے خاتمے کےلئے استعمال کر رہی ہوں۔۔ مجھے معاف کر دیجئے گا۔۔ اور یہ یو۔ایس۔بی سب کے سامنے اوپن کیجئے گا۔۔ تاکہ کوئی بھی آپکی عزت کو داغ نہ لگا سکے۔۔ تاکہ کوئی بھی آپکی تربیت پر انگلی نہ اٹھا سکے ۔۔’’

آپکی بیٹی اریج !

خط ختم ہوا تھا۔۔ اور اب سب کی نظریں الہام اور احتشام کے گرد تھیں۔۔ اربش نے ان یو۔ایس۔بی اس لڑکی کے ہاتھوں سے لی تھی۔۔ اور اب وہ ہال کے اندر موجود ایک کمرے کی طرف گئ تھی۔۔ ہال میں موجود ہر شخص خاموش تھا۔۔ اور ہر شخص ایک ہی بات سوچ رہا تھا۔۔ آخر اس یو۔ایس۔بی میں ایسا کیا تھا ؟؟

تھوڑی دیر بعد اربش اندر سے آئی تھی۔۔ اب اسکے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ تھا ۔۔ جو کہ اس نے سامنے رکھی شیشےکی میز پر اس طرح رکھا تھا کہ اسکی سکرن ہال میں موجود تمام لوگوں کو نظر آرہی تھی۔۔۔ الہام اور احتشام کے علاوہ وہاں موجود ہر ایک کی نظریں اب اس سکرین پر تھیں۔۔ جہاں اب اربش ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سجائے۔۔۔ فائیل اوپن کر کے انٹر کا بٹن پریس کررہی تھی۔۔ اور فائیل کھل گئ تھی۔۔ کچھ تصاویر تھیں جوکہ ایک ایک سلائیڈ میں چل رہی تھیں۔۔ الہام کی آنکھیں حیرت سے کھل گئ تھیں۔۔۔ احتشام کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔ عرش اور ڈاکٹر پارسا اپنی اپنی جگہ سن ہوگئے تھے۔۔ اور مہمانوں کے درمیان اب چہہ مگوئیاں شروع ہوئی تھیں۔۔۔ یہ ان سب کی آنکھیں کیا دیکھ رہی تھیں ؟ یہ کیسا دھوکہ تھا ؟ یہ کیسی کہانی تھی۔۔ جو وہ تصاویر بیان کر رہی تھیں ؟؟

’’ ایک ریسٹورانٹ میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیٹھے احتشام اور الہام ۔۔!

’’ سمندر کنارے احتشام کے کاندھے پر سر رکھے بیٹھی الہام ۔۔۔!

’’ لاونچ کی سیڑھیوں پر بیٹھی الہام اور اس کے اوپر دیوار پر ہاتھ رکھتے جھکا ہوا احتشام ۔۔۔!

’’ الہام کے روم کے بیڈ ہر نہایت نامناسب انداز میں بیٹھے احتشام اور الہام ۔۔!

’’ شاپنگ سینٹر میں الہام کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتا احتشام ۔۔۔!

اور آگے آنے والی تصاویر بے شرمی اور بے حیائی کے سارے ریکارڈ توڑ گئ تھیں۔۔ احتشام کا خون کھولا تھا۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا ۔۔ اور لیپ ٹاپ اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا تھا۔۔ یو۔ایس۔بی نکل کر کسی کے قدموں کے پاس جاگری تھی۔۔۔

’’ کیا بکواس ہے یہ ؟ یہ سب جھوٹ ہے۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ میری بہن ہے یہ۔۔ سنا سب نے۔۔ بہن ہے وہ میری ’’ وہ جنونی انداز میں چیخ کر بولا تھا۔۔ اسکے دماغ میں ٹیس اٹھ رہی تھی۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی دماغ پھٹ جائے گا۔۔

’’ پاپا ’’ الہام بھاگتی ہوئی پاپا کے پاس گئ تھی۔۔

’’ پاپا آپ میرا یقین کریں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ یہ سب جھوٹ ہے پاپا۔۔۔ پلیز میرا یقین کریں ’’ وہ پاپا کا بازوں تھامے روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔ مگر پاپا سن کھڑے تھے۔۔ جیسے انہیں اسکی کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔۔ انہیں تو بس آس پاس کے لوگوں کی آواز آرہی تھی۔۔

’’ کتنی بے شرم لڑکی ہے یہ ۔۔۔

’’ بھائی بہن کے نام پر کیا کارنامے کرتی رہی ہے ۔۔۔

’’ توبہ توبہ ۔۔ بہن بھائی کے رشتے کا مزاق بنا کر رکھ دیا ۔۔۔

’’ ایسی اولاد سے تو اچھا ہے بندہ بے اولاد ہی رہے ۔۔۔

’’ میری بیٹی ہوتی تو دکھے مار کر گھر سے نکال دیتی میں ۔۔۔

’’ اور میں تو قتل کر دیتا اسے ۔۔

ہر طرف سے بس یہی آوازیں انکے کانوں تک آہی تھیں۔۔ اور الہام کی آواز کہیں دب گئ تھی۔۔ الہام شاید خود بھی کہیں دب چکی تھی ۔۔۔

’’ پاپا۔۔ میرا یقین کریں۔۔ پلیز ’’ الہام کہہ رہی تھی اور اسی پل عائشہ آگے بڑھی تھی۔۔ اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف گمایا تھا۔۔ اور ایک تھپڑ تھا ۔۔ جو اسکے چہرے پر پڑا تھا ۔۔۔

الہام نے دیکھا تھا اور اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئ تھیں۔۔ مگر یہ حیرت نہ تو ماما کو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔ نہ ہی انکے تھپڑ پر ۔۔۔ بلکہ یہ حیرت تو ماما کے پیچھے کھڑے اس انسان کو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔۔ جس نے اسے عرش پر پہنچایا تھا۔۔ اور آج ۔۔ وہ اسے۔۔ اسی عرش سے زمین پر منہ کے بل گرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے لگا ۔۔ آج اسکے پاس عزت نامی کوئی چیز نہیں رہی تھی۔۔ اسے لگا۔۔ وہ جیسے اپنے دل کے سامنے بے عزت ہوئی تھی۔۔ اسے لگا ۔۔ وہ جیسے اپنے دل کی نظروں سے گر گئی تھی ۔۔

’’ شرم آنی چاہئے تمہیں یہ سب کرتے ہوئے ۔۔۔ بھائی بھائی کے کھیل کہ پیچھے تم یہ کھیل کھیلتی رہی تھی۔۔ ایک بار بھی نہیں سوچا اپنے پاپا کی عزت کےبارے میں۔۔ ارے اگر اتنا ہی پسند تھا یہ۔۔ تو مجھے کہتی۔۔ میں خود تمہیں اس سے بیادیتئ۔۔ اس قسم کا گھٹیا کھیل کھیلنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ’’ ماما اس پر برس پڑی تھیں اور اس نے پاپا کی طرف دیکھا تھا۔۔ جو سر جھکائے کھڑے تھے۔۔

’’ پاپا۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ’’ اس نے دوبارہ پاپا سے کہا تھا۔۔ اسے لگا ۔۔ اسکی آواز اب اسے خود بھی سنائی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔

’’ خبردار جو تم نے مجھے اپنا پاپا کہا ۔۔۔ مر گیا تمہارا پاپا ۔۔۔ شرم آتی ہے مجھے تمہیں اپنی بیٹی کہتے ہوئے۔۔ مر گئ آج میری بیٹی ’’ پاپا نے اسے پیچھے دھکیلا تھا وہ حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔ یہ اسکے پاپا نہیں تھے ۔۔ پاپا تو کبھی اس سے اس طرح بات نہیں کرتے تھے۔۔ وہ تو جانتے تھے اسے۔۔۔ پھر آج وہ کیوں اسے جان نہیں پارہے تھے ؟ احتشام سے اب مزید برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔

’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں انکل۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے ۔۔ الہام اور میرے بیچ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ یہ بہن ہے میری۔۔ میں کیسے اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہوں؟ ’’ احتشام اب انہیں یقین دلانا چاہا تھا۔۔ مگر جیسے کچھ اثر نہیں ہورہا تھا۔۔ جیسے کوئی کچھ سننے کو تیار نہیں تھا ۔۔

’’ ماما پلیز۔۔ سب لوگ باتیں کر رہے ہیں۔۔ اب جلدی سے بات ختم کریں بہت بدنامی ہورہی ہے ’’ اب کی بار اربش بولی تھی۔۔

’’ بدنامی تو ہوگی ۔۔ جب بہن بھائی کی آڑ میں اس طرح کے فعل انجام دیئے جائینگے۔۔۔ تو بدنامی تو ہونی تھی اور ہم تو بدنام ہوچکے ہیں اب ’’ وہ اب اپنا سر پکڑ کر روتے ہوئے بولی تھیں۔۔

’’ آنٹی پلیز میں آپکی عزت کرتا ہوں اور اچھا یہی ہوگا کہ آپ مجھے بھی کرنے دیں۔۔۔ کیونکہ الہام کے کردار پر کوئی چھینٹ بھی برداشت نہیں کرونگا میں ’’ احتشام نے غصے سے کہا تھا۔۔ اس سے اپنے اور الہام کے بارے میں اس طرح کی باتیں برداشت نہیں ہورہی تھیں۔۔

’’ اگر اتنا ہی خیال تھا اسکی عزت کا تو کیوں رچایا یہ کھیل ؟ دنیا کے سامنے بہن اور اکیلے میں محبوبہ ۔۔۔۔ ’’

’’ آنٹی پلیز ۔۔ زبان سنبھال کر بات کریں میں ۔۔۔۔ ’’ وہ اونچی آواز میں بولا تھا۔۔ اور ناجانے آگے کیا کہنے والا تھا کہ کسی نے اسکے چہرے پر تھپڑ مارا تھا۔۔ وہ حیران ہوا تھا۔۔ یہ اسکی ماما تھی۔۔

’’ ماما آپ۔۔۔ ؟ ’’

’’ تم اس حد تک گر جاؤگے۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔ میرا مان۔۔ میرا بھروسہ۔۔۔ میرا فخر۔۔۔ سب ختم کر دیا تم نے احتشام ۔۔۔ کچھ نہیں چھوڑا تم نے میرے پاس۔۔۔ مجھے بے اولاد کر دیا تم نے ،۔۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔ کبھی نہیں ۔۔ ’’ وہ کہہ کر ایجاز صاحب کی طرف پلٹی تھیں۔۔

’’ تم نے مجھے اور میرے بھائی کو کسی قابل نہیں چھوڑا ۔۔۔ آج اس پوری دنیا کے سامنے میرا بھائی سر جھکائے کھڑا ہے۔۔ صرف تم دونوں کی وجہ سے ۔۔۔’’ انکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور احتشام اپنی جگہ جم سا گیا تھا۔۔ وہ اسکی ماں تھیں۔۔ اور وہ ہی اس پر اعتبار نہیں کر رہی تھیں۔۔ کسی اور سے وہ کیا کہتا اب ؟ وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔۔ سامنے کھڑی الہام کی بھی ایسی ہی حالت تھی ۔۔ آج تو جیسے کوئی بھی انکے ساتھ نہیں تھا۔۔ پوری دنیا ان پر کیچڑ اچھالنے کو تیار تھی۔۔ اور آج وہ اس کیچڑ میں نہا رہے تھے ۔۔

’’ رابعہ۔۔ اگر تمہیں اپنی بھائی کی عزت کا اتنا ہی خیال ہے تو اب تم اپنے بیٹے کی غلطی کا کفارہ ادا کرو اور انہیں مزید شرمندگی سے بچاؤ ’’ عائشہ نے اب جیسے کوئی فیصلہ لیتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ میں نے اور الہام نے کچھ نہیں کیا اور میری ماں کوئی کفارہ ادا نہیں کرینگی ’’ احتشام نے اٹل لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ اگر تم نے مجھے روکا۔۔ تو میں تمہاری ماں ہی نہیں رہونگی ’’ رابعہ نے اسے کہا تھا۔۔ اور احتشام خاموش ہوگیا تھا۔۔ اسکی ماما آج اسکی کوئی بات سننےکو تیار نہیں تھی۔۔۔

’’ بولو عائشہ۔۔ میں بھائی کی عزت کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں ’’ وہ اب عائشہ کی طرف متوجہ ہوئی تھیں۔۔

’’ ان دونوں نے جو کچھ بھی کیا۔۔ اب انہیں اسکی سزا بھی ملے گی ۔۔ اور ناجائز کاموں کی سزا ہمیشہ جائز ہوتی ہے۔۔ اس لئے آج اور ابھی ان دونوں کا نکاح ہوگا ’’

یہ الفاظ نہیں تھے۔۔ کمان سے نکلےہوئے تیر تھے۔۔ جو وہاں موجود چار لوگوں کے دلوں کو چیر کر نکلے تھے۔۔

الہام نے تڑپ کر اپنے سامنے کھڑےاس شخص کو دیکھا تھا جو ناجانے کہاں گم تھا ؟ وہ اسکی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ وہ تو احتشام کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ اسکی طرف کیوں نہیں دیکھ رہا تھا ؟؟ کیا وہ بھی اس سے بدگمان ہوگیا تھا ؟؟ اور وہ اسے کیوں دیکھ رہی تھی ؟؟ آخر اس نے نکاح کا سن کر سب سے پہلے اس شخص کو ہی کیوں دیکھا تھا ؟؟ وہ اس کے چہرے پر کیا دیکھنا چاہتی تھی ؟؟ وہ خود کیا چاہتی تھی اس شخص سے ؟ اسے کسی سوال کا جواب نہیں پتہ تھا وہ تو شاید سوال بھی نہیں جانتی تھی۔۔ اسے تو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ خاموشی سے اس ایک شخص کو ناجانے کب سے دیکھ رہی ہے اور وہ شخص ؟ وہ اسے دیکھنے سے پرہیز کر رہا تھا ۔۔ ایسا کیوں تھا ؟؟ وہ آج اسے کیوں نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ آج جب اسکے دیکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔

پارسا نے تڑپ کر احتشام کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو حیرانگی کی آخری حد پر کھڑا ۔۔ سامنے کھڑی اپنی ماں کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ اسے تکلیف پہنچی تھی ۔۔ محبت محبوب کی رسوائی برداشت نہیں کر پاتی ۔۔ اور آج اسکی محبت اسکے سامنے رسوا ہورہی تھی ۔۔ اور یہ زخم پارسا کی روح پر لگ رہے تھے ۔۔۔

شادی والے گھر کے کام ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتے۔۔۔ الہام بھی صبح سے پھوپھو کے ساتھ کاموں میں مصروف رہی تھی۔۔ اور اب اریج کو پارلر بھی لے کر جانا تھا۔۔ مگر وہ کاموں کی وجہ سے لیٹ ہوگئ تھی۔۔۔ اور اریج اپنی کزن کے ساتھ ہی پارلر چلی گئ جس پر اسے افسوس ہوا۔۔ اسے احساس تھا کہ وہ اریج کو ٹائم نہیں دے پارہی تھی۔۔۔ مگر شادی کے بعد وہ اسکی ساری ناراضگی ختم کر دینے والی تھی۔۔

وہ سب تیار ہوکر ہال میں پہنچ چکے تھے۔۔ اریج کو اسکی کزن نے ڈائرکٹ ہال ہی لانا تھا۔۔ بارات کے آنے میں بس کچھ ہی وقت باقی تھا۔۔ وہ سب بارات کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔

الہام نے آج وہی ڈریس پہنا تھا جو اسے احتشام نے دلوایا تھا۔۔ اس ڈریس میں بال کھولے اور نفاست سے کئے گئے میک اپ کے ساتھ وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔ ہر نگاہ بس اسی پر اٹھ رہی تھی۔۔ اور ساتھ کھڑا احتشام دلہے کی شیروانی پہنے کسی دیس کا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔ پھوپھو تو ناجانے کتنی بار اسکی نظر بھی اتار چکی تھیں۔۔ وہ لوگ اب بارات لے جانے کی تیاری میں تھے ۔۔۔

بارات آنے والی تھی مگر اب تک اریج اور اسکی کزن کی کچھ خبر نہیں تھی ۔۔ وہ لوگ اب پریشان ہورہے تھے۔۔ اتنی کالز کرنے کے بعد بھی ان دونوں کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔۔ نا ہی کوئی کال اٹھا رہا تھا۔۔ اور نا ہی کوئی وہاں موجود تھا۔۔ کیونکہ پارلر سے کال کر کے معلوم کیا تو انہوں نے کہا وہ ایک گھنٹہ پہلے ہی جاچکی ہیں۔۔ مگر اب تک وہ ہال نہیں پہنچی تھیں۔۔ اور دوسری طرف بارات بھی اپنے گھر سے نکل گئ تھی۔۔۔ اریج کی ماما اور پاپا کو عجیب عجیب وہم آرہے تھے۔۔ مہمان الگ باتیں بنانے میں مصروف تھے۔۔۔ اور پھر اسی طرح وقت گزرتا جارہا تھا۔۔ اور ان دونوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ اب باراتیوں کی آمد بھی ہوچکی تھی۔۔ احتشام سر پر سہرا سجائے۔۔ ہال میں داخل ہوا تھا۔۔ اسکے دائیں ہاتھ کی طرف رابعہ اور بائیں ہاتھ کی طرف الہام موجود تھی۔۔ پیچھے اربش۔۔ اسکی ماما اور پاپا کے ساتھ ساتھ خاندان کے باقی لوگ بھی موجود تھے۔۔ اور آج تو ڈاکٹر پارسا بھی اسی بارات میں شامل تھیں۔۔

اپنی محبت کی بارات میں شامل ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔ یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔۔ مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے۔۔ وہ احتشام کی بارات کا حصہ تھی۔۔ اور اسکی خوشیوں کے لئےدعاگو تھی۔۔ وہ خوشیاں جوکہ ختم بھی ہوچکی تھی۔۔ مگر ابھی تک اسکا احساس کسی کو نہیں ہوا تھا۔۔

احتشام اب اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا۔۔ قاضی صاحب بھی آچکے تھے۔۔ اور اب سب نے دلہن کو بلانے کے لئے کہنا شروع کر دیا تھا۔۔ اریج کی ماما کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے لوگوں میں کسے اپنا مسئلہ بتائیں؟ ناجانے آج قسمت نے کونسی ذلت انکے نصیب میں لکھی تھی۔۔ دل ڈر رہا تھا ۔۔

’’ آنٹی اریج کہا ہے ؟ ’’ الہام نے انکے پاس آکر کہا تھا۔۔

’’ وہ اریج ۔۔ ’’ وہ اتنی کنفیوز تھیں کہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی کہ انہیں کیا کہنا چاہئے۔۔

’’ کہاں ہے اریج ؟ ’’ اب اربش بھی انکے پاس آچکی تھی۔۔

’’ وہ الہام بیٹا۔۔ دراصل اریج ۔۔’’ ناجانے وہ کیا کہنا چاہ رہی تھیں۔۔ کہ اچانک وہ رک گئ تھیں۔۔ انکی نگاہیں کسی کو دیکھ کر حیران ہوئی تھیں۔۔ الہام اور اربش نے دیکھا کہ وہ سامنے بھاگتی ہوئی آتی اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔ جوکہ اریج کی کزن تھی۔۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ صاف نظر آرہی تھی۔۔

’’ آنٹی ’’ وہ اب انکے پاس پہنچی تھی۔۔ بھاگنے کی وجہ سے اسکی سانس پھول رہی تھی۔۔ اور آس پاس موجود تمام لوگ اب انکی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔۔

’’ اریج کہاں ہے ؟ ’’ اربش نے پوچھا تھا۔۔ ہر طرف ایک خاموشی تھی۔۔ رابعہ بھی اب انکے پاس آچکی تھی جبکہ احتشام اپنی جگہ سے کھڑا ہوچکا تھا۔۔وہ اب اسی طرف متوجہ تھا۔۔

’’ وہ چلی گئ ’’ اس لڑکی نے کہا تھا۔۔ اور ایک بجلی تھی۔۔ جوکہ وہاں موجود ہر شخص پر گری تھی۔۔

’’ کیا بکواس کر رہی ہو تم ؟ کہاں گئ وہ ؟ ’’ الہام نے اسکا بازو جھنجھوڑا تھا۔۔ اریج کی ماما ایک سکتے میں بس انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔ اریج کے پاپا کا سر جھک گیا تھا۔۔۔یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟؟ انکی بیٹی کہا جاسکتی تھی ؟؟ اور کیوں ؟؟

اربش کی آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی۔۔ یہی تو وہ چاہتی تھی ۔۔۔

’’ وہ ملک چھوڑ کر چلی گئ ہے۔۔ یہ خط اور یہ یو۔ایس۔بی مجھے اسکی گاڑی سے ملی ہے ’’ اس نے ایک خط اریج کی ماما کی طرف بڑھایا تھا اور وہ یو۔ایس۔بی ؟ اربش اسے پہچان گئ تھی۔۔ الہام نے اس خط کو تھامنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی اریج کے پاپا نے تیزی سے آکر اسے لے لیا تھا۔۔ اور اب وہ خط پڑھ رہے تھے۔۔

آس پاس کے لوگ اب لڑکی کے شادی والے دن گھر سے بھاگ جانے کی باتوں میں مصروف تھے۔۔ احتشام اپنی جگہ کھڑا حیرانی سے سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر پارسا احتشام کے پاس آئی تھیں۔۔ مگر کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ الہام اپنی جگہ سن سی کھڑی انکل کو دیکھ رہی تھی۔۔ جنہوں نے خط پڑھ کر اب اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔۔ اور انکی آنکھیں ؟ ناجانے انکل کی آنکھوں میں ایسا کیا تھا کہ خط تھامتے الہام کا ہاتھ کانپ کیا تھا۔۔۔ یہی وہ لمحہ تھا۔۔۔ جب کسی نے اس کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھا تھا۔۔۔ اور اسکا خوف محسوس کیا تھا۔۔۔ یہی وہ لمحہ تھا۔۔۔ جب عرش وہاں آیا تھا۔۔ اور وہ دیکھ رہا تھا۔۔ الہام کا کانپتا ہوا ہاتھ ۔۔ اور اس ہاتھ میں پکڑا خط۔۔

اس نے خط پڑھا تھا۔۔ اور پھر نظر اٹھا کر احتشام کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ دونوں کی نظریں ملی تھیں۔۔ الہام کی آنکھوں کا خوف ۔۔اسکی آنکھوں کی بے یقینی ۔۔ اسکی آنکھوں میں موجود کرب نے اسے اپنی جگہ سے ہلنے پر مجبور کیا تھا۔۔ وہ اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔۔ پارسا وہی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔

’’ کیا لکھا ہے خط میں ؟ ’’ رابعہ پھوپھو نے الہام کا بازوں پکڑ کر پوچھا تھا۔۔ مگر وہ تو بس اپنی طرف آتے احتشام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اسکے پاس آیا تھا۔۔ اسکے ہاتھ سے خط لیا اور اسے پڑھنا شروع کیا تھا۔۔

’’ بتاؤ الہام۔۔ کیا لکھا ہے اس میں ؟ ’’ یہ آواز الہام کی ماما کی تھی۔۔

’’ احتشام۔۔ تم بتاؤ کیا لکھا ہے اس میں ؟ ’’ عائشہ بیگم نے کہا تھا۔۔

مگر وہ دونوں خاموش تھے۔۔ اربش نے آگے بڑھ کر وہ خط لیا تھا اور اب وہ اونچی آواز میں اسے پڑھ رہی تھی۔۔ جبکہ احتشام اپنی جگہ سن کھڑا تھا ۔ جبکہ وہ الہام کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ الہام اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ پارسا اور عرش ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

’’ ماما ! پاپا ! میں جانتی ہوں جب آپکو یہ معلوم ہوگا کہ میں اپنی شادی والے دن آپکو چھوڑ کر ملک سے باہر چلی گئ ہوں۔۔ تو آپکو مجھ پر بہت غصہ آئے گا۔۔۔ اور آنا بھی چایئے۔۔ میں آپکی عزت کے ساتھ کھیل گئ ہوں۔۔ مگر ماما میں مجبور ہوں۔۔ اور میں جانتی ہوں جب آپ سب کو میری مجبوری اور اتنے بڑے فیصلے کے پیچھے کی وجہ کا معلوم ہوگا۔۔ تو آپ مجھے معاف کر دیں گے۔۔ میرا یہ خط آپکو ذلت کی کھائی میں گرنے سے بچا دے گا۔۔ کیونکہ میں یہ بات سب کو بتا کر جارہی ہوں کہ آج اس شادی سے میرے جانے کی وجہ میں نہیں۔۔ بلکہ میری وہ دوست ہے ۔۔ جس پر میں نے اعتبار کیا تھا۔۔ اور اس نے مجھے دھوکہ دیا ۔۔۔ ہاں ماما ۔۔ آپکی بیٹی کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔۔ الہام اور احتشام نے مل کر۔۔ آپکی بیٹی کے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے۔۔ اگر آپ سب اسے جان جائیں۔۔ تو آپ سب کو میرا یہ فیصلہ بلکل ٹھیک لگے گا ۔۔ماما ! پاپا ! آپکا دیا ہوا شادی کا تحفہ۔۔ اس شادی کے خاتمے کےلئے استعمال کر رہی ہوں۔۔ مجھے معاف کر دیجئے گا۔۔ اور یہ یو۔ایس۔بی سب کے سامنے اوپن کیجئے گا۔۔ تاکہ کوئی بھی آپکی عزت کو داغ نہ لگا سکے۔۔ تاکہ کوئی بھی آپکی تربیت پر انگلی نہ اٹھا سکے ۔۔’’

آپکی بیٹی اریج !

خط ختم ہوا تھا۔۔ اور اب سب کی نظریں الہام اور احتشام کے گرد تھیں۔۔ اربش نے ان یو۔ایس۔بی اس لڑکی کے ہاتھوں سے لی تھی۔۔ اور اب وہ ہال کے اندر موجود ایک کمرے کی طرف گئ تھی۔۔ ہال میں موجود ہر شخص خاموش تھا۔۔ اور ہر شخص ایک ہی بات سوچ رہا تھا۔۔ آخر اس یو۔ایس۔بی میں ایسا کیا تھا ؟؟

تھوڑی دیر بعد اربش اندر سے آئی تھی۔۔ اب اسکے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ تھا ۔۔ جو کہ اس نے سامنے رکھی شیشےکی میز پر اس طرح رکھا تھا کہ اسکی سکرن ہال میں موجود تمام لوگوں کو نظر آرہی تھی۔۔۔ الہام اور احتشام کے علاوہ وہاں موجود ہر ایک کی نظریں اب اس سکرین پر تھیں۔۔ جہاں اب اربش ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ سجائے۔۔۔ فائیل اوپن کر کے انٹر کا بٹن پریس کررہی تھی۔۔ اور فائیل کھل گئ تھی۔۔ کچھ تصاویر تھیں جوکہ ایک ایک سلائیڈ میں چل رہی تھیں۔۔ الہام کی آنکھیں حیرت سے کھل گئ تھیں۔۔۔ احتشام کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔ عرش اور ڈاکٹر پارسا اپنی اپنی جگہ سن ہوگئے تھے۔۔ اور مہمانوں کے درمیان اب چہہ مگوئیاں شروع ہوئی تھیں۔۔۔ یہ ان سب کی آنکھیں کیا دیکھ رہی تھیں ؟ یہ کیسا دھوکہ تھا ؟ یہ کیسی کہانی تھی۔۔ جو وہ تصاویر بیان کر رہی تھیں ؟؟

’’ ایک ریسٹورانٹ میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیٹھے احتشام اور الہام ۔۔!

’’ سمندر کنارے احتشام کے کاندھے پر سر رکھے بیٹھی الہام ۔۔۔!

’’ لاونچ کی سیڑھیوں پر بیٹھی الہام اور اس کے اوپر دیوار پر ہاتھ رکھتے جھکا ہوا احتشام ۔۔۔!

’’ الہام کے روم کے بیڈ ہر نہایت نامناسب انداز میں بیٹھے احتشام اور الہام ۔۔!

’’ شاپنگ سینٹر میں الہام کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتا احتشام ۔۔۔!

اور آگے آنے والی تصاویر بے شرمی اور بے حیائی کے سارے ریکارڈ توڑ گئ تھیں۔۔ احتشام کا خون کھولا تھا۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا ۔۔ اور لیپ ٹاپ اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا تھا۔۔ یو۔ایس۔بی نکل کر کسی کے قدموں کے پاس جاگری تھی۔۔۔

’’ کیا بکواس ہے یہ ؟ یہ سب جھوٹ ہے۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ میری بہن ہے یہ۔۔ سنا سب نے۔۔ بہن ہے وہ میری ’’ وہ جنونی انداز میں چیخ کر بولا تھا۔۔ اسکے دماغ میں ٹیس اٹھ رہی تھی۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی دماغ پھٹ جائے گا۔۔

’’ پاپا ’’ الہام بھاگتی ہوئی پاپا کے پاس گئ تھی۔۔

’’ پاپا آپ میرا یقین کریں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ یہ سب جھوٹ ہے پاپا۔۔۔ پلیز میرا یقین کریں ’’ وہ پاپا کا بازوں تھامے روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔ مگر پاپا سن کھڑے تھے۔۔ جیسے انہیں اسکی کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔۔ انہیں تو بس آس پاس کے لوگوں کی آواز آرہی تھی۔۔

’’ کتنی بے شرم لڑکی ہے یہ ۔۔۔

’’ بھائی بہن کے نام پر کیا کارنامے کرتی رہی ہے ۔۔۔

’’ توبہ توبہ ۔۔ بہن بھائی کے رشتے کا مزاق بنا کر رکھ دیا ۔۔۔

’’ ایسی اولاد سے تو اچھا ہے بندہ بے اولاد ہی رہے ۔۔۔

’’ میری بیٹی ہوتی تو دکھے مار کر گھر سے نکال دیتی میں ۔۔۔

’’ اور میں تو قتل کر دیتا اسے ۔۔

ہر طرف سے بس یہی آوازیں انکے کانوں تک آہی تھیں۔۔ اور الہام کی آواز کہیں دب گئ تھی۔۔ الہام شاید خود بھی کہیں دب چکی تھی ۔۔۔

’’ پاپا۔۔ میرا یقین کریں۔۔ پلیز ’’ الہام کہہ رہی تھی اور اسی پل عائشہ آگے بڑھی تھی۔۔ اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف گمایا تھا۔۔ اور ایک تھپڑ تھا ۔۔ جو اسکے چہرے پر پڑا تھا ۔۔۔

الہام نے دیکھا تھا اور اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئ تھیں۔۔ مگر یہ حیرت نہ تو ماما کو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔ نہ ہی انکے تھپڑ پر ۔۔۔ بلکہ یہ حیرت تو ماما کے پیچھے کھڑے اس انسان کو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔۔ جس نے اسے عرش پر پہنچایا تھا۔۔ اور آج ۔۔ وہ اسے۔۔ اسی عرش سے زمین پر منہ کے بل گرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے لگا ۔۔ آج اسکے پاس عزت نامی کوئی چیز نہیں رہی تھی۔۔ اسے لگا۔۔ وہ جیسے اپنے دل کے سامنے بے عزت ہوئی تھی۔۔ اسے لگا ۔۔ وہ جیسے اپنے دل کی نظروں سے گر گئی تھی ۔۔

’’ شرم آنی چاہئے تمہیں یہ سب کرتے ہوئے ۔۔۔ بھائی بھائی کے کھیل کہ پیچھے تم یہ کھیل کھیلتی رہی تھی۔۔ ایک بار بھی نہیں سوچا اپنے پاپا کی عزت کےبارے میں۔۔ ارے اگر اتنا ہی پسند تھا یہ۔۔ تو مجھے کہتی۔۔ میں خود تمہیں اس سے بیادیتئ۔۔ اس قسم کا گھٹیا کھیل کھیلنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ’’ ماما اس پر برس پڑی تھیں اور اس نے پاپا کی طرف دیکھا تھا۔۔ جو سر جھکائے کھڑے تھے۔۔

’’ پاپا۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ’’ اس نے دوبارہ پاپا سے کہا تھا۔۔ اسے لگا ۔۔ اسکی آواز اب اسے خود بھی سنائی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔

’’ خبردار جو تم نے مجھے اپنا پاپا کہا ۔۔۔ مر گیا تمہارا پاپا ۔۔۔ شرم آتی ہے مجھے تمہیں اپنی بیٹی کہتے ہوئے۔۔ مر گئ آج میری بیٹی ’’ پاپا نے اسے پیچھے دھکیلا تھا وہ حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔ یہ اسکے پاپا نہیں تھے ۔۔ پاپا تو کبھی اس سے اس طرح بات نہیں کرتے تھے۔۔ وہ تو جانتے تھے اسے۔۔۔ پھر آج وہ کیوں اسے جان نہیں پارہے تھے ؟ احتشام سے اب مزید برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔

’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں انکل۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے ۔۔ الہام اور میرے بیچ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ یہ بہن ہے میری۔۔ میں کیسے اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہوں؟ ’’ احتشام اب انہیں یقین دلانا چاہا تھا۔۔ مگر جیسے کچھ اثر نہیں ہورہا تھا۔۔ جیسے کوئی کچھ سننے کو تیار نہیں تھا ۔۔

’’ ماما پلیز۔۔ سب لوگ باتیں کر رہے ہیں۔۔ اب جلدی سے بات ختم کریں بہت بدنامی ہورہی ہے ’’ اب کی بار اربش بولی تھی۔۔

’’ بدنامی تو ہوگی ۔۔ جب بہن بھائی کی آڑ میں اس طرح کے فعل انجام دیئے جائینگے۔۔۔ تو بدنامی تو ہونی تھی اور ہم تو بدنام ہوچکے ہیں اب ’’ وہ اب اپنا سر پکڑ کر روتے ہوئے بولی تھیں۔۔

’’ آنٹی پلیز میں آپکی عزت کرتا ہوں اور اچھا یہی ہوگا کہ آپ مجھے بھی کرنے دیں۔۔۔ کیونکہ الہام کے کردار پر کوئی چھینٹ بھی برداشت نہیں کرونگا میں ’’ احتشام نے غصے سے کہا تھا۔۔ اس سے اپنے اور الہام کے بارے میں اس طرح کی باتیں برداشت نہیں ہورہی تھیں۔۔

’’ اگر اتنا ہی خیال تھا اسکی عزت کا تو کیوں رچایا یہ کھیل ؟ دنیا کے سامنے بہن اور اکیلے میں محبوبہ ۔۔۔۔ ’’

’’ آنٹی پلیز ۔۔ زبان سنبھال کر بات کریں میں ۔۔۔۔ ’’ وہ اونچی آواز میں بولا تھا۔۔ اور ناجانے آگے کیا کہنے والا تھا کہ کسی نے اسکے چہرے پر تھپڑ مارا تھا۔۔ وہ حیران ہوا تھا۔۔ یہ اسکی ماما تھی۔۔

’’ ماما آپ۔۔۔ ؟ ’’

’’ تم اس حد تک گر جاؤگے۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔ میرا مان۔۔ میرا بھروسہ۔۔۔ میرا فخر۔۔۔ سب ختم کر دیا تم نے احتشام ۔۔۔ کچھ نہیں چھوڑا تم نے میرے پاس۔۔۔ مجھے بے اولاد کر دیا تم نے ،۔۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔ کبھی نہیں ۔۔ ’’ وہ کہہ کر ایجاز صاحب کی طرف پلٹی تھیں۔۔

’’ تم نے مجھے اور میرے بھائی کو کسی قابل نہیں چھوڑا ۔۔۔ آج اس پوری دنیا کے سامنے میرا بھائی سر جھکائے کھڑا ہے۔۔ صرف تم دونوں کی وجہ سے ۔۔۔’’ انکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور احتشام اپنی جگہ جم سا گیا تھا۔۔ وہ اسکی ماں تھیں۔۔ اور وہ ہی اس پر اعتبار نہیں کر رہی تھیں۔۔ کسی اور سے وہ کیا کہتا اب ؟ وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔۔ سامنے کھڑی الہام کی بھی ایسی ہی حالت تھی ۔۔ آج تو جیسے کوئی بھی انکے ساتھ نہیں تھا۔۔ پوری دنیا ان پر کیچڑ اچھالنے کو تیار تھی۔۔ اور آج وہ اس کیچڑ میں نہا رہے تھے ۔۔

’’ رابعہ۔۔ اگر تمہیں اپنی بھائی کی عزت کا اتنا ہی خیال ہے تو اب تم اپنے بیٹے کی غلطی کا کفارہ ادا کرو اور انہیں مزید شرمندگی سے بچاؤ ’’ عائشہ نے اب جیسے کوئی فیصلہ لیتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ میں نے اور الہام نے کچھ نہیں کیا اور میری ماں کوئی کفارہ ادا نہیں کرینگی ’’ احتشام نے اٹل لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ اگر تم نے مجھے روکا۔۔ تو میں تمہاری ماں ہی نہیں رہونگی ’’ رابعہ نے اسے کہا تھا۔۔ اور احتشام خاموش ہوگیا تھا۔۔ اسکی ماما آج اسکی کوئی بات سننےکو تیار نہیں تھی۔۔۔

’’ بولو عائشہ۔۔ میں بھائی کی عزت کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں ’’ وہ اب عائشہ کی طرف متوجہ ہوئی تھیں۔۔

’’ ان دونوں نے جو کچھ بھی کیا۔۔ اب انہیں اسکی سزا بھی ملے گی ۔۔ اور ناجائز کاموں کی سزا ہمیشہ جائز ہوتی ہے۔۔ اس لئے آج اور ابھی ان دونوں کا نکاح ہوگا ’’

یہ الفاظ نہیں تھے۔۔ کمان سے نکلےہوئے تیر تھے۔۔ جو وہاں موجود چار لوگوں کے دلوں کو چیر کر نکلے تھے۔۔

الہام نے تڑپ کر اپنے سامنے کھڑےاس شخص کو دیکھا تھا جو ناجانے کہاں گم تھا ؟ وہ اسکی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ وہ تو احتشام کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ اسکی طرف کیوں نہیں دیکھ رہا تھا ؟؟ کیا وہ بھی اس سے بدگمان ہوگیا تھا ؟؟ اور وہ اسے کیوں دیکھ رہی تھی ؟؟ آخر اس نے نکاح کا سن کر سب سے پہلے اس شخص کو ہی کیوں دیکھا تھا ؟؟ وہ اس کے چہرے پر کیا دیکھنا چاہتی تھی ؟؟ وہ خود کیا چاہتی تھی اس شخص سے ؟ اسے کسی سوال کا جواب نہیں پتہ تھا وہ تو شاید سوال بھی نہیں جانتی تھی۔۔ اسے تو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ خاموشی سے اس ایک شخص کو ناجانے کب سے دیکھ رہی ہے اور وہ شخص ؟ وہ اسے دیکھنے سے پرہیز کر رہا تھا ۔۔ ایسا کیوں تھا ؟؟ وہ آج اسے کیوں نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔ آج جب اسکے دیکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔

پارسا نے تڑپ کر احتشام کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو حیرانگی کی آخری حد پر کھڑا ۔۔ سامنے کھڑی اپنی ماں کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ اسے تکلیف پہنچی تھی ۔۔ محبت محبوب کی رسوائی برداشت نہیں کر پاتی ۔۔ اور آج اسکی محبت اسکے سامنے رسوا ہورہی تھی ۔۔ اور یہ زخم پارسا کی روح پر لگ رہے تھے ۔۔۔

’’ یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ؟ میں کوئی نکاح نہیں کرونگا ’’ احتشام نے صاف انکار کیا تھا۔۔ مگر شاید آج اسکے کسی اقرار یا انکار سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑھنے والا تھا۔۔

’’ مجھے منظور ہے ’’ رابعہ پھوپھو کی آواز نے اسے انکی طرف متوجہ کیا تھا۔۔

’’ پھوپھو یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ آپ جانتئ ہیں مجھے میں ایسی نہیں ہوں۔۔ آپکی تو بیٹی ہونا میں پھوپھو ؟؟ احتشام بھائی سے نکاح ۔۔۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔ پلیز پھوپھو ۔۔ ایسا مت کریں میرے ساتھ۔۔ پلیز ۔۔۔ ’’ وہ اب باقاعدہ انکے پیروں پر گری تھی۔۔ آنسو روانی سے اسکی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔ کوئی تھا ۔۔ کوئی تھا جو اسکے آنسوؤ سے تڑپ رہا تھا ۔۔۔ کسی کو اسکا اس طرح سے کسی کے قدموں میں جھکنا اچھا نہیں لگا تھا۔۔ وہ اسے روکنا چاہتا تھا ۔۔ وہ اسے سنبھالنا چاہتا تھا ۔۔ مگر قدم آگے بڑھ نہیں رہے تھے ۔۔۔ قدم جیسے زمین میں دھنس گئے تھے ۔۔ وہ ہل نہیں پارہا تھا ۔۔۔وہ رک گیا تھا ۔۔!!

احتشام نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تھا۔۔

’’ یہ تم کیا کر رہی ہو ؟؟ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔ ہمارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا ۔۔ سن لیں آپ سب ’’ احتشام نے عائشہ آنٹی کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔ کچھ ہی فاصلے پر موجود ڈاکٹر پارسا نے دیکھا تھا ۔۔ یہ وہ شخص نہیں تھا۔۔ جسے وہ جانتی تھی۔۔ یہ کوئی اور تھا ۔۔ یہ احتشام نہیں تھا۔۔۔وہ تو کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا ۔۔ اسے تو کبھی غصہ نہیں آتا تھا ۔۔۔ اس نے آج تک اسے صرف مسکراتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں روشنی دیکھی تھی ۔۔۔ مگر آج ؟؟ آج یہ کیا ہوا تھا اسے ۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہاں ایک تپش تھی ۔۔۔ وہاں اب بھی روشنی تھی ۔۔ مگر زندگی کی نہیں ۔۔ بھڑکتے ہوئے شعلوں کی۔۔ ایسے شعلے جن کی تپش وہ خود تک محسوس کر رہی تھی۔۔۔

’’ اگر تم نے آج اور ابھی نکاح نہیں کیا ۔۔ تو میں۔۔ آج اور اسی وقت ۔۔ ان سب کے سامنے تم سے اپنا ہر تعلق ختم کر دونگی ۔۔ میری میت کو کاندھا دینا تو دور ۔۔۔ اسے دیکھنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی تمہیں ’’ رابعہ پھوپھو نے کہا تھا اور الہام نے انہیں چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔ یہ وہ کیا کہہ رہی تھیں ؟ وہ ایسا کیسے کہہ سکتی تھیں ؟؟

’’ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ماما ؟؟ ’’ احتشام کی آواز میں اب کوئی مضبوطی نہیں تھی۔۔ اسکی آواز کانپ رہی تھی ۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی ماں اسکے ساتھ ایسا کرے گی ۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔ کہ اسکی ماں بھی اسی دنیا کا حصہ بن جائے گی ۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی ماں۔۔ اسکے کردار سے منہ موڑ لے گی ۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی ماں ۔۔۔؟؟ اسکی ماں اسکے پاک رشتے کا مزاق بنانے میں سب کےساتھ شریک ہوگی ۔۔۔ مگر جو اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔۔ وہ ہوچکا تھا ۔۔۔ اور اب سب ختم ہوچکا تھا ۔۔ اب کچھ نہیں رہا تھا ۔۔

’’ قاضی صاحب ۔۔’’ رابعہ نے سٹیج کے پاس کھڑے قاضی صاحب کو متوجہ کیا تھا۔۔

’’ نکاح شروع کریں ’’

’’ پاپا ’’ الہام نے ایک امید۔۔ ایک آخری امید۔۔ سے پاپا کو بلایا تھا۔۔ جنہوں سے اسے دیکھا تھا۔۔ اور قاضی صاحب کو اجازت دی تھی۔۔

انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔۔ وہ دونوں ہار گئے تھے ۔۔ اور یہ دنیا جیت گئ تھی ۔۔۔

قاضی نے نکاح پڑھنا شروع کیا تھا۔۔ اور کوئی تھا ۔۔ کوئی تھا جو رخ پھیر گیا تھا ۔۔۔ الہام نے دیکھا تھا ۔۔۔ وہ شخص منہ موڑے کھڑا ہوگیا تھا ۔۔ اسے لگا کہ جیسے اس نے ہمیشہ کے لئے اس سے پیٹ پھیر دی ہو ۔۔۔ اسے لگا۔۔ کہ اسکے دل نے اس سے منہ موڑ لیا ہو ۔۔ اس نے نظریں جھکا لی تھیں ۔۔اور اسکی گردن اقرار میں ہلی تھی۔۔۔

کسی کی آنکھیں ضبط سے لال ہورہی تھیں ۔۔۔ کوئی منہ پھیرے بھی۔۔ اسکا اقرار دیکھ سکتا تھا ۔۔۔ قاضی نے دو بار مزید ایک سوال کیا تھا ۔۔۔اسے لگا۔۔ کوئی صور تھا ۔۔ جو وہ پھونک رہا تھا ۔۔ اور اس صور کی آواز ۔۔ صرف وہ چار لوگ ہی سن سکتے تھے۔۔

اب احتشام سے سوال ہورہا تھا ۔۔ ڈاکٹر پارسا نے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔ یہ صور جسم سے روح نکال رہا تھا ۔۔ تکلیف کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔۔ سوال دوبارہ ہوا تھا ۔۔ درد مزید بڑھا تھا ۔۔۔سوال دوبارہ ہوا تھا ۔۔۔اور سامنے کھڑے شخص کا بھیگا چہرہ کوئی دیکھ نہیں سکا تھا۔۔ وہ شخص تیزی سے باہر کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔کسی کی نظریں اسکی پشت پر تھیں ۔۔وہ محسوس کر رہا تھا ۔۔ وہ ہال سے باہر نکلا تھا ۔۔ ڈاکٹر پارسا نے آنکھیں کھولی تھیں۔۔صور پھونکا جاچکا تھا ۔۔۔ قیامت آگئ تھی۔۔۔ سب تباہ ہوگیا تھا ۔۔ سب ختم ہوگیا تھا ۔۔۔ سب پرائے ہوگئے تھے ۔۔ کوئی بھی نہیں بچا تھا ۔۔۔ آج چار لوگ مر گئے تھے ۔۔

’’ مبارک ہو ’’ کسی کی آواز اسے ہوش میں لائی تھی۔۔ یہ کوئی سرگوشی تھی۔۔ جو اسکے کان کے پاس ہوئی تھی۔۔

اسنے سر اٹھا کر دیکھا تھا۔۔ وہ اربش تھی ۔۔ اور اسکی آنکھوں میں چمک تھی ۔۔ اسکی مسکراہٹ معنی خیز تھی ۔۔ وہ اسکی طرف جھکی تھی۔۔

’’ تم نے سچ کہا تھا ۔۔ میں تم سے سب چھین لونگی ۔۔ اور لو۔۔ میں نے تمہاری خواہش پوری کردی ’’ وہ اوپر ہوئی تھی۔۔ اس پر ایک مسکراہٹ اچھال کر۔۔ اب وہ اس سے دور جارہی تھی ۔۔ لیکن الہام چونکی نہیں تھی ۔۔ وہ حیران نہیں تھی ۔۔

مرے ہوئے انسان کو کوئی چیز حیران نہیں کرسکتی ۔۔۔

احتشام کھڑا ہوا تھا۔۔ وہ بھی اسکے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ احتشام نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔ اور اب وہ سب سے مخاطب ہوا تھا۔۔

’’ آپ نے کہا کہ آپ مجھ سے تعلق ختم کردینگی ۔۔ ’’ احتشام نے رابعہ پھوپھو کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔ وہاں موجود ہر شخص خاموش تھا۔۔ سب کے چہروں پر انکے لئے نفرت تھی ۔۔ حقارت تھی ۔۔ وہ بھی چہرے پر سختی لئے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔ وہ ۔۔ جو اسکی ماں تھیں۔۔

’’ آپ نے کہا کہ آپ مجھ سے تعلق ختم کر دینگی ۔۔ اس لئے میں نے یہ نکاح کیا ۔۔۔ اب آپ مجھ سے تعلق نہیں ختم کر سکتی ماما ۔۔‘‘ وہ رکا تھا ’’ مگر آج۔۔ میں ان سب لوگوں کے سامنے۔۔ آپ سب سے تعلق ختم کرتا ہوں ۔۔’’ اس نے کہا تھا۔۔ اور وہاں موجود ہر انسان حیران ہوا تھا ۔۔ کوئی اسے ڈھیٹ سمجھ رہا تھا ۔۔ کوئی بے شرم ۔۔ کوئی دکھاوا۔۔ اور اسکے اپنے ۔۔؟؟ وہ اسے بدلحاظ سمجھ رہے تھے ۔۔۔ رابعہ اسکی ماں تھیں۔۔

مگر محبت میں جب بد گمانی آتی ہے۔۔ تو پھر محبت کہیں دور گم ہوجاتی ہے۔۔ اس وقت انکے بیٹے کے لئے بھی انکی محبت گم ہوگئ تھی۔۔

’’ آپ نے کہا کہ الہام آپ کے لئے مر گئ ہے ۔۔ ’’ اب وہ ایجاز صاحب کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔ جو اسے خاموشی سے سن رہے تھے ’’

آج سے الہام۔۔ آپ سب کے لئے مر گئ ہے ’’ اس نے کہا تھا اور پھر وہ الہام کا ہاتھ تھامے آگے بڑھا تھا ۔۔ وہ ایک روبوٹ کی طرح اسکے ساتھ چلتی جارہی تھی۔۔ اسے کچھ خبر نہیں تھی کہ کون اسے دیکھ رہا ہے اور کون نہیں ۔۔؟؟

مرا ہوا انسان کچھ محسوس نہیں کرتا ۔۔۔

وہ آگے بڑھ رہا تھا۔۔ اسکے قدم جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو وہ آج روند دے گا ۔۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اسکے راستے میں آسکتا ۔۔وہ آگے بڑھتا جارہا تھا ۔۔ سب اسے جاتے دیکھ رہے تھے۔۔ آج وہ دونوں ان کی زندگیوں سے جارہے تھے ۔۔یا شاید۔۔ وہ جاچکے تھے۔

part 2

وہ اسے لے کر ایک ہوٹل میں آیا تھا ۔۔ اس نے دو روم بک کروائے تھے۔۔ اور اسے اس کے روم میں چھوڑ کر خود وہ اب دوبارہ باہر آیا تھا۔۔۔ گاڑی میں بیٹھ کر اسنے گاڑی چلائی تھی۔۔ اور تیز رفتاری سے وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔۔

کوئی اور گاڑی بھی تھی ۔۔ جو اسکی گاڑی کے پیچھے چلی تھی ۔۔۔ کوئی تھا ۔۔ جو اسکے آس پاس رہنا چاہتا تھا ۔۔ جس سے وہ انجان تھا۔۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے ؟ وہ کچھ نہیں جانتا تھا ۔۔ دل اور دماغ دونوں جیسے سن ہوگئے تھے ۔۔ صرف چند لمحوں نے اسکی زندگی سے سب کچھ چھین لیا تھا ۔۔۔ آج وہ احتشام۔۔ جس کے پاس محبت کرنے والے رشتے تھے ۔۔ آج اس احتشام کے پاس کچھ نہیں بچا تھا ۔۔ اسکے رشتے ۔۔ اسکی عزت ۔۔ اسکا مقام ۔۔ ؟؟ سب ختم ہوگیا تھا۔۔

اس نے گاڑی ایک خالی سڑک پر روکی تھی ۔۔۔ وہ باہر نکلا تھا اور چلتا ہوا گاڑی کے سامنے آیا تھا اور ایک دم ہی گرنے کے انداز میں زمین پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔

ایک آنسو تھا۔۔ جو اسکی آنکھ سے آزاد ہوا تھا۔۔ جسے ناجانے کب سے اسنے روک کر رکھا تھا ۔۔ اور اب آہستہ آہستہ جانے کتنے ہی آنسو اسکی آنکھوں سے نکلے تھے ۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کی تھیں۔۔ آس پاس کی ساری آوازیں اب بند ہوگئ تھیں۔۔ اور دماغ کی سکرین پر ایک فلم چل رہی تھی ۔۔۔

وہ لیپ ٹاپ کی تصاویر ۔۔ لوگوں کی نظریں اور سرگوشیاں ۔۔ وہ الہام کے چہرے پر پڑنے والا تھپڑ۔۔ انکے پاک رشتے پر لگائے گئے الزامات ۔۔ اسکی ماما کا تھپڑ ۔۔۔ الہام کا انکل کے پیروں پر گرنا ۔۔۔ اور پھر ۔۔؟ وہ نکاح ۔۔؟؟

یک دم اسنے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔ ایک خوف نے اسے گھیرا تھا ۔۔ ان تمام مناظڑ میں سب سے بھیانک منظر کونسا تھا ؟؟ ہاں ۔۔ وہ ایک نکاح۔! وہی تھا۔۔ سب سے خوفناک منظر۔۔ وہی تھا۔۔ سب سے بڑا ظلم ۔۔!!

وہ ہوٹل کے اس کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی ۔۔ اور آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا تھا ۔۔ایسا لگتا تھا کہ آنسو آنکھوں میں جم گئے ہوں ۔۔ ۔ چہرے پر کسی قسم کے کوئی تعصورات نہیں تھے۔۔ وہ ایک پتھر کی مورت بنی زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔ نظریں سامنے دیوار پر جمی تھی ۔۔ دل اور دماغ سوچوں سے خالی تھا ۔۔ کوئی یاد۔۔ کوئی بات ۔۔ کوئی چہرہ بھی دماغ کی سکرین پر روشن نہیں ہوا تھا ۔۔ ہر طرف جیسے اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔۔اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ اسے احساس تک نہیں ہورہا تھا ۔۔ وقت کا ۔۔ وقت کے گزرنے کا۔۔۔

اس نے اپنی گاڑی ایک بنگلے کے آگے روکی تھی ۔۔ اور اب تیز تیز قدم اٹھاتا۔۔ وہ دروازے تک پہنچا تھا۔۔ گارڈ اسے پہچانتا تھا ۔۔ شاید اسی لئے اس نے اسکے لئے دروازہ کھول دیا تھا۔۔ اندر لان کے درمیان بنے راستے سے تیزی سے گزرتے ہوئے وہ ایک اور دروازے کے ذریعے گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔۔ اور اب وہ لاونج کی سیڑھیاں تیزی سے چھڑتے ہوئے ایک کمرے کے آگے رکا تھا۔۔ اس نے لاک گما کر کمرے کا دروازہ کھولا تھا ۔۔ اور وہ اس کمرے کے اندر داخل ہوا تھا۔۔

وہ کمرہ خالی تھا ۔۔وہ تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا ہوا تھا ۔۔ اس نے آئینے میں دیکھا ۔۔ اسکی آنکھیں ضبط سے لال تھیں ۔۔ اچانک آئینے میں سے اسکا عکس غائب ہوا تھا ۔۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ سامنے آئینے میں الہام تھی ۔۔ وہ کسی کے قدموں میں گری تھی ۔۔ وہ رو رہی تھی ۔۔ منتیں کر رہی تھی ۔۔

منظر بدلا تھا ۔۔ اس نے دیکھا لیپ ٹاپ پر کچھ تصاویر چل رہی تھیں ۔۔ لوگ کچھ باتیں کر رہے تھے ۔۔

منظر پھر بدلا تھا ۔۔ اس نے دیکھا وہ سٹیج پر احتشام کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔ اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔ یہ منظر دیکھنے کی ۔۔ اس نے منہ موڑ لیا تھا ۔۔ مگر وہ دیکھ سکتا تھا ۔۔ وہ سن سکتا تھا ۔۔ قاضی کے سوالات ۔۔ ان کے جوابات ۔۔

منظر بدلا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ الہام کے چہرے پرکسی نےتھپڑ مارا تھا ۔۔۔

اس کا ضبط اب ختم ہوا تھا ۔۔ اچانک وہ چیخا تھا ۔۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل کی ساری چیزیں ہاتھ مار کر گرا دیں تھیں۔۔ ماحول میں چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھی ۔۔ اب وہ اس کمرے میں موجود ایک ایک چیز اٹھا کر پھینک رہا تھا ۔۔ وہ چیخ رہا تھا ۔۔ وہ کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔

’’ تہمت ‘‘ اس نے کہتے ساتھ میز پر رکھا گلدان اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر مارا تھا ۔۔ کانچ کی آواز نے پورے ماحول کو خوفناک بنا دیا تھا ۔۔ اور یہی آواز تھی ۔۔ جس نے باہر سیڑھیوں سے اوپر آتے معاذ کو اس کمرے کی جانب بھاگنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔ وہ تیزی سے بھاگ کر اس کمرے میں آیا تھا ۔۔ اور وہ رک گیا تھا ۔۔۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔ عرش جنونی ہورہا تھا ۔۔ وہ کمرے کی ایک ایک چیز اٹھا کرپھینک رہا تھا ۔۔

’’ یہ تم کیا کر رہے ہو ؟؟ ’’ معاذ نے اسکے جاکر پکڑا تھا ۔۔ وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔۔

’’ تہمت ’’ وہ بس ایک لفظ دہرا رہا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا ہے عرش ۔۔ سنبھالوں خود کو ’’ اس نے اسے بیڈ پر بٹھانا چاہا تھا ۔۔ مگر عرش نے بیڈ کے اوپر رکھا کمبل اور تکیے اٹھا کر سامنے دیوار پر مارے تھے ۔۔

’’ تہمت ہے یہ ۔۔ ایک معصوم پر تہمت ۔۔۔ گناہ ہے یہ ۔۔ تہمت ہے ’’ وہ مسلسل چیخ رہا تھا۔۔۔ معاذ کو اسکی ذہنی حالت پر شک ہورہا تھا ۔۔ جانے ایسا کونسا شاک لگا تھا اسے ۔۔ وہ اب اسے بازؤں سے پکڑ کر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

’’ عرش ۔۔۔ رک جاؤ ۔۔ کیا کر رہے ہو تم ’’ اس نے کھینچتا ہوا وہ اس کمرے سے اپنے کمرے میں لے کر آیا تھا ۔۔

اس نےاسے صوفے پر بٹھایا تھا ۔۔ وہ اب بھی کہہ رہا تھا ۔۔ اپنے بال ہاتھوں میں جکڑے ۔۔

’’ تہمت ہے یہ ۔۔ ظلم ہے ۔۔ گناہ ہے ’’ وہ بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔ اسکی آواز پر دھیمی ضرور تھی ۔۔ مگر اسکی حالت اب بھی نارمل نہیں تھی ۔۔

’’ یہ پیو ’’ پانی کا ٹھنڈا گلاس اسکی جانب بڑھاتے ہوئے معاذ نے کہا تھا ۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔

’’ لو ۔۔ اور اپنے آپ کو ریلیکس کرو ۔۔ اس طرح کرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا اور یہ تم جانتے ہو ’’ وہ اس سے کہہ رہا تھا ۔۔ وہ صاف صاف دیکھ سکتا تھا ۔۔ عرش کی آنکھوں کی سرخی ۔۔ معاذ اندر سے خوفزدہ تھا ۔۔ اسے اس حالت سے خوف آرہا تھا ۔۔جانے ایسا کیا ہوا تھا کہ عرش اتنا جنونی ہوگیا تھا ۔۔

عرش نے اس کے ہاتھ سے گلاس لیا ۔۔ اور تین گھونٹ لے کر اسے سائیڈ پر رکھ دیا تھا ۔۔ معاذ اب اسکے سامنے بیٹھا تھا۔۔

’’ اب بتاؤ ۔۔ کیا ہوا ہے ؟؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ گناہ ۔۔۔ ظلم ہوا ہے ’’ عرش نے جواب دیا تھا ۔۔

’’ کس پر ؟؟ کیسا گناہ ؟ کیا کہہ رہے ہو تم ؟ ’’ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟ وہ کس گناہ کی بات کر رہا ہے ؟

’’ ایک معصوم لڑکی پر ۔۔۔ ایک باکردار لڑکی پر ۔۔ ایک مسلمان عورت پر ۔۔ ظلم ہوا ہے ۔۔ گناہ ہوا ہے یہ۔۔۔ ایک معصوم پر تہمت لگائی گئ ہے معاذ ۔۔۔ ایک باکردار لڑکی کا کردار اچھالا گیا ہے ۔۔ ایک پاک رشتے پر ناپاک کیچڑ پھینکا گیا ہے ۔۔۔ گناہ ہوا ہے معاذ ۔۔ کبیرہ گناہ ہوا ہے ۔ ظلم ہوا ہے یہ ۔۔۔ ظلم ہوا ہے ’’ وہ اپنےبال پکڑے کہہ رہا تھا ۔۔ اور معاذ اب بھی الجھا تھا ۔۔

’’ تم ۔۔ تم تو الہام کے بھائی کی شادی میں گئے تھے ۔۔ پھر کیا ہوا ؟ ’’ اچانک اسکے دماغ میں آیا تھا ۔۔۔ کہی وہ الہام کی بات تو نہیں کررہا۔۔

’’ ہاں ۔۔۔ اسکے بھائی کی شادی پر گیا تھا ’’ وہ ہنسا تھا ۔۔ یہ ایک نارمل ہنسی نہیں تھی ۔۔ اس ہنسی میں کچھ تھا ۔۔ جو خطرناک تھا ۔۔

’’ پھر ؟ ’’ اسکی خاموشی پر اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ اسکے بھائی کی شادی پر گیا تھا ۔۔ اسکی شادی دیکھ کر آگیا ’’ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا ۔۔ اور معاذ کے سر پر بجلی گری تھی۔۔

’’ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ’’ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔ وہ یہ کیا کہہ رہا تھا ؟؟

عرش نے اسے کچھ کہا نہیں تھا ۔۔۔ اس نے اپنے کوٹ کے جیب سے ایک یو۔ایس۔بی نکال کر اسکے سامنے کی تھی ۔۔ معاذ نے کچھ بھی کہے بنا وہ یو۔ایس۔بی اسکے ہاتھ سے لی تھی ۔۔ اور اب وہ اٹھا تھا ۔۔ جبکہ عرش اب دوبارہ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔۔۔ معاذ لیپ ٹاپ لے کر آیا تھا اور یو۔ایس۔بی اس پر لگائی تھی ۔۔ اور کچھ دیر بعد وہ تصاویر اس لیپ ٹاپ پر چلنا شروع ہوئی تھیں ۔۔ جیسے جیسے وہ ان تصاویر کو دیکھ رہا تھا ۔۔اسکی آنکھوں کی حیرت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا ۔۔۔

’’ یہ کیا بکواس ہے ۔۔ میں مان ہی نہیں سکتا ۔۔ جھوٹ ہے یہ ’’ اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین زور سے بند کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ مگر کسی اور نے نہیں مانا ۔۔۔ کسی نے نہیں مانا معاذ ’’ عرش نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ معاذ دیکھ سکتا تھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک کرب تھا ۔۔ وہ محسوس کرسکتا تھا ۔۔ اس کرب کو ۔۔

’’ کسی نے بھی اسکی ایک نہیں سنی ۔۔ کسی نے اسکا یقین نہیں کیا ۔۔ یہ تہمت تھی ۔۔ یہ الزام تھا ۔۔ یہ کیچڑ تھا ۔۔۔ جو سب نے اس پر اچھالا ۔۔ اس کے اپنے ۔۔ پرائے ۔۔ سب نے ۔۔ کوئی کسی کے کردار ۔۔ اسکی عزت کی دھجیاں ایسے کیسے اڑا سکتا ہے ۔۔ وہ ایک باکردار لڑکی ہے ۔۔ وہ مسلمان لڑکی ہے ۔۔ اور ایک مسلمان اور باکردار لڑکی کے کردار پر کیچڑ اچھالنا۔۔۔ گناہ ہے یہ ۔۔ ظلم ہے یہ ’’ وہ کہہ رہا تھا ۔۔ اور اس کا ایک ایک لفظ صحیح تھا ۔۔

’’ میں اسے نہیں بچا سکا ۔۔ میں کچھ نہیں کرسکا ۔۔ میں نے کیوں کچھ نہیں کیا ؟؟ کیوں چپ رہا میں ؟ کیوں تماشا بنا رہا میں ؟؟ میں بھی ان میں شامل ہوگیا ۔۔ کیوں ؟؟ ’’ وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا ۔۔ وہ اپنے آپ کو الزام دے رہا تھا ۔۔ معاذ اسکے پاس آکر بیٹھا تھا ۔۔۔

’’ ایسا نہیں ہے عرش ۔۔۔ تم اس وقت کچھ کر نہیں سکتے تھے ۔۔ تم اگر کچھ کہتے ۔۔ کچھ کرتے ۔۔ تو لوگ اسے بھی غلط رنگ دیتے ۔۔ تمہارا خاموش رہنا ہی ٹھیک تھا ۔۔ اور میں جانتا ہوں ۔۔ وہ بھی یہی چاہتی ہوگی کہ تم خاموش رہو’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور اسکی بات پر عرش نے چونک کر سر اٹھایا تھا ۔۔۔

’’ وہ یہ نہیں چاہتی تھی ۔۔ میں نے محسوس کیا تھا ۔۔ اسکی نظروں کو ۔۔وہ یہ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ وہ مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ مجھ سے جواب چاہتی تھی ۔۔ اسے ڈر تھا کہ میں باقی سب کی طرح تو نہیں سوچ رہا تھا ۔۔ اور میں نے اسے نہیں دیکھا معاذ ۔۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی ۔۔ اپنی الہام کو فرش پر نہیں دیکھ سکتا تھا میں ۔۔ وہ تو عرش کے قابل ہے ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور معاذ اسکی بات پر مسکرایا تھا ۔۔

’’ وہ عرش کے قابل ہے ۔۔ اور اسے فرش سے عرش پر آنا ہوگا ۔۔ ہیں نا عرش ‘’ اس نے کہاتھا ۔۔ ایک معنی خیز انداز میں ۔۔ عرش نے اسے دیکھا ۔۔ اور وہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔ اس نے سر ہلایا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ اسے عرش پر ہی آنا ہے ۔۔ وہ عرش پر آئیگی ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ایک مضبوط ارادے سے ۔۔



صبح کی کرنیں چاروں طرف پھیل رہیں تھیں ۔۔ ابھی سورج نہیں نکلا تھا ۔۔ یہ شاید فجر کے بعد کا وقت تھا ۔۔ ایسے میں اس سڑک پر اپنے کار کے فرنٹ سے ٹیک لگائے وہ ویسا ہی بیٹھا تھا ۔۔ اس کے نظریں آسمان پر تھیں ۔۔۔ اور اسکی نظریں پوری رات اس آسمان پر ہی رہیں تھیں ۔۔ پلکیں ایک بر بھی نہیں جھپکی تھیں ۔۔وہ ایک بت بنا بیٹھا تھا ۔۔ اسے تو شاید وقت کا بھی احساس نہیں ہوا تھا ۔۔ جانے وہ کب تک ایسا ہی بیٹھا رہتا ۔۔ پر اسے احساس ہوا تھا ۔۔ اسکے کاندھے پر کسی دباؤ کا ۔۔ اس نے محسوس کیا ۔۔ کوئی ہاتھ تھا جس نے اسکا کاندھا دبایا تھا ۔۔۔ وہ اس لمس کو نہیں پہچانتا تھا ۔۔ اور اس لمس کو جاننے کے لئے اس نے سر اٹھا کر اس ہستی کو دیکھا تھا ۔۔۔ وہ اسکی جانب جھکی ہوئی تھی ۔۔ اس کے دیکھنے پر وہ مسکرائی تھی ۔۔ مگر وہ نہیں مسکرایا تھا ۔۔ اسکی آنکھیں خالی تھیں۔۔۔

’’ چائے ’’ اس نے دوسرے ہاتھ میں پکڑا کپ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔ مگر اس نے کپ تھاما نہیں تھا ۔۔ وہ بس اسے دیکھ رہاتھا ۔۔ اور شاید اب اسے پہنچان بھی چکا تھا۔۔ اس لئے آنکھوں میں حیرانگی آئی تھی ۔۔

’’ تم یہاں ؟ ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ آواز دھیمی تھی مگر سامنے کھڑی شخصیت نے سن لیا تھا ۔۔ وہ مسکرا کر اب زمین میں اسکے برابر بیٹھی تھی ۔۔ کپ سائیڈ پر رکھا تھا ۔۔ اس صبح کی پھیلتی روشنی میں وہ دونوں سڑک پر کار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔۔

’’ نہیں ہوسکتی ؟ ’’ اس نے سوال کیا تھا ۔۔ ہونٹ پر ایک مخصوص مسکراہٹ تھی ۔۔

’’ تم کب سے یہاں ہو ؟ ’’ اس نے ایک اور سوال کیا تھا ۔۔

’’ جب سے تم ہو ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور احتشام کے چہرے پر حیرانگی کے واضح تعصورات آئے تھے۔۔

’’ تم پوری رات یہاں کر رہی تھی پارسا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ جو تم کر رہے تھے ’’ جواب آیا تھا ۔۔

’’ تمہیں یہاں نہیں ہونا چاہئے تھا ’’ اس نے ایک گہری سانس لے کر کہا تھا ۔۔

’’ تمہیں بھی یہاں نہیں ہونا چاہئے تھا احتشام ’’ اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جو اب آسمان کی جانب دیکھ رہا تھا۔

’’ مجھے کہاں ہونا چاہئے تھا ؟ ’’ وہ کہ رہا تھا ایسے جیسے خود سے کہہ رہا ہو ۔۔۔ ’’ مجھے نہیں معلوم پارسا ۔۔ مجھے کہاں ہونا چاہئے ؟ میں تو کہیں کا نہیں ہو ’’ اس نے اب پارسا کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ تم بتاؤ ۔۔۔ مجھے کہاں ہونا چاہئے ؟؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔ پارسا نے دیکھا ۔۔ وہ اس وقت ایک ایسا بھٹکہ ہوا انسان لگ رہا تھا ۔۔ جسے راستے نظر بھی نہیں آتے تھے ۔۔۔

’’ تمہیں اس کے پاس ہونا چاہئے احتشام ۔۔۔ اسے تمہاری ضرورت ہے ’’ اس نے آہستہ سے کہا تھا ۔۔

’’ میں اس سے سامنا نہیں کر سکتا پارسا ’’ اس نے سر جھکا کر کہا تھا ۔۔ آنسو کا ایک قطرہ اسکی آنکھ سے بہا تھا۔۔

’’ کیوں نہیں کر سکتے ؟؟ تم دونوں غلط نہیں ہو احتشام ۔۔ پھر ایک دوسرے کا سامنا کیوں نہیں کرسکتے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ وہ میری بہن ہے پارسا ۔۔۔ تم جانتی ہو کہ اس قیامت نے میرے اور اسکے اس پاک رشتے کو کس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے؟ میں اس سے کیسے نظر ملاؤ ؟ کیسے اسکا سامنا کروں میں ؟ کیسے اسے گلے لگاؤں ؟ میں کیسے اسے سنمبھالوں پارسا ’’ اس نے آسمان کی جانب دیکھا تھا ۔۔ اور پارسا اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ دل میں اسکے آنسو گر رہے تھے ۔۔ دل کو تکلیف ہورہی تھی۔۔ مگر وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ وہ خاموشی سے اسے سن رہی تھی ۔۔

’’ اس سے محبت کرتا ہوں میں ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ آنسو اسکے گالوں پر گر رہے تھے ۔۔

’’ اتنی ہی محبت جتنی دنیا کا ہر بھائی اپنی بہن سے کرتا ہے ۔۔ اسکے سامنے جاؤنگا تو اسکے سر پر ہاتھ رکھنے کا دل چاہے گا ۔۔ اس سے نظر ملاؤنگا ۔۔ تو نظر بھائی بن کر دیکھے گی اسے ۔۔ اسے سنبھالنا چاہونگا ۔۔ تو بہن کا سہارا بننا چاہونگا ۔۔ مگر اس دنیا نے اس قابل نہیں چھوڑا پارسا مجھے ۔۔ میں کیسے جاؤں اب اسکے سامنے ۔۔ میں کیسے رکھ سکونگا یہ ہاتھ اسکے سر پر ’’ اس نے اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے کہاتھا ۔۔

’’ میں تو اسے دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہا ۔۔ میرا دل اس سے محبت کرتا ہے ۔۔ میں کیسے اب اس کے سامنے سر اٹھا سکونگا ۔۔ میری محبت کو تو سب نے داغ لگا دیا ۔۔۔ وہ میرے خون کا رشتہ نہیں ہے ۔۔ مگر وہ میری نسوں میں خون بن کر دوڑتی ہے ۔۔ میں کیسے اب اسکا سامنا کروں ۔۔ کیسے اپنی محبت اسے دوں ۔۔ میری محبت کے درمیان وہ کاغذ آگیا پارسا ۔۔ اس ایک کاغذ نے ہمارے رشتے کا احترام چھین لیا ۔۔ میں کیسے اب اسکے پاس جاؤں ۔۔ اپنی ہی نظروں سے گر گیا ہوں میں ’’ وہ کہہ رہا تھا ۔۔وہ رو رہا تھا ۔۔ کسی بچے کی طرح ۔۔۔ پارسا نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔

’’ محبت کرتے ہو تو نبھاؤ احتشام ۔۔۔ محبت سے نظر مت چراؤ ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور احتشام نے اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ بھیگی نظروں سے ۔۔

’’ کیسے نبھاؤں ؟ اب کیسے ؟ ’’ وہ پوچھ رہا تھا ۔۔

’’ جانتے ہو دل میں کسی کی محبت کیسے آتی ہے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔ مگر وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ سوالیاں نظروں سے ۔۔

’’ اللہ ۔۔ وہی تو ہے جو انسانوں کے دلوں میں محبت ڈالتا ہے۔۔۔ اور وہی تو ہے جو ان محبتوں کو رنگ دیتا ہے ۔۔ پاکیزہ رنگ ۔۔ ماں باپ کی صورت ، بہن بھائی کی صورت ، میاں بیوی کی صورت ، دوستوں کی صورت اور انسانیت کی صورت ۔۔ ’’ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ اور احتشام بس اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اس کا ایک ایک لفظ غور سے سن رہا تھا ۔۔

’’ جس اللہ نے تمہارے دل میں کسی کی محبت ڈالی ہے ۔۔ اس محبت کی آزمائش کے وقت ۔۔ اسی سے رجوع کرو ۔۔ وہی راستہ دکھائے گا ۔۔ اس آزمائش سے نکلنے کا ۔۔ وہی تمہیں بتائے گا کہ محبت کی اس پاکیزگی کو ۔۔ پاکیزہ کیسے رکھنا ہے ؟ ’’ وہ مسکرائی تھی ۔۔ اور احتشام کو اسکے الفاظوں نے جیسے کچھ پل کے لئے کسی اور جہاں ہی پینچا دیا تھا ۔۔ وہ سن تھا ۔۔

’’ جاؤ ’’ اس نے ہاتھ اٹھا کر ایک جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ احتشام نے دیکھا ۔۔۔ وہاں ایک مسجد تھی ۔۔

پارسا اب کھڑی ہوئی تھی۔۔ اور اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔ احتشام نے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا ۔۔ اور پھر اگلے پل اسے تھام کر کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ جاکر اس سے رجوع کرو ۔۔ یقین مانو۔۔ وہاں سے واپس آؤگے تو سر اسکے علاوہ اور کسی کے آگے ۔۔ کبھی نہیں جھکے گا’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔اور احتشام نے سر ہلایا تھا ۔۔

’’ تم اسکے پاس جاؤ ۔۔۔ اس سے کہو۔۔ وہ بھی رجوع کرے ۔۔ وہ بھی تو مجھ جیسا ہی محسوس کر رہی ہوگی ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور پارسا نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ میں جارہی ہوں ۔۔ ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور احتشام نے اب اپنے قدم آگے بڑھائے تھے ۔۔ مسجد کی جانب جانے والی سڑک پر ۔۔

’’ احتشام ’’ وہ تھوڑا آگے ہی بڑھا تھا کہ اس کی آواز نے اسے روکا تھا ۔۔ وہ پلٹا تھا ۔۔ سوالیاں نظریں تھیں۔

’’ اس سے رجوع کرنے کے بعد ۔۔۔ دنیا کے ان اپنوں سے رجوع ضرور کرنا ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور احتشام نے محسوس کیا ۔۔ کچھ تھا ۔۔ کچھ تھا اسکے الفاظوں میں ۔۔ کچھ تھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں ۔۔ جو آج سے پہلے اس نے محسوس نہیں کیا تھا ۔۔ مگر جانے وہ کیا تھا ؟؟ وہ سمجھ نہیں پایا تھا ۔۔۔

اس نے سر ہلایا تھا ۔۔

پارسا پلٹی تھی ۔۔ اسے الہام کے پاس جانا تھا ۔۔ اسے احتشام کے رجوع کا انتظار کرنا تھا ۔۔

وہ پلٹا تھا ۔۔ اسے مسجد جانا تھا ۔۔ اللہ سے رجوع کرنے ۔۔۔



وہ اس کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی ۔۔ ویسی تھی ۔۔ اسی بیڈ سے ٹیک لگائے ۔۔ آنکھیں اب بھی خشک تھیں ۔۔ پوری رات گزر چکی تھی ۔۔ مگر اسکے لئے تو جیسے وقت وہی ۔۔ اس رات میں ہی رک گیا تھا ۔۔۔

کمرے کے دروازے پر ناک ہوا تھا ۔۔ اور وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تھا ۔۔ سامنے ہی اسے ایک لڑکی مسکراتی ہوئی نظر آئی تھی ۔۔ اس نے انجان نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ کیا میں اندر آسکتی ہوں الہام ؟؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اور وہ خاموشی سے سامنے سے ہٹ چکی تھی ۔۔۔ اب وہ صوفے پر جاکر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔

پارسا نے اسے دیکھا ۔۔ وہ اس وقت ویسی الہام نہیں لگ رہی تھی ۔۔ جیسا احتشام اسے بتاتا تھا ۔۔۔ وہ الہام تو کچھ اور ہی تھی ۔۔ مسکراتی ہوئی ۔۔ اور یہ الہام تو کچھ اور تھی ۔۔۔ اس کی تو آنکھیں بھی پتھر بن چکی تھیں ۔۔

’’ تم نے قرآن پڑھا ہے الہام ؟ ’’ اس نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے سوال پوچھا تھا ۔۔ نظریں الہام پر تھیں ۔۔ اور الہام نے نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ پڑھا ہے ؟ ’’ اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔ اور الہام نے سر ہلا کر جواب دیا تھا ۔۔

’’ جانتی ہو وہ کیا کہتا ہے ؟ ’’ وہ اس اسکے بلکل سامنے کھڑی تھی ۔۔ اور الہام بس اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

’’ وہ کہتا ہے کہ مرد اور عورت دوست نہیں ہوسکتے ۔۔ وہ کہتا ہے کہ منہ بولے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔ منہ بولے رشتے اصل رشتے کی جگہ نہیں لے سکتے ۔۔۔ وہ نامحرم ہوتے ہیں ۔۔ وہ نامحرم ہی رہینگے ’’ پارسا نے کہا تھا ۔۔ اور جانے ان الفاظوں میں ایسا کیا تھا الہام کی روح کانپ گئ تھی۔۔ وہ بے اختیار کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اسکی آنکھیں مکمل کھل گئیں تھیں ۔۔۔ وہ حیرت زدہ تھی ۔۔ یہ سامنے کھڑی لڑکی کیا کہہ رہی تھی ۔۔

’’ وہ اجازت نہیں دیتا ۔۔ منہ بولے رشتوں کو محرم سمجھنے کی ’’ اس نے مزید کہا تھا ۔۔ وہ اب خاموش تھی ۔۔ مگر ان دونوں کے بیچ کوئی خاموشی نہیں تھی ۔۔۔ الہام کے چہرے کے رنگ بدل رہے تھے ۔۔ آنکھوں میں اب کرب تھا ۔۔ پر اس کرب کی وجہ اب بدل چکی تھی ۔۔ اسے لگا جیسے کسی نے اچانک ہی اسکے سامنے آئینہ رکھ دیا ہو ۔۔

’’ تو ۔۔۔ ’’ الہام نے کہا تھا ۔۔ اسکی آواز بھیگی ہوئی تھی ۔۔ آنکھوں میں نمی آئی تھی ۔۔۔ وہ آنسوں جو پوری رات بہنے سے انکاری تھے ۔۔ وہ اب بہنے کو تیار تھے ۔ ’’ تو میں گنہگار ہوں ؟؟ ’’ اس نے سوال کیا تھا ۔۔ پارسا نے محسوس کیا ۔۔ وہ اس سے نہیں ۔۔ اپنے آپ سے سوال کر رہی تھی ۔۔۔

’’ میں نے کوئی حدود پار نہیں کی تھی ۔۔ میرے دل میں ان کے محبت تھی ۔۔ تب سے ۔۔ جب میں ایک چھوٹی سی بچی تھی ۔۔ میں انہیں محرم نہیں کہتی ۔۔ مگر میں انہیں بھائی ضرور کہتی تھی ۔۔ میری محبت کا رنگ وہی تھا ۔۔ جو اس دنیا کی ہر بہن کا ہوتا ہے ۔۔ مگر میں نے کبھی سوچا ہی نہیں ’’ اس کے چہرے کا رنگ بدلا تھا ۔۔ جیسے آگاہی ہوجانے پر بدل جاتا ہے ۔۔

’’ میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ میرے محرم نہیں ہے ۔۔۔ میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہمارے درمیان خون کا کوئی رشتہ نہیں ہے ۔۔ میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں کہ ۔۔۔ ’’ وہ رکی تھی ۔۔ اس نے پارسا کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ ’’ کہ خدا کیا سوچتا ہے ؟ اسکی نظر میں یہ رشتہ کیا ہے ؟ میں نے سوچا ہی نہیں کبھی کہ وہ کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کس سے روکا ہے ؟ ’’ وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی ۔۔ اس نے اپنے بال ہاتھوں میں جکڑے تھے ۔۔

’’ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ کیا یہ رشتہ قابلِ قبول ہے ؟ کیا خدا اسے قبول کرتا ہے ؟ ’’ اس نے سر اٹھایا تھا ۔۔

’’ اسی کی سزا ملی ہے مجھے ۔۔ ہاں ۔۔ اسی کی سزا ملی ہے مجھے ’’ وہ اب رونے لگی تھی ۔۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی ۔۔ اور اگر اس کے علاوہ کچھ تھا ۔۔ تو بس اسکی ہچکیوں ۔۔ اسکی آہوں کی آوازیں تھیں ۔۔۔

’’ اور بے شک وہ نیتیں جاننے والا ہے ۔۔’’ پارسا کی آواز نے اسے چونکایا تھا ۔۔

’’ بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔۔‘‘ وہ مزید کہہ رہی تھی ۔۔ اور وہ حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

’’ بے شک وہ ہماری شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے ’’ وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی ۔۔ الہام کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے۔۔

’’ بے شک وہ دلوں کے حال جانتا ہے ’’ وہ کہہ کر الہام کے پاس گٹنوں کے بل بیٹھی تھی ۔۔۔ آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔۔ نظریں الہام کے حیرت زدہ چہرے پر تھی ۔۔۔

’’ بے شک وہ انصاف کرنے والا ہے ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور اپنا ہاتھ الہام کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں پر رکھ کر اسے تھاما تھا ۔۔

’’ وہ اللہ سے رجوع کرنے گیا ہے ۔۔۔ وہ اللہ سے مشورہ لینے گیا ہے ’’ الہام نے اسے کہتے سنا تھا اور وہ جانتی تھی کہ وہ کس نے بارے میں بات کر رہی تھی ۔۔

’’ وہ اس سے مدد مانگنے گیا ہے ۔۔ وہ دل کا سکون لینے گیا ہے الہام ۔۔ اور جانتی ہو ۔۔ دل کا سکون حاصل کرنے میں کون کامیاب ہوتا ہے ؟ ’’ اس نے سوال کیا تھا ۔۔ الہام نے کچھ کہا نہیں تھا ۔۔مگر اسکا پورا وجود سراپا سوال تھا ۔۔

’’ خدا دل کا سکون صرف انہیں دیتا ہے جن کا ضمیر پر سکون ہو ۔۔ جن کے دلوں پر کسی گناہ ، کسی کے درد کا بوجھ نہ ہو۔۔ جن کی نیت خدا نے صاف پائی ہو ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ اور الہام کے آنسو رک گئے تھے ۔۔ اسے لگا کہ آس پاس سب رک گیا تھا ۔۔

’’ جاؤ ۔۔ اس سے رجوع کرو ۔۔ اور اسکا جواب سنو ۔۔۔ دیکھو کہ وہ کیا تمہیں سکون دیتا ہے ؟ کیا دل مطمئن ہوتا ہے ؟’’ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اور اگر اس نے سکون دے دیا ۔۔ تو سمجھ جانا ۔۔ وہ تم سے راضی ہے ۔۔ اور جس کے عمل سے خدا راضی ہو ۔۔ اسے انسانوں کے راضی ہونے کی کیا پرواہ ؟ ’’ اس نے کہا تھا۔۔ اور الہام کو جیسے اب روشنی نظر آئی تھی ۔۔ وہ وہی پتھر بنی بیٹھی تھی ۔۔ جبکہ پارسا نے اپنے ساتھ لائے ہونے بیگ سے کچھ نکال کر اسکے سامنے رکھی میز پر رکھا تھا۔۔

’’ میں لنچ بنا کر لاتی ہوں ۔۔ اپنے ہاتھوں سے ’’ وہ مسکرا کر کہتی وہاں سے جاچکی تھی ۔۔ جبکہ الہام کی نگاہیں میز پر رکھی اس چیز پر ٹکی تھی ۔۔ اور پھر جانے کتنے ہی منٹ بعد اس نے اس چیز کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔ اور وہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔اس نے دیکھا ۔۔

’’ وہ ایک جائےنماز تھی ’’

اب اس نے واش روم کا رخ کیا تھا ۔۔۔

’’ اسے وضو کرنا تھا ۔۔ اسے نماز پڑھنی تھی ۔۔ اسے خدا سے رجوع کرنا تھا ۔۔ ‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *