Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz NovelR50632 Last updated: 20 April 2026
No Download Link
340.7K
15
Rate this Novel
Ay Raaz e Dil (Episode 01)Ay Raaz e Dil (Episode 02)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 02)Part 3Ay Raaz e Dil (Episode 03)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 04)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 05)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 06)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 07)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 08)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 09)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 10)Part 1,2Ay Raaz e Dil (Episode 11)Ay Raaz e Dil (Episode 12)Ay Raaz e Dil (Episode 13)Ay Raaz e Dil (Last Episode)
Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz
اس نے خان ہا ؤس کے سامنے گاڑی روکی تھی۔ ایک نظرسامنے ڈال کر وہ مسکرایا تھا۔ خان ہاؤس کی ایک کھڑکی پر نظر جماتے ہوئے اس نے کار کے ہارن پر ہاتھ رکھا اور ہٹانا بھول گیا۔
‘‘پورا گھر ہارن کی آواز سے گونج رہا ہے اور ان محترمہ کو ہوش نہیں ہے’’ عائشہ بیگم چابیاں لے کر ایک کمرے کی طرف جارہی تھیں جب ساتھ والے کمرے سے اربش باہر آئی۔۔
’’ ماما کیا مسئلہ ہے ؟ صبح صبح اس ہارن نے ساری نیند خراب کر دی ہے میری ‘‘ وہ اپنے کمرے سے نائیٹ گاؤن اور کھلے بالوں میں باہر نکلی تھی ۔۔
’’ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آج سے ان محترمہ کی کلاسس شروع ہورہی ہیں اور میڈم کی نیند یں پوری نہیں ہورہیں ۔۔کب سے احتشام بچارا باہر بیٹھا ہارن بجا رہا ہے’’ ماما کہتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ رہیں تھیں جبکہ اربش احتشام کے نام پر چونکی تھی۔۔ ’’ اس لڑکی کی نیندیں تو میں ابھی بھگا کر آتی ہوں’’ عائشہ بیگم اس کے کمرے کا لاک کھول کر اندر چلی گئیں اور اربش بھاگتی ہوئی باہر گئ تھی۔۔
عائشہ بیگم نے کمبل اس پر سے کھینچ کر اتارا ’’ کون سی گولیاں کھا کر سوئی ہو تم ؟’’
’’ کیا ہوا ماما ؟ کیوں صبح صبح اٹھا رہی ہیں ؟؟ ’’ وہ کروٹ لے کر سیدھی ہوئی۔
’’صبح صبح ؟ ’’ اسکی بات پر تو عائشہ بیگم کو مزید غصہ آیا تھا ۔۔۔
’ پچھلے ۱۰ منٹ سے احتشام بچارا ہارن بجا رہا ہے۔۔ نو بج گئے ہیں اور تم کہہ رہی ہو صبح صبح ؟ ’’ ’
’’ کیا نو بج گئے؟ ’’ موبائیل میں ٹائم دیکھتے ہی وہ اچھل کر بیڈ سے اتری اور بھاگتی ہوئی واش روم میں گئی تھی۔
’’ ماما بس ایک گ
لاس جوس بنا دیں میں دو منٹ میں آئی ’’ واش روم سے اس کی آواز آئی تھی ۔
’’ روز کے ڈرامے ہیں اس کے تو’’ عائشہ بیگم کہتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی تھیں۔
اس نے ہارن سے ہاتھ نہ ہٹانے کی شاید قسم کھا رکھی تھی۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اس کی کار تک آئی اور کھڑکی کی طرف جھک کر کہا تھا
’’ احتشام اس ہارن سے تو ہاتھ ہٹا لیں۔۔ میری نیند خراب کر دی ہے اس نے؟’’ اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکا ہاتھ ہارن پر سے ہٹایا تھا ۔۔۔ احتشام فوراً گاڑی سے باہر آیا ۔۔
’’ سوری میری وجہ سے تمہاری نیند خراب ہوئی۔۔ تمہیں تو معلوم ہے ہماری الہام کو نیند سے جگانا اتناآسان نہیں ہے ’’ اس نے مسکراتے ہوئے تھا۔۔ مگر اس ’ہماری الہام’ پر اربش کی مسکراہٹ مدھم ہوئی تھی۔۔
’’ جی ٹھیک کہا آپنے بہت سست ہے وہ۔۔ سونا تو جیسے اسکی زندگی کا مشن ہے؟ ’’ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ ایسا بلکل نہیں ہے وہ بہت ایکٹو اور محنتی ہے اور اسی محنت میں تھک بھی جاتی ہے میری پیاری الہام ’’ اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جہاں سے الہام چلتئ ہوئی انکی طرف ہی آرہی تھی۔۔ اربش نے بھی سرد نظروں سے اس طرف دیکھا تھا۔۔
’’ چلیں پھر آپ دونوں جائیں۔۔ ویسے بھی اسکی وجہ سے دیر تو ہوہی گئ ہے ’’ وہ کہہ کر اندر کی جانب گئ تھی ۔۔۔جبکہ الہام بنا کچھ کہے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی تھی۔۔
’’ جلدی سے چلیں احتشام بھائی کلاس شروع ہونے والی ہے ’’ اس کے کہنے پر احتشام نے فوراً بیٹھ کر کار سٹارٹ کی تھی۔۔
۔۔ ’’ دیر بھی تمہاری ہی وجہ سےہوئی ہے ’’ سامنے دیکھتے ہوئے اس نےکہا لگایا تھا
۔ ’’ اور آپنے اس دیر کو بہت اینجوائے بھی کیا ہے؟’’ اس نے معنی خیز انداز میں کہا تھا۔۔اور وہ اس کا اشارو سمجھ گیا تھا
’’ ہاں اینجوائے تو بہت کیا ۔۔ ویسے تمہاری بہن تمہاری بہت تعریفیں کر رہی تھی ’’ اس نے شرارتی انداز میں کہا تھا۔۔
’’ جی جی مجھے اچھے سے معلوم ہے اسکی تعریفیں اور آپ کے جوابات’’ اس نے کھڑکی کی جانب رخ کیا تھا جہاں اسے اپنی یونیورسٹی قریب آتی نظر آئی تھی۔۔ وہ پھر سے احتشام کے طرف مڑی تھی
’’ یا د رکھیئے گا۔۔ صرف آپکی اور پاپا کی خواہش مجھے اس یونیورسٹی تک لائی ہے ورنہ۔۔’’ اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی گئ تھی۔۔
’’ ورنہ آپ مستقبل کی عاطف اسلم ہوتیں۔۔ میڈم آپکا احسان کبھی نہیں بھولوں گا میں۔۔ اب جاو تمہاری کلاس شروع ہونے والی ہے ’’ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی اور پھر اسکی کھڑکی کی جانب آکر جھکی تھی۔۔
’’ بہنیں اپنے بھائیوں پر احساس نہیں کرتی وہ تو بس انکا فخر بننا چاہتئ ہیں’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ ’’ میری یہ بہن میرا فخر ہے۔۔ اور میں چاہتا ہوں کے وہ اتنی اچھی ڈاکٹر بنے کہ پوری دنیا کو اس پر فخر ہو’’ اس نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔۔ وہ فوراً سیدھی ہوئی تھی۔۔
’’ وہ دن ضرور آئیگا۔۔ وعدہ رہا ’’ وہ ایک عزم کے ساتھ یونیورسٹئ کی طرف بڑھی تھی ۔۔وہ اسے جاتا دیکھ کر مسکرایا اور گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھ گیا ۔۔ اس نے اب ہسپتال جانا تھا ۔
