Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ay Raaz e Dil (Episode 05)Part 1,2

Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz

آج اسکے چہرے پر کوئی پریشانی نہیں تھی۔۔ حالانکہ آج بھی وہ نہیں آئی تھی۔۔۔ مگر وہ مطمئن تھا۔۔ وجہ کیا تھی؟ یہ جانے بغیر معاذ کو سکون کہاں آنا تھا ؟

’’ تو پھر کیسی ہیں وہ ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ کون ؟ ’’ اس اچانک سوال کو وہ سمجھا نہیں تھا۔۔

’’ وہی۔۔ جس کی وجہ سے کل بارہ اور آج ایک بجے ہیں ’’ معاذ نے مسکرا کر کہا تھا۔۔

’’ ٹھیک ہے ’’ عرش نے اتنا ہی کہنا ٹھیک سمجھا تھا۔۔

’’ کتنی ٹھیک ؟ ’’ ایک فضول سوال ہوا تھا۔۔ اب معاذ فضول سوال نہ کرے ؟؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔

’’ جتنا میں ہوں ’’ جواب بھی اچھا تھا۔۔۔ عرش جو تھا ۔۔

’’ اوہو۔۔ کیا بات ہے ’’ معاذ نے اب اسے چھیڑنا چاہا تھا۔۔ پر اگلے شخص نے نو انٹری کا بورڈ لگایا ہوا تھا۔۔

’’ ویسے وہ آ کیوں نہیں رہی ؟ ’’ اسے اب مزید معلومات چاہئے تھی۔۔

’’ بھائی کی شادی ہے اگلے ہفتے ’’ ایک اور مختصر جواب تھا۔۔ وہ دونوں ایک ہی جیسے تھے۔۔

’’ پھر تو تم بھی جاوگے؟ ’’ مسکرا کر کہا تھا۔۔

’’ بلایا تو چلا جاونگا ’’ جیسے بہت عام سی بات ہو۔۔ جیسے بلاوا آیا ہی نہ ہو ۔۔

’’ اسکا مطلب بلاوا آگیا ہے ’’ معاذ نے کہا تھا اور جواب میں عرش نے صرف اسے دیکھا تھا۔۔

’’ تمہیں شاید معلوم نہیں ہے۔۔ مگر حکومت نے اب تک زیادہ بولنے پر ٹیکس نہیں لگایا ’’ اسے اب چڑ ہوئی تھی۔۔ وہ اسے کچھ انجوائے ہی نہیں کرنے دے رہا تھا۔۔

’’ تم چاہتے ہو میں زیادہ بولوں اور تمہیں میرے سر پر ناچنے کا موقع مل جائے ’’

’’ خیر وہ تو میں بچپن سے ناچ رہا ہوں ’’ اس نے اسکی دکھتی رگ پکڑی تھی۔۔

’’ اور بڑھاپے تک ناچتے ہی رہوگے ’’ وہ تپ کر بولا تھا۔۔

’’ انشائ اللہ ’’ اسے کب اعتراض تھا کوئی ؟

عرش اب اٹھ کر اپنی کلاس کی جانب گیا تھا۔۔ اور وہ ہمیشہ کی طرح۔۔ اسکے پیچھے پیچھے۔۔



آج بھی وہ لوگ شاپنگ کے لئے آئے تھے۔۔ مگر آج اربش بھی انکے ساتھ تھی۔۔ اور اربش کی موجودگی کی وجہ سے الہام کا موڈ اچھا خاصہ خراب تھا۔۔۔ وہ بہت چپ چپ سی تھی۔۔ اربش اریج سے ہی زیادہ کلوز ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اور الہام کو یہ سب بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ ان دونوں کے درمیاں کچھ بہت غلط تھا۔۔اور یہ بات اریج محسوس کر رہی تھی۔۔ اس وقت بھی وہ شاپ سے نکل کر اب کچھ کھانے کے لئے آکر بیٹھے تھے۔۔ اربش نے آرڈر دیا تھا اور الہام اب بھی خاموش ہی تھی۔۔ جب اسکا موبائیل بجا تھا۔۔ اس نے دیکھا۔۔ احتشام بھائی کی کال تھی۔۔ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی۔۔ اریج نے اس تبدیلی کو محسوس کیا تھا۔۔ مگر کال کس کی تھی؟ یہ اسے معلوم نہیں تھا۔۔

’’ ایکسکیوزمی ’’ وہ کہہ کر کال ریسیو کرنے کے لئے گئ تھی۔۔

’’ احتشام کی کال ہے ’’ اربش نے اسکے جاتے ہی کہا تھا۔۔ اریج چونکی تھی ۔۔

’’ آپکو کیسے معلوم ؟ ’’

’’ الہام کے چہرے کی مسکراہٹ سے۔۔۔ پتہ ہے ایسی مسکراہٹ صرف احتشام کی کال سے ہی آتی ہے ’’ اس نے خوشگوار انداز میں کہا تھا۔۔ اریج بھی مسکرائی تھی۔۔ دونوں بہن بھائیوں میں واقعی بہت محبت تھی۔۔

’’ ویسے تمہاری بھی تو بات ہوتی ہوگی احتشام سے ؟ ’’ اس نے اب اریج کےحالات جاننا چاہے تھے۔۔

’’ نہیں ’’ اریج نے کہا تھا۔۔

’’ کیوں ؟ تم دونوں کی شادی ہونے والی ہے اور تم دونوں نے اب تک بات بھی نہیں کی ’’ وہ حیران ہوئی تھی۔۔ اریج کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔ وہ خاموش تھی۔۔ یہ بات تو اس نے بھی محسوس کی تھی ۔۔

’’ ویسے احتشام کو کرنی چاہئے تم سے بات ۔۔ الہام کو تو وہ ایک دن میں کئ کالز کر لیتا ہے ’’ اس نے کہا تھا اور اریج کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہی تھی ؟

’’ ظاہر ہے ۔۔ وہ انکی بہن ہیں کال تو کرینگے۔۔ آپکو بھی کرتے ہونگے ’’ اریج کی بات پر ایک معنی خیز مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔

’’ نہیں مجھ سے تو وہ بات ہی نہیں کرتا اب ’’ اربش نے کہا تھا۔۔ اتنے میں ویٹر نے آکر کھانا سرو کیا ۔۔ دونوں خاموش ہوگئیں ۔۔

’’ وہ کیوں ؟ ناراض ہیں آپ سے ؟ ’’ ویٹر کے جاتے ہی اس سے اربش سے پوچھا تھا ۔۔

’’ نہیں۔۔ ناراض نہیں ہے۔۔ بس جب سے رشتے کی بات چلی تھی۔۔ تب سے وہ مجھ سے دور دور ہی رہتا ہے ’’ اربش نے جوس کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تھا اور اریج ٹھٹکی تھی۔۔

’’ رشتہ کونسا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا اور اربش جیسے کنفیوز ہوئی تھی۔۔

’’ نہیں۔۔۔ کچھ نہیں۔۔ ایسے ہی منہ سے نکل گیا تھا ’’ وہ تھوڑا گھبرائی تھی۔۔ یا شاید گھبرانے کی اداکاری کی تھی۔۔

’’ آپ مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں اربش ’’ وہ پوری بات جاننا چاہتی تھی ۔۔

’’ لیکن اگر احتشام کو پتہ لگا۔۔ تو اسے اچھا نہیں لگے گا ’’ وہ اب بھی ڈر رہی تھی ۔۔

’’ آپ فکر مت کریں۔۔ میری تو ویسے بھی ان سے بات ہی نہیں ہوتی ’’ اس نے کہا تھا اور اب اربش جیسے مطمئن ہوئی تھی۔۔

’’ تمہیں برا لگے گا۔۔ چھوڑو’’ اسے اب اریج کی فکر تھی۔۔

’’ آپ نہیں بتائینگی تو ضرور لگے گا برا ’’ اریج نے پیار سے کہا تھا۔۔

’’ وہ ایکچولی۔۔ میرے اور احتشام کے رشتے کی بات چلی تھی ’’ اربش کہہ کر خاموش ہوئی تھی اور اریج کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔۔ احتشام اور اربش ؟؟ یہ ناممکن تھا ؟؟ وہ یہ کیا کہہ رہی تھی ۔۔

’’ آپ کے اور احتشام ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ وہ تو آپکے بھائی ہیں ’’ اریج کو لگا ۔۔ جیسے یہ ایک مزاق ہے۔۔

’’ نہیں تم سمجھ نہیں رہی وہ الہام کے بھائی ہیں میرے نہیں’’ اس نے اسے سمجھانا چاہا تھا

’’ تو آپ الہام کی بہن نہیں ہیں ؟ ’’ وہ حیران ہوئی تھی اور اسکا سوال اربش کو سمجھا گیا تھا کہ اسے الہام نے سچ نہیں بتایا ہے۔۔یہ اسکے حق میں تھا ۔۔۔

’’ میں الہام ہی کی بہن ہوں مگر احتشام ہمارا بھائی نہیں۔۔ کزن ہے ’’ اس نے جیسے ایک دھماکہ کیا تھا اور اریج نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔۔ الہام نے تو کبھی اسے کچھ نہیں بتایا اس بارے میں۔۔

’’ مگر الہام تو کہہ رہی تھی کہ احتشام اسکے بھائی ہیں ’’

’’ ہاں۔۔ منہ بولے بھائی ہیں۔۔ دونوں پچپن ہی سے بہت کلوز ہیں۔۔ اور ایک دوسرے کو بہن بھائی ہی سمجھتے ہیں۔۔ انہیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ وہ سگے بہن بھائی نہیں ہے۔۔ ایکچولی احتشام اور الہام ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں اور اتنی محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے۔۔ کہ وہ تو خود بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ دونوں کزنز ہیں اور ہم بھی بھول ہی چکے ہیں۔۔۔ عادت ہوگئ ہے نا۔۔ اب دیکھو نا ۔۔ اتنی مصروفیات میں بھی احتشام صرف الہام کے لئے وقت نکالتا ہے اور اس سے بات کئے بنا تو اسے سکون نہیں ملتا ’’ وہ آگے بھی جانے کیا بولنے والی تھی؟ جب اریج نے اس کی بات کاٹی تھی۔۔

’’ آپکا اور احتشام کا رشتہ کیوں نہیں ہوا ؟ ’’ اس کی بات پر اربش کی آنکھوں میں کامیابی کی ایک چمک آئی تھی۔۔ تو تیر نشانے پر لگا تھا۔۔

’’ وہ میں تمہیں نہیں بتا سکتی۔۔ سوری ’’ اس نے انکار کیا تھا۔۔

’’ کیوں نہیں بتا سکتی آپ ؟ ’’ اسے ہر حال میں جاننا تھا۔۔ جانے اور کیا کیا تھا جو الہام نے اس سے چھپایا تھا۔۔

’’ میں نہیں چاہتی کہ تمہارے اور الہام کے بیچ کوئی غلط فہمی پیدا ہو اور پھر احتشام ایک مخلص انسان ہے۔۔ میں نہیں چاہتی تم اسے غلط سمجھو ’’ اس نے زمانے بھر کی معصومیت چہرے پر سجائے کہا تھا۔۔

’’ آپ مجھے بس سچ بتائیں ’’ وہ ضد کرنے لگی تھی۔۔

’’ تم کہہ رہی ہو تو ۔۔۔’’ اس نے ابھی کہنا شروع بھی نہیں کیا تھا کہ الہام وہاں آگئ تھی اور اسکی بات ادھوری رہ گئ تھی۔۔

’’ سوری۔۔ احتشام بھائی کی کال تھی ’’ الہام نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ کیا کہہ رہے تھے ؟ ’’ اربش نے پوچھا تھا۔۔ جبکہ اریج اب الہام کو سوالیاں نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔

’’ کہہ رہے تھے کہ اپنی بھابھی ہی کے ساتھ شاپنگ کرنی ہے یا مجھ کو بھی کوئی پوچھے گا۔۔ میں نے کہا آپ بھی آجاتے۔۔ تو کہنے لگے نہی۔۔ں مجھے بھی سپیشلی الگ کرواؤ شاپنگ ’’ الہام نے ہنس کر کہا تھا ۔۔

’’ پھر ؟ ’’ اریج نے پوچھا تھا۔۔

پھر یہ کہ کل سے میں انکے ساتھ شاپنگ میں ہیلپ کرونگی۔۔ باقی اب تمہیں خود کرنی ہوگی ’’ الہام نے اریج سے کہا تھا اور یہ بات اریج کو بلکل اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔ احتشام ساتھ شاپنگ کیوں نہیں کرنا چاہتا ؟ اکیلے میں کیوں ؟ اربش تو جیسے اریج کا دماغ پڑھ رہی تھی۔۔

’’ تو الگ کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ان دونوں کے ساتھ ہی کر لینا ’’ اربش نے اریج کے دل کی بات کی تھی۔۔

’’ میں نے بھی یہی سوچا تھا پر احتشام بھائی نے منع کردیا ’’ الہام نے کہا تھا اور اریج کے چہرے پر تاریک سائے آئے تھے۔۔ جسے الہام تو دیکھ نہیں سکی۔۔ پر اربش نے نوٹ کیا تھا۔۔

’’ کوئی بات نہیں۔۔ میں اریج کو آگے کی شاپنگ کروا لونگی۔۔ تم احتشام کے ساتھ جانا ’’ اربش کی بات پر تینوں رضامند تھے۔۔



اگلے روز وہ احتشام کے ساتھ شاپنگ پر آئی تھی۔۔ آج کل وہ انہیں کے گھر رہ رہی تھی۔۔ رابعہ پھوپھو اکیلی تھیں۔۔ تو انکا ہاتھ بٹانے کے لئے اسکا یہاں ہونا ضروری تھا۔۔۔ وہ یہی سے اریج کو لینے جاتی تھی اور پھر اسے چھوڑ کر یہی واپس آجاتی تھی۔۔ آج اسے اریج کے ساتھ نہیں جانا تھا کیونکہ اریج کی اچھی خاصی شاپنگ وہ لوگ کر چکی تھیں اور جو تھوڑی بہت رہتی تھی وہ اب اربش کی ذمہ داری تھی۔۔ اس لئے اب اریج کی طرف سے وہ بے فکر تھی اور اب احتشام بھائی کے ساتھ وہ اس شاپنگ مال میں موجود تھی۔۔ مگر چکر تو وہ کب سے لیڈیز کے ڈریسز کی شاپس کے لگا رہے تھے۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ احتشام بھائی لیڈیز کے ڈریسز کیوں دیکھ رہے ہیں ؟

’’ مجھے سمجھ نہیں آرہی۔۔ شاپنگ ہم آپکی کرنے آئے ہیں اور ڈریسز ہم لیڈیز کے دیکھ رہے ہیں۔۔ آپ زنانہ جوڑا پہنیں گے کیا اپنی شادی میں ؟ ’’ اس نےاب تنگ آکر کہا تھا۔۔ اتنی دکانوں پر کب سے فضول میں گھوم رہے تھے وہ۔۔

’’ چپ کرو ’’ احتشام نے اسے پھر سے چپ کروایا تھا۔۔ جب سے وہ آئے تھے۔۔ یہی ہورہا تھا۔۔ وہ اسے کچھ بولنے نہیں دے رہے تھے۔۔اور وہ زیادہ دیر چپ نہیں رہتی تھی ۔۔

اب وہ ایک اور دکان میں آئے تھے۔۔ احتشام نے یہاں بھی کئ ڈریس دیکھے تھ۔۔ے پر اسے پسند نہیں آرہے تھے اور آخر کار اس نے کھل کر کہہ ہی دیا تھا۔۔

’’ مجھے ایک بار ہی اس پوری مارکیٹ کا سب سے لیٹس اور خوبصورت جوڑا دکھاؤ۔۔ ان سب میں سے کچھ نہیں لینے والا میں ’’ الہام ایک طرف کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔

’’ اوک سر ’’ اب وہ دکان دار اندر سے ایک جوڑا نکال کر لایا تھا اور اسے ڈبے سے نکال کر احتشام کے سامنے پھیلایا تھا اور الہام بھی نظر پڑھتے ہی اس کے قریب آئی تھی۔۔

’’ واو ! کتنا حسین ہے یہ ’’ الہام اب اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہہ رہی تھی۔۔ لال رنک کی بیس اور اس کے اوپر سلور موتیوں سے کیا گیا کام ۔۔۔ بے حد حسین اور باریک ڈیزائین۔۔۔ پاؤں تک آتی لمبائی اور باڈی کی فکس فٹنگ کے علاوہ اس پر موجود موتی بھی بے حد قیمتی تھے۔۔ اسی کے ساتھ اس ڈریس کے میچنگ کے نازک سے ائر رنگ جن کی لمبائی بازوں تک آتی تھی۔۔ انکا ڈیزائن بھی اسی ڈریس کے ڈیزائن جیسا ہی تھا۔۔ اس نے محسوس کیا تھا کپڑا اتنا ملائم تھا کہ ہاتھ پر سختی سے پکڑنے پر بھی پھسلنے کو تیار تھا۔۔ اس نے اتنا حسین جوڑا آج تک اپنی لائف میں نہیں دیکھا تھا۔۔

’’ اسے پیک کر دیں ’’ احتشام کی آواز نے اسکا دھیان اس ڈریس پر سے ہٹایا تھا۔۔۔

’’ مگر یہ بہت ایکسپنسو ہے بھائی۔۔ آپ اریج کے لئے کچھ اور لے لیجئے گا ’’ اس نے اسے روکا تھا۔۔ وہ دیکھ سکتی تھی۔۔ اس ڈریس کی پرائز ایک لاکھ سے بھی اوپر تھی۔۔ اور پھر یہ شادی کا جوڑا نہیں تھا۔۔ یقیناً احتشام اریج کو تحفہ دینا چاہتا تھا۔۔ مگر اتنا مہنگا ؟

’’ تم چپ کرو ’’ اس نے اسے ایک بارپھر ٹوکا تھا۔۔۔ اور الہام اب منہ بنا کر خاموش ہوگئ تھی۔۔ اس نے دوربارہ کچھ نہیں کہا تھا۔۔ احتشام نے دو اور ڈریسز اور ان کے ساتھ کی جیورلی اور سینڈل وغیرہ بھی لئے تھے اور وہ سب کی سب چیزیں ہی بہت ایکسپنسو تھی۔۔ وہ بس خاموشی سے اسے سب لیتا دیکھ رہی تھی۔۔ اسے اب اندازہ ہورہا تھا کہ اریج کے لئے کچھ بھی لینے سے پہلے وہ پرائز نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ بس دکان کی نئی اور سب سے مہنگی چیز وہی لے رہا تھا۔۔۔ واقعی اریج اس کے لئے اہم تھی۔۔ الہام کو اچھا لگا تھا۔۔ ۔ شاپنگ سے فارغ ہوکر وہ اب اسے واپس گھر چھوڑ رہا تھا۔۔ اس نے ہسپتال بھی جانا تھا۔۔ اس لئے اس کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکا تھا۔۔ گھر کے آگے گاڑی رکی تو وہ دوبارہ بولی تھی۔۔

’’ آپ نے بہت زیادہ خرچہ کیا ہے آج۔۔ اتنی ساری چیزیں اور جوڑے لے لئے ہم اریج کے لئے بہت کچھ لے چکے تھے۔۔ آپ ایک اپنی طرف سے لے لیتے تو وہ بھی بہت تھا ’’ اسے واقعی احساس تھا کہ احتشام نے ضرورت سے بہت زیادہ لے لیا تھا۔۔

’’ میں جانتا ہوں کہ تم بہت کچھ لے چکی ہو اسکے لئے۔۔ اس لئے تو میں نے کچھ نہیں لیا ’’ وہ بہت پر سکون انداز میں بولا تھا۔۔ جبکہ الہام اسکی بات پر چونکی تھی ۔۔

’’ کیا مطلب ؟ یہ سب پھر کیا ہے ؟ ’’ اس نے بیک سیٹ پر رکھے بیگز کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔۔

’’ میں نے کب کہا کہ یہ اریج کے لئے ہیں ؟ ’’

’’ تو پھر کس کے لئے ہیں ؟ ’’ وہ حیران تھی۔۔ اتنی ساری چیزیں اگر اریج کے لئے نہیں تھیں۔۔ تو پھر کس کے لئے احتشام نے اتنا کچھ لیا تھا۔۔

’’ تمہارے لئے ہیں یہ ’’ احتشام نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ وہ چونکی تھی۔۔

’’ میرے لئے ؟ ’’

’’ ہاں پچھلے ایک ہفتے سے تم اریج کے لئے اتنی شاپنگ کر چکی ہوکہ یہ بھول گئ کہ تمہیں بھی کچھ لینا ہ۔۔ے تمہارے اکلوتے بھائی کی شادی میں صرف ۴ دن رہ گئے ہیں اور تم نے ایک جوڑا تک نہیں لیا ’’ وہ اسے ڈانٹ رہا تھا اور الہام اسے دیکھ رہی تھی۔۔ واقعی ۔۔ وہ تو بھول ہی گئ تھی کہ اسے بھی کچھ لینا ہے۔۔ مگر احتشام نہیں بھولا تھا۔۔ وہ بھول سکتا بھی نہیں تھا ۔۔

’’ آپ ہیں نا میرا دھیان رکھنے کے لئے۔۔ مجھے کیا ضرورت سوچنے کی کچھ ’’ اس نے بہت دل سے کہا تھا۔۔ احتشام مسکرایا تھا۔۔

’’ اچھا اب مکھن مت لگاؤ اور جاؤ اندر۔۔ کل تمہاری باری ہے میری شاپنگ کرنے کی ’’

’’ ضرور ’’ اس نے کہا تھا اور وہ اب بیک سیٹ سے بیگز اٹھا اندر گئ تھی اور احتشام نے گاڑی اب اپنے ہسپتال کی طرف موڑی تھی۔۔

وہ اندر آئی ہی تھی کہ اسے اربش باہر نکلتی ہوئی نظر آئی تھی۔۔ جو اسے دیکھتے ہی اسکی طرف آرہی تھی۔۔

’’ ہوگئ شاپنگ ’’ اس کے ہاتھ میں پکڑے بیگز کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں ہوگئ ’’ اس نے مختصر جواب دے کر آگے بڑھنا چاہا تھا جب اربش نے اسکے ہاتھ سے بیگز لئے تھے۔۔ وہ رکی تھی۔۔

’’ یہ کیا بدتمیزی ہے ’’ الہام کو اسکی حرکت اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔

’’ ارے کوئی بد تمیزی نہیں ہے ۔۔ میں تو بس دیکھنا چاہ رہی ہوں کہ تم نے احتشام کے لئے کیسی شاپنگ کی ہے ؟ ’’ اس نے اب بیگز میں دیکھنا شروع کیا تھا اور پھر ایک جوڑا باہر نکالا تھا۔۔

’’ واو ! یہ تو بہت ہی خوبصورت ڈریسز ہیں۔۔ مگر یہ احتشام کے تو نہیں ہیں پھر اریج کے ہیں ؟ ’’ الہام نے اس کے ہاتھ سے بیگز لئے تھے۔۔

’’ میرے ہیں ’’ وہ کہہ کر آگے بڑھ گئ تھی اور اربش کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی۔۔

اب وہ اریج کے ساتھ شاپنگ مال میں موجود تھی آج انکی شاپنگ کا آخری دن تھا۔۔ صرف ایک جوتوں کا جوڑا ہی لینا تھا۔۔ اس کے علاوہ سب کچھ وہ الہام کے ساتھ لے چکی تھی۔۔ انہوں نے اپنی مطلوبہ چیزیں لے لی تھیں۔۔ مگر اس میں انہیں تھوڑی دیر ہوگئ تھی تو اربش اسے ڈنر کروانے کے لئے ایک ریسٹورینٹ لے آئی تھی۔۔۔

’’ ویسے تمہارے ساتھ آنے سے پہلے میں ایک کام سے احتشام کی طرف گئ تھی مگر الہام اور احتشام تو صبح سے ہی شاپنگ پر گئے ہوئے تھے ’’ اربش نے کھانے کی طرف وجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ اچھا ’’ اریج نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی تھی۔۔۔

’’ ہاں۔۔ بہت مہنگی شاپنگ کروائی ہے احتشام نے الہام کو۔۔ ڈیزائنرز کے سب سے مہنگے اور بہترین جوڑے دلوائے ہیں اسے۔۔ میری تو آنکھیں چمک گئ انہیں دیکھ کر ’’ اربش کی بات پر اریج کے ہاتھ رکے تھے۔۔

’’ الہام کی شاپنگ ؟ ‘’ الہام تو اسے احتشام کی شاپنگ کا کہہ کر گئ تھی۔۔

’’ ہاں۔۔ تین خوبصورت اور مہنگے ڈریسز کے علاوہ جیولری اور سینڈلز ہر چیز دلوائی ہے اس نے الہام کو ’’

’’ اچھا ’’ اریج کے چہرے کے بدلتے تعصورات کو اربش نے نوٹ کیا تھا۔۔

’’ میں نے کہا تھا نا کہ احتشام بہت محبت کرتا ہے الہام سے۔۔ اب دیکھوں نا اپنی شاپنگ کرنے گیا تھا اور الہام کی کر آیا ’’ اس نے مزید کہنا ضروری سمجھا تھا۔۔

’’ آپ نے مجھے بتایا نہیں ’’ اریج نے کہا تھا۔۔

’’ کیا ؟ ’’ وہ سمجھی نہیں تھی۔۔

’’ آپکی اور احتشام کی بات کیوں ختم ہوئی تھی ؟ ’’ ناجانے کیوں پر جیسے اسکے لئے یہ جاننا بہت اہم تھا۔۔اور اربش کےلئے بتانا۔۔

’’ تم یہ لو نا۔۔ یہاں کے کباب بہت ٹیسٹی ہیں ’’ اربش نے کباب کی پلیٹ اسکی طرف بڑھا کر کہا تھا۔۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ بات بدلنا چاہ رہی تھی۔۔

’’ بات مت بدلیں۔۔ مجھےبتائیں ’’ اریج جیسے سب جان کر ہی رکنے والی تھی۔۔

’’ کیا کرنا ہے تم نے جان کر۔۔ اب تو یہ پرانی باتیں ہیں ’’ اربش نے اداسی سے کہا تھا۔۔

’’ مگر میں پھر بھی جاننا چاہتی ہوں۔۔ پلیز مجھے بتائیں ’’ اس نے اب زور دے کر کہا تھا۔۔ اربش اب مجبور تھی۔۔

’’ الہام نہیں چاہتی تھی کہ ہماری شادی ہو۔۔ اس لئے اس نے احتشام سے کہا کہ وہ انکار کر دے اور احتشام نے ہمیشہ کی طرح الہام کے کہنے پر انکار کر دیا ’’ اس نے کہا تھا اور اریج کی آنکھوں میں حیرت آئی تھی۔۔

’’ ہمیشہ کی طرح ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ ہاں اس نے اپنی زندگی کے بہت سے اہم فیصلے الہام کی خاطر اسکی مرضی سے کیے ہیں ’’

’’ کیسے فیصلے ؟ ’’ اسے تجسس ہوا تھا۔۔

’’ ایک سال پہلے احتشام کو فرانس کے ایک ہاسپٹل میں جاب کی آفر آئی تھی اور تم تو جانتی ہو ترقی کے چانسز کتنے زیادہ ہوتے ہیں اس میں۔۔ مگر احتشام نے آفر ایکسپٹ نہیں کی ’’

’’ وہ کیوں ؟ ’’ اسے حیرت تھی۔۔ اتنی اچھی آفر کون ریجیکٹ کر سکتا ہے۔۔

’’ الہام کی خاطر ’’ اس نے مختصر کہا تھا۔۔۔

’’ الہام کی خاطر؟ ’’ وہ حیران ہوئی تھی۔۔

’’ ہاں الہام اس سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔ اس لئے اس نے الہام کی خاطر اپنےمستقبل کا ایک سنہرہ موقع گوا دیا۔۔ وہ بھی بہت خوشی سے’’ وہ رکی تھی۔۔ پھر مسکرائی تھی۔۔

’’ ایسے ہی ہیں دونوں ایک دوسرے کی خاطر۔۔ ایک دوسرے کی ہر بات مان لیتےہیں۔۔ پھر چاہے انہیں کتنا ہی نقصان کیوں نا ہو ’’ اس نے بات کو جن الفاظوں کے ساتھ پورا کیا تھا۔۔ اریج کے ذہن میں شک کا بیج بونے میں وہ کامیاب ہوگئ تھی۔۔

’’ الہام آپ دونوں کی شادی کے خلاف کیوں تھی ؟ ’’ اس نے ایک اور سوال کیا تھا۔۔

’’ وہ میں تمہیں نہیں بتاسکتی ؟ ’’ اربش نے صاف انکار کیا تھا۔۔

’’ کیوں نہیں بتا سکتیں ؟ ’’

’’ کیونکہ تم الہام کی اچھی دوست ہو اور اس کے خلاف کسی بھی بات پر تم یقین نہیں کروگی ’’ اسے معلوم تھا کہ اگلی بات پر وہ اتنی آسانی سے یقین نہیں کرے گی۔۔

’’ اگر بات سچی ہے تو آپکو بتاتے ہوئے یقین کی پروانہیں ہونی چاہئے ’’ اریج نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔ اسکا دماغ اور دل اس وقت کس جنگ میں تھا۔۔ یہ صرف وہی جان سکتی تھی۔۔۔

’’بات تو سچی ہے اریج ۔۔ مگر بنا ثبوت کے اس پر کوئی یقین نہیں کریگا ’’ وہ بہت سنجیدہ تھی۔۔

’’ تو آپ ثبوت کے ساتھ بتا دیں ’’ وہ بھی ہر بات کی تہہ تک جانے کو تیار تھی۔۔

’’ ضرور۔۔ مگر اس کے لئے تمہیں دو سے تین دن انتظار کرنا ہوگا ’’

’’ اور ان دو تین دن میں میری شادی ہے ’’ اریج سے جیسے اسے یاد دلایا تھا۔۔

’’ جانتی ہوں ’’ وہ مسکرائی تھی اور یہ ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی۔۔ جسے اریج سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ باقی کا سارا وقت انہوں نے بات نہیں کی تھی۔۔ دونوں ہی کے دماغ کسی نا کسی سوچ میں گم تھے۔۔ فرق بس یہ تھا کہ اریج اپنے اندر پیدا ہونے والے شک کے بیج کو پال رہی تھی اور اربش اسے ایک پیڑ بنانے کی تیاری میں تھی۔۔

part 2

وہ یونیورسٹی سے باہر نکلا تھا۔۔ جب اسے وہ سامنے اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی نظر آئی تھی۔۔ اسے دیکھتے ہی اس نے اسے اشارہ کیا تھا۔۔ ایک مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا۔۔ کتنے دنوں بعد۔۔ جانے کتنے دنوں بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ آنکھوں کو عجیب سا سکون ملا تھا۔۔ وہ اس کے قریب پہنچا تھا مگر کچھ بھی کہنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔ دل بس چاہ رہا تھا کہ وہ اسے خاموشی سے دیکھتا رہے۔۔ اور وہ اسکے سامنے کھڑی رہے۔۔ الہام نے اسے گم سم دیکھ کر اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ چٹکی بجائی تھی۔۔ وہ چونکا تھا۔۔

’’ کہاں گم ہیں آپ ؟ کچھ پوچھ رہی ہوں میں ’’ وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی۔۔ آج اسکی مسکراہٹ کتنی حسین تھی۔۔ بے اختیار دل نے اس مسکراہٹ کے ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کی تھی۔۔

’’ کیا پوچھا ہے ؟ ’’ اس نے تو سنا ہی نہیں تھا کچھ۔۔دیکھنے سے فرصت ہی کہاں ملی کہ کچھ سنتا۔۔

’’ چلیں۔۔ کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ’’ الہام نے اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا تھا۔۔ وہ بنا کچھ کہے اندر بیٹھ گیا تھا۔۔ اس نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک رسٹورینٹ میں موجود تھے۔۔

’’ اب بتائیں۔۔ کہاں گم ہیں آپ ؟ میری کسی بات کا جواب ہی نہیں دیا ؟ ’’ الہام نے پوچھا تھا۔۔ انکے سامنے رکھی کافی کے کپ سے دھوا نکل رہا تھا۔۔ جس سے معلوم ہورہا تھا کہ کافی ابھی گرم ہے۔۔

’’ بس آپکو اتنے دن بعد دیکھ کر گم سم سا ہوگیا ’’ اس نے سچ کہنا ہی ٹھیک سمجھا تھا۔۔ وہ اس لڑکی سے کبھی جھوٹ نہیں کہہ سکتا تھا۔۔ وہ کہنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔

’’ اچھا نہیں لگا مجھے دیکھ کر ؟ ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ جواب تو وہ جانتی تھی۔۔ اسکی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اسے کتنا اچھا لگا تھا۔۔

’’ آپ جانتی ہیں پھر پوچھ کیوں رہی ہیں ؟ ’’ وہ بھی اسے جانتا تھا۔۔

’’ میں پوچھ رہی ہوں تو آپ بتا دیں۔۔ میرے جاننے یا نا جاننے سے کیاہوتا ہے ؟ ’’ اس نے کہا تھا۔۔

’’ بہت کچھ ہوتا ہے۔۔ پتہ ہے مجھے کونسی بات اچھی نہیں لگتی انسان کی ؟ ’’ اس نے کافی سے نکلتے دھوئے پر نگاہیں مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ کونسی ؟ ’’ سوالیاں انداز تھا۔۔

’’ انسان جانتا ہے کہ اسکے دل میں کیا ہے۔۔ اسکا دل اسے سب بتاتا ہے۔۔۔ بار بار احساس دلاتا ہے کہ وہ اصل میں کیا چاہتا ہے؟ مگر پھر بھی انسان اس احساس سے آنکھیں چراتا ہے۔۔ اسے اگنور کرتا ہے۔۔ اس سے بچنا چاہتا ہے۔۔ مجھے انسان کی یہ عادت بلکل اچھی نہیں لگتی ’’ وہ کہہ رہا تھا اور الہام اسے سن کر مسکرائی تھی۔۔

’’ مگر کبھی کبھی یہ نظریں چرانا۔۔ دل کو چپ کروانا۔۔ اسے اگنور کرنا ۔۔ اور اس سے بچنے کی کوششیں کرنے کے علادہ انسان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔۔ کبھی کبھی یہ مجبوری ہوتی ہے ’’ اس نے کہا تھا اور عرش کی نگاہیں اب اسکی طرف اٹھی تھیں۔۔

’’ مجبوری تو ایک انسان کے دوسرے انسان سے دور ہونے۔۔۔ اسے اگنور کرنے۔۔ اور اس سے بھاگنے کو کہتے ہیں۔۔دل سے دور ہونا ۔۔ دل کو اگنور کرنا۔۔ اور دل سے نظر چرانے کی کوئی مجبوری بھی کوئی مجبوری ہوتی ہے کیا ؟ ’’ وہ ٹھہرا تھا۔۔

’’ ایک دل ہی تو ہوتا ہے۔۔ جس کے سامنے انسان کو ڈٹ کر کھڑا ہونا چایئے۔۔ اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنا چاہئے۔۔ ’’ ہاں جو تو چاہتا ہے وہی میں چاہتا ہوں اور جو میں چاہتا ہوں ۔۔ تو مجھ سے وہی کروا اب ’’ وہ ایسے کہہ رہا تھا۔۔ جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو اور وہ واقعی اپنے دل سے مخاطب ہو۔۔ الہام نے بس اسے دیکھا تھا اور اسکی بات پر اس نے سر ہلایا تھا۔۔

’’ کبھی کبھی بہت گہری باتیں کرتے ہیں آپ ’’ اس نے کہا تھا۔۔ وہ مسکرایا تھا۔۔

’’ آپ کے سامنے ہی کرتا ہوں بس ’’ اس نے اقرار کیا تھا۔۔ وہ واقعی صرف اسی کے سامنے اس طرح کھل کر بات کرتا تھا۔۔

’’ وہ کیوں ؟ ’’ سوال پوچھا تھا۔۔

’’ کیونکہ دل سے ، دل کی ہر بات کر دینی چاہئے۔۔ اور آپ تو میرے دل کا راز ہیں تو یعنی ۔۔ آپ میرا دل ہیں ’’ اس نے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈال کر کہا تھا۔۔ اور الہام نے نظریں جھکائیں تھیں۔۔ کچھ تھا۔۔ کچھ تھا کہ وہ اسکی آنکھوں میں زیادہ دیر دیکھ نہیں سکی تھی۔۔ جانے ایسا کیا تھا ؟؟ جس نے نظر چرانے پر مجبور کردیا تھا ۔۔۔

’’ یہ لیجئے’’ الہام نے اپنے پرس نے ایک کارڈ نکال کر اسکے سامنے کیا تھا۔۔

’’ بہت مبارک ہو آپکو ’’ اس نے کارڈ لیتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ آکر دیجئےگا مبارک باد ’’ اس نے کافی کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ضرور ’’ اس نے کہا تھا اور اب وہ دونوں ان دنوں یونیورسٹی میں ہونے والے اسائینمنٹز کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے ۔۔

آج اسکی مہندی تھی۔۔ مگر وہ خوش نہیں تھی۔۔ دل میں جب بدگمانی آجائے۔۔ تو انسان کو خوشیاں محسوس نہیں ہوتیں۔۔ اور پھر شک تو ہر رشتے اور اس سے جڑی ہر خوشی کو نوچ کر کھا جاتا ہے۔۔ اسکا شک بھی ایسا ہی کچھ کر رہا تھا۔ْ۔

دل میں کوئی خوشی نہیں تھی۔۔ مگر ابھی وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔۔ وہ کسی سے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔۔ اس کا شک ابھی تک یقین کی دہلیز تک نہیں پہنچا تھا۔۔

اور شک اگر یقین کی دہلیز تک نہ پہنچے تو اس کی واپسی ممکن ہوتی ہے۔۔ اسکا مداوا ممکن ہوتا ہے۔۔

الہام اسکی دوست تھی۔۔ اسے دکھ تھا کہ اس نے یہ سب اس سے چپایا تھا۔۔ وہ اگر اسے بتا دیتی تو وہ ہر گز اسے غلط نہیں سمجھتی۔۔۔ مگر اس نے تو اسے احساس بھی ہونے نہیں دیا تھا۔۔ وہ آج بھی منتظر تھی کہ الہام اسے سچ بتائے۔۔ مگر وہ تو اپنی خوشی میں اتنی گم تھی کہ اسے تو اس سے بات تک کرنے کی فرصت نہیں تھی۔۔ احتشام کے گھر کی ساری ذمہ داری اس نے اٹھا رکھی تھی۔۔۔ اور وہ تو جیسے بھول ہی گئ تھی کہ اسکی دوست کو بھی اسکی ضرورت ہوسکتی ہے۔۔ اریج کا دل بدگمان ہورہا تھا۔۔ اور اسے اب اس سے نجات حاصل کرنی تھی۔۔ اسے اپنے بھائی کی کمی بھی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔۔ وہ اپنے ذاکر بھائی سے ہر بات شیئر کر لیا کرتی تھی۔۔ مگر اب وہ انہیں پریشان نہیں کر سکتی تھی۔۔ بھابھی کی ڈیلیوری کی وجہ سے وہ اسکی شادی میں نہیں آسکے تھے۔۔ وہ اپنی پریشانی انہیں بتا کر مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ مگر وہ کیا کرے ؟ اسے خود بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ دل تو بس یہی کہہ رہا تھا کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔۔ کچھ ایسا جو نہیں ہونا چاہئے۔۔ مگر وہ کیا تھا ؟؟ یہ اریج نہیں سمجھ پارہی تھی۔۔ شاید ایک ہی انسان ہے۔۔ جو اسے یہ سمجھا سکتا تھا۔۔ مگر ابھی تو اسے اس انسان سے بھی بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔۔ مہندی کی تیاریاں مکمل تھیں اور وہ لوگ تھوڑی دیر میں یہی تو آ نے والے تھے۔۔ اس نے اٹھ کر خود کو شیشے میں دیکھا تھا۔۔

پیلے اور ہرے جوڑے میں پھولوں کا زیور اور ہلکے سے میک اپ میں وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ مگر اس کے چہرے پر پھیلے پریشانی کے تعصورات۔۔ اسکی خوبصورتی کو جیسے ماند کر رہے تھے۔۔ اس نے آئینے پر سے نگاہ ہٹائی تھی کہ کمرے کا دروازک کھول کر ماما اور پاپا اندر آئے تھے۔۔

’’ ماشائ اللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی ’’ پاپا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا وہ مسکرائی تھی ایک پھیکی مسکراہٹ

’’ کل تم چلی جاؤگی یہاں سے تو ہم تو اکیلے ہی ہوجائینگے ’’ ماما نے اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا تھا

’’ ایسی باتیں مت کریں ماما ’’ اسکی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔۔

’’ ارے تم بھی نا۔۔ میری بیٹی کو رلا دیا تم نے ’’ پاپا نے اسے اپنے ساتھ لگا کر کہا تھا۔۔

’’ اچھا یہ لو ہم دونوں کی طرف سے۔۔ تمہارا شادی کا تحفہ ‘’ پاپا نے ایک لفافہ اسکی طرف بڑھایا تھا۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ’’ اس نے ماما کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔

’’ خود دیکھ لو’’ ماما نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ اس نے لفافہ کھولا اس میں دس لاکھ کا چیک اور پاسپورٹ تھا۔۔ جس میں ایک ملک کا ویزا لگا ہوا تھا۔۔ اس نے حیران ہو کر ماما اور پاپا کو دیکھا تھا۔۔

’’ یہ کس لئے ہے ؟ مجھے یہ رقم نہیں چایئے پاپا ’’ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔

’’ تمہیں نہیں چاہئے مگر ہماری خواہش ہے۔۔ اتنی جلدی شادی ہونے کی وجہ سے ہم جو کچھ کرنا چاہتے تھے تمہارے لئے۔۔ وہ نہیں کر سکے مگر یہ تم رکھ لو۔۔ اب تم جیسے چاہو اسے استعمال کرو ’’ ماما نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ مگر مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔ آپ دونوں کی دعائیں ہی بہت ہیں میرے لئے ’’

’’ مگر ہمارے لئے دعاؤں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے۔۔ پھر کیا پتہ تمہیں اسکی ضرورت پڑھ جائے ’’ ماما نے کہا تھا۔۔

’’ ہاں اور اب اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔۔ لڑکیوں اندر آجاؤ ’’ پاپا نے کہا تھا اور دروازہ کھول کر اسکی کزنز اندر آئیں تھی۔۔

’’ اسے لے آؤ نیچے۔۔ وہ لوگ آچکے ہیں ’’ ماما نے کہا تھا اور وہ دونوں اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے تھے ۔۔ اس نے وہ لفافہ اپنے تکیے کے نیچے رکھا تھا اور اب وہ ان لڑکیوں کے ہمراہ نیچے جارہی تھی۔۔ جہاں سٹیج پر بیٹھا احتشام اور اسکے ساتھ بیٹھی الہام اسکی آمد کے منتظر تھے ۔۔۔

رسم شروع ہو چکی تھی۔۔ اور بڑوں کے بعد اب الہام وہ پہلی لڑکی تھی جو کہ رسم کر رہی تھی۔۔ ان دونوں کے سامنے رکھی میز۔۔ جس میں مٹھائی کی پلیٹ اور ایک مہندی کی پلیٹ موجود تھی۔۔ الہام اس میز کے پاس پیر کے بل بیٹھی تھی۔۔

’’ اچھا جی تو پھر آپکو مہندی لگانی ہے ’’ اس نے احتشام سے کہا تھا۔۔انداز شرارتی تھا۔۔

’’ بلکل نہیں۔۔ مجھے نہیں۔۔ میرے ہاتھ میں رکھے اس پتے پر لگانی ہے ’’ احتشام نے ہاتھ اوپر کر کے کہا تھا۔۔ ساتھ بیٹھی اریج خاموشی سے انکی باتیں سن رہی تھی اور پاس کھڑی اربش مسکرا رہی تھی۔۔ باقی سب بھی اب انہیں کی طرف متوجہ تھے۔۔

’’ ارے ہاتھ ہو یا چہرہ ایک ہی بات ہے ’’ الہام نے کہتے ساتھ مہندی سے بھرا ہاتھ اس کے گالوں میں لگایا تھا اور احتشام اس کے لئے تیار نہیں تھا۔۔ وہ فوراً سے پیچھے ہوا۔۔ مگر دیر ہوچکی تھی۔۔ اسکے گالوں پر مہندی لگ گئی تھی۔۔ مگر اس نے بھی کہاں آرام سے اسے چھوڑ دینا تھا ؟؟ اگلے ہی پل اسنے مہندی کی پلیٹ میں ہاتھ ڈالا تھا۔۔ الہام اسکا اگلا اقدام سمجھ گئ تھی۔۔ اس نے فوراً اٹھ کر وہاں سے بھاگنا چاہا تھا مگر اس کے بھاگنے سے پہلےہی احتشام نے اسکا بازوں پکڑ کر اسے روکا تھا۔۔۔ اور اپنا دوسرا ہاتھ اسکے چہرے پر ملا تھا اور جب ہاتھ ہٹایا ۔۔ تو الہام کا پورا چہرہ مہندی سے بھر چکا تھا۔۔آ س پاس سب ان دونوں کی حرکت پر ہنس رہے تھے۔۔ اور اربش کی نظر اریج کی طرف گئ تھی۔۔ جوکہ احتشام کے اس ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس کے حصار میں اب تک الہام کا بازوں تھا۔۔ ایک مسکراہٹ نے اربش کے ہونٹوں کو چھوا تھا۔۔ وہ اریج کے ساتھ جاکر بیٹھی تھی۔۔۔ جبکہ الہام اور احتشام چہرے پر مہندی کا رنگ آنے سے پہلے اسے دھونے کے لئے اندر کی جانب بھاگے تھے ۔۔ اور جاتے جاتے بھی ناجانے کونسی باتیں تھیں۔۔ جن پر وہ دونوں بے پناہ ہنس رہے تھے۔۔ اربش نے خاموشی سے اریج کو دیکھا تھا۔۔

اور پھر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا تھا۔۔۔ اریج جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔ اس نے اربش کی طرف دیکھا تھا۔۔ وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی تھی۔۔۔ اور پھر اٹھ کر مہمانوں کی طرف چلی گئ تھی۔۔ اب مہمان احتشام کے بغیر ہی رسم ادا کر رہے تھے۔۔ اور اریج نے اپنے ہاتھ میں اس چیز کو بہت مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔ جو تھوڑی دیر پہلے اربش اس کے ہاتھ میں رکھ گئ تھی۔۔۔اسکا دل دھڑک رہا تھا۔۔۔ ناجانے۔۔ اس چھوٹی سی چیز میں کونسا طوفان چھپا تھا۔۔۔

مہمانوں نے تو آج رات یہی رہنا تھا۔۔ کل اسکی بارات تھی۔۔ اور لڑکیاں اسے کسی صورت اکیلا چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں۔۔ مگر اسے وقت چاہئے تھا۔۔ اس لئے اس نے ماما سے ریکوسٹ کر کے کسی کو بھی اس کے پاس رکنے سے روک دیا تھا۔۔۔ اس وقت رات کے ۳ بج رہے تھے۔۔ باہر ایسا لگ رہا تھا کہ کسی کا سونے کا ارادہ نہیں تھا۔۔ اسکی کزنز نے تو پوری رات جاگنا تھا اور اسے ؟؟

اسے بھی پوری رات جاگنا تھا۔۔ فرق بس یہ تھا کہ وہ خوشی میں جاگ رہی تھیں ۔۔ اور اریج خوشی کے ختم ہونے کے خوف میں ۔۔۔ وہ بے چین تھی۔۔ شام کے منظر اب بھی اسکی نگاہوں میں گھوم رہے تھے۔۔ آج سے پہلے اسے ایسا محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔جیسے جان ہتھیلی میں بند ہو ۔۔ ہتھیلی کھلے گی تو جان نکل جائے گی۔۔مگر آج اسے محسوس ہورہا تھا ۔۔

آج سے پہلے وہ جانتی نہیں تھی کہ الہام اسکی سگی بہن نہیں ہے۔۔ مگر جب سے اس نے یہ جانا تھا۔۔۔ وہ بے سکون تھی۔۔ جس طرح احتشام نے اسکا بازو تھاما تھا۔۔۔ اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔ کتنے بے تکلف تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ۔۔۔ اور احتشام ؟ اس نے تو اس سے بات تک کرنے کی توفیق نہیں کی تھی۔۔ وہ کتنا وقت ایک ساتھ بیٹھے تھے۔۔ مگر ایک بار بھی اس نے اسے مخاطب نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ اسکی بیوی بننےجارہی تھی۔۔۔ مگر اسے دیکھ کر تو لگ رہا تھا کہ جیسے یہ اسکے لئے کوئی عام سے بات ہو ؟؟

جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑھتا ہو اسکے ہونے نا ہونے سے ؟ ؟ یا پھر۔۔ اسکی بیوی ہونے سے ؟ سوچیں ناجانے اسے کہاں سے کہاں لے جارہی تھیں۔۔۔ اور وہ جتنا سوچتی جارہی تھی۔۔ اتنی ہی تکلیف اسکے دل میں اٹھ رہی تھی۔۔ وہ بیڈ پر گم سم سی بیٹھی چھت کو تک رہی تھی۔۔ کہ اچانک ایک خیال آیا تھا۔۔ اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی۔۔ سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اسنے ایک چیز نکالی تھی۔۔ یہ وہی چیز تھی۔۔۔ جو اسے اربش نے تھمائی تھی۔۔۔ اور اسکی مسکراہٹ ؟؟ اسنے دیکھا تھا کہ اربش کی مسکراہٹ اس وقت کتنی معنی خیز تھی۔۔۔ یقیناً یہ وہی ثبوت تھا ۔۔۔ جسکا اسے انتظار تھا ۔۔

اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا تھا۔۔ اور اب وہ اس چھوٹی سی یو۔ایس۔بی کو لیپ ٹاپ کے سائیڈ پر لگا رہی تھی۔۔ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔ جیسے وہ کوئی بم ڈسپوز کرنے لگی ہو۔۔ اس نے فولڈر اوپن کیا تھا اور پھر کانپتی انگلی کے ساتھ اس نے انٹر کا بٹن پریس کیا تھا۔۔ سکرین پر کچھ آیا تھا ۔۔

اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی تھیں ۔۔ آنکھیں سکرین پر ٹکی تھیں۔۔ اور ناجانے غصہ تھا یا ضبط جو اسکی آنکھوں کو لال کر رہا تھا۔۔ جانے ایسا کیا تھا کہ اسکی آنکھیں دنیا جہان کے خوف اور حیرت سے بھر گئ تھیں۔۔

وہ جیسے ایک مجسمہ بن گئ تھی۔۔۔ صرف ایک انگلی ہی تھی جو بار بار ایک بٹن کو پریس کررہی تھی۔۔ باقی کا پورا جسم مفلوج تھا جیسے ۔۔۔ دل کی دھڑکن بھی جیسے رکی ہوئی تھی ۔۔

اسکا وہم سچ بن کر اسکے سامنے تھا۔۔۔ سب ختم ہوگیا تھا۔۔ وہ ْخوشیاں جو باہر موجود لوگ منا رہے تھے۔۔ اندر وہ خوشیاں اسکی آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہی تھیں۔۔۔ اسکی آنکھوں سے کچھ قطرے نکل رہے تھے۔۔۔ اور اسے احساس نہیں تھا کہ وہ قطرے اسکے چہرے کو بگو رہے ہیں۔۔۔

یہ کیسا دھوکہ تھا ؟؟ یہ کیسا فریب تھا ؟؟ رشتوں کا یہ کونسا مزاق ہوا تھا اسکے ساتھ ؟؟

اسے لگا اسکا دل بند ہونے کو ہے۔۔۔ اسے لگا اسکا دماغ سن ہوجیسے۔۔ جسم کا کوئی بھی حصہ جیسے کسی کام کا نہ رہا ہو۔۔ سب ناکارہ ہوگئے تھے۔۔ اور شاید وہ خود بھی ناکارہ ہوگئ تھی۔۔ شاید ہر جذبہ ۔۔ ہر رشتہ ۔۔ ہر احساس ۔۔ اور یہ دل ۔۔ شاید یہ دل بھی ناکارہ ہوگیا تھا ۔۔۔

اسے نہیں معلوم تھا کہ کتنا وقت گزرا تھا۔۔۔ لیپ ٹاپ کی سکرین اب تک روشن تھی۔۔ اور اسکی نظر اسی پر اٹکی تھی۔۔ اچانک جیسے ضبط ٹوٹا تھا۔۔ اسکا ہاتھ اپنے پاس رکھے تکیے کی طرف گیا تھا۔۔ اور اسنے پوری قوت کے ساتھ اسے اٹھا کر دروازے کی طرف پھینکا تھا۔۔ ساتھ ایک چیخ تھی۔۔۔ جو اسکے لبوں سے نکلی تھی۔۔ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے اب وہ آواز کے ساتھ رورہی تھی۔۔۔ مگر اسکی آواز ۔۔۔ میوزک کی اس تیز آواز کے آگے ہار گئ تھی۔۔۔ اور باہر کسی کو بھی خبر نہ تھی۔۔ کہ اندر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔۔ باہر کی دنیا انجان تھی ۔۔ اس قیامت سےجو ٹوٹ پڑی تھی۔۔ جو ٹوٹنے والی تھی۔۔۔

وقت رکتا نہیں ہے۔۔۔ وہ گزرتا ہے۔۔ یہ وقت بھی گزر رہا تھا۔۔۔ اور رات کے اندھیروں کو صبح کی روشنی نے مار دیا تھا۔۔ باہر اب شور کم تھا اور اندر ؟ اندر ایک سکوت تھا۔۔ جیسے یہاں کوئی ہے ہی نہیں ۔۔۔ وہ خاموشی سے چھت کو تک رہی تھی۔۔ ایک رات۔۔ ایک رات میں سب ختم ہوگیا تھا۔۔ اور رات بھی تو ختم ہوگئ تھی ۔۔ اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا تھا۔۔ صبح کی روشنی اسکے کمرے کے اندر آرہی تھی۔۔ باہر ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی۔۔ وہ خاموشی سے اٹھی تھی۔۔ اور کھڑکی کے سامنے آتے پردے کو اسے سرکایا تھا۔۔۔ روشنی اب پورے کمرے میں پھیل گئ تھی۔۔۔ مگر اسکی آنکھوں میں اندھیرا تھا۔۔۔ جو شاید اب ختم نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ وہ پلٹی تھی کہ اسکی نظر اپنے بیڈ پر رکھے ایک لفافے پر پڑی تھی۔۔ بس پل بھر کی بات تھی۔۔ صرف ایک پل کی ۔۔ اور فیصلہ ہوچکا تھا۔۔

کچھ فیصلے انسان اسی طرح اچانک کیا کرتا ہے۔۔ وہ اب اس لفافے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ وہ فیصلہ کرچکی تھی ۔۔ایک ایسا فیصلہ۔۔۔ جو اس قیامت کو رخ موڑنے والا تھا ۔۔ ایک ایسا فیصلہ ۔۔ جو کئ زندگیاں برباد کرنے والا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *