Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ay Raaz e Dil (Episode 07)Part 1,2

Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz

اس نے سجدے سے سر اٹھایا تھا ۔۔ کچھ دیر اسکے لب ہلتے رہے تھے ۔۔ واضح محسوس ہورہی تھی ۔۔ اسکے لبوں کی کپکپاہٹ ۔۔ تھوڑی دیر بعد اس نے چہرہ اپنے دائیں کاندھے کی جانب موڑا تھا ۔۔ پھر بائیں کاندھے کی جانب موڑا تھا ۔۔۔ چہرہ سیدھا کر کے اب اس نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے ۔۔ آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ گرا تھا ۔۔ اور آہستہ آہستہ باقی بھی گر رہے تھے ۔۔ آنسوؤں کی رفتار اسے کچھ بھی کہنے سے روک رہی تھی ۔۔ اس نے کچھ پڑھا تھا ۔۔ کچھ کہا تھا ۔۔ اور پھر اسکی آواز آہستہ آہستہ تیز ہوئی تھی ۔۔ اس نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چھپایا تھا ۔۔

’’ مجھے اس آزمائش سے نکال دے ۔۔۔ مجھے اپنی رضا دے ’’ وہ مسلسل یہی الفاظ دہرا رہا تھا ۔۔۔ جانے کتنا ہی وقت گزرا تھا ۔۔ جب اس نے اپنا سر اٹھایا تھا ۔۔۔ دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر کر وہ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

دل اچانک ہی ہلکا محسوس کر رہا تھا ۔۔ خدا سے بات کر لینے کے بعد دل کا ہلکا محسوس کرنا بھی تو لازم ہوتا ہے ۔۔

’’ رونے سے اکثر دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ۔۔ مگر خدا کے آگے رونے سے روح کو سکون ملتا ہے ’‘ ایک آواز نے اسکے باہر کی جانب بڑھتے قدم روکے تھے۔۔ اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔ سامنے کوئی بزرگ شخص کھڑے تھے ۔۔

’’ آزمائش سے نجات اور خدا کی رضا اس سے رو رو کر مانگ لینے کے بعد ۔۔ کیا محسوس کر رہے ہو ؟ ’’ وہ اس سے پوچھ رہے تھے ۔۔

’’ ہلکا ۔۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے اچانک ہی کوئی بوجھ ۔۔ کوئی وزن دل سے اتر گیا ہو ۔۔ بے چینی مٹ گئ ہو ’’ اس نے کہا تھا ۔۔ وہ واقعی ایسا ہی تو محسوس کر رہا تھا ۔۔

‘’ تو پھر خدا کا جواب پالیا تم نے ۔۔ مبارک ہو ’’ وہ مسکرا کر آگے بڑھنے لگے تھے ۔۔ جبکہ وہ الجھا سا انہیں دیکھ رہا تھا۔۔

’’ جواب کیسا ؟ مجھے تو کوئی جواب نہیں ملا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اور وہ بزرگ اسے دیکھ کر مسکرائے تھے ۔۔

’’ خدا شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے ۔۔ وہ اگر دل کو سکون دے ۔۔ اگر ضمیر سے بوجھ ہٹا دے ۔۔ تو پھر سمجھو اس نے اپنا جواب دے دیا ہے۔۔۔ وہ تم سے راضی ہے ۔۔ اور اگر تم سے خدا راضی ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اب تم وہی کرو جو اسے راضی رکھے ’’

’’ اور مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ میرا کونسا عمل اسے ناراض نہیں کرے گا ۔۔ اور کونسا عمل اسے راضی رکھے گا ؟ ’’ اس نے ایک اور سوال کیا تھا۔۔۔

’’ دل میں رہتا ہے وہ ۔۔ دل کو سکون دیتا ہے۔۔ اور پرسکون دل جو کام کرنے کا کہتا ہے ۔۔ اس میں اسکی رضا ہوتی ہے ۔۔ اب اپنے دل سے مشورہ لو ۔۔ اسکا ہر مشورہ صحیح ہوگا ’’ وہ کہہ کر جاچکے تھے ۔۔ اور احتشام وہی کھڑا رہ گیا تھا ۔۔ اس نے دل سے مشورہ لینا تھا ۔۔ اس نے دل سے مشورہ مانگا تھا ۔۔ اور پھر اچانک ہی ۔۔ دل نے اسے ایک مشورہ دیا تھا ۔۔ دل نے اسے جو مشورہ دیا ۔۔ اب وہ اس پر عمل کرنا چاہتا تھا ۔۔ اس نے اپنا موبائیل نکالا تھا ۔۔ اب اسکے قدم اپنی گاڑی کے جانب تھے ۔۔

’’ پارسا ۔۔ ’’ موبائیل کان سے لگائے ۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھولتے اس نے کہا تھا ۔۔۔

’’ میرا ایک کام کرو ’’ وہ کہتے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔ اور اس نے گاڑی آگے بڑھا دی تھی ۔۔



وہ اس کمرے میں اب بھی اکیلی تھی ۔۔ پارسا کے لائے ہوئے کپڑے پہنے وہ صوفے پر بیٹھی ۔۔ قرآن کی تلاوت کر رہی تھی ۔۔ اسک ایک ایک لفظ اسکی روح کو سکون دے رہا تھا ۔۔ اس نے کچھ دیر بعد قرآن کو چھوم کر رکھا تھا ۔۔ اسی وقت روم کے دروازے پر ناک ہوا تھا ۔۔ اس نے جاکر دروازہ کھولا اور سامنے کھڑی پارسا کو دیکھ کر وہ مسکرائی تھی ۔۔

’’ کیسی ہیں آپ ؟ ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ اور پارسا اسے مسکراتا دیکھ کر پرسکون ہوئی تھی ۔۔

’’ اب بہت اچھی ہوگئ ہوں ۔۔ یہ ناشتہ ہے تمہارے لئے ’’ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا شاپر اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔

’’ آپ نہیں کرینگی ؟ ’’ الہام نے شاپر لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

’’ نہیں ۔۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے ’’ وہ کہہ کر پلٹی تھی ۔۔ مگر پھر رک کر دوبارہ الہام کی جانب دیکھا تھا۔۔

’’ تمہیں مسکراتا دیکھ کر اچھا لگا الہام ’’

’’ آپ نے ہی تو کہا تھا ۔۔ جس سے خدا راضی ہو ۔۔ اسے دنیا کی رضا کی کیا پرواہ ؟ ’’ وہ مسکرائی تھی ۔۔ اور پارسا نے محسوس کیا ۔۔ یہ مسکراہٹ دل سے تھی ۔۔

’’ ٹھیک کہا تم نے۔۔ خدا سے بہتر نیتوں کا حال جاننے والا کوئی نہیں ہے ۔۔ کیونکہ خدا سے بہتر رازِدل کوئی نہیں ہے’’ وہ کہہ کر پلٹی تھی۔۔ اس کمرے سے جاچکی تھی ۔۔ مگر وہ یہ نہیں جان سکی تھی ۔۔ کہ کمرے میں موجود الہام کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔۔

’’ رازِدل ’’ اس نے اپنے ہونٹوں کو سرگوشی کرتے سنا تھا ۔۔ اور پھر کوئی تھا ۔۔ کوئی تھا جس کا چہرہ اچانک کی نظروں کے سامنے آیا تھا ۔۔۔ اس نے کھڑکی سے باہر ۔۔ عرش کی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ وہ خاموش تھا ۔۔ وہ میری جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔۔ شاید میں اسکی نظر میں اسکی ایک نظر کے قابل بھی نہیں تھی۔۔ وہ تو ہر راز جان جاننے کا دعوہ کرتا تھا ۔۔ اور اسکے دعوے ، دعوے ہی رہ گئے ’’ اس کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔

’’ آپ نے ٹھیک کہا ڈاکٹر پارسا ۔۔۔ عرش والے سے بہتر رازِدل تو عرش خود بھی نہیں ہوسکتا ’’ وہ مسکرائی تھی ۔۔ اور اس بار مسکراہٹ میں ایک درد بھی تھا ۔۔



آج کی صبح خان ہاؤس میں سوگوار تھی۔۔ مگر شاید یہ سوگواری صرف چند لوگوں کے لئے ہی تھی ۔۔

اربش نے اپنے کمرے کے کی کھڑکی سے پردہ ہٹایا تھا۔۔ اور ایک لمبی سانس لے کر سامنے دیکھا ۔۔ آج کی صبح اسے نہایت ہی خوبصورت لگی تھی۔۔۔ اسکے ہونٹوں پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی۔۔

جس سے آپ نفرت کرتے ہوں۔۔ اگر اسے برباد کردو تو سب کچھ کتنا اچھا لگتا ہے؟ آج اربش کو بھی سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی تو جیسے ہر طرف سناٹا تھا۔۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔۔ اس نے کچن کا رخ کیا تھا جہاں ملازمہ ناشتا بنا رہی تھی۔۔

’’ ناشتہ تیار ہے ؟ ’’ اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا۔۔

’’ جی بی بی مگر کوئی آیا ہی نہیں آج نیچے ’’

’’ میں بلاتی ہوں ۔ تم ناشتہ لگاؤ ’’ اسکا رخ اب ماما پاپا کے کمرے کی طرف تھا۔۔ دروازے تک پہنچ کر اسنے اپنے چہرے کے تعصورات بدلے تھے اور اب دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تھی۔۔ سامنے ہی پاپا بیڈ پر بیٹھے نظر آئے تھے اور ماما شاید واش روم میں تھیں۔۔ وہ پاپا کے ساتھ جاکر بیٹھی تھی۔۔

’’ آپ ناشتہ کرنے نہیں آئے ’’ اس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ جانے انکا دھیان کن سوچوں پر تھا۔۔ اسکی بات پر وہ چونکے تھے۔۔

’’ تم نے کر لیا؟ ’’ انہوں نے پوچھا تھا۔۔ اسی وقت ماما بھی فریش ہوکر باہر آئیں تھیں۔۔

’’ نہیں ۔۔ آپ دونوں کے بغیر نہیں کرونگی میں۔۔ چلیں آپ نیچے ’’ وہ اب انکا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہوئی تھی۔۔

’’ میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا کچھ کھانے کا ’’ انہوں نے انکار کیا تھا۔۔۔

’’ آپ اسکی وجہ سے نہیں کھا رہے جو آپکو چھوڑ کر چلی گئ۔۔ اور میں جو آپکے انتظار میں بیٹھی ہوں۔۔ آپ مجھے انکار کر رہے ہیں ’’ اس نے اداس لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔ تم چلو ہم بھی آرہے ہیں ’’ ماما نے اس سے کہا تھا اور اس نے پاپا کی طرف دیکھا جو پھیکا سا مسکرائے تھے۔۔۔

’’ میں انتظار کر رہی ہوں ’’ وہ کہہ کر باہر نکلی تھی۔

’’ ایک رات بہت تھی ایجاز اس سوگ کے لئے۔۔ اب میں اربش پر اسکا اثر نہیں پڑھنے دینا چاہتی۔۔ چلیں وہ ہمارا انتظار کر رہی ہے’’ انہوں نے کہا تھا اور ایجاز صاحب بنا کچھ کہے کھڑے ہوچکے تھے ۔۔

اب مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا نہ ؟

تھوڑی دیر بعد ناشتے کی میز پر وہ تینوں بیٹھے خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے۔۔ کسی نے بھی کسی کو مخاطب نہیں کیا تھا۔۔

’’ باہر کوئی ڈاکٹر پارسا آئیں ہیں ’’ ملازمہ نے آکر اطلاع دی تھی۔۔

’’ یہ کون ہیں ؟ ’’ ایجاز صاحب نے پوچھا تھا۔۔

’’ احتشام کے ساتھ کام کرتی ہیں ۔۔میں دیکھ کر آتی ہوں ’’ وہ کہہ کر گیسٹ روم کی طرف گئ تھی۔۔ جہاں ڈاکٹر پارسا بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔

’’ اسلام و علیکم ڈاکٹر پارسا۔۔ سب خیریت ہے صبح صبح یہاں آنا ہوا ’’ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔ پارسا بھی کھڑی ہوگئ تھی۔۔

’’ مجھے الہام کے کمرے سے کچھ ضروری چیزیں لینے کے لئے بھیجا ہے۔۔ آپ مجھے اسکا کمرا بتا دیں ’’ اسکی بات پر اربش کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔۔

’’ ضرور ۔۔ آپکو جو چاہئے آپ لے لیں۔۔ کیونکہ اسکے بعد یہ کمرہ ہمیشہ کے لئے بند ہونے والا ہے ’’ ڈاکٹر پارسا کو اسکا انداز کچھ عجیب لگا تھا۔۔

’’ انہیں الہام کے کمرے میں لے جاؤ ’’ ملازمہ کو آرڈر دے کر اب وہ وہاں سے جاچکی تھی۔

’’ کیوں آئی ہیں وہ ؟ ’’ اسکے آتے ہی ماما نے اس سے پوچھا تھا۔۔

’’ الہام نے بھیجا تھا۔۔ اپنا سامان لینے کے لئے ’’ وہ کہہ کر اپنی کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔۔

’’ بے شرمی کی انتہا ہے ’’ ماما نے کہنا شروع کر دیا تھا۔۔ ’’ اب بھی اس میں اتنی ہمت ہے۔۔ دیکھ رہے ہیں آپ اپنی بیٹی کو ’’ رخ اب ایجاز صاحب کی طرف تھا ۔۔

’’ وہ مر چکی ہے اور اب اس گھر میں اسکے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی ’’ پاپا نے بات ختم کر دی تھی ۔۔ شاید ہمیشہ کے لئے ۔۔ ایک بار پھر تینوں کے درمیان خاموشی آگئ تھی۔۔

وہ الہام کے گھر سے مطلوبہ چیزیں لے کر اب احتشام کے گھر آئی تھی۔۔ آج صبح ہی احتشام نے اسے کال کر کے یہ کام دیا تھا۔۔ اسے ان چیزوں کی ضرورت تھی۔۔

’’ تم احتشام کی دوست ہو ؟ ’’ رابعہ کی آواز پر وہ پلٹی تھی۔۔

’’ جی آنٹی۔۔ کیسی ہیں آپ ؟ ’’ اس نے انہیں دیکھ کر کہا تھا۔۔ انکے چہرے کےتعصورات سخت تھے۔۔

’’ کیوں بھیجا ہے اس نے تمہیں؟ ’’ وہ سخت لہجے کے ساتھ بولی تھیں۔۔

’’ وہ انہیں اپنے کمرے سے کچھ ضروری سامان چاہئے تھا ’’ اس نے کہا تھا اور رابعہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔ وہ تو سوچ رہی تھیں کہ احتشام نے اسے اپنی سفارش کے لئے بھیجا ہوگا۔۔ وہ معافی مانگنا چاہتا ہوگا۔۔ مگر نہیں ۔۔ اسے تو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔۔

’’ جو بھی لینا ہے لو اور جاؤ ’’ وہ غصے سے کہہ کر واپس چلی گئ تھیں اور پارسا اب احتشام نے کمرے کی جانب گئ تھی۔۔ بہت مشکل کام تھا یہ۔۔

اس کے دل نے جو فیصلہ کیا تھا۔۔ اس پر عمل کرنا بھی شروع کردیا تھا ۔۔ اس نے بہت سے کام نپٹانے تھے۔۔ اس لئے وہ صبح ہوٹل نہیں گیا تھا۔۔ وہ اس وقت اپنے ہسپتال میں موجود تھا ۔۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ کسی سے ویڈیوں میٹنگ کر رہا تھا ۔۔ وہ اب تک رات والے حلیے میں ہی تھا ۔۔ مگر اس وقت اسے اپنے حلیے کی پرواہ نہیں تھی۔۔ اس بس کچھ کام جلد از جلد کرنے تھے ۔۔۔ ایک گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وہ اپنے آفس سے نکل کر ہسپتال کے اونر کے پاس آیا تھا ۔۔ جہاں پہلے سے پارسا موجود تھی ۔۔ اس نے احتشام کو وہ تمام چیزیں دے دی تھیں جو کہ وہ انکے گھروں سے لائی تھی۔۔ وہ اب آنر سے کچھ بات کر رہا تھا ۔۔ پارسا بھی ان سب میں شامل تھی ۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس آفس سے نکلے تھے ۔۔۔ جب احتشام کے پاس کسی کی کال آئی تھی ۔۔ اس نے کال ریسیو کی تھی ۔۔

’’ اوک ۔۔ میرے آفس میں رکھو ۔۔ میں آرہا ہوں ’’ اس نے بس اتنا کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔

’’ کیا تم مطمئن ہو ؟ ’’ اس کے ساتھ چلتے ہوئے پارسا نے پوچھا تھا ۔۔ دونوں کا رخ اسکے آفس کی جانب تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ خدا جس سے راضی ہو ۔۔ وہ مطمئن کی ہوتا ہے ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ اور پارسا کو اچھی لگی تھی ۔۔ یہ مسکراہٹ ۔۔

وہ دونوں اس کے آفس میں آئے تھے ۔۔۔ جہاں پہلے ہی ایک شخص موجود تھا ۔۔

’’ یہ آپکے پیپرز ’’ اس نے کھڑے ہوتے ہی ایک لفافہ احتشام کی جانب بڑھایا تھا ۔۔

’’ تھینک یو ۔۔ میں آج رات یہ تمہیں واپس بھیج دونگا ’’ احتشام نے لفافہ اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

’’ اوک ‘‘ وہ شخص کہہ کر جاچکا تھا ۔۔ جب پارسا اسکی جانب مڑی تھی ۔۔

’’ بہت جلدی ہورہا ہے یہ سب ‘‘ اس نےکہا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ زندگی میں کچھ چیزیں جلدی ہی کرنی پڑتی ہیں ۔۔ ’’ اس نے کہتے ساتھ ایک فائل اٹھا کر اسکی جانب کی تھی۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ’’ پارسا نے فائل لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور جب اس نے فائل کھول کر دیکھی تو اسکی آنکھوں میں واضح حیرانگی تھی ۔۔

’’ احتشام ؟ ’’ اس نے حیران کن انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ تھوڑا خود غرض بن رہا ہوں پارسا ۔۔ مگر ہم اکیلے ہیں ۔۔ اور ہم دونوں کو تمہاری ضرورت ہے ’’ احتشام نے کہا تھا ۔۔ اور پارسا کے آنکھوں میں نمی آئی تھی ۔۔

’’ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ احتشام بھی مسکرایا تھا ۔۔



اسے یہاں آتے شام ہوگئی تھی ۔۔ کل رات وہ یہاں آیا تھا ۔۔ الہام کو چھوڑنے ۔۔ اب اس کے بعد وہ اب یہاں آیا تھا ۔۔ مگر کل رات کو جن شکستہ قدموں سے یہاں سے گیا تھا ۔۔ اب وہ اس حال میں نہیں تھا ۔۔ اب وہ مضبوط نظر آرہا تھا ۔۔ الہام کے روم کے پاس پہنچ کر اس نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ اور دروازہ ناک کیا تھا ۔۔

دروازہ نہیں کھلا تھا ۔۔ اس نے دروازہ دوبارہ ناک کیا تھا ۔۔ وہ الہام کے لئے پریشان تھا۔۔ جانے وہ کیسی ہوگی ؟

الہام نے دروازہ کھولا تھا ۔۔ اور سامنے کھڑے احتشام کودیکھ کر پہلے وہ حیران ہوئی تھی ۔۔ جانے اسے اتنی حیرانی کیوں ہوئی تھی ۔۔ مگر پھر اگلے ہی لمحے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔ اس نے احتشام کو اندر آنے کا راستہ دیا تھا ۔۔ وہ اندر آیا تھا ۔۔

’’ کیسے ہیں آپ ؟ ’’ اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ جیسی تم ہو ’’ وہ مسکرا کر کہہ رہاتھا ۔۔ نظریں الہام پر نہیں تھیں ۔۔ جانے کیوں ۔۔ مگر اب بھی وہ الہام کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا ۔۔

’’ یعنی آپ بھی پرسکون ہیں ۔۔ میری طرح ’’ الہام کی بات پر اس نے الہام کی جانب دیکھا تھا ۔۔ اور اس نے دیکھا ۔۔ الہام کے چہرے پر کوئی تکلیف نہیں تھی ۔۔ وہ مسکرا رہی تھی ۔۔ وہ پرسکون تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔ اس نے دل میں سکون ڈالا ہوا ہے ’’ احتشام نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ پارسا کہاں ہے ؟ ’’

’’ اسے کچھ کام دیا ہے ۔۔ بس وہی کر رہی ہے ’’ احتشام نے کہا تھا ۔۔ وہ دونوں اب بھی کھڑے ہوئے تھے ۔۔ دونوں میں سے کوئی بھی بیٹھا نہیں تھا ۔۔

’’ وہ بہت اچھی ہیں ’’ الہام نے تعریف کی تھی ۔۔ اور اس تعریف پر احتشام مسکرایا تھا ۔۔

’’ اچھے دوست خدا کا تحفہ ہوتے ہیں ۔۔ وہ بھی تحفہ ہے ’’ احتشام نے کہا تھا ۔۔ اور الہام نے اسکے ہاتھ کی جانب دیکھا تھا۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ’’ اس نے احتشام کے ہاتھ میں پکڑی اس فائل کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔ اور احتشام کے چہرے کے رنگ بدلے تھے ۔۔ وہ جانے کیوں اچانک پریشان لگنے لگا تھا ۔۔

’’ وہ ۔۔ یہ ۔۔۔ تمہارے۔۔۔ ’’ وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا ۔۔ مگر کہہ نہیں پارہا تھا ۔۔ اسکی نگاہیں جھکی تھیں ۔۔ اور الہام کو اسکی جھکی نگاہیں اچھی نہیں لگی تھیں ۔۔

’’ میں جانتی ہوں ۔۔ ’’ الہام کی بات پر عرش نے چونک کر اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘

’’ آپ یہاں کیسے آئے ہیں ۔۔ میں جانتی ہوں ۔۔ اس لئے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مجھے یہ منظور ہے‘‘ الہام نے کہا تھا ۔۔ اور احتشام نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ ابھی وہ کوئی جواب دینے ہی والا تھاکہ اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ پارسا کی کال تھی ۔۔

’’ہاں پارسا کہو ؟ ’’ اس نے کال ریسیو کرتے ساتھ کہا تھا ۔۔ پارسا نے شاید کوئی جواب دیا تھا ۔۔

’’ اچھا ٹھیک ہے تم جانتی ہو تم نے آگے کیا کرنا ہے۔۔ میں بس تھوڑی دیر میں آرہا ہوں ۔۔ تم سارا انتظام کرلو پلیز ’’ وہ اس سے کہہ رہا تھا اور الہام خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔

’’ تھینک یو پارسا ۔۔ میں آتا ہوں اوک ’’ اس نے کہہ کر کال بند کر دی تھی اور اب وہ الہام کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ پارسا ہم دونوں کے تمام ڈاکیومنٹس لے آئی تھی ’’ الہام اسے دیکھتی ۔۔ اسکی بات سن رہی تھی ۔۔

’’ اور اب میں آج کے دن ہی سارا پروسس پورا کرونگا ’’

’’ کیسا پروسس ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ یہاں سے بہت دور جانے کا پروسس۔۔ اب ہم اس ملک میں نہیں رہینگے۔۔ آج کی رات۔۔ یہاں آخری رات ہوگی ’’ احتشام نے جیسے اسے فیصلہ سنایا تھا ۔۔ اور الہام جیسے اسکے لئے پہلے سے تیار تھی ۔۔

’’ اور ہم سب کچھ یہی چھوڑ کر جائینگے ۔۔۔ سب کچھ ۔۔۔ ’’ اس نے کہا تھا اور احتشام سمجھ چکا تھا۔۔ کہ وہ کیا چھوڑنے کی بات کر رہی تھی ۔۔۔ وہ سر اقرار میں ہلا کر جاچکا تھا ۔۔ اور الہام بس ایک ہی بات سوچ رہی تھی ۔۔

’’ آج کی رات یہاں آخری رات ہوگی؟ ’’

تو اب اس آخری رات کو اس نےکیسے گزارنا تھا ؟ وہ اٹھی تھی۔۔ جیسے اچانک کی کچھ یاد آیا ہو ۔۔

اب وہ باہر نکلی تھی۔۔ ہر طرف دھوپ اور روشنی تھی۔۔ اس نے ایک رکشہ روکا تھا ۔۔ اسے کہیں جانا تھا ۔۔ آج کی رات آخری تھی ۔۔ اور آج اس آخری رات میں۔۔ اس نے ایک آخری ملاقات کرنی تھی ۔۔

part 2

شام کی شروعات ہوچکی تھی۔۔ سورج کی کرنیں اب آہستہ آہستہ ختم ہورہی تھیں۔۔ اندھیرا چار سو پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔۔

ساحل سمندر پر سورج کی کرنوں نے سارا ماحول دلکش بنا دیا تھا۔۔ ڈوبتا سورج اور اسکے رنگ سے پورا سمندر نہایا ہوا تھا۔۔ ایسے میں سامنے ہی ایک پتھر پر وہ بیٹھی ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔۔ اسکی سوچیں خالی تھیں۔۔ کوئی منظر، کوئی بھی بات، کوئی بھی آواز اسے نہیں آرہی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک انتظار تھا بس۔۔ اور شاید ایک ڈر بھی۔۔ ناجانے وہ ملاقات کر سکے گی یا نہیں ؟ اسکا یہاں آنا ضایع تو نہیں جائےگا ؟ یہ آخری رات تھی اسکی۔۔ اور وہ ایک آخری ملاقات کرنا چاہتی تھی۔۔ جانے ہمیشہ کی طرح اسے الہام ہوگا یا نہیں ۔۔؟؟

وہ اس وقت کالے رنگ کی شرٹ اور سفید رنگ کے ٹراؤزر میں تھی۔۔ بال کھلے چھوڑے ہوئے اور دوپٹہ گردن کے گرد لپیٹے ہوئے عجیب سوگوار سی لگ رہی تھی۔۔ اس نے دور سے اسے دیکھا تھا اور اب وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔۔ جانے دل کو کیسے یہ یقین ملا تھا کہ وہ یہاں ہوگی ؟؟ وہ اسکی تلاش میں آیا تھا اور اسکی تلاش مکمل ہوئی تھی۔۔

’’ جانتی ہو یہ ڈوب جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟ ’’ عرش نے اسکے پاس پہنچ کر کہا تھا۔۔ وہ الہام یہ آواز پہچان چکی تھی۔۔ مگر پلٹی نہیں تھی۔۔ شاید اسے بھی یقین تھا کہ وہ آئیگا۔۔

’’ اندھیرا ’’ اسکے جواب پر وہ مسکرایا تھا۔۔ شکر کہ وہ نارمل تھی۔۔

’’ ہاں۔۔ اندھیرا ہوجاتا ہے اور اس اندھیرے میں انسان کئ بار ڈر بھی جاتا ہے ۔۔ تم ڈرتی ہو ؟ ’’ وہ اسکے ساتھ ہی بیٹھ کر کہہ رہا تھا۔۔

’’ آپکو لگتا ہے میں ڈرتی ہونگی ؟ ’’ ہلکا سا مسکرا کر اس نے عرش کی طرف دیکھا تھا۔۔

’’ نہیں ۔۔ تم کبھی نہیں ڈر سکتی۔۔ مگر تم کھو سکتی ہوں الہام۔۔ میں جانتا ہوں’’ اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ سورج ڈوب چکا تھا اور آہستہ آہستہ اندھیرا پھیلنا شروع ہوا تھا۔۔

’’ میں کھو بھی گئ تو کیا ہوگا عرش ؟ مجھے ڈھونڈنے والا اب کوئی نہیں ہے ’’ وہ ایک اداس مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہی تھی۔۔

’’ یعنی تم کھو چکی ہو ’’ اس نے جیسے فیصلہ سنایا تھا۔۔

‘’ آپ مجھے۔۔ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ’’ انکار نہیں ہوا تھا۔۔ وہ واقعی کھوچکی تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔ اتنا تو شاید خود کو بھی نہیں جانتا میں ’’ اب دونوں کی نظریں سامنے تھیں۔۔ ساحل سمندر پر لہروں کا شور تھا مگر انہیں محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔ انکے آس پاس تو بس خاموشی تھی ۔۔

’’ الہام ’’ اس نے کچھ دیر بنعد کی خاموشی کے بعد اسے پکارا تھا۔۔

’’ ہوں ’’ وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی۔۔

’’ مجھے اسکا نام بتاؤ ’’ الہام نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔

’’ کس کا ؟ ’’

’’ تم جانتی ہوں۔۔ مجھے اسکا نام بتاؤ الہام ۔۔ میں تمہارا رازِدل ہوں۔۔ تمہیں مجھ سے سب کہہ دینا چاہئے۔۔ تمہیں نہیں لگتا کہ دل سے کچھ چھپانا اسکے ساتھ زیادتی ہے ؟ ’’ وہ اسکی بات سمجھ چکی تھی۔۔ وہ اسی لئے تو آئی تھی یہاں۔۔ ایک آخری ملاقات کرنے۔۔ ایک آخری بات کرنے ۔۔

’’ خدا سے بہتر رازِدل کوئی ہوسکتا ہے کیا ؟ ’’ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ بلکل نہیں ۔۔۔ خدا بہترین سے بھی برتر ہے ۔۔ اس سے بہتر دلوں کاحال کوئی نہیں جان سکتا ۔۔ اور جب تک وہ نہ چاہے کوئی جان بھی نہیں سکتا ‘‘ عرش کے جواب پر وہ مسکرائی تھی ۔۔ شاید خدا چاہتا تھا کہ وہ جان لے ۔۔۔

’’ ماما میری پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئ تھیں۔۔ پھر مجھے سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا تو پاپا نے اپنی ایک کزن سے شادی کرلی ۔۔ جس کی ایک بیٹی بھی تھی اربش ۔۔’’

’’ اربش تمہاری سگی بہن نہیں ہے ؟ ’’ عرش نے اسکی بات کاٹی تھی۔۔ ایک تلخ مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی تھی۔۔

’’ ہاں ۔۔ وہ میری سوتیلی بہن ہے اور میری بربادی کی ذمہ دار ’’ اس کی بات پر عرش کو حیرانگی ضرور ہوئی تھی مگر باقی کی کہانی وہ سمجھ چکا تھا۔۔ اب مزید وہ اس بارے میں بات کر کے اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔۔

’’ جانتی ہوں۔۔ آپ چاہے ان اندھیروں میں کھو جائیں یا کوئی آپ کو اس میں دھکیل دے۔۔ دونوں صورتوں میں ایک ہی انجام ہوتا ہے ’’ وہ اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔ اور وہ سامنے دیکھ رہی تھی۔۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔

’’ کیا ؟ ’’

’’ روشنی ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا اور الہام نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔

’’ روشنی؟ ’’

’’ ہاں روشنی ۔۔ آپ اندھیروں میں جتنا بھی کھو جائیں، آپ اندھیروں سے دوستی ہی کیوں نہ کرلیں ، آپ اندھیروں میں گم ہی کیوں نہ ہوجائیں، آپ کچھ بھی کر لیں۔۔ یہ خدا کی قدرت ہے الہام۔۔ سورج دوبارہ طلوع ضرور ہوتا ہے ۔۔ اندھیرا مستقل نہیں ہوتا ۔۔ آپ خدا کے اس نظام سے انکار نہیں کر سکتے۔۔ آپکی زندگی کی رات کا انجام صرف اور صرف روشنی ہے ۔۔ صرف روشنی ’’ وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہہ رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔۔ جسے وہ الہام کی آنکھوں میں اپنے الفاظ کے ذریعے ڈال رہا تھا اور وہ کامیاب ہوا تھا۔۔ اسکی آنکھوں کے تاثر بدلے تھے۔۔

’’ بے شک خدا کی قدرت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا اور یہ پہلی بار تھا کہ جب وہ خود کو کمپوز کرنے کے لئےنہیں بلکہ دل سے مسکرائی تھی۔۔ اسکا رازِدل ہی اسے دل سے مسکرانے پر مجبور کر سکتا تھا۔۔

’’ آپ جانتے ہیں آج میں یہاں کیوں آئی تھی ؟ ’’ وہ اب اسے حقیقت بتانا چاہتی تھی۔۔

’’ ہاں جانتا ہوں ۔۔ ایک آخری ملاقات کرنے ’’ اس نے گہری سانس لے کر کہا تھا اور الہام ایک بار پھر حیران ہوگئ تھی۔۔

’’ آپکو کیسے پتہ ؟ ’’ اسکی بات پر اس نے اسکی آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔ وہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔

’’ کیوں کہ یہ جو تمہاری آنکھیں ہیں نہ الہام ۔۔ میں انہیں نہیں دیکھ رہا۔۔ میں ان میں موجود تمہارا دل دیکھ رہا ہوں۔۔ تم شاید جانتی نہیں ہو کہ تمہارا دل اور اسکی ساری باتیں تمہاری ان آنکھوں میں موجود ہیں ۔۔ مگر کوئی بھی اس دل کو پڑھ نہیں سکتا۔۔ سوائے میرے ’’ وہ کہہ رہا تھا۔۔ ساحل سمندر پر لہروں کا شور اور اس میں ملی ہوئی عرش کی آواز ۔۔ وہ ایک پل کے لئے سب بھول گئ تھی۔۔

’’ پوچھو گی نہیں کہ میں کیسے پڑھ سکتا ہوں ؟ ’’ وہ جو اسکی بات پر کہیں کھو سی گئ تھی۔۔ اب ہوش میں آئی تھی۔۔

’’ کیسے ؟ ’’ وہ اس پر نظریں جمائے پوچھ رہی تھی۔۔ وہ مسکرایا تھا۔۔

’’ کیونکہ میں ہی تو ہوں تمہارا رازِدل۔۔ تو پھر میں میرے علاوہ کوئی اور کیسے پڑھ سکتا ہے اسے؟ ’’ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔۔ اور ایک مسکراہٹ الہام کے چہرے پر بھی آئی تھی۔۔

’’ میں آپکو مس کرونگی ’’ وہ کہہ کر کھڑی ہوئی تھی شاید اسکے جانے کا وقت ہوچکا تھا۔۔

’’ میں نہیں کرونگا ’’ عرش نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ کیوں ؟ ’’ وہ جیسے مایوس ہوئی تھی۔۔

’’ کیونکہ یاد انہیں کیا جاتا ہے جنہیں بھولا جائے ۔۔ میں تمہیں بھول نہیں سکتا الہام ’’ ناجانے اسکے لہجے میں کونسے جذبات کا عکس تھا کہ الہام کا دل ایک پل کے لئے دھڑکہ تھا۔۔ مگر یہ وقت نہیں تھا۔۔ دل پر غور کرنے کا ۔۔ وہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ اسکے لئے یہاں کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا ۔۔

’’ میں چلتی ہوں۔۔ کل میری فلائیٹ ہے پیکنگ بھی کرنی ہے ’’ وہ کہہ کر آگے بڑھی تھی ۔۔ دونوں کے بیچ دو قدم کا فاصلہ تھا۔۔ جو اب بڑھنے لگا تھا ۔۔

’’ یہ ملاقات آخری ضرور ہوسکتی ہے الہام۔۔ مگر یہ تعلق ختم نہیں ہوسکتا ۔۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے تم دنیا کے کسی بھی کونے تک چلی جاؤ ۔۔ یہ فاصلہ صرف زمین کا ہوگا ۔۔ دلوں کا نہیں۔۔ میں وہ عرش ہو جس پر الہام ہوتا ہے۔۔ الہام کے دل کا ۔۔ تم وہ الہام ہو جو عرش سے بھیجی گئ ہوں ۔۔ الہام اور عرش کا تعلق ختم نہیں ہوسکتا الہام ۔۔زندگی نے ساتھ دیا تو الہام اور عرش کا ملنا بھی لازم ہے ۔۔ عرش والے کی طرف سے الہام ضرور ہوگا ۔۔ انتظار کرنا ’’ وہ کہہ رہا تھا۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے تھے۔۔ ایک دوسرے کی آنکھوں میں۔۔ ایک دوسرے کا عکس دیکھ رہے تھے۔۔ وہ ایک دوسرے کے دل میں اتر رہے تھے ۔۔ یا وہ اتر چکے تھے ۔۔؟؟

مگر یہ اب کیوں ہوا تھا ؟ یہ اب کیوں محسوس ہورہا تھا ؟ اب جب کچھ باقی نہیں بچا ۔۔ اب جب ساری باتیں بے معنی ہوچکی تھی ۔۔ الہام کا دل عجیب ہی رو پر چلنے کی تیاری کر رہا تھا۔۔ اسے روکنا تھا۔۔ اپنے دل کو ۔۔

’’ اللہ حافظ ’’ اس نے کہا تھا۔۔

’’ اللہ حافظ ’’ اس نے جواب دیا تھا۔۔ وہ اب اس سے دور جارہی تھی۔۔ وہ اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔ دونوں کا دل آج دونوں کو ایک حقیقت بتا رہا تھا۔۔ دونوں اپنے دل کو روک رہے تھے ۔۔ دونوں کا وقت آچکا تھا ۔۔۔دل کو خاموش کروانے کا ۔۔ دل نے بھاگنے کا ۔۔۔ دل کو دل سے چھپانے تھا ۔۔۔

ائیرپورٹ پر لوگوں کی بھیڑ لگی تھی۔۔ اتنے لوگ تو یہاں سے جانہیں رہے تھے جتنے انکو چھوڑنے کے لئے آرہے تھے۔۔ ایسے میں وہ تینوں بھی ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔ انہیں سارے انتظامات کرنے میں اچھا خاصا وقت لگ چکا تھا۔۔ اس لئے وہ لیٹ ہوچکے تھے۔۔ اب جلدی جلدی وہ ائیر پورٹ میں داخل ہوئے تھے۔۔ تمام مراحل بہت آسانی سے طے ہوچکے تھے ۔۔۔ ائیرپورٹ سے جہاز تک بیٹھنے کے راستے میں وہ بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔ جانے اسے کیوں لگ رہا تھا کہ وہ آیا تھا ؟؟ مگر وہ نہیں آیا تھا۔۔ اسے آنا بھی نہیں چایئے تھا ۔۔

وہ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ چکے تھے اور اب جہاز اڑان بھرنے کو تیار تھا۔۔ اس نے آنکھیں بند کی تھیں۔۔

ساری مناظر ایک پل کے لئے نظروں کے سامنے سے گزرے تھے۔۔

اریج سے دوستی۔۔

احتشام اور اربش کی شادی سے انکار۔۔

عرش سے پہلی ملاقات ۔۔

اریج کی شادی کی تیاری ۔۔۔

اربش کی باتیں۔۔

لیپ ٹاپ پر چلتی تصاویر۔۔

لوگوں کی باتیں ۔۔

ماما کا تھپڑ ۔۔۔

پاپا کا منہ پھیرنا۔۔

نکاح نامے پر دستخط ۔۔۔

اسکا ہال سے جانا ۔۔۔

اس سے آخری ملاقات ۔۔۔

اس نے آنکھیں کھولی تھیں۔۔ یہ آخری بار تھا ۔۔ آج کے بعد کوئی یاد نہیں آنی تھی ۔۔۔ جہاز اڑان لے چکا تھا ۔۔۔ اور الہام اس ملک سے دور جارہی تھی ۔۔۔ سب کچھ چھوڑ کر ۔۔ اب کچھ نہیں بچا تھا ۔۔۔سب پیچھے رہ گیا تھا ۔۔ بہت پیچھے ۔۔!!

اسکی فلائیٹ کا وقت گزر چکا تھا۔۔ جہاز اس زمین سے بلندی پر جاچکا تھا۔۔ اور وہ اب دور ہوگئ تھی۔۔ عرش ائیرپورٹ کے باہر اپنی گاڑی میں ہی معاذ کے ساتھ موجود تھا۔۔

’’ ہم ایک گھنٹے سے یہاں موجود ہیں۔۔ اور اسکی فلائیٹ بھی جاچکی ہے۔۔ نا تم اس سے ملے ہو اور نا تم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہاں گئ ہے ؟ آخر ہم یہاں پھر آئے کیوں تھے ؟ ’’ معاذ جو ایک گھنٹے سے اس خاموشی کو برداشت کر رہا تھا۔۔ اس کے لئے اب مزید رکنا مشکل تھا۔۔

’’ تم نہیں سمجھو گے۔۔ وہ اندھیروں میں کھو گئ ہے۔۔ اور میں اسے کھونے کے علاوہ اب کچھ نہیں کر سکتا ’’ عرش نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ تم کر سکتے تھے۔۔ تم اسے روک سکتے تھے۔۔ اسے بتا سکتے تھے کہ اسکے اندھیروں میں روشنی تم لاسکتے ہوں۔۔ اسے بتا سکتے تھے۔۔ کہ تم اسکے ساتھ ہو۔۔ مگر تم نے ایسا کچھ کیوں نہیں کیا ؟ ’’ وہ اسے سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔

’’ کیونکہ وہ اکیلی نہیں ہے۔۔۔ اسکے ساتھ احتشام بھائی ہیں۔۔ اسکا خیال رکھنے کے لئے۔۔ اور جہاں تک بات ہے میری۔۔ تو فلحال میں نے کسی اور کا دماغ روشن کرنا ہے ’’ وہ ایک عزم کے ساتھ کہہ رہا تھا۔۔

’’ جانتا ہوں۔۔ مگر اس سب سے کیا ہوگا ؟ وہ تو یہاں سے جاچکی ہے اور اب واپس شاید کبھی نہ آئے ’’ معاذ نے اسے یاد دلایا تھا۔۔

’’ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ یہاں سب اسکا انتظار کرتے رہیں۔۔ اسکے آنے کی دعائیں مانگیں۔۔ اور وہ واپس کبھی نہ آئے۔۔ اس سے کم سزا نہیں ہونی چاہئے کسی کے لئے بھی ’’ وہ سنجیدہ تھا اور اسکے لہجے نے معاذ کو اندازہ کو چونکا دیا تھا۔۔ وہ جو سوچ چکا ہے۔۔ وہ کر کے ہی دم لے گا۔۔ معاذ یہ جانتا تھا ۔۔

’’ تمہیں میں نے ایک کام دیا تھا شاید ’’ عرش نے تھوڑی دیر بعد کہا تھا۔۔

’’ ہاں ۔ صبح تک میں ساری معلومات حاصل کر لونگا ’’

’’ گریٹ۔۔ کل پھر کیفے ٹیریا میں پہلی بار میں تمہارا انتظار کرونگا ’’ اور یہ مہربانی بھی اس لڑکی کی وجہ سے تھی۔۔ معاذ نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔۔ اسے اس کے گھر چھوڑ کر اب عرش اپنے گھر جارہا تھا ۔۔

اگلے روز فری ٹائم میں وہ دونوں یونیورسٹی کی کیفے ٹیریا میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔ ویٹر کافی اور سینڈوچ رکھ کر جاچکا تھا۔۔ جب عرش نے اس سے کہا تھا۔۔

’’ تمہارے سینڈوچ آچکے ہیں۔۔ اب جلدی سے بولنا شروع کرو ’’ ساتھ ہی اس نے کافی کا کپ اٹھایا تھا اور معاذ نے ایک سینڈوچ ۔۔

’’ جتنی معلومات مجھے ملی ہے ۔۔ مجھے تو یقین ہی نہیں ہورہا کہ یہ اربش الہام کی بہن ہے۔۔ سیریسلی۔۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ’’ اس نے اپنی حیرت کا اظہار پہلے کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔

’’ وہ اسکی بہن ہے بھی نہیں۔۔ سوتیلی بہن ہے ۔۔ اسکی ماما کی بیٹی ’’ عرش نے اسکی حیرانگی ختم کرنی چاہی مگر وہ تو مزید بڑھ گئ تھی۔۔

’’ کیا ؟ اسکا مطلب وہ واقعی اسکی بہن نہیں ہے اور اسکی ماما ؟ ’’

’’ تم معلومات دینے آئے ہو یا لینے ’’ اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔

’’ افو یار ۔۔ تم مجھے جواب دوگے تو میں تمہیں سب آسانی سے بتا دونگا نہ ’’ وہ اب چڑ گیا تھا۔۔ ایک تو اسکے لئے پورا دن خوار ہوکر اس نے اربش کی معلومات جمع کی۔۔ اور اسکے نخرے ہی ختم نہیں ہورہے تھے۔۔

’’ سوتیلی ہیں وہ بھی ۔۔ اسکے فادر کی سیکینڈ وائف ۔۔ اب بولو ’’

’’ اچھا۔۔ ایکچولی اربش کا تعلیمی ریکارڈ کچھ خاص نہیں رہا۔۔ عام سے گریڈ میں میٹرک ۔ انٹر اور گریجوئیشن کرنے کے بعد وہ گھر بیٹھ گئ تھی ۔۔ اسے کسی بھی چیز میں انٹرسٹ نہیں ہے سوائے سونے ، کھانے اور شاپنگ کرنے کے ۔۔ اپنی یونیورسٹی لائف میں بہت سے لڑکوں سے دوستی اور ان سے قیمتی تحائف لئے ہیں اس نے ۔۔ مگر تعلیم ختم کرنے کے بعد آدھے سے زیادہ دوستوں سے رابطہ ختم کر دیا تھا ۔۔ سوائے چند ایک کے ۔۔ احتشام سے ہمیشہ فرینک ہونے کی کوشش کرتی رہی ہے اور ناکام بھی رہی ہے ۔۔ دوستوں کو ہمیشہ وہ یہی بتاتی رہی تھی کہ وہ احتشام سے شادی کرے گی ۔۔ اور الہام کے انکار اور احتشام کے اریج کو پسند کرنے پر اسکی اس خواہش پر بھی پانی پڑ گیا تھا ۔۔ جہاں تک بات اسکے اور الہام کے تعلقات کی ہے۔۔ تو بچپن سے ہی ان دونوں کی آپس میں بن نہیں سکی تھی۔۔ الہام کیونکہ اربش سے زیادہ خوبصورت ، عقل مند اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق کی بھی تھی۔۔ اس لئے سب اسکے زیادہ قریب تھے اور اس سے پیار کرتے تھے۔۔ جن میں سب سے اوپر ہے احتشام ۔۔ جسے اس نے بچپن سے ایک بہن کی طرح ٹریٹ کیا تھا ۔۔ اسکی پھوپھو اسے بیٹی مانتی تھیں ۔۔ اور پھر اسکے پاپا۔۔ جن کی وہ واقعی بیٹی تھی۔۔ مگر اربش اور اپنی دوسری وائف کی وجہ سے وہ کبھی کبھی اس کے ساتھ زیادتی کر لیا کرتے تھے۔۔ مگر اسکے باوجود سب سے زیادہ توتعات بھی اسی سے تھیں۔۔ انکا خواب تھا کہ انکی بیٹی ڈاکٹر بنے اور اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے الہام نے دن رات محنت کی اور اب تک کر رہی تھی۔۔ مگر وقت نے اربش کا ساتھ دیا اور وہ ان سب کی زندگیوں سے دور ہوگئ۔۔ ادھورے خوابوں کے ساتھ ۔۔۔’’

اتنی لمبی بات ختم کرنے کے بعد اب اس نے ایک گہری سانس لی تھی اور کافی کا گھونٹ بھرا تھا۔۔ سینڈوچ تو وہ بولنے کے ساتھ ساتھ کھا چکا تھا اور عرش نے خاموشی نے اسکی ساری بات سنی تھی۔۔

’’ معلوم کرو کہ وہ کونسے دوست ہیں جن سے اسکا اب تک رابطہ ہے ؟ ’’ اس کی بات معاذ کو کچھ اچھی نہیں لگی تھی۔۔

’’ میں کوئی انوسٹیگیٹر نہیں ہوں۔۔ جو تم مجھے اس طرح کے کام دے رہے ہو ‘‘

’’ تم انوسٹیگیٹر نہیں ہو مگر جاسوس تو ہو ۔۔ اور بچپن سے اب تک تم میرے پاپا کے لئے یہی کام کر رہے ہو۔۔ اسلئے اب تم میرے لئے بھی یہ کام کروگے ’’ وہ اطمینان سے کہتا ہوا اپنی کافی پی رہا تھا۔۔

’’ تمہارے پاپا مجھے اسکے اچھے خاصے پیسے بھی دیتے ہیں۔۔ اور مفت تعلیم بھی ’’ اس نے یاد دلایا تھا۔۔۔

’’ اور میں تمہیں مفت کے سینڈوچز اور ڈنرز کرواتا ہوں’’ اس نے بھی یاد دلانا ہی تھا۔۔

’’ دیکھو۔۔ میں پروفیشنل نہیں ہوں ۔۔ تمہارے جاسوسی آسان ہے کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوتا ہوں ’’

’’ تو اسکے بھی ساتھ ہوجاؤ۔۔ کس نے منع کیا ہے ؟ ’’ اس نے ایک آسان حل نکالا تھا۔۔

’’ امپاسیبل ۔۔۔ جو کچھ اس نے کیا ہے۔۔ میں اسکے ساتھ کیا۔۔ اس سے بات کرنا بھی پسند نہ کروں ’’ اسے واقعی وہ بری لگنے لگی تھی۔۔

’’ تو پھر کوئی بھی حل نکالو۔۔ مگر مجھے کل صبح تک ساری معلوم کر کے بتاؤ کہ اسکا کس کس سے کانٹیکٹ ہے ’’ وہ کہہ کر اب کھڑا ہوگیا تھا۔۔ شاید اسکی کلاس کا ٹائم تھا۔۔

’’ اوک ’’ اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔۔ اسے یہ کام کرنا ہی تھا ۔۔ وہ بھی ایک دن میں ۔۔۔ پھر اسے چوری کرنی پڑتی یا پھر کوئی غیر قانونی کام ۔۔ کرنا تو اس نے تھاہی ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *