Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ay Raaz e Dil (Episode 08)Part 1,2

Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz

چوری کرنے والا آئیڈیا کچھ اچھا نہیں لگا تھا۔۔ اب بندہ چور بن جائے۔؟؟ وہ بھی اتنے سے کام کے لئے۔۔؟ یہ کچھ ٹھیک نہیں تھا۔۔ اب وہ اتنا بھی نہیں گِر سکتا تھا ۔۔۔

ہاں۔۔ غیر قانونی کام پھر بھی کر سکتے ہیں۔۔ اب روز ہی کوئی نا کوئی غیر قانونی کام ہوجاتا ہے نہ ۔۔؟؟ جیسے ٹریفک سگنل توڑنا ۔۔ اسلئے غیر قانونی کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔۔

اس وقت وہ ایک موبائیل نیٹ ورک کے آفس میں موجود تھا۔۔ اور ملاقات یہاں کے منیجر سے کرنی تھی۔۔ جو کہ کسی میٹنگ میں بزی تھے ۔۔

’’ آپ اندر جاسکتے ہیں۔۔ ’’ تھوڑی دیر بعد ایک ورکر نے آکر اسے کہا تھا۔۔ اور وہ سر ہلا کر آفس کی اندر گیا تھا۔۔ اندر ایک لڑکا موجود تھا جسے مینیجر ہونا تو نہیں چاہئے تھا۔۔ مگر اپنے باپ کہ سفارش پر ہوگیا تھا۔۔ اس نے گہری سانس لے کر کہا تھا۔

’’ کیسے ہو فاخر ؟ ’’ وہ جو لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا۔۔ اسکے سوال پر نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔ اور پھر ایک خوشگوار حیرت سے کھڑا ہوا تھا۔۔

’’ ارے معاذ تم ۔۔ کیسے ہوں؟ اتنے عرصے بعد یاد آئی ’’ ہاتھ ملا کر اب دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ چکے تھے۔۔

’’ بس آج اچانک خواب میں تمہیں دیکھا تو سوچا تم سے مل ہی آؤ ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ اسکی بات پر فاخر بھی مسکرایا تھا۔۔

’’ اور تم نے یقیناً خواب میں مجھے کوئی کام کرواتے ہوئے دیکھا ہوگا ’’ وہ بھی اسی کا دوست تھا۔۔

’’ تم آج بھی مجھے سمجھتے ہوں ’’ اس نے ہنستے ہوئے سر ہلا کر اقرار کیا تھا۔۔

’’ پہلے یہ بتاؤ کیا لوگے ؟ کافی یا چائے ؟ ’’ فاخز نے انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ کچھ بھی منگوا لو۔۔ مگر تم جانتے ہو میں خالی کافی یا چائے نہیں لونگا ’’

’’ آفکورس۔۔ تمہاری بھوکی طبیعت سب جانتے ہیں ’’ فاخر نے اس پر چوٹ کی تھی۔۔ مگر وہ مسکرایا تھا۔۔ گویا اسکی تعریف ہورہی ہو جیسے۔۔

اس کے لئے کافی اور سنیکس منگوانے کے بعد اب وہ اسکی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔

’’ بتاؤ پھر۔۔ کیسے آنا ہوا ؟ ’’

’’ ایک پرسنل کام ہے اور مجھے امید ہے تم میری مدد ضرور کروگے ’’ وہ پہلے یقین چاہتا تھا۔۔

’’ ضرور ۔۔ آخر پرانی دوستی ہے ’’ معاذ نے ایک پرچی نکال کر اسکے سامنے رکھی تھی۔۔ جسے اس نے اٹھا کر دیکھا تو اس میں ایک نمبر تھا۔۔

’’ یہ کس کا نمبر ہے ؟ ’’

’’ مجھے اس نمبر کا پورا ڈیٹا اور پوری ہسٹری چاہئے اور میں چاہتا ہوں کہ تم سوال بھی نہ کرو ’’ اسی وقت آفس کا ورکر کافی لے کر آیا تھا۔۔ اسکے جانے تک فاخر خاموش رہا تھا اور اسکے جاتے کی اس نے کہا تھا۔۔

’’ تم مجھ سے ایک نمبر کا ڈیٹا نکلوانا چاہتے ہو۔۔اور اب جب میں تمہارا یہ کام کرونگا تو مجھے حق ہے یہ جاننے کا کہ میں کس کا ڈیٹا لیک کر رہا ہوں۔؟؟ آخر یہ ایک غیر قانونی کام ہے۔ ’’ اس نے کرسی پر اطمینان سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا۔۔ اسکی بات پر معاذ نے ایک گہری سانس لی اور پھر آگے کو جھکا تھا۔۔

’’ تمہارا حق یہ جاننا نہیں کہ نمبر کس کا ہے ؟ تمہارا حق اس کام کی ایک اچھی وصولی ہے۔۔ جو میں ساتھ لے کر آیا ہوں۔۔ اس لئے اب اگر میری یہ کافی اور یہ بسکٹس ختم ہونے تک میرا کام کردو۔۔ تو میں تمہیں پورا انعام دونگا ۔۔ پر اگر وقت آگے ہوگیا تو آدھا ’’ وہ بات ختم کر کے اب سیدھا ہوا تھا اور ایک بسکٹ اٹھا کر منہ میں ڈالا تھا اور فاخر فوراً سے آگے ہوکر اپنے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔

’’ تم بہت سمجھدار ہوگئے ہو ویسے ’’ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے فاخر نے کہا تھا۔۔

’’ اور چالاک بھی ’’ معاذ نے اپنی خوبی میں اضافہ کرنا ضروری سمجھا تھا اور پھر کافی دیر خاموشی رہی تھی۔۔ فاخر کے ہاتھ لیپ ٹاپ نہیں چھوڑ رہے تھے اور معاذ کے ہاتھ کافی اور بسکٹ ۔۔۔ اور پھر آخری بسکٹ اسکے منہ تک جانے کے بعد فاخر نے ایک گہری سانس لے کر پرینٹر کی طرف دیکھا تھا جہاں سے کچھ صفحات نکل کر آرہے تھے ۔۔ انہیں وہاں سے اٹھا کر اس نے معاذ کےسامنے رکھا تھا۔۔ جسے دیکھ کر معاذ مسکرایا تھا۔۔

’’ تم بہت اچھا کام کرتے ہو فاخر ’’ کاغذات پر سرسری نظر مار کر اسنے فاخر سے کہا تھا۔۔ جو اس تعریف پر مسکرایا تھا۔

’’ میں سوچ رہا ہوں۔۔ تمہارا انعام بڑھا دوں ’’ اس نے سوچنے والے انداز میں کہا تھا۔۔

’’ یعنی کہ کام بڑھا دوں ؟ ’’ فاخر نے اسی کے انداز میں کہا تھا۔۔

’’ آفکورس۔۔ تم بلکل نہیں چاہوگے کہ میں دوبارہ اس قسم کے غیر قانونی کام کے لئے تمہارے پاس آؤں ’’ وہ اب معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا۔۔ فاخر نے ایک گہری سانس لی تھی۔۔

’’ اب اور کیا چاہتے ہو ؟ ’’

’’ بس اتنا ’’ معاذ نے وہ کاغذات اسکے سامنے کئے تھے۔

’’ کہ یہ تمام نمبر کس کے نام ہیں اور انکا ایڈرس ؟ ’’ اس نے نمبرز کی لسٹ پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ تم آخر کیا کرنا چاہتے ہو معاذ ۔۔ میں سمجھا تھا کہ تم عرش کی جاسوسی کر رہے ہو۔۔ مگر میں حیران ہوں کہ تم ایک لڑکی کی جاسوسی کر رہے ہو ۔۔ سچ بتاؤ آخر تمہارا اسکے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ ’’ اسکی بات پر معاذ حیران ہوا تھا۔۔

’’ تمہیں کیسے پتہ کہ یہ ایک لڑکی ہے ؟ ’’

’’ سمپل ہے۔۔ جب میں ایک نمبر کا ڈیٹا نکال سکتا ہوں تو کیا میں اس نمبر کے اونر کا نام نہیں نکال سکتا ؟ ’’

’’ اچھا ٹھیک ہے۔۔ پر میرا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔ بس یہ سمجھو کہ یہ سب جاننا ہمارے لئے بہت اہم ہے ’’ اسکی بات پر فاخر نے لسٹ لیپ ٹاپ کے ساتھ رکھی اور اب دوبارہ وہ اسکی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔۔

’’ یعنی کہ عرش اور تمہارے لئے اہم ہے ’’ اس نے ہاتھ چلاتے ساتھ کہا تھا۔۔ معاذ نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔ اسے بس اس کام پورا کروانا تھا ۔

تقریباً آدھے گھنٹے کا کام تھا اور اب معاذ کے ہاتھوں میں کافی پیپرز آچکے تھے۔ جنہیں لے کر وہ کھڑا ہوا تھا۔۔

’’ تھینک یو یار۔۔ اب میں چلتا ہوں ’’ وہ کہہ کر پلٹا ہی تھا کہ فاخر کی آواز نے اسے روکا تھا۔۔

’’ اور میرا انعام ؟ ’’ اسکی بات پر وہ مسکرایا تھا۔۔

’’ مجھ جیسا دوست کسی انعام سے کم ہے کیا ؟ بائے باس ’’ ہاتھ سر تک لے جاکر اسے سلام کیا اور وہاں سے باہر نکل گیا۔۔ اور پیچھے۔۔ بیچارہ فاخر اسے بد دعائیں ہی دیتا رہ گیا تھا ۔



اگلے روز وہ دونوں کیفے ٹیریا پر بیٹھے تھے۔۔ معاذ سینڈوچز کے ساتھ انصاف کرنے میں مصروف تھا۔۔ جب کہ عرش ان کاغذات کو پڑھ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ آگے کو جھکا اور درمیان میں رکھی میز پر کاغذات رکھ کر ایک پین جیب سے نکالا اور ایک نمبر کے گرد دائرہ بنا کر کہنے لگا۔۔

’’ یہ نمبر دیکھ رہے ہو ’’ اس کی بات پر معاذ فوراً آگے کو جھک کر نمبر دیکھنے لگا تھا۔۔

’’ یہ نمبر کسی سمیع نامی لڑکے کا ہے جوکہ اربش کے گھر کےایریا سے بلکل ہی اپازٹ ایریا میں رہتا ہے۔ یعنی ان دونوں کا گھر کافی دور ہے پھر یہ ایک دوسرے کو جانتے کیسے ہیں ؟ ’’ عرش نے سوال کیا تھا۔۔

’’ یونیورسٹی میں ساتھ تھے اور یہ سمیع بھی اربش کے انہیں دوستوں میں سے ایک تھا۔۔ جن سے اس نے یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد کافی عرصے تک رابطہ نہیں کیا تھا ’’ معاذ نے اسے مزید معلومات دی تھی۔۔

’’ کافی عرصے تک رابطہ نہیں کیا تھا۔۔ مگر پھر اچانک رابطہ کیوں کیا ؟ وہ بھی اریج اور احتشام کی بات پکی ہونے سے ایک ہفتہ پہلے؟ ’’ اس نے اس کال کے گرد دائرہ لگایا تھا جو کہ پہلی بار کی گئ تھی۔۔

’’ اور اسکے بعد بھی صرف تین بار اربش نے اس نمبر سے بات کی ہے۔۔ وہ بھی صرف دو سے تین منٹ ’’ معاذ نے باقی کی کالز پر نشان لگا کر کہا تھا۔۔

’’ اور آخری کال احتشام اور اریج کی مہندی والے دن کی ہے ’’ عرش نے آخری کال پر دائرہ لگایا تھا۔۔

’’ اسکا مطلب ہے کہ اس سمیع کا کوئی نہ کوئی ہاتھ ضرور ہے اس معاملے میں ۔۔ میں آج شام ہی معلوم کرلونگا کہ یہ کرتا کیا ہے ؟ ویسے بھی اب یہ مشکل نہیں ہے ۔۔ ایڈرس تو ہے ہی ہمارے پاس ’’ معاذنے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ بلکل اور مجھے یقین ہے اس سمیع کے ذریعے ہی ہم سچائی تک پہنچ سکتے ہیں ’’ وہ بھی اب مطمئن ہوا تھا۔۔

’’ اگر ہم سچائی تک پہنچ بھی جائے تو کیا ہوگا عرش ؟ الہام تو واپس نہیں آئیگی ’’

’’ مگر اسکی قدر۔۔ اسکی اہمیت اور اسکا احترام واپس آجائیگا ’’ معاذ نے اسکے جواب پر اسے غور سے دیکھا تھا۔۔

’’ تم اس سے محبت کرتے ہو عرش ’’ کوئی سوال نہیں تھا۔۔ وہ تو جیسے اطلاع دے رہا تھا۔۔ اسکی بات پر عرش نے چونک کر اسے دیکھا تھا اور پھر فوراً اٹھ گیا تھا۔۔

’’ شام تک اس بندے کی ڈیٹیل معلوم کر لینا۔۔ رات ڈنر پر ملتے ہیں۔۔ ابھی کلاس کا ٹائم ہے تم بھی جاؤ ’’ وہ کہہ کر فوراً وہاں سے جاچکا تھا۔۔ گویا اس ذکر سے فرار ہونا تھا ۔۔ معاذ جانتا تھا وہ کبھی اقرار نہیں کریگا اور ہمیشہ بھاگتا رہے تھا۔۔ خدا کرے کہ وہ بھاگتا بھاگتا اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔ اس نے دل سے دعا کی تھی ۔

جس نے شاید اپنےوقت پر قبول ہونا تھا ۔

وہ ایک بنگلے کے سامنے کھڑا تھا۔۔ یہ وہی ایڈرس تھا جوکہ فاخر نے نکال کر دیا تھا۔۔ اس نے دیکھا اس بنگلے کے دروازے پر ہی ایک چوکیدار بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔۔ وہ اب اس چوکیدار کی طرف بڑھا تھا۔۔

’’ سلام انکل ’’ اس نے اسکے قریب پہنچ کر سلام کیا تھا۔۔ جسے سن کر وہ فوراً کھڑا ہوا تھا۔۔

’’ وعلیکم سلام ، آپ کون ؟ ’’ وہ اب اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔

’’ میں سمیع کے کالج کا دوست ہوں۔۔ آج ہی اسلام آباد سے آیا ہوں۔۔ وہ گھر پر ہے کیا ؟’’ اس نے بہت کانفیڈ نٹ کے ساتھ جھوٹ کہا تھا۔۔

’’ نہیں۔۔ سمیع صاحب تو اس وقت اپنے اسٹوڈیوں ہوتے ہیں۔۔ آپ وہیں جاکر مل لیں ’’ چوکیدار نے اسے مشورے سے نوازا تھا۔۔

’’ ارے واہ ! اس نے اسٹوڈیوں بھی کھول لیا ! کیا بات ہے بھئ ۔۔ آپ مجھے اسکے سٹوڈیوں کا ایڈریس دے دیں۔۔ میں ابھی جاکر ملتا ہوں ’’ اسے جیسے بہت خوشی ہوئی تھی۔۔

’’ جی میں ابھی دیتا ہوں ’’ چوکیدار نے فوراً اپنا پرس نکالا تھا اور اس میں سے ایک کارڈ نکال کر معاذ کے سامنے کیا تھا۔

’’ یہ لیں سمیع صاحب کا کارڈ ’’ اس نے کارڈ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے دیکھا تھا اور ایک گہری سانس لی تھی۔۔

’’ تھینک یو انکل۔۔ میں چلتا ہوں ’’ وہ کہہ کر مڑا تھا اور ایک فاتحانہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی۔۔

ریسٹورانٹ میں ہر طرف لزیز کھانوں کی خوشبوں پھیلی ہوئی تھی۔۔ ایسے میں اس ریسٹورانٹ کی ایک میز پر وہ دونوں آمنےسامنے بیٹھے تھے۔۔ ویٹر کھانا سرو کر کے جاچکا تھا اور وہ دونوں اب کھانے میں مصروف تھے۔۔ ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے باتیں بھی ہورہی تھیں۔۔

’’ اب آگے کیا کرنا ہے ؟ ’’ اس نے چائینیز رائس کا چمچ لیتے ہوئے عرش سے پوچھا تھا۔۔

’’ بلیک میل ’’ اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔

’’ سمیع کو ؟ ’’ اس کے سوال پر عرش نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔

’’ اربش کو ’’ معاذ فوراً سیدھا ہوا تھا۔۔ ’’ وہ کیسے ؟ ’’ سوال پوچھا تھا۔۔

عرش کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی ۔

’’ وہ ایسے ۔۔۔۔ ’’ وہ آگے بھی کہہ رہا تھا۔۔ آس پاس لوگ کھانے میں مصروف تھے۔۔ تھوڑی دیر بات ایک جاندار مسکراہٹ معاذ اور عرش کے چہرے پر تھی ۔

وہ دونوں اس وقت ایک اسٹوڈیو میں موجود سمیع کا انتظار کر رہے تھے۔۔ جو کہ کسی فوٹو شوٹ میں مصروف تھا۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ آفس میں آیا تھا اور دونوں کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔

’’ سوری۔۔ آپ دونوں کو انتظار کرنا پڑھا ۔۔ کہیئے کیا کر سکتا ہوں میں آپ کے لئے ’’ وہ ایک فروفیشنل انداز میں کہہ رہا تھا۔ سامنے بیٹھے عرش اور معاذ بھی مسکرا رہے تھے۔۔

’’ بلیک میل ’’ عرش نے کہا تھا اور وہ تھوڑا چونکا تھا۔۔

’’ سوری ۔۔ میں سمجھا نہیں ’’ نا سمجھنے والے انداز میں پوچھا تھا۔۔

’’ میں سمجھا دیتا ہوں ’’ معاذ آگے کو جھکا تھا اور اب اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا تھا۔۔

’’ آپ نے اربش کے کہنے پر جو تصاویر ایڈٹ کی تھیں۔۔ ہمیں اسکے بارے میں سب معلوم ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم پولیس تک نہ جائیں۔۔ تو وہی کریں جو ہم کہہ رہے ہیں ’’ اسکی بات پر وہ ہڑبڑا گیا تھا۔۔ ماتھے پر پسینہ آنے لگا تھا۔۔

’’ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ لوگ ؟ میں کسی اربش کو نہیں جانتا اور نہ ہی میں اس طرح کے کام کرتا ہوں ’’ صاف انکار تھا۔ اسکے جواب پر معاذ قدرے مایوس ہوکر پیچھے ہوا تھا۔۔

’’ میں نے کہا تھا تمہیں کہ پولیس لے جاتے ہیں ساتھ۔۔ مگر تمہیں ہی اس سے ہمدردی ہورہی تھی ’’ عرش نے معاذ کو کہتے ہوئے موبائل نکالا تھا۔۔ یقیناً وہ پولیس کو کال کرنے لگا تھا کہ سمیع فوراً آگے ہوا تھا۔۔

’’ نہیں پلیز آپ کال نہ کریں۔۔ میں مانونگا آپکی بات۔۔ بس پولیس کو مت بلانا ’’ معاذ اور عرش ایک ساتھ مسکرائے تھے ۔

part 2

وہ اس وقت ٹی وی میں مووی دیکھنے میں مگن تھی جب اسکا موبائیل بجا تھا۔۔ اس نے کال کرنے والے کا نام پڑھا تو موڈ فوراً خراب ہوا تھا۔۔ مگر کال اگنور بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔۔

’’ بولو ؟ ’’ اس نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ میں تمہارا اسٹوڈیو میں انتظار کر رہا ہو۔۔ آدھے گھنٹے میں پہنچو ’’ آگے سے سخت لہجے میں ایک آرڈر پاس ہوا تھا۔۔

’’ او ہیلو ! ’’ اسے سمیع کا انداز اچھا نہیں لگا تھا۔

’’ یہ تم آرڈر کس کو دے رہے ہو اور کیوں ملو میں تم سے ؟ ’’

’’ کیونکہ میرے پاس اب بھی وہ تصاویر موجود ہیں۔۔ آدھے گھنٹے میں اگر تم نہ پہنچی۔۔ تو میں تمہارے پاپا کے آفس بھجوا دونگا وہ ’’ کال بند ہوگئ تھی اور اربش کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔ پھر فوراً اٹھی اور اپنے کمرےسے اپنا بیگ لے کر باہر بھاگی تھی۔۔

’’ ماما میں ایک دوست سے مل کرآتی ہوں ایک گھنٹے میں ’’ اونچی آواز میں کچن میں موجود عائشہ کو کہہ کر وہ باہر آئی تھی۔ اور گاڑی سٹارٹ کر کے نکل گئ تھی۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب سمیع اس سے کیا چاہتا ہے ؟ وہ بہت تیز ڈرائیو کر کے اس کے اسٹوڈیو پہنچی تھی۔۔ جہاں وہ اپنے آفس میں اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔

’’ ارے واہ ! تم تو بہت جلدی آگئ۔۔ لگتا ہے بہت بے چین ہوگئ ہو ’’ اسے دیکھ کر مسکراتےہوئے وہ بولا تھا جبکہ اربش اپنا بیگ اسکی میز پر رکھ کر آگے کو جھکے تھی۔۔

’’ کیوں بلایا ہے مجھے ؟ ’’ وہ شعلہ برساتی نظروں سے اسے دیکھ کر کہہ رہی تھیں۔۔ سمیع کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔

’’ آرام سے بیٹھو۔۔ پھر بتاتا ہوں ’’ اس نے سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا اور اربش ضبط کرتی ہوئی اس پر بیٹھ چکی تھی۔۔

’’ کیا مسئلہ ہےسمیع؟ کیوں بلایا ہے مجھے ؟ ’’ اسکے خاموش رہنے پر وہ مزید چڑ گئ تھی۔۔

‘’ مجھے ایک کروڑ روپے چاہیے ’’ سکون سے کی گئ سمیع کی ڈیمانڈ پر اسکا منہ کھل گیا تھا۔۔

’’ ایک کروڑ ؟ کس لئے ؟ ’’

’’ تمہارے راز کو راز رکھنے کے لئے ’’ جواب اسی انداز میں آیا تھا۔۔

’’ میں تمہیں اچھی خاصی رقم دے چکی ہوں۔۔ اب میرے پاس کچھ نہیں ہے دینے کے لئے ’’ اپناغصہ ضبط کرتے ہوئے اس نے صاف انکار کیا تھا۔۔

’’ تم نے مجھے وہ رقم الہام اور احتشام کی تصاویر ایڈٹ کرنے کے لئے دی تھی اور اب یہ رقم تم میرا منہ ہمیشہ کے لئے بند کروانے کے لئے دوگی۔۔ دونوں کاموں میں بہت فرق ہے میڈم ’’ وہ اب بھی پر سکون تھا۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔۔

’’ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ؟ تم مجھے بلیک میل کر رہے ہو ؟ ’’ وہ اب آواز اونچی کر کے بولی تھی۔۔

’’ آواز نیچی کر کے بات کرو۔۔ یہ میرا آفس ہے تمہارا گھر نہیں اور میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے البتہ تمہارا دماغ ضرور خراب ہے۔ تم نے مجھ سے اپنی بہن اور اپنے کزن کی تصاویر ایڈٹ کروائیں۔۔ میں نے ہماری پرانی دوستی کی خاطر تمہارا کام کیا مگر مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ تم انہیں اس طرح استعمال کروگی ۔۔ تم نے اتنے لوگوں کو وہ تصاویر دکھائیں۔۔ اپنی بہن اور کزن کی عزت کا تماشہ بنادیا ۔۔ تمہیں اندازہ ہے کہ اگر کوئی سمجھ جاتا کہ یہ ایڈٹ ہیں تو مجھے کتنا بڑا خطرہ تھا ؟ مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ آخر تم نے یہ سب کیا کیوں۔۔؟؟ اتنی اچھی تو بہن تھی تمہاری۔ اسکے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کی تم نے’’ اسکی دھمکی سے زیادہ اب الہام کی تعریف نے اسے تیش دلایا تھا۔۔

’’ کیونکہ مجھے اس سے نفرت تھی ۔۔ برباد کرنا چاہتی تھی میں اسکو اور میں نے ایسا کیا ۔۔ مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور تمہیں ’’ اربش نے اب انگلی اسکی طرف اٹھائی تھی ’’ تمہیں بھی مجھے دھمکانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ جب میں اپنی اس سوتیلی بہن اور احتشام جس سے کبھی مجھے محبت تھی، ان دونوں کو برباد کر سکتی ہوں۔۔ تو تمہیں بھی کر سکتی ہوں۔۔ اب اگر تم نے مجھے دھمکانے کی کوشش کی۔۔ تو میں پولیس کے پاس چلی جاؤنگی۔۔ یہ تصاویر تم پاپا کو دکھا بھی دو تو وہ مجھے پولیس سے بچا لینگے۔۔ مگر تم بچ بھی گئے تو تمہارا کیرئیر برباد ہوجائیگا۔۔ اس لئے اب ۔۔۔’’ اس نے اپنا بیگ کاندھے سے لگایا تھا۔۔

’’ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا ’’ وہ کہہ کر فوراً آفس نے نکلی تھی اور اسکے جانے کے بعد ایک مسکراہٹ نے سمیع کے ہونٹوں کو چھوا تھا۔۔ اس نے اپنا موبائیل اٹھا کر ایک میسیج ٹائپ کیا تھا۔۔

’’ کام ہوگیا ہے ’’ میسیج سینڈ ہوچکا تھا۔۔ اور اب وہ پر سکون تھا ۔۔

وہ تینوں اس وقت ڈنر کر رہے تھے جب ملازم نے آکر اطلاح دی تھی۔۔

’’ صاحب کوئی عرش صاحب آئے ہیں۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں ’’ ملازم کی بات پر عائشہ بیگم نے ایجاز صاحب کی جانب سوالیاں نظروں سے دیکھا تھا۔۔

’’ یہ عرش کون ہے ؟ ’’ اربش بھی پاپا کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ یہ نام ان دونوں کے لئے نیا تھا۔۔

’’ پتہ نہیں ۔۔ انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آتا ہوں ’’ انہوں نے ملازم سے کہا تھا اور وہ سر ہلاتا ہوا چلا گیا تھا۔۔

’’ تم دونوں ذرا چائے کا انتظام کرو میں دیکھ لوں کون ہے ’’ وہ کہہ کر اٹھے تھے۔۔ ساتھ ہی عائشہ بیگم اور اربش بھی اٹھ گئے تھے۔۔ ایجاز صاحب ڈرائینگ روم کی طرف گئے تھے جبکہ عائشہ بیگم مہمانوں کی چائے کا انتظام کرنے کچن کی طرف اور اربش پاپا کی جاسوسی کرنے ڈرائینگ روم کے باہر جارکی تھی اور اب وہ اندر بیٹھے شخص کو دیکھ رہی تھی جو پاپا کو دیکھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔ سفید شرٹ اور بلو جینز ، ماتھے پر بکھرے بال ، ہلکی بیئرڈ ، گہری براؤن آنکھیں ، نکھری ہوئی رنگت اور چوڑے کاندھوں کے ساتھ وہ ایک دلکش مردانہ وجاہت سے بھرپور انسان تھا۔۔ اب وہ پاپا سے ہاتھ ملا کر اپنی جگہ پر بیٹھا تھا۔۔ دونوں اب آمنے سامنے تھے۔۔

’’ میں نے تمہیں پہچانا نہیں عرش۔۔ کیا ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں ؟ ’’ ایجاز صاحب نے کہا تھا اور عرش اس سوال پر مسکرایا تھا۔۔

’‘ نہیں انکل آپ مجھے نہیں جانتے اور ہم پہلی بار مل رہے ہیں اور شاید آخری بار بھی ’’ اسکی بات پر ایجاز صاحب کو جہاں تعجب ہوا تھا۔۔ وہی باہر کھڑی اربش کو بھی عجیب لگا تھا۔۔

’’ کیا مطلب ؟ ’’ ایجاز صاحب نے پوچھا تھا۔۔

’’ مطلب یہ کہ انکل میں یہاں کسی اپنے کے لئے آیا ہوں۔۔ اسکی سچائی ثابت کرنے اور آپکو ایک پچھتاوا دینے ’’ اسکی بات پر اندر داخل ہوتی عائشہ بیگم بھی چونکی تھیں۔۔ ملازمہ اب چائے رکھ رہی تھی اور اسکی موجودگی تک سب خاموش رہے تھے۔ اسکے جانے کے بعد ایجاز صاحب اس سے مخاطب ہوئے تھے۔۔

’’ کس پچھتاوے کی بات کر رہے ہو ؟ ’’

’’ ایک زیادتی کا پچھتاوا ۔۔ اپنی بیٹی کو برباد کرنے کا پچھتاوا ۔۔ اسے مارنے کا پچھتاوا ۔۔ اور اس سے دور ہوجانے کا پچھتاوا ’’ اسکی بات پر ان دونوں کےتعصورات بگڑے تھے۔۔

’’ کیا کہنا چاہتے ہو تم ؟ ’’ ایجاز صاحب نے اب تھوڑے سخت لہجے میں کہا تھا۔۔

’’ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے بہت افسوس ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کو پہچان نہیں سکے۔۔ حالانکہ آپ انکے باپ ہیں ’’ وہ اب بھی پرسکون لہجے میں صوفے سے ٹیک لگا کر کہہ رہا تھا۔۔

’’ سنو۔۔ تم جو کوئی بھی ہو ۔ اگر الہام کے طرفدار بن کر آئے ہو تو ہمیں تمہاری طرفداری کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ بہتر ہوگا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ ’’ اب کی بار عائشہ بیگم نے کہا تھا۔۔ باہر کھڑی اربش اب بھی کچھ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے ایک اور بار غور سےدیکھا تھا۔۔ وہ اس لڑکے کو پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔۔ پھر یہ کون تھا ؟

ایک ہلکی سی مسکراہٹ عرش کے چہرے پر آئی تھی۔۔

’’ پہلی بات تو یہ کہ میں یہاں الہام کی طرفداری کے لئے نہیں آیا۔۔ الہام کو کسی کی بھی طرفداری کی ضرورت نہیں ہے۔۔ اور دوسری بات ’’ وہ تھوڑا آگے کو جھکا تھا۔۔

’’ آپکو واقعی الہام سے منسلک کسی بھی بات میں انٹرسٹ نہیں ہے۔۔ مگر آپکو اپنی بیٹی کی باتوں میں ضرورت انٹرسٹ ہوگا ’’ باہر کھڑی اربش کے چہرے پر گھبراہٹ آئی تھی۔۔

’’ تمہیں جو کہنا ہے صاف صاف کہو لڑکے ۔۔ہماری بیٹیوں کے بارے میں باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے ’’ ایجاز صاحب اب برہم ہوئے تھے۔۔

’’ مجھے آپکی بیٹیوں کے بارے میں بات نہیں کرنی انکل ۔۔ میرے پاس آپکے لئے کچھ ہے۔۔ مگر اس سے پہلے میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو ’’ وہ بہت ہی نرم لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔

’’ بولو ’’ ایجاز صاحب کا لہجہ اب بھی سخت تھا۔۔

’’ میں جانتا ہوں۔۔ آپ اپنی دونوں بیٹیوں کو برابر سمجھتے ہیں مگر کیا آپ دونوں کے درمیان انصاف بھی کرتے ہیں ؟ ’’ اس کے سوال پر باہر کھڑی اربش کا دل جیسے رک سا گیا تھا۔۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ کچھ غلط ہے۔۔ جیسے کچھ برا ہونے جارہا ہے۔۔

’’ میں اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ انصاف ہی کرتا آیا ہوں اور یہ بات مجھے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ’’ انکا لہجہ اٹل تھا۔۔ جیسے اس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو ۔ عرش کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی۔۔

’’ مجھے اچھا لگا سن کر اور اسی لئے میں آپکو کچھ دینا اور سنانا چاہتا ہوں ’’ اس نے اب اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تھا اور اس میں سے ایک یو۔ایس۔بی نکال کر سامنے میز پر رکھی تھی۔۔ جسے وہاں بیٹھا ہر شخص پہچان گیا تھا۔۔ یہ وہی یو۔ایس۔بی تھی۔۔

’’ یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ؟ ’’ عائیشہ بیگم نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔ مگر وہ انکی طرف متوجہ نہیں تھا۔۔ اب وہ اپنے موبائل میں کچھ کر رہا تھا اور تھوڑی دیر بعد اس نے سامنے بیٹھے ایجاز صاحب کی جانب دیکھا تھا۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔ آنکھوں میں غصہ تھا ۔۔ عرش نے اپنا موبائیل اب میز پر رکھا اور سکرین پر ایک جگہ انگلی لگائی تھی اور ایک ریکارڈنگ چلنا شروع ہوئی تھی۔۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ باہر کھڑی اربش کے کانوں تک بھی آرہی تھی۔۔

مجھے ایک کروڑ روپے چاہیے ’’ کسی آدمی کی آواز تھی۔۔ جسے کوئی نہیں پہچان سکا تھا۔۔ سوائے اربش کے۔۔ ’’ایک کروڑ ؟ کس لئے ؟ ’’ یہ اربش کی آواز تھی۔۔ جسے یہاں موجود ہر شخص پہچانتا تھا۔۔ عائشہ اور ایجاز صاحب چونکے تھے۔۔ ریکارڈنگ جیسے جیسے آگے چل رہی تھی۔۔ ویسے ویسے ہی ان تینوں کے تعصورات بدل رہے تھے۔۔ ایجاز صاحب کے چہرے پر حیرانی ، غصہ ، دکھ اور ناجانے کیا کیا تھا۔۔۔ عائیشہ بیگم کے چہرے پر صرف اور صرف گھبراہٹ تھی۔۔ خوف تھا۔۔ جسے عرش نے نوٹ کیا تھا۔۔

’’ آواز نیچی کر کے بات کرو۔۔ یہ میرا آفس ہے تمہارا گھر نہیں۔۔ اور میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے البتہ تمہارا دماغ ضرور خراب ہے۔۔ تم نے مجھ سے اپنی بہن اور اپنے کزن کی تصاویر ایڈٹ کروائیں۔۔ میں نے ہماری پرانی دوستی کی خاطر تمہارا کام کیا مگر مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ تم انہیں اس طرح استعمال کروگی ۔۔ تم نے اتنے لوگوں کو وہ تصاویر دکھائی۔۔ اپنی بہن اور کزن کی عزت کا تماشہ بنا دیا۔۔۔ تمہیں اندازہ ہے کہ اگر کوئی سمجھ جاتا کہ یہ ایڈٹ ہیں۔۔ تو مجھے کتنا بڑا خطرہ تھا ؟ مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ آخر تم نے یہ سب کیا کیوں ؟ اتنی اچھی تو بہن تھی تمہاری۔۔ اسکے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کی تم نے ’’ اسی آدمی کی آواز تھی۔۔

’’کیونکہ مجھے اس سے نفرت تھی ۔۔ برباد کرنا چاہتی تھی میں اسکو اور میں نے ایسا کیا ۔۔ مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اور تمہیں بھی مجھے دھمکانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ جب میں اپنی اس سوتیلی بہن اور احتشام جس سے کبھی مجھے محبت تھی۔۔ ان دونوں کو برباد کر سکتی ہوں۔۔ تو تمہیں بھی کر سکتی ہوں۔۔ اب اگر تم نے مجھے دھمکانے کی کوشش کی تو میں پولیس کے پاس چلی جاؤنگی۔۔ یہ تصاویر تم پاپا کو دکھا بھی دو تو وہ مجھے پولیس سے بچا لینگے۔۔ مگر تم بچ بھی گئے تو تمہارا کیرئیر برباد ہوجائیگا۔۔ اس لئے اب ۔۔۔مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش مت کرنا ’’

ریکارڈنگ ختم ہوئی تھی۔۔

اور وہاں موجود ہر انسان پتھر بن چکا تھا۔۔ سوائے عرش کے ۔۔ اب وہ کھڑا ہوا تھا مگر کوئی بھی اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔۔

’’ اس یو۔ایس۔بی میں اصل اور ایڈیٹڈ دونوں تصاویر موجود ہیں ’’ اس نے میز میں رکھی یو۔اس۔بی کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔ اسے شاید سب نے سنا تھا مگر کوئی اسکی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا۔۔

’’ جانتے ہیں ۔۔ اسلام میں کسی پر جھوٹا بہتان لگانے کی کیا سزا ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور وہاں کھڑا ہر شخص کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا ۔۔

’’ اسی کوڑے ‘‘ اسکی بات پر باہر کھڑی اربش نے اپنے سینے پر گھبرا کر ہاتھ رکھا تھا ۔۔

’’ لیکن سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ یہ کوڑے کسے لگائے جائیں ؟ اور کون لگائے گا یہ کوڑے ؟ اور سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ کون لگوائے گا یہ کوڑے ؟ یہاں جب کسی پر بہتان لگایا جاتا ہے ۔۔ تو بہتان لگائے والا کوئی غیر نہیں ہوتا ۔۔ وہ اپنا ہی ہوتا ہے ۔۔ اپنا بھائی ، اپنی بہن ، اپنی ماں ، اپنا شوہر اور اپنا باپ ‘‘ عرش کی بات پر ایجاز صاحب کا سر جھک گیا تھا ۔۔

’’ یہاں لڑکیاں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد تو پھر بھی انصاف کا مانگنے کھڑی ہوجاتی ہیں مگر وہ بہتان لگنے پر آواز نہیں اٹھا پاتیں ۔۔ جانتے ہیں کیوں ؟ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ مگر کسی نے بھی اسے جواب نہیں دیا تھا ۔۔ کوئی شاید اس قابل رہا ہی نہیں تھا ۔۔

’’ کیونکہ زیادتی کرنے والا بھائی نہیں ہوتا ، بہن نہیں ہوتی ، وہ کوئی ماں نہیں ہوتی ، وہ کوئی باپ نہیں ہوتا ۔۔ وہ ایک باہر کا درندہ ہوتا ہے ۔۔ اس سے نفرت بھی ہوجاتی ہے ۔۔ اسے تڑپتا دیکھنا بھی چاہتی ہیں ۔۔ مگر بہتان لگانے والا باہر کا کوئی درندہ نہیں ہوتا ۔۔ وہ ایک بھائی ، بہن ، ماں اور باپ ہوتا ہے۔۔ ان چاہ کر بھی نفرت نہیں ہوپاتی ۔۔ اسے چاہ کر بھی تڑپتا دیکھا نہیں جاتا ۔۔ تو پھر کون لگوائے انہیں اسی کوڑے ؟ ‘‘ وہ دروازے کی جانب مڑا تھا ۔۔ جہاں اس سے اربش کو کھڑا دیکھ لیا تھا ۔۔

’’ کاش۔۔ کاش کہ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ بہتان لگانے والوں کو بھی سزائیں دی جاتی ۔۔ تو آج کسی کی ہمت نہ ہوتی ، جھوٹا بہتان لگانے کی ، عزتوں کا تماشہ بنانے کی ، اپنے ناپاک مقصد کے حصول کے لئے ۔۔ لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دینے کی ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔نظر اب دوبارہ ایجاز صاحب کی جانب گئ تھی ۔۔ جن کا سر اب بھی جھکا ہوا تھا۔

’’ وہ جاچکی ہے ۔۔ آپ سب کا بہتان اپنے دامن پر لگا کر وہ یہاں سے بہت دور جاچکی تھی ۔۔ پر افسوس کے بہتان جھوٹا تھا ۔۔ پر افسوس کہ یہاں موجود ہر شخص اسکا مجرم ۔۔ اور اس سزا کا حقدار ٹھہرا ہے ۔ اور اللہ حقداروں کو انکا حق دینےوالا ہے‘‘ وہ کہہ کر پلٹا تھا اور دروازے کے قریب جاکر دوبارہ رکا تھا۔۔ وہاں اربش کھڑی تھی جو اسے اب حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔

اسکی آنکھوں میں کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔۔ صرف اور صرف خوف تھا۔۔ جانے یہ خوف اسے کس سے آرہا تھا ؟

عرش نے بس اسے ایک نظر دیکھا اور اس ایک نظر میں صرف اور صرف نفرت تھی۔۔

پھر وہ آگے بڑھ گیا تھا۔۔ جیسے کوئی طوفان خاموشی سے آتا ہے اور سب تباہ کر کے چلا جاتا ہے۔۔ وہ ایک طوفان ہی تو تھا ۔۔ اربش کو وہ وہی طوفان لگا تھا۔۔

’’ اربش ! ’’ پاپا کی آواز گونجی تھی اور اس نے آنکھیں بند کر دی تھیں ۔۔

اسکے پاس اپنے حق میں کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا تھا۔۔ سب ختم ہوگیا تھا۔۔ اسکی سچائی سب کو معلوم ہوگئ تھی۔۔ اب تو بس اسے سزا سنائی جانی تھی۔۔ اور وہ سزا کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی ۔۔۔

وہ الہام کے گھر سے نکل کر باہر آیا اور اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا۔۔

’’ کیا ہوا ؟ ’’ ساتھ بیٹھے معاذ نے پوچھا تھا۔۔

’’ طوفان آگیا ہے ’’ اس نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر کہا تھا۔۔ معاذ نے دیکھا ۔۔ اسکے چہرے پر ایک سکون سا تھا۔۔ جیسے ایک بہت بڑی ذمہ داری سے آزاد ہوا ہو۔۔

’’ تم نے اپنا کام کردیا ؟ ‘‘ بند آنکھوں کے ساتھ عرش نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ اس شادی میں موجود ہر فرد کو اورینجنل پکچرز اور اربش کی ریکارڈنگ بھیج دی گئ ہے ۔۔ سب اسکی سچائی جان چکے ہیں ‘‘ معاذ نے اسے بتایا تھا ۔۔

’’ اور سب الہام کی پارسائی جان چکے ہیں ‘‘ عرش نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ چلو یعنی۔۔ یہ سب یہاں ختم ہوا ’’ معاذ نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔

’’ ہاں۔۔ یہ سب یہاں ختم ہوا ’’ اس نے بھی دہرایا تھا۔۔

’’ اور اب آگے کیا کرنا ہے ؟ ’’ معاذ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔اور عرش کے چہرے پر اب ایک مسکراہٹ آئی تھی۔۔

’’ وہی۔۔ جو الہام کر رہی ہے ’’ اس نے اب گاڑی سٹارٹ کی تھی۔۔

’’ الہام کیا کر رہی ہے ؟ ’’ معاذ نے چونک کر پوچھا تھا اور عرش کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔

جواب کوئی نہیں دیا تھا اس نے ۔۔ بس ایک مسکراہٹ کے ساتھ ۔۔ گاڑی آگے بڑھا دی تھی ۔۔۔ ایک نئے رستے پر۔۔۔ ایک نئ منزل کی جانب۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *