Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz NovelR50632 Ay Raaz e Dil (Episode 04)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Ay Raaz e Dil (Episode 04)Part 1,2
Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz
اس نے آفس کا دروازہ ناک کیا تھا۔۔ اندر سے آواز آئی تھی۔۔۔
’’ کم ان ’’ اجازت ملتے ہی وہ اندر آئی تھی۔۔۔ جہاں سامنے ہی ایجاز صاحب ایک فائیل پر سر جھکائے بیٹھے تھے ۔۔۔
’’ پاپا ’’ اس نے کہا تھا اور ایجاز صاحب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
’’ جی پاپا کی جان بولو ؟ ’’ انہوں نے مسکرا کر سیدھے ہوتے ہوئے کہا تھا۔
’’ مجھے ایک فرینڈ سے ملنے جانا ہے۔۔ اگر آپکی اجازت ہو تو ’’ آج وہ بہت تابیدار بنی ہوئی تھی۔۔
’’ تو اس میں پوچھنےوالی کٓیا بات ہے۔۔؟ جاؤ ’’
’’ نہیں وہ میں نے سوچا آپ کہیں گے کہ آج پہلا دن ہے آفس میں اور آج ہی جارہی ہے دوستوں سے ملنے ’’ اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا۔۔ ایجاز صاحب اسکی بات پر مسکرائے تھے۔۔
’’ یہ تمہارے پاپا کا آفس ہے۔۔۔ یعنی کہ تمہارا اپنا۔۔ تم جب چاہے آسکتی ہو۔۔ جب چاہے جاسکتی ہو ’’ انہوں نے کہا تھا اور وہ اب آکر انکے گلے لگی تھی۔۔
’’ تھینک یو پاپا۔۔ یو آر دی بیسٹ ’’ وہ کہہ کر اب آفس سے باہر آئی اور کسی کو کال ملائی تھی۔۔
’’ میں آرہی ہوں ’’ اس نے کہہ کر کال بند کی تھی اور اب وہ ایک ریسٹورینٹ کی طرف جارہی تھی۔۔
اس نے وہاں پہنچ کر کسی کی تلاش میں نظریں دوڑائی تھیں اور وہ اسے سامنے ہی ایک کونے کی میز پر بیٹھا نظر آگیا تھا۔۔ وہ اب اسکی طرف بڑھی تھی۔۔
’’ کیسے ہو ؟ ’’ اس نے اسکے سامنے بیٹھ کر پوچھا تھا۔۔ سامنے بیٹھا شخص اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔
’’ بلکل ٹھیک ہوں۔۔ بس پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہوگیا ہوں ’’
’’ ہاں وہ تو دکھ ہی رہا ہے ’’ اس نے تعریفی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔ وہ واقعی ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔
’’ تم بھی بلکل نہیں بدلی اربش۔۔۔ آج بھی ویسی کی ویسی ہی ہو ’’ سامنے بیٹھے شخص نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ میں بدلنے والی بھی نہیں ہوں ’’ اس نے ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر سیدھے ہوتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ اچانک تم نے رابطہ کیا۔۔ میں حیران ہوگیا تھا۔۔ ضرور کوئی کام ہی تمہیں مجھ تک لے کر آیا ہے ’’ اس نے اب اس ملاقات کی وجہ پوچھی تھی۔۔ اتنے عرصے بعد اربش نے اسے ملنے کا کہا تھا ۔۔۔
’’ ہاں۔۔ کام ہی ہے اس لئے بلایا ہے۔۔ ورنہ تم جانتے تو ہو کہ میں فضول کی دوستیاں نہیں پالتی ’’ اس نے بھی صاف الفاظ میں اقرار کیا تھا۔۔ وہ واقعی بلکل نہیں بدلی تھی ۔۔
’’ ہاں۔۔ بہت اچھے سے جانتا ہوں۔۔ بتاو کیا کام ہے ؟ ’’ وہ اب سنجیدہ ہوا تھا۔۔
’’ سنا ہے تم ایک بہترین فوٹو گرافر بن چکے ہو؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ ہاں۔۔ تمہیں تو پتہ ہے میرا بس یہی ایک مقصد تھا ’’ اس نےمسکرا کر کہا تھا۔۔
’’ لیکن اس میں تم اتنا زیادہ تو نہیں کما سکتے ہوگے کہ اپنی خواہشات پوری کر سکو ’’ اسکا انداز فروفیشنل تھا۔۔
’’ نہیں۔۔ مگر اتنا کما لیتا ہوں کہ میں اور میرے گھر والے ایک پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں ’’ اب وہ سنجیدہ ہوا تھا۔۔ ان باتوں کا کیا مطلب تھا آخر ؟
’’ مگر اگر تم زیادہ کماتے تو شاید تم اور تمہارے گھر والے پرسکون سے کچھ زیادہ عیش و عشرت حاصل کر سکتے تھے ’’ اس نے جیسے تنقید کی تھی۔۔
’’ مجھے یقین ہے۔۔ ایک ایسا وقت بھی آہی جائے گا ’’ وہ پر یقین تھا ۔۔
’’ اور اگر میں کہوں کہ وہ وقت آگیا ہے تو ؟ ’’ اس نے آگے جھک کر ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو ؟ ’’ وہ اسکی بات اور انداز سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔
’’ مطلب یہ کہ میرے پاس تمہارے لئے ایک بہترین آفر ہے۔۔ اگر تم مان لیتے ہو تو۔۔ تم اور تمہارے گھر والے مزے کرینگے ’’ اس نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ کیسی آفر؟ ’’
’’ تمہیں میرا ایک کام کرنا ہے اور میں اسکی اچھی خاصی قیمت دونگی تمہیں ’’
’’ کیا کام ؟ ’’ اس کے سوال پر وہ مسکرائی تھی اور اپنے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر اسکے سامنے رکھا تھا۔۔
’’ یہ کام ’’ اس نے آنکھوں سے اس لفافے کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔۔ سامنے بیٹھے شخص نے وہ لفافہ اٹھایا تھا اور اب وہ اسے دیکھ رہا تھا اور جیسے جیسے وہ اس کے اندر کے کاغذات دیکھتا رہا ۔۔۔ ویسے ویسے اسکی آنکھیں حیرت سے کھلتی گئ تھیں۔۔۔
’’ تم ۔۔۔ تم ایسا کیوں کرنا چاہتی ہو ؟ ’’ وہ حیران تھا۔۔ اربش اس طرح کا کام اس سے کیوں کروا رہی تھی۔۔
’’ یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔۔ تمہیں بس یہ کام کرنا ہے اور میں اسکی تمہیں اچھی خاصی قیمت دونگی ’’ اس کا انداز کسی بھی احساس سے خالی تھا۔۔ بس اسکی آنکھیں تھیں۔۔۔ جہاں نفرت کی آنچ وہ شخص دیکھ سکتا تھا۔۔
’’ یہ بہت خطرناک کام ہے ’’ اس نے اسے ڈرانا چاہا تھا ۔۔
’’ تمہارے لئے تو نہیں ہے نا ؟ میں جانتی ہوں کہ تم ہی یہ کام کر سکتے ہو اور میں تم پر ہی اعتبار کر سکتی ہوں ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا اور سامنےبیٹھا شخص اب وہ لفافہ بند کر رہا تھا۔۔
’’ قیمت کتنی ہوگی ؟ ’’ اس شخص نے پوچھا تھا اور اربش کے چہرے پر ایک کامیاب اور مکار مسکراہٹ پھیلی تھی ۔۔
اریج کے لئے یہ سب بہت حیران کن تھا۔۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے محبت تھی۔۔۔ محبت ابھی نہیں ہوئی تھی۔۔ ہاں مگر یہ ضرور یہ ہوا تھا کہ اسے احتشام پہلی ملاقات میں ہی اچھا لگا تھا۔۔۔ وہ شکل و صورت کے علاوہ اخلاق اور کردار کا بھی اچھا انسان تھا اور اس بات کا یقین اس پروپوزل سے ہوا تھا۔۔۔ پہلی ملاقات کے بعد ہی اس نے اس سے کوئی رابطہ یا دوبارہ یہاں آکر اس سے سامنا نہیں کیا تھا۔۔۔ بلکہ اس نے تو ڈائیرکٹ رشتہ کی بات کر لی تھی ۔۔ اور یہی اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ایک اچھے کردار کا انسان تھا۔۔ وہ خوش تھی کہ احتشام نے اسے پسند کیا تھا اور الہام تو اب جلد ہی بات آگے بڑھانا چاہتی تھی۔۔ مگر اس سے پہلے اسے اپنے گھر میں بات کرنی تھی۔۔۔ ماما پاپا اور بھائی اسکی کوئی بات نہیں ٹالتے تھے ۔۔ وہ بہت لاڈلی تھی سب کی۔۔ اسکی ہر فرمائش پوری کردی جاتی تھی۔۔۔ مگر اس بار بات الگ تھی۔۔ وہ اس خواہش کا اظہار کیسے کرے ؟ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔ جب سے یونیورسٹی سے آئی تھی۔۔ وہ یہی سوچ رہی تھی مگر ۔۔ اس کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔۔۔ فطری شرم تھی جو اسے یہ بات کرنے سے روک رہی تھی۔۔ ابھی بھی وہ کمرے میں بیٹھی اسی بارے میں سوچ رہی تھی کہ اسکا موبائیل بجا تھا۔۔۔ اسنے دیکھا ۔۔ بھائی کی ویڈیو کال تھی۔۔ اس نے کال ریسیو کی تھی۔۔ سامنے ہی بھائی کا چہرہ نظر آیا تھا۔۔
’’ کیسی ہے میری بہنہ ؟ ’’ بھائی نے پیار سے اس سے کہا تھا۔۔
’’ بلکل ٹھیک ہوں۔۔ آپ بتائیں۔۔ کیسا ہے میرا بھائی ؟ ’’ اس نے بھی انہیں کا انداز اپنایا تھا۔۔
’’ جب میری بہنہ ٹھیک ہے تو میں بھی ٹھیک ہوں ’’
’’ اور میری بھابھی کیسی ہیں ؟ ’’ اس نے اب بھابھی کا پوچھا تھا۔۔۔ جو کہ اسے سامنے نظر نہیں آرہی تھیں۔۔
’’ وہ سورہی ہے۔۔ آج کچھ طبیعت ٹھیک نہیں اسکی ’’
’’ کیوں کیا ہوا انہیں ؟ ’’ وہ پریشان ہوگئ تھی۔۔
’’ ارے پریشان ہونے والی بات نہیں۔۔۔ بس ہلکا سا ٹیمپریچر ہے۔۔ ابھی میڈیسن لے کر سوئی ہے ’’
’’ اچھا خیال رکھا کریں انکا ’’
’’ وہ تو میں بہت رکھتا ہوں ’’ بھائی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔ وہ بھی مسکرائی تھی۔۔
’’ خیریت ہے۔۔ کچھ کھوئی کھوئی لگ رہی ہو تم ؟ ’’ بھائی اسے بہت غور سے دیکھتے ہوئے بولے تھے۔۔
’’ نہیں تو۔۔ میں نے کہا کھونا ہے بلکل ٹھیک ہوں میں ’’ اس نے خود کو نارمل ظاہر کیا تھا۔۔
’’ لگ تو نہیں رہا۔۔ تم ضرور کسی گہری سوچ میں ہو۔۔ بتاو کیا بات ہے ؟ ’’ وہ اسے بہت اچھے سے سمجھتے تھے۔۔ وہ کبھی بھی اپنی سوچیں اور اپنی پریشانیاں ان سے چھپا نہیں سکتی تھی۔۔
’’ وہ بھائی ایک بات کرنی تھی ’’ اسے یہی بہتر لگا تھا۔۔ وہ بھائی سے ہی کھل کر بات کر سکتی تھی۔۔ وہ بھائی ہونے کے علاوہ اسکے دوست بھی تو تھے۔۔
’’ ہاں بولو کیا بات ہے اریج ؟ ’’ بھائی اب پریشان ہورہے تھے۔۔
’’ وہ بھائی میری ایک دوست ہے ’’ اس نے بس اتنا کہا تھا اور بھائی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔
’’ ڈونٹ ٹیل میں ۔۔۔ تم میری دوسری شادی کروانا چاہتی ہو ’’ وہ اب اسکا موڈ ٹھیک کرنے کو بولے تھے۔۔
’’ بھائی ’’ اس نے انہیں آنکھیں دکھائی تھیں۔۔
’’ اچھا بابا مزاق کر رہا تھا۔۔ بولو کیا ہوا تمہاری دوست کو ؟ ’’
’’ اسے کچھ نہیں ہوا وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔ وہ اصل میں وہ ہمارے گھر آنا چاہتی ہے ’’ اس نے رک رک کر کہا تھا۔۔
’’ لو تو آجائے میں کونسا وہاں ہوں۔۔ جو اسے چھیڑونگا ’’ وہ اپنی عادت سے مجبور تھے۔۔
’’ جائیں۔۔ میں آپکو نہیں بتا رہی کچھ ’’ وہ اب ناراض ہوئی تھی۔۔ ایک تو اتنی مشکل سے ہمت کی تھی بولنے کی اور انہیں مزاق سوجھ رہا تھا۔۔
’’ اچھا اچھا سوری بابا۔۔ بولو اب میں سیریس ہوں ’’ وہ واقعی اب چہرے پر سنجیدگی لاکر بولے تھے۔۔
’’ وہ ۔۔ وہ اپنے بھائی کے لئے آنا چاہتی ہے ’’ اس نے بہت تیزی سے کہہ کر موبائیل کا رخ اپنے چہرے سے ہٹا دیا تھا۔۔
’’ کیا ۔۔۔؟؟؟ ’’ دوسری طرف بھائی کو ایک شاندار جھٹکا لگا تھا۔۔
’’ یہ میری بہن کیا کہہ رہی ہے ؟؟ اسکا بھائی ؟؟؟؟ ’’ وہ تو مانو صدمے میں چلے گئے تھے اور اریج منہ چھپائے بیٹھی تھی۔
’’ تم نے دیکھا ہے اسے ؟ ’’ وہ اب سنجیدہ ہوئے تھے ۔۔
’’ جی ’’ اس نے بس اتنا ہی کہا تھا۔۔
’’ کیمرہ اپنے چہرے کی طرف کرو ’’ اس نے فوراً بات مانی تھی۔۔
’’ کیسا ہے وہ ؟ ’’ وہ اس کے چہرے کے تعصورات غور سے دیکھ رہے تھے۔۔
’’ ٹھیک ہے ’’ اس نے یہی کہنا مناسب سمجھا تھا۔۔
’’ صرف ٹھیک ؟ ’’ انہوں نے ٹھیک پر زور دیا تھا۔۔
’’ اچھے ہیں ’’
’’ کتنے اچھے؟ ’’ بھائی صاحب دوبارہ پٹھری سے اترے تھے۔۔
’’ بھائی ’’ اس نے پھر سے گھورا تھا۔۔
’’ ارے کنفرم کر رہا تھا۔۔ اچھا یہ بتاو کرتے کیا ہیں وہ ؟ ’’ انہوں نے وہ پر زور دیا تھا۔۔
’’ ڈاکٹر ہیں ’’ اس نے کہا تھا اور بھائی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔
’’ مجھے منظور ہے ’’ اریج نے حیران ہوکر انہیں دیکھا تھا ۔۔
’’ جی ؟ ’’ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا ۔۔
’’ جی ہاں۔۔ میں ماما پاپا سے بات کرلونگا ۔۔ تمہاری خوشی سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں بہنہ ’’ انہوں نے اسے پیار سے دیکھتے کہا تھا۔۔۔ وہ اسے دیکھ کر ہی جان گئے تھے کہ اسے وہ پسند تھا۔۔۔
’’ بھائی آپ بہت اچھے ہیں ’’ اس نے خوشی سے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں ہاں لگا لو مکھن ’’ وہ اب دوبارہ شرارت پر اترے تھے۔۔
’’ آپ مکھن ہی کے قابل ہیں ’’ اس بار اس نے بھی جواب دیا تھا۔۔
’’ لو جی۔۔ اب تو ہم آپکو کسی کے قابل بھی نہیں لگے گیں ’’ انہوں نے طنز کیا تھا۔۔
’’ اچھا میں سورہی ہوں بائے ’’ اس نے اب بات ختم کرنی تھی۔۔ ورنہ بھائی نے مزید طنز کرنے تھے۔۔
’’ واہ کیا بات ہے۔۔ کام ختم تو اب بائے ؟ ’’ وہ اسکی مطلب پرستی پر حیران تھے۔۔
’’ ہاں جی۔۔ بائے ’’ اس نے کہہ کر کال کٹ کی تھی اور اب اسنے سونا تھا۔۔ ویسے بھی مشکل مرحلہ آسانی سے حل ہوگیا تھا۔۔نیند تو سکون کی آنی تھی ۔۔
اس نے گاڑی احتشام کے گھر میں پارک کی تھی اور اب وہ باہر نکلی کہ مالی اسے دیکھتے ہی اسکی طرف آیا تھا۔۔
’’ سلام بی بی۔۔ کیسی ہیں آپ ؟ اس بار بہت عرصے بعد چکر لگایا ’’ مالی بابا نے اسے دیکھتے ہی پوچھا تھا۔۔ وہ یہاں بہت عرصے سے کام کر رہے تھے۔۔ اس لئے ہر فرد سے واقف تھے۔۔ اور الہام تو اسی گھر کا ایک فرد تھی۔۔
’’ بس چچا ۔۔ آپکو تو معلوم ہے آپکی یہ بیٹی ڈاکٹری کے چکر میں بہت مصروف ہوکر رہ گئ ہے۔۔ ورنہ یہاں آنا تو میں بلکل نہیں بھولتی ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
’’ اللہ آپکو کامیاب کرے بیٹا ’’ مالی چچا نے اسے وعا دی تھی۔۔
’’اچھا پھوپھو گھر پر ہیں نہ ؟ ’’ اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ جی وہ اندر ہیں آپ جائیں ’’ وہ اب آگے بڑھی تھی اور گھر کے اندر ہی اسے پھوپھو کے کمرے سے آتی ملازمہ نظر آئی تھی۔۔ اس نے انہیں بلانا ضروری نہیں سمجھا تو خود ہی اوپر جانے لگی۔۔
وہ اس وقت نماز سے فارغ ہوکر اٹھی تھیں کہ کمرے کا دروازہ کسی نے ناک کیا تھا۔۔
’’ راحیلہ ۔۔ میں چائے نیچے ہی پیونگی تم جاؤ ۔۔ آتی ہو میں ’’ وہ سمجھیں ملازمہ چائے لے کر آئی ہے۔۔
’’ جی بیگم ساحبہ۔۔ میں بھی آپ کے ساتھ ہی پیونگی ’’ الہام نے ہلکا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ ارے الہام ! تم کب آئی ؟ ’’ وہ اسے دیکھتے ہی اسکی طرف بڑھی تھیں اور اسے سینے سے لگایا تھا۔۔
‘’ جب آپ اکیلے اکیلے چائے ہضم کرنے کی سازش کر رہی تھیں ’’ اس نے جیسے بہت بڑی سازش پکڑی تھی۔۔
’’ اور تم پہنچ گئ۔۔ میری چائے پر حملہ کرنے ’’ انہوں نے اسکے سر پر چھپت لگا کر کہا تھا۔۔
’’ بلکل۔۔ میرے بناآپکو مزا بھی کہاں آنا تھا ’’ اس نے اپنی شرٹ کا کارلر ہلا کر فخریہ انداز میں کہا تھا۔۔
’’ اچھا آؤ۔۔ چائے پیتے ہیں ’’ اب وہ اسے لے کر نیچے لاونچ میں جارہی تھیں۔۔
’’ راحیلہ چائے کے ساتھ کباب بھی لانا میری بیٹی آئی ہے ’’ انہوں نے بیٹھتے ہوئے ملازمہ کو اپڈیٹ دی تھی۔۔
’’ اور کچھ میٹھا بھی ’’ اس نے بھی آواز اونچی کر کے ملازمہ سے کہا تھا۔۔
’’ میٹھا تو تم کھاتی نہیں ہو۔۔ پھر آج میٹھا کیوں ؟ ’’ انہوں نے پوچھا تھا۔۔
’’ اپنے لئے نہیں۔۔ آپکے لئے منگوایا ہے’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
’’ خیریت ہے ؟ آج اچانک ڈاکٹرنی کو میری یاد آئی اور پھر میٹھا بھی کھلایا جارہا ہے ’’ انہیں اب کچھ تجسس ہوا تھا۔۔ کیونکہ الہام کبھی بھی بنا کسی وجہ کے نہیں آتی تھی۔۔۔ اسکی پڑھائی ہی اتنی مشکل ہوتی تھی کہ وہ کہیں نہیں جاتی تھی۔۔ جب تک کہ اسے کوئی کام نہ ہو اور ویسے بھی احتشام سے اس کی ملاقات روز ہوجاتی تھی۔۔
’’ بس آپکے لئے ایک زبردست خبر لائی ہوں۔۔ مگر میٹھے کے ساتھ بتاونگی ’’ اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بہت آرام سے کہا تھا۔۔
اور اسی وقت ملازمہ چائے اور دیگر اشیائ لے کر لاونچ میں آئی اور میز میں رکھ رہی تھی۔۔ الہام نے فوراً جھک کر مٹھائی کی پلیٹ سے ایک مٹھائی اٹھا کر پھوپھو کے چہرے کے قریب کی تھی۔۔
’’ پہلے وجہ تو بتاؤ ’’ پھوپھو نے چہرہ پیچھے کرتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ مبارک ہو ۔۔ آپکو آپکی ہونے والی بہو مل گئ ہے ’’ اس نے کہا تھا اور مٹھائی انکے منہ میں ڈال دی تھی اور وہ جو کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر مٹھائی ختم ہونے سے پہلے کہہ نہ سکی تھیں۔۔
’’ تم سچ کہہ رہی ہو ؟ ’’ انہوں نے بے یقینی سے الہام کا ہاتھ تھام کر پوچھا تھا۔۔
’’ بلکل سچ کہہ رہی ہوں۔۔ بس آپ تیاری کریں ۔۔ ہم کل یا پرسوں وہاں جارہے ہیں ’’ اس نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر کہا تھا۔۔
’’ تم نے دیکھا ہے اسے ؟ کون ہے ؟ کیسی ہے ؟ کیا کرتی ہے ؟ ’’ پھوپھو اتنی ایکسائیٹڈ تھیں کہ ایک ساتھ اتنے سوال کر بیٹھیں۔۔
’’ بتاتی ہوں آپکو۔۔ پہلے مجھے یہ کباب اور چائے تو کھا پی لینے دیں ’’ اسنے اب کباب اور چائے پر ہاتھ صاف کیا تھا اور پھوپھو اس صفائی کے ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔۔ یہ الہام خوشی میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کھاتی تھی ۔۔
’’ الہام اب بتاؤ نا کون ہے وہ ؟ ’’ اس نے چائے کا آخری گھونٹ لیا ہی تھا جب وہ فوراً بولی تھیں۔۔
’’ پھوپھو آپ بھی بہت بے صبری ہیں ’’
‘’ اچھا سنیں۔۔ لڑکی بہت اچھی ہے۔۔ اریج نام ہے اسکا اور خوبصورت بھی ہے ۔۔ فیملی بھی بہت اچھی ہے۔۔ ویل سیٹیلڈ ہے ۔۔ ایک بھائی باہر ہے اور ایک وہ خود ہے اور آپکی اس بیٹی کی بہت اچھی دوست ہے۔۔ جسے آپکے بیٹے نے صرف ایک ملاقات میں پھنسایا ہے ’’ اس نے روانی سے ساری بات کہی تھی ۔۔
’’ میرا بیٹا بہت شریف ہیں۔۔ وہ کسی کو پھنسا نہیں سکتا ’’ آخری بات پھوپھو کے دل کو لگ گئ تھی۔۔
’’ جی جی۔۔ پھر میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ اریج کی ایک جھلک پر ہی پھسل گئے ’’ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ انسان بن جاؤ۔۔ اچھا یہ بتاؤ جانا کب ہے ؟ ’’
’’ بس کل یا پرسوں۔۔ میں تو آج ہی لے جاتی پر ان لوگوں سے اجازت بھی تو لینی ہے نا ’’
’’ بس ٹھیک ہے۔۔ پھر میں تو شادی ایک مہینے کے اندر اندر کرونگی۔۔ بتا دینا انہیں ’’ انہوں نے تو جیسے صبر ہی نہیں کرنا تھا۔۔
’’ آپ فکر نا کریں۔۔ میرے بھی یہی ارادے ہیں۔۔ بس آپ تیار رہیے گا۔۔ میں آونگی لینے آپکو ’’ اس نے اب اپنا بیگ اٹھایا تھا۔۔
’’ یہ تم کہا جارہی ہو ؟ ’’ اسے جانے کے لئے کھڑا ہوتا دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ گھر جاؤنگی۔۔ ریسٹ کرونگی کچھ دیر۔۔ یونیورسٹی سے فوراً یہیں آگئ تھی ’’
’’ اچھا ٹھیک ہے۔۔ مگر شادی کے دنوں میں تم نے یہی رہنا ہے میرے ساتھ ’’ انہوں نے اسے اجازت دیتےہوئے کہا تھا۔۔
’’ بلکل۔۔ میرے اکلوتے بھائی کی شادی ہے۔۔ بہت کچھ کرنا ہے میں نے تو ’’ وہ بھی ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔۔
’’ چلو پھر ٹھیک ہے ’’
’’ اوک پھوپھو ۔۔ اللہ حافظ ’’ وہ ان سے گلے ملی تھی۔۔
’’ اللہ حافظ ’’ جواب سن کر وہ وہاں سے باہر نکلی تھی اور رابعہ پھوپھو اب جانے کی تیاریوں کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔۔ انکے اکلوتے بیٹے کی شادی میں نہ تو وہ کوئی کمی کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی دیر۔۔۔
وہ آئی سی او سے باہر نکلا اور مریض کے گھر والوں کو مریض کی حالت بتا رہا تھا۔۔ جب ڈاکٹر پارسا اسے سامنے اپنے انتظار میں کھڑی نظر آئی تھی۔۔ وہ مریض کے گھر والوں سے فارغ ہوکر انکی طرف بڑھا تھا۔۔
’’ کیا ہورہا ہے ؟ ’’ اس نے انکے پاس آکر کہا تھا۔۔
’’ آپکا انتظار ’’ مسکرا کر کہا تھا۔۔
’’ اور اس انتظار کی وجہ؟ ’’ وہ اب اپنے آفس کے اندر آیا تھا اور ڈاکٹر پارسا بھی اس کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی۔
’’ مجھے بھوک لگ رہی تھی اور تمہیں معلوم ہے مجھ سے اکیلے کھانا نہیں کھایا جاتا ’’
’’ اور آپنے سوچا کہ کھانے کے لئے مجھے لے چلو ساتھ’’ اس نے اب اپنا کوٹ اتار کر کرسی کے اوپر رکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’ بلکل یہی سوچا۔۔ اب چلو ’’ وہ اب آفس کا دروازہ کھول کر انہیں باہر جانے کا کہہ رہی تھی۔۔
’’ جو حکم آپکا ’’ وہ دونوں اب ہاسپٹل کی کینٹین کی طرف جارہے تھے۔۔ وہ دونوں اس ہسپتال میں ۳ سال سے ساتھ کام کر رہے تھے اور ان کے درمیاں اچھی خاصی دوستی بھی ہوچکی تھی۔۔ مگر دوستی کا یہ رشتہ ایک طرفہ تھا۔۔
’’ اور سناؤ۔۔ الہام کیسی ہے اور تمہاری ماما ؟ ’’ کھانے سرو ہونے کے بعد ڈاکٹر پارسا نے پوچھا تھا۔۔
’’ الہام اور ماما دونوں آج کل بہت اچھی ہیں ’’ اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا اور ساتھ ساتھ کھانے سے بھی انصاف ہورہا تھا۔
’’ اچھا۔۔ وہ کیوں ؟ ’’ چاول کی پلیٹ پر چمچ چلاتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
’’ میں شادی کے لئے مان جو گیا ہوں۔۔ بس اسی خوشی میں مست ہیں دوںوں ’’ اس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا تھا اور پلیٹ پر چلتا ڈاکٹر پارسا کے ہاتھ رک گئے تھے۔۔
’’ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔ پھر کوئی لڑکی بھی ڈونڈھی کیا ؟ ’’ ناجانے کیوں یہ بات پوچھتے ہوئے انکا دل عجیب سا خوف محسوس کر رہا تھا۔۔ جانے دل کو اتنے خوف کیوں ہوتے ہیں ؟؟؟
’’ صرف ڈھونڈی ہی نہیں پسند بھی کر لی ہے اور جلد شادی بھی ہوجانی اور تم نے ضرور آنا ہے اوک ؟ ’’ وہ بہت خوش تھا۔ ۔۔ اور وہ اتنی ہی حیران تھی۔۔ اتنی ہی تکلیف میں تھی۔۔ اتنے ہی دکھ میں تھی۔۔ دل کا خوف سچ ہوا تھا ۔۔ اور دل کا خوف جب سچ ہوجائےتو روح بھی کانپ جاتی ہے ۔۔ جان بھی نکل جاتی ہے ۔۔ اسے لگا روح کانپ رہی ہے ۔۔ اسے لگا۔۔ جان نکل رہی ہے ۔۔۔
’’ بہت مبارک ہو تمہیں ’’ اسے لگا کہ جیسے اسکی آواز ایک اندھیرے کنویں سے آرہی تھی۔۔ جہاں ہر طرف اب صرف سںاٹا ہی سناٹا تھا۔۔ جہاں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔۔۔ جہاں کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا ۔۔ یہ سامنے بیٹھا شخص بھی تو نہیں دیکھ پارہا تھا ۔۔۔
‘’ شادی میں آکر مبارک باد دینا۔۔ ایسے نہیں ’’ اس نے کہا تھا اور وہ اداس سی مسکرائی تھی۔۔ اداسی میں مسکرا دینا بھی ایک فن ہوتا ہے ۔۔۔ اور یہ فن ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا ۔۔۔
سامنے والا اسکی آنکھوں کی نمی اور اسکی اداسی نہیں دیکھ پارہا تھا ۔۔۔ وہ تو اپنی خوشی میں ہی اتنا گم تھا کہ کسی کا دل ٹوٹنے کی آواز تک اسے نہیں آئی تھی۔۔
’’ ہاں۔۔۔ دل تو ہوتا ہی شاید ٹوٹنے کے لئے ہے ۔۔ اور اسکے ٹوٹنے کی آواز بھی بس وہی سن سکتے ہیں۔۔ جن کا دل ٹوٹا ہو۔۔ ورنہ آس پاس والوں کو کیا خبر کہ کب ؟ کہاں ؟ اور کس وقت ؟ کسی کا دل ٹوٹ جاتا ہے ؟ اور اس کا ذمہ دار کون ہوتا ہے ؟ شاید وہی۔۔ جسکا دل ٹوٹا ہو؟؟ ’’
’’ یہ قصور بھی تو اس دل کا ہے۔۔ جو دوسروں سے خود کو اتنا جوڑ لیتا ہے کہ الگ ہونے کے خیال سے کانپ جاتا ہے۔ اور دور ہوجانے پر ۔۔۔ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔۔ یہ دل ! ’’
اور اسکا دل بھی ٹوٹ گیا تھا۔۔ اب کچھ نہیں بچا تھا اسکے پاس۔۔ اب وہ خالی ہوچکی تھی ۔۔۔ اب وہ خاموش ہوگئ تھی۔۔
part 2
وہ اس وقت یونیورسٹی سے لوٹی تھی جب ماما اسکا کھانا لگا رہی تھیں۔۔۔
’’ جلدی آجاؤ کھانا ساتھ کھائیں گے۔۔ آج تمہارا انتظار کر رہی تھی میں ’’ ماما نے اسے دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ اوک میں بس ابھی آئی ’’ وہ فوراً اوپر اپنے روم میں آئی تھی اور جلدی سے فریش ہو کر نیچے آئی جہاں ماما میز کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھیں اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔
’’ آپ جانتی ہیں مجھے دیر ہوجاتی ہے۔۔ آپ کھا لیا کریں کھانا ’’ اس نے ماما کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ بس آج دل چاہ رہا تھا کہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھانا کھاؤ ’’ انہوں نے اب اسکی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیا بات ہے بڑا پیار آرہا ہے آج ’’ اس نے شرارت سے کہا تھا۔۔
’’ ہاں آج احساس ہورہا ہے کہ میری بیٹی بہت بڑی ہوگئ ہے۔۔ اسلئے پیار بھی بہت آرہا ہے ’’ انہوں نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ اور آج یہ احساس کیسے ہوا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ آج ذاکر کی کال آئی تھی ’’ انہوں نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے بات شروع کی تھی۔۔ ماما کی بات پر وہ تھوڑی دیر کے لئے چپ ہوگئ تھی۔۔ اسے سمجھ آگئ تھی کہ اب وہ کیا کہنے والی ہیں۔۔
’’ اچھا کیسے ہیں بھائی ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔ ماما کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔۔
’’ بہت خوش تھا کہہ رہا تھا کہ آج ہی منگنی کر دیں اریج کی ’’ انہوں نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ انداز اسے چھیڑنے والا تھا۔۔
’’ تو آپنے کیا سوچا ؟ ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ اسکی ماما کی یہی تو خاصیت تھی کہ وہ ماں کم اور دوست بن کر زیادہ بات کرتی تھیں۔۔
’’ میں سوچ رہی ہوں کہ شام کو چائے تم بناؤگی یا میں ؟ ’’ ماما نے پلیٹ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ آپ سچ کہہ رہی ہیں ؟ ’’ اس نے خوشگوار حیرت کے ساتھ پوچھا تھا۔۔
’’ بلکل سچ ’’ ماما نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ وہ اٹھی تھی اور بازوں کے گھیرے میں انہیں لے لیا تھا۔۔
’’ او ماما۔۔ آپ بہت اچھی ہیں میں۔۔ ابھی الہام کو بتاتی ہوں ’’ اس نے اب موبائیل اٹھایا تھا۔۔
’’ انہیں کہنا کہ لڑکے کو ساتھ لے کر آئیں ’’ ماما کی بات پر موبوئیل پر چلتی اریج کی انگلیاں رک گئ تھیں۔۔
’’ کیوں ؟ ’’ وہ اب کنفیوز ہوئی تھی۔۔ اسکا سامنا کیسے کرے گی ؟
’’ تمہارے پاپا اور بھائی دونوں اس سے بات کرنا چاہتے ہیں ’’
’’ لیکن ماما۔۔ وہ تو اگلی بار بھی ہوسکتی ہے ۔۔ ابھی تو اچھا نہیں لگے گا اس طرح ’’ اسے واقعی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ وہ ابھی احتشام کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔۔
’’ تمہاری بات ٹھیک ہے۔۔ پر تمہارے پاپا بزنس ٹرپ پر ۱۵ دن کے لئے جارہے ہیں اس لئے وہ آج ہی مل سکتے ہیں ’’ ماما نے اسے وجہ بتا کر لاجواب کر دیا تھا۔۔۔
’’ اچھا ’’ اس نے اب موبائیل دوبارہ اٹھایا تھا اور ایک مسیج لکھ کر الہام کے نمبر پر بھیج دیا تھا۔۔۔ مگر اب وہ بہت پریشان نظر آرہی تھی کیسے کریگی احتشام کا سامنا ؟
’’ پریشان مت ہو ہمارے ہوتے ہوئے وہ تمہیں چھیڑ نہیں سکتا ’’ ماما نے اسکی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ آپ بھی نا۔۔ چلیں کھانا کھائیں ’’ اب وہ اپنی حالت چھپانے کے لئے کھانے کی طرف متوجہ ہوگئ تھی اور ماما اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔۔۔
اریج کا مسیج ملتے ہی اس نے سب سے پہلے احتشام کو کال کر کے بتایا تھا اور اب وہ شام میں جانے کے لئے ملازمہ کو کپڑے استری کرنے کے لئے دے رہی تھی۔۔۔ جب اربش نے اس کے پاس آکر پوچھا تھا۔۔
’’ کہیں جانے کی تیاری ہورہی ہے؟ ’’ اسکے نئے کپڑے دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ ہاں ’’ مختصر جواب تھا۔۔
’’ کہا ؟ ’’ جاننا بھی ضروری تھا۔۔
’’ احتشام بھائی کے سسرال ’’ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔۔ اربش کے چہرے پر حیرت کے تعصورات آئے تھے۔۔
’’ سسرال ؟ یہ کب ہوا ؟ ’’ وہ واقعی حیران تھی۔۔ اتنی جلدی ؟؟
’’ یہ تو کب کا ہوچکا ہے۔۔ تمہیں نہیں پتہ انہوں نے لڑکی پسند کر لی ہے ’’
’’ ہاں مگر تمہیں بھی پسند آگئ وہ ؟ ’’ اس نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔۔
’’ کیوں نہیں پسند آئے گی ؟ میری بیسٹ فرینٹ ہے وہ ’’ الہام نے ایک فخر کے ساتھ کہا تھا اور اربش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔ تو یہ کام بھی اسی کا تھا ۔۔۔۔
’’ ویل ڈن۔۔ تو یہ چاہتی تھیں آپ ’’ اس کی بات کا مطلب الہام کی سمجھ میں آیا تو تھا۔۔ مگر اب وہ اس سے مزید بات کر کے اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی،۔۔۔
’’ جی بلکل’’ مختصر جواب دے کر وہ اب وہاں سے نکل کر سیدھا ماما کے کمرے میں آئی تھی۔۔ جہاں ماما بیڈ پر آرام کر رہی تھیں۔۔
’’ ماما آپکو ایک بات بتانی تھی ’’ اس نے بات کا آغاز کیا تھا۔۔
’’ ہاں بولو ’’ وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی تھیں۔۔
’’ آج ہم احتشام بھائی کے سسرال جارہے ہیں ’’ اس کے کہنے کی دیر تھی اور عائشہ بیگم فوراً سیدھی ہوئی تھیں۔۔
’’ سسرال ؟ کیوں ؟ ’’
’’ رشتہ پکا کرنے اور شاید شادی کی ڈیٹ بھی لے لیں۔۔۔ پھوپھو کو بہت جلدی ہے ’’ اس نے تصیل بتائی تھی اور عائشہ بیگم کے چہرے پر تاریک سائے آئے تھے۔۔ جنہیں وہ دیکھ نہیں سکی تھی۔۔۔
’’ اچھا ٹھیک ہے۔۔ چلی جاؤ ’’ انہوں نے ہلکی آواز میں اجازت دی تھی۔۔
’’ تھینک یو ’’ وہ کہہ کر کمرے سے جاچکی تھی اور ماما اب غصے میں ابل رہی تھیں۔۔ احتشام کی شادی انکی بیٹی کے بجائے کسی اور کے ساتھ ہو رہی تھی۔۔۔ یہ بات بھلا کیسے انہیں خوش کر سکتی تھی ؟ دروازہ کھول کر اربش اندر آئی تھی۔
’’ آپ نے سنا کیا ہورہا ہے ؟ ’’ وہ غصے میں بولی تھی۔۔
’’ ہاں سن چکی ہوں ’’ عائشہ بیگم نے جیسے تھک کر ٹیک لگایا تھا۔۔
’’ اور آپ نے کچھ نہیں کہا ؟ ’’
’’ کیا کہہ سکتی ہوں میں ؟ ’’ انہوں نے اسے غصے سے لال ہوتے دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ آپ کی اسی خاموشی کی وجہ سے آج اسکی شادی کہیں اور ہورہی ہے ’’ اس نے سارا الزام ان پر ڈالا تھا۔۔
’’ تم اگر الہام سے بنا کر رکھتی۔۔ تو آج تمہاری شادی ہورہی ہوتی ’’ ماما نے اسے اسکی غلطی دکھائی تھی۔۔ کتنا سمجھایا تھا اسے انہوں نے ۔۔۔
’’ میں اسے اس قابل ہی نہیں سمجھتی ’’ اس کے لہجے میں نفرت کی آنچ وہ محسوس کر چکی تھیں مگر اسے کچھ سمجھانا بیکار تھا۔۔
’’ تو پھر اب جاکر شادی میں شرکت کی تیاری کرو ’’ انہوں نے کہہ کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
’’ تیاری تو میں کر چکی ہوں۔۔ آپ بس انتظار کریں۔۔۔ یہ شادی الہام کی بربادی بنا دونگی میں۔۔ ’’ وہ کہہ کر کمرے سے جاچکی تھی۔۔ اور عائشہ بیگم نے افسوس سے سر ہلایا تھا۔۔
وہ جانتئ تھیں اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا ۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں ۔۔ کہ اب وہ ہونے والا تھا ۔۔ جو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔
وہ لوگ اس وقت اریج کے گھر کے لاونچ میں بیٹھے تھے۔۔ اریج کے پاپا احتشام سے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔ ساتھ ہی لیپ ٹاپ رکھا تھا۔۔ جہاں ذاکر بھائی بھی آن لائن اس سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔ وہیں دوسری طرف رابعہ اور اریج کی ماما آپس میں باتیں کر رہی تھیں اور اسی ٹائم چائے اور باقی سامان کے ساتھ اریج لاونچ میں داخل ہوئی تھی۔۔ بیک وقت سب کی نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں۔۔ الہام بھی اس کے ساتھ چائے کا سامان رکھ رہی تھی اور رابعہ پھوپھو نے اریج کو اپنے پاس بٹھا دیا ۔۔ الہام اب احتشام کے صوفے کے بازوں میں جاکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔
’’ دیکھ لیں۔۔ شرمائیں مت ’’ اس نے احتشام کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔
’’ پوری عمر پڑی ہے۔۔ آرام سے دیکھتا رہونگا ’’ اس نے کونسا شرم کرنی تھی۔۔
’’ اوہو۔۔ کیا بات ہے ’’ اس نےاحتشام کو کہنی ماری تھی۔۔
’’ ماشااللہ ۔۔ بہت پیاری بیٹی ہے آپکی ’’ رابعہ پھوپھو نے کہا تھا اور احتشام نے ایک نظر سامنے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا تھا۔ جو سر جھکائی بیٹھی تھی۔۔ خیر پیاری تو وہ لگ ہی رہی تھی ۔۔
’’ کہا تھا نا ۔۔ تم سے پیاری لڑکیاں بھی ہیں بہت ’’ اس نے الہام کو چھیڑا تھا۔۔
’’ پھوپھو نے پیاری کہا ہے ۔۔ مجھ سے زیادہ پیاری نہیں ’’ جواب بھی تو ایسا ہی آنا تھا۔۔
’’ آپکو کیسا لگا احتشام ؟ ’’ رابعہ پھوپھو کے سوال پر دونوں اس طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔
’’ بہت اچھا ہے ۔۔ آپکا بیٹا بھی ’’ اریج کے پاپا نے کہا تھا۔۔
’’ دیکھا۔۔ تمہارا بھائی سب کو امپریس کر لیتا ہے ’’ ایک اور سرگوشی ہوئی تھی۔۔
’’ بھائی جو میرے ہیں۔۔ امپریس تو کرنا ہی تھا ’’ یہ کریڈٹ بھی الہام میڈم لے چکی تھیں۔۔
’’ خوش فہمی ہے ’’
’’ آپکی ’’ وہ مسکرائی تھی۔۔
’’ لیکن یہ تو بہت جلدی ہے ’’ اریج کی ماما کی آواز نے ان دونوں کو دوبارہ انکی طرف متوجہ کیا تھا۔۔
’’ مجھے تو یہ بھی دیر لگ رہی ہے۔۔ میں اب اور دیر نہیں کرسکتی ’’ رابعہ پھوپھو نے کہا تھا۔۔
’’ لیکن اتنی جلدی تیاریاں کیسے ہونگی ؟ ’’ اریج کے پاپا نے کہا تھا۔۔
’’ بھائی صاحب۔۔ آپ پریشان مت ہوں۔۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔۔ ہمیں جہیز نہیں چاہئے اور شادی تو ویسے بھی ہال میں ہوگی اور رہی بات شاپنگ کی تو وہ دو ہفتوں میں آرام سے ہوجانی ہے ’’ انہوں نے تو جیسے سارا مسئلہ ہی حل کر دیا تھا۔۔۔
’’ اچھا آپ ہمیں کچھ سوچنے کا ٹائم دیں ’’ اریج کی ماما نے کہا تھا۔۔
’’ آنٹی پلیز۔۔ مان جائیں۔۔ میں ہونا ۔۔ میں کرونگی ان دونوں سے ساتھ شاپنگ اور آپ دیکھئے گا دو نہیں ایک ہفتے میں ہوجائے گی۔۔ دیکھیں پھوپھو سارا دن اکیلی ہوتی ہیں اور پھر اتنی مشکلوں سے تو انہیں کوئی لڑکی پسند آئی ہے۔۔ پلیز اب اور انتظار نہیں کر سکتے ہم ’’ الہام نے رابعہ کی ماما کے سامنے زمین پر بیٹھ کر ریکویسٹ کی تھی۔۔ انہوں نے سامنے بیٹھے اریج کے پاپا اور اسکے بھائی کو دیکھا تھا۔۔ جنہوں نے رضامندی کا اشارہ دیا تھا۔۔۔
’’ ٹھیک ہے۔۔ جیسا آپ کہیں ’’
’’ یاہوو’’ الہام نے خوشی سے نعرہ لگایا تھا اور سب مسکرا دیئے تھے۔۔
اور مسکراہٹوں کی عمر بہت چھوٹی ہوا کرتی ہے ۔۔
وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی کی کینٹین میں بیٹھے تھے اور اسکی نظر بار بار سامنے رکھی کرسی اور میز پر بھٹک رہی تھی۔۔
’’ نہیں آئی وہ آج۔۔۔ اب کیوں بار بار وہاں دیکھ رہے ہو ؟ ’’ معاز کافی دیر سے اسے نوٹ کر رہا تھا۔۔ آخر بول ہی پڑا۔۔
’’ کون ؟ ’’ وہ فوراً ہی انجان بن گیا تھا۔۔ ہائے رے معصومیت ۔۔۔
’’ وہی۔۔ جس کی غیر موجودگی تمہیں اتنی بے چین کر رہی ہے ’’ وہ اسے بچپن سے جانتا تھا۔۔ وہ خود کو جتنا بھی پوز کر لے۔۔ مگر معاذ اسکے اندر کا حال جان لیتا تھا۔۔۔
’’ بکواس مت کرو۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے ’’ وہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔۔
’’ چلو اگر نہیں بھی ہے تو بھی ایک مشورہ دونگا۔۔ مانوگے ؟ ’’ اس نے اب دوسرا طریقہ اپنایا تھا۔۔
’’ بولو ‘’
’’ کال کر کے پوچھ لو ۔۔ کہیں ایسا نا ہو کہ اسے کال کا انتظار ہو یا اسے تمہاری ضرورت ہو اور تمہیں دیر ہوجائے۔۔ اور ویسے بھی تمہیں دیر کرنا پسند نہیں ہے نا ؟ ’’ اس کا مشورہ ٹھیک تھا ۔۔۔ عرش جانتا تھا کہ وہ سمجھ چکا تھا اور اب وہ انکار نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ اسکی بات صحیح بھی ہوسکتی تھی ۔۔۔
’’ اس نے دوبارہ کال کرنا تو دور۔۔ ایک مسیج بھی نہیں کیا ’’ اس کی آواز میں ناراضگی تھی۔۔ معاذ مسکرایا تھا۔۔
’’ ہو سکتا ہے وہ تمہاری کال کا انتظار کر رہی ہو ؟ ’’
’’ وہ کیوں کرے گی ؟ ’’ اسے یقین نہیں تھا۔۔
’’ تم کیوں کر رہے ہو ؟ ’’
’’ میری بات اور میرا معاملہ الگ ہے ’’ اس نے خود کو بری کیا تھا۔۔
’’ اسکی بات اور اسکا معاملہ بھی الگ ہوسکتا ہے ’’
’’ تم میرے دوست ہو یا اسکے ’’ اسے اب اسکی ناانصافی پر غصہ آرہا تھا۔۔
’’ دوست ہوں۔۔ اس لئے کہہ رہا ہوں۔۔ نا ہوتا تو تمہیں مزید بھڑکاتا ’’ جواب بھی ٹھیک تھا۔۔
’’ٹھیک ہے۔۔ کرلونگا کال ’’ وہ اسکی بات سمجھ چکا تھا۔۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اگر اس نے نہیں کی تو وہ خود بھی تو کر سکتا تھا بات،،، ہوسکتا ہے وہ اسکی کال کا ویٹ کر رہی ہو ؟
یونیورسٹی سے نکلتے ہی اس نے اسی جگہ کا رخ کیا تھا۔۔ جہاں وہ پہلی بار ملےتھے۔۔۔
ساحل سمندر پر اس وقت بہت کم لوگ موجود تھے۔۔ وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا اور اسی جگہ کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ تو موجود نہ تھی مگر اسکی آواز یہاں ہوسکتی تھی۔۔ اس نے موبائیل نکال کر کال ملائی تھی۔۔
اسکا موبائیل بجا تھا۔۔ وہ اس وقت شاپنگ سینٹر میں موجود تھی۔۔ اریج بھی اسی کے ساتھ تھی۔۔ شادی کے بہت سارے کام اور پھر شاپنگ بھی دوہفتوں میں مکمل کرنی تھی۔۔ اس لئے اس نے شادی ہوجانے تک یونیورسٹی سے آف لے لیا تھا۔۔ اور جہاں تک بات تھی پڑھائی کا ہرج ہونے کی۔۔ تو وہ جانتی تھی کہ ایک شخص ایسا ہے جو اسے سب سمجھا دے گا۔ اور اریج کا ہونے والا ہسبنڈ بھی ڈاکٹر تھا۔۔ اسے کیا ٹینشن ہونی تھی ؟ اس نے موبائیل نکال کر دیکھا تھا۔۔ اسکی کال تھی۔۔ وہ مسکرائی تھی۔۔ یہی تو چاہتی تھی وہ۔۔۔ کہ وہ اسے کال کرے۔۔ اس لئے تو اس نے دوبارہ رابطہ نہیں کیا تھا۔۔ اس نے دیکھا۔۔ ریج ایک جوڑا دیکھ رہی تھی۔۔
’’ تم دیکھو میں ذرا بات کر کے آتی ہوں ’’ اس نے اریج سے کہا تھا اور اریج نے سر ہلا کر اسے جانے کی اجازت دی تھی۔۔ اب وہ اس شاپ سے باہر آئی اور تھوڑا آگے جاکر کال ریسیو کی تھی۔۔
’’ ہیلو ’’ اس نے کہا تھا۔۔
’’ اسلام و علیکم ’’ اس نے سلام کیا تھا۔۔
’’ وعلیکم اسلام ، کیسے ہیں آپ ؟ ’’
’’ ٹھیک ہوں۔۔ آپ بتائیں ’’ اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ جیسے وہ کچھ پریشان ہو۔۔
’’ میں بھی ٹھیک ہوں۔۔ آپ کی آواز سے لگ رہا کہ آپ کچھ پریشان ہیں۔۔ سب ٹھیک ہے نا ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ چلیں۔۔ آپکو یہ احساس تو ہوا کہ کوئی پریشان ہے ’’ اس نے طنز کیا تھا۔۔
’’ آپکی آواز ہی احساس دلانے کے لئے کافی ہے ’’ اس نے کہا تھا۔۔ وہ اسکا طنز سمجھی نہیں تھی۔۔
’’ یعنی کہ آپکو احساس دلانے کے لئے آواز سنانی ہوگی اپنی ’’ عرش کے لئے یہ جیسے بہت مشکل کام تھا۔۔
’’ اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ’’ وہ مسکرائی تھی۔۔ اسکا موڈ اچھا تھا اور اس کے اچھے موڈ نے عرش کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھر گئ تھی۔۔
’’ تو پھر تو آپکو روز مجھے کال کر کے میری آواز سننی چایئے ’’ اس نے حل نکالا تھا۔۔
’’ وہ کیوں ؟ ’’
’’ تاکہ آپکو پتا لگ جائے کہ میں پریشان ہوں یا نہیں ’’
’’ پہلے یہ تو بتائیں کہ آپ پریشان کیوں ہیں ؟ ’’ اس نے اب اس سے وجہ پوچھی تھی۔۔
’’ آپ آج آئی نہیں۔۔ اس لئے ’’ اس نے کہا تھا اور اسکے جواب سے الہام کو ایک خوشگوار حیرانگی ہوئی تھی۔۔ کوئی اسکی کمی بھی محسوس کرتا ہے ؟؟
’’ میں تو دو ہفتوں تک نہیں آسکونگی ’’ اس نے بہت آرام سے کہا تھا۔۔۔ جانے کیوں اسے اچھا لگ رہا تھا ۔۔ عرش کو اپنے لئے پریشان دیکھ کر۔۔
’’ وہ کیوں ؟ سب ٹھیک ہے نا ؟ ’’ وہ واقعی پریشان ہوگیا تھا۔۔
’’ ارے پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے۔۔ ایکچولی احتشام بھائی کی شادی ہے ۔۔ تو بس اسی کی تیاری میں مصروف ہوں بہت ’’ اس نے وجہ بتائی تھی۔۔
’’ اوہ اچھا۔۔۔ تو پھر اتنے دن تک ہم مل نہیں سکیں گے’’ اسے افسوس ہورہا تھا۔۔ وہ تو ایک دن میں پریشان ہوگیا تھا۔۔ اب دو ہفتوں میں کیا ہوگا؟
’’ مل تو سکتے ہیں۔۔ شادی میں بلاؤنگی آپکو۔۔ آپ آئینگے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ ایک شرط پر آونگا ’’
’’ وہ کیا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’آپ خود آکر انوائیٹ کرینگی مجھے ’’ اس کی شرط سن کر وہ مسکرائی تھی۔۔ ملنے کا بہانہ نکال ہی لیا تھا ۔۔۔
’’ ضرور آؤنگی ’’ اس نے کہا تھا اور دوسری طرف اسکے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی تھی۔۔
’’ میں انتظار کرونگا ’’
’’ اللہ حافظ ’’ اس نے سامنے اریج کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ اللہ حافظ ’’ کال کٹ کی تھی اور اب نظر سامنے اس سمندر پر گئ تھی ۔۔۔ جہاں اب وہ خود کو اکیلا نہیں محسوس کر رہا تھا۔۔ اب کوئی اور بھی تھا۔۔ اس کے ساتھ۔۔ اب کوئی اور آواز بھی تھی اسکے آس پاس۔۔
انہوں نے آج کافی شاپنگ کی تھی اور اب وہ لنچ کرنے کے لئے بیٹھے تھے۔۔
’’ بہت تھک گئے آج تو ‘’ الہام نے شاپنگ بیگز ایک چئیر پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ ہاں یہ تو ہے۔۔ جلدی سے کچھ آرڈر کرو بھوک لگ رہی اب ’’ اس کے کہنے پر الہام نے ویٹر کو اشارہ کیا تھا اور اب وہ اسے مینو بتا رہی تھی کہ کوئی چلتے ہوئے ان کے پاس آیا تھا۔۔
’’ شاپنگ ہورہی ہے ؟ ’’ اربش ساتھ ہی ایک کرسی پر بیٹھ کر بولی تھی۔۔
’’ ہاں’’ الہام نے مختصر جواب دیا تھا۔۔ اسے اس کا آنا پسند نہیں آیا تھا۔۔اور اریج نے ان دونوں کے درمیان کچھ سرد سا محسوس کیا تھا۔۔
’’ یہ اریج ہے ؟ یقیناً احتشام کی ہونے والی مسز ’’ اربش نے اب اریج کی طرف دیکھ کر الہام سے پوچھا تھا۔۔
’’ ہاں ’’ ایک اور مختصر جواب تھا۔۔
’’ ہیلو۔۔ میں اربش ہوں ۔۔ الہام کی بہن ’’ اس نے ہاتھ اریج کی طرف بڑھا کر کہا تھا۔۔
’’ ہیلو ’’ اریج نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔۔ اسے حیرت بھی ہورہی تھی ۔۔ الہام نے کبھی اپنی بہن کا تو ذکر نہیں کیا تھا۔۔اور پھر وہ انکے گھر بھی نہیں آئی تھی ۔۔۔
’’ میں نے اسے کہا بھی تھا کہ ساتھ شاپنگ پر جائینگے مگر یہ مجھے لے کر ہی نہیں آئی ’’ اس نے اب اریج سے الہام کی شکایت کی تھی ۔۔
’’ تم آج کل پاپا کے ساتھ بزی نہیں ہوتی ؟ مجھے تو لگا وہاں بہت کام ہوتا ہوگا تمہیں۔۔ ’’ اریج کے کچھ کہنے سے پہلےہی الہام نے کہا تھا۔۔ اریج نے محسوس کیا تھا۔۔۔ الہام کا بدلہ ہوا انداز۔۔
’’ارے اب میں ایسی بھی مصروف نہیں ہوں کہ احتشام کی دلہن کی شاپنگ نہ کر سکوں اور پھر مجھے اپنی بھی تو کرنی ہے نا ’’
’’ کوئی بات نہیں۔۔ کل آپ بھی ہمارے ساتھ آجانا ’’ اب کی بار اریج نے کہا تھا اور الہام نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔۔ جسے وہ اگنور کرگئ تھی۔۔۔
’’ ضرور۔۔ اگر کسی کو برا نہ لگے تو ’’ اربش کا اشارہ کس طرف تھا۔۔ وہ سمجھ گئ تھی۔۔ مگر الہام نے اس کی بات اگنور کی تھی۔۔
’’ کسی کو بھی برا نہیں لگے گا۔۔ آخر ایک ہی تو فیملی ہیں آپ سب’’ اریج کی بات پر اربش کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی۔۔
’’ جی بلکل ایک ہی تو فیملی ہیں ہم ’’ اس نے کہا تھا اور ایک معنی خیز نگاہ الہام پر ڈالی تھی۔۔ جو اسے مسلسل اگنور کر رہی تھی۔۔
’’ چلیں ؟ ’’ الہام نے اریج سے کہا تھا۔۔
’’ ہاں۔۔ آپ بھی چلیں ساتھ ’’ اریج نے اب اخلاقیات نبھانے کے لئے اربش کو بھی کہا تھا۔۔ جس پر الہام کا موڈ اچھا خاصا خراب ہوا تھا۔۔
’’نہیں آپ دونوں جائیں۔۔ میں نے کچھ لینا ہے اور اب کل ملاقات ہوتی ہے آپ سے ’’ اربش کہہ کر آگے چلی گئ تھی۔۔ جبکہ الہام اس کی طرف مڑی تھا۔۔
’’ کیا ضرورت تھی اسے انوائیٹ کرنے کی ؟ ’’ اسے اریج پر بے تہاشہ غصہ آرہا تھا۔۔
’’ کیا ہوگیا الہام ؟ اتنی روڈ تو نہیں ہو تم ۔۔ آج کیا ہوگیا ؟ تمہاری بہن ہے وہ اور اپنے بھائی کی شادی کی شاپنگ میں شرکت اسکا بھی حق ہے ’’ اریج کو الہام کا رویہ اچھا نہیں لگا تھا۔۔ وہ کب سے ایسی ہوگئ تھی ؟
’’ وہ میری بہن ہے۔۔ تمہارا اس سے کوئی لنک نہیں اور شادی بھی صرف میرے بھائی کی ہے۔۔اسکے نہیں ’’ الہام کہہ کر آگے چلی تھی تھی اور اریج اس کی باتوں کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ جوکہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
