Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ay Raaz e Dil (Episode 09)Part 1,2

Ay Raaz e Dil by Ujala Naaz

سات سال بعد ۔۔

فرانس کا شہر پیرس ۔۔ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کئ ملکوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے ۔۔ اور اس شہر کی سب سے خاص چیز آئفل ٹاور ہے ۔۔ جو لوگوں کی نگاہوں اور دلچسپی کا مرکز بنا رہتا ہے ۔۔ مگر یہ

بھی ضروری نہیں کہ یہاں آنے والا ہر شخص اس کی کشش میں کھنچ کر یہاں آیا ہو ۔۔

اس رات بھی روز کی طرح یہ شہر اپنی تمام تر رونق اور خوبصورتی کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔۔ لوگ اپنے اپنے معمول اور کاموں کے لئے سڑکوں پر آجا رہے تھے۔۔ گاڑیاں بھی اپنی اپنی منزلوں کی جانب روا تھیں۔۔ ایسے میں ایک سڑک پر موجود ہسپتال کے تیسرے فلور میں، تین افراد آپریشن تھیٹر کے سامنے موجود تھے۔۔ ان تینوں کے چہروں پر پریشانی تھی۔۔ دو لیڈیز جوکہ وہی پر بینچ میں بیٹھی تھیں۔۔ اور دونوں ہی اپنی ڈریسنگ اور چہروں سے پیرس کی خاص شہری لگتی تھیں۔۔ جبکہ انکے سامنے دائیں بائیں چکر لگانے والا انسان اپنے خوبصورت نقوش اور قیمتی کپڑوں سے امیر ترین شخص معلوم ہورہا تھا۔۔ انکی پریشانی اور بےچینی سے صاف ظاہر تھا کہ آپریشن تھیٹر کے اندر موجود مریض انکا کوئی عزیز تھا۔۔ جسکے لئے وہ تینوں دعا کر رہے تھے۔۔ تینوں کی آنکھیں نم تھیں ۔۔

تھوڑی دیر گزری تھی کہ دروازے کے اوپر موجود لال بتی بجھ گئ تھی۔۔ جسے دیکھ کر تینوں دروازے کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔ دورازہ کھلا تھا اور اب ایک ڈاکٹر اور ایک نرس باہر آئی تھیں۔۔ نرس آگے بڑھ گئ تھی۔۔ جبکہ وہ تینوں اب ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔

’’ سینٹی کیسی ہے اب ڈاکٹر ؟ آپریشن ٹھیک رہا نہ ؟ ’’ انہیں میں سے ایک لیڈی نے انگریزی میں پوچھا تھا۔۔

’’ آپ فکر مت کریں۔۔ آپکی پیشنٹ بلکل ٹھیک ہیں۔۔ ہم تھوڑی دیر میں انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے۔۔ آپ مل لیجئے گا ’’ ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تھا۔۔

’’ تھینک یو ڈاکٹر ’’ انکے ساتھ موجود اس آدمی نے کہا تھا۔۔

’’ نو تھینکس۔۔ یہ میرا فرض تھا’’ وہ کہہ کر آگے بڑھ گئ تھیں۔۔۔

اب وہ ڈاکٹر سیدھا ہینڈ واش کرنے آئی تھیں ۔۔اپنے ہاتھوں سے گلوز اتارے اور ہینڈ واش کرنے کے بعد ایک نظر سامنے آئینے پر ڈالی تھی۔۔ بالوں پر سے کور پن اتاری جس سے سارے سیاہ بال انکے ماتھے اور کمر تک بکھر گئے تھے ۔۔ بالوں کو ٹھیک کرنے کے بعد اب وہ اپنے آفس کی طرف جانے لگی تھیں ۔۔ ابھی انہوں سے آفس کا دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ انہیں رکنا پڑا تھا ۔۔

’’ ڈاکٹر الہام ’’ کسی نے پکارا تھا اور وہ پلٹی تھی۔۔ سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر وہ مسکرائی تھی۔۔

’’ کیسا رہا آپکا آپریشن ؟ ’’ وہ اسکے پاس پہنچ کر پوچھ رہی تھیں۔۔

’’ ہمیشہ کی طرح ۔۔ پرفیکٹ ’’ نزاکت سے اپنے کارلر کو تھوڑا اوپر اٹھا کر اس نے فخریہ انداز میں کہا تھا۔۔

’’ گریٹ۔۔ پھر اب چلیں ؟’’

’’ ضرور ۔۔ میں اپنا بیگ لے لوں ’’ وہ کہہ کر آفس کے اندر آئی تھی اور اپنی میز پر رکھا بلیو بیگ اٹھا کر دوبارہ باہر آئی۔۔

’’ پھر آج ذنر میری طرف سے ہوگا یقیناً ؟ ’’ ساتھ چلتے ہوئے الہام نے کہا تھا۔۔

’’ بلکل ۔۔۔ آپکی طرف سے ہوگا ۔۔۔ آخر آپکا ایک اور آپریشن خیریت سے ہوگیا ہے ’’ ساتھ چلتی ڈاکٹر نے کاندھے اٹھا کر کہا تھا۔۔

’’ کوئی بات نہیں۔۔ آپ کی باری بھی آئے گی ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ ایک ریسٹورینٹ میں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔۔

’’ احتشام بھی آنے والا ہوگا بس ’’ ڈاکٹر پارسا نے کھڑی دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ اور ہمیشہ کی طرح وہ کھانا آنے کے بعد آئینگے ’’ الہام نے آس پاس ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا۔۔ جدید طرز کا بنا ہوا یہ خوبصورت سا ریسٹورینٹ تھا۔۔ گولڈن اور گرے ٹچ کے ساتھ والز ، میز اور کرسیاں ، اے سی کی ٹھنڈک اور مختلف رنگوں کی لائٹز ماحول کو مزید پر کشش بنا رہی تھیں۔۔ وہ ابھی نظر ہی دوڑا رہی تھی کہ سامنے انٹرینس سے احتشام اسے یہی آتا ہوا نظر آیا تھا۔۔

’’ بڑی بات ہے۔ آج تو جلدی آگئے یہ ’’ الہام نے پارسا کی جانب جھک کر کہا تھا۔۔ وہ بس مسکرا دی تھی۔۔

’’ کیا ہورہا ہے لڑکیوں ؟ ’’ الہام کے ساتھ رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے احتشام پوچھا تھا۔۔

’’ آپکا انتظار ہورہا تھا بس ’’ پارسا نے مسکرا کر کہا تھا اور الہام کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔

’’ اور بہت لمبے عرصے سے اب تک ہورہا ہے۔۔ آپکو اب یہ ختم کر دینا چاہئے احتشام بھائی ’’ الہام کی بات پر پارسا نے اسے گھورا تھا۔۔ جبکہ احتشام نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔

’’ کیا مطلب ؟ ’’

’’ کچھ نہیں۔۔ کھانا کھاتے ہیں ’’ پارسا نے انکی توجہ اب کھانا لگاتے ویٹر کی جانب کی تھی۔۔

’’ ویسے کبھی کچھ بنا بھی لیا کرو تم۔۔ ہمیشہ باہر ہی کھانا کھلا کر فارغ ہوجاتی ہو ’’ احتشام نے اب الہام سے کہا تھا۔۔ جو اپنی پلیٹ میں کھانا نکال رہی تھی۔۔

’’ اصولاً یہ کام آپکو کرنا چاہئے۔۔ کیونکہ ہم دونوں تو پھر بھی کھلا لیتے ہیں۔۔ آپ تو وہ بھی نہیں کرتے ’’ جواب فوراً آیا تھا۔

’’ مجھے کہاں آتا ہے کھانا بنانا ؟ اگر آتا ہوتا تو ضرور بناتا ’’ کاندھے اچکا کر احتشام نے جیسے خود کو اس کام سے آزاد کیا تھا۔

’’ ہاں مگر ڈاکٹر پارسا۔۔ آپکو تو آتا ہے نہ ؟ اگلی دعوت آپ خود کھانا بنا کر دیں گی’’ الہام نے اب توپوں کا رخ پارسا کی جانب موڑا تھا۔۔

’’ واقعی ! اتنے سالوں میں آج تک تو اس نے ایک بار بھی کچھ نہیں بنایا ’’ احتشام نے اب پارسا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ موقع ہی کہا ملتا ہے؟ ہم تینوں کا پورا دن تو ہسپتال میں گزر جاتا ہے اور پھر واپس جانے تک کیٹی میڈم کھانا بنا لیتی ہیں ’’ اس نے اپنی طرف سے مضبوط وجہ بتائی تھی۔۔

’’ خیر پھر بھی۔۔ تم چھٹی والے دن بنا سکتی تھی مگر تم نے مجھ سے چھپایا ۔۔ اس لئے اب تمہاری سزا ہے کہ تم ہر ویک اینڈ پر ہمیں اچھا سا کھانا بنا کر کھلاؤ گی ’’ احتشام نے چکن کا پیس توڑتے ہوئے اسے آرڈر دیا تھا۔۔ جبکہ پارسا نے الہام کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔۔ جبکہ الہام صاحبہ کھانے سے انصاف کرنے میں مصروف تھیں ۔۔

یہاں سےمیلوں دور ایک ایسا ہی منظر کراچی کے ایک ہسپتال کا تھا۔۔ جہاں ایک ڈاکٹر ایک فائیل کو دیکھتے ہوئے اپنے آفس کی جانب جارہا تھا اور اسکے پیچھے ایک دوسرا ڈاکٹر مسلسل کچھ بولتا اسکے جارہا تھا۔۔ جسے وہ اگنور کر رہا تھا۔۔

’’ کیا مسئلہ ہے یار ۔۔ اتنی اچھی مووی ہے چلتے ہیں نہ دیکھنے ’’ ڈاکٹر معاز اب اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ کر اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ جبکہ سامنے بیٹھے شخص نے فائل پر آخری نظر ڈال کر اب اسے ایک سائیڈ پر رکھا اور مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔

’’ آج میری فل نائیٹ ڈیوٹی ہے اور کل میں نے خوب ریسٹ کرنا ہے۔۔ اس لئے میں کوئی مووی نہیں دیکھ رہا ’’ اس نے حتمی انداز میں کہا تھا۔۔

’’ مووری کی بکنگ میں کروا چکا ہوں اور کل شام تم میرے ساتھ مووی دیکھنے چل رہے ہو۔۔ بس ’’ معاذ نے بھی حتمی انداز میں کہا تھا۔۔

’’ میں کہیں نہیں جارہا ۔۔ اب جاؤ یہاں سے ’’ عرش نے دوبارہ فائیل کھول کر اسے جانے کا اشارہ دیا تھا مگر وہ ڈھیٹ بنا وہی بیٹھا رہا تھا۔۔

’’ کیا مسئلہ ہے ؟ ’’ عرش نے اسے وہی پر بیٹھا دیکھتے تپ کر کہا تھا۔۔

’’ میری بھی آج فل نائیٹ ڈیوٹی ہے ’’ معاذ نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور کرسی کی پشت پر سر ٹکا کر بیٹھ گیا۔۔

’’ اف خدایا ! ’’ عرش نے جیسے تڑپ کر آنکھیں بند کی تھیں ۔۔



کھانے کی میز پر گھر کے تمام لوگ موجود تھے۔۔ سب کی صبح کے بعد اب دوپہر بھی ہوچکی تھی۔۔ مگر ایک ہی فرد ایسا تھا جس کی اب تک رات چل رہی تھی۔۔

مظہر صاحب نے ایک نظر سامنے بیٹھے افراد پر ڈالی جوکہ اپنی اپنی پلیٹ میں جھکے ہوئے تھے۔۔ ویسے افراد میں تھا ہی کون ؟ انکی ایک بیٹی جوکہ کچھ دنوں کے لئے ہی گھر آئی تھی اور ساتھ بیٹھا انکا داماد ۔۔

’’ میں نے ایک بات کرنی تھی تم دونوں سے ’’ انکی آواز پر دونوں افراد ان کی جانب دیکھنے لگے تھے۔۔

’’ ساجد کو تو تم دونوں جانتے ہی ہو ۔ میرا بہت اچھا دوست ہے اور اسکی فیملی بھی بہت اچھی ہے ’’ انہوں نے اب اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تھا۔۔

’’ جی بلکل پاپا جانتے ہیں ہم ساجد انکل کو۔۔ مگر آج آپ کیوں یاد دلا رہے ؟ خیر یت ہے نہ ؟ وہ ٹھیک تو ہیں ؟ ’’ وہ اس طرح کے اچانک ذکر پر وہ تھوڑی پریشان ہوگئ تھی۔۔

’’ ہاں وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔ دراصل اسکی ایک بیٹی ہے۔ آج کل اسی کی شادی کرنے کو بارے میں سوچ رہا ہے وہ اور وہ بچی بھی بہت پیاری، سمجھدار اور تعلیم یافتہ ہے اور میں ۔۔۔ ’’ انکی بات بیچ میں کاٹ دی گئ تھی۔۔

’’ اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ اس پیاری بچی کو اپنی بہو بنا لیں ہیں نہ ؟ ’’ اب کی بار انکے داماد نے کہا تھا۔ انداز عجیب تھا۔ مظہر صاحب کے تعصورات بدلے تھے۔

’’ ہاں بلکل۔۔ میں ایسا ہی چاہتا ہوں میں۔۔ اور امید ہے کہ تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ’’ مظہر صاحب کا لہجہ بھی اس بارطنزیہ تھا۔۔ رانیہ نے ناراضگی سے پاپا کی طرف دیکھا تھا۔۔

’’ عامر کو کیوں اعتراض ہوگا پاپا ؟ بلکہ اسےتو خوشی ہوگی عرش کی شادی پر ’‘ اس نے عامر کے لئے بولنا ضروری سمجھا تھا۔

’’ واقعی۔۔ مجھے بہت خوشی ہوگی عرش کی شادی کی۔۔ اگر شادی میں عرش کی خوشی شامل ہو تو ’’ عامر نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا اور ہاتھ صاف کر کے کھڑا ہوا تھا۔۔ البتہ مظہر صاحب خاموش تھے۔۔

’’ میں چلتا ہوں رانیہ ۔۔ شام کو چکر لگاؤنگا ’’ وہ رانیہ سے کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔ جب مظہر صاحب نے اسے کہا تھا۔

’’ تمہارا یہ شوہر کہنا کیا چاہتا تھا آخر ؟ ’’

’’ یہی کہ ہمیں عرش کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہئے ’’ اس کے جواب پر مظہر صاحب کے چہرے کے تعصورات بگڑے تھے۔

’’ تمہیں لگتا ہے میں اس کے ساتھ زبردستی کر رہا ہوں؟ ’’ ان کی بات پر ایک طنزیہ مسکراہٹ رانیہ کے چہرے پر آئی تھی۔

’’ نہیں ۔۔’’ وہ کھڑی ہوئی تھی۔

’’ مجھے لگتا ہے کہ آپ اس پر اپنی مرضی تھوپنا چاہتے ہیں اور اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو میں بتا دوں۔۔ آپکو آپ اسے کھو دیںگے’’ اس نے انہیں سمجھانا ضروری سمجھا تھا۔۔

’’ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ وہ میرا بیٹا ہے اور میں اس کے لئے فیصلے کر سکتا ہوں ’’ مظہر صاحب کا لہجہ اٹل تھا۔۔ رانیہ نے ایک گہری سانس لی تھی۔۔ وہ انہیں نہیں سمجھا سکتی تھی۔۔ اس لئے خاموشی سے اب وہ اپنے کمرے کی جانب چلی گئ تھی ۔

’’ یہ کب تک ڈسچارج ہوجائیگے ؟ ’’ سامنے کھڑی لڑکی نے اس سے پوچھا تھا۔۔ وہ فائیل کو بند کرتی ہوئی مسکرائی تھی۔۔

’’ رپورٹس تو بلکل کلئیر ہیں۔۔ ایک دو دن میں ڈسچارج ہوجائیینگے۔۔ آپ پریشان نہ ہوں ’’ اس نے سامنے کھڑی اس گوری سے کہا تھا۔۔

’’ او تھینک یو ’’ وہ اب اس کا شکریہ اد ا کر رہی تھی۔

’’ نو نیڈ۔۔ اٹس مائی جاب میم ’’ اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا اور پلٹ کر اس روم سے نکلی ہی تھی کہ کسی نے آکر اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

’’ کون ہوں میں؟ ’’ آنے والے نے زبردستی اپنی آواز کو زنانہ بنا کر کہا تھا اور وہ اسے سن کر مسکرائی تھی۔

’’ وہی جن جو آج ہی اپنے بھوت بنگلے میں واپس لوٹا ہے ’’ اس کی بات پر آنے والے نے فوراً ہاتھ ہٹایا تھا اور وہ پلٹی تھی۔ وہ سامنے ہی کھڑا تھا۔۔ چہرے پر مصنوعی غصہ لئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ الہام کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔

’’ تم نےپھر مجھے جن کہا ۔ اتنا ہینڈسم ہوں یار میں۔۔ لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر اور تم ہو کہ مجھے جن کہہ رہی ہو ’’ دونوں ہاتھ کھولے اس کے سامنے اکڑ کر کھڑے ہوکر کہہ رہا تھا۔

’’ تم حرکتیں ہی جنوں والی کرتے ہو ہمیشہ ’’ وہ کاندھے اچکا کر کہتی اب آگے چلنے لگی تھی۔۔

’’ کیا کروں۔۔ چڑیلوں کے ساتھ جنوں والی حرکتیں ہی تو کرنی پڑتی ہیں ’’ اس نے ساتھ چلتا ہوا وہ اب اپنا حساب برابر کر رہا تھا۔۔

’’ تو پھر غصہ کیوں ہوتے ہو ؟ میں چڑیل ہوں تو تم بھی جن ہی ہو۔۔ حساب برابر ’’ ریسیپشن پر رکتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

’’ چلو ہوگیا حساب برابر۔۔ اب بتاؤ کیسی ہو؟ ’’ ریسپشن پر ایک کہنی ٹکائے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔

’’ تمہارے سامنے ہوں، بلکل پہلے جیسی ۔ تم بتاؤ کیسی رہی تمہاری وکیشنز اور گھر میں سب کیسے ہیں؟ ’’ بالوں کو ہاتھوں سے کان کے پیچھے کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔

’’ بہت مزے کی۔۔ خوب انجوائے کیا۔۔ پتہ ہی نہیں لگا کب یہ مہینہ گزر گیا ’’

’’ مگر ابھی تو پانچ دن باقی تھے۔۔ جلدی کیوں آگئے ؟ ’’

’’ بس کیا کروں ؟ اب تمہارے بنا بھی تو دل نہیں لگتا نہ ۔ اتنی یاد آئی کہ دوڑا چلا آیا ’’ ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر اس نے ڈرامائی انداز میں کہا تھا اور الہام ہنس دی تھی۔

’’ تم کبھی نہیں سدھر سکتے۔۔ چلو جاؤ اب مجھے پیشینٹس کو دیکھنا ہے ’’ وہ کہہ کر واپس پلٹی تھی مگر وہ فوراً اسکے سامنے آیا تھا۔۔

’’ جارہا ہوں۔۔ مگر شام کا ڈنر ہم ساتھ کر رہے ہیں یاد رکھنا ’’ ایک انگلی اس کی طرف اٹھاتے ہوئے اس نے ایک روب سے کہا تھا۔

’’ اوک باس۔۔ جیسا آپ کہیں۔۔ اب میں جاؤں ؟ ’’ اس نے اجازت مانگی تھی۔۔

’’ دل تو نہیں چاہ رہا۔۔ مگر جاؤ کیا یاد رکھوگی ’’ وہ جیسے ایک احسان کرتے ہوئے اسکے سامنے سے ہٹا تھا اور الہام مسکرا کر شکریہ کہتی ہوئی آگے بڑھ گئ تھی۔۔۔ وہ بھی مسکرا کر اب باہر کی طرف بڑھا تھا ۔۔



اس نے آہستہ سے اسکے کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔۔ جو سامنے بیڈ پر سویا ہوا تھا۔۔ اسے سویا دیکھ کر پہلے تو معاذ کے چہرے کے تعصورات بگڑے مگر پھر اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی تھی۔۔ اس نے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور اب اسکے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر وہ واش روم کی طرف بڑھا تھا۔۔ جہاں اس نے اسے پانی سے بھرا۔۔ اب وہ آہستگی سے اسکے بیڈ کے پاس آیا تھا۔۔ اسکے اوپر سے کھینچ کر کمبل ہٹایا اور پورا پانی کا پورا جگ اسکے اوپر پلٹ دیا تھا۔۔ اور اگلے ہی لمحے عرش ہربڑا کر اٹھا تھا۔۔ چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے سامنے معاذ کو مسکراتے کھڑا دیکھا تھا۔۔

’’ گڈ مارننگ ڈئیر ’’ دونوں ہاتھ باندھے وہ اسکے سامنے کھڑے ہوکر بڑھے محبوبانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔

’’ کیا مسئلہ ہے یار ؟ ’’ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے غصے سے کہا تھا۔۔ ساری نیند خراب کردی اسنے۔۔

’’ مسئلہ یہ ہے کہ مووی شروع ہونے میں صرف ایک گھنٹہ ہے اور اتنا ٹائم تو تم ہوش میں آنے میں لگا دوگے۔۔ اس لئے میں نے سوچا میں خود تمہارے ہوش ٹھکانے لگا دوں ’’ اس نے سامنے صوفے ہر ٹھاٹ سے بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ میں نے کہا تھا کہ میں نہیں جاؤنگا ’’ اسکے سامنے اکڑ کر کھڑے ہوکر عرش نے کہا تھا۔۔

‘’ اور میں نے تب بھی تمہاری جان نہیں چھوڑی تھی۔۔ کیا چاہتے ہو کہ آج رات بھی تمہارے سر پر سوار رہوں میں؟ ’’ اسکی بات پر عرش مزید چڑ گیا تھا۔۔

’’ کیا ہے یار ۔۔ نہیں ہے میرا موڈ مووی دیکھنے کا ’’ سامنے بیڈ پر اب وہ اکتا کر بیٹھ گیا تھا۔

’’ سوچ لو ۔۔ اگر مووی نہیں دیکھی تو لڑکی دیکھنی پڑے گی ’’ کاندھے اچکا کر کہا تھا۔۔

’’ کیا مطلب ؟ کیسی لڑکی ؟ ’’ اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہ لڑکی کا ذکر کہاں سے آگیا بیچ میں؟

’’ یہ تو میں تب بتاؤنگا جب تم میرے ساتھ چلوگے ’’ وہ بھی اتنی آسانی سے بتانے والا کہا تھا۔

’’ نہیں سننی میں نے تمہارے فضول باتیں جاؤ اب ’’ وہ دوبارہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا تھا۔۔

’’ ٹھیک ہے پھر۔۔ میں انکل کو کہہ دیتا ہوں کہ تم مان گئے ہو ’’ وہ اب بے فکری سے کھڑے ہوتے ہوئے بولا تھا۔۔

’’ مان گیا ہوں ؟ کس لئے ؟ ’’ عرش نے فوراً سیدھے ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’ یہ میں تمہیں مووی کے بعد بتاؤنگا ’’ مسکرا کر کہتا اب وہ دوبارہ بیٹھ چکا تھا ۔۔پہلے تو عرش نے اسے غصے سے گھور ا۔۔ مگر کوئی اثر نہ ہوتا دیکھ کر اب وہ شاور لینے جاچکا تھا ۔۔ اب معاذ صاحب سے بھی کوئی جیت سکتا ہے کیا ؟

part 2

وہ ریسیپشن تک آئی تھی جہاں پارسا اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔

’’ آج آپکو اکیلے جانا ہوگا گھر ’’ اس نے گاڑی کی چابی پارسا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔ جسے پارسا نے لے لیا تھا۔

’’ اور تم ؟ ’’

’’ میں آج ڈنر پر انوائیٹڈ ہوں ’’ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

’’ کس کے ساتھ ؟ ’’ پارسا کو حیرت ہوئی تھی۔۔

’’ آفکورس میرے ساتھ ۔۔ بیوٹیفل لیڈی ’’ جواب کہیں اور سے آیا تھا۔۔ دونوں نے دائیں جانب دیکھا۔۔ جہاں وہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔ پارسا کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھر گئ تھی۔۔۔

’’ اوہو۔۔ ڈاکٹر حامد۔۔ ویلکم بیک ’’ پارسا نے خوش اسلوبی سے کہا تھا۔

’’ تھینک یو ’’ سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ جھک کر بولا تھا۔۔ الہام ہنس دی تھی۔

’’ تو پھر آپ الہام کو ڈنر پر لے کر جارہے ہیں اور مجھے کون انوائیٹ کرے گا ؟ ’’ پارسا نے ہاتھ اٹھا کر اس سے کہا تھا۔

’’ ارے میں تو کرنے لگا تھا انوائیٹ۔۔ مگر الہام نے منع کر دیا۔۔ کہنے لگی کہ نہیں ڈاکٹر پارسا کیوں کباب میں ہڈی بنیں؟ ’’ اس نے ساری ٹوپی الہام کے سر ڈال دی تھی اور اسکا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔

’’ میں نے منع کیا تھا ؟ جھوٹ بول رہا ہے یہ۔۔ اس نے مجھے ایسا کچھ نہیں کہا تھا ’’ الہام نے فوراً اپنا دفع کیا تھا۔

’’ ارے ارے ۔۔ تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ ہم اکیلے جائینگے۔۔ اب کیسے پلٹ رہی ہو بات سے ’’ حامد فوراً ہی معصوم بنا تھا۔۔ اور پارسا ان دونوں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔

’’ ٹھیک ہے۔۔ میں نے کہا تھا نہ؟ اب میں ہی لے کر جاؤنگی ڈاکٹر پارسا کو ہمارے ساتھ ۔۔ چلیں آپ ہمارے ساتھ جائینگی ’’ اس نے پارسا سے کہا تھا اور اب حامد گڑبڑا گیا تھا۔۔

’’ ہاں ٹھیک ہے لے چلتے ہیں ساتھ۔۔ مجھے کیا ؟ کیوں پارسا میڈم چلینگی نہ ہمارے ساتھ ؟ ’’ اس نے چپکے سے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر نہ کہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔ جس سے پارسا کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔

’’ میں ضرور جاتی۔۔ مگر احتشام کو انفارم کرنا ہوگا اور اسے ڈنر بھی بھجوانا ہے ’’ اسکے جواب پر حامد نے گہری سانس لی تھی۔۔ شکر ہے !

’’ اچھا ٹھیک ہے پھر۔۔ ہم بھی چلتے ہیں اب ’’ حامد نے فوراً جواب دیا تھا۔۔

’’ اوک۔۔ پھر میں چلتی ہوں اور تم دونوں زیادہ دیر مت کرنا اچھا ’’ اس نے آخری بات الہام کو دیکھ کر کہی تھی۔

’’ میں ٹائم پر آجاؤنگی ’’

’’ اوک پھر ۔۔ اللہ حافظ ’’ وہ اب وہاں سے نکل کر گاڑی میں آکر بیٹھی تھی اور تھوڑی دیر بعد اپنے فلیٹ کے سامنے موجود تھی۔ ارادہ احتشام کے فلیٹ کی جانب جانے کا تھا ۔۔ جو انکے فلیٹ کے بلکل سامنے ہی تھا ۔۔

وہ اس وقت کچن سے باہر نکل رہا تھا۔۔ ہاتھ میں کافی کا کپ تھا۔۔ جب پارسا اندر آتی دکھائی دی تھی۔۔ اسے اکیلا آتے دیکھ کر وہ اسی کی طرف بڑھا تھا۔۔

’’ اسلام وعلیکم ۔۔ الہام نہیں آئی ساتھ ؟ ’’ اس نے فوراً الہام کے بارے میں پوچھا تھا۔۔ پارسا نے مسکرا کر اپنا بیگ لاونچ کے صوفے پر رکھا اور خود پانی پینے کچن میں آگئ تھی۔۔ وہ بھی اس کے پیچھے آیا تھا۔۔

’’ وہ آج ڈاکٹر حامد کے ساتھ ڈنر پر گئ ہے’’ اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی تھی اور اسےلے کر ڈائیننگ ٹیبل کے پاس رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گئ تھی۔

’’حامد واپس کب آیا ؟ ’’ اس نے چولے پر پانی رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔

’’ آج ہی آیا ہے شاید ’’ پانی کا گلاس واپس رکھتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا۔۔

’’ ویسے ایک مہینے کے لئے گیا تھا وہ۔۔ مگر ابھی تو کچھ دن باقی تھے نہ ؟ ’’ ابلا ہوا پانی ایک کپ میں ڈالتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔ پارسا اسے سب کرتے دیکھ رہی تھی۔۔

’’ ہاں۔۔ شاید دل نہیں لگا ہوگا اسکا ’’ پارسا نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔ اور اس کی یہ مسکراہٹ احتشام نے غور سے دیکھی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔۔ پھر وہ پلٹا اور کافی کا کپ اسکی جانب بڑھایا تھا اور اپنا کپ لے کر سامنے رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔

’’ وہاں تو اسکی فیملی ہے اور یہاں اسکا کوئی نہیں۔۔ سوائے کچھ دوستوں کے۔۔ پھر کیا ہے ایسا یہاں جو اسکا دل وہاں نہیں لگا تھا ؟ ’’ وہ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔ جانے کیا جاننا چاہتا تھا وہ ؟ اسے خود بھی نہیں معلوم تھا ۔۔

’’ ہاں۔۔ ایسا کچھ تو ہے یہاں جس کے بغیر شاید اسکا دل وہاں نہیں لگا تھا ’’ گہری مسکراہٹ کے ساتھ پارسا نے کافی کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔ اس وقت احتشام کو اسکی مسکراہٹ کچھ خاص اچھی نہیں لگی تھی۔۔ جانے کیوں ؟

’’ اور وہ کیا ہے ؟ ’’ اسکا تجسس بڑھ رہا تھا۔ پارسا نے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ اور پھر ایک ہاتھ پر اپنا چہرہ ٹکائے تھوڑا سا جھک کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دیکھا۔۔ مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔ اور آنکھوں کی چمک میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔

’’ وقت آنے پر بتاؤنگی۔۔ پہلے سب باتیں کلئیر تو ہوجائیں ’’ وہ اسی انداز سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اور احتشام نے اسکا یہ انداز پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔۔ اسکی مسکراہٹ آج پہلی بار اسے اچھی نہیں لگی تھی۔۔ کیونکہ شاید آج پہلی بار وہ دل سے مسکرائی تھی۔۔۔ اور وجہ حامد تھا۔۔۔ احتشام کو یہ وجہ اچھی نہیں لگی تھی۔۔ اس نے اپنا کافی کا کپ رکھا اور فوراً اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ پارسا بھی اسے دیکھ کر سیدھی ہوئی تھی۔

’’ کیا ہوا ؟ ’’ وہ اسکے کافی چھوڑ کر اٹھنے پر حیران ہوئی تھی۔۔

’’ کچھ نہیں۔۔ آج کیٹی نے جلدی جانا ہے۔۔ اسے کچھ کام ہے۔۔ الہام بھی نہیں ہے۔۔ تو کیوں نہ ہم بھی کھانا باہر کھا لیں ؟ ’’ اسکی آفر پر پارسا کا منہ کھل گیا تھا۔۔۔ اتنے سالوں میں یہ پہلی بار تھا۔۔ جب وہ اسے باہر اکیلے ڈنر کرنے کا کہہ رہا تھا۔۔ ورنہ ایسا کئ بار ہوا تھا کہ الہام کی نائیٹ ڈیوٹی ہوتی۔۔ اور وہ دونوں اپنے اپنے فلیٹ پر اکیلے ہوتے تھے۔۔ مگر ہر بار احتشام کیٹی کو روک دیتا تھا تاکہ وہ ان کے ساتھ کھانا کھا کر اور پارسا کے ساتھ اسکے فلیٹ میں سوجائے۔۔ وہ بہت احتیاط کرنے والا انسان تھا۔۔ اپنی اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا وہ جانتا تھا۔۔ مگر آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ اسے باہر ڈنر کرنے کی آفر کر رہا تھا۔۔ پارسا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے حیران ہونا چاہئے کہ خوش ؟ اسے خاموش دیکھ کر وہ دوبارہ بولا تھا۔۔

’’ کیا ہوا ؟ باہر ڈنر کرنے میں کوئی پرابلم ہے کیا ؟ ’’ اسکے دوبارہ کہنے پر وہ جیسے اپنی حیرانگی سے باہر آئی تھی۔۔

’’ نہیں۔۔ بلکل نہیں ۔۔ میں بس فریش ہوجاؤ پھر چلتے ہیں ’’ وہ کہہ کر وہاں سے باہر نکلی تھی اور احتشام کی پرسوچ نگاہیں اب اسکی منتظر تھیں ۔۔ جانے آج اسے کیا ہوگیا تھا ؟



مووی دیکھنے کے بعد اب وہ دونوں ایک شاندار ہوٹل میں موجود تھے۔۔ معاذ آرڈر دے کر اب آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔ جیسے وہ پہلی بار یہاں آیا ہوں۔۔ مگر عرش جانتا تھا کہ بات اسی نے شروع کرنی ہے تو اب مزید انتظار کرنے کے بجائے اس نے بات کا آغاز کیا تھا۔۔

’’ کس لڑکی کی بات کر رہے تھے تم ؟ ’’ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔

’’ ارے واہ ! تمہیں بہت بے چینی ہورہی ہے لڑکی کے بارے میں جاننے کی ؟ ’’ ایک آنکھ دباتے ہوئے اس نے بات کو مزاق کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔ کیونکہ عرش کا موڈ بلکل بھی مزاق کا نہیں تھا۔۔

’’ تم بتا رہے ہو کہ میں اٹھ کر چلا جاؤں ؟ ’’ اس نے معاذ کو دھمکی دی تھی۔۔ جوکہ اثر کر گئ تھی۔۔

’’ ارے اٹھ کر مت جاتا ورنہ بل مجھے دینا پڑے گا ’’ اس نے فوراً اسے روکا تھا۔۔ جیسے اسکا بہت بڑا نقصان ہونے ولا ہو۔۔ اب بل دینا بھی ایک نقصان ہی ہے نہ ؟

’’ ویسے شرم آنی چاہئے تمہیں۔۔ ایک ڈاکٹر بن گئے ہو تم۔۔ اتنے پیسے ہیں تمہارے پاس مگر اب بھی تمہاری نظر میری جیب پر ہوتی ہے ’’ عرش نے اسے غیرت دلانی چاہی جوکہ ایک ناممکن کام تھا معاذ کے لئے۔۔

’’ کیونکہ تمہاری جیب پر میرا حق ہے جانِ من۔۔ آفٹر آل آئی ایم یور فرسٹ وائف ’’ اس نے خالص بیویوں والے انداز میں کہا تھا۔۔

’’ تو وائف جی ۔۔ اب آپ بتائیں گی کہ کس لڑکی کی بات کر رہی تھیں آپ ؟ ’’ اس نے بھی ایک ہسبنڈ والے انداز میں کہا تھا۔۔

’’ آپ اپنی وائف کے ہوتے ہوئے دوسری لڑکی کا پوچھ رہے ہیں۔۔ شرم نہیں آتی آپکو ؟ ‘‘ معاذ تو پورے کیریکٹر میں آچکا تھا ۔

’’ ٹھیک ہے۔۔ پھر میں چلتا ہوں ’’ اس نے اب اٹھنا چاہا تھا کہ معاذ نے فوراً سے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھایا تھا۔۔

’’ اچھا بتا رہا ہوں نہ ’’ وہ بھی اب سیدھا بیٹھ چکا تھا اور سوالیاں نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

’’ میرے پاس عامر بھائی کی کال آئی تھی آج ’’ اس نے عرش کی طرف دیکھا تھا۔۔ جو بلکل سنجیدہ تھا۔۔

’’ انہوں نے بتایا کہ تمہارے پاپا آج رانیہ اور ان سے اپنے ایک دوست کا ذکر کر رہے تھے۔۔ ساجد نام ہے شاید ‘’ اس نے پھر عرش کی طرف دیکھا۔۔

’’ ہاں ۔۔ پاپا کے بہت پرانے اور گہرے دوست ہیں ’’ عرش انہیں جانتا تھا۔۔

’’ ہاں ایکچولی انکی بیٹی ہے۔۔ خوبصورت بھی ہے۔۔ ایجوکیٹڈ بھی ہے اور نیچر کی بھی اچھی ہے ’’ وہ دوبارہ رکا تھا۔۔

’’ آگے بولو ؟ ’’ اسے خاموش ہوتا دیکھ کر عرش نے کہا تھا۔۔

’’ تو یہ کہ مظہر انکل اس لڑکی کو تمہارے لئے پسند کرتے ہیں اور شاید ساجد انکل سے بھی بات کر چکے ہیں ’’ اس نے تیزی سے بات ختم کرکے عرش کے بگڑتے ہوئے تعصورات کو دیکھا تھا۔۔

’’ میں انہیں صاف انکار کر چکا ہوں۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے کیسے بات کر لی ساجد انکل سے ؟ ’’ اپنا غصہ ضبط کرتے وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہہ رہا تھا۔۔

’’ یار دیکھو۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔ انکل اتنے عرصے سے تمہاری شادی کروانا چاہ رہے تھے۔۔ پہلے تم نے اپنے ایم بی بی ایس کا بہانہ کر کے ٹال دیا۔۔ اسکے بعد تم نے اپنے کیرئیر کے سٹارٹ کا بہانہ کیا اور اب تو ماشااللہ تمہارے یہ دونوں مسئلے حل ہوچکے ہیں۔۔ تو اب تمہارا یہ بہانہ کہ تم ابھی اس کے لئے تیار نہیں ہو۔۔ انکل کے لئے قابلِ قبول نہیں ہے۔۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ یا تو تم شادی کرلو یا پھر تم انہیں سچ بتا دو ’’ معاذ نے اسے سمجھانا چاہا تھا۔۔

’’ سچ یہی ہے کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔ جب میں اس کے لئے تیار ہوجاؤنگا تو میں خود بتا دونگا۔۔ اور جہاں تک بات پاپا کی ہے تو اگر وہ سوچ رہے ہیں کہ وہ میرئ ساتھ زبردستی کر سکتے ہیں ؟ تو یہ انکی بھول ہے ’’ اس نے اپنی طرف سے بات ختم کردی تھی اور اب وہ کھانے کی طرف متوجہ ہوچکا تھا ۔۔ معاذ جانتا تھا کہ اسے سمجھانا ناممکن ہے اس لئے وہ بھی خاموشی کھانے سے انصاف کرنے لگا ۔



وہ اس وقت پیرس کے ایک شاندار ہوٹل میں بیٹھے تھے۔۔ پیلی اور سفید رنگ کی بتیوں سے وہ پورا ایریا چمک رہا تھا۔۔ سامنے کی وال پر فکس اکویریم میں مختلف رنگوں کی مچھلیاں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔ میوزک کی ہلکی دھن اور میز پر رکھی کینڈلز نے اس ماحول کو مزید دلکش بنایا ہوا تھا۔۔ ایسے ماحول میں وہ ہمیشہ آکر اپنے آس پاس موجود لوگوں سے بے نیاز ہوجاتی تھی۔۔۔ جانے وہ کہا کھوجاتی تھی ؟ یہ آج تک وہ خود بھی جان نہیں سکی تھی۔۔ اس وقت بھی وہ سامنے رکھے اکویریم پر نگاہیں ٹکائے کسی اور ہی جہان میں گم تھی۔۔ اور اسے احساس تک نہیں ہوسکا تھا کہ کب سامنے بیٹھے حامد نے کھانے کا آرڈر دیا اور اب وہ بڑی فرصت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ وہ اسکا کھویا ہوا انداز دیکھ کر حیران نہیں ہوا تھا۔۔ کیونکہ وہ اتنے سالوں سے اسے جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس طرح کسی اور جہاں میں کھوجانے کا احساس اسے خود بھی نہیں ہوتا تھا۔۔ اس وقت بھی وہ اسکے سامنے ہوکر بھی کہیں اور گم تھی۔۔ وہ بھی اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ناجانے اسکی نگاہوں کی تپش تھی یا پھر کوئی اور احساس ؟ کہ الہام نے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔ اسکے دیکھنے پر بھی حامد نے اپنی نظریں اس پر سے نہیں ہٹائی تھی۔۔

’’ یہ تم مجھے گھور کیوں رہے ہو ؟ ’’ الہام اس کے مسلسل دیکھنے پر اکتا کر پوچھ رہی تھی۔۔

’’ تم اس اکویریم کو کیوں گھور رہی ہو؟ ’’ اس نے انگلی سے سامنے رکھے اکویریم کی جانب اشارہ کر کے کہا تھا۔۔

’’ کیونکہ وہ بہت خوبصورت ہے ’’ الہام نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ کیونکہ تم بہت خوبصورت ہو ’’ اس نے فوراً ہی کہا تھا۔۔ الہام کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔

’’ اور اب تم کہنے والے ہو کہ بلکل ایک چڑیل کی طرح ؟ ’’ اسکی بات پر وہ ہلکا سا ہنسا تھا۔۔

’’ ویسے تم میری صحبت میں کافی سمجھدار ہوگئ ہو ’’ اس نے اپنی تعریف کاموقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا۔۔

’’ پر افسوس کہ تم اب تک بے وقوف ہی ہو ’’ الہام نے کاندھے اچکا کر افسوس سے کہا تھا۔۔

’’ تم نے ہی بنایا ہے سویٹی ’’ حامد نے یہ قصور بھی اسکے حصے میں ڈالا تھا۔۔

ویٹر کے کھانا سرو کرنے تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی تھی۔۔ ویٹر کے جانے کے بعد حامد نے خاموشی سے اسکے سامنے رکھی پلیٹ اٹھا کر اسکے لئے کھانا ڈلا تھا۔۔ اور الہام نے بھی اسے روکا نہیں تھا۔۔ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا۔۔ اسکی پلیٹ میں بھی کھانا ڈالتا تھا اور اپنی مرضی سے ڈالتا تھا۔۔ الہام کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ نہیں مانتا تھا اور آخرمیں الہام کو سارا کھانا ختم کرنا ہوتا تھا۔۔ اس لئے اب الہام کو بھی اسکی عادت ہوچکی تھی۔۔ اس نے اسکے سامنے پلیٹ رکھی تھی اور اب وہ اپنی پلیٹ لے رہا تھا۔۔۔

’’ ویسے تم نے بتایا نہیں۔۔ اتنی جلدی کیوں آگئے تم ؟ ’’ الہام نے تھوڑی دیر بعد اس سے پوچھا تھا۔۔

’’ تمہاری یاد ستا رہی تو رہا نہیں گیا ’’ سیدھا جواب دینا تو اسے آتا ہی نہیں تھا۔۔

’’ ویری فنی ۔۔ سیدھی طرح بتاؤ ’’ الہام نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔

’’ یار بس وہ ماما پاپا کو بیٹھے بٹھائے میری شادی کروانے کی سوجھ گئ۔۔ اسلئے میں وہاں سے بھاگ آیا ’’ اس نے عام انداز میں کہا تھا۔۔ جبکہ الہام کو شاک لگا تھا۔۔

’’ تمہاری شادی ؟ سچ میں؟ ’’ وہ تھوڑا جھک کر حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔۔

’’ ہاں۔۔ میری ہی شادی ’’

’’ مگر تم نے انکار کیوں کیا ؟ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔ اف ! میں کتنی خوش ہوتی اگر واقعی ایسا ہوتا تو ’’ وہ جیسے فوراً ہی ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔۔ اور حامد نے اسے افسوس سے دیکھا تھا۔۔

’’ تمہیں تو بس مجھ سے جان چڑوانے کی جلدی ہے ۔۔ مگر زیادہ خوش مت ہو۔۔ میں شادی نہیں کرنے والا ’’ اس نے جیسے الہام کے ارمان ٹھنڈے کرنا چاہے تھے۔۔

’’ مگر کیوں ؟ ’’ وہ وجہ جاننا چاہتی تھی۔۔

’’ کیونکہ میں اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔ جسے میں چاہتا ہوں ’’ وہ بہت سنجیدہ تھا۔۔ الہام نے اسے پہلے کبھی اتنا سنجیدہ نہیں دیکھا تھا۔۔ مگر آج اس نے اسے حیران کیا تھا۔۔

’’ تم کسی کو چاہتے ہو ؟ سچ میں ؟ ’’ وہ دوبارہ سے ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔۔

’’ ہاں تو کیا نہیں چاہ سکتا ؟ ’’ وہ فوراً ہی اپنے اسی انداز میں بولا تھا۔۔

’’ بلکل چاہ سکتے ہو۔۔ مگر تم نے مجھے کبھی بتایا نہیں ؟ اٹس ناک فئیر ’’ اس نے شکوہ کیا تھا۔۔

’’ تمہیں بتا کر میں ایک چڑیل کا سایہ نہیں ڈالنا چاہتا اپنی چاہت پر ’’ حامد نے کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا تھا۔

’’ اور جو تم خود ایک جن ہو اسکا کیا ؟ ’’

’’ میں جن ہوں تو میری چاہت بھی کوئی عام چڑیل تھوڑی ہوگی ’’ حامد نے اسے نگاہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا تھا۔

’’ تو پھر بتاؤ کون ہے وہ ؟ ‘‘ وہ جاننے کے لئے بے چین تھی۔۔

’’بتا دونگا ۔۔ جلدی کیا ہے سویٹی ؟ ’’ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ابھی بتاؤ مجھے ’’ وہ ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔

’’ ابھی نہیں۔۔ مگر بہت جلد بتادونگا ’’ اس نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ پکا ؟ ’’ الہام نے وعدہ لینے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔ حامد نے اسکے خوبصورت ہاتھوں کوایک نظر دیکھا۔۔ پھر اسی نظر سے اسے دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا۔۔

’’ وعدہ ’’ بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔ ایک وعدے کے ساتھ ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *