Yar Bereham by Zeeniya Sharjeel readelle50021 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
ساری رات اُس نے جاگتے ڈرتے اور بھوری کو سوتا ہوا دیکھ کر گزاری۔۔۔ سفید رنگ سفید سفید بھنویں اور بھاری بھرکم جسامت والی بھوری کے خوفناک خراٹوں کی آواز ہی اُس کے دل میں دہشت پیدا کررہی تھی۔۔۔ کل رات بہرام کا جلاد والا روپ دیکھ کر وہ بہرام سے بھی ڈر گئی تھی انجانے میں ہی سہی لیکن وہ کتنے برے طریقے سے کتنی سختی سے اُس کے ساتھ پیش آیا تھا
آخر وہ اُس کو کیوں نہیں پہچان پایا، جیل کی چار دیواری میں بیٹھی ہوئی اُسے بہرام سے شکوہ ہونے لگا پھر حرم کا دھیان اینجل کی طرف چلاگیا۔۔۔ اِس وقت انجل اُس کی جگہ پر موجود تھی بہرام کے ساتھ، اور بہرام اُس کو حرم سمجھ کر۔۔۔ آگے سوچ کر ہی حام کو رونا آنے لگا۔۔ کیا اب اسے اینجل بند کر ساری زندگی اِس چار دیواری میں رہنا ہو گا یہ سوچ ہی حرم کو خوف میں مبتلا کرنے لگی
“کیا سارا خون آج ہی چوس لےگا”
نیند میں ڈوبی ہوئی بھاری آواز میں بھوری نے بولتے ہوئے اپنے ہی بازو پر ہاتھ مار کر اُس مچھر کو مار ڈالا جو کافی دیر سے اُس کا خون چوس رہا تھا ساتھ ہی وہ بیدار ہوچکی تھی۔۔۔ اسے جاگتا ہوا دیکھ کر حرم ڈر گئی بھوری خود بھی بستر پر بیٹھ کر حرم کا جائزہ لینے لگی
“کون ہے تو”
پہلے اس نے حرم کو دیکھ کر ہنستے ہوئے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کی پھر کچھڑی جیسے بالوں کو کُھجاتی ہوئی حرم سے پوچھنے لگے
“حرم۔۔۔ میں حرم ہوں”
جو باتیں اُس نے رات میں روقّیہ کے منہ سے بھوری کے بارے میں سنی تھی اُس کی وجہ سے حرم کو سامنے بیٹھی پہاڑ کے وجود رکھنے والی اِس عورت کو دیکھ کر خوف آرہا تھا وہ ڈری ہوئی بھوری کو اپنا نام بتانے لگی
“حرم کہاں تُو تو چوہیا ہے ابھی میں تیری گردن دبوچ ڈالوں تو دو سیکنڈ میں تیری جان نکل جائے گی”
بھوری حرم سے بولتی ہوئی اپنی بات پر خود قہقہہ مار کر ہنسنے لگی جبکہ حرم اُس کی بات سن کر بری طرح ڈر گئی۔۔۔ بھوری بالکل سچ کہہ رہی تھی وہ سچ میں اُس کے توانا وجود کے آگے کوئی چوہیا ہی لگ رہی تھی
“ڈر رہی ہے مجھ سے مت ڈر۔۔۔ چل نہیں دبوچتی تیری گردن۔۔۔ وہ اتنی دور کیوں بیٹھی ہے یہاں قریب آکر بیٹھ میرے پاس”
بھوری حرم کو دیکھتی ہوئی بولی وہ بھوری کے جاگنے پر دیوار سے چپک کر بیٹھ گئی تھی
“نن۔۔۔۔ نہیں میں یہ ٹھیک ہوں”
بھوری کے پاؤں میں بیڑیاں دیکھ کر حرم اُس کی آفر ٹھکراتی ہوئی بولی۔۔۔ ویسے بھی بقول روقّیہ کہ اُس کو دو دن سے انجکشن نہیں لگائے گئے تھے، تو بھوری کے پاس جانا خطرے سے خالی نہیں تھا اگر بھوری اُس پر حملہ کردیتی تو اُس کو یہاں پہ جانے والا کوئی بھی نہیں تھا
“بھوری کو انکار کررہی ہے تُو، بھوری کو۔۔۔ یہاں آ”
حرم کے انکار کرنے پر بھوری کی شکل کے زاوئیے بگڑ کر مزید بھیانک ہوگئے۔۔۔ بھوری نے قریب رکھا کولر پر اسٹیل کا گلاس اٹھاکر حرم کو مارا جو اُس کے پاؤں پر زور سے لگا۔۔ وہ گلاس لگنے سے نہیں بلکہ بھوری کے خوف سے رونے لگی۔۔۔ بھوری کے پاؤں ڈلی بیڑیاں اگر بھوری چاہتی تو اپنی طاقت سے آرام سے توڑ سکتی ہے۔۔۔۔ حرم روتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر بھوری کے حکم پر اُس کے پاس جانے لگی
“چل بیٹھ جا”
بھوری جو خود پاؤں پھیلا کر بیٹھی ہوئی تھی حرم کو اپنے پاؤں کے پاس اشارہ کرتی ہوئی بیٹھنے کا بولنے لگی حرم اُس کی بات مانتے ہوئے بھوری کے پاؤں کے پاس بیٹھ گئی
“باپ کہاں ہے تیرا”
بھوری حرم کو دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“انتقال ہوچکا ہے اُن کا”
حرم سانس روکتی ہوئی بھوری کو جواب دینے لگی وہ ناجانے کتنے دنوں سے نہیں نہائی تھی حرم سے سانس لینا دشوار ہونے لگا
“تیرا باپ کو قبر سے نکال کر میرے پاؤں میں دبائے گا۔۔۔ یوں گھور کیوں رہی ہے ابھی تیرے دونوں دیدے نکال کر تیرے ہاتھ پر رکھ دوں گی چل دبا میرے پاؤں”
بھاری کے بولنے پر حرم کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اُس کی موٹی موٹی پنڈلیاں احتیاط سے دبانے لگی۔۔۔ کیوکہ بھوری کی پنڈلیوں پر جگہ جگہ بلیڈ سے کٹ کے نشانات موجود تھے
“ہل کم دبا زیادہ۔۔۔ جان نہیں ہے تیرے اندر”
بھوری گرج دار آواز میں چیخی تو حرم اُس کی آواز سن کر ڈر گئی۔۔۔ وہ اب اپنی پوری طاقت لگاتی ہوئی بھوری کی پنڈلیاں دبا رہی تھی جو اُس کے ہاتھوں میں مشکل سے ہی آپارہی تھی
“یہاں کون چھوڑ کر گیا تجھے”
بھوری حرم کو غور سے دیکھتی ہوئی اُس سے سوال پوچھنے لگی
“میرا شوہر”
جواب دیتے ہوئے حرم کے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکنے لگا کل رات والا منظر یاد کرکے آنکھوں سے آنسو نکلنے کو بیتاب تھے
“کیا حرا** پن کیا تُو نے اُس کے ساتھ جو وہ تجھے یہاں چھوڑ گیا”
بھوری اُس کا ضبط سے سرخ چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگی
“کچھ،۔۔۔ کچھ بھی نہیں کیا تھا”
بولتے ہوۓ حرم کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے
“حسین تو تُو بڑی ہے کیا پیار نہیں تھا تیرے شوہر کو تجھ سے”
بھوری کے سوال پر اسے مزید رونا آنے لگا تو بھوری نے آگے بڑھ کر حرم کے بالوں کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا، خوف کے مارے حرم کے منہ سے چیخ نکل پڑی
“تیری خوبصورتی کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ دیکھ تیرا شوہر بھی تجھے یہاں چھوڑ گیا اب اُس کے لیے آنسو مت بہا۔۔۔ واہ یہ تیرے بال تو بڑے خوبصورت ہیں دکھا ذرا کھول کر اِنہیں”
بھوری خود حرم کے بالوں کو کھول کر بکھیرتی ہوئی زور زور سے قہقے لگانے لگی جبکہ حرم ڈر اور خوف کے مارے رونے لگی
“اے چوہیا میری بات سن یہ جو تیرے بال ہیں نا بھوری کا دل آگیا ہے ان پر، انہیں میں اپنے پاس رکھ لیتی ہوں”
بھوری کی بات سن کر حرم کا رونا بند ہوگیا وہ خوف سے بھوری کو دیکھنے لگی جو بستر کے نیچے چھپایا ہوا بلیڈ نکال رہی تھی۔۔۔۔ حرم جلدی سے اٹھ کر بھوری کے پاس سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگی مگر اُس سے پہلے بھوری نے حرم کو اپنے شکنجے میں دبوچ لیا اور جِناتی قہقہے لگانے لگی
“نہیں پلیز مجھے چھوڑ دیجیے”
بھوری پر پاگل پن کا دورہ پڑ چکا تھا وہ لازمی بلیڈ سے اُس کے بال کاٹنے والی تھی حرم اس کی گرفت سے تڑپنے لگی
“بھوری چھوڑ دو اس کو”
اس سے پہلے بھوری حرم کے بالوں کی موٹی سی لٹ بیلڈ سے کاٹتی روقیّہ لاک اپ کھول کر اندر آئی اور بھوری سے بولی
بھوری نے روقّیہ کو دیکھ کر حرم کو چھوڑتے ہوئے اُس پر حملہ کرنا چاہا تو روقّیہ کے ساتھ آتی دو کانسٹیبل نے بھوری کو دونوں بازوؤں سے پکڑلیا۔۔۔ بھوری لی گالیوں کی آواز پورے لاک اپ میں گونج رہی تھی۔۔۔ حرم یہ خوفناک منظر دیکھ کر رونے لگی
“یہاں مت بیٹھو بی بی اے سی پی صاحب کا فون آیا ہے۔۔۔ وہ لینے آنے والے ہیں تمہیں، یہ بتاؤ بھوری نے تمہیں مارا تو نہیں جلدی سے نکلو یہاں سے”
روقیہ حرم کو اٹھاتی ہوئی اس کی فکر کرتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔ اور اسے لاک اپ سے باہر لے گئی۔ حرم شکر ادا کرنے لگی کہ بہرام کو معلوم ہوچکا تھا کہ وہ غلط فہمی میں حرم کو یہاں چھوڑ گیا تھا
“یہاں ٹیرس میں کیوں آگئے بہرام”
اینجل اپنا اور اُس کافی کا مگ پکڑے ٹیرس میں آتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی
“اس لیے کہ میں یہاں ٹیرس میں کھڑے ہوکر تمہارے ساتھ تمہارے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی انجوائے کرنا چاہتا ہوں”
بہرام اسمائل دیتا ہوا اینجل کا چہرہ دیکھ کر بولا
اینجل کے ہاتھ سے اپنا کافی کا مگ لیتا، اینجل کو محسوس ہوا جیسے وہ حرم کے ساتھ نہیں اِسی سے کہہ رہا ہو۔۔۔ بہرام کافی کی سپ لیتا مگ کو دیوار پر رکھتا ہوا اینجل کا چہرہ دیکھنے لگا پھر مسکراتا ہوا اُس کے قریب آیا اور اینجل کے ہاتھ سے بھی اس کا مگ لے لیا
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو بہت پیارا لگ رہا ہوں”
بہرام اینجل کا مگ کارنر رکھتا ہوا اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتا ہوا اینجل سے پوچھنے لگا
“پیارے کب نہیں لگتے، میں اب ایک پل کے لئے بھی آپ سے دور نہیں جاسکتی بہرام”
اینجل سچائی بیان کرتی ہوئی بولی اور اپنا سر اس نے بہرام کے سینے پر رکھ دیا۔۔۔ اینجل نے محسوس کیا تھوڑی دیر پہلے بیڈ روم کی بنسبت اب بہرام کا موڈ ٹھیک ہوچکا تھا، جس پر اینجل خود بھی ریلکس ہوگئی
“اور میرے پاس رہنے کے لیے تم کسی بھی حد تک جاسکتی ہو ہے ناں”
بہرام کو اُس نے بولتے سنا تو وہ اپنا سر بہرام کے سینے سے ہٹاکر اُس کا چہرہ دیکھنے لگی وہ ابھی بھی اینجل کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا”
اینجل کو اُس کی بات سے کچھ شک سا گزرا تو بہرام نے ہنستے ہوئے اُسے گود میں اونچا اٹھالیا
“میری جان میں اپنے لیے تمہاری محبت آزمانا چاہتا ہوں، میرے پوچھنے کا مطلب تھا مجھ سے محبت کرنے کی خاطر تم کس حد تک جاسکتی ہو” بہرام نے اینجل کو بولتے ہوئے ٹیرس کی دیوار پر بٹھا دیا
“بہرام یہ کیا کررہے ہو مجھے ڈر لگ رہا ہے”
اینجل پانچویں منزل سے نیچے دیکھنے لگی تو اونچائی سے نیچے دیکھتے ہوئے اُسے چکر آنے لگے وہ گھبرا کر بہرام سے بولی
“پہلے بتاؤ نہ تم مجھ سے محبت کرنے کی خاطر کیا کرسکتی ہو” بہرام ضدی لہجے میں اینجل کے بےحد قریب کھڑا ہوا اُس سے پوچھنے لگا
“یہ بات میں نیچے اتر کر بھی آپ کو بتاسکتی ہوں”
اینجل نے بولتے ہوئے ٹیرس کی دیوار سے نیچے اترنا چاہا مگر بہرام نے اُس کا ارادہ بھانپتے ہوئے تیزی سے جھک کر اینجل کے دونوں پاؤں پکڑ کر اُسے دیوار سے پیچھے کی طرف دکھیلا۔۔۔ ویسے ہی اینجل کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی
“بہرام۔۔۔ یہ ۔۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو تم”
اینجل خوف کے مارے زور سے چیخی اُس کے دونوں پاؤں بہرام پکڑے ہوئے تھے جس کی مدد سے وہ الٹی ہوا میں لٹکی ہوئی تھی
“میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تم محبت کی خاطر کس حد تک جاسکتی ہو۔۔۔ آرام سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہوئے اپنے مفاد کے لئے تم کچھ بھی کرسکتی ہوں مگر اسے محبت نہیں خودغرضی کہتے ہیں اینجل۔۔۔ تم مجھ سے تو کیا کسی سے بھی محبت نہیں کرسکتی، تم صرف اور صرف دھوکا دے سکتی ہوں دھوکے باز عورت ہو تم”
بہرام غصے میں اینجل سے بولا تو اینجل سمجھ گئی وہ اسے پہچان چکا تھا وہ اس سے صرف اور صرف ڈرامہ کررہا تھا
“بہرام پلیز مجھے خوف آرہا ہے میں مر نہیں چاہتی پلیز مجھ پر رحم کرو تمہیں حرم کی قسم ہے پلیز مجھے چھوڑنا نہیں”
یوں الٹا لٹکے نیچے دیکھتے ہوئے اسے بری طرح چکر آرہے تھے وہ بہرام سے التجا کرنے لگی، تبھی بہرام نے اسے اپنی جانب کھینچا تو بہرام کو شولڈر سے پکڑتی ہوئی وہ آنکھیں بند کر کے گہرے سانس لیتے خدا کا شکر ادا کرنے لگی کہ وہ بچ گئی تھی
“آ آہ ہ”
مگر اگلے ہی لمحے جب بہرام نے اُس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا تو تکلیف کے مارے اینجل کے منہ سے سسکی نکلی
“یہ مت سمجھنا کہ میں نے تمہیں اس لیے بچایا ہے کہ تم سے حرم کا پوچھ سکو، حرم اِس وقت تمھاری قید میں نہیں بلکہ میرے پاس موجود ہے۔۔۔۔ تمہیں بچانے کی وجہ یہی ہے کہ دوسری بار میں ایسی غلطی نہیں کرسکتا کہ تم سے میرا رشتہ جڑا رہے اور میں تمہیں موت دے دو، پہلے میں اپنے نام کے ساتھ جڑا تمہارا نام ہمیشہ کے لیے ہٹاؤں گا پھر تمہیں طلاق دینے کے بعد تم سے اپنا رشتہ ختم کرکے تمہیں مار دوں گا۔۔۔ اور اب کی بار میں تمہیں ایسی درد ناک موت دوں گا کہ اگر تم دوسری بار بھی بچ گئی تو میرے پاس آنے کی بجائے خود اپنے آپ کو مارنا پسند کروں گی”
بہرام اینجل سے بولتا ہوا اسے بالوں سے پکڑ ٹیرس بیڈ روم میں لے آیا اور زور سے اُسے بیڈ پر دھکیلا خود وہ ہاتھ میں موٹے چمڑے کی بیلٹ پکڑ کر اینجل کے سامنے آیا تو اینجل بہرام کے ہاتھ میں بیلٹ دیکھ کر بیڈ سے اٹھی
“میں تمہیں ہرگز نہیں روکو گی بہرام، اِس بیلٹ سے تم مجھے مارو اور اتنا مارو کے میری کھال تک ادھیڑ کر رکھ دو
میں اُف تک نہیں کروگی تم اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہو ناں مجھ پر،، یہ سزا میرے گناہ کے آگے کچھ بھی نہیں ہے تم مجھے سخت سے سخت سزا دو مگر پلیز مجھ سے اپنا نام مت چھینو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھ سے اپنا تعلق مت ختم کرنا۔۔۔ میں جانتی ہوں میں کہیں سے بھی تمہارے قابل نہیں بہت گنہگار لڑکی ہوں میں، تمہارے نکاح میں رہ کر تم سے وفا نہیں نبھا سکی، تم پر اپنے ہاتھوں سے گولی چلاتے ہوئے مجھے احساس تک نہیں ہوا کہ میں کیا کررہی ہو مگر تم سے دوری نے مجھے احساس دلا دیا ہے کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں اور یہ بھی کہ میں نے بہت برا کیا تمہارے ساتھ۔۔۔ حرم کی جگہ یہاں تمہارے پاس آنے کا مقصد صرف تمہارے قریب آنا تھا تمہاری محبت حاصل کے لیے اور تمہارے پاس آنے کا کوئی دوسرا مقصد نہیں تھا میرا۔۔۔۔ بہرام میں بہت بری ہوں بہت گناہگار ہوں، تمہاری مجرم ہوں مگر تم دیکھو تمہارے چلنے والی گولی بھی میرے دل کو چھو نہیں پائی تمہارا ہی گفٹ کیا ہوا پینڈیٹ مجھے بچا گیا۔۔۔ تم حرم کے ساتھ رندگی گزارنا چاہتے ہو ناں بےشک اُسی کے ساتھ رہوں مگر مجھے اِس رشتے سے آزاد مت کرنا”
اینجل اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوئی اپنے گناہ کا اعتراف کرنے کے بعد آخر میں نیچے بیٹھ کر بہرام کے پاؤں پکڑتی ہوئی رونے لگی تو بہرام نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بیلٹ پر گرفت مزید سخت کردی وہ غصہ ضبط کرتا ہوا بیلٹ کو دور پھینک کر، بازو سے پکڑتا ہوا اینجل کو اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا
“کل رات میں تمہارے گھر پر حرم کو تو نہیں پہچان پایا مگر تمہاری خصلت میں اچھی طرح جان چکا ہوں۔۔۔ یہ ندامت، شرمندگی اور آنسو دکھا کر تم مجھے بے وقوف نہیں بناسکتی تم وہ لڑکی ہو اگر دس بار بھی مر کر میرے سامنے دوبارہ زندہ ہو جاؤ میں تب بھی تمہارا یقین نہیں کرسکتا نفرت ہوچکی ہے مجھے تم سے اور تمہارے اِس گندے وجود سے۔۔۔ میں اس وقت حرم کو لینے جارہا ہوں اُسے یہاں لاکر، اُس کے سامنے تمہیں طلاق دے کر پھر میں تمہیں یونیورسٹی میں ڈرگ سپلائی کرنے کے جرم میں تمہیں اریسٹ کرواؤں گا، اپنا نام تمہارے نام کے ساتھ جوڑ کر میں اپنے نام کو زندگی بھر کے لئے بد نام نہیں کرنا چاہتا سنا تم نے”
بہرام نے اینجل کو بولتے ہوۓ اُس کے ہاتھ سے ڈائمنڈ کی رنگ اتاری اور اسے بیڈ پر دھکا دیتا ہوا خود حرم کو لینے کے لئے نکل گیا
اینجل چاہتی تو بہرام کے جانے کے بعد آسانی سے وہاں سے فرار ہوسکتی تھی مگر وہ آنسو بہاتی ہوئی بہرام کا انتظار کرنے لگی شاید یہی اس کی سزا تھی کہ بہرام اُس سے اپنا رشتہ ختم کرکے اُسے اریسٹ کروادیتا
“کہاں ہے حرم”
وہ اِس وقت انسپکٹر فرحت کے سامنے کھڑا بےچینی سے اُس سے حرم کے بارے میں پوچھ رہا تھا
“اے سی پی صاحب جب آپ کا فون آیا تھا میں نے فوراً ہی ان کو لاک اپ سے باہر نکالنے کا آرڈر دے دیا تھا آئیے میں آپ کو خود اُن کے پاس لے چلتی ہوں”
انسپکٹر فرحت بہرام کے چہرے کے تاثرات جانچتی ہوئی اُس سے بولی
“وہ ٹھیک ہے” کوریڈور میں انسپکٹر فرحت کے ساتھ چلتا ہوا بہرام انسپکٹر فرحت سے پوچھنے لگا کل کتنی بری حالت میں وہ حرم کو یہاں لےکر آیا تھا
نہ تو اُس کے پاؤں میں جوتے تھے نہ ہی تن ڈھانپنے کے لئے کوئی چادر، طماچوں کے نشان سے سوجھے ہوۓ گال اور بکھرے بالوں میں وہ حرم کو یہاں چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ رات سے اب تک نہ جانے اُس کے ساتھ یہاں کیا سلوک ہوچکا ہوگا بہرام شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی تھا
“آپ بےفکر رہیں انہیں آپ کے آرڈر پر لاک اپ کیا گیا تھا لیکن ان پر جسمانی تشدد نہیں کیا گیا۔۔۔۔ اے سی پی صاحب وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ آپ کی۔۔۔
انسپکٹر فرحت ایک کمرے کے آگے رکتی ہوئی اپنی بات ادھوری چھوڑ کر بہرام کو دیکھنے لگی، بہرام جان گیا وہ کیا پوچھنے والی تھی
“یس شی از ماۓ وائف”
بہرام آئستہ لہجے میں بولا اُس کی بات سن کر انسپیکٹر فرحت ہونق بنی بہرام کا چہرہ دیکھنے لگی
“یہی روم ہے میں اُسے یہاں سے لے جانا چاہتا ہوں”
اپنے چہرے پر حیرت زدہ اٹھتی انسپیکٹر فرحت کی نظروں کو نظرانداز کرتا ہوا وہ بولا تو انسپکٹر فرحت سر ہلا کر سلوٹ کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ بہرام ہمت جمع کرنے لگا کے کمرے میں جاکر حرم کا سامنا کرسکے
لو یو ڈارلنگ لو یو سو مچ”
بہت پہلے اسی بیڈ پر اس کے بےحد قریب بہرام کے بولے گئے جملے اینجل کو یاد آنے لگے تو وہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔ محبت کرنے والے شوہر کے ساتھ بےوفائی کرکے اُس نے خود سے اپنے شوہر کو نفرت کرنے پر مجبور کیا تھا
“محبت ہو یا نفرت کوئی بھی دوسرا جذبہ، بہرام ڈوب کر کرنے کا عادی ہے ٹوٹ کر کرنے کا عادی ہے”
بہرام کا بولا گیا جملہ یاد کرکے وہ بیڈ کے کراؤن سے سر ٹکا چکی تھی
وہ بھلا کیوں اُس سے محبت کرتا یا اُسے معاف کردیتا اُس نے خود ہی اپنے شوہر کے آگے اپنے آپ کو دو کوڑی کا کر چھوڑا تھا۔۔۔ بہرام کو حرم کے ساتھ خوش دیکھ کر آخر وہ کیوں تکلیف میں مبتلا ہوگئی تھی جبکہ اِس سے بڑھ کر تکلیف وہ خود بہرام کو دھوکے بازی کی صورت دے چکی تھی جب بہرام کو معلوم ہوا ہوگا اُس کی عزت وہ کسی غیر مرد کے بستر پر لٹارہی تھی۔۔ اس وقت بہرام کس قسم کی اذیت میں مبتلا ہوا ہوگا، آج اسے بہرام کی تکلیف اذیت اور کرب کا اندازہ ہورہا تھا، تو آج اینجل کو اپنا آپ گرا ہوا محسوس ہونے لگا
وہ حرم کا موبائل اٹھاتی ہوئی اس میں بہرام کی تصویر دیکھنے لگی اُس تصویر میں بہرام ناراض دکھ رہا تھا شاید یہ تصویر بہرام نے حرم کے اصرار پر اسے لینے کی اجازت دی ہوگی
“تم اس قابل ہو کہ تمہیں صاف کردار کی بیوی ملے، اینجل تمہیں ڈیزرو نہیں کرتی، حرم تمہارے لئے بنی ہے وہی اِس قابل ہے کہ تم اُس کے ساتھ اپنی ساری زندگی گزاروں وہ حق رکھتی ہے تمہاری محبت کا”
بہرام کی تصویر دیکھتی ہوئی اینجل بولی تو اسے اچانک فائر کی آواز آئی جس کے بعد لاؤنج میں الارم بجنے لگا انجل جلدی سے بیڈ سے اٹھی مگر وہ جو بھی کوئی تھا اب فلیٹ کے اندر داخل ہوچکا تھا اینجل گھبراہٹ میں ہاتھ میں موجود موبائل سے بہرام کو کال ملانے لگی مگر اُس کا نمبر بند تھا وہ پریشان ہونے لگی
جب وہ حرم کے پاس جانے کے لیے کمرے کے اندر داخل ہوا تو وہ سامنے صوفے پر آنکھیں موندے اپنے دونوں پاؤں پر کیے بیٹھی تھی اِس وقت اُس کے گرم چادر لپٹی ہوئی تھی، صوفے کے نیچے ایک عدد جوڑی سلیپر کی بھی موجود تھی اور سامنے ٹیبل پر ناشتہ بھی موجود تھا لیکن بہرام کو محسوس ہوا جیسے اِس وقت اُسے ناشتے سے زیادہ آرام کی طلب محسوس ہورہی تھی، اسلیے ناشتہ ویسے کا ویسے ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔ بہرام نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ بند کیا اور بغیر قدموں کی آواز کیے حرم کے پاس آیا تاکہ اُس کی نیند میں خلل نہ پڑے لیکن ویسے ہی بہرام کی پاکٹ میں رکھا ہوا موبائل بجنے لگا جسے بہرام نے نکال کر جلدی سے کال کاٹی اور اپنا موبائل بند کردیا لیکن حرم جاگ چکی تھی وہ سیدھی ہوکر بیٹھ جاتی ہوئی سامنے کھڑے بہرام کو دیکھنے لگی بہرام گہرا سانس خارج کرکے حرم کے پاس آکر بیٹھا اور فوراً ہی اُس نے حرم کو اپنے حصار میں لے لیا
“مجھے لگ رہا تھا شاید آپ میرے آنسو دیکھ کر مجھ پر ترس کھالیں مگر آپ مجھے نہیں پہچان پاۓ بہرام۔۔۔ آپ اتنے ظالم اتنے سخت دل ہوسکتے ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی جو سب آپ نے میرے ساتھ کیا وہی سب آپ اینجل کے ساتھ کرتے وہ بھی آپ کی بیوی ہے اُسے آپ یوں جیل میں چھوڑ کر چلے جاتے”
حرم بہرام کے حصار میں اس سے شکوہ کرتی ہوئی بولی بہرام اپنے ہاتھ اسکی کمر سے ہٹاتا ہوا حرم کا چہرہ تھام کر اپنی جانب کرتا ہوا اُس سے بولا
“اگر کوئی عورت ایک بار کسی مرد کے دل سے اتر جائے تو وہ دوبارہ کبھی بھی اُس مرد کے دل میں پہلا والا مقام نہیں پاسکتی اور اِس وقت جو میرے دل میں موجود ہیں اینجل نے اسے نقصان پہنچانے کا سوچا تھا، میری خوشی تمہارے ساتھ میں ہے حرم، اور اُس عورت نے خود مجھ سے بےوفائی کی اور اب وہ تمہیں مجھ سے دور کرنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ تمہارا چہرہ بگاڑنا چاہ رہی تھی تمہاری جگہ پاکر حرم بن کر وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی ان سب باتوں کے لئے میں اُس کو کبھی معاف نہیں کرنے والا، آج تمہارے سامنے اُس سے اپنا رشتہ ختم کرکے اُسے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے نکال دوں گا میرے ساتھ گھر چلو”
بہرام نے سنجیدگی سے بولتے ہوئے حرم کو اٹھانا چاہا تو حرم نے بہرام کی شرٹ کا ایک دم پکڑا
“کل رات وہ میرے روپ میں میری جگہ آپ کے پاس موجود تھی بہرام تو پھر آپ نے اس کو حرم ہی سمجھا ہوگا”
حرام جو بہرام سے پوچھنا چاہ رہی تھی وہ پوچھ نہیں پائی مگر بہرام سمجھ گیا کہ حرم کیا کہنا چاہ رہی ہے اس لیے وہ حرم کے دونوں گالوں کو باری باری چومتا ہوا اُس کا چہرہ دیکھ کر اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا ہوا بولا
“جب تمہیں غلطی سے اینجل سمجھ بیٹھا تو کیا اس کو حرم نہیں سمجھ سکتا تھا ظاہری بات ہے میں اُس کو حرم ہی سمجھا تھا اور وہ تو خود اپنے آپ کو ظاہر بھی حرم ہی کررہی تھی”
بہرام اس قدر سیریس ہوکر بولا تم اُس کی آنکھوں میں پوشیدہ شرارت حرم نہیں دیکھ سکی اس لیے اس کے ذہن میں الٹے سیدھے خیالات گردش کرنے لگے
“کیا سوچ رہی ہو اتنا سیریس ہوکر گھر واپس نہیں چلنا”
بہرام اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا
“نہیں پہلے آپ بتائیں جب آپ نے کل رات اسے حرم سمجھا پھر اس کے بعد کیا ہوا”
حرم بالکل سیریس ہوکر بہرام کا چہرہ دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔ حرم کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر بہرام مشکل سے ہی اپنی آنے والی ہنسی کو روک پایا
“یار ہونا کیا تھا اب دونوں بیویوں کی ایک جیسی شکل اِس میں میری کیا غلطی ہے تم خود ہی سوچ لو تمہیں اپنے چچا کے گھر سے یوں اچانک اپنے پاس آتا دیکھ کر خوشی میں میرا کیا ری ایکشن ہوتا، موبائل پر کل رات تم سے ہی تو بات کر رہا تھا نان اندازہ نہیں لگایا تم نے تمہیں کتنا مس کررہا تھا میں”
بہرام اس کے چہرے کے پل پل پریشان کن زاویے دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“خاموش کیوں ہوگئے بولتے جائے آگے، میں سن رہی ہوں”
حرم خود سے تصور کرکے سوچتی ہوئی اپنا دل برا کرتی بہرام سے بولی
“سن کر کیا کروں گی اپنا دل ہی جلاؤ گی اب جو کل رات کو ہونا تھا وہ تو ہو ہی چکا ہے پھر اُس کے بعد دوبارہ صبح بھی۔۔۔۔ چھوڑو ناں یار اب گھر چلو اپنے”
بہرام حرم کو افسوس سے بتاتا ہوا اٹھنے لگا حرم نے غصے میں بہرام کی شرٹ کھینچ کر اُسے واپس صوفے پر بٹھا لیا
“رات کے بعد دوبارہ صبح بھی۔۔۔ بہرام آپ۔۔۔ شرم نہیں آئی آپ کو”
حرم کو سوچ سوچ کر غصہ آنے لگا وہ صدمے کی کیفیت میں بہرام سے بولی
“تمہارے سامنے کبھی شرم آئی ہے جو اُس کے سامنے آتی۔۔۔ ویسے بھی میں اس کو تم ہی سمجھ رہا تھا اور صبح تو اس کی سب ڈیمانڈ پر۔۔۔ یار مت سوچو زیادہ بس گھر چلو”
بہرام حرم کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا جسے حرم نے بےدردی سے جھٹکا اور غصے میں بولی
“صبح اس کی ڈیمانڈ پر بہرام۔۔۔ آپ نے میرے منہ سے کب ایسی ڈیمانڈ سنی”
حرم غصہ ہونے کے باوجود جگہ کا احساس کرتی ہوئی دبی ہوئی آواز میں چیخی
“تو تم بھی ڈیمانڈ کر کے دیکھ لو اگر پوری نہ کروں تو شکوہ کرنا۔۔۔ اور اب اس بات کو بھی اچھی طرح اپنے دوپٹے سے گراہ لگالو کے آئندہ رات میں تم مجھے چھوڑ کر کبھی بھی اپنے چچا جان کے گھر نہیں رکو گی دیکھا دو بار تمہارا چانس پہلی والی لے گئی”
بہرام کے بولنے پر حرم نے جل کر اُسے دیکھا تو
بہرام اپنی ہنسی روکتا ہوا دوبارہ بولا
“یار اب اتنے غصے میں مت دیکھو مجھے، جیسے ہی مجھے شک گزرا کہ وہ اینجل ہے ویسے ہی میں دوڑا ہوا تمہارے پاس چلا آیا۔۔۔ بس اب پریشان ہونا چھوڑو اپنے گھر چلتے ہیں”
بہرام نے بولتے ہوئے دوبارہ حرم کا ہاتھ پکڑا
“کیا آپ بار بار گھر چلنے کا بول کر میرا دل جلا رہے ہیں، کیا کروں گی اب میں آپ کے ساتھ اُس گھر میں جاکر۔۔۔ نہیں جانا مجھے اب کہیں بھی اُس بیڈ روم میں اس بیڈ پر جہاں آپ میری بجائے اُس کے ساتھ۔۔۔۔ شک گزرا تو تمہارے پاس دوڑا چلا آیا۔۔۔ دو بار اس کے قریب جاکر آخر کار شک ہو ہی گیا۔۔۔۔ تو پھر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی اب اِسی کو رکھیں اپنے پاس اور روز روز اُس کی ڈیمانڈ پوری کریں”
بولتے ہوئے حرم کو رونا آنے لگا بےشک بہرام وہ بھی بہرام کی بیوی تھی بہرام کا اس سے جائز تعلق تھا مگر اِس وقت حرم کے دل پر کیا گزر رہی تھی یہ بہرام نہیں جان سکتا تھا
“اگر اُس کو اپنے ساتھ رکھوں گا تو پھر تم کہاں رہوں گی”
بہرام حرم کا ضبط سے سرخ چہرہ دیکھ کر سنجیدگی سے اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔ حرم کا ہاتھ ابھی بھی بہرام کی گرفت میں تھا جسے وہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا اور حرم اُس سے چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی
“روقّیہ سے کہہ کر مجھے بھوری کے لاک اپ میں بند کروادیں بھوری کے ساتھ رہ لوں گی میں”
بولتے ہوئے حرم کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے، ضبط نے جواب دیا تو اس نے بری طرح رونا شروع کردیا
“حرم پلیز یار کیا ہوگیا ہے تمہیں”
بہرام جو ابھی تک اس کی جلی کٹی باتوں کو انجوائے کررہا تھا حرم کو روتا ہوا دیکھ کر اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا حرم کو دوبارہ اپنے حصار میں لے چکا تھا
“آپ کیسے اس کے ساتھ وہ سب کرسکتے ہیں بہرام، ایک پل کے لئے آپ کو احساس نہیں ہوا آپ کے اتنے قریب جو وجود ہے وہ آپ کی حرم کا نہیں۔۔۔ آخر کیسے محسوس نہیں کیا آپ نے کہ وہ میں نہیں تھی کیوں نہیں پہچان پاۓ آپ اسے”
بہرام کے حصار میں حرم روتی ہوئی سسک پڑی بہرام نے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے حرم کا چہرہ تھام کر اپنے چہرے کے قریب کیا
“یہاں میری آنکھوں میں غور سے دیکھو حرم۔۔۔ نہ کل رات کو کچھ ہوا تھا نہ ہی آج صبح ویسا کچھ ہوا۔۔۔ میں صرف اور صرف اپنے لیے تمہاری محبت اور شدت جانچنا چاہ رہا تھا جبھی تم سے اسطرح بولنے لگا۔۔۔ لیکن یہ جو تم آنسو بہانے لگی ہو یہ نہیں دیکھ سکتا میں تمہاری آنکھوں میں۔۔۔ جو کچھ میں اینجل سمجھ کر میں تمہارے ساتھ کرچکا ہوں اُس سے بھی زیادہ تکلیف دے رہے ہیں یہ آنسو مجھے پلیز انہیں صاف کرلو۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ناں بےرحم ہوں میں مگر بےوفا نہیں”
بہرام نے حرم سے بولتے ہوئے اپنی جیب سے ڈائمنڈ کے رینگ نکال کر اس کو پہنادی کیوکہ وہی اس انگوٹھی کی اصل مالک تھی۔۔۔ ڈائمنڈ رنگ اپنے ہاتھ کی انگلی میں واپس دیکھ کر حرم خوش ہوگئی یہ انگوٹھی اُس کے لیے معنی رکھتی تھی کیونکہ یہ بہرام کی طرف سے دیا گیا اُس کے لئے پہلا تحفہ تھا
“آپ سچ کہہ رہے ہیں ناں کہ بہرام”
حرم بہرام کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی لیکن اندر سے اُس کا دل گواہی دے رہا تھا بہرام اُسے بالکل سچ کہہ رہا تھا
“ہماری شادی کے پہلے دن سے آج تک میں نے تم سے جھوٹ نہیں بولا حرم لیکن اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہیں ابھی یقین دلادیتا ہوں”
بہرام نے بولتے ہوئے حرم کے گرد اپنے بازوؤں سے حصار بناکر پورے استحقاق سے اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹوں کو چھوا تو حرم پیچھے ہٹتی ہوئی خود میں سمٹنے لگی۔۔۔ بہرام کی حرکت کر اس نے اپنے گرد لپٹی ہوئی شال کو مزید اپنے گرد لپیٹ لیا۔۔۔ بہرام اس کا شرمایا ہوا روپ دیکھ کر شکر ادا کرنے لگا کہ ایک باکردار لڑکی اُس کی بیوی ہے
“آپ کو بھی خیال نہیں رہتا کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں یہ ہمارا گھر نہیں ہے”
بہرام کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے حرم اس سے شکوہ کرتی ہوئی بولی
“جبھی تو بار بار گھر چلنے کا تم سے بول رہا ہوں تم سمجھ ہی نہیں رہی ہو”
بہرام اب کی بار شرارت سے بولا جس پر حرم نے آنکھیں پھیلا کر اس کو گھورا تو بہرام مسکراتا ہوا کھڑا ہوگیا اس کے ساتھ حرم بھی گھر جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی
“تم لوگ یہاں کیا کررہے ہو سب خیریت ہے” بہرام حرم کو لے کر اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نکل رہا تھا تبھی اسے انسپیکٹر مہران کے ساتھ انسپکٹر شیمل اور ندیم بھی اپنی طرف آتے دکھائی دئیے بہرام حرم کو لےکر اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نکل رہا تھا تب اسے انپیکٹر مہران کے ساتھ انسپکٹر شیمل اور انسپیکٹر واصف اپنی طرف آتے ہوئے دکھائی دیے بہرام کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا انسپیکٹر مہران سے بولا۔۔۔ جو اسی کی طرح ان دونوں کے ساتھ سول ڈریس میں موجود تھا
“سر شاید آپ کا موبائل آپ کے پاس موجود نہیں تھا اس لئے آپ جان نہیں پائے کہ آپ کے پیچھے آپ کے فلیٹ میں کیا ہوا ہے”
انسپیکٹر مہران کے بولتے ہی بہرام اپنا موبائل پاکٹ سے نکال کر اَن کرنے لگا مگر اس سے پہلے انسپکٹر مہران اسے تمام تر واقعہ سنا چکا تھا جسے سن کر بہرام کا غصہ سے برا حال ہوگیا، یعقوب نیازی کی اتنی ہمت کے اُس کے آدمی اُس کے فلیٹ میں داخل ہوکر اُس کی بیوی اٹھالیتے
“پستول دو مجھے”
بہرام غصے سے انسپیکٹر مہران سے بولا
“سر میں نے شیمل اور واصف نے فیصلہ کیا ہے ہم تینوں بھی اپ کے ساتھ یعقوب نیازی کے گھر جائیں گے”
انسپیکٹر مہران بہرام کو اپنے ساتھ باقی ان دونوں کے ارادے سے بھی آگاہ کرتا ہوا بولا جس پر بہرام نے اُس کی بات فوراً رد کردی
“یہ میری اپنی لڑائی ہے میں اچھی طرح مقابلہ کرنا جانتا ہوں”
بہرام کے بولنے پر انپیکٹر شیمل اُس سے بولا
“سر یہ آپ کے اکیلے کی لڑائی نہیں ہے یہ ہر اُس انسان کی لڑائی ہے جو اپنے جسم پر پولیس کی وردی پہنتا ہے، آج اگر یعقوب نیازی کو ہم سب نے مل کر اس کی گری ہوئی حرکت کا جواب نہیں دیا تو کل کو کوئی دوسرا یعقوب نیازی بن کر ہماری گھر کی عزتیں اچھالے گا۔۔۔ ہم نے مستقبل میں اپنی بہن بیٹیوں کی عزت بچانے کی خاطر یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے بےشک آگے سے ہمہیں معطل کرنے کا آرڈر بھی جاری کر دئیے جاۓ لیکن ہم اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے”
انسپیکٹر شیمل کے بولنے کے بعد انسپیکٹر مہران بولا
“سر سوچنے کا وقت نہیں ہے ہم تینوں اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے پلیز چلیں۔۔۔ میں نے یعقوب نیازی کے بنگلے کی تمام تر تفصیلات حاصل کرلیں”
اس نے انسپیکٹر مہران کو کہتے سنا
“میں خود چل رہی ہوں چھوڑ میرا ہاتھ” اینجل زور سے خالد کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی جو اسے یعقوب نیازی کے کمرے میں لے جارہا تھا۔۔۔ اینجل سمجھ چکی تھی کہ بہرام کے فلیٹ میں گھُس کر اسے اٹھانے کی گری ہوئی حرکت یعقوب نیازی کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا تھا
“سر آپ کے حکم سے لے آئے اے سی پی کی بیوی کو دوبارہ۔۔۔ اُس دن تو بڑی ڈری ہوئی تھی آج بڑی نڈر بنی ہوئی ہے”
یعقوب نیازی کا وفادار اینجل کو اُس کے کمرے میں لاتا ہوا بولا تو یعقوب نیازی سر سے پاؤں تک اینجل کا جائزہ لینے لگا ساتھ ہی اُس نے خالد کو کمرے سے جانے کا اشارہ کیا
“آپ کا یہ بیوقوف آدمی مجھے بہرام کی دوسری بیوی سمجھ کر اٹھا لایا ہے شاید۔۔۔ آپ بھی مجھے حرم سمجھ رہے ہوں گے مسٹر یعقوب لیکن میں آپ کو کلئیر کردو کے حرم نہیں بلکہ اینجل ہوں”
اینجل یعقوب نیازی کی خباثت بھری نظروں کو نظر انداز کرتی ہو اسے حقیقت بتانے لگی تو یعقوب نیازی کے چہرے سے مکروہ ہنسی غائب ہوگئی وہ غور سے اینجل کو دیکھتا ہوا حیرت سے بولا
“تو تم زندہ ہو سوئیٹ ہارٹ پھر اُس اے سی پی کے فلیٹ میں کیا کررہی تھی تمہیں تو یہاں اپنے یعقوب کے پاس ہونا چاہیے تھا۔۔۔ اتنی دور کیوں کھڑی ہو مجھ سے” یعقوب نیازی مسکراتا ہوا اپنے بازوؤں کو کھول کر اینجل کی طرف بڑھا تو اینجل نے یعقوب کے قریب آنے پر اُس کے بازوؤں کو جھٹکا اور اُس سے چند قدم دور ہوئی
“اپنے حد میں رہیں مسٹر یعقوب مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب آپ مجھے گولی لگتا دیکھ کر وہاں مرنے کے لیے چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔۔۔ اور آپ کو بھی یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ میں اب بھی بہرام عباسی کی بیوی ہوں اس کے نکاح میں ہوں میں”
اینجل کی بات سن کر یعقوب نیازی نے زوردار قہقہہ کا مارا
“بول تو تم بھی ایک بات رہی ہو۔۔۔ یعقوب نیازی کی رکھیل رہ چکی ہو تم، یاد کرو وہ دن جب تم نے اے سی پی سے چھپ کر میرے بلانے پر میرے پاس آئی تھی۔۔۔ وہ گزرے ہوئے خوبصورت لمحات کیسے فراموش کرسکتی ہو تم” یعقوب نیازی کی باتیں سن کر اینجل کا چہرہ خجالت اور شرمندگی سے سرخ ہونے لگا۔۔۔ اُسے اپنے وجود سے نفرت اور سامنے کھڑے آدمی سے کراہیت آنے لگی
“کچھ نہیں بھولا ہے مجھے یعقوب نیازی ایک عزت دار مرد کی بیوی بننے کے بعد بھی میں گند میں منہ مارتی رہی یہ روگ تو اب ناسور بن کر شاید ساری عمر میرے اندر پلتا رہے گا۔۔۔ لیکن اب میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ میں اپنے شوہر کے نام اور عزت پر حرف تک نہیں آنے دوں گی”
اینجل یعقوب نیازی سے بناء ڈرے اُس کو جتاتی ہوئی بولی اور اُس کے کمرے سے باہر جانے لگی تبھی یعقوب نیازی نے اسے اپنی گرفت میں لےکر بیڈ کر دھکیل دیا
“چونٹی کے پر نکل آئے ہیں ہاں۔۔۔ اس آئی سی پی کی عزت بچاؤ کی تم۔۔۔ اُس کی عزت کی تو آج میں ایسی دھجیاں بکھروں گا کہ روئے گا وہ آج کا دن یاد کر کے”
یعقوب نیازی بولتا ہوا تیزی سے بیڈ کی جانب بڑھا اس سے پہلے وی اینجل کے اوپر جھکتا۔۔۔ اینجل نے پوری طاقت سے اسے لات ماری۔۔۔
اس کی لات اتنی اچانک اور زوردار تھی یعقوب نیازی پیچھے گرتا ہوا چیخ اٹھا جس کا فائدہ اٹھاتی ہوئی اینجل بیڈ سے اٹھ کر اپنا دوپٹہ ہاتھ میں لیتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکلی
“کہاں مر گئے ہو تم سب گیٹ بند کرو باہر کا اور قابو کرو اس کمینی کو”
اینجل تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی تب یعقوب نیازی کمرے سے باہر نکلتا ہوا چیخ کر اپنے آدمیوں کو حکم دیتا ہوا بولا
“ہاں ندیم بولو”
گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہوا انسپیکٹر مہران موبائل کان سے لگائے بولا تو اُس کے برابر میں بیٹھا ہوا بہرام اپنی سوچوں سے نکل کر چونکا
“سر یعقوب نیازی کے گھر کے مین گیٹ پر کافی سخت سیکیورٹی ہے وہاں سے آپ کا بنگلے کے اندر جانا ناممکن ہے۔۔۔ جبکہ گھر کے پچھلے گیٹ پر صرف ایک ہی سکیورٹی گارڈ موجود ہے”
ندیم انسپکٹر مہران کو انفارم کرتا ہوا بتانے لگا
“ٹھیک ہے پھر ہم پچھلے گیٹ سے ہی یعقوب نیازی کے گھر کے اندر داخل ہوں گے، مشکل سے پانچ منٹ میں ہم اس جگہ پر پہنچنے والے ہیں تم ایسا کرو اس سکیورٹی گارڈ کو تھوڑی دیر کے لیے گیٹ سے غائب کردو”
انسپیکٹر مہران ندیم کو آرڈر دیتا ہوا رابطہ منقطع کرچکا تھا جبکہ انسپکٹر شیمل نے مہران کی بات سن کر گاڑی پچھلی طرف موڑ لی بہرام سوالیہ نظروں سے انسپہکٹر مہران کو دیکھنے لگا تبھی انسپکٹر مہران بہرام کو بتانے لگا
“ندیم سے کہہ کر یعقوب نیازی کے گھر کے آس پاس کی ساری انفارمیشن لی ہے ہمیں گھر کی پچھلی طرف سے اندر جانا ہوگا”
انسپیکٹر مہران بہرام کو بتانے لگا جس پر اُس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ یہاں ان لوگوں کے ساتھ آنے سے پہلے بہرام نے حرم کو عفان کے گھر پہنچا دیا تھا جب تک اپنے فلیٹ میں وہ جب خود جاکر جائزہ نہیں لے لیتا حرم کو وہاں بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا
صورتحال ایسی تھی کہ وہ حرم کو اس کے چچا کے گھر بھیجنے کا بھی رسک نہیں لے سکتا یعقوب نیازی کی حرکت جاننے کے بعد عفان نے میڈیا کے ذریعے اس خبر کو نشر کرنے کا بولا تھا مگر بہرام نے اسے فلحال اسے ایسا کرنے سے سختی سے منع کردیا تھا
پستول سے نکلی ہوئی گولی شیمل کے بازو پر لگی تو وہ زخمی ہو کر نیچے زمین پر گر پڑا۔۔۔ وہ تینوں الرٹ ہونے کے باوجود شیمل کی طرف متوجہ ہوئے ان کو چاروں طرف سے یعقوب نیازی کے آدمیوں نے گھیرلیا ان سب کے ہاتھوں میں اسلحہ موجود تھا
بہرام مہران واصف سے ان کے ہتھیار لے کر یعقوب نیازی کے آدمی شیمل سمیت ان تینوں کو یعقوب نیازی کے پاس گھر کے اندر لے آئے
“آؤ اے سی پی آؤ۔۔۔۔ مجھے اچھی طرح اندازہ تھا جیسے ہی تمہیں میرے کارنامے کے خبر ہوگی تم دندناتے ہوئے یہاں پہنچ جاؤں گے اس لیے تمہارے شاندار استقبال کی پہلے سے ہی میں نے تیاری کر رکھی تھی”
ان چاروں کو یعقوب نیازی کے آدمیوں نے ابھی بھی گھیرا ہوا تھا یعقوب نیازی سیڑھیوں سے اترتا ہوا بہرام کو دیکھ کر بولا
“اپنے ہی گھر میں تو کُتا بھی اپنے آپ کو شیر سمجھنے کی غلطی کرتا ہے یعقوب نیازی لیکن آج کا دن تم ہمیشہ یاد رکھنے والے ہو میں تمہارے ہی گھر میں تمہاری ہی آدمیوں کے سامنے تمہاری حالت گلی کے کتُے سے بھی بدتر کرکے جاؤں گا”
بہرام غصے میں یعقوب نیازی کو دیکھتا ہوا بولا تو یعقوب نیازی بہرام کی بات پر قہقہہ مار کر ہنسنے لگا
“کون کس کے آدمیوں کے سامنے کس کی حالت کُتے جیسی کرتا ہے یہ تو تمہیں ابھی اور اسی وقت معلوم ہوجائے گا۔۔۔ خالد ذرا اے سی پی صاحب کی بیوی کو تو یہاں لے کر آؤں”
یعقوب نیازی بہرام کو بولنے کے ساتھ ہی اپنے خاص ملازم کو بھی حکم دیتا ہوا بولا جس پر بہرام نے غصے میں یعقوب نیازی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی مگر یعقوب نیازی کے آدمی اُسے پکڑ چکے تھے
“ارے بھئی ذرا مضبوطی سے پکڑو کیوکہ اب اے سی پی اپنی آنکھوں سے جو منظر دیکھنے والا ہے اس کے بعد اِس بچارے کو سہارے کی ضرورت پڑے گی”
یعقوب نیازی مکروہ ہنسی ہنستا ہوا اپنے آدمیوں سے بولا جس کی گرفت میں بہرام موجود تھا باقی کے آدمیوں نے ان تینوں کو بھی گرفت میں لیا ہوا تھا
“یعقوب نیازی اگر اپنی مردانگی دکھانی ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو اِسے چھوڑ دو”
یعقوب نیازی کا وفادار جب اینجل کو ہال میں لےکر آیا تو بہرام اینجل کی آنکھوں میں آنسو اور اُس کی بگڑی ہوئی حالت دیکھ کر بولا۔۔۔ اینجل کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے اُس پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہو
“اے سی پی میں مرد نہیں بلکہ درندہ ہوں۔۔۔ آج تو میری مردانگی نہیں بلکہ درندگی دیکھو گے۔۔۔ اور پچھتاؤ گے نری طرح کہ کیو تم نے مجھ سے ٹکر لی۔۔۔ یہ لڑکی جو چند ماہ پہلے میری رکھیل رہ چکی ہے اب بھی تمہارے نکاح میں ہے۔۔۔ بے فکر رہو آج میں اِس کے ساتھ کچھ نہیں کرنے والا، میں تو صرف آج تمہاری شکل دیکھو گا جب میرے آدمی ایک ایک کرکے تمہاری بیوی کے ساتھ۔۔۔۔ ہاہاہا یقین جانو تمہاری عزت کے پراخچے اڑتے دیکھ کر مجھے بہت مزا آئے گا”
یعقوب نیازی کی بات سن کر بہرام غصے کی شدت سے بری طرح چیخ اٹھا اور ایک بار پھر یعقوب نیازی کے آدمیوں کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا جبکہ اینجل وہی گھڑی یعقوب نیازی کی بات سن کر ہوچکی تھی۔۔ اس کے ماتھے سے خون بہ رہا تھا آنکھوں کے پاس نیل کا نشان اور پھٹا ہوا ہونٹ اس کی ابتر حالت بیان کرنے کے لیے کافی تھا لیکن اب یعقوب نیازی اس کی کیا حالت کرنے والا تھا وہ بھی بہرام اور دوسرے مردوں کے سامنے
“چلو بھئی دیر مت کرو ایک ایک کر کے آؤ۔۔۔ باری باری آج سب کو موقع ملے گا خالد سب سے پہلے یہ نادر موقع تمہیں دیا جاتا ہے آجاؤ بھئی میدان میں”
یعقوب نیازی ساری صورتحال کو انجوائے کرتا ہوا بولا خالد گندی نگاؤں سے اینجل کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھنے لگا اینجل پیچھے قدم ہٹاتی آنسو بھری آنکھوں سے بہرام کی جانب دیکھنے لگی جسے یعقوب نیازی کے آدمی اب بری طرح مار رہے تھے یہی سلوک یعقوب نیازی کے دوسرے آدمی مہران واصف اور شیمل کے ساتھ بھی کررہے تھے
“میرے قریب مت آنا چھونا نہیں مجھے ورنہ مار ڈالو گی میں تمہیں”
اینجل چیختی ہوئی خالد کو دیکھ کر بولی جو تیزی سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا
اینجل نے خالد کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا تو وہ بھاگتے ہوئے اپنے قدم بہرام کی جانب بڑھانے لگی۔۔۔ بہرام نے اینجل کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر، یعقوب نیازی کے آدمی کے ہاتھ سے اچانک اس کی پستول چھینی
“اینجل”
اس سے پہلے وہ لوگ بہرام کے ہاتھ میں موجود پستول چھین لیتے بہرام نے پستول کو اینجل کی جانب اچھالا تاکہ وہ اپنا بچاؤ کرسکے
“خبردار آگے نہیں بڑھنا ایک بھی قدم میری طرف”
اینجل کانپتے ہوئے ہاتھوں میں پستول تھام کر پستول کا رُخ خالد کی طرف کرتی ہوئی بولی ایک منٹ کے لئے پورے ہال میں گہرا سکوت چھا گیا۔۔۔ یعقوب نیازی کے آدمی بہرام اور ان تینوں کو دوبارہ اپنی گرفت میں لے چکے تھے جبکہ اینجل کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر یعقوب نیازی کو غصہ آنے لگا
“جان سے مار ڈالو اس اے سی پی کو ابھی اور اسی وقت”
یعقوب نیازی نے غصے میں اپنے آدمیوں کو حکم دیا ویسے ہی ہال میں فائر کی آواز گونجی سب کچھ ایک پل کے لئے ساکت ہوگیا پل بھر میں اینجل کا وجود خون سے لبریز ہوکر لہراتا ہوا زمین بوس ہوا۔۔۔
وہ بہرام کی جان اور اپنی عزت بچانے کی خاطر خود کو گولی مار چکی تھی۔۔۔
اینجل کو گولی لگتے ہی بہرام کے دیکھا دیکھی مہران شیمل اور واصف نے بھی یعقوب نیازی کے آدمیوں سے ان کے ہتھیار چھین کر ان پر اسٹریٹ فائر کرنا شروع کردیئے، ان فائر کی ضد میں یعقوب نیازی بھی آگیا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر پورے ہال میں گولیوں کی آواز گونجنے لگی
تھوڑی ہی دیر میں یعقوب نیازی سمیت اس کے آدمی بےجان وجود ہوکر زمین پر گر چکے۔۔۔ بہرام تیزی سے اینجل کی طرف بڑھا
“یہ کیا کردیا تم نے اپنے ساتھ میں نے تمہاری طرف پستول اس لیے اچھالی تھی تاکہ تم اپنی جان کی حفاظت کرسکوں”
بہرام اینجل کے زخمی وجود کو ذرا سا اٹھاکر اس کے شانے کے گرد اپنا بازو دراز کرتا ہوا بولا تو اینجل نے بند آنکھیں کھول کر بہرام کا چہرہ دیکھا
“آج اپنی جان سے پہلے اپنی عزت کی حفاظت کرنا ضروری ہوگیا تھا اگر ایسا نہیں کرتی تو تم زندگی بھر شرمندگی سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے دیکھو آج میں نے تمہیں دنیا کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیا”
اینجل تکلیف کی شدت سے تڑپتی ہوئی بولی پیٹ پر لگنے والی گولی سے اُس کا خون تیزی سے بہہ رہا تھا بہرام اینجل کی بات سن کر ایک پل کے لئے بالکل خاموش ہوگیا پھر آہستگی سے بولا
“کچھ نہیں ہوگا تمہیں تم حوصلہ مت ہارنا ہم ابھی ہاسپٹل پہنچ جائیں گے تھوڑی دیر میں” بہرام اینجل کو ہمت دلاتا ہوا بولا، انسپیکٹر مہران موبائل پر ایمرجنسی میں ایمبولینس کو بلانے کے لئے کال کررہا تھا جبکہ شیمل خود زخمی زدہ ہونے کی وجہ سے بےہوش ہوچکا تھا واصف کی توجہ شیمل کی طرف ہی تھی
“شاید تب تک میری سانسیں میرا ساتھ نہیں دے سکے گیں ایک بات مانو گے میری بہرام” اینجل خون ہاتھ سے بہرام کا گال چھوتی ہوئی بولی
“تم پہلے ٹھیک ہوجاؤ پھر مان لوگا تمہاری بات ابھی خاموش ہوجاؤ”
بہرام نے اینجل کو دیکھ کر ایک بار پھر تسلی دی آج جو کچھ اینجل نے کیا تھا شاید بہرام کو ہرگز توقع نہیں تھی تبھی وہ اتنا نرم پڑگیا تھا
“میں تمہیں بےرحم سمجھتی تھی مگر تم بےرحم نہیں ہو۔۔۔۔ حرم سے محبت ہے ناں تمہیں، تم ساری عمر اُسی سے محبت کرنا بس میرے جانے کے بعد مجھ سے نفرت مت کرنا۔۔۔ محبت نہ سہی مگر نفرت بھی مت کرنا مجھ سے پلیز”
اینجل کی بات اس نے بہت ضبط کرتے ہوئے سنی تھی
“تم ڈھیٹ ہو مجھے معلوم ہے تم اتنی جلدی مجھے نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔ اینجل آنکھیں کھول کر رکھو شاید ایمبولینس آ چکی ہے”
بہرام نے انسپیکٹر مہران کو کہتے سنا تو۔۔۔ وہ اینجل کو ہلکے سے جھنجھوڑتا ہوا بازوؤں میں اٹھانے لگا تو اینجل نے اسے وہی روک دیا
“اتنی بھی ٹھیک نہیں ہوں جتنا تم نے سمجھ لیا ہے۔۔۔ بہت تکلیف میں ہوں میں اس وقت۔۔۔ لیکن اب تمہاری زندگی میں اینجل دوبارہ کبھی تمہیں پریشان کرنے نہیں آئے گی۔۔۔ بہرام میں تم سے واقعی۔۔۔ م۔۔ح۔۔ب۔۔ت”
اینجل کا جملہ ادھورا ہی رہ گیا اُس کی دھڑکن بالکل ساکت ہوگئی بہرام خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھے گیا جس پر تکلیف کے آثار کی بجائے اب سکون چھایا ہوا تھا
تھوڑی ہی دیر میں وہاں ایمبولینس اور میڈیا کی ٹیم ان پہنچی تھی۔۔۔ اپنے شانے پر دباؤ محسوس کر کے بہرام نے سر اٹھاکر انسپکٹر مہران کو دیکھا
“آپریشن فیل ہوگیا”
انسپکٹر مہران کی مایوس کن آواز بہرام کے کانوں میں پڑی۔۔۔ اسٹریچر پر اینجل کے مردہ وجود کو ڈال کر ایمبولینس میں لے جایا جارہا تھا دوسری طرف یعقوب نیازی کا مردہ وجود بھی ابھی تک وہی پڑا ہوا تھا جسے دیکھتا ہوا بہرام انسپکٹر مہران سے بولا
“آپریشن کامیاب ہوا ہے یعقوب نیازی جیسے انسان کا انجام دیکھ کر کوئی بھی انسان کسی غیرت مند انسان کی عزت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ضرور سوچیں گا”
بہرام انسپیکٹر مہران سے کہتے ہوئے ہال سے باہر جانے لگا۔۔۔ وہی عفان یعقوب نیازی کے گھر کے اندر کیمرے کے سامنے لائف کوریج دکھا رہا تھا
رات کے گیارہ بج چکے تھے مگر نیوز چینل پر ابھی بھی صبح ہونے والے واقعے کے بارے میں بتایا جارہا تھا حرم نے چور نگاہوں سے بہرام کی طرف دیکھا جو بالکل خاموشی سے اسکرین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو کچھ آج صبح ہوچکا تھا اس کے بعد جب شام میں بہرام حرم کو لینے عفان کے گھر آیا تو حرم اس کے کپڑے پر خون دیکھ کر بری طرح گبھرائی تھی مگر جیسے جیسے سارے واقعات اس نے عفان سے سنے تب اسے اینجل کے دنیا سے چلے جانے کا معلوم ہوا جس پر اسے کافی دکھ ہوا تھا
عفان کے حددرجہ اصرار پر بھی بہرام اس کے گھر پر نہیں رکا، نہ ہی حرم کے چچا کے کہنے کے باوجود وہ حرم کو لے کر ان کے گھر پر کار۔۔۔ بہرام حرم کو اپنے ساتھ ریسٹ ہاؤس لے آیا تھا کیونکہ صبح یعقوب نیازی کے آدمیوں نے اس کے فلیٹ کی حالت رہنے کے قابل نہیں چھوڑی تھی اس لئے وہ حرم کو اپنے ساتھ اپارٹمنٹ میں لانے کی بجائے اس کا اور اپنا ضرورت کا سامان یہاں لے آیا تھا
“بہرام کیا آپ نیوز دیکھ رہے ہیں”
یہ شام سے اب تک تیسری بات تھی جو حرم نے اس سے پوچھی تھی
“نہیں تو ہٹادو یہ نیوز چائینل بلکہ آف کردو ایل ای ڈی”
بہرام ایک دم حرم کو دیکھتا ہوا بولا
حرم نے انتظار کیے بغیر ریموٹ کنٹرول اٹھا کر ایل ای ڈی بند کردیا صبح سے اب تک یہی سب کچھ دیکھ کر اس کا دل گھبرانے لگا تھا اچانک حرم کے موبائل پر جیاء کی کال آنے لگی۔۔۔۔ حرم کے ساتھ بہرام کی بھی نظریں ٹیبل پر رکھے حرم کے موبائل پر گئیں
“میری شام میں آپی سے بات ہوچکی ہے وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہوگیں بہرام”
حرم اپنا موبائل اٹھا کر بہرام کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی
“جیاء سے کہو میں کل خود کال کر کے بات کرلوں گا اس سے”
بہرام حرم کو دیکھتا ہوا بولا تو حرم اپنا موبائل لے کر دوسرے کمرے میں چلی آئی
“معلوم نہیں آپی کیا سوچے جارہے ہیں۔۔۔ کیوں اتنے خاموش ہیں مجھے تو سچ میں سوچ سوچ کر گھبراہٹ ہو رہی ہے”
حرم بہرام کا رویہ دیکھکر ناجانے کیا کیا سوچے جارہی تھی جیاء سے شیئر کرتی ہوئی بولی
“اپنی طرف سے کسی بھی بات کا تصور نہیں کرنا چاہیے حرم اور اگر وہ خاموش ہے تو تم بات کرو اس سے، بیوی ہو اسکی۔۔۔ جاکر پوچھو اس سے کیا بات ہے”
جیاء حرم کو سمجھاتی ہوئی بولی تھوڑی دیر جیاء سے بات کرنے کے بعد حرم دوبارہ کمرے میں آئی تو بہرام ابھی بھی اسی پوزیشن میں بالکل خاموش بیٹھا ہوا تھا
“کہیں اینجل کے جانے کا کچھ زیادہ ہی صدمہ تو نہیں لے لیا انہوں نے۔۔۔ نہیں نہیں مجھے اس طرح نہیں سوچنا چاہیے آپی صحیح کہہ رہی تھی مجھے بات کرنی چاہیے بہرام سے”
حرم قدم اٹھاتی ہوئی بہرام کے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔ اس نے بہرام کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا جس سے بہرام بےخیالی میں دیکھنے لگا پھر کچھ سوچ کر اس نے حرم کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ رکھا۔۔۔۔ حرم بہرام کو اپنی اٹحاتی، اس سے پہلے بہرام نے حرم کو اپنی جانب کھینچا تو حرم اُس کے اوپر آگری
“بولو کیا کہنا چاہ رہی ہو مجھ سے”
بہرام حرم کا پریشان چہرہ دیکھ کر اسے اپنی گود میں بیٹھاتا ہوا بولا
“آپ شام سے ایسے ہی بیٹھے ہیں بہرام”
حرم فکرمند لہجے میں بہرام کو احساس دلاتی ہوئی بولی
“جانتی ہو ناں تم آج کیا ہوا ہے”
بہرام حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ حرم نے اس وقت بھی صبح والی کشمیری شال اپنے گرد لپیٹی ہوئی تھی مگر اس شال کے نیچے کپڑے اینجل کے نہیں تھے وہ اس نے شام میں ہی تبدیل کرلیے تھے
“ہاں جانتی ہوں بہرام مگر آپ پلیز۔۔۔۔
حرم بولتے بولتے رک گئی اسے لگا شاید وہ اینجل کو سوچ رہا تھا اگر وہ کچھ بولتی تو وہ بہرام برا مان جاتا تھا اینجل بھی تو بہرام کی بیوی تھی جو آج اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی
“اب وہ ہماری زندگی میں کبھی بھی واپس لوٹ کر نہیں آئے گی حرم۔۔۔ آج اسے اپنے اِن ہاتھوں سے قبر میں اتار کر آرہا ہوں میں”
بہرام چہرے پر سنجیدہ تاثرات لئے حرم سے بولنے لگا تو حرم سانس روکے اسے خاموشی سے دیکھنی لگی
“اس کے دنیا سے چلے جانے سے آپ اداس ہیں بہرام”
یہ سوال پوچھتے ہوئے حرم کو اداسی نے گھیر لیا
“تمہیں کیوں لگ رہا ہے کہ میں اداس ہوں”
بہرام اپنے بالکل قریب حرم کا چہرہ دیکھ کر اسے پوچھنے لگا اس کے چہرے پر پریشانی کے ساتھ فکرمندی تھی
“کیونکہ آپ بالکل خاموش ہوگئے ہیں”
حرم بہرام کو دیکھتی ہوئی بولی
“تم جاننا چاہتی ہو کہ میں کیوں خاموش ہو۔۔۔ میری چپ کے پیچھے کیا وجہ ہے”
بہرام حرم کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو حرم میں جلدی سے نفی میں سر ہلا دیا
“اگر آپ اس کے متعلق کوئی اعتراف کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اپنے خاموشی کی وجہ مت بتائیے گا بہرام، میں بہت کمزور دل کی لڑکی ہو”
حرم روہاسی لہجے میں بولی
ویسے بھی شوہر کو بیوی کی قدر اُس کے جانے کے بعد آتی ہے ایسا حرم میں سن رکھا تھا کہیں اس کے شوہر کے ساتھ بھی تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا یا وہ اس کے سامنے اینجل سے محبت کا اعتراض تو نہیں کرنے لگا تھا یہ سوچ کر حرم کا دل ڈوبنے لگا۔۔۔ مگر حرم کے منہ سے ایسی بات سن بہرام مسکرا دیا
“اچھا تو تمہیں لگ رہا میں تمہارے سامنے اپنی پہلی بیوی سے محبت کا اعتراف کرو گا۔۔۔ محبت ایک بار کی جاتی ہے جو میں تم سے کرچکا ہوں۔۔۔ اِس وقتی اداسی پر پریشان مت ہو، اس بات کا یقین رکھو میں صرف تمھارا ہوں”
بہرام نے حرم کے گرد اپنے بازوں حمائل کرتے ہوۓ اسے یقین دلایا تو حرم نے اطمینان سے بہرام کے شانے پر اپنا سر رکھ دیا
“بہرام میں آج آپکے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرنا چاہتی۔۔۔ آپ کو شاید اندازہ نہ ہو میں بہت زیادہ محبت کرتی ہوں آپ سے”
جاتے جاتے اینجل اپنی محبت کا اقرار اس کے سامنے نہیں کرپائی تھی، وقت نے اسے اجازت نہیں دی تھی مگر آج حرم نے اُس کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرلیا جس کے بعد وہ بہرام کے شانے سے اپنا سر ہٹاکر اُس کو دیکھنے لگی
بہرام نے اُس کے اعتراف پر حرم کا چہرہ تھام کر اُس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس اپنے ہونٹوں سے ثبت کیا تو حرم نے اطمینان سے انکھیں بند کرکے دوبارہ اپنا سر بہرام کے شانے پر رکھ دیا۔۔۔ وہ سمجھ گئی تھی یہ وقتی اداسی ہے جو کل تک غائب ہوجاۓ گی بہرام کا اصل سکون حرم میں تھا جو وہ اُسے باہوں میں لیے اِس وقت بھی محسوس کررہا تھا
❣️ختم شد❣️
