Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

شاور کے نیچے کھڑا ہوکر وہ باتھ لیتا ہوا پورے دن کی تھکن مٹا رہا تھا۔۔۔ دو ماہ پہلے اس نے ڈرگ مافیا کے ایک بڑے گینگ پر ہاتھ ڈالا تھا، یعقوب نیازی کا چھوٹا بھائی ارسل نیازی عرف بوبی جس کی توسط سے ڈرگس کالجوں یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں سپلائی کی جاتی تھی یہ زہر نئی آنے والے نوجوان نسل کے لیے اور صرف بربادی کا ذریعہ تھا
دو ماہ پہلے ایک صحافی (عفان) کی تیار کردہ مکمل رپورٹ، کچھ ویڈیوز تصویریں اور مختلف ثبوتوں کی مدد سے بہرام نے ارسل نیازی کو اریسٹ کیا تھا جس کی وجہ سے یعقوب نیازی یعنی بوبی کا بڑا بھائی بری طرح سے تلملایا ہوا تھا۔۔۔ اس کی لاکھ کوششیں اور جدوجہد ارسل نیازی کو پھانسی کی سزا سے نہیں بچا سکی تھی۔۔۔ لیکن اس کے باوجود یعقوب نیازی نے ہار نہ مانتے ہوۓ دو بار کوشش کی کہ وہ ارسل نیازی کو جیل سے فرار کروانے میں کامیاب ہوجاۓ مگر دونوں بار ہی اس کی کوششیں ناکام ہوئی تھی
جس کے بعد اے سی پی بہرام نے بھی ایک ڈرامہ کیا۔۔۔ یہ جھوٹ بول کر کہ ارسل نیازی عرف بوبی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوچکا ہے۔۔۔ وہ ارسل نیازی کو ایک سیف جگہ پر لے جاکر قید کرچکا تھا جس کا علم کمشنر صاحب کے علاوہ اُس کے اسسٹنٹ مہران کو تھا مگر یعقوب نیازی کو پورا یقین تھا کہ اس کے بھائی کو اے سی پی بہرام عباسی ہی غائب کروا کر کسی دوسری جگہ قید کرچکا ہے اس لیے وہ پوری پوری کوشش میں تھا کسی بھی طرح اپنے بھائی کا اے سی پی سے پتہ لگوا لے۔۔۔
بہرام شاور بند کرتا ہوا کمر سے تولیہ باندھ چکا تھا تب ایک دم واشروم کا دروازے کھلا اور اینجل باتھ گاؤن میں واشروم کے اندر آئی جسے دیکھ کر بہرام کے ہونٹوں پر شرارت بھری مسکراہٹ دوڑ گئی
“شاید میں لیٹ ہوگئی آنے میں”
اینجل افسوس کرتی ہوئی بولی تو بہرام نے زوردار قہقہہ لگایا اور اینجل اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا
“تم کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے مت دینا مجھے بس اپنے پیچھے ہی لگائے رکھنا”
بہرام اینجل کو اپنے بازوؤں میں جکڑ کر اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ پہلے اسے لگتا تھا وہ بہت رومینٹک ہے مگر شادی کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ اُس کی بیوی اُس سے زیادہ رومینٹک تھی۔۔۔ اچھی خاصی ماڈرن لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کافی بولڈ بھی تھی جس کا اندازہ اُسے دن گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ ہورہا تھا۔۔۔ رومینس کے معاملے میں بھی وہ پیش قدمی کرتے ہوۓ مشکل ہی تھا کہ شرمانے سے کام لیتی
“یہ ہر بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کا شوہر اُس کے پیچھے رہے”
اینجل نے بہرام سے بولتے ہوئے معنی خیزی سے آنکھ دبائی اور بہرام کی طرف پشت کرکے کھڑی ہوگئی، اس کی بات پر بہرام کے ہونٹوں پر ایک بار پھر معنی خیز سی مسکراہٹ دوڑ گئی
بہرام اُس کا گاؤن شانوں سے نیچے گرا چکا تھا۔۔۔ سفید چکنی عریاں کمر بہرام کی نگاہوں کا مرکز بنی۔۔۔ اینجل کی کمر پر اُس کے نام کا ٹیٹو جگمگا رہا تھا جس پر جھک کر بہرام نے اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔ وہ اپنی کمر پر بہرام کے ہونٹوں کے لمس سے مدہوش ہونے لگی۔۔ اس سے پہلے وہ دوبارہ اپنا رُخ بہرام کی طرف کرتی بہرام اُسے دیوار کے ساتھ لگاکر شاور کھول چکا تھا
“اور اگر میرا انٹرسٹ پیچھے سے زیادہ آگے ہوا تو”
بہرام جھک کر اُس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا۔۔۔ پھر اینجل کا رُخ اپنی جانب کرتا ہوا اُس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔۔ جتنی شدت بہرام کے انداز میں تھی اتنی ہی شدت اپنے لبوں کی پیاس بجھاتے ہوئے اینجل کے انداز میں تھی
“بہت برا پھنسایا ہے اپنے جال میں تم نے مجھے، چاہ کر بھی میں تمہیں نظر انداز نہیں کرسکتا۔۔۔ معلوم نہیں آگے تم مجھے کسی کام کا رہنے بھی دو گی یا نہیں”
بہرام خود بھی سرور کی کیفیت میں بولتا ہوا اس کی گردن پر جھک چکا تھا جبکہ اینجل اپنے دونوں بازو اس کے گلے میں ڈالتی ہوئی اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیے بہرام کی شدت محسوس کرتی مدہوش ہورہی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہی شاور کے نیچے کھڑے مکمل بھیگ چکے تھے۔۔۔
اینجل دیوانہ وار اس کے سینے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتی ہوئی بہرام کی بےقراری مذید بڑھا رہی تھی جبکہ بہرام انجیل کی کمر پر موجود ٹیٹو پر اپنی انگلیاں پھیر رہا تھا
یہ ٹیٹو اُس نے اینجل کی کمر پر اپنی ویڈنگ نائٹ پر پہلی بار دیکھا تھا جو بقول اینجل کے شادی سے دو دن پہلے ہی اُس نے بہرام کی محبت میں اپنی کمر پر بنوایا تھا
“شاور شاور بہت ہوگیا میرے خیال میں اب بیڈروم میں چلنا چاہیے وہی جاکر کنٹینیو کریں گے”
بہرام اینجل کے ہاتھ اپنی کمر سے باندھے ٹاول سے ہٹا کر اس سے بولنے لگا
“نہیں۔۔۔۔ آج یہی”
اینجل کی بات سن کر وہ ہنس دیا اینجل ٹب کی جانب قدم بڑھانے لگی تب بہرام کو محسوس ہوا جیسے اس کے بیڈروم کے اندر کوئی دوسرا موجود ہے
“کیا ہوا بہرام”
بہرام کو واشروم سے باہر جاتا دیکھ کر اینجل اُس سے پوچھنے لگی
“گاون پہنو جلدی”
بہرام اسے بولتا ہوا تیزی سے باہر آیا۔۔
اُس نے بھاگتے ہوئے اپنے قدم مین ڈور کی طرف بڑھائے جوکہ کُھلا ہوا تھا۔۔۔ یعنی جو بھی کوئی اُس کے اپارٹمنٹ میں چوری چھپے آیا تھا وہ اب بھاگ چکا تھا
“بہرام کیا ہوا۔۔۔ کیا یہاں پر کوئی آیا تھا”
اینجل گاؤن میں ملبوس ڈائینگ ہال میں آتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی۔۔۔ جو اُس کا جواب دینے کی بجائے اپنے لیپ ٹاپ کی طرف بڑھا لیب ٹاپ اَن دیکھ کر بہرام کا دماغ بری طرح گھوم گیا
“نرگس کام کرکے واپس گئی تھی تم نے دروازہ اچھی طرح چیک کیا تھا”
بہرام اینجل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
آج دوسری بار وہ بہرام کو اتنے غصے میں دیکھ رہی تھی
“ہاں ظاہری سی بات ہے بہرام میں مین ڈور لاک کرنے کے بعد ہی تمہارے پاس آئی تھی، اچھا تم پریشان تو مت ہو ناں پلیز”
اینجل بہرام سے بولتی ہوئی اس کے پاس آئی۔۔۔ اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اُس نے بہرام کے گلے میں اپنے دونوں بازو ڈالے جسے فوراً بہرام نے ہٹادئیے
“اینجل میں کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہوں،، ضروری کام ہے مجھے”
اس کے فلیٹ میں یوں کسی کا آنا، اس کا لیپ ٹاپ کا کھلا ہونا۔۔ کیا آنے والا ساری انفارمیشن لیپ ٹاپ میں موجود ڈیٹا حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا اُس نے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ کہاں سے حاصل کیا۔۔۔۔ بہرام تھوڑی دیر کے لئے واقعی پریشان ہوچکا تھا اس وقت اینجل میں بھی اس کی دلچسپی باقی نہیں رہی تھی۔۔۔ وہ بیڈ پر پڑی ہوئی اپنی ٹی شرٹ پہننے کے بعد اپنے موبائل پر ضروری کال ملانے لگا
“میں تمہارے لئے کافی بناکر لاتی ہو”
اینجل کی بات کا بہرام نے کوئی جواب نہیں دیا تو تھوڑی دیر بہرام کو دیکھتی رہی پھر کمرے سے باہر چلی گئی

“بہرام ریلکس پریشان مت ہو تم کافی مضبوط اعصاب کے مالک ہو، ہمت والے اور مضبوط انسان۔۔۔ میں ہمیشہ ہی سارے جونیئرز کو تمہاری مثال دیتا ہوں پلیز حوصلہ رکھو اور اپنا بیان دو۔۔۔ اس رات تمہارے فلیٹ میں کتنے آدمی آئے تھے جنہوں نے تمہیں اور تمہاری بیوی کی جان لینے کی کوشش کی۔۔۔ کیا تمام لوگوں کے چہرے کی شناخت کرسکتے ہو، ایک ایک بات تفصیل سے بتاؤ”
بہرام کے ہوش میں آنے کی خبر ملتی ہی کمشنر صاحب خود اسپیشلی بہرام کے پاس آۓ تھے اُس کے ڈاکٹر سمیت سب کو کمرے سے باہر بھیج دیا گیا تھا اس وقت کمرے میں کمشنر صاحب کے علاوہ بہرام کا اسٹینڈ مہران موجود تھا
“تین۔۔۔۔۔ تین آدمی تھے وہ”
آکسیجن ماسک ہٹانے کی وجہ سے وہ گہری سانس لینے کے درمیان بولا۔۔۔ اسے اینجل کی موت کی خبر سنادی گئی تھی اور ساتھ ہی اس کی ڈیڈ باڈی کے غائب ہونے کا بھی بتادیا گیا تھا
“کیا تم تینوں کے چہرے کی شناخت کرسکتے ہو، گولی کس نے چلائی تمہارے اوپر”
کمشنر صاحب نے جلدی سے دوسرا سوال پوچھا۔۔۔ اُس کا بیان ریکارڈ ہورہا تھا، اس سوال پر بہرام کے چہرے کے تاثرات تکلیف دے ہوگئے تھے ساتھ ہی اس کے چہرے پر تاریخی چھاگئی۔۔۔ اسے لگا کہ اس کی سانسیں اکھڑنے لگی ہیں
“اُن تینوں میں سے کسی نے نہیں چلائی۔۔۔ گولی اُس بےرحم نے چلائی مجھ پر”
بولنے کے ساتھ ہی بہرام سے سانس لینا دشوار ہوگیا نظروں کے سامنے اینجل کا معصوم چہرہ آتے ہی اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔ بہرام کی حالت بگڑتے دیکھ کر کمشنر صاحب کے اشارہ کرنے پر انسپیکٹر مہران نے فوراً بہرام کو آکسیجن ماسک لگا دیا اور ڈاکٹر کو کمرے میں بلایا
“میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا تھا یہ بات کرنے کی بیان دینے کی کنڈیشن میں نہیں ہیں ابھی”
ڈاکٹر جتاتا ہوا بولنے لگا۔ِ۔۔ کمشنر صاحب انسپکٹر مہران کو اشارہ کرتے ہوئے باہر نکل گئے
“تفتیش کے دوران جو ثبوت ملے ہیں اس کے مطابق ہمارا شک صحیح ہے۔۔۔ جب تک بہرام مکمل صحت یاب نہیں ہوجاتا اُس کی حفاظت کی ذمہ داری تمھاری ہے مزید سیکیورٹی سخت کردو بہرام کی جان ہمارے لیے قیمتی ہے، جنہوں نے بہرام کی جان لینے کی کوشش کی ہے وہ لوگ اتنے آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔۔۔ اور بہرام کی سسٹر کو اسکے بارے میں انفرم کردیا تھا”
کمشنر صاحب ساری باتیں انسپیکٹر مہران کو سمجھاتے ہوئے اُس سے بہرام کی بہن کے بارے میں پوچھنے لگے جو ملک سے باہر تھی
“سر آپ بےفکر رہئیں اے سی پی صاصب جب تک مکمل ہوش میں نہیں آجاتے اُن کی حفاظت کی ذمہ داری اچھے سے نبھانا میرا فرض ہے۔۔۔ ان کی سسٹر کو اے سی پی صاحب کے بارے میں بتادیا گیا تھا وہ کل کی فلائٹ سے پاکستان آرہی ہیں اُن کو باحفاظت ہسپتال تک لانے کی ذمہ داری میں نے انسپکٹر شیمل کو سونپ دی ہے”
انسپیکٹر مہران کی بات پر کمشنر صاحب مطمئن ہوکر وہاں سے چلے گئے۔۔۔ لیکن پورے ڈیپارمینٹ کے لیے اے سی پی بہرام عباسی کی بیوی کی ڈیڈ باڈی کا یوں ہسپتال سے غائب ہوجانا ایک مہمہ بن چکا تھا


“میں جھوٹ کیوں بولوں گی آپ سے نزہت آپا جیسے میرے لیے حرم ہے ویسے ہی آپ کی نگی بھی مجھے عزیز ہے۔۔۔ اگر میرے اسجد کی بیوی حرم کی بجائے آپ کی بیٹی نگی بنتی ہے تو یقین جانیے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا”
ڈرائینگ روم کے باہر آتی آواز اس کی صبیحہ خالہ کی تھی جنہوں نے چار سال پہلے اُسے اپنے بیٹے کے لئے اُس کے ماں باپ سے بڑی چاہ سے مانگا تھا۔۔۔۔ صبیحہ خالہ کی بات سن کر حرم کی آنکھوں میں بےساختہ نمی اتر آئی ہوئی۔۔۔
“مجھے غلط مت سمجھنا صبیحہ بہن کہ میں حرم کا رشتہ ختم کرکے تمہارے بیٹے سے اپنی بیٹی کا رشتہ جوڑنے کا کہہ رہی ہوں مگر میں مجبور ہوں، سارے حالات تمہیں بتاچکی ہوں۔۔۔ نگی نے کل جب اپنی جان لینے کی کوشش کی میرے تو ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے۔۔۔۔ اُس نے تو جیسے ضد ہی پکڑلی ہے وہ شادی کرے گی تو صرف اسجد سے ورنہ زہر کھاکر مرجاۓ گی۔۔۔ ہماری ایک اکلوتی بیٹی ہے اگر ہم اُس کی خواہش بھی پوری نہیں کرسکے تو لعنت ہے پھر ہم پر۔۔۔ یہ ہمارا گھر آخر کس کا ہے شادی کے بعد نگی کا ہی تو ہوگا میں اور نگی کے ابا آخر کتنے دنوں کے مہمان رہ گئے ہیں اب اس دنیا میں”
نزہت چچی نے اپنی مجبوری کی داستان سنانے کے کے ساتھ ساتھ آخر میں گھر والا شوشہ چھوڑ کر صبیحہ خالہ کو لالچ دی، جس پر دوسرے کمرے میں بیٹھی ہوئی حرم تلخی سے مسکرائی
دو مہینے پہلے صبیحہ خالہ اپنی دونوں بیٹوں کی شادی دھوم دھام سے کرچکی تھی۔۔۔۔ اسجد کی نوکری بھی اب پکی ہوچکی تھی جب صبیحہ خالہ نزہت چچی سے حرم اور اسجد کی شادی کے متعلق بات کرنے آئی تو ان کے جانے کے بات نگی کا سخت ری ایکشن سب کے سامنے آیا۔۔۔۔ نہ اُس نے چچا کا لحاظ کیا نہ حرم کا بلکہ سب کے سامنے بےباکی سے کہہ دیا کہ وہ صرف اسجد سے شادی کرے گی نہیں تو سب لوگ اس پر روۓ گے۔۔۔۔ اور کل جو نگی نے مرنے کا ڈرامہ کیا نزہت چچی بالکل جھوٹ نہیں بول رہی تھیں وہ سارا سین حرم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی
“وہ سب تو ٹھیک ہے آپا مگر میرا اسجد، مہں اس کو کیسے سمجھاؤ گی اور حرم وہ کیا سوچے گی”
صبیحہ خالہ نیم رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود، ان کے دماغ میں جو خدشے پل رہے تھے وہ نزہت چچی کے سامنے ظاہر کرتی ہوئی بولی تو وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی حرم اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپاکر رونے لگی
“ان دونوں کی فکر مت کرو حرم تو بہت پیاری اور سمجھدار بچی ہے۔۔۔ ساری صورت الحال اس کے سامنے ہی ہے وہ خود ہی سمجھ جائے گی اور اسجد کو بھی اچھی طرح سمجھا دے گی کیوکہ نہ تو وہ اپنے چچا کو پریشان دیکھ سکتی ہے اور نگی سے بھی بہت پیار کرتی ہے۔۔۔ میں جلدی ہی اس کا رشتہ دیکھ کر بہت اچھی جگہ اس کی شادی کروا دوگی”
نزہت چچی صبیحہ خالہ کو مطمئن کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔ دوسرے کمرے میں کل سے بخار میں پھکتی ہوئی حرم اپنے چہرے سے آنسو صاف کرنے لگی


“ہارون کھانا کیوں نہیں کھایا اِس نے ابھی تک”
کھانے سے بھری پلیٹ دیکھ کر بہرام نے کمرے میں موجود بھیڑیوں سے باندھے بوبی کی بجائے بوبی کی نگرانی کرنے والے ہارون سے پوچھا۔۔۔ جو اس محکمے کا خاص وفادار تھا
“اے سی پی صاحب یہ بول رہا ہے کھانے میں اِس کو دال پسند نہیں”
ہارون کی جواب پر بہرام نے بوبی کو دیکھا جو اس کو خونخوار کھا جانے والی نظروں سے ایسے گھور رہا تھا جیسے ہی اس کی بیڑیاں کھُلے اور وہ اے سی پی بہرام پر جھپٹ کر حملہ کرے
“یہ دال لے جاؤ ہارون آج میں اس کو ایسا اسپیشل کھانا کھلاؤں گا دو دن تک اِس کے اندر سے بھوک کا احساس ہی ختم ہو جائے گا”
بہرام کے کہنے پر ہارون کھانے کی پلیٹ لیٹ گیا ہے جس کے بعد بہرام بوبی کے پیٹ میں پے در پے گھونسے مارتا ہی چلا گیا تکلیف کے مارے بوبی کے منہ سے چیجیں اور آنکھوں سے آنسو دونوں ہی نکل آۓ
“بول بیٹا پیٹ بھرا یا اور مزید کھانا ہے”
بہرام بوبی کی لمبی زلفیں مٹھی سے پکڑتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“جس دن میرے بھائی کو معلوم ہوگیا کہ تُو نے مجھے کہا چھپایا ہوا ہے وہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہوگا اے سی پی یاد رکھنا”
بوبی تکلیف میں بری طرح کراہتا ہوا بولا بہرام نے اس کے منہ پر ایک زوردار مُکّا جڑا
“کون بتائے گا تیرے بھائی کو تیرے بارے میں،، قبر سے نکل کے تیرا باپ بتاۓ گا”
بہرام نے بوبی سے پوچھتے ہوۓ ہاتھ میں پکڑی اسٹک زور زور سے اُس کے پیٹ پر مارنا شروع کردی۔۔۔ جس سے بوبی کی چیخیں ایک بار پھر کمرے میں گونجنے لگی اور وہ تکلیف سے کراہا کر بےہوش ہوگیا
“ہارون دو دن تک اِسے کھانے کے لئے کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ دو دن بعد اگر یہ خود سے کھانا مانگے تو اِسے یہی دال کھانے کے لئے دے دینا”
بہرام ہارون کو ہدایت دیتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔
یہ دوسری خفیہ جگہ تھی جہاں پر اُس نے بوبی کو قید میں رکھا ہوا تھا۔۔۔ جس دن اُس کے فلیٹ میں کوئی داخل ہوا تھا تب سے وہ اور بھی زیادہ الرٹ ہوچکا تھا اپنے فلیٹ میں مختلف ہڈن کیمرے اور سیکیورٹی پرپس کے لیے ایسے الارم بھی فٹ کروا دیے تھے جس کی وجہ سے کوئی بھی اتنی آسانی سے اب اس کے فلیٹ میں داخل نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ آپ اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نکل رہا تھا جبھی اس کے موبائل پر عفان کی کال آنے لگی۔۔۔ عفان وہی صحافی تھا جس نے اُسے بوبی کے متعلق تمام انفارمیشن دی تھی جس کی مدد سے بہرام بوبی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوا تھا
“اے سی پی صاحب ایک بہت ضروری انفارمیشن جو میں موبائل پر نہیں دے سکتا آپ پلیز جلد سے جلد میرے گھر پر آجائیں”
عفان بولتا ہوا کافی زیادہ پریشان لگ رہا تھا جیسے وہ خبر اُس کے اپنے لیے بھی حیران کُن اور پریشان کُن تھی
بہرام نے آج اینجل سے وعدہ کیا تھا اُسے اُس کی فرینڈ کی طرف جانے کا اور پھر وہاں سے اُن کا باہر ڈنر کا پلان تھا۔۔۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ وہ عفان سے کل پر ملنے کا رکھ لے لیکن عفان کا لہجہ اُسے تشویش اور تجسس میں مبتلا کر گیا
“ٹھیک ہے میں پہنچ رہا ہوں تمہارے پاس لیکن تم نے کافی سسپینس کری ایڈ کردیا ہے تھوڑا بہت مجھے بتاؤ بات کیا ہے”
بہرام موبائل کان سے لگائے گاڑی میں بیٹھتا ہوا عفان سے بولا
“ارسل نیازی کے متعلق آپ کو ایک ایک انفارمیشن دینے کے باوجود ایک بہت بڑی خبر مجھ سے ناجانے کیسے مس ہوگئی جو شاید میری نظروں کے سامنے سے بھی نہیں گزری، اسی کے متعلق بتانے کے لئے آپ کو بلارہا ہوں۔۔۔ اُس خبر سے آپ کا بھی بہت گہرا تعلق ہے یہ سمجھ لیں کہ میں یعقوب نیازی کی گرل فرینڈ کے متعلق آپ کو بتانا چاہتا ہوں”
عفان تھوڑا رازدارانہ انداز میں تھوڑا سا گھبراۓ لہجے میں بولا
“چلو ٹھیک ہے میں آدھے گھنٹے میں پہنچتا ہوں تمہارے پاس”
بہرام نے عفان کو بول کر موبائل ڈیش بورڈ پر رکھ دیا گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا وہ عفان کی بات کو سوچنے لگا۔۔۔ یعقوب نیازی کی گرل فرینڈ۔۔۔ میرا کیا تعلق ہوسکتا ہے اس خبر سے۔۔۔ بہرام عفان کی باتوں پر غور کرتا ہوا ڈرائیونگ کرنے لگا


“یعقوب آپ بی لیو کریں مجھ پر میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ میں کسی طرح سے بوبی کے متعلق اِس آدمی سے پتہ لگالوں مگر آپ یقین کریں یہ آدمی آپ کی پہنچ سے زیادہ شاطر اور چالاک ہے”
فلیٹ میں چھپے ہوۓ کیمرے جگہ جگہ نسب تھے اینجل کو یعقوب نیازی سے بات کرنے کے لیے اب واشروم میں موبائل لےکر جانا پڑتا۔۔۔ یعقوب نیازی کے بلانے پر بھی وہ بہرام کو اپنے انکل کی طعبیت خرابی کا بول کر، دس دن پہلے اُس کے فلیٹ سے باہر نکلی تھی۔۔۔ اور مسلسل دو راتیں یعقوب نیازی کو خوش اور مطمئن کرنے کے بعد یعقوب نیازی نے اُسے واپس جانے کی اجازت دی تھی
“یہ کام تم سے نہیں ہونے والا سوئیٹ ہارٹ، اپنے بھائی کے متعلق میں کسی دوسرے ذریعے سے معلومات حاصل کرلوں گا، بےکار ہی میں نے تمہیں اے سی پی کا بستر گرم کرنے پر لگادیا اور یہی کام تم پوری خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہوگی ہے ناں”
یعقوب نیازی کی بات جیسے اینجل کے منہ پر تپھڑ کی طرح پڑی مگر وہ ضبط کرتی ہوئی بولنے لگی
“ایسا نہیں ہے یعقوب میں بہت جلد بوبی کے متعلق پتہ لگاکر رہوگی”
اینجل کو اپنی بولی ہوئی بات پر خود بھی یقین نہیں تھا۔۔۔ کیوکہ بہرام اسے ان ساری چیزوں سے دور رکھتا تھا یہاں تک کہ اُسے بہرام کا لیپ ٹاپ یوز کرنے کی پرمیشن نہیں تھی۔۔ اور اب تو وہ دوبارہ اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ بھی چینج کرچکا تھا
“منع کررہا ہوں میں تمہیں۔۔۔ اب کوئی ضرورت نہیں اِس مسلئے میں پڑنے کی تم صرف میرا دل خوش کرو۔۔۔ بھائی کا بھائی پر اتنا تو حق ہوتا ہے کہ وہ اُس کی غیر موجودگی میں اُس کی رکھیل سے اپنا دل بہلا سکے۔۔۔ آج رات تم دوبارہ میرے فارم ہاؤس پر آرہی ہو وہ بھی پورے ایک ہفتے کے لیے۔۔۔۔ تین دن تک تم شیخ یامین کا دل خوش کرو گی تاکہ دبئی والا کانٹریکٹ شیخ مجھ کو دے، اور باقی کی چار راتیں تم میرے بستر پر گزارو گی۔۔۔ وہ کیا ہے ناں پچھلی بار صحیح سے دل نہیں بھرا تھا میرا اور اُس اے سی پی کی عزت کو اپنے بستر پر دیکھ کر سکون بھی ملتا ہے مجھے”
یعقوب نیازی کی بات سن کر اینجل پریشان ہوگئی یعقوب نیازی انکار سننے کا عادی نہیں تھا ایک ہفتے کے لیے وہ بہرام سے کیا بہانا کرکے یعقوب نیازی کے پاس جاتی
اپنی یونیورسٹی میں وہ بوبی کے کہنے پر ڈرگز یونیورسٹی کے دوسرے اسٹوڈینس کو سپلائی کرتی۔۔۔ بوبی کے بلانے پر کبھی کبھار وہ ہوسٹل کی بجاۓ اپنی راتیں بھی اُس کے پاس گزارتی۔۔۔ لیکن بوبی کی گرفتاری پر اینجل ٹینشن میں آگئی کہیں پولیس کے ہاتھوں وہ بھی نہ پکڑی جاۓ اِسی ڈر کی وجہ سے اُسے یعقوب نیازی سے ملنا پڑا
یعقوب نیازی نے اُسے یقین دلایا وہ اُسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔ بس بدلے میں جب جب یعقوب نیازی چاہے گا اُسے یعقوب نیازی کی رات کو رنگین بناکر اِس کا دل خوش کرنا پڑے گا جیسے وہ پہلے اس کے بھائی کا دل خوش کرتی تھی۔۔۔۔ پہلی بار یعقوب نیازی جیسے بڈھے شخص کے ساتھ رات گزار کر وہ بہت روئی تھی مگر پھر آئستہ آئستہ وہ عادی ہوگئی۔۔۔ یعقوب نیازی کے پلان کے مطابق اُس نے بہرام سے دوستی کی پھر بعد میں شادی بھی۔۔۔ لیکن بہرام کی قربت ایسی ہوتی جو تھوڑی دیر کے لیے اُسے اُس کے برے ماضی سے غافل کردیتی کبھی کبھی وہ سوچتی کاش بہرام اُسے بوبی سے پہلے ہی مل چکا ہوتا
اب یعقوب نیازی اُسے اپنے مطلب کے لیے بھی استعمال کررہا تھا اُس کی خوبصورتی کو کیش کروانے کے لیے ناجانے وہ اُسے کس شیخ کے پاس پھینکتا۔۔۔۔ کیا تھی اُس کی زندگی؟؟ اور وہ خود کیا بن چکی تھی مردوں کی بھوک مٹانے کا ذریعہ، وہ چاہ کر بھی بہرام کا اپنی اصلیت نہیں بتاسکتی تھی ایک ماہ بہرام کے ساتھ گزارنے پر اُسے بہرام کی طبعیت کا بھی اچھی طرح اندازہ ہوچکا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کو کسی صورت معاف نہیں کرتا۔۔۔ شاید اُسے خاموشی سے یعقوب نیازی اور بہرام عباسی سے دور کہیں چلے جانا چاہیے تھا یہی اُس کے لیے ٹھیک رہتا


اس کے گھر پہچنے پر ہمیشہ کی طرح اینجل نے فلیٹ کا دروازہ کھولا ویسے ہی چہرے پر حسین مسکراہٹ سجاۓ وہ اُس کو دیکھ رہی تھی بہرام بغیر مسکراۓ فلیٹ میں داخل ہوا اور دروازے کو اچھی طرح لاک کرنے لگا۔۔۔۔
آج جو کچھ اسے عفان سے اینجل کے بارے میں معلوم ہوا اُسے اس وقت اپنی بیوی کی اِس مسکراہٹ سے گِھن محسوس ہورہی تھی۔۔۔ دس دن پہلے اُس کی بیوی یعقوب نیازی کے فارم ہاؤس پر اُس کی عزت کا جنازہ نکال کر آرہی تھی جو شرمناک تصویریں عفان نے اُس کی بیوی اور یعقوب نیازی کی اُس کے سامنے رکھی تھی۔۔۔ اُس وقت شرمندگی کے مارے بہرام کا مرنے کا دل چاہا تھا۔۔۔ عفان خود بھی بہرام کے تاثرات دیکھ کر سخت شرمندہ ہوا تھا مگر اِن سب باتوں کا بہرام کے علم میں ہونے بھی ضروری تھا تاکہ بہرام آگے جاکر کوئی نقصان نہیں اٹھاسکے وہ آئستہ آئستہ بہرام کو اینجل کے بارے میں سب بتاتا چلا گیا۔۔۔ جسے سن کر بہرام کے بس رونے کی کسر باقی بچی تھی۔۔۔ دو بھائیوں کی استعمال شدہ لڑکی اُس کی بیوی۔۔۔۔
“آج پھر موڈ آف ہے تمہارا، کیا پھر کسی مجرم کو سزا دے کر آرہے ہو”
اینجل اُس کے خراب موڈ کا اندازہ بہرام کے چہرے کے تاثرات سے لگاچکی تھی جبھی بہرام سے پوچھنے لگی
“سزا دے کر آ نہیں رہا بلکہ سزا دینے والا ہوں۔۔۔ وہ بھی سخت سے سخت”
بہرام اینجل کا چہرہ دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا اور اپنی کیپ اور اسٹک ٹیبل پر رکھنے لگا
“ایک تو تمہاری یہ سخت طبیعت سے میں بہت پریشان ہوں۔۔۔ کبھی کبھی تمھارا رویہ میرے ساتھ کتنا سخت ہوجاتا ہے تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا ہوگا”
اینجل بہرام کے قریب آکر اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تو بہرام نے فوراً اُس کے ہاتھ اپنے سینے سے جھٹک کر دور کیے
“مجھے اپنی اِس وردی سے بہت محبت ہے اِسے اپنے ناپاک ہاتھوں سے چھو کر میلا مت کرو”
بہرام کے لہجے میں ایسی حقارت تھی کہ پل بھر کے لئے اینجل سناٹے میں آگئی
“کیا۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہو تم۔۔۔کیا مطلب ہے تمہارا اس بات کا”
اینجل بہرام کے سامنے کھڑی ہوکر اُس سے اُس کی بات کا مطلب پوچھنے لگی
“مجھ سے شادی سے پہلے کتنی راتیں یعقوب نیازی کے بستر پر اُس کے ساتھ گزار چکی ہو”
بہرام کے پوچھے گئے سوال پر لمحہ بھر لگا تھا اینجل کا رنگ فق ہوگیا مگر دوسرے ہی لمحے اُس نے گھبراہٹ اور اپنی اڑتی رنگت پر قابو پالیا
“کیا فضول بکواس کررہے ہو تم۔۔۔ کون یعقوب نیازی،، اتنی گھٹیا بات اپنی بیوی سے کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے تمہیں”
اگر اُس کو کہیں سے بھنک لگی تھی تو اینجل نے اپنی طرف سے بھرپور اداکاری کرتے ہوئے بہرام کو شرمندہ کرنا چاہا مگر بہرام نے جوابی کارروائی منہ سے کرنا ضروری نہیں سمجھی اُس نے سخت ہاتھ کا ایک جاندار طماچہ اینجل کے گال پر رسید کیا جس سے وہ چاہ کر بھی خود کو سنبھال نہیں پائی اور فرش پر جاگری، بہرام نے مٹھیوں میں اُس کے بالوں کو بھر کر اُٹھایا اور اپنے سامنے دوبارہ کھڑا کیا
“تم ایک بدکردار اور بدچلن لڑکی ہو، کہہ دو کہ میں تمہارے بارے میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔۔ بول دو کہ تم یعقوب نیازی کی رکھیل نہیں ہو”
بہرام کے تھپڑ سے اُس کا ہونٹ پھٹ چکا تھا جس سے خون رسنے لگا وہ اینجل کے بالوں کو مٹھیوں میں پکڑے اُس سے پوچھنے لگا کہ بہرام کے خطرناک تیور دیکھ کر اینجل بری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی اگر وہ سچ بولتی تو بہرام اُس کی جان لے لیتا اور اگر وہ جھوٹ بولتی تو بہرام تب بھی اُس کا حشر بگاڑ دیتا، آج وہ بری طرح پھنس چکی تھی
“بہرام اُس نے مجھے بلیک میل کیا تھا وہ چاہتا تھا کہ میں تم سے بوبی کے متعلق ساری معلومات۔۔۔
اِس سے پہلے اینجل اپنی صفائی میں کچھ کہتی غُصے کی شدت سے بہرام نے اُس کا سر سامنے دیوار پر نصب آئینے پر مار ڈالا جس سے شیشے میں لاتعداد دراڑیں پڑگئی اور اینجل کے منہ سے دردناک چیخیں نکلنے لگیں۔۔۔ اُس کے ماتھے، گال اور توڑی سے خون نکلنے لگا وہ روتی ہوئی ڈر کے مارے کمرے سے بھاگنے لگی مگر اس سے پہلے بہرام نے کمرے کا دروازہ بند کرکے اُسے بیڈ پر دھکا دیا
آج اپنی بیوی کا معصوم چہرہ دیکھ کر بہرام کو اُس کی حالت پر بالکل ترس نہیں آرہا تھا پیار تو بہت دور کی بات، آج بہرام کو اس لڑکی سے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی، ایک استعمال شدہ لڑکی کو وہ اپنی عزت بنا چکا تھا۔۔۔ ایسی لڑکی جس نے کسی دوسرے غیر مرد سے ناجائز تعلقات قائم کرکے اُس کے اعتبار اور جذبات کی دھجیاں بھکیر دی تھی۔۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے بہرام کا خون کھولنے لگا۔۔۔۔ مجرموں کو وہ کبھی نہیں بخشتا تھا۔۔۔۔ اُس کے سامنے موجود یہ لڑکی اب اُس کی بیوی نہیں بلکہ ایک مجرم تھی
“بہرام نہیں پلیز مجھے معاف کردو، تم تو مجھ سے پیار کرتے ہو”
اپنی جانب قدم بڑھاتے ہوئے بہرام کو دیکھ کر اینجل پیچھے سرکتی ہوئی بہرام سے بولی۔۔۔ ساتھ ہی اُس نے خوف سے بہرام کے سامنے اپنے ہاتھ بھی جوڑ دیئے
“بےرحم کا مطلب جانتی ہو تم اینجل”
بہرام اُس پر ترس کھائے بغیر قدم بڑھاتا ہوا اینجل کے قریب آتا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ یعقوب نیازی اور بوبی دل ہی دل میں اس پر کس قدر ہنستے ہوگیں بہرام کا دل چاہا اس لڑکی کے جسم کے لاکھوں ٹکڑے کر ڈالے
“نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ بہرام مجھ سے غلطی ہوگئی تھی پلیز میں تم سے معافی مانگتی ہوں”
وہ اینجل کے نزدیک آیا تو کانپتی ہوئی آواز میں گڑگڑاتی ہوئی وہ بہرام سے معافی مانگنے لگی مگر اگلے ہی پل اینجل نے بہرام کے گن ہولسٹر سے ریوالور باہر نکالا اور پوری طاقت سے بہرام کو پیچھے دھکیلا
“بےرحم کا مطلب جانتے ہو تم اے سی پی بہرام عباسی”
ہونٹوں سے رستہ ہوا خون اپنی ہتھیلی کی پُشت سے صاف کرتی ہوئی وہ ریوالور کا رخ بہرام کی طرف کرتی، الٹا بہرام سے پوچھنے لگی جس پر بہرام استزائیہ مسکرایا
“بےرحم”
آئستہ آواز میں بولتا ہوا اچانک سے اُس نے ہوا میں لات اونچی کرکے گھمائی جو ریوالور پر لگی اور ریوالور دور جاگری اِس سے پہلے وہ اینجل کا دوسرا عمل دیکھتا اُس نے اینجل کا سر زور سے دیوار پر مارا جس سے وہ چکرا کر نیچے گری اور بےہوش ہوگئی


“ہاتھ کھولو میرے ورنہ میں کھانا کیسے کھاؤں گی”
آج دوسرا دن بھی گزر گیا تھا اُسے بہرام کی قید میں گزرے اینجل کو ہوش آیا تو اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بندھا ہوا پایا اُس کے پاؤں میں ایک لمبی سی زنجیر ڈلی ہوئی تھی جس سے وہ صرف واشروم تک ہی جاسکتی تھی۔۔۔ واش روم میں بھی کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی جس سے وہ اپنا بچاؤ کرسکتی۔۔۔ مہینے بھر سے اُس نے اپنے شوہر کو محبت بھرے روپ میں دیکھا تھا لیکن کل سے وہ جس روپ میں اُس کے سامنے نظر آرہا تھا گویا اس نے سفاکی اور بےرحمی کی حد ہی کردی تھی
بہرام جو چالوں سے بھری پلیٹ اینجل کے سامنے بیڈ پر رکھ کر کمرے سے باہر جانے لگا تھا اینجل کی بات نے اس کے قدم روک لیے۔۔۔ بہرام خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جس پر کل سے شرمندگی یا پشیمانی جیسی کوئی بھی چیز موجود نہیں تھی ایک ماہ سے اُسے اِس چہرے سے دلی اور جذباتی وابستگی سی ہوچکی تھی آج اُسے اِس چہرے پر تھوکنے کا دل چاہ رہا تھا
“کھانا میں تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے کھلا دیتا ڈارلنگ، کل سے ہم دونوں کے بیچ کوئی پیار محبت والا سین بھی تو نہیں ہوا۔۔۔۔ تم کل سے کافی مِس کررہی ہو گئی میرے پیار والے اس روپ کو ہے ناں”
بہرام اس سے بولتا ہوا اینجل کے پاس آنے لگا تو اینجل اس کے تیور دیکھ کر ڈر گئی جو اس وقت پیار بھر ہرگز نہیں تھے
“نہیں میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے پلیز دور چلے جاؤ مجھ سے”
بیڈ کی جس سمت سے بہرام اینجل کے پاس آنے لگا تھا اُس کے مخالف سمت سے اینجل بہرام سے ڈر کے بیڈ سے نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ بہرام نے بیڈ سے باندھی ہوئی زنجیر اپنی جانب کھینچی تو اینجل روتی ہوئی اُس کے پاس کھسکتی ہوئی خود چلی آئی۔۔۔ وہ بہرام سے اپنے ہاتھ کھولنے کا کہہ کر پچھتائی تھی
“کیا ہوا بےبی تم تو مجھ سے ایسے ڈر رہی ہو جیسے میں تمہیں ابھی مار ڈالوں گا۔۔۔ یہ اے سی پی بہت بےرحم ہے اپنے مجرموں کو اتنی آسان موت نہیں دیتا۔۔۔ وہ جو تمہارا پہلا عاشق تھا بوبی، اُس کا حال دیکھنا چاہوں گی۔۔۔ آج کیا کیا ہے میں نے اُس کے ساتھ”
بہرام اُس کے بکھرے ہوئے بالوں کو کانوں سے پیچھے کرتا ہوا پیار سے اینجل سے پوچھنے لگا اور پھر اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر اُس کے سامنے وہ ویڈیو اَن کی جس میں وہ خود بوبی کی وہ بری طرح درگت بنارہا تھا اور بوبی درد اور تکلیف کے مارے بری طرح چیخیں مار رہا تھا۔۔۔ اینجیل نے ڈر کے مارے بری طرح رونا شروع کردیا
“کیا ہوا بہت تکلیف ہورہی ہے اپنے عاشق کی کُتے جیسی حالت دیکھ کر۔۔۔ اِس سے بھی زیادہ برا حشر کروں گا میں تمہارا اور تمہارے اُس دلال یعقوب نیازی کا”
بہرام جبڑوں سے اینجل کا منہ دبوچے اُسے پیار بھرے لہجے میں بولا لیکن اُس کی آنکھوں سے حد سے زیادہ سفاکی چھلک رہی تھی
“ویسے تم سے ایک بات جاننا چاہوں گا، تمہیں تھوڑا سا عجیب سا نہیں لگتا تھا یوں کبھی میرے ساتھ میرے بستر پر کبھی یعقوب نیازی کے ساتھ اُس کے بستر پر”
بہرام نے بولتے ہوئے اُس کا منہ زور سے دوسری طرف جھٹکا
“بہرام پلیز مجھے معاف کردو میں اپنی غلطی پر گلٹی ہو”
اینجل نے بہت
مشکلوں سے روتے ہوئے بہرام سے کہا تو بہرام نے اُس کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر اُس کا چہرہ اپنے چہرے کے نزدیک کیا
“صرف گلٹی، تمہیں تو شرم سے ڈوب مر جانا چاہیے تھا کسی غیر مرد کے بستر پر میری عزت کو نیلام کرتے وقت”
بہرام غصے میں اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جو وہ کل کافی حد تک بگاڑ چکا تھا۔۔۔ اب وہ خاموشی سے اینجل کے چہرے پر اپنی انگلیاں پھیر رہا تھا اینجل نے خوف سے لرزنا شروع کردیا
“یعقوب نیازی کے ساتھ تمہاری بغیر کپڑوں کی تصویریں دیکھ کر معلوم ہے میرا کیا دل کیا۔۔۔ کہ میں اپنے ریوالور سے خود کو شوٹ کر ڈالوں۔۔۔ کل مجھے دنیا کے اُن تمام مردوں پر رشک محسوس ہوا جن کی بیویاں اُپنی عزت کو اپنے شوہر کی عزت سمجھتی ہیں اور اپنے جسم کو اپنے شوہر کی امانت سمجھ کر اُس میں خیانت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ میں نے تم سے پہلے کبھی کسی دوسری عورت کو استعمال نہیں پھر بھی میرے نصیب میں تم جیسی غلیظ عورت لکھی تھی۔۔۔ کل میں اللہ سے اپنا وہ گناہ جاننا چاہا جس کے بدلے تمہیں میری زندگی میں بھیجا گیا”
بولتے ہوئے بہرام کے چہرے پر خود بھی تکلیف دے تاثرات نمایاں ہونے لگے۔۔۔ جبکہ اینجل ویسے ہی روۓ جارہی تھی
“کیا ہوا بور کررہی ہیں تمہیں میری باتیں۔۔۔ وہ تو کریں گیں میری جان، اگر تم اچھے کردار کی لڑکی ہوتی تو اِن باتوں کو سمجھ سکتی۔۔۔ خیر جانے دو چلو تمہیں کھانا کھلا دیتا ہوں”
بہرام نے اینجل سے بولتے ہوئے چاولوں سے بھری پلیٹ دوبارہ بیڈ پر اُس کے سامنے رکھ دی۔۔
اور اپنی مٹھی میں چاول بھر کر وہ اینجل کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔۔ جس سے اینجل کو زور دار پھندہ لگا اور کھانستے ہوۓ اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا مگر بہرام نے اُس کو پانی دینے کی بجائے مٹھی میں اس کے بالوں کو جکڑ کر اس کا سر چاولوں سے بھری پلیٹ میں ڈال دیا۔۔۔
چہرے پر اچانک ہونے والی جلن سے اینجل بری طرح چیخنے لگی۔۔ ویسے ہی باہر دوڑ بیل کی آواز پر بہرام دروازے کھولنے چلاگیا یہ چیک کیے بغیر کہ اِس وقت اُس کے فلیٹ میں کون آسکتا ہے


اسے یاد پڑتا تھا جب وہ دروازہ کھولنے کے لیے گیا تھا کسی نے کوئی بھاری چیز اُس کے سر پر ماری تھی جس کی وجہ سے وہ بےہوش ہوگیا تھا ہوش آنے کے ساتھ ہی اس نے اپنے آپ کو صوفے پر بیٹھا پایا۔۔۔ سب سے پہلی نظر اس کی اینجل کے مسکراتے ہوئے چہرے پر پڑی جس کے ہاتھ پاؤں کھول کر اسے آزاد کردیا تھا۔۔۔ بہرام کو ہوش میں آتا دیکھ کر اینجل چلتی ہوئی سامنے صوفے پر یعقوب نیازی کے پاس جا بیٹھی، یعقوب نیازی نے اینجل کے شانے پر اپنا بازو پھیلاتے ہوئے اسے اپنے مزید قریب کیا تو اینجل آنکھ دباتی ہوئی بہرام کو دیکھنے لگی۔۔۔ اپنے فلیٹ میں یعقوب نیازی کو اسکے دو گارڈز کے ساتھ دیکھ کر بہرام کا خون کھول اٹھا
“میں تم سے زیادہ سوال نہیں کروں گا اے سی پی بہرام عباسی مجھے صرف میرے بھائی کے بارے میں بتادو میں وعدہ کرتا ہوں یہاں سے جاتے جاتے تمہاری جان بخش دوں گا”
یعقوب نیازی ہاتھ میں موجود پستول سامنے ٹیبل پر رکھتا ہوا صلح جو انداز میں بولا۔۔۔ بہرام سامنے دیوار پر گھڑی میں وقت دیکھنے لگا تھوڑی دیر بعد اُس کے فلیٹ پر مہران کو آجانا تھا
“آج ہی مار ڈالا میں نے تمہارے بھائی کو کتے جیسی موت نصیب ہوئی ہے اُسے، اپنی رکھیل کو اٹھاؤ اور دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔ تم سے زیادہ بغیرت دلال میں نے اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھا جو اپنی رکھیل کو۔۔۔
یعقوب نیازی کو اینجل کے اتنا قریب بےتکلفی سے بیٹھا ہوا دیکھ کر بہرام کا دل چاہا وہ ان دونوں کو جان سے مار ڈالے اور غصے کی شدت سے وہ ایسا کر ڈالتا کیونکہ جس صوفے پر وہ بیٹھا تھا وہی ایک منی سائز کے پسٹل بھی چھپی ہوئی تھی اس سے پہلے کہ وہ پسٹل نکاتا بہرام کی باتوں پر غصے میں آکر اینجل نے ٹیبل پر یعقوب نیازی کی رکھی ہوئی پستول اٹھائی اور اچانک سے بہرام پر فائر کیا
اینجل کے غصے بھرے ردعمل پر جہاں سے یعقوب نیازی حیرت زدہ ہوا تھا وہی بہرام کو بھی صدمہ پہنچا اس کی آنکھوں اوپر چڑھنے کو دی اور گردن ایک طرف ڈھلک گئی
“یہ کیا حماقت کی ہے تم نے بیوقوف لڑکی مجھے میرے بھائی کا پتہ کیسے چلے گا اب”
یعقوب نیازی غصے کی حالت میں اینجل سے بولا۔۔۔ چند منٹ کا کھیل تھا جب گارڈز سمیت اُن دونوں کی توجہ بہرام کے اوپر سے ہٹی جس کا فائدہ اٹھاتے ہی بہرام نے چھپی ہوئی پسٹل نکالی اور حواس کھونے سے پہلے اس نے پسٹل سے اُس بےرحم کا نشانہ لیا جس کی بےوفائی ثابت ہونے کے باوجود بھی اس نے اب تک اس کی سانسیں نہیں چھینی تھی


“اسجد آپ۔۔۔۔ آپ یہاں پر کیا کررہے ہیں”
چھٹی کے وقت حرم اسجد کو اپنے اسکول سے باہر دیکھ کر حیرت زدہ ہوکر اس سے پوچھنے لگی وہ بائیک پر بیٹھا ہوا اس کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا
“ضروری بات کرنا تھی تم سے”
اسجد روٹھے ہوئے لہجے میں شکوہ بھری نظروں سے حرم کا زرد اور بیمار چہرہ دیکھتے ہوئے بولا تو حرم سمجھ گئی کہ وہ کیا بات کرنے والا ہے۔۔۔ اس لئے خاموشی سے بناء کچھ بولے اُس کی بائیک پر بیٹھ گئی کیونکہ جو بات اُن دونوں کے درمیان ہوتی وہ گھر پر سب کی موجودگی میں ہونا ناممکن تھی
“منگنی ختم کرنے کا کیوں کہا تم نے اپنی چچی کو”
وہ جس کی ریسٹورینٹ میں حرم کو لےکر آیا تھا وہاں رش نہ ہونے کے برابر تھا ویٹر جیسے ہیں جوس سے بھرے دو گلاس رکھ کر وہاں سے گیا اسجد حرم سے پوچھنے لگا
“نگی آپ کو بہت پسند کرتی ہے”
حرم اسجد کی آنکھوں میں دیکھے بغیر میز کی سطح کو گھورتی ہوئی آہستہ آواز میں بولی
“اور تم”
اسجد کے دوسرے سوال پر ایک نظر حرم نے سر اٹھاکر اسجد کو دیکھا پھر واپس اپنا سر جھکالیا۔۔۔ وہ آج اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بات نہیں کرسکتی تھی
“میری کیا حیثیت ہے بھلا تمام بڑے لوگوں کی خوشی اسی میں ہے کہ آپ کی اور نگی کی شادی ہوجائے”
حرم اپنا دل مضبوط کرتی ہوئی اسجد کو بتانے لگی۔۔ کیونکہ جب سے نزہت چچی نے اپنے گھر والی بات صبیحہ خالہ کے سامنے کی تھی تب سے صبیحہ خالہ بھی نگی کو اپنی بہو بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ اس کے پاس تو نہ ہی ماں باپ تھے اور نہ ہی گھر جیسی نعمت
“مگر میری خوشی تمہارے ساتھ میں حرم”
اسجد بےبسی سے بولا حرم نے اس کی طرف دیکھا تو نہیں تھا مگر وہ اُس کے لہجے میں چھٹی بےبسی محسوس کرسکتی تھی
“نگی بہت اچھی لڑکی ہے اسجد آپ اُس کے ساتھ بہت خوش رہیں گے”
حرم اپنا دل بڑا کرتی ہوئی اُسے سمجھانے لگی وہ اپنے ضبط پر خود بھی حیران تھی اُس نے اپنے آنسوؤں کو آنکھوں سے باہر نہیں آنے دیا تھا کمال ضبط کا مظاہرہ کیا تھا آج اُس نے
“میں اُس لڑکی کے ساتھ خوش کیسے رہوں گا جس سے میرا دل نہیں ملتا میں جانتا ہوں رشتے سے انکار تم نے خود نہیں کیا یہ ہمارے بڑوں نے مل کر تم پر دباؤ ڈالا ہے۔۔۔ حرم پلیز تم میرا ساتھ دو تو سب ٹھیک ہو جائے گا اگر ہم دونوں آج ہی نکاح کرنے کے بعد سب گھر والوں کو بتاتے ہیں۔۔۔۔
اسجد نے جو حرم سے آگے بھولنا چاہا تو حرم نے تڑپ کر اُسے دیکھا اسجد خاموش ہوگیا
“میں بہت زیادہ بزدل لڑکی ہو اسجد اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی اور اس طرح چھپ کر نکاح کرنے کے بعد کیا خالہ خالو آپ کی بہنوں کی نظروں میں میرا وہ مقام برقرار رہے گا،، آپ خود بھی اس بات کو بہتر سمجھتے ہیں جیسا سب چاہ رہے ہیں آپ مان جائے ضد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور آئندہ مجھ سے اس طرح ملنے اور بات کرنے سے گریز کیجئے گا میرے پاس ایک عزت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے”
حرم اسجد سے بولتی ہوئی اٹھ کر وہاں سے چلی گئی


“ارے یار لے جاؤ واپس اِس یخنی کے باؤل کو، اب ٹھیک ہوگیا ہوں میں”
بہرام بےزار سے لہجے میں یخنی سے لبالب بھرے پیالے کو دیکھ کر جیاء سے بولا جو پچھلے ایک ماہ سے اُسے زبردستی یخنی پلائے جارہی تھی بہرام کی بات سن کر جیاء بہرام کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“میرے سامنے زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے روزانہ کی طرح شرافت سے ساری یخنی ختم کرو، معلوم ہے یہ کتنی فائدہ مند ہے تمہارے لیے۔۔۔ اپنی روانگی سے پہلے میں تمہیں پہلے کی طرح ہشاش بشاش خوش باش اور صحت مند دیکھنا چاہتی ہوں”
بہرام کے نخرے تو اُس نے شروع سے ہی برداشت نہیں کیے تھے وہ ابھی بھی روزانہ کی طرح اُس پر روعب جماتی ہوئی بولی۔۔۔ جو اُس کے منع کرنے کے باوجود لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ چکا تھا تنقیدی نگاہ جیاء نے لیپ ٹاپ پر ڈالی تو بہرام کو لیپ ٹاپ بند کرکے سائیڈ پر رکھنا پڑا۔۔۔۔ بہرام نے برا سا منہ بنایا جس کی پرواہ کئے بغیر جیاء نے اسی یخنی سے بھرا باؤل پکڑا دیا
“اب میں پہلے کی طرح مکمل صحت مند ہوچکا ہوں مگر پہلے کی طرح ہشاش بشاش اور خوش باش ہوجاؤ ایسا شاید ہی ممکن ہو”
بہرام نے پیالے میں چمچہ گھماتے ہوئے بولا بولا تو جیاء اس کی بات سن کر بہرام کے پاس ہی بیٹھ گئی
“بے فکر رہو میں کینیڈا جانے سے پہلے تمہیں پہلے جیسا کر کے ہی جاونگی”
جیاء مسکراتی ہوئی بہرام سے بولی تو بہرام نے اس کو آنکھیں دکھائی
“اب تم دوبارہ وہی سلی سا ٹاپک لے کر مت بیٹھ جانا کہ دوبارہ گھر بسالو شادی کرلو، توبہ کرلی ہے میں نے اِس کام سے اب”
بہرام جانتا تھا جیاء ایسا ہی کچھ بولے گی اس لیے وہ پہلے ہی اس کو ٹوکتا ہوا بولا
“کیوں کیا تمہاری زندگی میں ابھی بھی وہ بےشرم لڑکی اہمیت رکھتی ہے جس کے غم میں مبتلا ہوکر تم دوبارہ اپنی نئی زندگی شروع نہیں کرسکتے ہو”
جیاء کو جیسے آج پھر موقع مل گیا تھا بہرام کا دوبارہ برین واش کرنے کا، ویسے بھی یہ کام ضروری تھا اُس کی روانگی سے پہلے
“تم جانتی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے وہ اپنی اہمیت اُسی دن کھو چکی تھی جب اُس کا کسی غیر مرد کے ساتھ ریلیشن کا پتہ چلا تھا مجھے۔۔۔لیکن اب ہزبینڈ وائف کے تعلق سے ڈر گیا ہوں میں اعتبار اٹھ گیا ہے میرا اِس رشتے سے”
بہرام اپنے دل میں چھپی ہوئی بات جیاء سے شیئر کرتا ہوا بولا ویسے بھی وہ شروع سے ہی اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات جیاء سے شیئر کرتا آیا تھا اور جیاء نے شروع سے ہی اُس کے ہر معاملے میں اپنی چلائی تھی اور بہرام نے ہر معاملے میں اُس کی سنی بھی تھی لیکن اینجل سے ملنا اور شادی کرنا زندگی میں پہلا اُس کا اپنا زیادتی فیصلہ تھا جو بہت غلط ثابت ہوا تھا
“پھر تم نے وہی عجیب سی باتیں شروع کردیں بہرام، اگر ایک لڑکی نے تمہاری زندگی میں آکر تمہیں چیٹ کیا ہے تو کیا ضروری ہے کہ ہر لڑکی ویسی ہی ہوگی ایسا ہر دفعہ نہیں ہوتا”
جیاء بہرام کی عقل پر ماتم کرتی ہوئی بولی یقیناً ایک ماہ کی میرڈ لائف نے اُس کے چھوٹے بھائی پر اچھے اثرات مرتب نہیں کیے تھے۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ بری طرح مینٹلی طور پر ڈسٹرب ہوچکا تھا
“مجھے یا تمہیں کیا معلوم کسی دوسری لڑکی کے کردار کے بارے میں، کوئی کسی کے کردار کی گرانٹی تو نہیں دے سکتا”
بہرام نے بولتے ہوئے یخنی سے بھرا باؤل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اُسے پہلے بھی یخنی میں دلچسپی نہیں تھی اب تو اور زیادہ اُس کا دل اُکتانے لگا
“جو لڑکی میں نے پسند کی ہے وہ ہر لحاظ سے تمہارے لیے پرفیکٹ ہے بالکل سیدھی سادھی سی، بھولی بھالی سی اور بہت پیاری سی۔۔۔ ویسے تو میں اُس سے ملی ہو اور رشتہ وغیرہ بھی تہہ کردیا ہے لیکن ہم دونوں کل اُس کے گھر جائیں گے تو تم دیکھ لینا اُسے۔۔۔ جو باتیں پوچھنا ہو پوچھ لینا اوکے۔۔۔ بہرام میں جانے سے پہلے میں تمہارا گھر بستا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں”
جیاء نے کتنے آرام سے اُس کے سر پر بم دے مارا تھا وہ آنکھیں نکالتا ہوا جیاء کو حیرت سے دیکھنے لگا