No Download Link
Rate this Novel
Episode 06
رات وہ روتے روتے سوچکی تھی اُسے نہیں معلوم تھا کہ رات میں اُس کے سونے کے بعد بہرام کب واپس بیڈ روم میں آیا، اِس وقت آہٹ سے اُس کی آنکھ کھلی تو اُس نے بہرام کو بیڈ روم میں موجود پایا۔۔۔۔ وہ یونیفارم میں ملبوس کلائی میں رسٹ واچ پہن رہا تھا، حرم کو جاگتا ہوا دیکھ کر وہ بیڈ کی طرف بڑھا تو حرم نے فوراً دوسری طرف کروٹ لےکر اپنا رخ پھیر لیا۔۔۔ وہ بہرام پر ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ کل رات وہ اُس کی دی ہوئی تکلیف کی وجہ سے اُس سے ناراض تھی۔۔۔
وہ بیڈ پر اپنے نزدیک بہرام کا بیٹھنا محسوس کرچکی تھی اپنے شانے پر بہرام کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کے حرم نے آنکھیں بند کرلیں وہ اُس کی طرف نہیں دیکھنا چاہتی تھی نہ ہی اُس سے بات کرنا چاہتی تھی
“صرف تین سے چار دن صبر کرلو اُس کے بعد میں خود تمہیں تمہاری صبحیہ خالہ کے گھر لے جاؤں گا۔۔۔ اور جہاں سے چاہو اپنے لئے شاپنگ بھی کرلینا وہ بھی میرے پیسوں سے، اپنے پیسے تم اپنے پاس سنبھال کے رکھو”
بہرام اُس سے ناراضگی دور کرنے کے غرض سے صلح جُو انداز میں بولا
“نہ ہی مجھے اپنی خالہ کے گھر جانا ہے اور نہ ہی مجھے شاپنگ کرنی ہے۔۔۔ میں اب صرف اپنے چچا کے گھر جانا چاہتی ہوں۔۔۔ اور اُس کے لیے نہ ہی آپ کو ڈرائیور بھیجنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی میں آپ کو خود زحمت دوگی۔۔۔ چچا خود آکر مجھے یہاں سے لے جائیں گے”
وہ بہرام کی حرکت پر فلحال اُس سے ناراضگی ختم نہیں کرنا چاہتی تھی اِس لئے رخ موڑے بغیر اُس سے بولی
“اگر تم مجھ سے خفا ہوکر یہاں سے جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں ہرگز جانے کی اجازت نہیں دوں گا۔۔۔ اور اگر تمہیں اپنے چچا سے ملنے کا دل چاہ رہا ہے، تب بھی تم فوری طور پر یہاں سے نہیں جاسکتی ہو مطلب تین سے چار دن تک تم اِس چار دیواری سے باہر نہیں نکلو گی”
بہرام آئستہ سے حرم کو سیدھا کرتا ہوا نرمی سے اُسے سمجھانے لگا تو حرم غصے میں اُسے دیکھنے لگی
“قید کرنا چاہتے ہیں آپ مجھے یہاں پر اپنے پاس”
اُس کے غُصے کی بھلا اہمیت ہی کیا تھی وہ بیڈ پر سیدھی لیٹی ہوئی بہرام کو دیکھ کر شکوہ کرنے لگی
“ضد مت کرو حرم کوئی وجہ ہے جبھی ایسا بول رہا ہوں”
بہرام نے اُسے شکوہ کرتے دیکھا تو ایک بار پھر سمجھایا۔۔۔وہ بیڈ پر حرم کے بالکل قریب بیٹھا ہوا تھا، اِس نے اپنا ہاتھ پھیلا کر بیڈ پر اسطرح رکھ لیا کہ حرم چاہ کر بھی دوبارہ دوسری جانب کروٹ نہیں لے سکتی تھی
“تو پھر آپ چلے جاۓ یہاں سے” حرم اُس کا چہرہ دیکھے بغیر سامنے دیوار کو دیکھتی ہوئی بولی
“اتنا برا لگ رہا ہوں تمہیں میں”
بہرام ذرا سا حرم کی جانب جُھکتا ہوا اُسے غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
“ابھی کے لیے۔۔۔ ہاں”
اُس نے ابھی بھی بہرام کو نہیں دیکھا تھا مگر اپنی جانب بہرام کے جھکاؤ سے وہ اُسکے پرفیوم کی خوشبو محسوس کرسکتی تھی۔۔۔ جو بےحد آہستگی سے اُس کے حواسوں پر سوار ہورہی تھی
“تو یہ بات میرا چہرا دیکھ کر بول دو، میں مان جاؤ گا”
بہرام نے بولتے ہوۓ اپنا ہاتھ حرم کے گال پر رکھا تو جیسے حرم کو کرنٹ چھوگیا۔۔۔
“کیو کیا تھا آپ نے میرے ساتھ کل رات اُس طرح”
اپنے اوپر جھکے بہرام کا چہرہ دیکھ کر حرم اپنے گال سے اُس کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی پوچھنے لگی تو بہرام کی نظریں اُس کی گردن سے ہوتی نیچے گئیں
“بہت سی باتیں انسان فوری طور پر سمجھ نہیں پاتا، یہ سمجھ لو جو کل رات کو ہوا وہ ضروری تھا۔۔۔ اُس بات کو لےکر تمہیں مجھ سے ناراض نہیں ہونا چاہیے”
بہرام کی بات حرم کو غصہ دلا گئی کیا وہ اِس جارحانہ سلوک کی مستحق تھی۔۔۔ اوپر سے وہ شکوہ کرنے یا ناراض ہونے کا بھی حق نہیں رکھتی تھی
“آپ کے بارے میں میری راۓ بالکل درست ہے آپ بہت بےرحم انسان ہیں”
حرم اپنا غصہ چھپاۓ بغیر اُسے بولی
“اور اِس بےرحم انسان کو ناشتہ کروانے کا ارادہ ہے کہ نہیں”
اُسے حرم کی بات پر کم از کم شرمندہ ضرور ہونا چاہیے تھا مگر حرم نے دیکھا، بہرام چہرے پر مسکراہٹ لیے اُس سے ناشتے کا پوچھ رہا تھا
“باہر جاکر کسی اچھے سے ہوٹل سے کرلیں یہ وردی دیکھ کر کوئی پیسے بھی نہیں لےگا آپ سے”
بہرام کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ جل کر بولی تو بہرام اُس کے ہونٹوں پر جھک گیا اِس اچانک عمل پر حرم اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکی۔۔۔۔
بہرام اُس کے گلابی ہونٹوں پر محبت بھری مہر لگا کر پیچھے ہوا تو شرم سے حرم کے گال سرخ ہوگئے
“میں مفت کھانے کی بجاۓ حلال کھانا پسند کرتا ہوں”
بہرام فریش سے انداز میں حرم کو جتاتا ہوا بولا
“آپ لیٹ ہورۓ ہیں اب جاۓ پلیز”
حرم پلکیں جھکاکر اُسے دیکھے بغیر بولی بہرام اُس کے شرمانے کے انداز سے اندازہ لگا چکا تھا کہ اب وہ کافی دیر تک اُس سے نظریں نہیں ملاۓ گی اِس لیے حرم کے شرمیلے روپ کو آنکھوں میں سماتا ہوا وہ کمرے سے نکل گیا
ملازمہ کام کرکے جاچکی تھی تو حرم شاور لینے چلی گئی جب وہ واپس آئی تو اُس کے موبائل پر آٹھ سے دس پرائیویٹ نمبر سے کال آئی ہوئی تھی وہ سمجھ گئی کہ یہ کال اسے بہرام کررہا تھا مگر اپنے نمبر سے نہیں پولیس اسٹیشن سے۔۔۔ وہ اپنے موبائل سے بہرام کا نمبر ڈائل کرنے لگی تبھی لینڈ لائن بجنے لگا حرم موبائل بیڈ پر رکھتی ہوئی لاؤنچ میں چلی آئی جہاں فون کی گھنٹی بج رہی تھی
“ہیلو”
وہی پرائیویٹ نمبر شو ہورہا تھا جسے دیکھ کر حرم فون کان پر لگاتی ہوئی بولی
“میں بہرام بات کررہا ہوں، حرم میری بات غور سے سنو تم فوری طور پر فلیٹ سے باہر نکلو، نیچے بلیک کلر کی مرسیڈیز میں ڈرائیور کو تمہیں لینے کے لئے بھیجا ہے جلدی سے جاکر اس گاڑی میں بیٹھو وہ ڈرائیور تمھیں میرے پاس لے آئے گا”
بہرام اتنی جلدی میں تھا کہ حرم اس کی بات سن کر بوکھلا گئی
“مگر آپ تو صبح ہی کہہ کرگئے تھے کہ تین سے چار دن تک فلیٹ سے باہر نہیں نکلنا پھر اچانک کیا ہوا”
حرم کنفیوز ہوتی ہوئی بحرام سے پوچھنے لگی
“جو میں بول رہا ہوں تم وہی کرو، دیکھو حرم اِس وقت بحث کرنے کا وقت نہیں ہے سمجھنے کی کوشش کرو کسی وجہ سے بول رہا ہوں میں”
بہرام اب کی بار ڈانٹتا ہوا بولا
“پھر وہ وجہ بتائیں ایسا کیوں بول رہے ہیں”
حرم اس کے ڈانٹنے کی پرواہ کیے بغیر بولی
“اس وقت فلیٹ میں تمہارے علاوہ بھی کوئی دوسرہ موجود ہے تمہاری جان خطرے میں ہے تم فوراً گھر سے باہر نکلو”
اب کی بار بہرام کی بات سن کر حرم کے ہوش اڑ گئے اُس کے علاوہ اور بھی کوئی دوسرا فلیٹ میں موجود تھا یہ سوچتے ہوۓ خوف سے اُس کے پسینے چھوٹنے لگے
لائن اب کٹ چکی تھی وہ وہی کھڑی چاروں طرف کمروں میں نظر دوڑانے لگی۔۔ خوف سے اُس کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا تبھی بیڈ روم میں اُس کا موبائل ایک بار پھر بجنے لگا۔۔۔۔ حرم وہی کھڑی فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ وہ موبائل لینے بیڈ روم میں جائے یا سامنے مین دروازے کا لاک کھول کر جلدی سے باہر نکل جائے جو آٹھ سے دس قدم کی دوری پر تھا۔۔۔ اچانک پردہ ہلا تو وہ ڈر گئی، پردہ ہوا سے بھی ہل سکتا تھا کیونکہ لاؤنج کی کھڑکی بھی کھلی ہوئی تھی لیکن اگر اُس پردے کے پیچھے کوئی موجود ہوا۔۔۔ اِس سوچ سے ذہن میں آتے ہی اُس نے اپنا موبائل بجنے دیا اور تیزی سے پلیٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلی
بہرام کی بات سن کر کو اتنی زیادہ خوفزدہ ہوچکی تھی کہ لفٹ کھلنے کا انتظار کیے بغیر تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی تبھی وہ کسی سے ٹکرائی
“ارے میم سنبھل کر تو چلیں”
عفان نے سیڑھیوں سے اترتی ہوئی لڑکی سے کہا جلدی میں تھی اور اُس سے بری طرح ٹکرا آئی تھی
“سوری”
حرم بولتی ہوئی رکی نہیں بلکہ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی
“آپ اے سی پی بہرام عباسی کی وائف ہیں”
عفان اُسے پہچان گیا تبھی جلدی سے بولا مگر وہ پہلی والی تھی اور دوسری والی عفان خود کنفیوز ہوگیا
“آپ بہرام سے ملنے آئے تھے ناں گھر پر۔۔۔ بہرام کہاں ہے اس وقت۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے”
عفان کے بولنے پر حرم رکی، وہ اتنی زیادہ ڈری ہوئی تھی کہ عفان سے ہی بہرام کا پوچھنے لگی
“اے سی پی صاحب تو اس وقت تھانے میں ہونگیں، کیا کوئی پریشانی ہے آپ مجھے بتاسکتی ہیں”
یہ بہرام کی دوسری بیوی تھی جس کو اُس نے بہرام کے فلیٹ میں دیکھا تھا عفان اس کو پہچان گیا تھا جبھی وہ حرم سے پوچھنے لگا
“فلیٹ کے اندر کوئی موجود ہے بہرام نے فون پر کہا نیچے کھڑی مرسیڈیز میں بیٹھ کر میں اُن کے پاس آجاؤ”
معلوم نہیں اسے یہ سب سامنے کھڑے لڑکے سے بولنا چاہیے تھا کہ نہیں مگر وہ ڈری ہوئی تھی اسے رونا بھی آرہا تھا شاید اسے جلدی نیچے جانا چاہیے تھا بہرام کا ڈرائیور اُس کا انتظار کررہا ہوگا
“اے سی پی صاحب نے آپ کو خود بولا آپ اُن کے پاس آجائیں۔۔۔ میرے خیال سے تو اگر آپ کے فلیٹ میں کوئی موجود ہوتا تو اے سی پی صاحب خود آپ کے پاس پہنچتے یا کسی دوسرے کو بھیج دیتے۔۔۔ کیا آپ کو واقعی اے سی پی صاحب نے اپنے پاس آنے کو کہا”
عفان کے سوال کرنے پر حرم خود کنفیوز ہوگئی فون پر وہ آواز بہرام کی تھی یا شاید نہیں۔۔۔
“مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے کچھ بھی نہیں معلوم”
حرم بری کنفیوز ہوگئی اسے سامنے کھڑا یہ لڑکا بھی مشکوک لگ رہا تھا یہ تیسرا فلور تھا جہاں وہ دونوں اس وقت کھڑے تھے
“آپ اس طرح پریشان مت ہو میں ابھی کال کرکے اے سی پی صاحب سے کنفرم کرلیتا ہوں۔۔۔ ساری بات ابھی کلئیر ہوجاۓ گی”
عفان نے بولتے ہوئے اپنا موبائل نکالا اور اب وہ بہرام کو کال ملا رہا تھا
“عفان میں تم سے تھوڑی دیر بعد بات کرتا ہوں”
عفان کو لگا بہرام اس وقت مصروف تھا اس کے کال کاٹنے سے پہلے عفان بول پڑا
“آپ کی مسسز بول رہی ہیں آپ کے فلیٹ میں کوئی موجود ہے اور آپ نے انہیں اپنے پاس بلانے کے لیے کوئی گاڑی بھیجی ہے”
عفان کی بات سن کر بہرم کے قدم کمشنر صاحب کے کمرے میں جانے سے پہلے ہی رک گئے۔۔۔ وہ بری طرح چونکا
“عفان تم اِس وقت کہاں پر ہو اگر حرم اس وقت تمہارے پاس موجود ہے تو میری بات کراؤ اُس سے”
اب بہرام کمشنر کے پاس نہیں جاسکتا تھا۔۔۔ موبائل کان سے لگائے وہ بھاگتا ہوا باہر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا
“ہیلو”
تبھی اُسے گھبرائی ہوئی حرم کی آواز اپنے موبائل پر سنائی دی
“میں نے تم سے کیا بکواس کی تھی کہ تم فلیٹ کی چار دیواری سے باہر نہیں نکلو گی۔۔۔ حرم فوراً فلیٹ میں پہنچو میں تھوڑی دیر میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں”
بہرام آس پاس کی پرواہ کیے بغیر غصے میں حرم پر چیختا ہوا بولا اور گاڑی میں بیٹھا۔۔۔ اُسے ڈر تھا کہ آج نہیں کچھ غلط نہ ہو جائے
“بہرام آپ ہی نے تو مجھے گھر کے نمبر پر فون کرکے بولا”
حرم کو بہرام کی آواز سن کر اطمینان ہوا جبھی وہ بہرام سے بولنے لگی تبھی سامنے لفٹ کا دروازہ کھلا اور دو آدمی حرم اور عفان کی طرف بڑھنے لگے
“شیٹ اپ حرم فوراً فلیٹ کے اندر جاکر دروازہ اچھی طرح لاک کرو اور موبائل عفان کو دو”
بہرام ایک بار پھر زور سے بولا وہ گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا
“چلیے میڈم ہمارے ساتھ آپ کو اے سی پی صاحب بلارہے ہیں”
یہ اجنبی آواز بہرام اپنے موبائل پر واضح سن سکتا تھا اسے نہیں معلوم تھا موبائل اِس وقت عفان کے پاس تھا یا حرم کے پاس بہرام دوبارہ تیز آواز میں بولا
“عفان پلیز حرم کو اُس کے ساتھ کہیں مت جانے دینا میں پہنچ رہا ہوں وہاں”
بہرام نے کال ڈسکنیکٹ نہیں کی تھی وہ گاڑی تیز گرفتار سے چلاتا ہوا بولا
“یہ تم دونوں کے ساتھ کہیں نہیں جارہی ہے۔۔ میں ایک رپورٹر ہوں میرا تعلق میڈیا سے ہے تم دونوں کو ایکسپوز کرنے میں منٹ بھر نہیں لگاؤں گا چلے جاؤ یہاں سے”
عفان نے اپنا موبائل ہاتھ میں پکڑے پاکٹ سے اپنا کارڈ نکال کر ان دونوں کو دکھاتا ہوا بولا۔۔۔
حرم اس صورتحال پر پریشان ہوکر عرفان کے پیچھے چھپ گئی۔۔۔ اُن دونوں آدمیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اُن میں سے ایک آدمی نے اپنی جیب سے پستول نکالا اور عفان پر فائر کیا
“حرم”
بہرام کو اپنے موبائل پر فائرنگ کی آواز اور حرم کے چیخنے کی آواز صاف سنائی دی بہرام نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ چیخ کر حرم کا نام پکارا۔۔۔۔
موبائل پر رابطہ خود بخود ختم ہوچکا تھا۔۔۔ بہرم نے گاڑی کو وہی بریک لگایا پیچھے گاڑی کو ٹکر لگنے سے کوئی آدمی اُس پر چیخ رہا تھا مگر بہرام کا دماغ ایک دم چکرا سا گیا۔۔ وہ اس پاس ماحول سے بےنیاز کچھ اور سوچ رہا پھر اس نے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی۔۔۔ اب کی بار اُس کی گاڑی کا رخ اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نہیں بلکہ یعقوب نیازی کے گھر کی طرف تھا
“آآآآ”
عفان گولی لگنے سے جیسے ہی نیچے گرا، حرم خوف کے مارے زور سے چیخی۔۔۔ عفان کے ہاتھ سے موبائل بھی نیچے گرچکا تھا
“چلو لڑکی ہمارے ساتھ”
وہ دونوں آدمی حرم کو اپنے ساتھ لے جانے لگے شاید اُس کے لئے آج بہت برا دن تھا وہ سوچتی ہوئی خوفزدہ سی عفان کے گرے ہوئے بےہوش وجود کو دیکھنے لگی۔۔ ہر فلور پر کیمرے لگے ہونے کے باوجود وہ دونوں بےخوفی سے حرم کو اپنے ساتھ لے جانے لگے
“اے سی پی کی بیوی ہمارے قبضے میں ہے پلان کامیاب ہوا”
اُن میں سے ایک آدمی فون پر بولا دوسرے آدمی اُس کے پیچھے تھا، جس نے حرم کی کمر پر پستول کی نال رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ لفٹ کی طرف قدم بڑھانے پر موجود تھی
“ٹھیک ہے اُس کی بیوی کو میرے فارم ہاؤس پر لے آؤ”
دوسری طرف سے بول کر کال رکھ دی گئی
عفان کو گولی لگ چکی تھی بہرام اُس کے پاس نہیں تھا۔۔۔ معلوم نہیں وہ اب بہرام سے دوبارہ مل بھی سکتی تھی یا نہیں۔۔۔۔ ایک لڑکے کو مار کر وہ دونوں اِس کو کہاں لے جارہے تھے اُس کے ساتھ آگے کیا ہونے والا تھا یہ ساری باتیں سوچتے ہوئے حرم گاڑی میں بیٹھی گاڑی اسٹارٹ ہوکر اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی
ساری عمر وہ ایسی خبریں اخبار میں پڑھتی آئی تھی یا نیوز چینل پر دیکھتی آئی تھی کہ دن دہاڑے لڑکی کو اغوا کرلیا گیا جس کے چار دن بعد زیادتی کرکے اُس کی لاش دریا میں بہا دی گئی یا کچرے میں پھینک دی گئی۔۔۔ کیا اُس کی بھی ان لڑکیوں جیسی قسمت تھی نہ جانے کیا کیا سوچیں اُس کے دماغ میں چلنے لگی پھر حرم کے حواسوں نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا۔۔ وہ خوف اور صدمے کے زیر اثر بےہوش ہوچکی تھی جبکہ گاڑی شہر سے دور یعقوب نیازی کے فارم ہاؤس کی طرف دواں تھی
“ارے آپ ایسے کیسے اندر چلتے چلے آرہے ہیں”
یعقوب نیازی کی بیوی جو اپنی بیٹی کے ساتھ گھر کے بنے لان میں بیٹھی ہوئی تھی بہرام کو گارڈز سے لڑنے کے بعد اندر آتا دیکھ کر بولی
“اپنے شوہر کو بلاؤ ابھی اور اسی وقت”
بہرام کا دماغ اتنا گھوما ہوا تھا سامنے سامنے لیڈی کھڑی ہے وہ بھول گیا غُصے سے چیختا ہوا بولا
“سر گھر پر موجود نہیں ہیں وہ صبح کے اپنے فارم ہاؤس پر موجود ہیں آپ کو یقین کیوں نہیں آرہا”
یعقوب نیازی کی بیوی کی بجائے وہاں کھڑا ملازم بہرام کو یونیفارم میں دیکھ کر احتراماً سیدھے منہ بات کرتے بولا۔۔۔ گیٹ پر کھڑا گارڈ اور دوسرا ملازم بھی وہی لان میں آگئے
بہرام نے ملازم کی بات سن کر گن ہولسٹر سے ریوالور نکالا اور کسی کی پرواہ کیے بغیر یعقوب نیازی کی بیٹی کی کنپٹی پر رکھ دی
“ممی”
وہ 15 سال کی لڑکی ڈر کر بولی جبکہ یعقوب نیازی کی بیوی خوف سے اپنی بیٹی کے بعد بہرام کو دیکھنے لگی
“اگر کسی نے بھی کوئی ہوشیاری دکھائی تو میں بغیر سوچے سمجھے اِس لڑکی کے دماغ میں گولی اتار دوں گا”
بہرام نے سارے ملازموں کو دیکھ کر انہیں وارن کیا پھر وہ یعقوب نیازی کی بیوی کو دیکھتا ہوا بولا
“تمہارے شوہر کے وفادار ملازم میری بیوی کو تمہارے شوہر کے کہنے پر اٹھاکر اُس کے فارم ہاؤس پر لے گئے ہیں۔۔۔ اپنے شوہر کو میرا میسج دے دینا اگر اُس نے میری بیوی کو اپنے گندے ہاتھوں سے چھوا بھی تو میں اُس کی بیٹی کا وہ حشر کروں گا، کہ وہ چیخ چیخ کر اپنے مرنے کی دعا کرے گا۔۔۔ اپنے شوہر کو فون کرکے بولو وہ میری بیوی کو باعزت طریقے سے میرے گھر چھوڑ جائے۔۔۔ نہیں تو تم دونوں کو تمہاری بیٹی واپس اِس گھر میں کبھی نظر نہیں آئے گی”
بہرام اُس کی بیوی کو غصے میں بولتا ہوا۔۔۔ روتی ہوئی اُس لڑکی کو اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔۔اُس کے ہاتھ میں پستول تھی جس کی وجہ سے یعقوب نیازی کے ملازم بہرام کا کچھ بھی نہیں کرپائے۔۔۔
یعقوب نیازی کے گھر پہنچنے سے پہلے بہرام اپنے اسسٹینٹ مہران کو اپنے اپارٹمنٹ میں روانہ کرچکا تھا۔۔۔ جہاں سے زخمی حالت میں عفان کو اسپتال پہنچا دیا گیا تھا فلور پر لگے کیمرے میں ہوئی ساری کاروائی موجود تھی جسے بہرام کے آرڈر پر مہران اپنے پاس سے سیو کرچکا تھا
یعقوب نیازی کا ایک نہیں بلکہ تین چار فارم ہاؤس اِس شہر میں موجود تھے اسے خبر نہیں تھی کہ یعقوب نیازی کے آدمی حرم کو کون سے فارم ہاؤس لے کر گئے ہیں اِس وقت بہرام کو حرم کی فکر تھی اُس کو جو صحیح لگا اُس نے وہی کیا۔۔۔ وہ یعقوب نیازی کی بیٹی کو اپنے ساتھ لے آیا۔۔۔ جس کے آدھے گھنٹے بعد ڈپٹی صاحب کی کال اُس کے موبائل پر آنے لگی
“تم فوری طور پر یعقوب نیازی کی بیٹی کو یعقوب نیازی کے گھر چھوڑ کر میرے پاس آؤ۔۔۔ دس ازس مائے آرڈر”
کال ریسیو کرنے کے ساتھ ہی اُسے ڈپٹی صاحب کی آواز سنائی دی
“سوری سر میں آپ کے آرڈر تب تک فالو نہیں کرسکتا جب تک میری بیوی صحیح سلامت میرے پاس نہیں آجاتی”
بہرام ڈپٹی صاحب کے آرڈرز کو رد کرتے ہوئے احترام اًبولا۔۔۔ ابھی مشکل سے آدھا گھنٹہ گزرا تھا یقیناً یہ خبر اوپر تک پہنچ چکی تھی
“تم یعقوب نیازی کے ساتھ پرسنل نہیں ہوسکتے اے سی پی بہرام عباسی”
ڈپٹی صاحب کی بات سن کر بہرام کو آگ لگ گئی
“سر پرسنل میں نہیں، پرسنل پر وہ اتر آیا ہے۔۔۔ میں نے تو اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے ثبوتوں کے ساتھ اُس کے بھائی پر ہاتھ ڈالا تھا جس کے بدلے اُس نے میری وائف کو اٹھوالیا۔۔۔ اگر میری فیملی میری جاب کی وجہ سے متاثر ہوئی تو میں یعقوب نیازی کی فیملی کو بھی نہیں بخشوں گا”
بہرام نے بات کرتے ہوئے احترام کا دامن نہیں چھوڑا مگر غصہ اور غضب سے اس کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا
یہ پورا کا پورا نظام ہی ایسا تھا جبھی کوئی ایسے بڑے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالتا پیچھے نہیں تو پیچھے ان کی فیملی کو سفر نہ کرنا پڑتا۔۔۔ بہرام نے کال کاٹ کر اپنا موبائل بند کردیا
یعقوب نیازی کمرے میں ٹہلتا ہوا بےتابی سے اپنے آدمیوں کا انتظار کررہا تھا کیوکہ اس کی کال ریسیو نہیں کی جارہی تھی۔۔۔ جیسا کہ اُس نے سوچا تھا وہی اُس کے آدمیوں نے کیا یعنی وہ اے سی پی کی بیوی کو اٹھاکر اُس کے پاس آرہے تھے۔۔۔ اُس کا پلان یہی تھا کہ اے سی پی بہرام عباسی کو بلیک میل کر کے اُس سے اپنے بھائی کے بارے میں معلوم کرے مگر اُس کا پلان تب الٹا جب یعقوب نیازی کی بیوی کی کال اُس کے پاس آئی
بہرام کی جرات پر اُس کا خون کھول اٹھا تھا وہ اے سی پی اس کی معصوم 15 سال کی بیٹی کو سرعام اُس کے گھر سے لے جا چکا تھا۔۔ جس کا اس سارے واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔ اُس کی بیوی نے یعقوب نیازی کو فون پر کافی لعن طعن کی تھی اور اسے بہرام کی دی گئی دھمکی بھی بتائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر اُس کی بیٹی کو کچھ ہوا تو اُس کا ذمہ دار وہی یعنی یعقوب نیازی ہوگا۔۔۔ یعقوب نیازی بہرام کی چالاکی پر بری طرح پیچ و تاب کھاکر رہ گیا اب اسے اپنے بھائی بوبی سے زیادہ اپنی معصوم بیٹی کی پرواہ تھی۔۔۔ یعقوب نیازی ٹینشن سے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا تب اس کے دونوں آدمی اے سی پی کی بیوی کو اپنے ساتھ لےکر آئے
“کیا ہوا ہے اسے”
ایک آدمی نے حرم کو بےہوش وجود کو صوفے پر ڈالا تو یعقوب نیازی ماتھے پر ڈالتا ہوا اپنے آدمی سے پوچھنے لگا
“سر یہ خوف سے بےہوش ہوچکی ہے”
اُس کا آدمی یعقوب نیازی کو بتانے لگا اِس سے پہلے یعقوب نیازی اپنے آدمیوں کو دوبارہ حرم کو واپس چھوڑ آنے کا حکم دیتا اُس سے پہلے حرم نے اپنی آنکھیں کھولیں اور ٹیبل پر رکھے ہوۓ چند اوزاروں میں سے چھری اٹھالی
“اے لڑکی کیا کررہی ہو چھری واپس رکھ دو، تمھیں یہاں پر کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا”
یعقوب نیازی حرم کی پھرتی دیکھ کر بوکھلا گیا وہ اُس کے قریب آتا ہوا کہنے لگا
“دور ہو مجھ سے میرے قریب مت آنا”
حرم چھری کا رخ یعقوب نیازی کی طرف کرتی ہوئی تیزی سے صوفے سے اٹھکر اُس کے پیچھے دیوار سے چپک گئی۔۔۔
یعقوب نیازی کے دونوں آدمی بھی یعقوب نیازی کی طرح اُس کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔ حرم کو اُن تینوں سے خوف آنے لگا وہ اکیلی اور تین آدمی
“دیکھو لڑکی تمھیں ابھی فوراً تمہارے شوہر کے پاس پہنچا دیا جائے گا میرا یقین کرو یہ چھری پھینک دو”
اگر اے سی پی کی بیوی کو کچھ ہوجاتا تو اے سی پی کے پاس اُس کی بیٹی موجود تھی اور یعقوب نیازی اپنی بیٹی کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔۔۔ ڈپٹی کی کال کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا
حرم کو اُس آدمی کی بات پر یقین نہیں آیا اگر یہ آدمی اُس کو بہرام کے پاس پہنچانے کا ارادہ رکھے ہوئے تھا تو اِس کو یہاں پر لایا ہی کیوں گیا تھا۔۔۔ اِس سے پہلے وہ تینوں آدمی اُس پر حاوی ہوجاتے حرم نے چھری کر رخ اپنے پیٹ کی طرف کیا
“جلدی پکڑو اِسے چھری چھین لو اِس سے”
یعقوب نیازی اپنے دونوں آدمیوں سے بولا جنھوں نے حرم کو قابو کرنا چاہا
“نہیں”
حرم کے ہاتھ سے چھری لینے کے چکر میں حرم چھری سے اپنی کلائی کو زخمی کرچکی تھی
“یہ کیا ہوگیا اسپتال لےکر چلو اِس لڑکی کو۔۔۔ وہ اے سی پی میری بیٹی کے ساتھ کہیں کچھ نہ کردے”
یعقوب نیازی اپنے دونوں آدمیوں پر بری طرح چیخ رہا تھا حرم جو کہ پہلے ہی خوف زدہ تھی۔۔۔ اپنی کلائی سے تیزی سے خون نکلتے دیکھ کر وہ خوف کے مارے فرش پر گرتی ہوئی اپنے حواس کھونے لگی
تین گھنٹے گزر چکے تھے مگر حرم کا کچھ آتا پتہ نہیں تھا۔۔۔ بہرام کے آرڈر پر مہران پولیس کو لےکر باری باری یعقوب نیازی کے تینوں فارم ہاؤس پر پہنچ کر تلاشی لےچکا تھا مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا تھا۔۔۔ بہرام کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں سے حرم کو ڈھونڈ نکالے اُسے یوں بیٹھنا فضول لگ رہا تھا یعقوب نیازی کی بیٹی جو اِس وقت اُس کے سامنے بیٹھی روتے روتے خاموش ہوچکی تھی لیکن اب اُس نے ایک بار پھر سے رونا شروع کردیا تھا بہرام کو اِس لڑکی کو دیکھ کر حرم کی فکر ہونے لگی تھی وہ بھی تو اِسی لڑکی کی طرح خوفزدہ اور پریشان ہوگی۔۔۔ بہرام کو اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا وہ ریوالور میں گولیاں چیک کرنے لگا اب وہ یعقوب نیازی کے گھر دوبارہ جانے کا ارادہ رکھتا تھا
“رونا بند کرو خاموش ہوجاؤ”
بہرام اُس لڑکی پر غصے میں بری طرح دھاڑا تو وہ لڑکی سہم کر چپ ہوگئی
“تمہارا باپ ایک نمبر کا ذلیل کمینہ اور گھٹیا انسان ہے، جس کردار کا تمہارا باپ مالک ہے یہ گالیاں بھی اُس بےغیرت کے سامنے مہذب معلوم ہوتی ہیں اگر میں تمہارے باپ کے کارنامے اور رنگین مزاجی کے قصّے تمہیں سنانے بیٹھ جاؤ تو تمہیں اپنی پیدائش پر شرم آئے گی۔۔۔ عورتوں کے ساتھ کھیل کر ان کی دلالی کرنے والا غلیظ آدمی ہے تمہارا باپ جسے شاید اپنی بیٹی کی عزت اور جان کی پرواہ نہیں ہے، میری بیوی کو تمہارے باپ نے اٹھالیا ہے اگر اس نے میری بیوی کو ذرا سی بھی نقصان پہنچانا تو میں تمہارے باپ کی جان لے لوں گا اور اِسی طرح رونا تمہارے مقدر میں لکھ دو گا”
بہرام سہمی ہوئی اُس لڑکی سے بولا اور کمرے سے جانے لگا تبھی فلیٹ کی ڈور بیل بجی۔۔۔ دروازہ کھولنے پر یعقوب نیازی اور اُس کے گارڈ کو اپنے فلیٹ کے دروازے پر دیکھ کر بہرام کا خون کھول اٹھا وہ یعقوب نیازی پر بھوکے شیر کی طرح جھپٹ پڑا
“بتا مجھے کہاں ہے میری بیوی کیا کیا تُو نے اُس کے ساتھ بول”
بہرام اپنے شکنجے میں یعقوب نیازی کی گردن کو پکڑے شدید غّصے میں پاگل ہوچکا تھا۔۔۔ یعقوب نیازی خود اور اُس کا گارڈ چاہ کر بھی بچاؤ کرنے میں ناکام تھے
“کچھ نہیں کیا میں نے تمہاری بیوی کے ساتھ میرا یقین کرو۔۔۔ اُسے جیسا لےکر گیا وہ بالکل ویسی ہی ہے پاک اور اَن چھوئی مگر اُس نے ڈر کے مارے خود اپنی جان لینے کی کوشش کی”
بہرام کی مضبوط گرفت میں موجود یعقوب نیازی کافی مشکل سے اُسے بتا پایا۔۔۔ اُس کی بات سن کر بہرام اُسے اپنے شکنجے سے آزاد کرتا ہوا شاکڈ ہوگیا
“جان لینے کی کوشش کی۔۔۔ کہاں ہے اِس وقت حرم”
بہرام صدمے اور غصے کی کیفیت میں ایک بار پھر یعقوب نیازی کا گریبان پکڑ کر اُس سے پوچھنے لگا
“اُس نے اپنے ہاتھ کی کلائی کی نس کاٹ لی۔۔۔ خون زیادہ بہہ گیا ہے تو وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے۔۔ میرا یقین کرو میں اپنی بیٹی کی قسم کھاکر کہتا ہوں میں نے تمہھاری بیوی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے”
یعقوب نیازی جو کافی ری سورسز رکھنے کے باوجود صرف اِس لیے بہرام کے سامنے بھیگی بلی بنا ہوا تھا کیوکہ اُس کی بیٹی اِس بےرحم اے سی پی کے پاس تھی۔۔۔ اُس نے بہرام کو ہسپتال کا ایڈرس بھی دیا جہاں حرم موجود تھی
“پاپا”
اتنے شور کی آواز سن کر یعقوب نیازی کی بیٹی کمرے سے باہر آئی اور یعقوب نیازی کے گلے لگ کر رونے لگی جبکہ بہرام اسپتال کے دیئے گئے ایڈریس پر کال کرکے ڈاکٹرز سے حرم کے بارے میں کنفرم کرنے لگا
ڈاکٹر کے مطابق حرم کے ہاتھ کی نس کافی گہری کٹ گئی تھی جس کی وجہ سے اُس کا کافی خون ضائع ہوچکا تھا وہ اِس وقت بےہوش تھی مگر خطرے سے باہر تھی
“میں تمہاری طرح کا نیچ ذات کا مرد نہیں جو دوسروں کی عزت پر غلیظ اور میلی نظر رکھتے ہیں، پوچھ لو اپنی بیٹی سے کوئی بھی اخلاق سے گری ہوئی حرکت نہیں کی ہے میں نے اس کے ساتھ اور اِس کی عزت بھی محفوظ ہے لیکن تم نے میری عزت پر گندی نگاہ ڈالی اُس کے لئے غلیظ سوچ اپنے ذہن میں رکھی، اسے اپنے آدمیوں سے اٹھوایا، تمہاری وجہ سے وہ اس وقت تکلیف برداشت کررہی ہے اِن سب باتوں کے لئے تم سزا کے مستحق ہو اور وہ سزا میں تمہیں ضرور دوں گا”
بہرام نے ریوالور نکال کر یعقوب نیازی پر فائر کیا
“پاپا”
یعقوب نیازی گولی لگنے سے فرش پر گرا اُس کے جسم سے خون فوارے کی صورت نکلنے لگا جسے دیکھ کر یعقوب نیازی کی بیٹی خوف کے مارے چیختی ہوئی رونے لگی جبکہ یعقوب نیازی کا گارڈ اُسے سنبھالنے کی کوشش کرنے لگا بہرام کو اِس سارے قصّے میں دلچسپی نہیں تھی اِس لیے وہ ان لوگوں کو وہی چھوڑ کر اسپتال کے لئے نکل گیا
“حرم میری جان”
ہسپتال کے کمرے میں جیسے ہی حرم کو ہوش آیا اسے دیکھ کر بہرام بےساختہ کرسی سے اٹھا اور حرم کی طرف بڑھا۔۔ حرم کے بیڈ سے اٹھنے سے پہلے ہی وہ حرم کے چہرے پر جھکتا ہوا حرم کی پیشانی پر ہونٹ رکھ کر اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا
“میں آپ کو دیکھ سکتی ہو بہرام، مجھے یقین نہیں آرہا، مجھے آج لگ رہا تھا جیسے میں نے آپ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا اب ہم دونوں کبھی نہیں مل پاۓ گیں”
حرم ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی ہوئی بےیقینی کی کیفیت میں اپنے سامنے بیٹھے بہرام کو دیکھ کر بولی جو اُس کے لیے حد درجہ فکر مند نظر آرہا تھا اپنے لئے فکر مند ہونا وہ اُس کے چہرے سے محسوس کرسکتی تھی۔۔حرم کی بات سن کر بہرام نے حرم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
“ایسی سوچ کیو لائی تم اپنے ذہن میں، ابھی تو تم کو پایا ہے ایسے ہی کھو دیتا ہے اپنی جان کی بازی لگا دینا مگر تم کو ڈھونڈ لیتا”
بہرام اُس کا ذرد ہوتا چہرہ دیکھ کر بولا۔۔۔ آج کہیں نہ کہیں اُس کی وجہ سے اُس کی بیوی پرابلم میں آئی تھی اور وہ جس تکلیف سے گزری تھی یہ سوچ کر بہرام کو تکلیف ہورہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی اُس کے دور جانے کی سوچ، بہرام کو حرم کے قریب لے آئی تھی
“آپ مجھ پر غُصّہ تو نہیں ہوگیں یا پھر مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیں میری بیوقوفی کی وجہ سے آج یہ سب کچھ ہوگیا آپ نے بھی مجھے سمجھایا بھی تھا۔۔۔
حرم کو یاد آنے لگا ایک بار نہیں بہرام نے اُسے کئی بار فلیٹ سے نکلنے کے لیے منع کیا تھا مگر اِس کے باوجود اس سے بےوقوفی سرذد ہوئی جس کا نتیجہ اُسے کس انداز میں برداشت کرنا پڑا
“میں چاہوں بھی تو تم سے ناراض نہیں ہوسکتا نہ ہی تم پر غُصہّ کرسکتا ہوں، صرف اور صرف اوپر والے پر شکرگزار ہوں کیوکہ تم اِس وقت میری آنکھوں کے سامنے موجود ہو”
بہرام اپنا ہاتھ حرم کے گال پر رکھتا ہوا پوری ایمانداری سے سچائی بیان کرتا حرم کا چہرہ دیکھنے لگا، آج اُسے یہ چہرہ ایک بار دوبارہ سے اپنے دل کے قریب محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔ اِس وقت وہ اپنے دل میں کیا محسوس کررہا تھا شاید چاہ کر بھی وہ اُس سے شیئر نہیں کر پاتا
“بہرام میں یہاں کیسے آئی۔۔۔ اور اور وہ عفان اس کو تو اُن لوگوں نے گولی مار دی تھی”
حرم اپنے دماغ پر زور ڈالتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی خون بہتا دیکھ کر اپنے حواسوں میں نہیں رہی تھی بےہوش ہونے کی وجہ سے اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا وہ کیسے یہاں تک پہنچی۔۔۔ اِس وقت وہ چہرے سے کافی پریشان لگ رہی تھی تب بہرام نے جھک کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما
“پریشان مت ہو عفان کو گولی ضرور لگی تھی لیکن بروقت ٹرٹمینٹ ملنے کی وجہ سے اب اُس کی طبعیت ٹھیک ہے۔۔۔ تم اب مزید کچھ نہیں سوچو، میں اور تم ایک دوسرے کے پاس ہیں اِس کا مطلب ہے اب سب کچھ ٹھیک ہے”
وہ کیسے یہاں پہنچی یا بہرام نے اُس کے پیچھے کیا کچھ کیا۔۔۔۔ یا تھوڑی دیر پہلے وہ کیا کرکے آرہا تھا یہ ساری باتیں وہ حرم کو بتانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا
“آپ کا مطلب ہے ہم دونوں کے ییچ اب سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے”
حرم اپنے چہرے کے بےحد قریب بہرام کا چہرہ دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی جو اِس وقت اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام ہوا تھا
“ہم دونوں کے بیچ سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے کیا تم اس بات کا یقین چاہتی ہوں”
بہرام اُس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا اُس کے گلابی ہونٹ جو خشک ہورہے تھے۔۔۔۔
وہ بہرام سے یقین بھی چاہتی تھی اور بہرام کا یقین بھی چاہتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ بہرام اُس کو اِس وقت کیسے یقین دلانے والا تھا اِس کے باوجود اُس نے بہرام کی بات پر اقرار میں سر ہلایا، حرم کے اقرار پر بہرام نے نرمی سے اپنے ہونٹ اُس کے گلابی ہونٹوں پر رکھ دئیے حرم نے اطمینان سے اپنی آنکھیں بند کرلی وہ بہرام کے ہونٹوں کا لمس اور اس کی سانسوں کی مہک اپنے اندر اترتا ہوا محسوس کررہی تھی بہرام نے اپنے دونوں ہاتھ اُس کے چہرے سے بالوں تک لے جاتے ہوۓ اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنساکر حرم کا چہرہ اونچا کیا وہ حرم کی توڑی پر ہونٹ رکھتا ہوا اُس کی گردن پر جھکا تب حرم نے ہسپتال کا احساس کرتے اُسے آہستگی سے پیچھے کیا۔۔۔
بہرام پبلک پلیس کا سوچ کر ہی شرافت کا مظاہرہ کرتا پیچھے ہوا تھا لیکن یوں حرم کے نظریں جھکانے پر وہ اُس کی گلابی پڑتی رنگت غور سے دیکھنے لگا جو اُس کے یوں دیکھنے سے سرخ ہوچکی تھی۔۔۔ بہرام اُس کے یوں رنگ بدلتی کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہوا مسکرا دیا پھر اُس کی نظر حرم کے ہاتھ کی کلائی پر پڑی جس سے وہ اب تک نظریں چرا رہا تھا اُس کی مسکراہٹ تھمی
“تم نے اُس دن کہا تھا تمہیں موت سے ڈر لگتا ہے تو پھر یہ کیا حرکت کی تم نے۔۔۔ کیا تمہیں معلوم نہیں تمہاری یہ حماقت تمہیں خطرے میں بھی ڈال سکتی تھی”
بہرام اُس کی کلائی دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔ لوجی پیار محبت ختم، آگئے اے سی پی صاحب اپنے پرانے والے اسٹائل میں واپس۔۔۔ حرم نہیں دل ہی دل میں سوچا
“تو اور کیا کرتی ڈر لگ رہا تھا مجھے اُن آدمیوں سے بےشک مجھے اپنی جان پیاری ہے مگر میری جان میری عزت سے بڑھ کر تو نہیں ہے ناں”
حرم نے عام سے انداز میں بہرام کو ایک بات بولی جو بہرام کے دل کو چھو گئی وہ خاموشی سے حرم کا چہرہ دیکھنے لگا اُس کی بولی ہوئی بات اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی
آج اسے اپنی پہلی اور دوسری بیوی میں واضح فرق محسوس ہوا تھا بےشک اُن دونوں کے چہرے ایک جیسے تھے مگر دونوں کے کرداروں میں زمین آسمان کا فرق تھا اینجل نے نہ تو اُس کی عزت کا پردہ رکھا تھا نہ ہی اپنی عزت کا،، وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود غیر مرد کو خوش کرتی آئی تھی جبکہ آج حرم نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اُس کے نزدیک اُس کی جان سے بڑھ کر اُس کی عزت تھی۔۔ یہی بات آج اس نے اپنے عمل سے ثابت کی تھی۔۔۔
وہ آج بہرام کی نظر میں کتنی بلند اور معتبر ہوچکی تھی اس بات کا اندازہ حرم نہیں لگا پاتی۔۔۔ نہ ہی بہرام نے اس کے سامنے اپنا خیال ظاہر کیا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں بتائیں نہ کب جائیں گے گھر واپس”
حرم نے اُس کو اپنی طرف مستقل دیکھتے ہوئے پوچھا اور اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو بہرام نے اُسے تکیے کے سہارے بیٹھنے میں مدد دی
“ابھی گھر جاکر تمہیں کیا کرنا ہے میرے ساتھ یہاں سے جاؤں گی، پھر وہاں پہنچ کر اپنے چچا کے گھر جانے کی ضد کروں گی بہتر یہی ہے کہ چپ کرکے یہی رہو”
بہرام اُس کو بولتا ہوا کمرے سے باہر ڈاکٹر سے بات کرنے نکل گیا
“تم ایک ذمہ دار پوسٹ پر بیٹھ کر اتنے کابل آفیسر ہونے کے باوجود آخر کیسے اتنی سنگین غلطی کرسکتے ہو بہرام۔۔۔ کیا یعقوب نیازی پر فائر کرتے وقت تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ تمہارا کیا کچھ داؤ پر لگ سکتا ہے”
صبح ہی وہ کمشنر صاحب کے آفس میں موجود ہمیشہ کی طرح اُن کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا نہیں تھا بلکہ ہاتھ باندھے خاموش کھڑا تھا۔۔۔ کمشنر صاحب کی باتیں سن کر اُس نے اپنا سر نہیں جھکایا تھا
“سر کل میرا سب کچھ داؤ پر ہی لگا ہوا تھا میری وائف میری فیملی۔۔۔ آپ خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچیں”
بہرام نے اپنے سینئر آفسیر کے سامنے بولتے ہوئے تمیز کا دامن نہیں چھوڑا تھا مگر اُسے تعجب تھا اِس سارے معاملے میں وہ صرف اُسی کو کیسے قصور وار ٹہرا سکتے تھے
“میرے سامنے یوں جذباتی باتیں کرکے مزید بےوقوفی مت ظاہر کرو مجھ پر۔۔۔ جو تمہاری سیٹ ہے اُس پر جمے رہنے کے لیے آدمی کو مینٹلی اسٹرونگ ہونا پڑتا ہے نہ کہ اموشنلی۔۔۔ تم نے ڈپٹی کمشنر کے کہنے پر بھی اُن کے آرڈرز کو فالو نہیں کیا اب انہیں بھی تم سے کافی شکوے لاحق ہوچکے ہیں”
کیوکہ وہ لائق آفیسر تھا ہر کسی کا دل عزیز، اس لیے کمشنر صاحب نے بہرام کو اُس کی دوسری غلطی کے بارے میں بھی بتایا جس پر وہ ضبط نہیں کرسکا
“سر میں ڈپٹی صاحب کے آرڈر کو مانتے ہوئے کیسے یعقوب نیازی کی بیٹی کو چھوڑ دیتا جبکہ میری اپنی وائف اُس یعقوب نیازی کے۔۔۔
بہرام کی بات مکمل ہونے سے پہلے کمشنر صاحب نے انگلی دکھائی تو بہرام خاموش ہوگیا
“چلو میں مان لیتا ہوں جو تمہارے ساتھ ہوا ٹھیک نہیں ہوا مگر تم نے اُس کا پورا بدلہ لیتے ہوئے یعقوب نیازی کے فارم ہاؤس پر بغیر سرچ وارنٹ کے پولیس کو بھیجا، اُس کی بیٹی کو گھر سے زبردستی اٹھا لاۓ پھر اس کے بعد یعقوب نیازی پر گولی چلائی یعنی کہ رولز کو فالو کرنا تم نے ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ اب تک کے تمہارے اتنے شاندار کریئر کو دیکھ کر میرا دل نہیں کررہا مگر میں مجبور ہوں تمہیں ایک ماہ کے لیے سسپنڈ کرنے پر”
کمشنر صاحب نے بولتے ہوئے سامنے پرچے پر سائن کیے تو بہرام ایک دم بول اٹھا
“سر پلیز یہ میرے ساتھ زیادتی۔۔۔
ِاُس کا جملہ کمشنر صاحب کی تیز آواز کے آگے مکمل نہیں ہوسکا
“اے سی بی بہرام عباسی دفع 358 لگنے پر رولز کو فالو نہ کرتے ہوئے آپ کو ایک ماہ کے لئے نوکری سے معطل کیا جاتا ہے از ڈیٹ کلئیر”
اب کی بار کمشنر صاحب کا لہجہ بغیر لچک لیے ہوئے تھا بہرام ضبط کرتا ہوا بولا
“یس سر”
کمیشنر صاحب کو سلوٹ کرتے ہوۓ وہ ٹیبل پر رکھا ہوا پرچہ اٹھاکر اُن کے کمرے سے باہر نکل گیا
اُس کو غصہ اِس قدر شدید تھا کہ ضبط نہ کرتے ہوئے اُس نے زوردار مکا سامنے دیوار پر مارا جس پر اسٹاف کے آفیسر اُس کی طرف متوجہ ہوئے وہ سب کو نظر انداز کرتا ہوں اپنی گاڑی تک پہنچا
کل کے واقعے کی پوری تفصیلات اُس کے ڈپارٹمنٹ میں پھیل چکی تھی کیسے اُس کی بیوی کو یعقوب نے اٹھوایا، جس کے بدلے میں اُس نے یعقوب نیازی کی بیٹی کو تین گھنٹے اپنے پاس رکھا۔۔۔۔ اپنی بیوی کے زخمی ہونے کی وجہ سے اُس نے غصّے میں یعقوب نیازی پر فائر کیا
یعقوب نیازی کی جان تو بچ گئی تھی مگر حالت ابھی بھی نازک تھی، دو دن بعد یعقوب نیازی کے چھوٹے بھائی ارسل نیازی عرف بوبی کو پھانسی ہوجاتی اور یعقوب نیازی کی حالات اسے اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی بھائی کی جان بچانے کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں چلاتا۔۔۔ ایک طرح سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا تھا وہی اُسے اپنے معطل ہونے کا بھی شدید افسوس تھا۔۔۔۔ اپنی جاب کے آغاز سے یہ پہلی پنشٹ تھی جو اُس کو دی گئی تھی وہ بھی اُس آدمی پر فائر کرنے کے لیے جو پہلے ہی سے پولیس کے ریکارڈ میں اور فائلز میں موجود تھا جس پر چند ماہ بعد پولیس کو ایکشن لینا تھا
اگر یہی گولی وہ کسی چھوٹے آدمی پر چلاتا تو اِس کیس کو اُس کے بڑے افسران بہت آرام سے دبالیتے ڈرائیونگ کرتے وقت اُس کا موڈ کافی خراب تھا مگر کمشنر صاحب کی مجبوری تھی، انہیں بھی اپنے اوپر جواب دینا تھا بہرام ہاسپٹل کے پارکنگ ایریا میں گاڑی پارک کرتے ہوئے سوچ رہا تھا تب اُس کی نظر اُس لڑکی پر پڑی جو اُس کے دیکھنے سے پہلے اپنا چہرہ آنچل سے چھپا کر گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔ لیکن وہ آنکھوں سے اسے پہچان چکا تھا
“حرم”
بےساختہ بہرام کے منہ سے نکلا۔۔۔ حرم یہاں کیا کررہی تھی زیادہ خون بہنے کی وجہ سے کل تک اُسے اتنی کمزوری تھی کہ وہ چار قدم بھی مشکل سے چل پارہی تھی اور اِس وقت وہ ہاسپٹل کے پارکنگ ایریا میں۔۔۔ بہرام سوچتا ہوا اُس کے پیچھے جانے لگا مگر اچانک اُس کے دماغ میں دوسرا خیال آیا
“او نو،، اینجل۔۔۔ شٹ”
وہ زور سے چیختا ہوا اُس کے پیچھے جانے کی بجائے بھاگتا ہوا اسپتال کے اندر حرم کے پاس جانے لگا۔۔۔ کل سے اُس کا ذہن کس قدر پریشان اور تھکا ہوا تھا اینجل کی طرف تو اُس کا ذہن بھی نہیں گیا تھا
ہاسپٹل کے پرائیویٹ روم کے باہر اُس نے قمر (سپاہی) کی ڈیوٹی لگائی تھی جو اِس وقت وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔ بہرام تیزی سے کمرے کے اندر آیا۔۔۔ خالی کمرے میں نرس کو دیکھ کر اُس کا دماغ بری طرح چکرا گیا
“کہاں ہیں میری وائف”
وہ نرس کے پاس آکر اتنی زور سے چیخا کے نرس بری طرح سہم گئی
“بہرام”
تب اُسے اپنی پشت سے حرم کی آواز آئی بہرام نے دیکھا وہ واش روم کے دروازے پر موجود تھی جسے دیکھ کر بہرام نے اطمینان سے اپنی آنکھیں بند کر کے خدا کا شکر ادا کیا
وہ تیزی سے حرم کی جانب بڑھا اور اُسے اپنے حصار میں لےلیا حرم جو واش روم جاتے ہوئے بری طرح ہانپ گئی تھی بہرام کے اِس انداز پر بری طرح بوکھلا گئی
“نرس یہی موجود آپ کو دیکھ رہی ہے بہرام پیچھے ہٹیں”
حرم نے خود بھی شرمندہ ہوکر آئستہ آواز میں بہرام کو ہوش دلایا
“دیکھنے دو، مجھے اطمینان کرنے دو کہ تم بالکل صحیح ہو”
بہرام اُسے اپنے حصار سے آزاد کرتا ہوا حرم کا چہرہ تھام کر اُسے دیکھتا ہوا مزید تسلی کرنے لگا
“میں بالکل ٹھیک ہوں بہرام کیا ہوگیا ہے آپ کو”
حرم کو لگا وہ کچھ زیادہ ہی حساس ہورہا تھا اس لیے وہ حیرت زدہ ہوکر بہرام سے پوچھنے لگی
“آئی تھنک تم کل ٹھیک کہہ رہی تھی کہ ہمہیں اسپتال کی بجائے اپنے گھر چلنا چاہیے میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں”
بہرام حرم کو دیکھتا ہوا بولا کیونکہ وہ اُس کے لیے مزید کوئی خطرہ مول نہیں سکتا تھا
“ڈاکٹر ابھی راؤنڈ پر آئے تھے چیک کرکے گئے ہیں کل تک ہی ڈس چارچ کرے گیں وہ”
بہرام حرم کو تھام کر آہستہ سے قدم اٹھاتا ہوا بیڈ کی طرف لے جانے لگا تو حرم اُس کو بتانے لگی
“میں کرلیتا ہوں ڈاکٹر سے بات تم اپنے مائنڈ میں رکھو ہمیں تھوڑی دیر بعد یہاں سے نکلنا ہے”
بہرام اُسے بیڈ پر بٹھاتا ہوا بولا تو نرس انتظار میں کھڑی تھی حرم کے بیڈ پر بیٹھتے ہی وہ اُس کی کلائی کی ڈریسنگ کرنے لگی
“کہاں پر موجود تھے تم میں نے تمہیں روم سے باہر ڈیوٹی کے لئے کھڑا کیا تھا یا پھر آوارہ گردی کرنے کے لئے”
بہرام حرم کی کلائی پر چھری کا نشان دیکھتا ہوا غُصے میں اپنے موبائل پر قمر کو جھڑکنے لگا۔۔۔ نرس نے سر اٹھا کر اِس غصے کے تیز انسپکٹر کو ایک بار پھر دیکھا جو شاید صرف اپنی بیوی سے ہی سکون سے بات کرتا تھا
اتنے میں وارڈ بوائے روم میں کھانے کی ٹرے لےکر آیا جسے بہرام نے ویسے ہی واپس کروا دی۔۔۔ کیونکہ یہاں اینجل کا موجود ہونا اتفاق نہیں ہوسکتا تھا اُس کے پیچھے ضرور کوئی وجہ تھی۔۔۔ وہ ہر چیز کو شک کے دائرے میں دیکھ رہا تھا اور حرم کے معاملے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔ حرم کا ہسپتال کی بجاۓ اس کے ساتھ اس کے اپارٹمنٹ میں رہنا ہی ٹھیک تھا
“مجھے بھوک لگ رہی تھی بہرام آپ نے کھانا بھی نہیں کھانے دیا مجھے”
نرس کے وہاں سے جانے کے بعد حرم بہرام سے بولی
“کھانا باہر سے پیک کروا لیں گا یہاں معلوم نہیں کھانے کا کیسا ٹیسٹ ہو میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں تم جب تک ریسٹ کرو”
بہرام حرم کو بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ کمرے سے باہر موجود قمر بہرام سے معذرت کرنے لگا جسے وہ غصّے میں گھورتا ہوا ڈاکٹر کے پاس چلاگیا
گھر آنے کے بعد غصّے میں اُس نے ہاتھ میں موجود بیگ ٹیبل پر پھینکا اور چادر اتار کر دور اچھالی۔۔۔ اُسے گھر آتے دیکھ کر جوجو اُس کے نزدیک آیا
“چلے جاؤ جوجو اِس وقت یہاں سے”
وہ بیزار ہوکر اپنے پلے ہوۓ کُتے سے بولی
آج اُسے کتنا زبردست چانس ملا تھا جو بہرام کے جلد اسپتال آنے پر وہ گنوا چکی تھی۔۔ اپنی کلائی پر موجود نقلی زخم کو دیکھ کر اینجل سوچنے لگی۔۔۔ اسپتال کے روم سے باہر کھڑے پہرے دار کو بھی وہ ڈرائیور کے ساتھ باتوں میں لگوا چکی صرف اُسے حرم کے کمرے میں جاکر حرم کو بےہوش کرکے اپنے آدمیوں کی مدد سے اُسے کمرے سے باہر نکلوانا تھا،، وہ آدمی جو پہلے سے ہی اُس کی مدد کے لیے اسپتال کے یونیفارم میں موجود وہی پر کام کرنے والے لگ رہے تھے۔۔۔
حرم کو اسپتال کی حدود سے نکالنے کے بعد بعد وہ لباس تبدیل کرکے بیڈ پر لیٹ جاتی۔۔۔ مگر اِس سے پہلے اسپتال کے مین گیٹ پر کھڑے اینجل کے آدمی نے کال کرکے اُسے بتایا کہ بہرام کی گاڑی اسپتال کے اندر داخل ہوچکی ہے۔۔۔ اِس لئے اینجل کو منہ چھپا کر اسپتال سے جلد سے جلد باہر نکلنا پڑا وہ اپنی طرف سے بہرام کو ذرا سا بھی شک میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ بات کی کھال نکالنے والا مرد تھا
“آج تمہاری بیوی بچ گئی مگر اگلی دفعہ میں کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دوں گی”
وہ سلوشن کی مدد سے نقلی زخم کو صاف کرتی ہوئی سوچنے لگی بہت مشکل ہورہا تھا اُس کے لیے حرم کو اپنی جگہ بہرام کے ساتھ برداشت کرنا
پورا ہفتہ گزر چکا تھا حرم کو اسپتال سے بہرام کے ساتھ اُس کے فلیٹ میں آئے ہوئے۔۔۔ اِس ایک ہفتے میں اُس نے بہرام کو صرف اپنی کیئر کرتے ایک الگ ہی روپ میں دیکھا تھا۔۔ وہ پولیس اسٹیشن بھی نہیں جارہا تھا مسلسل ہفتے بھر سے گھر پر موجود تھا پورے ہفتے بعد آج وہ اپنے آپ کو گزرے دنوں کے مقابلے میں بہتر محسوس کررہی تھی وہ اِس قابل ہوچکی تھی کے اٹھ کر چلتی پھرتی۔۔۔ بہرام کے منع کرنے پر ہی حرم نے اِس واقعے کا ذکر نہ تو جیاء سے کیا تھا نہ ہی اپنے چچا جان کی فیملی سے
آج شام جب بہرام گھر سے نکلا تو اُس کے پیچھے نگی اور اسجد اُس سے ملنے آگئے۔۔۔ بہرام کی واپس لیٹ آمد پر وہ لوگ تھوڑی دیر اور بیٹھ گئے بہرام اُن دونوں سے بہت اچھے طریقے سے ملا خاص کر اسجد سے۔۔۔ اب معلوم نہیں اُن دونوں کے جانے کے بعد بہرام اُس کے ساتھ کیسا رویہ رکھتا حرم کے دل میں ویسے ہی خیال آیا
“کہاں چلے گئے تھے آپ شام میں اتنی دیر کے لئے”
اُن دونوں کے جانے کے بعد حرم بہرام سے پوچھنے لگی اور ساتھ ہی بہرام کا ڈرائے کلین ہوا یونیفارم وارڈروب میں رکھنے لگی
“ایک ضروری کام تھا کہ کسی کے بارے میں کچھ معلومات کروانی تھی پھر وہاں سے عفان کے پاس چلاگیا سوچا اُس کو بھی دیکھ آؤ”
بہرام حرم کو بتاتا ہوا اُس کے پیچھے چل کر کچن تک آیا جہاں ٹرالی میں ریفرشمینت کا سامان موجود تھا جو تھوڑی دیر پہلے حرم نے اسجد اور نگی کے سامنے رکھا تھا حرم ساری چیزیں باکس میں ڈالتی ہوئی بولی
“کیسی ہے عفان کی طبیعت۔۔۔ آپ مجھے بھی ساتھ لے چلتے میں بھی دیکھ لیتی اُس کو”
حرم کی بات سنتا ہوا وہ باکس میں رکھے ہوئے نگٹ اٹھاکر کھاتا ہوا بولا
“پہلے تم خود کی طبیعت تو ٹھیک کرلو پھر چلی چلنا کسی دن عفان کی امی بہت اچھی نیچر کی ہیں وہ پوچھ رہی تھی تمہارا،، عفان تو ہمارے ولیمے میں اپنے کسی پروجیکٹ کی وجہ سے نہیں آسکا تھا مگر انھوں نے شرکت کی تھی میں نے تمہیں اُن سے ملوایا بھی تھا معلوم نہیں تمہیں یاد ہے کہ نہیں”
بہرام نے حرم کو برتن واش کرتے دیکھا تو کچن میں چھوٹا موٹا پھیلا ہوا کام خود ہی نبھٹانے لگا
“تعارف کروایا تھا آپ نے میرا ان سے،، مجھے یاد آگیا ہے۔۔۔ اور آپ بار بار میری طبیعت کا بول رہے ہیں میں اب بالکل ٹھیک ہوں اچھا یہ بتائیں کھانا گرم کرو آپ کے لیے”
دوسرے کاموں میں لگ کر وہ بھول ہی گئی تھی بہرام کو کھانے کا بھی پوچھنا تھا۔۔۔ پانی کا ٹیب بند کرتی ہوئی وہ بہرام کے لئے پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی ویسے ہی بہرام اُس کے ہاتھ سے پلیٹ لیتا ہوا بولا
“میرے منع کرنے کے باوجود عفان کی امی نے زبردستی کھانا پر روک لیا میں کھانا کھا چکا ہوں تم اپنے لیے کھانا نکال لو”
بہرام حرم سے بولتا ہوا اُس کے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا جو برتن دھونے کی وجہ سے ٹھنڈے ہورہے تھے
“نگی اور اسجد بھائی کے ساتھ اچھا خاصا ریفرشمنٹ کرلیا تھا اب کھانے کی گنجائش بالکل نہیں ہے ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔ نگی اور اسجد بھائی کا یہاں پر آنا آپ کو برا تو نہیں لگا”
حرم بہرام کا چہرہ دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اُس کے دونوں ہاتھوں کو وہ اپنے ہاتھوں میں چھپائے اپنے سینے پر رکھ کر حرم کو دیکھنے لگا
“تمہیں میرے رویے سے محسوس ہوا کہ مجھے ان دونوں کا آنے پر برا لگا ہوگا۔۔۔ اگر اسجد نگی کے بغیر بھی تم سے یہاں پر ملنے آتا مجھے تب بھی اُس کے آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ وہ تمہارا خالہ ذاد ہے۔۔۔ اور نگی تو ہے ہی تمہاری پکی والی سہیلی”
بہرام کی بات سن کر حرم مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی
“سوری مجھے ایسا کچھ آپ سے پوچھنا ہی نہیں چاہیے تھا کیوکہ بقول آپ کے ہمارے درمیان تو سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے”
حرم مسکراتی ہوئی بولی تو بہرام بھی مسکرا دیا
“ہمارے درمیان تو سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے لیکن اب میں تمہارے ٹھیک ہونے کا ویٹ کررہا ہوں طبیعت ٹھیک کرلو اپنی”
بہرام نے بولتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی کمر پر لپیٹا خود بھی حرم کو اپنے حصار میں لےلیا
“میری طبیعت اب مکمل طور پر ٹھیک ہوچکی ہے بہرام کیسے یقین دلاؤں میں آپ کو”
وہ اس کی طبیعت کو لےکر اتنا زیادہ فکر مند تھا حرم اُس کے حصار میں بہرام کو دیکھ کر یقین دلاتی ہوئی بولی
“سوچ لو تم خود ہی کہہ رہی ہو کہ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے”
بہرام حرم کو جتانے والے انداز میں بولا تو حرم اُس کا چہرہ دیکھنے لگی جس پر معنی خیز مسکراہٹ تھی جس کی وجہ حرم کو سمجھ میں نہیں آئی
“جھوٹ تو نہیں بول رہی ہوں میں آپ سے، اب بالکل ٹھیک محسوس کررہی ہو تب بھی ایسا بول رہی ہوں، آپ ایسے مسکرا کیوں رہے ہیں”
حرم بہرام کو بولنے کے ساتھ اس کی مسکراہٹ پر ٹوکتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی
“مسکرا اِس لیے رہا ہوں جو میں اب کہنے والا ہوں مجھے پورا یقین ہے میری اُس بات پر تم بری طرح شرما جاؤں گی”
بہرام کے اِس طرح بولنے پر اور اُس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر حرم نے اُس کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاۓ۔۔۔
وہ اپنا رخ موڑ کر کیبنٹ میں پلیٹیں سیٹ کرنے لگی۔۔ اُس کے ہاتھوں کی حرکت تب تھمی جب بہرام اُس کی پشت پر کھڑا ہوکر حرم کو اپنے حصار میں لےکر اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا
“میں آج رات ہم دونوں کے بیچ ساری دوریاں مٹادینا چاہتا ہوں۔۔۔ تمہارے ساتھ بہت زیادہ کلوز ہونے والا ہوں میں”
بہرام کی بات سن کر حرم کے ہاتھ میں موجود پلیٹ گرتے گرتے بچی،، بہرام نے پلیٹ کو پکڑ کر کیبنٹ میں رکھا اور اُس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔ جو بہرام کی بات پر سرخ چہرے لیے اپنی نظریں جھکا گئی تھی
“پھر بتاؤ مجھے”
بہرام حرام کو اپنے حصار میں لیتا ہوا اُس سے اُس کی مرضی پوچھنے لگا
“کیا ہم دونوں ابھی کلوز نہیں ہیں”
حرم بہرام کے سینے میں منہ چھپاتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی وہ اُس سے یہ بات کیوں پوچھ رہا تھا بھلا وہ اِس معاملے میں کیا بولتی۔۔۔
“کلوز تو ہیں مگر اُس طرح نہیں۔۔۔ یہ تم بھی جانتی ہو میں کیا چاہ رہا ہوں تم سے۔۔۔ یہاں میری طرف دیکھ کر جواب دو”
بہرام حرم کو اپنے حصار سے آزاد کرتا ہوا اُس کا چہرہ اونچا کرکے اپنے چہرے کے قریب کرچکا تھا
“کیا جواب دوں آپ کو،،، مجھے نہیں معلوم آپ کیا بول رہی ہیں”
وہ اُس کی باتوں اور خاص کر نظروں سے نروس ہورہی تھی بھلا کیا بولتی
“تم سے تمہاری مرضی پوچھ رہا ہوں مسسز،، کیا تم راضی ہو”
بہرام حرم کو نروس دیکھ کر کُھل کر بولا لیکن ساتھ ہی وہ اُس کے چہرے کے بکھرے رنگ بھی انجواۓ کررہا تھا
“میری مرضی کا ہونا ضروری ہے کیا”
حرم کا چہرا ابھی بھی بہرام نے تھاما ہوا تھا اب کی بار اس نے نظریں اٹھاکر بہرام کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“آف کورس ضروری ہے میں زور زبردستی کا یا پھر اِس معاملے میں تو اپنی مرضی چلانے کا قائل نہیں”
بہرام حرم کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“تو پھر ٹھیک ہے”
حرم نے بولتے ہوئے جلدی سے اپنی نظریں واپس جھکالی تو بہرام کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ دوڑ گئی
“کیا ٹھیک ہے۔۔۔۔ کیا مطلب اِس بات کا”
بہرام سنجیدگی سے حرم سے پوچھنے لگا
“مطلب جیسا آپ چاہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے پھر”
حرم اپنے چہرے سے بہرام کے ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی
“مطلب میرے چاہنے پر تم ایگری ہوئی ہو، تمہارا خود کا اپنا دل نہیں کہ ہم اپنا ریلشںن اسٹارٹ کریں”
بہرام اپنے چہرے کی اسمائل چھپاتا ہوا اُس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا بولا
“وہ مطلب نہیں تھا میرا بہرام آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں میری بات کو۔۔۔ کیا اپنا منہ پھاڑ کر بول دو میں کہ۔۔۔،، میں جانتی ہوں آپ جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہے ہیں”
حرم شرمانے کی بجائے ناراض ہوکر کچن سے جانے لگی تب بہرام نے اُسے بازو سے کھینچ کر دوبارہ اپنے حصار میں لے لیا
“ٹھیک ہے میں یہاں تنگ نہیں کررہا اپنے بیڈ روم میں چلتے ہیں لیکن میرے وہاں تنگ کرنے پر تم اِس طرح سے ناراض نہیں ہوگی میں پہلے ہی بتارہا ہوں”
بہرام کی پیار بھری دھمکی پر وہ شرمانے کے ساتھ ساتھ ہنس دی
“ایگری”
حرم کی مرضی سن کر بہرام نے اُسے اپنے دونوں بازوؤں میں اٹھالیا
“کیا ہر شوہر کو اِسی طرح اپنی بیوی کو اٹھاکر بیڈ روم میں لے جانا ضروری ہوتا ہے”
اِسے بہرام کے اس عمل پر شرم تو بہت آرہی تھی لیکن اُس سے یہ جاننا اِس لئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اکثر فلموں میں ایسے سین دیکھتی آئی تھی اور شادی کی رسموں میں بھی اکثر دلہا اپنی دلہن کو ایسے ہی اٹھاکر کمرے میں لےکر جاتے تھے
“ایسا ضروری تو نہیں ہوتا مگر رومنٹک ضرور لگتا ہے۔۔۔۔ میں نے تمہیں اِس لیے اٹھالیا تمہارا ویٹ زیادہ نہیں ہے اگر تم اچھی صحت مند لڑکی ہوتی تو میں یہ رسک ذرا سوچ سمجھ
