Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

“کیسی ہو حرم”
نمرہ (اسجد کی بہن) تھوڑی دیر پہلے اسے صوفے پر بٹھاکر گئی تھی۔۔ تب اسجد حرم کے پاس آکر اس سے پوچھنے لگا
“اچھی ہوں”
حرم گھبراتی ہوئی بولی اُس کی نظریں اسجد کی بجاۓ بہرام کو تلاش کرنے لگی۔۔۔۔ آج اُسے نگی سے زیادہ بہرام کی ٹینشن تھی کہ کہیں اُس کا شوہر بھی نگی کی طرح اُسے اسجد سے بات کرتا ہوا دیکھ کر اعتراض نہ کر بیٹھے
“اچھی تو تم شروع سے ہو یہ بتاؤ بہرام کے ساتھ خوش ہو”
اسجد اُس کا دل کو چھو جانے والا روپ دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ اُس نے اپنی ماں کے دباؤ میں آکر کیا کھویا تھا آج اُسے شدت سے اندازہ ہورہا تھا
“بہرام بہت اچھے ہیں”
حرم جلدی سے بولی
“اور بہت خوش قسمت بھی ہے وہ جو اُسے تم مل گئی”
اسجد حرم کے روپ کو حسرت سے دیکھتا ہوا بہرام کی خوش نصیبی پر رشک کرتا ہوا بولا
“آپ پلیز جائیے یہاں سے اگر نگی نے دیکھ لیا تو وہ برا مانے گی”
حرم اسجد کو دیکھ کر ہمت کرتی ہوئی بولی کیوکہ اُس کی نظروں نے دور سے ہی بہرام کو اپنے اور اسجد کی جانب آتا ہوا دیکھ لیا تھا۔۔۔۔ اب حرم کو نگی سے نہیں اُس سے زیادہ اپنے شوہر سے ڈر لگ رہا تھا
اسجد سے شادی کے بعد ویسے تو نگی نے بھی کم تماشہ نہیں کیا تھا دو مرتبہ وہ اسجد سے لڑ کر گھر آکر بیٹھ چکی تھی اور وجہ اُس نے یہی بتائی تھی اسجد اُس کی ذات پر توجہ دینے کی بجاۓ پرانی یادوں میں کھویا رہتا ہے۔۔۔ کُھلے عام نگی نے چچا چچی کے سامنے حرم کو دیکھ کر یہ بات بولی تھی۔۔۔ تبھی سے چچا چچی نے اُس کے لیے رشتے دیکھنا شروع کردیئے تھے
جب تک اسجد کھڑا بہرام سے باتیں کرتا رہا حرم سانس روک کر کھڑی رہی اسجد کے وہاں سے جانے کے بعد حرم نے اپنی سانسیں بحال کی ساتھ ہی بہرام بھی اُس کی طرف متوجہ ہوا اور اپنی جیب سے رومال نکال کر اُس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا
“لو ماتھے پر آیا ہوا پسینہ صاف کرلو”
حرم اُس سے رومال لینے کی بجاۓ خاموشی سے بہرام کو دیکھنے لگی۔۔؟ وہ شاید جان گیا تھا کہ وہ اِس وقت سخت گھبرائی ہوئی تھی
“نئی بات نہیں ہے مجھے دیکھ کر اکثر مجرموں کے ایسے ہی پسینے چھوٹتے ہیں”
بہرام بولتا ہوا حرم کے ماتھے پر اپنے رومال سے خود ہی پسینے کی ننھی ننھی بوندے صاف کرتا ہوا اُس کو بتانے لگا
“معلوم نہیں آپ کو کب یقین آۓ گا میں وہ نہیں ہوں جو آپ مجھے سمجھ رہے ہیں”
حرم ڈرنے کے باوجود اُس سے بولی جو رومال دوبارہ اپنی جیب میں رکھ چکا تھا
“جانتا ہوں تم اینجل نہیں ہوں ورنہ آج صبح ہی جب جیاء نے تمہیں میرے کمرے میں دوبارہ بھیجا تھا تب میں تمہاری جان لے لیتا”
بہرام نے بہت خوبصورت مسکراہٹ اپنے چہرے پر بکھرتے ہوۓ حرم سے ایسے کہا جیسے اُس نے کوئی بہت ہی رومینٹک سی بات بولی ہو، مگر بہرام کی بات سن کر خوف کے مارے حرم کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔۔۔ وہ کس قدر بےرحم تھا یوں مسکراتا ہوا کتنے پیار سے اُس کے سامنے اُسی کو مارنے کی بات کررہا تھا
“اپنے فیس ایکسپریشن ٹھیک کرکے چہرے پر اسمائل لاؤ۔۔ یہاں سب کی توجہ ہم دونوں پر ہے”
بہرام کی بات پر اُس کا دھیان باقی لوگوں کی طرف گیا تو حرم مسکرانے میں کامیاب ہوئی کیوکہ بہرام ٹھیک بول رہا تھا
“آؤ میرے ساتھ میرے کچھ دوستوں کی فیملی ہے تمہیں اُن سے ملواتا ہوں”
بہرام نے بولتے ہوۓاپنا بازو پھیلا کر شانوں سے نیچے اُس کی کمر کے گرد حمائل کیا تو بہرام کے چھونے سے حرم کے بدن میں بجلی کی لہر سی ڈور گئی باکل ویسے ہی جیسے آج صبح وہ پسٹل کی نال سے اُس کی کمر کو چھو رہا تھا تب بھی اُس کی یہی کیفیت تھی
اِس سے پہلے وہ بہرام کے ساتھ چلنے کے لیے آگے قدم بڑھاتی ایک ماڈرن سی لڑکی ان دونوں کی جانب آئی جس کے آنے پر بہرام بڑی خوشدلی سے مسکراتا ہوا اُس لڑکی سے ہاتھ ملا کر بڑی بےتکلفی سے مل رہا تھا۔۔۔۔ حرم باتوں سے یہی اندازہ لگا پائی وہ اس کے ڈپارمینٹ میں کام کرتی ہے
“بہرام تم نے دوسری والی بھی اُسی کی شکل کی ڈھونڈ لی۔۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا یہ اینجل نہیں ہے۔۔۔ کاش تم دوسری باری میں ہی سہی میری طرف بھی نظرِ کرم کرلیتے”
رومیلہ نام کی لڑکی حیرت ذدہ ہوکر اُس سے ملی تھی پھر وہ بہرام کو دیکھتی ہوئی اُس سے بولی معلوم نہیں اس نے آخری حملہ سیریس بولا تھا کے مذاقاً
“یہ اینجل نہیں، حرم ہے اِس کا نام۔۔۔ شکلاً اُسی سے ملتی ہے اگر عادتیں بھی وہی ہوئی تو تیسرا نمبر تمہارا ہی ہے انتظار کرو”
بہرام کے بولنے پر رومیلہ ہنسی ہوئی وہاں سے چلی گئی حرم سنجیدگی سے بہرام کا چہرہ دیکھنے لگی وہ شادی کے دوسرے دن ہی اُس کے سامنے اپنی تیسری شادی کی بات کررہا تھا کسی لڑکی سے
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو تیسری شادی ابھی نہیں کررہا پریشان مت ہو”
بہرام اُس کا چہرا پڑتا ہوا اُسے اپنے دوستو کی فیملی کی طرف لے گیا۔۔۔۔ خوش اخلاقی کی اعلیٰ مثال قائم کرتا ہوا وہ اُس کا سب سے تعارف کروانے لگا۔۔۔ ایک دو مرتبہ ان دونوں کی کسی نے تصویر بھی لینی چاہی جسے بہرام نے وہی ٹوک دیا
“اتنے پیارے لگ رہے ہو تم دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوکر، رکو مجھے ایک تصویر لینے دو”
بہرام حرم کا ہاتھ تھاما ہوا اُسے واپس صوفے پر بٹھانے کے غرض سے لے جانے لگا تب جیاء سامنے سے آکر اپنے موبائل کا رخ ان دونوں کی جانب کرتی ہوئی بولی
“اسٹاپ اٹ جیاء تمہیں معلوم ہے اِن سب فضول حرکتوں سے مجھے کتنی چڑ ہے”
بہرام اپنی بڑی بہن کو حرم کے سامنے ٹوکتا ہوا بولا تو حرم کو اندازہ ہوا اُسے تصویریں بنانا پسند نہیں تھا جبھی اتنا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود یہاں پر فوٹو شوٹ کے لیے اُس کو کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا
“مائنڈ اٹ یہ فضول حرکتیں نہیں ہوتیں انہیں بعد میں حسین یادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔۔۔ اِس لیے بناء منہ بناۓ شرافت سے کھڑے رہو میرے موبائل سے تمہاری یا حرم کی تصویریں کہیں نہیں جانے والی۔۔۔ مبشر کے ساتھ دونوں بچے بھی بول رہے ماموں کے ساتھ نئی ممانی بھی دیکھنی ہیں انہیں”
جیاء بولنے کے ساتھ اُن دونوں کی تصویر لیتی ہوئی بولی۔۔۔ تصویر کی وجہ سے وہ حرم کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا
“اتنی ہی زحمت کر ڈالی تھی تو تھوڑا سا مسکرا بھی دیتے خیر یہ بھی بہت ہے، چلو آؤ حرم ہم دونوں سلفی لے لیتے ہیں”
جیاء بہرام کو گھورتی ہوئی اس پر طنز کرتی پھر حرم سے بولی تو بہرام نے جیاء کو وہی ٹوک دیا
“کوئی ضرورت نہیں ہے یہ کوئی عجائب گھر میں رکھا ہوا نمونہ یا ڈیکوریشن پیس نہیں ہے۔۔۔ یہاں مت کھڑی رہو جاؤ جاکر اپنی جگہ پر بیٹھو”
وہ جیاء کو ٹوکنے کے بعد حرم کو ارڈر دیتا ہوا بولا اور خود اپنے دوستوں کے پاس چلاگیا
“یہ شروع میں تھوڑے دن ایسے ہی رہے گا پھر خود ٹھیک ہوجاۓ گا، تم اپ سٹ مت ہوا کرو اُس کی باتوں سے۔۔۔ دراصل بہرام کو شروع سے ہی تصویریں بنوانا پسند نہیں یہی وجہ تھی کہ میں خود بھی اینجل کو دیکھ نہیں پائی تھی”
جیاء حرم کو صوفے پر بٹھاتی ہوئی مسکرا کر بتانے لگی حرم اُس کی بات پر مسکرا بھی نہیں سکی
“کیا اِن کی پہلی وائف زندہ ہے۔۔۔ وہ صبح بول رہے تھے ناں”
حرم تھوڑا جھجھکتی ہوئی اپنا خدشہ ظاہر کرتی جیاء سے پوچھنے لگی
“ارے نہیں یار وہ کہاں سے زندہ ہوگئی۔۔۔ وہ تو یونہی بہرام نے تمہیں دیکھ کر اچانک بول دیا تھا۔۔۔ بہرام پر صرف تمہارا حق ہے کوئی بھی فضول سوچ اپنے دماغ میں پالنے کی ضرورت نہیں اوکے”
جیاء اُس کو تسلی دیتی ہوئی وہاں بھٹاکر چلی گئی تب نزہت چچی مسکراتی ہوئی حرم کے پاس آنے لگیں لازمی وہ حرم کو پرفیوم کی بوتل دینے والی تھیں حرم نے پہلے ہی سوچ لیا تھا وہ یہ بوتل اپنے ساتھ لے جانے کی بجاۓ یہی چھوڑ جاۓ گی


واپس آنے کے بعد وہ کمرے میں آکر اپنی جیولری اتار رہی تھی تب بہرام کمرے میں آیا، کمرے میں اس کی موجودگی پر حرم کی رفتار سُست ہوگئی صوفے پر بیٹھی ہوئی وہ آئستگی سے اپنی چوڑیاں اتارنے لگی تو بہرام پہنا ہوا کوٹ اتار کر ٹائی کی ناٹ ڈھلی کرتا ہوا حرم کے برابر میں ہی بیٹھ گیا جس سے ایک پل کے لیے حرم کے ہاتھوں کی حرکت وہی تھم گئی
بہرام چوڑیوں سے بھری حرم کی کلائی پکڑ کر اُس کی ہتھیلی پر مہندی کا ڈیزائن دیکھنے لگا۔۔۔ اپنا ہاتھ بہرام کے ہاتھ میں دیکھ کر حرم کا دل زور سے دھڑکنے لگا
“تم جاننا چاہو گی میں نے اپنی پہلی بیوی کی جان کیوں لی”
بہرام مہندی کے ڈیزائن کو دیکھتا ہوا عام سے لہجے میں حرم سے پوچھنے لگا، اُس کی بات سن کر خوف سے حرم کا دل مدھم رفتار سے دھڑکنے لگا۔۔۔ حرم نے ڈر کے مارے بہرام کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بہرام بھی اُس کے جواب کا انتظار کئے بغیر مزید بولا
“اچھے کردار کی لڑکی نہیں تھی وہ، مجھ سے شادی سے پہلے اور بعد میں بھی اُس کے غیر آدمی سے ناجائز تعلقات تھے، میرے ساتھ رہنے کے باوجود وہ مجھے دھوکا دے رہی تھی۔۔۔ تم جانتی ہو مضبوط سے مضبوط طاقتور مرد بھی اُس وقت بری طرح ٹوٹ جاتا ہے جب اُسے معلوم ہو کہ اُس کی بیوی اُس کی غیر موجودگی میں کسی دوسرے غیر مرد کے سامنے اپنی عزت لٹارہی ہو”
بہرام نے کرب سے بولتے ہوئے اپنے قریب بیٹھی حرم کا چہرہ دیکھا۔۔۔ حرم ڈبڈبائی آنکھوں سے بہرام دیکھنے لگی۔۔۔۔ بہرام نے محسوس کیا شاید ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے اُسے اینجل پر دکھ ہوا یا وہ اِس وقت بہرام کی آنکھوں میں دکھائی دینے والا کرب کو محسوس کررہی تھی۔۔۔ بہرام دوبارہ سر جھکا کر حرم کا پکڑا ہوا ہاتھ دیکھ کر بولا
“معلوم ہے اُس پر گولی چلانے سے پہلے میں نے اُس کا چہرہ بھی بگاڑ ڈالا تھا”
بہرام کی اگلی بات سن کر حرم خوف کے مارے اُس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی لیکن بہرام کی گرفت مضبوط تھی وہ صرف کوشش ہی کرسکی
“یہاں۔۔۔ یہاں سے خون نکلتا ہوا اُس کے گال کو بھگو رہا تھا”
بہرام حرم کی پیشانی پر انگلی رکھتا ہوا اُسے بتانے لگا پھر وہ اپنی انگلی حرم کے دائیں گال تک لے کر آیا اور پھر توڑی تک لاکر رک گیا۔۔۔ بہرام کی بات سن کر خوف کے مارے حرم کی حالت غیر ہونے لگی اُسے اِس وقت بہرام سے بہت زیادہ خوف آنے لگا
“دکھنے میں ہو بہو وہ تمہاری شکل تھی”
حرم کی تھوڑی پر انگلی رکھے بہرم اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا حرم کو بتانے لگا، حرم سے سانس لینا محال ہوگیا بہرام نے ابھی تک اُس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جسے اب حرم نے چھڑوانے کی کوشش نہیں کی
“اچھی لگنے لگی تھی وہ مجھے میں چاہنے لگا تھا اسے، لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ بدکردار ہے کسی دوسرے مرد کے بستر پر لیٹ کر وہ میری عزت نیلام کررہی ہے تب میرا دل اُس کے حسین چہرے پر تھوکنے کو چاہا، اُس سے عجیب سی کرائیت سی محسوس ہونے لگی”
بولتے ہوئے اچانک بہرام کے تاثرات پتھریلے ہوئے اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر حرم نے آہستہ آواز میں رونا شروع کردیا
“جیاء بول رہی تھی کہ تم ایک انوسینٹ لڑکی ہو سیدھی سادی سی، اُس سے بالکل ہی مختلف”
بولتے ہوئے بہرام اپنا چہرہ حرم کے چہرے کے نزدیک لایا تو حرم نے رونا بند کردیا۔۔۔ بہرام کی نظریں اپنے ہونٹوں کی طرف دیکھ کر شاید اُس کا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔۔ بہرام کا ہاتھ اُس کے چہرے سے گزرتا ہوا اب حرم کے بالوں تک آچکا تھا۔۔۔ حرم کے بالوں کو اپنی انگلیوں میں پھنساۓ وہ مزید اپنا چہرہ حرم کے چہرے کے نزدیک لایا تو حرم کی جان نکلنے لگی اُس کی قربت کو محسوس کرکے حرم نے اپنی آنکھیں بند کرلیں
“لیکن میں کیا کروں میں بےبس ہوں، تمہارا چہرہ مجھے اُس بےرحم کی یاد دلاتا ہے۔۔۔ تمہارا چہرہ دیکھ کر میرا دل کرتا ہے کہ میں تمہارا چہرہ بھی اُسی کے چہرے کی طرح بگاڑ کر تمہیں اِسی کی طرح گولی مار ڈالوں”
بہرام نے غصے میں بولتے ہوئے حرم کے پکڑے ہوۓ بالوں کو زور دار جھٹکے سے چھوڑا تو وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور صوفے نیچے فرش پر گرگئی بہرام غُصے میں صوفے سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ حرم فرش پر بیٹھ کر رونے لگی


صبح کے وقت یونیفارم میں موجود وہ ڈائینگ ٹیبل پر آیا تو جیاء کے ساتھ وہ پہلے سے ہی ڈائننگ ٹیبل پر موجود جیاء سے کچھ بول رہی تھی مگر بہرام کو آتا ہوا دیکھ کر فوراً خاموش ہوگئی۔۔۔ بہرام کو خود بھی اپنے کل رات کے رویے کا احساس ہو رہا تھا اگر اِس لڑکی کی شکل اینجل سے ملتی تھی تو اِس میں اِس لڑکی کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔ کل رات جب وہ اپنے کمرے میں واپس آیا تب تک وہ سو چکی تھی
“ساری پیکنگ کرلی تھی تم نے اپنی”
بہرام کرسی پر بیٹھتا ہوا جیاء سے پوچھنے لگا آج اسکی کینیڈا کیلئے روانگی تھی
“ساری پیکنگ تو میں نے کل رات میں ہی کرلی تھی، یہ بتاؤ تمہارا حرم کو لےکر میرے پاس کب آنا ہو رہا ہے”
جیاء چاۓ سے بھرا ہوا کپ اُٹھاتی ہوئی ناشتہ کرتے بہرام سے پوچھنے لگی۔۔۔ بہرام نے ایک نظر اپنی بہن پر جبکہ دوسری نظر بیوی پر ڈالی جو جیاء کے جانے پر جیاء سے زیادہ افسردہ لگ رہی تھی
“دو سال تک تو میرا کینیڈا آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اگر اِس لڑکی کا تمہارے ساتھ زیادہ ہی دل لگ گیا ہے تو اِسے اپنے ساتھ شوق سے لے جاؤ”
بہرام ناشتہ کرتا ہوا جیاء سے بول تو حرم نے اپنا سر جھکالیا جبکہ چائے کا سپ لیتی ہوئی جیا بہرام کو گھورنے لگی
“یہ لڑکی نہیں ہے بیوی ہے تمہاری یاد رکھو”
جیاء نے گھورنے کے ساتھ بہرام کو جتانا بھی ضروری سمجھا بہرام شرمندہ ہوے بناء ہنسا
“یاد رکھنے کی کیا ضرورت ہے مجھے معلوم ہے تم وہاں کینیڈا میں بیٹھی ہوئی روز یہ بات موبائل پر کال کر کے مجھے یاد کرواتی رہو گی”
وہ بولنے کے ساتھ ساتھ ناشتہ بھی کررہا تھا کیونکہ جیاء کو ایئرپورٹ چھوڑنے کے بعد آج دوپہر میں اُسے ایک ضروری کام تھا اور شام میں کمشنر صاحب سے ارسل نیازی عرف بوبی کے متعلق ضروری بات کرنا بھی اب چند ہی دن رہ گئے تھے کہ جب ارسل نیازی پھانسی کے تختے پر چڑھتا
“انسان بن جاؤ بہرام، اپنی بیوی کے ساتھ کوئی بھی شادی کے دوسرے دن اِس طرح کا رویہ نہیں اپناتا۔۔ اگر مجھے آگے سے تمہاری شکایت ملی ناں تو میں بہت برے طریقے سے تمہارے ساتھ پیش آؤگی بتا رہی ہوں تمہیں”
جیاء ناراض نظروں سے اُسے دیکھ کر دھمکی دینے لگی تو بہرام ناشتے سے ہاتھ روک کر جیاء کو دیکھا
“کیا رویہ اپنایا ہوا ہے میں نے”
بہرام نے جیاء کی بجائے ڈائریکٹ حرم کی طرف دیکھ کر اس سے سوال کیا جو چور نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی ساتھ ہی ناشتہ کررہی تھی وہ اچانک بولی
“میں نے آپی کو بتادیا ہے جیسے آپ مجھے کل رات ڈرا رہے تھے”
جیاء کی موجودگی میں حرم نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آہستہ آواز میں بہرام کو بتادیا
“یہاں میری طرف دیکھ کر بات کرو اور بتاؤ کیسے ڈرا رہا تھا میں تمہیں”
بہرام حرم کو آنکھیں دکھائے روعب دار لہجے میں پوچھنے لگا جس پر جیاء نے اپنی کرسی سے کھسک کر بہرام کے بازو پر زور سے ہاتھ مارا
“تم میرے سامنے اِس بےچاری کو ایسے ڈرا رہے ہو اکیلے میں نہ جانے کیا حال کروگے اس کا۔۔۔ تم دونوں ہی میرے بات کان کھول کر سن لو۔۔۔ میں یہاں سے جارہی ہوں اب تم دونوں کو ایک ساتھ رہنا ہے وہ بھی پیار سے جیسے ہزبینڈ اور وائف آپس رہتے ہیں”
جیاء ان دونوں کو دیکھ کر سمجھانے لگی۔۔ حرم میں ذرا سی نظریں اٹھا کر بہرام کو دیکھا جو اُسی کی طرف دیکھ رہا تھا وہ بری طرح شرمندہ ہوکر دوبارہ نظریں جھکا گئی
“تم یونہی سر جھکا کر بیٹھی رہو میں جو بول رہی ہوں سمجھ میں آرہی ہے تمہیں”
جیاء اب کی بار مکمل طور پر حرم کی طرف دیکھتی ہوئی اس سے بولی تو حرم پریشان ہوکر جیاء کو دیکھنے لگی
“اگر تم ابھی سے ایسے ہی سر جھکا کر بیٹھی رہی ناں تو ساری زندگی ایسے ہی تمہارا سر اِس کے سامنے جھکا رہے گا۔۔۔ اور یہ اِسی بات کا فائدہ اٹھاکر تمہیں ایسے ہی ساری زندگی آنکھیں دکھائے گا۔۔۔ شادی ہوئی ہے اس سے تمہاری شوہر ہے تمہارا یہ۔۔۔۔ چلو شادی کے دن جو غلط فہمی تھی لیکن اب وہ دور ہوگئی ہے اس لیے اب تمہارا بھی فرض ہے اپنے شوہر سے خود سے بات کرو یہ آگے سے ایٹیٹیوڈ دکھائے تو اِس کا دماغ درست کردو اِس سے فرمائشیں کرو، اِس کے ساتھ گھومنے پھرنے باہر نکلو شاپنگ کرو”
جیاء نے سوچا جانے سے پہلے وہ حرم کو بھی تھوڑی عقل دلاکر جائے۔۔۔ جو دو دن سے اُسی کے ساتھ چپکی ہوئی بیٹھی تھی۔۔۔ جبکہ دوسری طرف بہرام اپنی بہن کے مشورے سن کر گھور کر جیاء کو دیکھتا ہوا بولا
“جیاء تمہاری فلائیٹ کی ٹائمنگ کیا ہے میرے خیال سے اب تمہیں نکلنا چاہیے تم لیٹ ہوجاؤ گی”
بہرام بہت سنجیدہ انداز میں جیاء کو دیکھ کر بولا جو دنیا کی پہلی ایسی بہن تھی جو اپنی بھاوج کو الٹی پٹیاں پڑھا رہی تھی
“تمہیں ناں زیادہ میرے سامنے اسمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اگر تمہیں اچھی بیوی مل گئی ہے تو اِس کی معصومیت کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے بہرام اگر تم نے آئندہ اِس کو ڈرایا یا اس پر بلاوجہ میں غُصہ کیا تو میں واقعی تم سے سخت ہوگیں۔۔۔ یار اتنی پیاری بیوی لاکر دی ہے میں نے تمہیں اِس کے ساتھ پیار محبت سے پیش آؤ مگر نہیں تمہیں تو اپنی نوکری کر ایک بندے پر روعب جھاڑنا ہے۔۔۔ ہر رشتے میں ایسا نہیں چلتا بہرام، بیوی کے دل میں شوہر اپنا مقام تب ہی پیدا کرسکتا ہے جب وہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے جس طرح تم نے حرم کے ساتھ رویہ اپنایا ہوا ہے ناں اِس طرح تم اِس کے دل میں اپنے لیے ڈر اور خوف پیدا کررہے ہو اور اگر یہی ڈر اور خوف اِس کے دل میں جنم لے گیا تو پھر محبت کیسے پیدا ہوگی اس کے دل میں تمہارے لئے۔۔۔ ہزبنڈ اور وائف کے رشتے میں محبت ہی سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے میں تم دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھنا چاہتی ہوں”
جیاء بہرام کو دیکھتی ہوئی سمجھانے کی کوشش کرنے لگی
“دو دن سے تمہاری یہی بات سن رہا ہوں اتنی پیاری بیوی لاکر دی ہے اتنی پیاری بیوی لاکر دی ہے ٹھیک ہے تمہارے جانے کے بعد ذرا غور سے چیک کرتا ہوں کہاں ںسے پیاری بیوی لاکر دی ہے۔۔۔ اور یہ فضول کی نصیحتوں کی مجھ کو ضرورت نہیں سارے سبق اچھے سے سیکھے ہوۓ ہیں میں نے”
بہرام کی بات سن کر جہاں حرم شرمندہ ہوئی تھی وہی جیاء دوبارہ سے بہرام کو گھور کر رہ گئی جو سکون سے آپ ناشتہ کرنے کے بعد بیڈ روم سے جیاء کے ہینڈ کیری لینے چلاگیا


جیاء بہرام کے ساتھ صبح گھر سے روانہ ہوچکی تھی اُس کے تھوڑی دیر بعد ملازمہ آئی تھی جس نے سارے گھر کا کام کیا اور ساتھ ہی اُس نے حرم کو بہرام اور اُس کی پہلی بیوی کا بھی قصہ سنایا جس میں اُن دونوں نے ایک دوسرے کی جان لینے کی کوشش کی تھی۔۔۔ حرم کے اوپر یہ انکشاف بہت حیران کن تھا کہ بہرام کی بیوی نے بھی اُس کے اوپر گولی چلائی تھی اور پہلے اُسی نے بہرام کی جان لینے کی کوشش کی تھی یہ بات سن کر حرم سناٹے میں آگئی کہ کوئی لڑکی اتنی بے رحم کیسے ہوسکتی ہے وہ بھی اُس سے ملتی ہوئی شکل کی
کیونکہ ملازمہ نئی تھی اِس لئے لوگوں کی سنی سنائی باتوں سے وہ یہ سارا واقعہ جانتی تھی مگر حرم میں اُس ملازمہ کو یہ نہیں معلوم ہونے دیا کہ یہ بہرام کی پہلی بیوی اُسی کی ہمشکل تھی۔۔۔ ملازمہ کے جانے کے بعد حرم نے کچن میں جاکر دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر تھوڑی دیر سونے کے لیے لیٹ گئی بہرام کی غیرموجودگی کا سوچ کر اُسے بڑی گہری اور سکون دے نیند آئی تھی
جب اُس کی آنکھ کُھلی تو شام ہوچکی تھی چائے کا کپ بناکر وہ ٹیرس میں آئی آج موسم کافی ابرآلود تھا تب اسے یاد آیا نیوز میں آج ہی کے دن طوفانی بارش کی پریڈکشن دی گئی تھی
“اوف اللہ جی اگر تھوڑی دیر میں بارش شروع ہوگئی تو لازمی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوجائے گا اور پھر بہرام واپس گھر کیسے آئیں گے یعنٰی مجھے رات تک اِس فلیٹ میں اکیلا ہی رہنا پڑے گا اور اگر یہاں لائٹ چلی گئی تو مجھے تو جنریٹر بھی چلانا نہیں آتا۔۔۔ کیا کروں بہرام کو کال کرکے بلالو لیکن اُن کے آنے سے کیا ہوگا وہ بھی تو مجھے ڈرا کر اور میری جان خشک کر کے رکھتے ہیں۔۔۔۔ ڈر تو مجھے ان کی موجودگی میں بھی لگا ہی رہتا ہے مگر کچھ بھی ہے وہ انسان تو ہے اگر یہاں پر بہرام کی پہلی بیوی کی روح آ گئی تو۔۔۔
یہ سوچ آنے کے ساتھ ہی حرم کی خوف سے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ شروع ہوگئی
“باجی آپ نماز وغیرہ تو پڑھتی ہو ناں کیو سننے میں آیا ہے اگر کسی کو قتل کردیا جائے تو اُس کی روح اُسی گھر میں بھٹکتی ہے”
صبح کے وقت اُس نے ملازمہ کی باتوں کو بالکل سنجیدہ نہیں لیا تھا لیکن اِس وقت جب اُسے ملازمہ کی باتیں یاد آنے لگیں تو حرم کو خوف سا محسوس ہونے لگا
“نہیں مجھے بہرام کو فوراً کال کرنا چاہیے”
حرم نے اپنا موبائل اٹھاکر بہرام کو کال کرنے کا فیصلہ کیا وہ بھی شکر تھا کہ جانے سے پہلے جیاء اُس کے موبائل میں بہرام کا موبائل نمبر فیڈ کر کے گئی تھی


آج صبح سے ہی اُس کا دن کافی مصروف گزرا تھا اِس وقت موسم کافی ابرآلود ہورہا تھا لگ رہا تھا کبھی بھی بارش برس سکتی ہے بہرام اپنی کار میں بیٹھا ہوا ڈرائیونگ کرتا اس وقت طے شدہ اپوائنمنٹ کے سلسلے میں کمشنر صاحب سے ملاقات کے لئے جارہا تھا بوبی کو پھانسی ہوجانے کے بعد اُس کا اگلا ٹارگیٹ یعقوب نیازی تھا جو اپنے بھائی کے غلط کاروبار کو آگے چلا رہا تھا اُس کے متعلق بھی بہرام نے ثبوت اکھٹے کرنا شروع کردیے تھے موبائل پر آئے ہوئے میسج نے اُسکی توجہ اپنے موبائل کی طرف کھینچی
بیوی اگر خوبصورت مل جائے تو اسے اکیلا گھر میں چھوڑنا بیوقوفی کے زمرے میں آتا ہے
اجنبی نمبر سے میسج پڑھ کر بہرام کا خون کھول اٹھا زیرلب میسج کرنے والے کو گالی دیتا ہوا اِس سے پہلے وہ اُس کے نمبر پر کال کرتا حرم کی کال خود اُس کے پاس آنے لگی۔۔۔۔ اسکرین پر حرم کا نام جگمگاتا ہوا دیکھ کر وہ کال ریسیو کرچکا تھا
“ہیلو بہرام میں حرم بات کررہی ہوں آپ کہاں پر ہیں اس وقت”
جانے سے پہلے جیاء اس کے موبائل میں حرم کا نمبر سیف کرکے گئی تھی اور یہ بات ایئرپورٹ جاتے وقت یا جیاء اُس کو بتاچکی تھی
“کال کیوں کی ہے تم نے سب ٹھیک ہے ناں”
حرم کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر وہ حرم سے پوچھنے لگا۔۔ ساتھ ہی وہ گاڑی کا رخ اپنے اپارٹمنٹ کی طرف موڑ چکا تھا ساتھ ہی اُسے اجنبی نمبر سے آیا ہوا میسج بھی یاد آیا
“خیریت نہیں ہے آپ پلیز جلدی سے گھر آجائے”
شاید خوف کے مارے وہ رو رہی تھی یا پھر بہرام کو ایسا لگا وہ ٹھیک سے اندازہ نہیں لگا پایا
“میری بات غور سے سنو لاؤنج میں جو ڈیوائڈر کے ساتھ بڑا سا واس رکھا ہے اس میں ایک پستول ہے جلدی سے جاکر وہ پستول نکال کر اپنے پاس رکھ لو۔۔۔ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں”
بہرام نے حرم کو بولتے ہوئے گاڑی کی اسپیڈ بڑھادی اتنی آسانی سے تو اُس کے فلیٹ کے اندر کوئی زبردستی یا خوفیہ طریقے سے داخل نہیں ہوسکتا تھا اُس نے ایسے سکیورٹی الارم لگائے ہوئے تھے جو اُسے فوراً آگاہ کردیتے لیکن اُس نے حرم کا خیال کرتے ہوئے الارم بجنے کا انتظار نہیں کیا تھا بارش تیز اسٹارٹ ہوچکی تھی مگر بدنصیبی یہ ہوئی کہ اپارٹمنٹ کے دس منٹ کے فاصلے پر اُس کی گاڑی بند ہوگئی جسے وہ وہی چھوڑ کر تیزی سے بارش میں اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بھاگا


فلیٹ کے دروازے پر پہنچتے ہی اس نے ہولسٹر سے پستول نکال کر ہاتھ میں لے لیا بہت محتاط انداز میں بہرام نے فلیٹ کے دروازے کا لاک کھولا،،، سامنے کھڑے وجود کی طرف پھرتی سے پستول کا رخ کیا وہی ڈر کے مارے حرم کی چیخ نکل گئی
“کک۔۔۔ کیا ہوگیا آپ کو، یہ میں ہوں حرم۔۔۔ پلیز گولی مت چلائیے گا”
وہ خوف سے اپنی آنکھیں بند کرکے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو سرنڈر کرتی بولی۔۔۔ بہرام باہر کا دروازہ بند کرتا ہوا حرم کو اسی حالت میں چھوڑ کر سارے کمروں کا جائزہ لینے لگا۔۔ باہر تیز بارش کی وجہ سے وہ مکمل بھیگ چکا تھا
“یہاں تو کوئی بھی موجود نہیں ہے تم نے مجھے گھر آنے کا کیوں بولا”
بہرام تسلی کرنے کے بعد واپس لاؤنچ میں آیا تو حرم اسی پوزیشن میں آنکھیں بند کئے اور دونوں ہاتھ اونچے کیے کھڑی تھی۔۔۔ وہ غصہ ضبط کرتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا
“میں نے فون پر آپ سے یہ کب بولا کہ یہاں کوئی دوسرا موجود ہے، میں نے تو صرف یہی بولا تھا کہ آپ جلدی گھر آجائیں”
حرم آنکھیں کھول چکی تھی مگر اس کے دونوں ہاتھ ہوا میں ابھی بھی بلند تھے کیونکہ بہرام کے تاثرات سے لگ رہا تھا وہ شدید غصے میں ہے اور اُس کے غصے سے حرم کو بہت ڈر لگتا تھا
“تم نے مجھے کال پر بولا خیریت نہیں ہے آپ پلیز جلدی سے گھر آجائے یاد کرو”
اب کی بار بہرام تیز آواز میں چیختا ہوا اُسے اُس کے لفظ یاد دلانے لگا
“بارش تیز ہوجاتی تو خیریت کہاں رہتی لازمی آپ ٹریفک میں پھنس جاتے اور گھر آتے آتے لیٹ ہوجاتے اِس لیے آپ کو جلدی آنے کا بول دیا۔۔۔ پھر میں نے پکوڑوں کے لیے بیسن بھی گھول کر رکھ لیا تھا برسات میں ٹھنڈے پکوڑے کھانے کا کہاں مزہ آتا ہے”
حرم کی بات سن کر بہرام کا میٹر برے طریقے سے گھوما وہ غصے میں تیزی سے حرم کی طرف بڑھا تو حرم نے اوپر کئے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپالیا اور روہاسی لہجے میں بولی
“پلیز مجھ پر غصہ مت کریئے گا مجھے آپ کے غصے سے بہت ڈر لگتا ہے”
حرم کے سہمے ہوۓ انداز پر وہ اپنا غصہ ضبط کرگیا ورنہ اِس وقت وہ اس لڑکی کا برا حشر کردیتا
“کمشنر صاحب کے ساتھ ضروری میٹنگ تھی جس کو چھوڑ کر میں تمہاری کال پر بھاگا چلا آیا۔۔۔ آگے کیا سننے کو مل رہا ہے بیسن گھول لیا ہے برسات میں ٹھنڈے پکوڑوں کا کہاں مزہ آتا ہے۔۔۔ لڑکی تمہارا دماغ درست ہے یا پھر میں درست کرو”
بہرام ایک بار پھر اُس پر غصے سے چیخا حرم کو لگا آج اُس کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔۔۔۔ اپنے ڈر کو ختم کرنے اور ذہن کو بٹانے کے لیے اس نے بیسن گھول لیا تھا
“مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا ملازمہ نے بولا تھا جس گھر میں قتل ہوا ہو اس کی روح وہی منڈلتی ہے۔۔۔ مجھے لگا آپ کی پہلی بیوی کی روح کہیں مجھے اکیلا دیکھ کر میرے پاس نہ آجائے”
حرم اپنے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹاکر اسے اصل وجہ بتانے لگی جس پر بہرام کو اور بھی زیادہ غصہ آیا
“تم خود زندہ وجود رکھ کر ایک مرے ہوئے انسان سے ڈر رہی ہو بیوقوف لڑکی، میری بیوی کی رو سے زیادہ خطرناک میں تمہارے لئے ثابت ہوسکتا ہوں آئندہ تم نے الٹی سیدھی حرکتیں کی تو اس پائپ سے باندھ کر ہوا میں الٹا لٹکا دوں گا میں تمہیں”
بہرام کی غصے میں دی جانے والی دھمکی دینے پر، حرم خود کو تصور میں الٹا لٹکا ہوا سوچ کر مذید ڈر گئی
“آپ مجھے کسی مجرم کی طرح ٹریٹ نہیں کرسکتے بیوی ہوں میں آپ کی بیشک زبردستی کی ہی سہی”
ڈرنے کے باوجود حرم آئستہ آواز میں منمنائی تو بہرام اسے آنکھیں دکھاتا ہوا گھورنے لگا۔۔۔۔ جس پر حرم سر جھکا گئی۔۔۔ کل تک وہ اس سے ڈر رہی تھی۔۔۔۔ مگر آج اس کے سامنے اپنے دفاع کے لئے بول رہی تھی بہرام سمجھ گیا کہ یہ جیاء کا دیا ہوا کونفیڈنس تھا۔۔۔۔ وہ حرم کے جھکے سر کو گھورتا ہوا بیڈ روم میں چلا گیا۔۔۔ اس کا پورا یونیفارم بھیگ چکا تھا۔۔۔ بارش باہر کافی تیز ہورہی تھی اب بہرام کا واپس جانا بےکار تھا اس لیے کمشنر صاحب سے فون پر معذرت کرتا ہوا وہ یونیفارم کی شرٹ اتارنے لگا تو حرم بھی بیڈروم میں آگئی
“کیا ہاتھ میں پکڑا رہو گا میں یہ گیلا یونیفارم بیوی ہو تو معلوم نہیں ہے تمھیں بیویوں کے کام جاؤ جا کر اسے بالکنی میں ٹانگوں”
بہرام کی گرجدار آواز پر حرم خاموشی سے یونیفارم لینے کے لئے اس کے پاس آئی بنیان سے نظر آتا اُس کا کسرتی سینہ اور ورزشی بازو دیکھ کر وہ بہرام سے نظریں چرا گئی۔۔۔۔ اس یونیفارم لیتی ہوئی وہ جلدی سے بالکونی میں چلی گئی تیز بارش اور ہوا کے زور دیکھ کر ٹھنڈ سے اس کے دانت بجنے لگے۔۔۔ واشروم سے پانی گرنے کی آواز پر حرم سمجھ گئی بہرام شاور لے رہا ہے وہ چائے کا پانی چڑھا کر دوسرے چولہے پر پکوڑے تلنے لگی


وہ شاور لےکر باہر نکلا تو حرم ٹرے میں چائے کے ساتھ فرانچ فرائس پکوڑؤں سے بھری پلیٹ لیے کمرے میں داخل ہوئی جیسے ہی اس کی نظر سامنے بہرام پر پڑی تو ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹرے لرزنے لگی اُس کے چہرے کا رنگ شرمندگی سے سرخ ہونے لگا کیوکہ وہ بناء شرٹ کے،، صرف ٹراؤذر میں موجود خود پر باڈی اسپرے کرتا ہوا حرم کو دیکھ رہا تھا
“تمہیں کیا ہوا ہے”
بہرام اس کے ہاتھوں کی لرزاہٹ اور چہرے کا رنگ دیکھ کر حیرانی سے پوچھنے لگا
“وہ آپ شرٹ کے بغیر کھڑے ہیں نہ”
بے شرم انسان حرم نے اُسے دل میں بولا اور ساتھ ہی بہرام کو اُس کی حالت کا احساس بھی دلایا
“تو شرمندہ تو مجھے ہونا چاہیے تمہیں کیا ہورہا ہے”
ایک مرتبہ پھر وہ سیریس ہوکر حرم سے پوچھنے لگا۔۔۔ حرم نے منہ سے تو کچھ نہیں بولا سل میں اس کو اکڑو اور بدتمیز کے خطاب سے نوازتی ہوئی کمرے میں موجود چھوٹی سی شیشے کی گول ٹیبل پر ٹرے رکھنے لگی
“شرمانا تو چیک کرو میڈم کا”
بہرام بھی دل ہی دل میں بولتا ہوا شرٹ پہن کر بٹن بند کرتا ہوا اس کے بارے میں سوچنے لگا
“اور ابھی کسی چیز کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو بتا دیں”
تھوڑی دیر پہلے بیوی اور کام کے طعنے کو یاد کرتی حرم بہرام کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی اور ساتھ ہی اس کے شرٹ پہننے پر شکر بھی ادا کرنے لگی مگر بہرام اس کی بات سن کر بری طرح چونکا۔۔۔۔ برساتی رات جوکہ رومانٹک سے سماں پیش کررہی تھی تین دن ہوئے اُس کی بیوی اُس سے “ضرورت” پوچھ رہی تھی۔۔۔ یا تو وہ ڈیڑھ ہوشیار تھی یا پھر بالکل ہی بے وقوف بہرام چلتا ہوا حرم کے پاس آکر ٹھہرا اور اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا
“میری ضرورتوں کے لیے تمہیں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں، تم مجھے صرف اپنی ضرورتوں کا بتاؤ۔۔۔ اپنی خود کی ضرورت میں جب چاہے جس وقت چاہے پوری کرسکتا ہو اِس کے لیے مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں پڑے گی”
وہ گہری نظروں سے حرم کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس کو بہت کچھ جتا چکا تھا لیکن حرم کے سر پر سے تو سب کچھ گزر گیا
“بھوک لگے اور کھانے کی طلب ہو تو بتا دیجیے گا میں دوسرے روم میں ہوں”
حرم اس کی عجیب سی بات کا جواب دیئے بغیر کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔ بھوک اور طلب جیسے الفاظ سن کر بہرام افسوس سر ہلاتا ہوا ٹرے میں سے چائے کا کپ اٹھاکر پینے لگا


بارش کو رکے ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے وہ تب سے دوسرے کمرے میں موجود تھی اپنے موبائل پر جیاء کی کال دیکھ کر خوش ہوگئی
“کیا آپ کو میری آواز نہیں آرہی”
حرم جیاء سے پوچھتی ہوئی بالکونی میں چلی گئی شاید یہاں سگنلز کا ایشو تھا
“پرابلم ہے تو رکیں لیپ ٹاپ سے کنیکٹ ہوجاتی ہوں میں”
موبائل کو کان پر لگائے حرم بیڈ روم میں آئی تو سامنے لیپ ٹاپ بیڈ پر موجود پہلے سے ہی آن تھا مگر کمرے میں بہرام موجود نہیں تھا۔۔۔ لیپ ٹاپ کی سکرین کو سامنے کرتے ہوئے وہ پہلے سے اوپن فولڈر اور فائلیز کو کلوز کرنے لگی ویسے ہی بیڈ روم میں بہرام آیا اُسے اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا دیکھ کر بہرام کے قدموں وہی ٹھٹک گئے
“کیا کررہی ہو تم”
بہرام پیشانی پر بل ڈالتا ہوا حرم کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“آپی کی کال آئی تھی اُن سے بات کرنے کے لیے۔۔۔
حرم نے بولنا چاہا ویسے ہی بہرام نے لیپ ٹاپ کی اسکرین کا رُخ اپنی طرف کیا اور حرم کی بات کاٹتا ہوا بولا
“یہاں جو فائل اوپن تھی وہ کہاں ہے”
بہرام کی بات پر حرم ایک سیکنڈ کے لئے خاموش ہوئی
“وہ تو میں نے کلوز کردی دراصل موبائل پر آپی آواز کلیر نہیں آرہی تھی تو۔۔۔
وہ بہرام کو بتانے لگی جس پر بہرام کا دماغ بھگ سے اڑ گیا
“کیا کلوز کردی تم نے وہ فائل”
بہرام نے حیرت اور غُصے میں ملے جلے تاثرات سے حرم کو دیکھ کر پوچھا تو حرم ڈر گئی
“فائل کلوز کرنے سے پہلے کیا تم نے اُس کا سارا ڈیٹا سیو کیا تھا”
جس طرح وہ کی بورڈ پر تیزی سے انگلیاں چلاتا ہوا حرم سے پوچھ رہا تھا حرم کو لگا وہ اس کا کام بگاڑ چکی ہے۔۔۔ بہرام کے سوال پر حرم نے افسوس کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو بہرام اپنا دونوں ہاتھوں میں سر پکڑ کر رہ گیا
“سوری آئی تھنک مجھ سے کچھ غلط ہوگیا”
حرم ڈرتی ہوئی بہرام سے بولی تو بہرام غصے میں سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا
“کچھ غلط ہوگیا۔۔۔۔ تم نے میری دو گھنٹے کی محنت ایک سیکنڈ میں ضائع کر ڈالی بیوقوف لڑکی۔۔۔ دل تو چاہتا ہے کہ میں تمہیں۔۔۔۔
بہرام نے غصے میں ضبط کرتے ہوۓ جیسے اپنی مٹھیاں کو بند کیا تو حرم سہم گئی
“آآآ۔۔۔پ مجھ پر اِس طرح غصہ نہیں کرسکتے میں آپ کی بیوی ہو بیشک زبردستی کی ہی سہی”
حرم نے بہرام کو غصے میں دیکھ کر ڈرتے ہوۓ وہی بات دہرائی
“بیوی مائی فٹ، ہاتھ کیوں لگایا تم نے میرے لیپ ٹاپ کو۔۔۔۔ پہلے تم نے بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے گھر بلالیا اور اب تم میری ساری محنت ضائع کر ڈالی”
بہرام غصے میں تیز آواز میں بولا تو حرم کو رونا آنے لگا جسے دیکھ کر بہرام مزید غُصہ ہوا
“رونا بند کرو اور جاؤ یہاں سے فوراً جاکر ٹیرس میں کھڑی ہوجاؤ اور جب تک میں دوبارہ یہ کام اسٹارٹ کرکے اسے وائنڈ اپ نہ کر ڈالوں، اگر اپنی جگہ سے ہلی تو میں ٹیرس میں آکر تمہاری ٹانگیں توڑ ڈالوں گا”
بہرام اسے بازو سے پکڑ کر ٹیرس میں لے آیا تھا شدید ٹھنڈی ہوا اور اوپر سے بارش بھی دوبارہ شروع ہوچکی تھی حرم کو رونا آنے لگا
“ایم سوری میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا”
حرم نے شرمندہ لہجے میں دوبارہ بولنا چاہا تھا
“شٹ اپ خاموشی سے یہی کھڑی رہو اگر تم یہاں سے ذرا سا بھی ہلی میں تمہیں اٹھا کر اس پانچویں فلور سے نیچے پھینک دوں گا”
بہرام اُس کو دھمکی دیتا ہوا ٹیرس کا دروازہ بند کرکے جا چکا تھا جب کہ حرم نے سردی کی وجہ سے تھر تھر کانپنا شروع کردیا
اسے اِس لڑکی کی بچکانہ حرکت کا سوچتے ہوئے شدید غصہ آ رہا تھا پہلےتو اُس نے اسے گھر بلا لیا تھا جس کی وجہ سے وہ کمشنر صاحب سے مل بھی نہیں پایا تھا اگلے ایک ہفتے تک کمشنر صاحب کے شیڈول کے مطابق وہ بزی تھے اور اب تھوڑی دیر پہلے دو گھنٹے لگا کر اس نے جو بھی ڈیٹا کلیکٹ کیا تھا اس ساری انفرمیشن کو سیو کیے بغیر وہ لڑکی کلوز کرکے اڑا چکی تھی۔۔۔۔ غُصے میں سوچتے ہوئے بہرام کو اُس آدمی کا میسج بھی یاد آیا جو اجنبی نمبر سے کیا گیا تھا وہ جانتا تھا یہ میسج یعقوب نیازی نے اپنے کسی آدمی سے کروایا ہوگا تاکہ وہ بہرام کو ڈرا دھمکا کر کسی بھی طرح بوبی کے بارے میں معلوم کرسکے
زور دار آواز میں بادل گرجنے سے اس کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا تیز بارش اسٹارٹ ہوچکی تھی اُس کا ذہن ٹیرس میں کھڑی حرم کی طرف گیا مگر اگلے ہی پل اُس نے سر جھٹکا وہ لڑکی مستحق تھی کے اُسے سزا ملے تاکہ اگلی بار وہ اُس کے سامنے غلطی نہ کرے ۔۔۔ بہرام کے موبائل کی اسکرین پر جیأ کی کال آنے لگی اب بہرام اپنا باقی کا غصہ جیاء کی کو باتیں سنا کر اُس پر نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا اِس لیے اُس نے جیا کی کال ریسیو کرلی


لیپ ٹاپ پر اپنا سارا کام مکمل کرتے ہوۓ اسے احساس نہیں ہوا کب اُس کی آنکھ لگ گئی جب بہرام کی آنکھ کھلی تو اس وقت کھڑکی سے باہر ملکجا سا اندھیرا تھا۔۔۔ موبائل پر ٹائم دیکھا تو معلوم ہوا صبح کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے اچانک اُس کا دماغ ٹیرس کی طرف گیا تو بہرام کی نیند اڑن چھو ہوگئی۔۔۔ وہ کمرے میں موجود نہیں تھی کیا وہ ابھی تک رات سے ٹیرس میں کھڑی تھی بہرام بیڈ سے اٹھ کر جلدی سے باہر ٹیرس میں آیا حرم اُسی پوزیشن میں کھڑی سردی کے باعث بری طرح کانپ رہی تھی رات برسنے والی بارش کی وجہ سے اُس کے کپڑے بھی نم ہوچکے تھے۔۔۔ پتلی سی شرٹ میں اُس کو بری طرح کانپتا ہوا دیکھ کر بہرام کو پشیمانی نے آ گھیرا۔۔۔ کیا وہ رات سے اِسی طرح کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ بہرام کو رات میں اپنے سونے پر افسوس ہوا وہ اسے کمرے میں بلاۓ بغیر ہی سوگیا
“تم رات ہی یہاں کھڑی ہو کمرے میں کیوں نہیں آئی تم”
بہرام اپنی شرمندگی چھپاۓ الٹا حرم کو ڈانٹتا ہوا اُس سے پوچھا لگا اُسے اپنی غلطی کا احساس تو تھا مگر وہ اپنی غلطی اِس لڑکی کے سامنے ماننے کے موڈ میں نہیں تھا
“کیسے آجاتی آپ نے کہا تھا اگر میں یہاں سے ہلی تو آپ مجھے اٹھا کر نیچے پھینک دیں گے اتنی اونچائی سے ڈر لگتا ہے مجھے”
بولتے ہوئے حرم کے نیلے پڑتے ہونٹ بھی کانپ رہے تھے بہرام کو اُس کی حالت پر ترس آگیا وہ نرم پڑتا ہوا بولا
“چلو اب کمرے میں آجاؤ یہاں بہت ٹھنڈ ہے”
بہرام نے بولتے ہوئے اگے بڑھ کر نرمی سے حرم کا ہاتھ پکڑا جو یخ برف ہورہا تھا
“واقعی ٹھنڈ بہت شدید ہے مجھے لگ رہا ہے تھوڑی دیر اور گزرتی تو میں ٹھنڈ سے مر جاتی”
بہرام نے اُس کا ہاتھ پکڑا تو حرام کو ذرا سی گرمائش کا احساس ہوا جیسے اُس کے وجود پر پڑی برف ہلکی سی پگھلی ہوں لیکن ٹھنڈ اور بارش نے مل کر اُس کے حواس اتنے سلب کردیے تھے حرم نے اندر کمرے میں جانے کے لیے اپنے قدم بڑھائے تو وہ بےہوش ہوکر نیچے گرنے لگی مگر اِس سے پہلے بہرام نے اُسے اپنے مضبوط حصار میں لے لیا
“کیا ہوا تمہیں لڑکی۔۔۔ آنکھیں کھولو”
بہرام حرم کے اچانک بےہوش ہونے پر بوکھلا گیا اپنا ایک بازو اُس کے گرد لپیٹا وہ حرم کو سینے سے لگائے اپنے دوسرے ہاتھ سے حرم کا گال تھپتھپانے لگا۔۔۔
حرم کے کپڑے اچھے خاصے نم تھے اور جسم بالکل ہی سر پڑا ہوا تھا بہرام اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ روم میں لے آیا
حرم کو اس حالت میں دیکھ کر اسے بےہوش دیکھ کر بہرام کو اچھی خاصی ندامت نے آگھیرا
“حرم پلیز اپنی آنکھیں کھولو”
بیڈ پر حرم کو لٹانے کے بعد وہ ایک بار پھر بہرام اُس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا مگر حرم بےسود آنکھیں بند کیے لیٹی رہی۔۔ بہرام وارڈروب سے حرم کے کپڑے نکال کر لے آیا۔۔۔ اُس کے نم کپڑے بدن سے الگ کرتے وقت بھی وہ بےسود آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی اُس کا جسم برف کی مانند ٹھنڈا پڑا ہوا تھا بہرام اتنی جلدی ایسا کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتا تھا اِس کے باوجود وہ اُس کے جسم کو گرمائش فراہم کرنے کے لیے اپنی شرٹ اتارنے لگا
وہ حرم کے بےہوش وجود پر مکمل جھکا ہوا اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے حرم کے دونوں ہاتھوں کی ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو سہلانے لگا۔۔۔ یہی عمل وہ اپنے پاؤں سے حرم کے پاؤں کو سہلاتے ہوئے کررہا تھا جس سے حرم کے ٹھنڈے پڑے وجود کو گرمائش ملے۔۔۔
حرم کو گرمائش دینے کے چکر میں اُس کے اپنے جذبات بہکنے لگے حواس پر عجیب سا نشہ طاری ہونے لگا جس کے سبب وہ حرم کی گردن پر جھکتا ہوا اپنے ہونٹ حرم کی گردن پر رکھ چکا تھا اُس کی گردن کو اپنے ہونٹوں سے مس کرتا ہوا وہ مزید نیچے جھکا۔۔۔ اُس کے جسم کی نرماہٹ کو محسوس کرتا وہ اُسکے جسم کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔
بہرام کے جذبات مکمل طور پر اُس کے دل و دماغ پر حاوی ہوچکے تھے تب اُس نے حرم کے بےہوش وجود میں ہلکی سی جنبش محسوس کی۔۔۔ وہ اپنی کلائیوں کو بہرام کے ہاتھوں سے آزاد کروانے کے لیے بےہوشی میں ہی احتجاج کرنے لگی تھی جس پر بہرام حرم کی پکڑی ہوئی کلائیوں کو چھوڑتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو اُس کے بازو پر پھیرتا ہوا حرم کے کندھے سے نیچے لایا جبکہ خود وہ اُس کے پیٹ اوپر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا مکمل طور پر احساس سے بےگانہ ہوچکا تھا،، یہ وجود اِس وقت شاید بہرام کی طلب بن چکا تھا
“بہر۔۔ا ۔۔م”
حرم کی آواز پر وہ اٹھتا ہوا حرم کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ حرم کی آنکھیں بھی بند تھی لیکن وہ بےہوشی میں بھی بہرام کے لمس کو محسوس کرکے بےچین ہورہی تھی بہرام نے ایک بار پھر حرم کی دونوں کلائیوں کو تھاما اور مکمل استحقاق سے حرم کے ہونٹوں پر جھکا۔۔۔۔ اُس کی سانسیں اپنی سانسوں میں منتقل کرتا ہوا وہ مزید بہکنے لگا۔۔۔ مدہوشی سے اُس کی اپنی آنکھیں بند ہونے لگی
اچانک بند آنکھوں کے سامنے جیسے ہی اینجل کا خون سے بھرا ہوا چہرہ اسے دکھائی دیا جو مکرو مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائے مسکرا رہی تھی ویسے ہی بہرام نے حرم کی کلائیوں کو آزاد کیا اور جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔۔۔ گہری سانس بھرتے ہوئے وہ حرم کا چہرہ دیکھنے لگا
“یہ تمہارا چہرہ کبھی کبھی مجھے جس اذیت میں مبتلا کردیتا ہے تم نہیں جانتی تم کبھی بھی نہیں جان سکوں گی”
بہرام اُس پر کمفرٹر ڈالتا ہوا خود اپنی شرٹ پہننے لگا
اُس کا دماغ بار بار اُسے سمجھا رہا تھا یہ وہ نہیں ہے جس نے تمہارے ساتھ دھوکہ کیا۔۔۔ یہ لڑکی معصوم ہے بے قصور ہے مگر وہ اپنی سوچوں کی نفی کرتا ہوا خود کمرے سے نکل کر ٹیرس میں چلا گیا


“کیا میرے بغیر یہ معاملات حل نہیں ہوسکتے اگر اتنا ہی ضروری ہے تو یہ فائل مجھے میرے فلیٹ تک پہنچا دو،،،، اور پہلی فرصت میں زلفی اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف پرچہ کاٹو اس معاملے میں کسی کے بھی ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی اور رعایت نہیں ہونی چاہیے مہران۔۔۔۔ اور جو کل میں نے تمہیں موبائل نمبر سینڈ کیا تھا فوراً مجھے اُس کی تمام تفصیلات دو”
حرم نے آہستگی سے اپنی آنکھیں کھولیں تو اُس نے بہرام کو کمرے میں چکر لگاتے اور موبائل پر باتیں کرتے ہوئے دیکھا وہ خود بھی حرم کو بیدار ہوتا دیکھ چکا تھا اِس لیے موبائل پر رابطہ منقطع کرتا ہوا بیڈ کے دائیں جانب صوفے پر آکر بیٹھ گیا اُس کی نظریں حرم کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں حرم کی آنکھ میں ڈھیر ساری شکایتیں تھی بہرام جن کی وضاحت دیتا ہوا بولا
“مجھے خبر ہی نہیں ہوئی کب میری آنکھ لگ گئی تھی مگر تم نے بھی تو بےوقوفی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اتنی دیر تک سردی میں فضول ہی کھڑی رہی خود کمرے میں آکر مجھے چیک کرلیتی”
وہ سارا معاملہ اُس کی بیوقوفی کے سر کرتا ہوا خود کو بری الذمہ ٹہرانے لگا۔۔۔ جس پر حرم کو شدید غصہ آیا وہ اپنا غصہ پیتی ہوئی اٹھ کر بیٹھنے لگی تو بہرام اپنی جگہ سے اٹھ کر حرم کے پاس آتا ہوا اس کا تکیہ درست کرتا ہوا بیٹھنے میں اُس کو مدد دینے لگا تو حرم کی نظریں اپنے کپڑوں پر پڑی وہ پوری آنکھیں پھاڑ کر اپنے کپڑوں کے بعد بہرام کو دیکھنے لگی۔۔۔ بہرام اُس کے چہرے کے تاثرات سے جان گیا اِس لئے بیڈ پر حرم کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا
“تمہارا پورا لباس نم تھا اِس لئے مجھے تمہارا دوسرا لباس تبدیل کرنا پڑا ایسا کرنا اِس لئے ضروری تاکہ تمہیں سردی نہ پکڑے”
بہرام اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جو بخار اور شرم کی حدت سے سرخ ہوچکا تھا۔۔۔
کیا صرف اُس کے شوہر نے اُس کا لباس تبدیل کیا تھا یا کچھ اور بھی۔۔۔ حرم اپنے ذہن پر زور ڈالنے لگے پھر اُسے مزید کچھ کچھ یاد آیا حرم کو مزید شرمندگی نے گھیرے میں لےلیا۔۔۔ بہرام حرم کے سامنے بیٹھا اُس کے چہرے کے ایک ایک تاثُر کو دیکھنے لگا جو اُسے صاف پتہ دے رہے تھے وہ اِس وقت کیا سوچ رہی ہے۔۔۔ بہرام نے آہستگی سے حرم کی گود میں رکھا ہوا اس کا ہاتھ تھاما جو اب ٹھنڈا نہیں تھا بلکہ بخار کی حدت سے بری طرح جل رہا تھا
“ویسا کرنا بھی ضروری تھا میرا مطلب ہے تمہاری کنڈیشن کو دیکھ کر مجھے لگا کہ۔۔۔
بہرام مزید وضاحت دیتا ہوا بولا مگر اُس نے اپنی بات ادھوری چھوڑی حرم نے شکوہ بھری نظر بہرام پر ڈال کر اُس سے اپنا ہاتھ چھڑالیا
“اگر تم سمجھ رہی ہو میں نے تمہاری بےہوشی کا فائدہ اٹھایا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ اب ویسا بھی کچھ نہیں ہوا”
بہرام کی بات پر مذید حرم کا چہرا سرخ ہوا
“آپ مجھے میرے چچا کے ہاں چھوڑ آۓ”
حرم سے بہت مشکل سے بولا گیا اُس کا گلہ بیٹھ چکا تھا اور آواز بھاری ہوچکی تھی
“کس لیے جانا ہے تمہیں اپنے چچا کے گھر؟؟ جیاء کی صبح سے اب تک تین بار کال آچکی ہے۔۔۔ تمہاری طبعیت کا سن کر اُس نے مجھے اب تک کتنی باتیں سنا ڈالی، تمہاری خاطر آج میں پولیس اسٹیشن نہیں گیا صرف تمہارے لیے صبح سے یہاں موجود ہوں۔۔۔ اور تمہیں اپنے چچا کے ہاں جانا ہے،، خاموشی سے یہی رہو۔۔۔ ویجیٹبل سوپ میں نے تمہارے لیے خود بنایا ہے لےکر آرہا ہوں اُسے پینے کے بعد میڈیسن دوگا پھر تم جیاء سے بات کرلینا تاکہ اُسے بھی تمہاری آواز سن کر تسلی ہوجاۓ”
بہرام اس سے دوستانہ لہجے میں بات کرتا ہوا بولا شاید اِس طرح وہ اپنے اندر کا گلٹ ختم کررہا تھا
“نہیں۔۔۔ نہ ہی مجھے سوپ پینا ہے نہ ہی کوئی میڈیسن لینی ہے۔۔۔ مجھے صرف اپنے چچا کے گھر جانا ہے”
وہ بہرام کا کل رات کا رویہ یاد کرتی ہوئی اُس کے دوستانہ لہجے کو خاطر میں نہ لاتی ہوئی دوبارہ بولی تو حرم کی بات سن کر بہرام کے ماتھے پر بل پڑا
“کیا تم نے اپنے چچا کے گھر جانے کی رٹ لگا رکھی ہے،، جو تمہاری اُس گھر میں حیثیت ہے۔۔۔ اُس سے اچھی طرح واقف ہوگیا ہوں میں ولیمے والے دن تمہاری چچی کی باتیں سن کر۔۔۔ اپنے سر سے بوجھ اُترجانے پر وہ کیسے شکر ادا کررہی تھی”
بہرام سخت لہجے میں کہتا ہوا بیڈ سے اٹھا
“آپ کی نظر میں جو میری حیثیت ہے اُس کا اندازہ بھی مجھے کل رات اچھی طرح ہوگیا ہے۔۔۔ بلکہ کل رات سے ہی کیوں آپ نے تو شروع دن سے ہی مجھ پر میری حیثیت واضح کردی تھی”
حرم زرد چہرے اور نم آنکھوں سے بہرام کو دیکھتی ہوئی بولی تو ایک پل کے لیے بہرام اُس کی بات پر لاجواب ہوگیا
“مانا کہ نزہت چچی زبان کی تلخ ہیں مگر دل کی اتنی بھی بری نہیں۔۔ ہاں تھوڑی بےحس ہیں اپنے لفظوں سے کبھی کبھی دل دکھا جاتی ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا لیکن آپ۔۔۔ آپ تو پورے کے پورے بےرحم ہیں دل کو دکھانے کے ساتھ ساتھ آپ دل توڑنے کے فن سے بھی واقف ہیں اور یہ کام آپ نہایت خوبصورتی سے انجام دیتے ہیں”
حرم اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے ساتھ مزید آنسو بہاتی ہوئی دل کا غبار بھی نکالنے لگی تو بہرام چپ کرکے کھڑا ہوا اُسے آنسو بہاتا ہوا دیکھنے لگا۔۔۔ حرم اپنی آنکھوں سے آنسو پوچھتی ہوئی مزید بولی
“اَمّی اَبُو کے دنیا سے چلے جانے کے بعد معلوم ہوا اصل دنیا کیا ہے۔۔۔ رشتوں کی اصل حقیقت کا بھی آپ کو تبھی پتہ چلتا ہے جب آپ کے ماں بات دنیا میں نہیں رہتے مگر شوہر اور بیوی کے رشتے سے بالکل انجان تھی میں۔۔۔ اپنے اَبوّ اَمّی کو خالا خالو کو چچاچچی کو ہمیشہ ایک دوسرے کی عزت کرتے اور قدر کرتے دیکھ کر یہی ذہن میں آتا یہ رشتہ کافی معتبر ہوتا ہے۔۔۔۔ مگر آپ سے شادی کے بعد آپ نے مجھے اِس رشتے کی اصل حقیقت بتادی۔۔۔ عزت اور قدر تو بہت دور کی بات آپ نے تو ذرا لحاظ نہیں ہے پوری رات میں بارش اور سردی میں آپ کے خوف سے کھڑی رہی۔۔۔ اِس طرح کا سلوک تو کبھی نزہت چچی نے بھی نہیں کیا میرے ساتھ”
بولتے بولتے اُس کا گلا دکھنے لگا رونے میں شدت سے اندازہ ہوا تو بہرام نے حرم کی طرف اپنے قدم بڑھا کر بےاختیار اُسے باہوں میں لیا
“سوری رئیلی سوری۔۔۔ کل رات جو ہوا وہ میرے غُصّے کا عمل تھا۔۔۔۔ آئی پرامس میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ تم ساری رات باہر سردی میں کھڑی رہتی”
بہرام بیڈ پر بیٹھی ہوئی حرم کو باہوں میں بھر کر اُس سے معذرت کرنے لگا جو رونے کے ساتھ ساتھ اُس کی بازؤوں میں اب سسک بھی رہی تھی
“کیوں اندر لےکر آۓ آپ مجھے۔۔۔ نفرت ہے ناں آپ کو میرے چہرے سے تو وہی سردی میں مرجانے دیا ہوتا”
وہ سِسکتی ہوئی بولی تو بہرام نے اُسے مزید اپنے بازؤوں میں بھرلیا
“اچھا رو مت خاموش ہوجاؤ پہلے ہی بخار ہو رہا ہے اپنے چچا کے گھر جانا چاہتی ہو، کل تک طبعیت میں بہتری آۓ گی تو میں تمہیں تمھارے چچا کے گھر چھوڑ جاؤ آؤ گا”
بہرام اُس کو بہلاتا ہوا بولا
“چچا کے گھر جانے سے پہلے میں قبرستان جانا چاہتی ہوں اَبُو اَمّی یاد آرہے ہیں بہت”
حرم اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اُس کے حصار سے نکلتی ہوئی بولی تو بہرام اُس کا چہرا دیکھتا ہوا بولا
“ٹھیک ہے جہاں بولو گی وہی لے جاؤ گا۔۔۔ اب رو مت۔۔۔ میں سوپ لے کر آتا ہوں تمہارے لیے”
بہرام اُس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا