Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

“واٹ ڈو یو مین تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے تم نے میرے لئے لڑکی دیکھی اُس کو پسند کرکے رشتہ بھی تہہ کردیا۔۔۔۔ جیاء پلیز یار میرا کوئی ارادہ نہیں ہے شادی جیسے جھنجھٹ میں دوبارہ پڑنے کا”
اِس خبر کو سنا کر وہ بہرام کو اچھا خاصا موڈ خراب کرچکی تھی لیکن بہرام بھی اچھی طرح جانتا تھا اُسکی بہن جو اپنے دل میں ٹھان کر بیٹھ جائے وہ کرکے ہی دم لیتی ہے
“فضول کی باتیں مت کرو بہرام اپنی مرضی سے اپنی پسند کی شادی کرکے دیکھ لی ہے ناں تم نے، اب تم وہی کروگے جیسا میں چاہو گی میں واپس کینیڈا جانے سے پہلے تمہاری طرف سے مطمئن ہوکر یہاں سے جانا چاہتی ہوں”
بہرام ہمیشہ سے اُس کی ہر بات مانتا آیا تھا۔۔۔۔ اور واپس جانے سے پہلے وہ چاہتی تھی کہ اپنے چھوٹے بھائی کا گھر بساکر یہاں سے جائے ورنہ تو وہ سالوں تک اِس فیس سے باہر نہیں نکل پاتا کہ اُس کی بیوی نے اُس کو دھوکا دیا تھا
“ابھی تم اپنے سے تین سال بڑے ہونے کا روعب چلا رہی ہوں مجھ پر، میری شادی کے وقت تو اپنی مجبوریوں کا رونا رو کر آ بھی نہیں سکی تھی”
بہرام اس پر چوٹ کرتا ہوا بولا جس پر جیاء نے اُس کے بازو پر بیڈ کر رکھا ہوا کشن مارا
“میرے سامنے زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں اس وقت میرے حالات کا اچھی طرح معلوم تھا مبشر کا کتنا سیریس ایکسیڈنٹ ہوا تھا اوپر سے مبشر کی مدر کی دیکھ بھال بھی میں ہی کرتی تھی اور دونوں بچوں کے پیپرز ہورہے تھے۔۔۔ یہ میری وہ مجبوریاں تھیں جس کی وجہ سے میں بےبس ہوچکی تھی اور تمہارے لیے وقت نکال کر پاکستان نہیں آسکی تھی اس لئے اب فضول کی طعنے بازی سے گریز کرو نہیں تو پھر میں بھی شکوہ پر اتر آؤ گی کون سا تم نے اپنی شادی کی تصویریں مجھے بھیجوائی یا اُس اینجل سے اپنی بڑی بہن کا تعارف کروایا کبھی چہرہ تک نہیں دکھایا تم نے اپنی پہلی بیوی کا مجھے”
جیاء نہ چاہتے ہوئے بھی بہرام کی بات پر شکوہ کرگئی تھی فیس بک پر وہ جتنا ایکٹِو رہتی تھی بہرام اتنا ہی کم یوز کرتا تھا پرسنلی تصویریں بنوانا اسے زیادہ پسند نہیں تھا اور اتفاق ایسا ہوا کہ جتنی بار بھی جیاء نے اینجل کو دیکھنے کی فرمائش کی تو بہرام نے پہلے اُس کے پاکستان آنے کی شرط رکھ دی۔
“اُس کا چہرہ دیکھ کر کیا کرتی اُس نے تو مجھے ہی کسی کے سامنے شکل دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا”
بولتے ہوۓ بہرام کے لہجے میں تلخی گُھل گئی جسے دیکھ کر جیاء افسوس کرنے لگی وہ یخنی کا باؤل اٹھاتی ہوئی بولی
“بھول جاؤ بہرام اُس بےکار سی لڑکی کو، چلو ہم دونوں حرم کے بارے میں بات کرتے ہیں معلوم ہے حرم بہت پیاری لڑکی ہے۔۔۔ فرحانہ انٹی نے مجھے بہت ساری لڑکیاں دکھائی تھی مگر مجھے تمہارے لئے ہر لحاظ سے حرم ہی پرفیکٹ لگی دکھنے میں اتنی انسوسینٹ، اتنی کیوٹ پیاری سی ہے کہ کیا بتاؤں۔۔۔ پرائیویٹ بی ایس کیا ہوا ہے اس نے، اسکول میں ٹیچنگ کرتی ہے عمر بیس سال ہے تم سے آٹھ نو سال چھوٹی ہوگی۔۔۔ فیملی میں بھی کوئی خاص بڑی نہیں پیرنٹس کی ڈیتھ کے بعد وہ اپنے چچا چاچی کے ساتھ رہتی ہے۔۔۔ سیدھے سادے اور بہت سمپل سے لوگ ہیں میں نے تو صاف بول دیا ہمیں کوئی لمبا چوڑا جہیز تو چاھیے نہیں۔۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے میرے بھائی کے پاس بس آپ سے آپکی بھتیجی چاہتے ہیں اور میں نے انہیں یہ بھی بول دیا کہ نکاح کی تقریب ہم لوگ بھی سادگی سے چاہتے ہیں۔۔۔ جب تم کل حرم سے ملو گے تو گرانٹی سے کہتی ہو وہ تمہیں بھی بہت پسند آئیں گی”
جیاء اُسے حرم کے بارے میں بتانے کے ساتھ یخنی پلائے جارہی تھی۔۔۔ وہ جیا کی باتوں کے ساتھ یخنی کے گھونٹ اپنے اندر تلخی سے اتار رہا تھا ایک دم سے بہرام جیاء کی آخری بات پر اس کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا
“معصوم چہرے اکثر دھوکا دیتے ہیں یہ تجربہ ہوچکا ہے مجھے اگر وہ خوبصورت ہے انوسینٹ ہے یا کیوٹ ہے مجھے اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ اور میں کل تمہارے ساتھ کہیں نہیں جارہا جو معاملات تہہ کرنے ہیں وہ تم اکیلے طے کرو، جو کرنا ہے وہ تم اکیلی کرو مگر پلیز مجھے مت گھسیٹو بیچ میں کیوکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں جتنا بھی تمہیں انکار کرلو تم میری شادی کروا کے ہی یہاں سے جاؤں گی”
بہرام بے زار سے لہجے میں جیاء ایسے بولا تو وہ خاموش ہوگئی


“صبیحہ آپا بتارہی تھیں آپ نے کہیں اور حرم کا رشتہ طے کر دیا ہے”
گھر آئی محّلے کی خاتون نزہت چچی سے پوچھنے لگی دوسرے کمرے میں بیٹھی حرم کو اُن دونوں کی صاف آواز آرہی تھی تھوڑی دیر پہلے ایک لڑکی اُس کے ہاتھ پر مہندی لگاکر گئی تھی
“ہاں بھئی کہیں اور رشتہ بھی کردیا اور کل تو ماشاء اللہ سے اُس کی بارات بھی ہے خیر سے، نگی کی طرح وہ بھی اپنے گھر کی ہوجائے گی خدا کے حکم سے۔۔ بھئی جو کوئی کچھ بھی کہتا رہے میں نے تو حرم کو نگی سے الگ نہیں سمجھا جیسے ہی اُس نے بولا مجھے اپنے خالہ ذاد سے شادی نہیں کرنی وہی میں نے خاموشی سے حرم کے بجاۓ اپنی نگی کو بیاہ دیا۔۔۔ نگی کا تو تمہیں معلوم ہے اللہ میاں کی گائے ہے، مہینے بھر میں ہی صبیحہ کے پورے گھر کو اُس نے ایسے سنبھال لیا کہ صبیحہ تو گُن گاتے نہیں تھکتی میری نگی کے”
نزہت چچی اور بھی کچھ نگی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں اور ادھر حرم تلخی سے مسکرانے لگی اُسے اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کافی بےزار کررہی تھی جو اُس کی ہونے والی نند کے کہنے پر اُسے لگائی گئی تھی
“ایسے ہی سننے میں آیا ہے کہ حرم کا ہونے والا شوہر پولیس والا ہے اور پہلے سے شادی شدہ بھی؟”
مُحلّے کی خاتون کی آواز پر حرم کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
“آئے ہائے بہن کہاں سے سن لی تم نے ایسی خوفناک باتیں؟ کیا شادی شدہ آدمی کو پکڑا دوں گی میں جوان کنواری پھول جیسی نازک بچی کو۔۔۔۔ لوگ بھی دوسروں کی خوشیوں سے جل کر نہ جانے کیا کیا اول فول بکتے ہیں۔۔۔ پہلی بیوی مرچکی ہے اُس بےچارے کی۔۔۔ کوئی بھرے پلنگ پر تھوڑی نہ بھیج رہی ہوں میں حرم کو۔۔۔ اور پولیس والے کی نوکری کررہا ہے تو بہت اچھا عہدہ ہے اُس کا، کسی ٹچے یا نکھٹو کو پلے نہیں باندھ رہی ہو میں حرم کو”
نزہت چچی کی تپتی ہوئی آواز حرم کو سنائی دی۔۔۔ نگی کی اسجد سے شادی کے فوراً بعد ہی نہ جانے کہاں سے اُس کا رشتہ آگیا اُس کی ہونے والی نند پہلی نظر میں اُس کو اپنے بھائی کے لیے پسند کرکے چلی گئی تھی، بلکہ وہ جلد سے جلد واپس اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اُس کی شادی اپنے بھائی سے کروانا چاہتی تھی جیاء نے اُن لوگوں سے کچھ بھی نہیں چھپایا تھا۔۔۔
لڑکا 29 سال کا تھا اچھی آمدنی ذاتی گھر اچھے عہدے پر فائز لیکن حادثاتی طور پر اُس کی بیوی مر چکی تھی۔۔۔ جیاء نے جہیز کے نام پر ایک سِکّہ بھی لینے سے منع کردیا تھا اُسے صرف اپنے بھائی کے لیے حرم چائیے تھی جو اُس کے بھائی کو سنبھال سکے اور اُس کے بھائی کی زندگی میں خوشیاں بھر سکے۔۔۔ البتہ جیاء کے بھائی نے اُسے اتنی بھی اہمیت نہیں دی تھی کہ وہ حرم کو ایک نظر بھی دیکھ لیتا یا کوئی دیکھنے کی خواہش ظاہر کردیتا ہے۔۔۔ جیاء نے ہی ہفتے بھر پہلے اپنے موبائل میں اُسے بہرام کی تصویر دکھائی تھی جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس نے جلدی سے موبائل واپس جیاء کو دے دیا تھا۔۔۔ تصویر میں وہ شکل سے ہی کوئی مغرور سا انسان لگ رہا تھا مگر قد کاٹھ نین نقش اور شکل و صورت میں وہ اسجد سے کہیں زیادہ اچھا تھا۔
“ویسے نزہت آپا اُڑتے اُڑتے میں نے تو یہ خبر بھی سنی ہے کہ وہ پولیس والا کافی غضیلہ قسم کا مرد ہے اور تو اور اُس نے خود اپنی پہلی بیوی کو بھی مار ڈالا تھا”
مُحلّے کی خاتون کی کمرے میں آتی آواز پر حرم کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا۔۔۔ وہ شادی شدہ تھا اور اُس کی پہلی بیوی مرچکی تھی اِس بات کا تو حرم کو معلوم تھا مگر اُس نے پہلی بیوی کو خود مار ڈالا تھا یہ سن کر حرم کا دل بری طرح خوف سے لرزنے لگا
“ارے بہن یہ کون سی باتیں لےکر بیٹھ گئی ہو تم، آخر یہ کون سے لوگ ہیں جو یہ سب بکواس تم سے کرکے گئے ہیں اور تم یہاں آکر ہمارا دماغ خراب کررہی ہو،، کل بچی کی شادی ہے اور تم ہو کے کب سے الٹی سیدھی باتیں ہی ہانکے ہی جارہی ہو۔۔۔ کوئی کام کی بات کرنی ہے تو بیٹھو یہاں پر نہیں تو نکلو۔۔۔ شادی کا گھر ہے ہمیں بہت سارے کام کرنے ہیں”
نزہت چچی کی آواز اُس کے کانوں میں پڑ رہی تھی اور وہ وحشت بھری نظروں سے مہندی سے سجے اپنے ہاتھ دیکھنے لگی پورا وجود اسکا زلزلوں کی زد میں آچکا تھا۔
ایک ایسا شخص جو اپنی پہلی بیوی کا قتل کرچکا تھا، ایسی جگہ پر اُس کو بیایا جارہا تھا یہ سوچتے ہوئے حرم کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
“حرم۔۔۔۔ اے حرم ارے کیا ہوگیا بیٹا رو کیوں رہی ہو اُس منحوس ساجدہ کی باتوں پر دھیان نہیں دو ایک نمبر کی حرافہ عورت ہے وہ تو۔۔۔۔ یہاں وہاں کی سُن گُن لینے والی اور اپنی پیٹ سے باتیں بنانے والی۔۔۔ تمہاری نند تو منع کرکے گئی تھی کہ جہیز کے نام پر کچھ نہیں چاہیے انہیں لیکن تمہارے چچا کے کہنے پر میں تمہارے سات سے آٹھ جوڑے تین بیڈ شیٹیں اور ایک ڈنر سیٹ لےکر آئی ہو۔۔۔ منہ دکھائی میں بہرام کے لیے مہنگے سی گھڑی بھی خریدی ہے اور سلامی کے لیے بھی اچھے پیسے لفافے میں ڈال کر حفاظت سے رکھ دیے ہیں۔۔ارے کوئی بےمول تھوڑی ہے ہماری بیٹی جو تمہیں تمہارے چچا اور میں خالی ہاتھ بیاہ دیں گے۔۔۔ ارے میری نگی سے زیادہ خوش قسمت ہو تم، ہم نے تمہیں نگی سے کہیں زیادہ اچھے کھاتے پیتے لوگوں میں بیایا ہے لیکن یہ بھی قسمت قسمت کی بات ہوتی ہے۔۔۔ تم اِن چُوڑے چمار لوگوں کی باتوں پر دھیان مت دو، نگی آنے والی ہے تھوڑی دیر میں اُس کے ساتھ مل کر جو پیکنگ کرنا ہو کرلینا۔۔۔ ابھی تو تمہارے مہندی لگی ہے آج رات کا کھانا اور روٹیاں میں ہی بنادیتی ہوں تم بس آرام کرو”۔۔
نزہت چچی بولتی ہوئی حرم کی شکوہ بھری نظروں کو نظر انداز کرکے کمرے سے باہر نکل گئیں
نگی کے مقابلے میں اُس کو اچھے کھاتے پیتے لوگوں میں بیاہ کر اُس کی چچی اُس پر احسان جتارہی تھی کیا وہ اپنی نگی کی شادی ایک شادی شدہ مرد سے کردیتی جوکہ اپنی بیوی کو بھی مار چکا تھا حرم سوچتی ہوئی دوبارہ رونے لگی


“اے سی پی بہرام عباسی کہو کیسے مزاج ہیں اب تمہارے”
وہ پولیس اسٹیشن میں بیٹھا ہوا ٹیبل پر رکھی فائل دیکھنے میں مصروف تھا جب یعقوب نیازی اُس کے کمرے میں آتا ہوا بولا۔۔۔ بہرام یعقوب نیازی کی آمد پر غُصّے میں اُسے ضبط کرتا ہوا دیکھنے لگا۔
“اپنے آنے کا مقصد بتاؤ؟”
بہرام نے فائل بند کرتے ہوئے یعقوب نیازی سے کہا تو یعقوب نیازی بناء اُس سے اجازت مانگے اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔
“خوشی ہو رہی ہے تمہیں زندہ دیکھ کر یقین جانو جب نیوز پیپر میں تمہاری تشویشناک حالت کے بارے میں پڑھا تھا تو اندازہ نہیں تھا کہ تم بچ بھی سکو گے۔۔۔ موت کو شکست دے کر واپس آئے ہو قسمت والے ہو مگر قسمت بھی بار بار ساتھ نہیں دیتی تم بھی اچھی طرح جانتے ہو یہ بات”
یعقوب نیازی مسکراتا ہوا بہرام سے بولنے لگا تو اُس کی بات پر بہرام کی تیوری پر بل چڑھ گئے۔۔۔ وہ دائیں جانب کھڑے کانسٹیبل کو مخاطب کرتا ہوا بولا۔۔
“اگلی بار اگر اِس نے کوئی دھمکی دی تو اِسے لاک اپ میں ڈال دینا پولیس والے کو دھمکانے کے جرم میں”
بہرام کانسٹیبل سے بولتا ہوا دوبارہ یعقوب نیازی سے مخاطب ہوا
“آنے کا مقصد بتاؤ”
وہ دوبارہ یعقوب نیازی سے ایک ایک لفظ چباکر بولا
“سنا ہے کل دوسری شادی ہے تمہاری، سوچا ایڈوانس میں مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ تمہاری پہلی مرحومہ بیوی کی تعزیت بھی کرلو۔۔۔ اچھی عورت تھی بیچاری مرنے سے پہلے بھی دل خوش کرکے دنیا سے گئی”
یعقوب نیازی نے اپنی گھٹیا گفتگو سے اُس کا خون کھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جس کے نتیجے میں بہرام اپنی کرسی چھوڑ کر اٹھا اور یعقوب نیازی کو بھی گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کردیا۔۔۔ شدید غُصّے کی وجہ سے اُس کی رگیں تن گئی اور آنکھوں کے ڈورے غصے سے سرخ ہوگئے
“نا نا نا۔۔۔ دیکھو یہ تم تیسری بار غلطی کرچکے ہو میرا گریبان پر ہاتھ ڈال کر۔۔۔ پہلی اور دوسری غلطی معلوم ہے تمہاری کیا تھی؟پہلی غلطی تمہاری یہ تھی کہ تم نے میرے چھوٹے بھائی بوبی کو گرفتار کیا اور دوسری غلطی تم سے ہوئی کہ تم نے بوبی کی موت کی جھوٹی اطلاع مجھے دی”
یعقوب نیازی بہرام کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا ہوا بولا۔۔۔بہرام خاموش کھڑا ضبط سے اپنے جبڑے بھینچے ہوئے تھا یعقوب نیازی دوبارہ بولا
“میں جانتا ہوں میرا بھائی زندہ ہے اور تمہاری قید میں ہے اُس کی سزا سے پہلے اگر تم نے مجھے میرا بھائی میرے حوالے نہیں کیا۔۔۔ تو تمہاری دوسری بیوی بھی بہت جلد میرے بستر کی زینت بن جائے گی”
یعقوب نیازی کے بولنے کی دیر تھی بہرام نے غُصّے کی شدت سے پاگل ہوتے ہوئے زور دار مُکّا یعقوب نیازی کے منہ پر رسید کیا
“یو باسٹرڈ”
بہرام نے یعقوب نیازی پر چیختے ہوۓ شدید طیش کے عالم میں ٹیبل پر رکھا ہوا ریوالور اٹھاکر یعقوب نیازی کی طرف رخ کیا مگر اُس سے پہلے ہی انسپیکٹر اور کانسٹیبل نے آگے بڑھ کر بہرام کو قابو کرلیا..
“چوتھی اور سنگین غلطی”
یعقوب نیازی ناک سے نکلا ہوا خون رومال سے صاف کرتا ہوا بہرام کو دیکھ کر بولا اور وہاں سے چلاگیا


“یہ کیا حرکت کی ہے تم نے بہرام۔۔۔ یہ کوئی طریقہ ہے نکاح کے فوراً بعد تم مسجد سے واپس اپنے اپارٹمنٹ چلے گئے میں کہتی ہوں فوراً حرم کے گھر پہنچوں وہ یہاں دلہن بیٹھی تمہاری منتظر ہے، تم یہاں آؤ گے تب ہی وہ رخصت ہوکر میرے اور تمہارے ساتھ فلیٹ میں آئے گی”
اپارٹمنٹ میں پہنچتے ہی آدھے گھنٹے بعد بہرام کے موبائل پر جیاء کی کال آئی جیاء اُس کی حرکت پر کافی غُصے میں لگ رہی تھی
“یار پلیز جیاء اب بس کردو میں تمہاری ضد کرنے پر شادی کرچکا ہوں اگر وہ لڑکی میرے انتظار میں رخصتی کے لیے بیٹھی ہے تو اُسے کہہ دو آج میرا رخصتی کروانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اگر اُسے آنا ہے تو وہ خود آجائے یا جب میرے پاس ٹائم ہوگا یا موڈ بنے گا تو میں اُسے لینے آجاؤں گا ابھی فی الحال ایمرجنسی میں میری ڈیوٹی لگادی گئی ہے وہی جانے کی تیاری کررہا ہوں”
اپنے اپارٹمنٹ میں آنے کے بعد اُس نے زیب تن کیا قمیض شلوار تبدیل کرکے یونیفارم پہن لیا تھا مگر یہ ڈیوٹی اُس کی لگی نہیں تھی آج رات نائٹ ڈیوٹی کے لئے اُس نے خود اپنا نام دیا تھا ناجانے وہ کس سے فرار چاہ رہا تھا
ایک ماہ پہلے جب وہ اسپتال سے گھر آیا تھا تب اُس نے اپنے کمرے میں موجود اینجل کا سارا سامان لاؤنج میں پھینک کر اس سارے سامان کو آگ لگادی تھی۔۔۔ اُس کے اتنے شدید غصے پر جیاء بھی ڈر گئی تھی مگر کل جب حرم کے کپڑے اور دیگر سامان بہرام کے کمرے میں سیٹ کیے جارہا تھا تب وہ غصے میں خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا
“تم ایک نمبر کے کمینے اور ذلیل انسان ہو تمہیں تو میں گھر آکر پوچھتی ہوں”
جیاء نے غصے میں بولتے ہوئے فون رکھ دیا تو بہرام بھی اُس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر فلیٹ سے باہر نکل گیا


جس کمرے میں اُسے بٹھایا گیا تھا وہ کافی کشادہ اور خوبصورت کمرہ تھا، کمرے میں موجود فرنیچر اِس کمرے کے مالک کا اعلٰی ذوق ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔ کمرہ کسی بھی قسم کی سجاوٹ سے پاک تھا یعٰنی کمرے کو نئی دلہن کی آمد کے لیے نہیں سجایا گیا تھا
“نئی دلہن”
حرم یہ لفظ بڑبڑاتی ہوئی تلخی سے مسکرائی وہ نئی دلہن ضرور تھی مگر “پہلی” ہرگز نہیں۔۔۔۔ اور مرد دوسری یا تیسری بیوی لانے میں کہا اِس قسم کی فورمیلیٹیز کو پورا کرتا ہے۔۔۔۔ اور اس کے شوہر نے اُس سمیت اُس کے گھر والوں کو کو یہ بھی جتا دیا تھا کہ وہ رتی برابر دوسری شادی میں یا اپنی دوسری بیوی میں دلچسپی نہیں رکھتا جبھی نکاح کے بعد اُس نے رخصتی کے لیے گھر آنا ضروری بھی نہیں سمجھا
نزہت چچی نے جیاء کے سامنے اِس بات کو لےکر کافی اعتراض کیا تھا لیکن وہ بےچاری حرم سمیت سب سے معذرت کرکے اپنے بھائی کی مجبوری بیان کررہی تھی جو نائٹ ڈیوٹی کی شکل میں اُس پر اچانک لگادی گئی تھی۔۔۔۔ اُسے بہرام کے کمرے میں بٹھانے کے بعد جیاء اُس کو چینج کرکے آرام کرنے کا بول چکی تھی کیونکہ بہرام کو صبح ہی واپس لوٹنا تھا مگر حرم ابھی بھی عجیب کشمکش میں بیٹھی ہوئی تھی واقعی اُسے چینج کرلینا چاہیے تھا یا پھر اپنی شوہر کا یوں ہی دلہن بنے بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے تھا آج اُس کے روپ کو سب کس قدر سراہ رہے کہ اُس کے کانوں نے ہر کسی کے منہ سے اپنے لیے تعریفی جملے سنے تھے مگر وہ انسان جس کے لیے آج کے دن اُس کو سجایا گیا تھا وہ شخص اِس میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا یہ بات وہ شخص اپنے رویے سے ظاہر کرچکا تھا نہ چاہتے ہوئے حرم کا دن اداس ہونے لگا اِس کے باوجود نہ جانے کیوں حرم کپڑے تبدیل کیے بغیر یونہی سجی سنوری بہرام کا انتظار کرنے لگی


“یہ کوئی وقت ہے تمہارا گھر لوٹ کر آنے کا”
صبح کے چھ بجے جب اُس نے اپنے فلیٹ میں قدم رکھا توقع کے برخلاف جیاء اس کا لاؤنچ میں جھولے پر بیٹھی ہوئی ملی لازمی وہ بہرام کی آمد کا انتظار کررہی تھی
“سیر و تفریح کرنے کے لئے نہیں نکلا ہوا تھا بلکہ ڈیوٹی کرکے واپس آرہا ہوں”
بہرام پولیس کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھتا ہوا تھکے ہوۓ انداز میں جیاء سے بولا جو ابھی بھی شکل سے کافی غصے میں دکھائی دے رہی تھی
“تم جانتے ہو بہرام آج کی تمہاری اِس حرکت نے مجھے تمہاری بیوی اور تمہارے سسرال والوں کے سامنے کس قدر شرمندہ کیا۔۔۔ تمہیں کچھ احساس ہے اِس بات کا کہ تم کسی دوسرے کی عزت کا احساس نہیں کرتے مگر اپنی بہن کی عزت کا احساس کرلیتے۔۔۔ کتنی شرمندگی اٹھانا پڑی تھی مجھے وہاں سب کو جواب دیتے ہوئے ایک تم اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے رخصتی کے لیے وہاں نہیں پہنچ پائے۔۔۔ حرم اور اس کے گھر والے نہ جانے کیا سوچ رہے ہوں گے تمہارے بارے میں”
جیاء جھولے سے اٹھ کر بہرام کے سامنے آتی ہوئی اسے شرمندہ کرنے کی غرض سے بولی اور شرمندہ ہونا تو اس کی گُھٹی میں ہی شامل نہیں تھا تبھی وہ ریلکس موڈ میں جیاء سے بولا
“تم کچھ زیادہ ہی ایموشنل ہورہی ہو جیاء ڈیوٹی تھی تبھی نہیں آسکا کوئی بہانہ تو نہیں گڑا میں نے خود سے۔۔۔ اور تمہیں شرمندہ ہونے کی کیا ضرورت ہے وہ بیوی میری ہے، سسرال میرا ہے میں جیسے چاہو گا اُن لوگوں کو ڈیل کروں گا یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے اِس لیے اب تم ریلیکس ہوجاؤ”
بہرام جیاء سے بولتا ہوا جانے لگا مگر جیاء نے اُس کے سامنے سے ہٹنے کی بجائے بہرام کے سینے پر اپنی دو انگلیاں رکھ کر اُسے وہاں سے جانے سے روکا
“جانتی ہوں تمہاری بیوی اور تمہارا سسرال میرا مسئلہ نہیں ہے مگر تم جانتے ہو کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے بہرام”
جیاء کے بولنے پر بہرام نے بیزار ہوکر نظروں کا زاویہ اُس کے چہرے سے ہٹاکر دوسری سمت کیا
“یار تھکا ہوا ہوں میں اس وقت جیاء پلیز اپنا یہ لیکچر شام کو پورا کرلینا”
دوسری سمت منہ پھیر کر بیزاری سے بولے گئے جملے پر جیاء نے جبڑوں سے اس کا منہ پکڑ کر اُس کے چہرے کا رخ اپنے سامنے کیا
“تم اُس اینجل کے کارناموں کی سزا حرم کو دینے کا کوئی حق نہیں رکھتے ہو بہرام، اگر تمہاری پہلی بیوی کے چال چلن ٹھیک نہیں تھے تو اِس میں اُس معصوم لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے جو اِس وقت تمہاری نکاح میں آچکی ہے۔۔۔۔ میں نے تمہاری شادی تمہارے گھر بسانے کے لئے کی تھی نہ کہ کسی دوسری لڑکی کی زندگی برباد کرنے کے لئے۔۔۔ بیشک تم میرے لیکچر سے بور ہورہے ہوں گے مگر میری بات غور سے سنو تم اپنے رویے سے حرم کو بلکل بھی ہرٹ نہیں کرو گے”
جیاء اُس کا چہرہ پکڑ کر ایک ایک لفظ بہرام کو باور کرواتی ہوئی بولتی رہی مگر وہ ڈھیٹ بنا ہوا یہی شو کررہا تھا کہ جیسے بہت مجبوری میں آنے والی جمائی کو روکے وہ اپنی بہن کی بات سن رہا ہو
“اب اجازت دو تو اپنے کمرے میں چلا جاؤں”
جیاء کی بات مکمل ہونے پر بہرام اس کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹاتا ہوا اس سے کمرے میں جانے کی اجازت مانگنے لگا تو جیاء بہرام کو گھور کر رہ گئی جس پر بہرام مسکرایا مگر اگلے ہی لمحے اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا ہوا جیاء سے بولا
“اِس وقت جو میرے نکاح میں میرے کمرے میں موجود ہے مجھے نہیں معلوم وہ لڑکی کتنی انوسینٹ ہے لیکن اُس کا انوسینٹ ہونا بہت ضروری ہے جیاء، یقین جانو اگر اِس لڑکی کی بھی چال چلن میری پہلی بیوی جیسے ہوئے یا مجھے اِس کے بارے میں آگے جاکر کوئی بھی الٹی سیدھی بات معلوم ہوئی تو میں اِس کو شوٹ کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گا”
بہرام سفاک انداز میں بولتا ہوا اپنے کمرے میں جانے لگا
“سنو۔۔۔ وہ جو میں نے تم سے منہ دکھائی میں دینے کے لیے ڈائمنڈ رنگ کا بولا تھا۔۔ خرید لی تھی ناں تم نے”
جیاء کی بات سن کر وہ پلٹ خار بھری نظروں سے اُسے دیکھتا ہوا بولا
“نہیں تم بولتی ہو تو میں اپنا یہ اپارٹمنٹ گاڑی اور بینک بیلنس بھی منہ دکھائی میں اُسی کے نام کردیتا ہوں”
بہرام جیاء پر گہرا طنز کرتا ہوا وہاں سے اپنے کمرے میں چلاگیا جبکہ جیاء افسوس سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھ کر مبشر کو کال ملانے لگی


اپنے کمرے میں آنے کے ساتھ بہرام کے قدم وہی جم گئے اس کے بیڈ پر دلہن کے لباس میں موجود لڑکی جو اِس وقت گھونگھٹ کی آڑھ میں اپنا چہرہ چھپاۓ بیٹھی تھی بہرام اس پر سرسری سی نگاہ ڈالتا ہوا وارڈروب سے اپنا لباس نکالنے لگا، اگر وہ اِس وقت جاگی ہوئی اُس کی آمد کا انتظار کررہی تھی تو لاؤنچ میں چند سیکنڈ پہلے ہوئی جیاء سے اُس کی گفتگو بھی سن چکی ہوگی۔۔۔ اچھا ہی تھا اِس لڑکی کو اس کے خیالات کا پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا
بہرام شرٹ کے بٹن کھولتا ہوا گھونگھٹ سے چہرہ چھپاۓ اُس لڑکی کو دیکھنے لگا فل الحال وہ تھکا ہوا تھا اُسے حرم کا چہرہ دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ یونیفارم ہینگ کرکے ٹی شرٹ پہنتا ہوا وہ اپنا ٹراؤذر لیے واشروم چلاگیا
بہرام کے اتنے خشک رویہ پر حرم کے دل کو چوٹ پہنچی جو باتیں کمرے میں آنے سے پہلے وہ اپنی بہن سے کررہا تھا اس سے حرم کو اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ شادی اُس نے اپنی بہن کے کہنے پر کی تھی اور بہرام کی شوٹ کرنے والی بات پر وہی خوف سے سناٹے میں آگئی تھی وہ شخص دکھنے میں ہی مغرور نہیں حقیقتاً مغرور تھا اور سخت گیر کی قسم کا بھی مرد تھا اگر وہ اسجد کے بارے میں جان جاتا ہے یہ سوچ ہی حرم کو ٹینشن میں مبتلا کرنے کےلیے کافی تھی۔۔۔ سوچوں کا سلسلہ دروازہ بند ہونے کی آواز پر ٹوٹا۔۔۔ بہرام واشروم سے باہر آچکا تھا
حرم کو یوں گھونگھٹ نکال کر بیٹھنا فضول ہی لگا، اس سے پہلے کہ وہ اپنے چہرے سے گھونگھٹ سرکاتی ایک دم کوئی چیز بیڈ پر آکر گری۔۔۔ حرم نے غور سے دیکھا تو وہ ویلویٹ کا چھوٹا سا ڈبہ تھا
“یہ منہ دکھائی ہے تمہاری”
ساتھ ہی کمرے میں بھاری آواز گونجی اُس کا شوہر جس نے ابھی تک اُس کا چہرہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی مگر وہ فارمیلٹی نبھانے کی غرض سے اُس کا چہرہ دیکھے بغیر ہی اسے منہ دکھائی پھینک کر بھیگ دینے کے انداز دے چکا تھا یعنی کہ وہ اُس کا چہرہ دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا گویا ایک بار پھر اُس نے اپنے انداز سے یہ بات جتائی تھی۔۔۔ احساسِ توہین سے حرم کا دل چاہا کہ وہ اِس کمرے سے اٹھ کر چلی جائے
“کیا سوچ کر اب تک یوں بیٹھی ہو، تمہیں ایسا لگ رہا ہے میں تمہارے چہرے سے گھونگھٹ ہٹاکر تمہارے چہرے کا دیدار کروں گا۔۔۔ معصوم سوچ”
بہرام بول کر خود ہنسا پھر دوبارہ بولا
“جیاء نے مجھے بتایا تھا کہ تم بہت حسین اور بہت خوبصورت ہو لیکن میری ایک بات یاد رکھنا خوبصورتی میری کمزوری ہرگز نہیں ہے اگر تم یہ سوچ بیٹھی ہو کہ تم مجھے اپنے حسن کے جال میں پھنساکر اپنا غلام بناسکتی ہو تو یہ سوچ غلط ہے تمہاری۔۔۔ میں اُن مردوں کے جیسا ہرگز نہیں ہے جو بیوی کے آجانے کے بعد اُن کے تھلے لگ جاتے ہیں۔۔۔ شادی کا فیصلہ میرا نہیں میری بہن کا تھا لیکن اس بات کو لےکر تم اپنا دل ہرگز برا مت کرنا میں تمہیں تمہارے دوسرے حقوق کے ساتھ بیوی کا اصل حق بھی ضرور دوں گا۔۔۔ جب بھی تمہارا دل چاہے یا جب تمہارا موڈ ہو تم مجھے خود سے بھی بول سکتی ہو لیکن کبھی بھی اپنا دل بہلانے کے لیے کسی غیر مرد کے پاس مت جانا”
الفاظ تھے کہ تیزاب کے چھینے حرم کو اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہوا، تڑپ کر اُس نے اپنے چہرے سے گھونگھٹ ہٹایا
بہرام جو اُس کے دل کو ٹھیس پہنچانے کے بعد اب سونے کا ارادہ رکھتا تھا غیر ارادی طور پر گھونگھٹ ہٹانے پر اُس کی نظر حرم کے چہرے پر پڑی لمحہ بھر کے لئے وہ بری طرح سناٹے میں آگیا
“تم۔۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی دوبارہ میرے سامنے آنے کی”
شدید غصے کے عالم میں وہ چیختا ہوا حرم کی طرف بڑھا۔۔۔ حرم جو پہلے ہی اُس کی باتوں سے اپنے دل چھلنی کئے بیٹھی بہرام کو اتنے شدید غصّے کی کیفیت میں اپنے قریب آتا دیکھ کر وہ ڈر گئی اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی بہرام نے اُس کی گردن کو اپنے مضبوط ہاتھ کے شکنجے میں جکڑلیا
“اُس دن تم میری گولی سے بچ گئی تھی لیکن آج میں تمہاری سانس تم پر حرام کر دونگا مار ڈالوں گا تمہیں”
پوری طاقت سے وہ حرم کی گردن دباتا ہوا شدید غصّے میں وہ شاید پاگل ہونے کو تھا۔۔۔ اُس بےرحم کی گرفت سے میں اپنی گردن چھڑاتے ہوئے وہ بری طرح تڑپنے لگی
“بہرام یہ کیا کررہے ہو تم چھوڑو اِس کو”
جیاء کمرے کا دروازہ کھول کر اندر بھاگتی ہوئی آئی اور بہرام سے حرم کو چھڑوانے لگی
“ِاس لڑکی نے مجھے چیٹ کیا دھوکا دیا ہے غیر آدمی سے تعلقات رکھ کر۔۔۔ اِس نے مجھ پر گولی چلائی جیاء۔۔۔ آج میں اِسے جان سے مار ڈالوں گا”
وہ غصّے میں چلاتا ہوا جیاء کو پیچھے دھکیل کر ایک بار پھر خوف سے تھر تھر کانپتی حرم پر بری طرح جھپٹا مگر جیاء فوراً بہرام کے سامنے آکر اسے بازو سے پکڑتی ہوئی بولی
“تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو بہرام ہوش میں آؤ، یہ اینجل نہیں حرم ہے”
جیاء بھی بہرام کو غصے میں دیکھ کر اُسی کی طرح چیختی ہوئی بولی حرم مشکل سے بیڈ سے اٹھ کر خوف کے مارے بہرام کے ردعمل پر رونے لگی
“جھوٹ بولا ہے اِس نے تمہیں بھی، یہ حرم نہیں علینا ہے اِس کا اصلی نام۔۔۔ یہ حرم ہو ہی نہیں سکتی یہ اینجل ہے جیاء۔۔۔۔ میں پہلے ہی جان گیا تھا یہ عورت اتنی آسانی سے نہیں مر سکتی ہاسپیٹل سے ڈیڈ باڈی کا غائب ہوجانا مجھے پہلے ہی شک میں مبتلا کر گیا تھا کہ یہ لڑکی زندہ ہے۔۔۔ جسے تم میری دوسری بیوی بناکر لائی ہو، یہ لڑکی ایک ماہ پہلے سے میری بیوی بنکر میرے ساتھ رہ رہی تھی”
بہرام غصّے کی کیفیت میں تیز آواز میں بولتا ہوا جیاء کو اپنی بات کا یقین دلانے لگا۔۔ جیاء بہرام کی بات سن کر کنفیوز ہوکر بہرام کو دیکھنے کے بعد روتی ہوئی حرم کو دیکھنے لگی
“میں کسی علینا یا اینجل کو نہیں جانتی۔۔۔ میں حرم ہو مجھے نہیں معلوم یہ کیا بول رہے ہیں۔۔۔ مگر میں بالکل سچ بول رہی ہو آپ میرے چچا چچی سے پوچھ لیں، میں اِن کے ساتھ شادی سے پہلے کیسے رہ سکتی ہوں،،، میں تو آج اِن کو پہلی بار دیکھ رہی ہوں”
حرم روتی ہوئی بولی بہرام ایک بار پھر غصّے میں اُس کی طرف بڑھنے لگا تو جیاء نے بہرام کو ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا


ڈرائنگ روم میں گہرا سناٹا چھا چکا تھا وہ تینوں ہی اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھے تھے۔۔۔ بہرام نے آدھے گھنٹے کے اندر ہی حرم سے متعلق ساری انفارمیشن نکلوالی تھی جو اُس کے لئے مشکل کام ہرگز نہیں تھا۔۔۔ حرم نے اپنے متعلق جو کچھ بھی اُسے بتایا تھا بالکل ٹھیک بتایا تھا لیکن بہرام ابھی بھی شک وشبہات میں مبتلا تھا۔۔۔۔ بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا کہ یہ لڑکی اینجل کی شکل سے اتنی مماثلت رکھتی ہو۔۔۔ وہ عجیب سے شش و پنج میں مبتلا ابھی بھی حرم کو کسی مجرم کی طرح گھورے جارہا تھا اور حرم کا یہ حالت کہ وہ بہرام کے اِس طرح دیکھنے پر صوفے پر خوف زدہ سی ڈری سہمی بیٹھی تھی
“بس کردو بہرام اسے یوں دیکھنا۔۔۔ حرم کمرے میں جاکر ریسٹ کرلو تھوڑی دیر”
جیاء کافی دیر سے سر پکڑے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی حرم کی حالت پر ترس کھاتی ہوئی اس سے بولی، وہ بیچاری کل شام سے دلہن کے لباس میں موجود تھی اِس وقت صبح کے آٹھ بج چکے تھے جیا کی بات سن کر حرم کنفیوز ہوتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“کون سے کمرے میں جانا ہے”
سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا شخص اُسے جس طرح گھور رہا تھا حرم کا دل نہیں کیا کہ وہ اُس کے کمرے میں جائے
“بہرام کے کمرے میں بھئی اور کون سے کمرے میں جاؤ گی۔۔۔ کوئی بہرام کا یا تمہارا کمرہ الگ الگ تھوڑی ہے، جاؤ شاباش جاکر یہ جیولری اتارو کپڑے چینج کرو تھوڑی دیر ریسٹ کرو”
جیاء نے حرم کو بولتے ہوئے بہرام کو بھی جتایا جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا ہوا حرم کو مشکوک نظروں سے گھورے جارہا تھا جیاء کے بولنے پر حرم بہرام کی طرف دیکھے بغیر خاموشی سے اٹھ کر اسی کے بیڈروم میں چلی گئی
“اگر حرم کی شکل تمہاری پہلی بیوی سے ملتی ہے تو یہ بہت حیرت انگیز بات ہے میں خود اِس بات کو لےکر شاکڈ ہوچکی ہو۔۔۔ بہرام لیکن اس حقیقت کو بھی تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اینجل اور حرم بےشک شکل میں دونوں ایک جیسی ہوں مگر وہ الگ الگ لڑکیاں ہیں”
جیاء کی بات پر وہ خاموشی سے جیاء کا چہرہ دیکھنے لگا جیاء اٹھ کر بہرام کے برابر میں بیٹھی اور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتی ہوئی بولی
“آئی نو اِس وقت تم کیسا محسوس کررہے ہوگے لیکن بہرام پلیز حرم کا چہرہ اُس لڑکی سے ملتا ہے جس نے تمہیں دھوکا دیا تو اِس میں حرم کا کوئی قصور نہیں۔۔۔ اُس معصوم کو اِس بات کی سزا مت دینا پلیز شی از انوسینٹ”
جیاء نرمی سے بہرام کو سمجھانے لگی
“ریسٹ کرو تم بھی کافی تھک چکی ہوگی”
بہرام جیاء کا اپنے کندھے پر رکھا ہوا ہاتھ تھپتھپاتا ہوا خود بھی صوفے سے اٹھ کر اپنے بیڈروم کی طرف چل دیا


شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر وہ اپنا عکس شیشے میں دیکھ کر غائب دماغی سے جیولری اتار رہی تھی اُس کی شکل بہرام کی پہلی بیوی سے مماثلت رکھتی تھی۔۔۔ یہ اُس کے کس گناہ کی سزا تھی وہ اپنے سارے گناہ یاد کرنے لگی۔۔۔ یاد کرنے پر بھی اُسے کوئی اپنا اتنا بڑا گناہ یاد نہیں آیا جس کے لیے اُسے یہ سزا دی گئی تھی کہ وہ اپنے شوہر کی پہلی بیوی کی ہم شکل تھی وہ بیوی جس کی اس کا شوہر خود اپنے ہاتھوں سے جان لے چکا تھا۔۔۔۔ وہ ساری جیولری اتارتی ہوئی ایک ایک چیز ٹیبل پر رکھتی جارہی تھی جب دوبارہ بہرام ایک بار پھر دوبارہ اپنے کمرے میں آیا
اُس کو دروازہ لاک کرتا دیکھ کر حرم نے خوف کے مارے کانپنا شروع کردیا۔۔۔ وہ حرم کی حالت دیکھتا ہوا کارنر ٹیبل کے پاس آیا اور اس کی دراز میں سے کوئی چیز نکالنے لگا۔۔۔ حرم کو اُسے دیکھ کر ایک بار پھر خوف آنے لگا کیوکہ بہرام کے ہاتھ میں منی سائز کی چھوٹی سی پسٹل تھی جسے دیکھ کر حرم کی آنکھیں ایک بار پھر خوف پھیل گئی وہ خاموشی سے قدم بڑھاتا ہوا اُسی کی جانب آنے لگا
“میں بالکل سچ بول رہی ہوں میں حرم ہوں میں کسی اینجل کو نہیں جانتی آپ میرا یقین کریں پلیز”
حرم کسی معصوم بچے کی طرح اپنی آنکھوں سے نمی صاف کرتی ہوئی دوبارہ بہرام کو اپنا یقین دلانے لگی پستول کا رخ اُسی کی جانب تھا جسے دیکھ کر وہ پیچھے قدم اٹھاتی ہوئی دیوار سے چپک گئی بہرام اُس کے بےحد نزدیک آکر ٹھہر گیا اور حرم کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا۔۔۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا پسٹل حرم کی پیشانی پر رکھا تو حرم نے دوبارہ سے رونا شروع کردیا
“میں پولیس والا ہوں شک کرنا میری عادت ہے جلدی کسی بات پر بھی یقین نہیں کرسکتا نہ ہی کسی مجرم کا پیچھا اتنی آسانی سے چھوڑ سکتا ہوں”
بہرام بولتا ہوا اب پسٹل کی نال اُس کے چہرے پر پھیرتا ہوا توڑی تک لایا اور توڑی کے نیچے پستول کی نال رکھ کر اُس کا چہرہ اوپر کیا
“میں مجرم نہیں ہوں میں نے کوئی بھی جرم نہیں کیا”
حرم رونے کے درمیان مشکل سے بولی۔۔۔ بہرام کے ہاتھ میں موجود پسٹل اب اس کی گردن سے سرکتی ہوئی سینے پر آکر ٹھہر گئی تھی حرم کو لگا اب اُس کی سانسیں چند سیکنڈ کی مہمان تھی
“اِس کا فیصلہ تم نہیں میں کروں گا۔۔۔ ابھی معلوم ہوجائے گا کہ تم مجرم ہو یا نہیں چیک کرلینے میں کوئی حرج نہیں”
بہرام سنجیدگی سے بولا اُس کی نظریں حرم کے روتے ہوئے چہرے پر جمی ہوئی تھی جبکہ اُس کی پسٹل آہستہ سے سرکتی ہوئی حرم کے پیٹ پر آکر ٹھہر گئی
“پیچھے گھوم جاؤ”
بہرام کے بولنے پر وہ کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی نہ جانے وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا حرم روتی ہوئی بےبسی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی لیکن جب پسٹل کی نال اسے اپنے پیٹ کی اندر چھبتی ہوئی محسوس ہوئی تو حرم نے جلدی سے اُس کی بات مانتے ہوئے اپنا رخ دیوار کی جانب کرلیا۔۔۔ ساتھ ہی اُس کے رونے میں مزید شدت آ چکی تھی
“اے لڑکی رونا بند کرو اگر اب تمہارے رونے کی آواز منہ سے نکلی تو اس پستول سے گولی نکلے گی”
بہرام کی دی جانے والی دھمکی کو حرم نے اتنا سیریس لیا کہ وہ رونا ہی بھول گئی۔۔۔۔ بہرام حرم کا دوپٹہ اتار کر ایک طرف پھینکتا ہوا، اب اُس کے ہاتھ حرم کی شرٹ کی زپ کی طرف تھے جب اسے اپنی زپ کھلتی ہوئی محسوس ہوئی تو حرم کو سانس بھی اٹک اٹک کر آنے لگی
بہرام پسٹل کی نال سے اُس کی سفید عریاں کمر کو چھوتا ہوا ناجانے کیا کررہا۔۔۔ پسٹل کی نال جب حرم کی ریڑھ کی ہڈی پر چھبی تو حرم کے منہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی سسکی نکلی
“بالکل ایسے ہی کھڑی رہو مُڑنے کی کوشش مت کرنا”
اپنے بےحد قریب سے اُسے بہرام کی آواز سنائی دی ساتھ ہی وہ اُس کے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر جمع کر وہاں سے سائیڈ روم میں چلا گیا
جب وہ واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں اب پسٹل کی بجاۓ ایک بوتل اور کوٹن تھی۔۔۔
حرم نے ہلکی سی گردن موڑ کر دیکھا تو بہرام اُس کی پشت پر کھڑا بوتل میں موجود سلوش کاٹن میں بھر رہا تھا تھوڑی دیر بعد وہ سلوشن حرم کو اپنی ریڑھ کی ہڈی سے اوپر لگتا ہوا محسوس ہوا بہرام روئی کی مدد سے وہ سلوشن اس کی کمر پر مل رہا تھا حرم اپنی سانسیں روکے کھڑی تھی مگر تھوڑی دیر بعد حرم کو محسوس ہوا جیسے کمرے میں وہ تنہا کھڑی ہو اس نے مڑ کر دیکھا بالکل ایسا ہی تھا بہرام ناجانے کہاں جاچکا تھا حرم اپنی سانسیں بہال کرتی تھکے ہوۓ انداز میں بیڈ پر آکر بیٹھ گئی


مسلسل اپنے چہرے پر ٹکی نظروں کو محسوس کر کے جرم نے اپنی آنکھیں کھولیں تو بیڈ پر تھوڑے ہی فاصلے پر بہرام کو بیٹھے دیکھا جو ٹکٹکی باندھ کر اُسی کو دیکھ رہا تھا حرم کی جاگنے پر بھی اُس نے اپنا مشغلہ ترک نہیں کیا تو حرم اپنی نظریں جھکاتی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئی صبح وہ کافی گہری نیند سوئی تھی اُسے بالکل بھی خبر نہیں ہوئی تھی کہ بہرام اس کے برابر میں سویا تھا کہ نہیں۔۔۔ وہ چور نظروں سے دوبارہ بہرام کی جانب دیکھنے لگی تب اُس نے اپنا موبائل بہرام کے ہاتھ میں دیکھا جو اب اُس کے موبائل میں نہ جانے کیا چیک کررہا تھا۔۔۔ اچانک ہی حرم کے موبائل پر چچا کے گھر سے کال آنے لگی تو حرم بہرام کا چہرہ دیکھنے لگی ہے
“ایسے ہی اسپیکر آن کرکے بات کرو”
وہ حرم کا موبائل اپنی چوڑی سی ہتھیلی پر رکھکر اپنی ہتھیلی اُس کی طرف بڑھاتا ہوا حرم کو حکم دیتا بولا تو حرم نے اس کے ہاتھ سے اپنا موبائل اٹھانے کی بجائے کال ریسیو کی بہرام نے فوراً اسپیکر آن کردیا
“ہاں حرم میں بول رہی ہوں نزہت اور سناؤ بیٹا کیسی ہو”
موبائل سے نزہت چچی کی آواز نکل کر کمرے میں گونجی تو حرم بہرام کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اپنے موبائل کو دیکھتی ہوئی بولی
“میں ٹھیک ہوں چچی آپ بتائیں چچا اور آپ ٹھیک ہیں”
بولتے ہوۓ ناجانے کیوں اسے ڈھیر سارا رونا آگیا اُس نے گھنٹوں بعد کسی اپنے کی آواز سنی تھی شاید یہی وجہ تھی رونے کی
“ہیں بھلا رو کیو رہی ہو تم جلدی سے بتاؤ کیا ہوا ہے،، نہیں تو میں پہنچ رہی ہوں ابھی تمہارے چچا کے ساتھ ان دونوں بہن بھائیوں سے دو دو ہاتھ کرنے۔۔۔ ایک منٹ کل رات بہرام گھر پہنچا بھی تھا کہ نہیں۔۔۔ یا پھر اُس کی بہن نے طعنہ وانا دے دیا ہوگا جہیز کا تمہیں، جلدی سے بتاؤ مجھے حرم میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے۔۔۔ ارے نگی کہاں مرگئی میرا برقعہ لاکر دے اب اُس کی بہن کے سامنے جاکر بات کروں گی”
نزہت چچی کی بات سن کر حرم گھبرائی ہوئی نظروں سے بہرام کے بالکل سنجیدہ سپاٹ چہرے پر ڈالی پھر جلدی سے بولی
“ایسی بات نہیں ہے چچی جان یہاں سب بہت اچھے ہیں اور میں بھی بالکل ٹھیک ہوں آپ کی آواز سن کر امی کی یاد آگئی تھی اِس لئے رونا آگیا آپ بالکل پریشان نہیں ہوں”
حرم جلدی سے نزہت چچی کو تسلی دیتی ہوئی بولی کہیں نزہت چچی سچ میں چچا کو لےکر یہاں آکر جیاء سے لڑنے ہی لگ جاتیں
“ہائے میرے اللہ حرم تم نے تو سچ میں میری جان ہی نکال دی تھی میں تو تمہارے رونے سے ڈر گئی تھی۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ بہرام کیسا ہے؟؟ کب پہنچا وہ گھر اور تمہیں دیکھ کر خوش ہوا کہ نہیں”
نزہت چچی کے تجسس بھرے سوالات پر ایک بار پھر وہ اپنے قریب بیٹھے بہرام کا چہرہ دیکھنے لگی
“بہرام اچھے ہیں رات میں ہی ان کا گھر آنا ہوگیا تھا اور مجھے دیکھ کر وہ خوش بھی ہوئے”
حرم نزہت چچی کے ایک ایک سال کا جواب دیتی ہوئی چاہ کر بھی اپنے لہجے میں چھائی اداسی ختم نہیں کرسکی۔۔۔ وہ اُس کا چہرہ دیکھ کر کتنا خوش ہوا تھا یہ وہ چاہ کر بھی چچی کو تو کیا کسی کو نہیں بتاسکی
“بھئی تمہیں دیکھ کر خوش کیوں نہیں ہوتا، گوری چمڑی کسی مرد کو بری لگتی ہے خوبصورت بیوی دیکھ کر تو اُس کے بھاگ ہی جاگ گئے ہوگیں اور تم یہ بات اتنے مریل لہجے میں کیوں بتارہی ہو۔۔۔۔ اچھا اچھا اصل بات اب سمجھ میں آئی تم ٹھہری اسکول کی اُستانی علم و ادب سے واقفیت رکھنے والی آپ جناب کرنے والی۔۔۔۔ اور شوہر مل گیا پولیس والا، اب اُس کا عہدہ کتنا ہی اچھا ہو پالا تو اُس کا مجرموں کے ساتھ ہی پڑتا ہوگا ناں۔۔۔ عادت ہوگی اُسے پان چبانے کی یا پھر توُ تڑا کر کے مخاطب کردیا ہوگا تمہیں۔۔۔ بھئی یہ جو پولیس والے ہوتے ہیں ناں اسی طرح کی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں گالم گلوچ کرنے سے تو اِن کی بات کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔ اب اِن باتوں پر اپنا دل چھوٹا مت کرو بیٹا اِن سب باتوں کی تو عادت ڈال لو”
نزہت چچی کی اسپیکر سے باہر آواز پر حرم نے گھبرا کے بہرام کو دیکھا جو اس کو دیکھنے کی بجاۓ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے موبائل کو ماتھے پر بل یے گھور رہا تھا۔۔۔ بہرام کو غُصے میں دیکھ کر حرم جلدی سے بولی
“نہیں نہیں چچی ایسی کوئی کوئی بات نہیں آپ بالکل غلط سمجھ رہی ہیں وہ ایسے بالکل بھی نہیں ہے وہ تو پڑھے لکھے ہیں ان کا طور طریقہ اور انداز بتارہا تھا وہ کافی مہذب انسان ہیں”
گھبراہٹ میں وہ نہ جانے کیا بولتی مگر جو بھی بولا اب بہرام اُس کو گھورنے لگا وہ بلاوجہ ہی شرمندہ ہونے لگی
“چلو پھر تو یہ اچھی بات ہے یہ بتاؤ منہ دکھائی میں تمہارے میاں نے ڈائمنڈ کی انگوٹھی ہی دی تھی ناں تمہیں۔۔۔ بھئی ہم نے تو نہ ہی کچھ پوچھا نہ ہی کچھ بولا۔۔۔ بہرام کی بہن نے کل خود ہی بتارہی تھی کہ بہرام نے حرم کے لئے بہت خوبصورت سی ڈائمنڈ رنگ خریدی ہے ذرا مجھے چیک تو کروانا انگوٹھی میں لگا ہوا ہیرا اصلی ہے یا نہیں میں خود سنہار کے پاس لے جا کے چیک کرلو گی”
نزہت چچی کی بات سن کر حرم اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی تھی اس نے نظر اٹھا کر بہرام کو نہیں دیکھا
“اچھی نزہت چچی ابھی فون رکھتی ہوں ہم بعد میں بات کریں گے”
حرم نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لئے جو مناسب سمجھا وہی بولا
“ارے رکو تو سہی جس ضروری بات کے لیے فون کیا تھا وہ تو میں بھول ہی گیا یہ بتاؤ کوئی آس پاس موجود تو نہیں ہے اگر موجود ہے تو ذرا کھانس دو پھر میں فون رکھ ہی دیتی ہوں بعد میں بات بتاؤں گی”
نزہت چچی کی بات سن کر حرم کی سانسیں اٹک گئں کہیں وہ اسجد سے اس کی منگنی کے متعلق کچھ نہ کہہ دیں، چاہ کر بھی وہ کھانس نہیں سکتی تھی۔۔۔ نزہت چچی کی بات پر بہرام کے کان مزید کھڑے ہوئے وہ گھور کر حرم کو دیکھنے لگا تو حرم مری مری آواز میں بولی
“نہیں کوئی بھی موجود نہیں ہے آس پاس آپ بولیں کیا کہنا چاہ رہی ہیں”
حرم گھٹی گھٹی آواز میں بولی اُس کی جان سولی پہ لٹک چکی تھی نہ جانے اب نزہت چچی اُس سے کیا بات کرنے والی تھی
“ہماری دو گلیاں چھوڑ کر جو سلطانہ کی امی ہے ناں، ان کو دو پرفیوم شیشیاں پڑنے کو دی تھی میں نے۔۔۔۔ ایک تمہارے لئے اور ایک نگی کے لئے بس وہی پرفیوم کی خوشبو کپڑوں میں لگاکر اپنے میاں کے آس پاس رہنا۔۔۔ 90 فیصد امکان ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کا دیوانہ بن جاۓ،، اور اُلّو کی طرح اس کے آگے پیچھے گھومے۔۔۔ میں آج ہی تمہیں وہ پرفیوم کی بوتل بالکل چیکے سے دے دوں گی بس اب تمہیں وہی خوشبو لگانی ہے۔۔۔۔ اچھا بھئی اب میں فون رکھتی ہوں عصر کی اذان ہونے والی ہے نماز بھی پڑھنی ہے اور شکرانے کے نفل ادا کرنے ہے کہ تم خیریت سے اپنے گھر کی ہوگئی”
نزہت چچی اپنی بات کہہ کر کال کاٹ چکی تھی ان کی بات سن کر حرم بہرام کے سامنے منو مٹی میں دھنس گئی۔۔۔ ناجانے اس کا شوہر اس کی چچی کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا حرم سے نظر اٹھاکر بہرام کی طرف نہیں دیکھا گیا
“انہی خوشبوؤں کے استعمال سے کہیں تمہاری چچی نے تمہارے چچا کو تو اُلّو نہیں بنایا میری بہن بتارہی تھی کافی آگے پیچھے گھومتے ہیں تمہارے چچا جان
تمہاری چچی کے”
بہرام حرم کا موبائل اُس کو پکڑا ہوا اس کی چچی کے بارے میں گل فشانی کرتا ہوا ایک نظر حرم کے شرمندہ سے چہرہ پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا


“کہاں ہو تم”
بہرام ہوٹل پہنچ چکا تھا مگر جیاء حرم کو لےکر ابھی تک بیوٹی پارلر سے ہوٹل نہیں آئی تھی اس لیے بہرام جیا کو موبائل پر کال کرتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا
“سمجھو پہنچ چکے ہیں بس”
جیاء نے مصروف سے انداز میں بولتے ہوئے کال کاٹ دی
بہرام اینٹرنس پر ہی اُس کا ویٹ کرنے لگا آج اس نے ولیمے کی چھوٹی سی تقریب کے لئے ہوٹل کا پورشن بُک کروایا تھا اِس تقریب میں زیادہ لوگ نہیں تھے بہرام کے تین چار دوستوں کی فیملی اور حرم کے چچا چچی اور خالہ کی فیملی شامل تھی۔۔۔ بہرام کی نظریں سامنے دروازے پر اٹھی تو وہی کی وہی ٹھہر گئی بلیک کی پاؤں تک آتی میکسی میں وہ آئستہ آئستہ قدم اٹھاتی جیاء کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آرہی تھی بہرام پوری توجہ سے اس کو دیکھنے لگا جو آج کے دن کل سے بھی زہادہ دلکش دکھائی دے رہی تھی
“حرم”
اس کی کوئی کزن اُس کو پکارتی ہوئی بہرام کے پاس سے گزر کر جیاء اور حرم کے پاس پہنچی تو بہرام نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر جیاء کی طرف دیکھا جو اُسی کی دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔ حرم کی کزن حرم کو اپنے ساتھ ہوٹل کی اندر لےجا چکی تھی جبکہ جیاء بہرام کے پاس آکر ٹہر گئی
“کیسی لگ رہی تھی”
بلیک ڈنر سوٹ میں وہ اپنے بھائی کی شاندار سی پرسنلٹی کو دل ہی دل میں سرہاتی ہوئی اُس سے حرم کے متعلق پوچھنے لگی کیوکہ جیاء بہرام کا حرم کی طرف متوجہ ہونا اور اُس کو دیکھے جانا نوٹ کرچکی تھی
“کون”
بہرام انجان بنا ہوا جیاء سے پوچھنے لگا تو جیاء نے بہرام کو گھور کر دیکھا
“وہی جس کا چند سیکنڈ پہلے دور سے ہی بڑے غور سے تفصیلی جائزہ لے رہے تھے”
جیاء تپ کر بولی تو بہرام مسکرادیا
“آج کے دن کے لحاظ سے اُس کا ڈریس اچھا سلیکٹ کیا تم نے”
بہرام سنجیدگی جیاء کو بولتا ہوا حرم کے ڈریس پر تبصرہ کرنے لگا
“جو اُس ڈریس میں موجود ہے اُسے بھی میں نے ہی سلیکٹ کیا ہے تمہارے لیے بتاؤ وہ پسند آئی یا نہیں”
جیاء کے پوچھنے پر بہرام خاموش نظروں سے جیاء کو دیکھنے لگا جیاء دوبارہ بولی
“حرم ایک سمپل سی اور بہت پیاری لڑکی ہے بہرام وہ آگے جاکر تمہارے لیے اچھی بیوی ثابت ہوگی۔۔۔ میں تمہیں تمہاری میرڈ لائف میں خوش دیکھنا چاہتی ہوں”
جیاء فکرمند سی ہوکر بہرام سے بولی
“میں خوش ہوں جیاء آؤ اندر چلیں”
بہرام اُس کا احساس کرتا ہوا بولا اور اسے اپنے ساتھ ہوٹل کے اندر لےگیا