No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
عام دنوں کی بانسبت آج اسپتال کے گیٹ پر کافی رش اور گہما گہمی نظر آرہی تھی۔۔۔۔ چار سال اسپتال کی سروس میں آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اُسے اسپتال کے گیٹ پر روک کر اس سے سوالات کیے گئے تھے اور آئی ڈی کارڈ چیک کرنے کے بعد اُس کو گیٹ سے اندر اسپتال میں جانے دیا گیا تھا۔۔۔ ایمرجنسی وارڈ میں سخت سیکیورٹی اور جگہ جگہ پولیس کو دیکھ کر وہ ظہور کے آنے کا انتظار کرنے لگی جس کی ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ میں لگائی گئی تھی
“کیا کسی خاص شخصیت کو آج یہاں پر لایا گیا ہے؟؟”
اتنی سیکیورٹی دیکھ کر وہ سامنے سے آتی نرس سے پوچھنے لگی
“تھوڑی دیر پہلے ہی ایمبولنس میں دو زخمی باڈیز کو اسٹریچر پر ڈال کر لایا گیا ہے ایک مرد اور دوسری عورت۔۔۔ دونوں ہی خون میں لت پت بری طرح زخمی تھے،،
انہی کی وجہ سے یہ ساری سکیورٹی یہاں موجود ہے”
نرس جلدی میں لگ رہی تھی اس لیے بولتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔ تو اُسے سامنے سے ظہور آتا دکھائی دیا یہی سوال اُس نے ظہور سے بھی کیا
“تمہیں خبر نہیں ہوئی،، ارے اے سی پی بہرام عباسی اور اُس کی بیوی پر قاتلانہ حملہ کرکے ان دونوں میاں بیوی کی جان لینے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔ اے سی پی بہرام کو تو بچالیا گیا ہے مگر اُس کی بیوی تھوڑی دیر پہلے ہی دم توڑ گئی”
ظہور افسوس بھرے لہجے میں اُس کو بتانے لگا۔۔۔
بہرام کے دل کے تھوڑے قریب گولی لگی تھی جس کو نکال کر معجزاتی طور پر اُس کو تو بچالیا گیا تھا اُس کی حالت ابھی بھی سیریس تھی اِس لیے اُسے آئی سی یو میں شفٹ کردیا گیا تھا جبکہ اُس کی بیوی اینجل کو ایک گولی بازو میں اور دوسری سینے میں ماری گئی تھی، چند سیکنڈ پہلے ہی اُس کی ڈیڈ باڈی کو سرد خانے میں شفٹ کردیا گیا تھا۔۔۔۔ اے سی پی بہرام کے فلیٹ پر اِس وقت پولیس موجود تھی جو اس سارے واقعہ کی تفتیش کررہی تھی
“یہ وہی اے سی پی بہرام عباسی تو نہیں، جس نے چند ماہ پہلے ڈرگ مافیا گینگ کو گرفتار کیا تھا اور اِس کا انٹرویو بھی آیا تھا”
ظہور کی دی جانے والی خبر پر اُس نے حیرت زدہ ہوکر تصدیق کرنی چاہیے
“صحیح پہچانا وہی اے سی پی بہرام عباسی۔۔۔ یہ صلہ ملا ہے اُس بےچارے کو اُس کی ایمانداری اور بہادری کا۔۔۔ خود موت کے بستر پر موجود ہے اور گھر والی دنیا سے چل بسی جس کی اُس بےچارے کو خبر تک نہیں ہے”
ظہور ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا بولا تبھی اچانک ایمرجنسی الارم تیز آواز میں بجنے لگے جس کی وجہ سے اچانک ہی پورے اسپتال میں بھک ڈر مچ گئی
“اسپتال میں بم ہے جلدی اسپتال خالی کرو”
شور و غل کی آواز کے بیچ یہ خبر سن کر لوگوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اسپتال کے دروازے سے باہر نکلنا شروع کردیا۔۔۔ پورے اسپتال میں عجیب افرا تفریح کا عالم مچ گیا۔۔۔ تب انسپکٹر مہران صدیقی نے ڈپٹی کمشنر کو کال ملا کر ساری صورتالحال سے آگاہ کیا
“کسی گدھے نے گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی افواہ پھیلائی ہوگی،، بہرام کے کمرے کی سیکیورٹی مزید سخت کردو۔۔۔ ڈاکٹرز کے علاوہ کوئی دوسرا شخص آئی سی یو وارڈ کی طرف نہ جاۓ از ڈیٹ آرڈر”
ڈپٹی کمشنر نے سخت لہجے میں انسپکٹر کو آرڈر دیا جو فوری طور پر الرٹ ہوگیا اور بہرام کے کمرے کی سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔۔۔۔ گھنٹہ بھر گزرنے کے بعد انسپیکٹر مہران صدیقی نے دوبارہ ڈپٹی کمشنر کو اپ ڈیٹ سے آگاہ کرنے کے لیے کال کی
“آپ کا کہنا بالکل ٹھیک تھا سر بم کی جھوٹی اطلاع جان بوجھ کر اسپتال میں پھیلائی گئی تاکہ ان لوگوں کا پلان کامیاب ہوسکے”
مہران صدیقی ڈپٹی کمشنر سے بولا
“تو یعنی میرا شک صحیح نکلا، ان لوگوں نے دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کی ہے بہرام پر، اب یہ نہ کہنا کہ تم لوگ اسے بچانے میں ناکام ہوگئے”
ڈپٹی کمشنر نے ڈپٹتے ہوئے مہران کو بولا
“سر اُن لوگوں کا ٹارگٹ اے سی پی بہرام صدیقی نہیں تھے وہ باحفاظت آئی سی یو میں موجود ہیں مگر اسپتال کے سرد خانے سے اے سی پی صاحب کی وائف کی ڈیڈ باڈی غائب ہوچکی ہے”
مہران نے جو اطلاع دی اسے سن کر ڈپٹی کمشنر کو شاک لگا ان لوگوں کا بھلا ایک پولیس آفیسر کی وائف کی ڈیڈ باڈی سے کیا لینا دینا تھا
“آگئی اسکول سے بنو”
وہ تھوڑی دیر پہلے ہی اسکول سے گھر آئی تھی تب نزہت چچی لہجے میں مٹھاس پیدا کرتی ہوئی حرم سے پوچھنے لگی مہینے کی پہلی تاریخ کو نزہت چچی کی زبان اِسی طرح میٹھی ہوجاتی
“آپ سو رہی تھی اس لیے جگایا نہیں آپ کو، میں نے سوچا پہلے کھانا کھالو پھر گھر کی صفائی کرلوں گی”
حرم کچن میں موجود چپاتیاں ڈالتی ہوئی آہستہ آواز میں نزہت کو بتانے لگی۔۔ گندا گھر اور صبح کے کھانے کے جھوٹے برتن دیکھ کر اُس نے اندازہ لگالیا کہ کام والی نے آج پھر چھٹی کرلی تھی۔۔۔۔ اسکول میں چھوٹے بچوں کے ساتھ سر کھپانے کے بعد وہ گھر آئی تھی، گندا گھر دیکھ کر اب اُسے پورے گھر کی صفائی کرنا تھی جس کے بعد اُسے دوبارہ اپنی جوتیاں گِھساتے ہوئے شام میں ٹیوشن پڑھانے جانا تھا اُس کے بعد کہیں جاکر اسے آرام نصیب ہوتا
“بڑی ہی کام چور اور ہٹ حرام ہے یہ کام والی تو، ہر دوسرے دن اُس کے پیٹ میں مروڑ اُٹھتا ہے اور یہ کام سے چھٹی کرلیتی ہے اِس بار اُس کی تنخواہ سے ضرور پیسے کاٹوں گی۔۔۔ ارے ہاں تنخواہ سے یاد آیا آج تمہیں بھی تو تنخواہ مل گئی ہوگی اسکول سے”
نزہت چچی کام والی کو کوسنے کے ساتھ حرم سے تنخواہ کا پوچھنے لگیں
“تنخواہ مل گئی تھی روٹی ڈال کر پھر دیتی ہوں آپ کو”
اپنے ساتھ ہی وہ نزہت اور نگی کی روٹی بھی ڈالنے لگی کیونکہ خالی چنگیر صاف بتارہا تھا کہ اُن دونوں نے بھی ابھی تک دوپہر کا کھانا نہیں کھایا تھا
“دو دو کام بھلا کیسے کروں گی آرام سے روٹیاں ڈالو تمہارے بیگ سے تنخواہ میں خود نکال لیتی ہوں کون سا تنخواہ نکالنے کے لئے مجھے بینگ جانا پڑے گا”
نزہت اپنی بات پر خود ہی ہنستی ہوئی بولی اور کچن سے باہر جانے لگی تو روٹی بیلتے حرم کے ہاتھ وہی رک گئے
“چچی میں سوچ رہی تھی اِس بار سردیوں کے اگر دو گرم جوڑے بنالوں”
اپنی محنت کی کمائی ہوئی تنخواہ سے بھی وہ جھجھک کر ایسے پیسے مانگ رہی تھی جیسے بھیگ مانگ رہی ہوں اور حرم کی بات سن کر تو جیسے نزہت پر بجلی آگری وہ ہولتی ہوئی سینے پر ہاتھ رکھ کر بولی
“ہائے میرے اللہ دو جوڑے۔۔۔ ارے کچھ زیادہ ہی ہوا نہیں لگ رہی تمہیں یا پھر تمہارے لیے سردیاں کچھ انوکھی آرہی ہیں۔۔۔۔ ابھی پچھلے سال ہی تو گرم جوڑا بنوا کردیا تھا تمہیں اور جو نگی نے تمہیں اپنے دو جوڑے دئیے تھے وہ کوئی میری نگی نے استعمال تھوڑی کیے تھے ایک دو بار کے پہنے ہوۓ جوڑے تھے دیکھو حرم تمہیں تو گھر کے حالات معلوم ہیں تمہارے چچا جان کی پینشن اور تمہاری کمائی سے ہی میں یہ گھر چلاتی ہوں۔۔۔ مجھے خود اچھا نہیں لگتا ہے یوں خوبصورت کنواری لڑکی کو ملازمت کے لیے بھیجتے ہوۓ مگر اس بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تو کمر ہی توڑ ڈالی کیا کرو میں”
نزہت چچی آبیدہ ہوتی ہوئی بولی اور اپنے دوپٹے کے پلو سے آنکھوں میں نہ نظر آنے والی نمی صاف کرنے لگیں تو حرم شرمندہ سی ہوگئی
“اچھا آپ پریشان نہیں ہوں میں نے تو ویسے ہی کہ دیا تھا گرم کپڑوں کا، پہلے ہی میرے پاس بہت سارے کپڑے موجود ہیں۔۔۔ آپ کو معلوم ہے شفی کی امی نے ایک اور ٹیوشن کا بتایا ہے مجھے،، چار ہزار کی ٹیوشن ہے بچے کو گھر جاکر پڑھانا ہوگا”
حرم اپنی شرمندگی دور کرتی ہوئی نزہت کو خوشخبری سنانے لگی شاید اضافی 4000 ملنے سے اُس کی چچی خوش ہوجاتی اور پھر ایسا ہی ہوا چچی خوش ہوگیں
“اللہ بھلا کرے شفی کی امی کا بہت اچھی خاتون ہے نرم دل سی۔۔۔۔ چلو تم ایسا کرو اِس مہینے بجلی کا بل بھروا دو اگلے ماہ تم اپنے لئے ایک جوڑا بنالینا اب بچیوں کی چھوٹی چھوئی خواہشات کو مارتے ہوئے بھی تو اچھا نہیں لگتا”
نزہت بولتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی جبکہ حرم پلیٹوں میں رات کا سالن نکال کر ٹرے میں روٹیاں رکھتے ہوئے کمرے میں جانے لگی جہاں نگی اور نزہت دونوں ہی موجود تھی
رات کے پہر وہ اپنے بیڈ روم میں بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے، لیپ ٹاپ کو گود میں رکھے بڑے مصروف انداز میں ڈاکومنٹس کا فولڈر کھولے ضروری فائل تلاش کررہا تھا تب اُس کی نظر اپنی بیوی پر پڑی جو اِس وقت بلیک کلر کی نیٹ کی نائٹی میں موجود ابھی ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تھی۔۔۔ بہرام کی توجہ خود پر دیکھ کر وہ مسکراتی ہوئی بہرام کے پاس آنے لگی۔۔۔
کاندھے پر باریک سے اسٹیپ جس میں سے اُس کے عریاں اور دودھیا بازو چھلک رہے تھے، ساتھ ہی اُس کے خوبصورت خدوخال گہرے گلے سے پوری طرح نمایاں ہوتے نظر آرہے تھے۔۔۔ سڈول سی تھائیز، جو چلتے ہوۓ نائٹی سے چھلک رہی تھی وہ بہرام کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔۔۔ تبھی بہرام کی گود میں رکھا ہوا لیپ ٹاپ ہٹاکر بند کرتی ہوئی وہ خود بےتکلفی سے بہرام کی گود میں بیٹھ گئی
“تو اِس سے اندازا ہوا کل رات کی طرح آج رات بھی تم مجھے کوئی دوسرا کام نہیں کرنے دوگی”
بہرام اُس کی دونوں تھائیز پکڑ کر اُسے مزید اپنے جانب کھنچتا ہوا اینجل سے پوچھنے لگا
“رات یہ فضول کاموں کے لیے نہیں ہوتی اے سی پی بہرام عباسی۔۔۔ بلکہ رات میں انسان دن بھر کی تھکن اتار کر خود کو ریلیکس کرتا ہے”
وہ مزے سے بولتی ہوئی بہرام کے گلے میں اپنے دونوں بازو ڈال چکی تھی
“اور خود کو ریلکس کرنے کا یہ طریقہ اچھا ہے کہ آدمی اور کسی دوسرے کام کے قابل ہی نہیں رہے”
بہرام اپنی تھائیز پر بیٹھی ہوئی اپنی بیوی پر طنز کرتا ہوا بولا۔۔۔ جو شکل میں بےحد خوبصورت اور معصوم تھی مگر اس کا انداز کافی بولڈ تھا جس کا اندازہ اُسے شادی کے دوسرے دن ہی ہوچکا تھا
“تمہیں اچھا نہیں لگ رہا تو میں چلی جاتی ہو دوسرے روم میں، تم یہی اپنا بورینگ سا کام کرو”
بہرام کے طنز کرنے پر اینجل منہ بناکر بہرام کی گود سے اٹھنے لگی تبھی بہرام نے اپنی تھائیز پر رکھی اینجل کی تھائیز کو پکڑا
“یہ اے سی پی اتنا بھی بدذوق بندہ نہیں ہے جو خوبصورت بیوی کے اتنے قریب آنے پر اُسے نظر انداز کردے”
بہرام کی نگاہیں اُس کے چہرے سے ہوتی اُس کے خوبصورت ابھار پر ٹہر گئی۔۔۔
وہ اینجل کے کندھوں سے دونوں اسٹیپ گرا کر اُس کی گردن پر دیوانہ وار پیار کرنے لگا۔۔۔ ہر خوبصورت اور کشش رکھنے والی چیز پر مر مٹنا اُس کی عادت نہیں تھی مگر اینجل کو دیکھ کر وہ پہلی نظر میں ہی اُسے اپنا بنانے کا فیصلہ کرچکا تھا
“بہرام”
بےقرار سی تڑپتی ہوئی اینجل کی آواز پر بہرام نے سر اٹھاکر اُسے دیکھا جو اُس کی شدتوں کی تاب نہ لاتی ہوئی اپنے ہوش کھو دینے کو تھی
“مجھ سے محبت کرنے کا دعوا اور پھر شادی کرنے کا فیصلہ تمہارا تھا تو میری شدتوں کو برداشت کرنے کی عادت بھی ڈال لو”
بہرام نے بولتے ہوئے اینجل کو بیڈ پر لٹا دیا اِس سے پہلے وہ اینجل کے اوپر جھکتا،، اینجل نے شرارت سے اپنے دونوں پاؤں بہرام کے سینے پر رکھ دئیے تاکہ وہ بہرام کی کوشش ناکام بناسکے۔۔۔ اینجل کی شرارت کو سمجھتا ہوا بہرام اُس کی دونوں ٹانگوں کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچتا ہوا اینجل کے اوپر جھک گیا
“بہرام کبھی کبھار تمہاری محبت بڑھ کر شدت اختیار کرلیتی ہے اور میں اِس سے گھبرا جاتی ہوں”
وہ اینجل پر اپنی محبت کی شدت بھرپور طریقے سے نچھاور کیے دے رہا تھا تب اینجل اس کے ہاتھوں کو اپنے سینے سے ہٹاتی ہوئی مدہوش بھرے لہجے میں بہرام سے بولی
“تو پھر کیوں مجھے ڈمس کالز پر تنگ کیا کرتی تھی، محبت بھرے کارڈز، گفٹ تم نے مجھے بھیجے۔۔۔ اپنے پیچھے مجھے تم نے خود آنے پر مجبور کیا۔۔۔ اور اب تم سے یہ شدتیں برداشت نہیں ہورہی، ایک اچھے خاصے قابل اور شریف آفیسر کو تم نے اپنے پیچھے بری طرح خوار کیا ہے ڈارلنگ، اِس خمیازہ تو تمہیں بھگدنا ہی پڑے گا”
بہرام اینجل کو پرانی ساری باتیں یاد دلاتا ہوا بولا اور اس کے گلابی ہونٹوں پر جھگا
اپنی محبت کی شدت اس پر نچھاور کرتا ہوا وہ دور ہوا، بیڈ پر لیٹی ہوئی اینجل گہرے سانس لیتی مدہوش نگاہوں سے بہرام کو دیکھنے لگی
“محبت ہو یا نفرت کوئی بھی دوسرا جذبہ، بہرام ڈوب کر کرنے کا عادی ہے اور ٹوٹ کر کرنے کا عادی ہے یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا”
بہرام کی بات پر صرف ایک لمحے کے لیے اینجل کے چہرہ کا رنگ بدلا جسے وہ مسکراہٹ میں چھپا گئی۔۔ اور اس نے اپنی جانب دوبارہ بہرام کو کھینچ لیا
دو ماہ پہلے اتفاقیہ طور پر اُس نے ایک کونسرٹ میں بہرام کو دیکھا تھا کہ وہ اُس وقت یونیفارم میں موجود تھا تبھی اینجل اس کے نام اور عہدے سے واقف ہوچکی تھی باقی معلومات بہرام کے بارے میں معلوم کروانا اُس کے لئے مشکل نہیں تھا۔۔۔ جیسے ہی اینجل کو ساری معلومات فراہم ہوئی۔۔۔ اس نے بہرام کو کالز کرنا شروع کردیں،،
شروع میں تو بہرام نے اس کی فون کالز کو بالکل سیریس نہیں لیا اکثر وہ اُس کو جھڑک دیتا ڈرانے کے لیے دھمکی بھی دی جس کا اینجل پر خاص اثر نہیں ہوا الٹا اینجل نے بہرام کو کارڈز اور گفٹ بھیجنا شروع کردئیے
تب بہرام نے اُس سے ملنے کا ارادہ کیا اور اینجل کو اپنے سامنے آنے کو کہا،، جو لڑکی اُسے مہینے بھر سے کالز پر تنگ کررہی تھی بہرام اُس کو روبرو دیکھنا چاہتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ بہرام نے اُس کے بارے میں معلوم نہیں کروایا تھا
علینا عرف اینجل جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی، ماں باپ کی دنیا سے چلے جانے کے بعد انکل کی کسٹڈی میں پلی بڑھی۔۔۔ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے وہ گرلز ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی پہلی ملاقات میں ہی اس نے بہرام سے محبت کا اظہار کیا اور شادی کی خواہش بھی ظاہر کی، جس پر بہرام نے حیران ہونے کی بجائے اینجل کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔۔
پہلی ملاقات کے دو ہفتے بعد ہی شادی،، اپنے فیصلے پر وہ خود بھی حیران تھا مگر مطمئن بھی۔۔۔ اسے اور اینجل کی شادی کو بیس دن گزر چکے تھے مگر بہرام نے اندازہ لگایا اُس کی بیوی کافی حد تک موڈی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہوجانے والی یا برا ماننے والی لڑکی تھی لیکن اُس کے لیے حد سے زیادہ حساس طبعیت رکھتی تھی اس لیے وہ بہرام کے دل میں بہت جلد اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوچکی تھی
“اینجل”
چاہنے کے باوجود ہو اپنی آنکھیں کھول نہیں پا رہا تھا حواسوں نے ساتھ دینا شروع کیا تو یہی نام بہرام کے ہونٹوں سے ادا ہوا
“اے سی پی صاحب کو ہوش آگیا ہے۔۔۔ جاؤ جلدی سے ڈاکٹر کو بلاکر لاؤ”
بہرام کے اسسٹنٹ مہران صدیقی نے سب انسپکٹر کو بولا تو وہ تیزی سے ڈاکٹر کو بلانے چلا گیا۔۔۔
ٹیوشن دینے کے بعد جب وہ گھر لوٹی تب اسے اسجد کی آمد معلوم ہوا۔۔۔ بیگ میں رکھا موبائل نکالا تب اسے پتہ چلا اس کے موبائل کی اسکریں پر بارہ سے چودہ مس کالز موجود تھی۔۔۔ وہ ایک نظر نگی کو اسجد کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ کر دوسرے کمرے میں آگئی
اسجد اس کا خالہ ذات ہونے کے ساتھ ساتھ منگیتر بھی تھا یہ رشتہ اس کے ماں باپ نے تب طے کیا تھا جب وہ دونوں حیات تھے، حرم کو وہ دن یاد آنے لگے جب وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی ان کا گھرانا زیادہ کھاتا پیتا نہیں تھا چھوٹی مگر خوشحال فیملی تھی۔۔۔ کوئی بھی بہن بھائی نہ ہونے کی وجہ سے ماں باپ کا سارا پیار اُس نے خود ہی سمیٹا تھا اور پھر جیسے ہی اُس نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا تو صبیحہ یعنی اُس کی خالا نے اسے اپنی بہو بنانے کا ارادہ اُس کے والدین کے سامنے ظاہر کیا۔۔۔
صبیحہ کے مطابق اِس رشتے میں اسجد کی پسندیدگی شامل تھی یہی وجہ رہی تھی کہ اپنے جیسے متوسط لوگوں میں اس کے ماں باپ نے اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے حامی بھر لی۔۔۔ کیوکہ اسجد ان کے سامنے ہی پالا پڑا تھا نیک فرمانبردار لڑکا تھا جس کے پاس اچھی ڈگری بھی موجود تھی مگر وہ بے روزگار تھا وہ لوگ تب تک اسجد اور حرم کی شادی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے جب تک اسجد کی کوئی مناسب نوکری نہیں لگ جاتی لیکن آنے والی زندگی کا کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا
ایسے ہی اس کے ساتھ بھی ہوا دو سال پہلے جب حرم انٹر کے پیپر دے کر گھر لوٹی تو اسے معلوم ہوا کہ کار ایکسیڈنٹ میں اس کا باپ چل بسا اور ٹھیک دو ماہ بعد عدت میں ہی اک معمولی بخار کی وجہ سے اس کی ماں بھی اپنی شوہر کی جدائی کا غم لیے اُس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔
باپ کے بعد ماں دونوں کے گزر جانے کے بعد اصل مسئلہ اس کی رہائش کا ہوا۔۔۔ نکاح سے پہلے وہ خالہ کے گھر پر نہیں رہ سکتی تھی اور صبیحہ خالہ اتنی جلدی اسے بہو بناکر اپنے گھر میں لانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی کیونکہ ان کو ابھی اپنی دونوں بیٹیوں کو بیاہنا تھا۔۔۔ بڑوں کے فیصلے سے یہی طے پایا گیا کہ وہ اپنے چچا کے گھر تب تک رہے گی جب تک اسجد اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوجاتا اور اُس کی دونوں بہنوں کی شادی نہیں ہو جاتی۔۔۔ پچھلے دو سالوں سے وہ چچی کے ساتھ رہ رہی تھی اُس کے چچا جان گورنمنٹ کی ملازمت کرتے جو اب ریٹائرمنٹ لے چکے تھے اور کافی زیادہ بیمار رہنے لگے تھے۔۔۔ ان کی پینشن میں گھر چلانا مشکل تھا اس لیے نزہت چچی کے کہنے پر حرم نے قریبی اسکول میں ملازمت شروع کردی تھی نگی اُسی کی ہم عمر تھی لیکن میٹرک کے بعد اُس نے پڑھائی کو خیرباد کہہ دیا تھا بچپن سے نگی اور اس کی اچھی دوستی تھی جو چیز نگی کو پسند آتی وہ فوراً حرم سے مانگ لیتی
کمرے میں آکر وہ بیگ رکھتی ہوئی چادر تہہ کرنے لگی تبھی اسجد نے اپنا گلا کھنگارا تو حرم جلدی سے بیڈ پڑا ہوا دوپٹہ اٹھاکر اوڑھنے لگی
“کیسی ہو،، اتنی دیر لگا دی واپس گھر آنے میں”
حرم کو دوپٹہ لیتا دیکھ کر اسجد کمرے میں آتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا منگیتر کی حیثیت رکھنے کے باوجود کے باوجود اس نے ایک حد تک حرم سے فاصلہ رکھا ہوا تھا وجہ حرم کا گرہیز تھا جو شاید حرم کی نیچر کی وجہ سے ان دونعں کے بیچ آجاتا
“ایک اور ٹیوشن مل گئی تھی اس لیے اب گھر آتے آتے آٹھ بج جاتے ہیں۔۔۔ آپ بتائیں آپ کیسے ہیں”
کمرے کے پاس سے گزرتی ہوئی نزہت چچی کو دیکھ کر وہ اسجد کو بتانے لگی۔۔۔ اسجد کی آمد اس گھر میں مہینے بعد ہی ہوتی جس میں ان دونوں کی ملاقات چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ اس کی چچی پرانے وقتوں کی سوچ کی حامل تھی اس لیے انہیں یہ ملاقات کچھ مناسب نہیں لگتی۔۔۔ وہ منہ سے تو کچھ نہیں بولتی مگر اپنے رویے سے ضرور یہ باور کروا دیتی
“میں ٹھیک ہوں تم نے اپنا حال نہیں بتایا میں نے بھی تم سے پوچھا تھا کہ تم کیسی ہو”
اسجد غور سے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھا ہوا پوچھنے لگا اس معاملے میں وہ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا تھا وہ خود اتنا لائق نہیں تو جتنی خوبصورت منگیتر اس کو مل گئی تھی اسجد کو اس کا جاب کرنا اور ٹیوشن دینے گھر گھر جانا ناگوار گزرتا تھا جس پر اس نے اعتراض بھی اٹھایا مگر وہ فی الحال صرف منگیتر تھا اور منگیتر اتنا ہی حق رکھتے تھے
“حال کیسا ہونا ہے کچھ بھی نہیں بدلا دو سال پہلے جیسی تھی ویسے ہی اب بھی ہو”
حرم کے لہجے میں آفسردگی شامل تھی وہ بد دل ہوتی اسجد سے بولی دوسرے کمرے سے نزہت چچی کی آوازیں آرہی تھی جو گھر کا کام نہ کرنے پر نگی کو ڈانٹ رہی تھی
“پہلے جیسی مطلب ہمیشہ کی طرح حسین اور خوبصورت یہ تو مجھے شروع دن سے ہی معلوم ہے”
حرم کی افسردگی محسوس کرتے ہوۓ اسجد مسکراتا ہوا بولا تاکہ اس کی افسردگی کا اثر زائل ہوجائے مگر حرم اُس کی بات سن کر اسجد کو دیکھنے لگی۔۔۔
عام سی شکل اور نارمل قد اُس کا کزن ہونے کے ساتھ ہی وہ اُس کا منگیتر بھی تھا چار سال سے ان دونوں کے درمیان جو ایک تعلق باندھ گیا تھا وہ حرم کے دل میں الگ مقام رکھنے لگا تھا اس کی بات سن کر حرم اپنی نظریں جھکاگئی
“پلیز آپ یہاں سے چلے جائیں چچی کو پسند نہیں ہے ہم دونوں کا آپس میں اِس طرح ملنا۔۔۔ وہ بولتی ہیں ابھی شادی۔۔۔
حرم کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ سمجھ گیا جبھی بات کاٹتا ہوا بولا
“مجھے معلوم ہے انہیں پسند نہیں لیکن مہینہ بھر ہوگیا تمہیں دیکھے ہوۓ۔۔۔ اور میں ایسے ہی نہیں آیا ہوں بلکہ ساتھ ہی اچھی خبر بھی لے کر آیا ہوں تمہارے لیے۔۔۔ حرم نمرہ آپی اور حمنہ آپی کی ڈیٹ فکس ہوچکی ہے اگلے دو ماہ بعد ہی ان دونوں کی شادی ہے۔۔ حرم میری دونوں بہنوں کی شادی کی شادی ہوجاۓ اس کے بعد میں ذرا دیر نہیں کرو گا، تمہیں مکمل طور پر پورے حق سے اپنے گھر لے جاؤ گا یوں سمجھ لو ہیں دو ماہ کا وقت ہے جو تھوڑا مشکل ہے اس کے بعد میرا تم سے وعدہ ہے میں تم کو کبھی اداس نہیں ہونے دوگا”
اسجد حرم کو بولتا ہوا کمرے سے جاچکا تھا تب اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئے پورے دن کی تھکن جیسے ایک دم ہی اتر گئی۔۔۔ چھ ماہ پہلے ہی اسجد کی بینگ میں جاب لگی تھی اب ان لوگوں کے گھر کے حالات کافی بدلتے جارہے تھے یہ ساری مثبت باتیں تھی جو حرم کو خوش کرنے کے لیے کافی تھی
