No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
بہرام کے شرارت بھرے انداز پر حرم نے اُسے گھور کر دیکھا بہرام مسکراتا ہوا اِسے بازوؤں میں اٹھائے بیڈروم میں لے جانے لگا
بیڈ روم میں لاکر حرم کو بیڈ پر بٹھاتے ہوۓ بہرام کا شرارت بھرا موڈ اب بالکل سیریس ہوچکا تھا۔۔۔ وہ لائٹ بند کرتا ہوا نائٹ بلب آن کرکے حرم کے پاس آیا تو حرم نروس ہونے لگی
“نروس؟؟؟”
نائٹ کلب کی مدھم روشنی میں وہ حرم کے تاثرات دیکھتا ہوا سوالیہ انداز میں اُس سے پوچھنے لگا
“نہیں۔۔۔ بلکہ ہاں نہیں بس تھوڑی تھوڑی”
وہ تھوڑی سی نہیں بہت زیادہ نروس تھی اُسے سمجھ میں نہیں آیا وہ بہرام کو کیا بولے۔۔۔ حرم کی کیفیت سمجھتے ہوئے بہرام نے اُس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں پر لگالیا جس پر حرم کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں
“اپنے ذہن میں یہ بات رکھو کے ہم دونوں ایک مقدس رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، جب ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آئیں گے تب ہی ہمارا رشتہ مضبوط ہوگا یہ ایک نیچرل سا تعلق ہے جو شادی کے بعد ہر شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا ہوتا ہے، اِسی سے شوہر اور بیوی میں ایک دوسرے کے لئے محبت، احساس، اعتماد کا رشتہ پیدا ہوتا ہے۔۔۔ یوں سمجھ لو یہی اِس رشتے کی خوبصورتی ہے۔۔۔ حرم کیا تم چاہتی ہو میرے اور تمہارے درمیان پیار، محبت، اعتماد، اور احساس کا رشتہ مضبوط ہوجائے”
بہرام بیڈ پر حرم کے قریب بیٹھا ہوا اُس کا ہاتھ تھامے حرم سے پوچھنے لگا تو حرام نے بہرام کی بات پر اقرار میں سر ہلایا
وہ دل سے اپنے شوہر کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کر کے اُس کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتی تھی، حرم کی رضامندی دیکھکر بہرام نے اُس کے گلے میں موجود دوپٹہ اتار کر اُسے سائیڈ پر رکھا۔۔۔ بہرام اپنی شرٹ اتارنے لگا تو حرام نے اپنا سر نیچے جھکالیا
اُس نے بیڈ پر لیٹنا چاہا تو بہرام نے اُسے بازؤوں سے پکڑ کر اپنے قریب کرلیا۔۔۔ بہرام حرم کو اپنے حصار میں لیے اپنے تشنہ لب اُس کے ہونٹوں پر رکھ کر اپنی پیاس کو بجھانے لگا۔۔۔ بہرام کے دونوں ہاتھ اس کے شانوں پر ٹکے ہوئے تھے۔۔۔ شانوں سے اپنی شرٹ نیچے سرکتی ہوئی محسوس کرکے حرم کی ڈھڑکنوں کی رفتار بڑھنے لگی۔۔۔ بہرام کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن اور شانوں پر محسوس کرکے وہ اپنی آنکھیں زور میں بند کرچکی تھی، بہرام کے ہاتھ اُس کی کمر کو چُھوتے ہوۓ۔۔۔ اُسے شرمانے پر مجبور کررہے تھے۔۔۔
ہر چیز سے غافل ہوکر وہ سارے شرم کے پردے گراتا ہوا۔۔ حرم اور اپنے درمیان ایک ایک کرکے سارے فاصلے سمیٹنے لگا۔۔۔ حرم کی قربت کا نشہ اُس پر ایسے طاری ہونے لگا۔۔۔ وہ اپنا آپ بھلاۓ اُس کے وجود میں خود کو بری طرح گم کرچکا تھا
“بہرام”
حرم بیڈ پر لیٹی ہوئی آنکھیں بند کرکے بہرام کو پکارنے لگی۔۔ کیا نہیں تھا اُس کی دسترس میں محبت، چاہت، اپنے پن کا احساس، اِس قدر شدت کہ حرم بےچین ہونے لگی۔۔۔
اپنی تھائس پر بہرام کی انگلیوں کا لمس، اور اپنے پیٹ پر بہرام کے ہونٹوں کی نرماہٹ کو محسوس کرکے، اُس کی بڑھتی ہوئی جراتوں اور شدتوں پر تاب لانا حرم کے لیے مشکل ہونے لگا۔۔۔ حرم کی جان نکلنے کے درپے تھی جب وہ مکمل طور پر اُس پر جکھتا ہوا پوری طرح قابض ہونے لگا۔۔۔۔ کلائیوں سے حرم کے دونوں ہاتھ پکڑے وہ اُس کے دل کے مقام پر اپنے کُندھے ہوۓ نام پر ہونٹ رکھتا ہوا اُسکے حواسوں پر قابض ہونے لگا
“تم سمجھ کیو نہیں رہی ہو یہ سب میرے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے، پہلے میرے اوپر جھوٹا الزام لگانا کہ میں نے اے سی پی کی بیوی کو اغواء کروایا ہے، پھر اُس کے بدلے میں ہماری بیٹی کو گھر سے لے جانا اور بعد میں میرے اوپر حملہ کرکے جان لینے کی کوشش کرنا”
جیسے ہی یعقوب نیازی کی طبعیت بحال ہوئی سب سے پہلے اسے اپنے بھائی ارسل نیازی کی افسوس ناک خبر سننے کو ملی، جس کے صدمے سے وہ نکل بھی نہیں پایا تھا تب اُس کی بیوی نے اُس سے اپنا رشتہ ختم کرنے کے لیے کہہ دیا۔۔۔ اِس وقت وہ اپنا گھر بچانے کے لیے اپنی بیوی کو اپنی صفائی دے رہا تھا
“پولیس والوں کی آپ سے یا آپ کے بھائی سے کیا دشمنی ہوسکتی ہے یعقوب، دشمنی کرنے کے لیے قانون نے دنیا میں آپ کو اور آپ کے بھائی کو ہی کیوں چنا۔۔۔ پہلے آپ نے کہا بوبی کو جھوٹے الزام میں پھنسا کر اندر کیا گیا ہے میں نے اُس کو سچ مان لیا۔۔۔ آپ کے بارے میں جو اُڑتی اُڑتی افواہیں مجھے سننے کو ملتی میں نے اُن پر کان نہیں دھرے لیکن اب میں مزید آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتی۔۔۔ جوان بیٹی کے باپ ہوتے ہوۓ شرم نہیں آئی آپ کو کسی عزت دار غیرت مند آدمی کی بیوی کو اُس کے گھر سے اٹھواتے ہوۓ، مجھے آپ کے دوسرے کارناموں کا بھی علم ہوچکا ہے، جو اگر میں نے آپ کے بچوں کے سامنے کھول دئیے تو اُن کے سر بھی شرمندگی سے جھگ جاۓ گیں۔۔۔ آپ مجھے اِس سوال کا جواب دیں کہ میری محبت میں، خلوص میں یا وفا میں کہاں کمی رہ گئی تھی جو آپ اپنے فارم ہاؤس میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔۔
اُس کی بیوی سے جملہ مکمل نہیں ہوسکا وہ رونے لگی تو یعقوب نیازی خاموش ہی رہا اُس کے پاس بولنے کے لیے الفاظ ختم ہوچکے تھے
“ایک عرصہ آپ کے ساتھ وفا نبھاکر مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ جیسا شخص وفاداری تو دور رشتہ نبھانے کے بھی لائق نہیں۔۔۔ میں نے خلع لینے کا فیصلہ کرلیا ہے ہم دونوں کے بچے اتنے چھوٹے ہرگز نہیں کہ ہم دونوں انہیں زبردستی اپنے ساتھ رکھیں، وہ دونوں آپ کے ساتھ رہنے کےلیے تیار نہیں ہیں۔۔ خلع کے بعد میں نیو یارک اپنے بھائی کے پاس جانا چاہتی ہوں اس لیے تمام تر معالات جتنی جلدی نمٹ جاۓ اتنا ہی اچھا ہے”
اُس کی بیوی اُسے اپنا فیصلہ سناتی ہوئی کمرے سے نکل گئی
“میرا بھائی تیری وجہ سے اِس دنیا سے چلاگیا میرا گھر بھی تیری وجہ سے برباد ہورہا ہے اے سی پی۔۔۔ اگر میری بیوی یہاں سے گئی تو تیری بیوی کو بھی تجھ سے الگ کردو گا، میں تیرا گھر بھی برباد کرڈالوں گا”
یعقوب نیازی کو اپنی بیوی کی فطرت کا اچھی طرح اندازہ تھا۔۔۔ بےشک وہ پیار محبت کرنے والی عورت تھی لیکن اب وہ ضد پر آچکی تھی اگر اُس کے بیوی بچے اُس کو چھوڑ کر جارہے تھے تو اُس نے سوچ لیا تھا وہ بہرام کو بھی سکھ کا سانس نہیں لینے دے گا
ہاتھوں کی مدد سے شاپنگ کارٹ کو آگے چلاتی ہوئی وہ ریک میں رکھا ہوا سامان اُس میں ڈال رہی تھی۔۔۔ آج وہ بہرام کو زبردستی اپنے ساتھ گروسری کرنے کے لئے اپارٹمنٹ کے قریب مارٹ میں لائی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے تک بہرام اُس کے ساتھ تھا مگر اُس کے موبائل پر کال آئی تو وہ باتوں میں مصروف ہوچکا تھا تبھی حرم نے سوچا وہ خود ضرورت کی اشیاء دیکھ لیں۔۔۔ آئل کا کین احتیاط کے ساتھ اٹھا کر شاپنگ کارٹ میں رکھتی ہوئی بےساختہ حرم کی نظر اُس خالی پورشن پر پڑی جہاں سے ابھی کین اٹھایا تھا
دوسری جانب بالکل اُسی کی شکل کی لڑکی جو پیچھے دوسرے پورشن میں کھڑی، وہ حرم کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی،، حرم پہلے حیرت سے پھر خوف سے اُسے دیکھتی رہی اُس لڑکی کی مسکراہٹ اتنی پراسرار تھی کہ حرم ڈر گئی
“بہرام”
اپنی جانب بہرام کو آتا دیکھ کر وہ بہرام کو پکارتی ہوئی اُس کی طرف تیزی سے بڑھی
“وہاں جاکر میرے ساتھ دیکھیں وہاں کوئی ہے”
اِس سے پہلے بھی بہرام اُس کے چہرے پر گھبراہٹ دیکھ کر حرم سے کچھ پوچھتا حرم پریشانی سے ہاتھ کے اشارے سے اسے بتانے لگی۔۔۔ اُس کا اشارہ پاتے ہی بہرام لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں پہنچا جہاں ریک پر آئل کا کین رکھا تھا
“حرم ڈارلنگ تم بھی ناں یار، یہاں آؤ”
وہ مسکراتا ہوا حرم کو بلانے لگا۔۔۔ حرم پریشانی سے اُس کے قریب آئی تو بہرام نے اُسے شانوں سے تھام کر اُس جگہ پر کھڑا کیا جہاں سے دوسرے پورشن میں حرم کے سامنے آئینے میں اُسے اپنا عکس پریشان چہرہ لیے نظر آرہا تھا
“تم ایک انسپکٹر کی وائف ہو یار تھوڑی سی تو بہادر بنو، اِس کے بیک پر کاسمیٹک کا پورشن ہے جس میں یہ مرر لگا ہوا ہے۔۔۔ تم اپنے ہی عکس سے ڈر گئی۔۔۔ حد ہوتی ہے یار دکھاؤ کیا کیا سامان لے لیا ہے”
بہرام اُس کا مذاق اڑاتا ہوا شاپنگ کارٹ میں رکھی ہوئی چیزوں کو دیکھنے لگا۔۔۔ حرم پریشانی سے دوبارہ مرر میں اپنا عکس دیکھنے لگی۔۔۔ وہ بہرام کو کیسے بتاتی کہ تھوڑی دیر پہلے دیکھی گئی ہوبہو اُس کی شکل کی لڑکی کوئی اور تھی اُس کا عکس نہیں۔۔۔ وہ کس طرح اُس کو دیکھ کر عجیب سے انداز سے مسکرا رہی تھی بہرام کبھی اُس کی بات کا یقین نہیں کرتا الٹا مذاق اڑاتا اِس لئے حرم خاموشی رہی
“کیا ہوگیا یار اب تم خاموش کیوں ہوگئیں، چلو میں آئسکریم کھلاتا ہوں تمہیں”
سارا سامان گاڑی میں رکھوا ہوا وہ حرم کے شولڈر پر اپنا بازو دراز کرکے اُسے وہاں سے لے جاتا ہوا بولا جبکہ کاسمیٹک کے پورشن میں کھڑی اینجل کے تن بدن میں شرارے دوڑنے لگے وہ آج کسی دوسرے کام سے باہر نکلی تھی مگر بہرام اور اُس کی بیوی کو اس مارٹ میں جاتا دیکھ کر وہ بھی اپنے ڈرائیور کے ساتھ یہاں چلی آئی تھی
“بہت جلد میں تم سے اپنا بہرام واپس لے لو گی”
اینجل دل ہی دل میں بولتی ہوئی وہاں سے ایک خوبصورت شال اپنے لیے خرید کر مارٹ سے سے باہر نکل گئی۔۔۔ سامنے بڑا سا کافی بار تھا اینجل کے قدم اُسی کی جانب تھے
“بہرام دو ہفتے ہوگئے آپ کو، پولیس اسٹیشن ہی نہیں گئے آپ”
ویٹر اُس کے سامنے آئسکریم اور بہرام کے سامنے کافی رکھ کر گیا تو حرم اُس سے پوچھنے لگی
“بتایا تو تھا یار تمہیں کہ لیو پر ہو تھوڑے دنوں کے لیے”
بہرام بھانپ اڑتی کافی کا سپ لیتا ہوا بولا اُس نے سسپینڈ ہونے کے بارے میں نہ تو حرم کو بتایا تھا نہ ہی جیاء کو، اپنی ذات سے متعلق بہت سی باتیں وہ اپنے اندر ہی رکھنے کا عادی تھا
“ہاں ناں وہی تو پوچھ رہی ہوں اور کتنی چھٹیاں باقی ہے ابھی آپ کی”
حرم آئسکریم کھاتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی جیاء نے اُسے بتایا تھا کہ بہرام کو آئس کریم بالکل بھی پسند نہیں تھی وہ کسی کے بھی اصرار کرنے یا فورس کرنے پر آئسکریم نہیں کھاتا تھا
“تم مجھ سے وہ بات بولو جو تمہارے دماغ میں چل رہا ہے اِس وقت”
بہرام حرم کے چہرے کے تاثرات سے جان گیا وہ اُس سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی
“اگر چھٹیاں زیادہ ہیں تو ہم دونوں آپی کے پاس چلیں کینیڈا،،، انہوں نے کتنی بار بولا ہے آپ سے بھی اور مجھ سے بھی۔۔۔ ویسے بھی مجھے اُن کا پورا گھر دیکھنا ہے، بہرام کتنا بڑا گھر ہے ناں آپی کا۔۔۔۔ مبشر بھائی اچھے خاصے پیسے والے لگتے ہیں”
حرم بچوں کی طرح ایکسائیڈ ہوکر بولی تو بہرام مسکرا دیا
“جیاء کا گھر بڑا اور بہت خوبصورت ہے یہ اتفاق کی بات ہے کہ مبشر بھائی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود واقعی شریف النفس انسان ہے لیکن اگر میں تمہیں کینیڈا لےکر چلاگیا تو مجھے ڈر ہے جیاء کا بڑا سا گھر دیکھ کر تم میرے چھوٹے سے فلیٹ کو نہ بھول جاؤ”
بہرام بولتا ہوا مزے سے کافی پینے لگا تو حرم اُس کو گھور کر دیکھنے لگی
“آپ کا فلیٹ اتنا چھوٹا سا بھی نہیں ہے اے سی پی صاحب۔۔۔ اگر چچا جان جیسے تین گھر مل جائیں تب بھی آپ کے فلیٹ جتنا ایریا نہ بنے۔۔۔ بےشک آپی کا گھر بڑا ہو، کتنا ہی خوبصورت کیو نہ ہو لیکن میرے لئے آپ کا گھر میری جنت ہے،، جو میرے لئے کافی زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن اِس کے باوجود مجھے آپی کا گھر دیکھنا ہے بہرام پلیز مان جاؤ ناں”
حرم اس کو خوش کرتی ہوئی بولی لیکن آخری بات پر وہ ضد کرنے لگی
“میری ابھی جتنی چھٹیاں بچی ہیں وہ میں صرف تمہارے ساتھ اکیلے گزارنا چاہتا ہوں، تم جانتی تو ہو آج کل پرائیوسی ہمارے لیے کتنی معنی رکھتی ہے۔۔۔ جب صبح کام والی آتی ہے تو مجھے اُس ٹائم اُس کا گھر کی صفائی کرنا بھی کتنا برا لگ رہا ہوتا ہے۔۔۔ اِن دنوں میں صرف تمہیں اپنے نزدیک دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ میرا تو یہاں آنے کا بھی موڈ نہیں ہورہا تھا بلاوجہ کا اتنا ٹائم ویسٹ کیا تم نے اِس فضول سے کام میں”
بہرام کافی پیتے ہوئے معنی خیزی سے حرم سے بولا وہ بری طرح بلش کرگئی جس پر بہرام وہی بیٹھا اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔ ہفتے بھر سے اتنی نزدیکیوں کے باوجود وہ پہلے دن کی طرح اُس کے سامنے ایسے ہی شرما جاتی اور حرم کا اِس طرح شرمانا بہرام کو بہت خوبصورت لگتا
“ہم اِس وقت اپنے فلیٹ میں نہیں ہیں آپ کو خیال کرنا چاہیے”
حرم بہرام کے اِس طرح دیکھنے پر بولی۔۔۔ بہرام کا یوں دیکھنا اُس کو شرمانے پر اور نظریں چرانے پر مجبور کررہا تھا
“خیال ہی تو کررہا ہوں، ورنہ تمہیں کیا لگ رہا ہے ابھی تک یہ فاصلے قائم ہوتا ہمارے درمیان”
بہرام مسلسل اُسے معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولنے لگا، حرم کا اُس کی باتوں پر ہی بلش کرنا اِسے لطف دے رہا تھا
“آپ دکھنے میں ویسے نہیں لگتے، جیسے آپ اکیلے میں ہوجاتے ہیں”
حرم چہرے پر سرخی لیے نظریں جھکاۓ بہرام سے بولی۔۔۔ اُس کی قربت اور کبھی کبھار بڑھتی ہوئی شدت حرم کو یونہی سرخ کردیتی
“کیسا ہوجاتا ہوں میں اکیلے میں”
بہرام مسکراہٹ چھپاۓ سنجیدگی اپناتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا وہ کافی پیتا ہوا مسلسل حرم کے چہرے پر نظریں جماۓ بیٹھا تھا
“اب آپ جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہے ہیں بہرام۔۔۔ پلیز یہاں مجھے ایسے مت دیکھیں میں کنفیوز ہورہی ہوں”
حرم آس پاس دیکھتی ہوئی بہرام سے بولی تو بےساختہ بہرام کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“ٹھیک ہے مگر ایک شرط پر آج رات تم جیاء سے یا نگی سے موبائل پر لمبی چوڑی باتیں نہیں کروگی۔۔۔۔ بلکے آج ہم دونوں وہی کیک والی ریسیپی ٹراۓ کریں گے جو پرسوں شام ٹراۓ کی تھی”
بہرام کی بات پر پرسوں کا دن کرتے ہوۓ وہ مزید شرمائی
“وہ کیک نہ تو آپ نے مجھے پرسوں بیک کرنے دیا تھا نہ ہی آج بیک کرنے دیں گیں”
حرم صرف ایک نظر بہرام کو دیکھ کر بولی پھر آئسکریم میں چمچہ گھمانے لگی جو اب میلٹ ہورہی تھی
“کیک بےشک بیک نہ ہو مگر آج بھی ہمہیں ٹراۓ ضرور کرنا چاہیے۔۔۔ مجھے تو کیک کھانے سے زیادہ کیک بنانا مزا دے گیا تھا پرسوں”
بہرام کے بولنے پر حرم کو اپنے چہرے اور گردن پر لگی کریم اور چاکلیٹ یاد آنے لگی،، جس انداز میں بہرام نے وہ کریم اور چاکلیٹ صاف کی تھی۔۔۔ وہ سوچ کر رہ گئی
“حرم ڈارلنگ آنکھیں کھولو اپنی، ابھی ہم اپنے کچن میں موجود نہیں نہ ہی ابھی کیک بیک ہورہا ہے”
بہرام اسے چھیڑنے کے انداز میں بولا تو حرم نے انکھیں کھول کر اپنے آپ کو نارمل کیا بہرام نے بھی اسے مزید تنگ نہیں کیا تاکہ وہ سکون سے آئسکریم کھاسکے
یقیناٍ وہ جیاء کے جانے کا شوشا چھوڑ کر پچھائی ہوگی۔۔۔ جسے ٹالنے کے لیے بہرام نے ایسی گفتگو شروع کی۔۔۔۔ جیاء کے پاس کینیڈا جانا مسئلہ نہیں تھا صرف حرم کا پاسپورٹ بنتا مگر سِسپینٹ کرتے وقت رولز کے مطابق اُس کے ڈاکومنٹس کسٹڈی میں لیے جاچکے تھے جو نوکری دوبارہ بحال ہونے کے صورت ہی اس کو ملتے
“ارے واہ بھئی بہرام عباسی تو آج یہاں موجود ہیں کیا بات ہے بھئی”
اُس کا کلیک بولتا ہوا اچانک بہرام کی ٹیبل پر آیا تو بہرام اُس سے ملنے کے بعد حرم سے اُس کا تعارف کروانے لگا
“بھابی آپ پریشان مت ہوئیے گا اس کے معطل ہونے پر۔۔۔ ایک ہفتے بعد انکوائری بیٹھے گی تو مجھے پوری امید ہے کیس اِسی کے فیور میں جائے گا”
حرم کو تسلی دینے والے انداز میں بہرام کا کلیک اُس کا بھانڈا پھوڑ کر جاچکا تھا حرم خاموشی سے مگر افسوس سے بہرام کو دیکھنے لگی
“کیا ہوگیا حرم ریلکس ہوجاؤ اور آئسکریم کھاؤ پھر گھر کے لیے نکلتے ہیں”
اپنی طرف اٹھتی حرم کی نظروں کو دیکھ کر بہرام نارمل سے لہجے میں اس سے بولا
” آپ کو سِسپینڈ کیا گیا ہے اور آپ نے مجھ سے یہ بات چھپائی۔۔۔ کیوں”
حرم ناراض لہجے میں شکوہ کرتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی
“سِسپینڈ رولز کے خلاف ورزی کرنے پر سزا کے طور پر کیا جاتا ہے یہ کوئی فخریہ بات نہیں ہے جو میں تم سے یا پھر کسی دوسرے سے شیئر کرتا”
بہرام اس کو بتاتا ہوا کافی کا آخری گھونٹ منہ میں بھر چکا تھا
“کسی دوسرے سے نہیں لیکن آپ کو مجھ سے شیئر کرنا چاہیے تھا”
حرم اُس کو جتاتی ہوئی بولی
“یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے حرم پھر بھلا میں تمہیں کیوں پریشان کرتا۔۔۔ ویسے بھی اپیل کی ہے میں نے چند دنوں میں انکوائری بیٹھے گی تو معاملہ سیٹ ہوجائے گا”
بہرام حرم کو سمجھاتا ہوا بولا جو اُس کے مسئلے کو لےکر بہت زیادہ سیریس ہورہی تھی
“آپ کا ہر مسئلہ ہر پریشانی میرا مسئلہ اور پریشانی ہے بہرام کیوں کہ میرا اور آپ کا تعلق جڑ چکا ہے۔۔۔ اُس دن تو آپ ہزبینڈ اور وائف کے تعلق کو لے کر بڑا پیار محبت احساس اور اعتبار کی باتیں بتارہے تھے مجھے۔۔۔ آپ نے مجھ پر یقین کرلیا ہے، مجھ سے محبت کرلی ہے تو اعتبار بھی قائم کرکے دیکھیں۔۔۔۔ میں صرف آپ کی خوشیوں کی ہی ساتھی نہیں بننا چاہتی، دکھ اور سکھ دونوں کی ساتھی ثابت ہوگیں میرا یقین کر کے دیکھیے گا”
حرم نے بولتے ہوئے آخری بات پر بہرام کا ٹیبل پر رکھا ہوا ہاتھ پکڑا تو بہرام حرم کی بات پر اُس کو خاموشی سے دیکھتا رہ گیا جس پر حرم مسکرادی تو پھر بہرام بولا
“تم جیسی دکھتی ہو اس سے بالکل مختلف ہو، بہت جلد اے سی پی بہرام عباسی تمہارے عشق میں مبتلا ہوجائے گا یہ بات لکھ کے رکھ لوں”
بہرام حرم کی آنکھوں میں غور سے دیکھتا ہوا بولا تو حرم مسکرا دی اس نے آئسکریم چمچے میں بھر کر چمچہ بہرام کو منہ کے قریب کیا تو بہرام نے اُسے گھور کر دیکھا
“تم سے محبت کرنا اپنی جگہ، مگر یہ آسکریم میں بالکل بھی نہیں کھانے والا فوراً پیچھے کرلو اِس اسپون کو”
بہرام اُسے آنکھیں دکھاتا ہوا بولا کیوکہ آئسکریم سے اُسے خاص چڑ تھی۔۔۔ کوئی کتنے ہی مٹھے لہجے میں اس سے اصرار کیوں نہ کرتا وہ آئسکریم نہیں کھاسکتا تھا
“اور آج میں عشق کرنے کے دعوے دار کے عشق کی انتہا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ جلدی سے منہ کھلیں بہرام یہ میلٹ ہورہی ہے”
حرم بولتی ہوئی مزید اُس کے منہ کے قریب چمچہ لائی تو معجزاتی طور پر بہرام نے
غصہ کرنے کی بجاۓ منہ کھول کر چمچے میں بھری آئسکریم کھالی جس پر حرم کو حیرت انگیز خوشی ہوئی
وہ یہ شرط جیت چکی تھی جیاء نے بولا تھا کہ بہرام کبھی بھی اس کے ضد کرنے کے باوجود بھی آئسکریم نہیں کھاسکتا۔۔۔ آئسکریم کی جگہ بہرام کو کو بےشک وہ ہری مرچیں جتنی کھلا دے مگر آئسکریم کھانا ناممکن سی بات ہے۔۔۔ حرم کو اپنے کارناموں پر انجانی سی خوشی محسوس ہورہی تھی وہی بہرام نے آئسکریم کھانے پر برا سا منہ بنایا تھا کیونکہ اُس کے منہ میں کافی کا ذائقہ برباد ہوچکا تھا بہرام کے منہ بنانے پر ناچاہتے ہوۓ بھی حرم کو ہنسی آنے لگی
یہ حسین منظر دو شعلہ اگلتی آنکھوں کو اتنا زہر لگا کہ اُس کا دل چاہا وہ اِس لڑکی کے چہرے سے یہ ہنسی نوچ ڈالے اور اُس کا یہ حسین ہنستا ہوا چہرہ بگاڑ ڈالے۔۔۔ جسے بہرام بہت محبت سے دیکھ رہا۔۔۔ اور اب وہ اپنی جلن میں یہی کرنے والی تھی یعنٰی اُس چہرے سے ہنسی چھیننے والی تھی اس لیے کافی بار کے پچھلے دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔ اس کا رخ برابر والی شاپ پر تھا جو کیمیکل کی شاپ تھی
اب بتائیں بہرام کیا ارادے ہیں آپ کے”
بہرام کی ہمراہ کافی بار سے باہر نکلتے ہوۓ وہ چہکتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی آج کا دن بھی اُس کے لیے بہرام کی ساتھ گزرے دونوں کی طرح خوبصورت تھا
“تم اپنے ارادوں کا بتاؤ ڈنر باہر کرنا ہے یا گھر پر۔۔۔ میں تو تمہیں اپنا ارادہ ڈنر کے بعد ہی بتاؤ گا”
بہرام موبائل کی اسکرین کو اپنی انگلی سے ٹچ کرتا ہوا بظاہر تو سنجیدگی سے بولا مگر یہ حرم جانتی تھی وہ کتنا سنجیدہ ہے۔۔۔ اِس لیے حرم اُسے گھورنے لگی مگر بہرام اُس کو آنکھ مارتا ہوا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ اپنی نئی ماڈل سٹی اوریل پر اسکریچ دیکھ کر وہ تیزی سے گاڑی کی جانب بڑھا
حرم اپنی پہنی ہوئی سینڈل کی وجہ سے آئستہ قدم اٹھاتی ہوئی بہرام کے پیچھے جانے لگی۔۔۔ اس لیے وہ اپنے سامنے سے آتی لڑکی کی طرف دھیان نہیں دے پائی جو شال سے اپنا چہرہ چھپاۓ ہاتھ میں ایسڈ کی بوتل پکڑے چلتی ہوئی حرم کے پاس آرہی تھی
“گاڑی اسٹارٹ رکھنا اور بالکل الرٹ رہنا”
اینجل موبائل پر اپنے ڈرائیور کو بولتی سامنے سے آتی اپنی ہم شکل کو زہریلی نگاہ سے دیکھنے لگی۔۔۔
وہ اِس لڑکی کے چہرے سے مسکراہٹ اور اس کی خوشیاں آج بھی چھین لینا چاہتی تھی تاکہ بہرام اِس لڑکی کے چہرے کی طرف کبھی بھی محبت سے نہ دیکھے۔۔۔ جس طرح بہرام کافی بار میں اِس حسین چہرے کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اینجل کا دل چاہا کہ وہ بہرام کی محبت کو وہی بھسم کر ڈالے
اپنے سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑی حرم کے چہرے کی جانب جیسے ہی اُس نے ایسڈ پھینکا،، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ حرم اپنی سینڈل کے اسٹیپ کو صحیح کرنے کے لئے نیچے جھکی جو اُسے کافی دیر سے چلنے میں مسئلہ کررہا تھا۔۔۔ وہی دل لرزا دینے والی چیخیں حرم کو اپنی پشت سے آتی سنائی دیں۔۔۔ حرم نے مڑ کر دیکھا اس کے پیچھے کھڑی لڑکی اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپاۓ درد اور تکلیف سے بری طرح سے چیخیں مار رہی تھی۔۔۔ ویسے ہی حرم نے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جس کا چہرہ چادر میں چھپا ہوا تھا وہ تیزی سے وہاں سے بھاگ رہی تھی
چند قدم کے فاصلے پر بہرام کو بھی وہ چیخیں اپنی جانب متوجہ کرچکی تھیں۔۔۔ اُس نے ایک نظر چیخنے والی لڑکی کی جانب دیکھا جس کی جانب اب لوگوں کا ہجوم جمع ہورہا تھا وہی تھوڑی دور ڈری سہمی حرم بھی کھڑی تھی لیکن بہرام اگلے ہی پل تیزی سے اُس گاڑی کی جانب بھاگا جو اُس کے وہاں پہنچنے سے پہلے بہت دور جاچکی تھی۔۔۔
“سب سے پیچھے ہوجاؤ۔۔۔ کون ہے اِن کے ساتھ”
حرم سن ہوتے دماغ کے ساتھ بہرام کو دیکھنے لگی جو لوگوں کے مجموعے میں کو پیچھے ہٹاتا ہوا اُس لڑکی اور اُس کی روتی ہوئی فیملی کو کسی گاڑی میں بیٹھا رہا تھا
“حرم تم ٹھیک ہو ناں”
بہرام حرم کے پاس آیا جو خوفزدہ سی وہی سہمی ہوئی کھڑی تھی
“بہرام وہ۔۔۔ لڑکی۔۔۔ اس کا پورا چہرہ”
بہرام کے مخاطب کرنے کی دیر تھی حرم نے تیزاب سے متاثرہ اُس لڑکی کا چہرہ یاد کیا جس کی ساری اِسکن اور چہرے کی چربی وہی گُھلنا شروع ہوچکی تھی اُس کے چہرے کو یاد کرکے حرم نے رونا شروع کردیا
“حرم سب ٹھیک ہے میری جان تم پریشان مت ہو چلو ہم گھر چلتے ہیں”
حرم کے بری طرح رونے پر بہرام اُس کو اپنے ساتھ لئے گاڑی میں بیٹھ چکا تھا
اُس کا دھیان حرم کے رونے پر اُس گاڑی کی طرف سے بالکل ہٹ چکا تھا جس میں کوئی شخص بیٹھ کر فرار ہوچکا تھا
وہ آئے دن ایسے کیس دیکھتا اور سنتا رہتا تھا اس لیے نارمل بی ہیو کررہا تھا مگر وہ جانتا تھا حرم نے یقینًا ایسے واقعات صرف سنے ہوگیں یہ سب کچھ اس نے پہلی بار دیکھا ہوگا جبھی وہ اتنا زیادہ ڈر کر بری طرح رو رہی تھی۔۔۔
“کھانا میں پیک کروا لیتا ہوں اوکے”
بہرام گاڑی روکتا ہوا بولا وہ جانتا تھا کہ حرم باہر ڈنر نہیں کرسکے گی وہ گاڑی سے اترنے لگا تو حرم نے اُس سے پہلے ہی بہرام کا ہاتھ پکڑلیا
“پلیز بہرام مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جائیے گا۔۔ میں گھر جانا چاہتی ہوں”
حرم روتی ہوئی اُس سے بولی
“کیا ہوگیا یار حرم بریو بنو، نہیں جارہا میں کہیں پر اب رونا بند کرو”
بہرام اس ٹوکتا ہوا بولا اور دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا
“یہ روم کی کھڑکی کیوں کھولی ہے آپ نے”
حرم بیڈ روم میں صوفے پر بیٹھی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی
“وینٹیلیشن کے لیے کھول دی تھی سردی لگ رہی ہے تمہیں”
بہرام کمرے کی کھڑکی بند کرتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا
“نہیں مجھے ڈر لگ رہا ہے بہرام”
حرم کی بات پر بہرام کمرے کی کھڑکی بند کرنے کے بعد پلٹ کر اُس کو دیکھنے لگا جو گھر آنے کے بعد بھی اُسی طرح خاموش اور غائب دماغ بیٹھی ہوئی تھی
“اٹھو یہاں آکر بیٹھو میرے پاس”
بہرام اُسے صوفے سے اٹھا کر اپنے ساتھ بیڈ پر لے آیا
“کیوں اتنا سوچ رہی ہو اُس واقعے کو حرم۔۔۔ مانا کے اُس لڑکی کے ساتھ بہت زیادہ برا ہوا، میں نے مہران کو پورا واقعے کی تفصیل اور اسپتال کا پتہ بتادیا ہے بہت جلد اُس شخص کو حراست میں لےلیا جائے گا جس نے اُس لڑکی کے منہ پر تیزاب پھینکا”
بہرام بیڈ پر بیٹھتا ہوا حرم کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں اُس سے بولنے لگا
“شخص۔۔۔ وہ کوئی شخص نہیں بلکہ لڑکی تھی۔۔۔ جس نے اُس دوسری لڑکی کے منہ پر ایسڈ ڈالا”
حرام کی بات پر بہرام بری طرح چونکا اور حرم کو سیدھا کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“کیا تم نے دیکھا اُس لڑکی کا چہرہ،، تم پہچان سکتی ہو اُس کو”
بہرام کے پوچھنے پر حرم نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا
“اس نے اپنا چہرہ چادر میں کور کیا ہوا تھا بہرام مگر مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے وہ لڑکی، اُس لڑکی کی بجائے وہ ایسڈ مجھ پر پھینکنا چاہتی تھی”
حرم کچھ سوچتی ہوئی تھوڑے سہمے ہوۓ انداز میں بہرام سے بولی تو بہرام پہلے سے بھی زیادہ بری طرح چونکا لیکن حرم کو خوفزدہ دیکھ کر فوراً اُس کی بات کی نفی کرتا ہوا بولا
“کیوں فضول کی باتیں سوچ رہی ہوں حرم۔۔۔ کوئی تم پر کیوں ایسڈ ڈالنا چاہے گا تمہاری کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں۔۔۔ یہ کام تو بدلہ لینے کے لیے پھر دشمنی میں کیا جاتا ہے۔۔۔ ہوسکتا ہے اُس لڑکی سے کسی نے اپنا کوئی بدلہ لیا ہو یا پھر کسی دشمنی کی وجہ سے اُس کے ساتھ ایسا ہوگیا ہو”
بہرام حرم کے دماغ سے اس خیال کو نکالنے کی غرض سے ایسا بولا ورنہ وہ کتنے دن اِسی بات کو سوچتی رہتی
“بہرام وہ لڑکی اپنا چہرہ چھپاکر بالکل میرے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اچانک میں اپنی سینڈل کا اسٹیپ صحیح کرنے کے لیے جھکی تو میرے پیچھے چلتی ہوئی وہ لڑکی بری طرح چیخنے لگی اگر میں اُس وقت شوز کا اسٹیپ صحیح کرنے کے لئے نیچے نہیں جھکتی تو وہ ایسڈ میرا چہرہ بگاڑ دیتا ہے۔۔۔ بہرام کوئی میرا دشمن ہے یا مجھ سے بدلہ لینا چاہتا ہے یا مجھ سے اتنی نفرت کرتا ہے کہ وہ میرا چہرہ بگاڑ دینا چاہتا ہے۔۔۔ اگر آج وہ ایسڈ اُس لڑکی کی بجائے میرے اوپر۔۔۔
حرم اِس سے پہلے اپنی بات مکمل کرتی بہرام نے حرم کو اپنی پناہ میں چھپالیا۔۔۔ ایک لمحے کیلئے وہ خود بھی یہ بات سوچ کر ڈر گیا مگر دوسرے ہی لمحے اُس کا دماغ صرف ایک ہی نام پر اٹک گیا
“اینجل”
وہ یہ نام حرم کے سامنے لےکر اسے مزید ٹینشن میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔ اسے اس لڑکی سے مزید نفرت ہونے لگی۔۔۔ اپنی گاڑی کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے وہ یہ سارا سین نہیں دیکھ پایا تھا جو اس وقت حرم اُسے بتارہی تھی یعنی اسے اینجل سے جلد سے جلد پتہ لگا کہ وہ حرم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے
“بہرام کھاؤ ناں ائسکریم میں نے صرف اپنے لئے نہیں منگوائی ہے”
اینجل پیار سے بہرام کے پاس آتی ہوئی اس سے بولی
“اینجل ضد مت کرو یار تمہیں بتایا تو ہے کہ آئس کریم مجھے پسند نہیں، میں نہیں کھاتا کام کرنے دو”
وہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“اچھا میرے ہاتھ سے صرف ایک اسپون لےلو، اگر تمہیں مجھ سے پیار ہے تو پلیز جلدی سے منہ کھالو”
اینجل بولتی ہوئی زبردستی اُس کے منہ کے قریب ائسکریم سے بھرا چمچہ لے آئی۔۔۔ جسے پیچھے کرنے کی بجائے غُصّے میں بہرام نے چمچا دور پھینکا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
“دماغ تو خراب نہیں ہے تمہارا اینجل کیوں بچوں جیسا ری ایکٹ کرتی ہو تم جب ایک چیز مجھے پسند نہیں تو کیوں مجھ پر زبردستی اپنی مرضی چلارہی ہوں آئندہ ایسی حرکت مت کرنا میرے سامنے”
وہ اینجل پر غصہ کرتا ہوا بولا۔۔۔۔ جسے سوچ کر وہ اپنے کمرے میں مٹھیاں بند کیے ضبط کے باوجود چیخنے لگی
“اے سی پی بہرام عباسی تو اُس حرم سے محبت کرلی ناں تم نے،، آج میں نے وہ محبت دیکھ لی تمہاری آنکھوں میں جو کبھی اپنے لیے نہیں دیکھی۔۔۔ مانتی ہوں بہت برا کیا تھا اُس وقت میں نے تمہارے ساتھ لیکن اُس کی سزا دے دی ہے تم نے مجھے اب تم پر صرف اور صرف میرا اختیار ہے۔۔۔ نہیں برداشت کرسکتی میں اس لڑکی کو تمہارے ساتھ ہمارے بیڈروم میں،۔۔ وہ میری جگہ ہے صرف میری۔۔۔ اور اپنی جگہ پر اس لڑکی یا کسی دوسری لڑکی کو نہیں لینے دوں گی۔۔۔۔ اذیت دیتی ہے یہ سوچ مجھے کہ تم اُس کے ساتھ۔۔۔ اُس لڑکی کو تو میں نہیں چھوڑوں گی بہرام، تمہیں ہر قیمت پر میرا وہ ہوکر رہنا ہوگا صرف میرا” اینجل غصے کی شدت سے چیختی ہوئی بولی
ٹینشن بھری رات گزر کے ایک نئی صبح کا آغاز ہوچکا تھا۔۔۔ حرم کی آنکھ کُھلی تو اُس نے اپنے قریب لیٹے ہوئے بہرام کو دیکھا۔۔۔ سوئے ہوئے بہرام کو دیکھ کر بےساختہ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
کل رات وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی اِس لیے بہرام اسے اپنی پناہوں میں لےکر سویا تھا تاکہ وہ اُسے ہر قسم کے ڈر اور خوف سے محفوظ رکھ سکے۔۔۔۔ محفوظ صاحبان کے احساس حرم اپنا ہر ڈر اور خوف بھلا چکی تھی۔۔۔ اچھا شوہر مل جانا قسمت کی بات تھی وہ جتنا خدا کا شکر ادا کرتی کم تھا
“اے سی پی بہرام عباسی آپ یہ بات نہیں جانتے ہوں گے کہ آپ سوتے ہوئے بہت پیارے لگتے ہیں”
حرم چاہ کر بھی یہ اظہار دل میں نہیں کر پائی تھی بہت آہستگی سے سرگوشی،،، جو وہ خود بھی مشکل سے ہی سن پائی تھی۔۔۔ سوئے ہوئے بہرام کے سامنے اعتراف کر کے محبت بھرا لمس وہ بہرام کی پیشانی پر چھوڑ کر واشروم چلی گئی۔۔۔ حرم کے واش روم جانے کے بعد بہرام نے اپنی آنکھیں کھولیں
“مسسز بہرام عباسی یعنی آپ بھی رومینس جیسی کسی شے سے واقف ہیں”
بہرام نے بولتے ہوۓ اپنی پیشانی کو انگلیوں سے چھوا جہاں ابھی اُس کی شرمیلی سی بیوی محبت بھرا لمس چھوڑ کر اُس کے اندر ڈھیر سارے احساسات بیدار کر کے واشروم جاچکی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر وہ بیڈ پر لیٹا رہا پھر کچھ سوچ کر کمفرٹر سے باہر نکل کر، اپنی پہنی ہوئی ٹی شرٹ اتار کر خود بھی واش روم کا رخ کرنے لگا
اچھی طرح شاور لینے کے بعد وہ کندھوں سے نیچے بڑا فرق ٹاول لپیٹ رہی تھی تب سامنے بڑے سے آئینے میں اس کی نظر الفابیٹ “بی” پر پڑی بےساختہ حرم نے انگلیوں سے اُس لفظ کو چھوا۔۔۔ نہ جانے کیوں اُس دن بہرام کے اتنی بے رحمی کا مظاہرہ کیا تھا، کیا وجہ تھی آخر جو بہرام نے اُس کو یہ تکلیف دی تھی حرم سوچ رہی تھی کہ اچانک باتھ روم کا دروازہ کھلا
“بہرام پلیز جائیے میں شاور لے رہی تھی، کیسے اندر آگئے آپ۔۔۔ آگے کیوں بڑھے جارہے ہیں پلیز جائیے ناں یہاں سے۔۔۔ بہرام کیا ہوگیا ہے آپ کو”
بہرام ٹی شرٹ کے بغیر،، صرف ٹراؤزر میں موجود۔۔۔ خاموشی سے حرم کی جانب بڑھے رہا تھا۔۔۔۔اور حرم اپنی پوزیشن دیکھ کر اتنا اکوورڈ محسوس کررہی تھی کے مسلسل بہرام کو ٹوکے جارہی تھی لیکن بہرام کو شاید اِس وقت اُس کی باتیں سمجھ میں نہیں آرہی تھی یا پھر وہ پھر جان بوجھ کر سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا
حرم پیچھے کی جانب قدم اٹھاتی ہوئی واش روم کی دیوار سے جالگی تو بہرام اُس کے نزدیک آکر رک گیا
“کیا ہوا اتنے غُصّے سے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے، کیا اپنا شوہر صرف سوتے میں ہی اچھا لگتا ہے تمہیں، جاگتے ہوئے پیار نہیں آتا اُس پر”
بہرام گہری نظروں سے حرم کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔ حرم نے بہرام کی بات سن کر جھینپتے ہوئے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کرلیا۔۔۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ بہرام اُس کی کارستانی جان گیا تھا، حرم کے دوسری سمت دیکھنے پر بہرام کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی جسے محسوس کرکے حرم ناراضگی سے اُسے دیکھنے لگی
“آپ جاگے ہوۓ تھے ناں اُس وقت، بہت بدتمیز ہیں آپ۔۔۔ اِس طرح واشروم میں چلے آئے جانتے ہیں کہ مجھے کتنی شرم آتی ہے، جائیے ابھی یہاں سے پلیز”
اپنے بےحد نزدیک کھڑے بہرام کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ اُسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی تو بہرام نے اُس کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگاۓ
“آج تمہاری شرم کا علاج کیے بغیر تو میں یہاں سے ہرگز نہیں جاؤ گا۔۔۔ اتنی شرم آتی کیوں ہے تمہیں ابھی تک جبکہ پچھلے ہفتے سے تم مجھے ہر وقت ہی اپنے اتنے قریب دیکھتی ہو،، کیا تمہاری طرف سے پیش قدمی دیکھنے کے لیے مجھے اِسی طرح سونے کی ایکٹیگ کرنا پڑے گی، جواب دو مجھے”
حرم کی دونوں کلائیاں پکڑے اپنا چہرہ اُس کے چہرے کے نزدیک لائے بہرام اُس کا سرخ چہرہ دیکھ کر حرم سے پوچھنے لگا۔۔۔ رومینس کے معاملے وہ بہت زیادہ شاۓ نیچر کی تھی، بہرام کو حرم کا یہ روپ پسند ہونے کے باوجود، کبھی کبھی اُس کو تنگ کرتا
“آپ جتنی بہادر نہیں ہوں میں، نہ ہی آپ کے جتنی ہمت رکھتی ہوں۔۔۔ آپ سمجھ جاۓ ناں بہرام”
حرم نظریں جھکاتی ہوئی بہرام سے بولی۔۔۔۔ وہ تو بہرام کی نظروں سے،، اور اُس کے ارادے جان کر لائٹ بند کرنے کے بعد اپنی آنکھیں بھی بند کرلیا کرتی تھی اِس وقت واش روم میں اتنی روشنی تھی کیسے وہ اس کے اتنے قریب ٹاول میں کھڑی تھی یہی محسوس کرکے حرم کی حالت غیر ہورہی تھی
“تھوڑا بہت بہادر تو میں تمہیں چند دن گزرنے کے بعد بناہی ڈالوں گا”
بہرام اُس کی ایک کلائی چھوڑتا ہوا بولا۔۔۔ تو حرم کے دل کی دھڑکن وہی تیز ہوگئیں کیوکہ بہرام کا ہاتھ اُس کے دل پر الفابیڈ (B) پر ٹک گیا تھا
“تم جانتی ہو اِس (B) کا کیا مطلب ہے”
بہرام اپنا چہرہ حرم کے چہرے کی جانب جھکاۓ اُس کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
“بی سے بدتمیزی۔۔۔۔ جس پر آپ صبح صبح اترے ہوۓ ہیں۔۔۔ بہرام جائیے یہاں سے”
حرم نے بولتے ہوۓ بہرام کو آنکھیں دکھائی تو بہرام نے جھک کر الفا بیٹ( B) پر اپنے ہونٹ رکھے جس پر حرم سمٹ کر رہ گئی
“بالکل ہی غلط جواب۔۔ (B) سے بےشرمی جس پر میں تھوڑی دیر میں اُترنے والا ہوں”
بہرام نے بولتے ہوۓ اُس کا ٹاول اتارنا چاہا وہی حرم نے اُس کا ارادہ بھانپ کر اُسے روک لیا
“پھر میں (B) سے (bohat) سارا ناراض ہوجاؤ گی”
حرم بہرام کو دھمکی دیتی ہوئی بولی اور بہرام کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی تو بہرام نے شاور کھول دیا
“مجھے اُس وقت بتانے دو کہ تم ( B) سے کتنی بیوٹیفل ہو۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ اِس وقت میرا دل (B) سے کتنا بےایمان ہورہا ہے”
بہرام بولتا ہوا شاور کے نیچے کھڑا حرم کی گردن پر محبت کی مہریں نچاور کیے دے رہا تھا۔۔ اُس کی بڑھتی ہوئی شدت پر حرم گھبراتی ہوئی بولی
“آپ (B) سے بہت بےرحم ہیں بہرام”
اُس کی بڑھتی ہوئی وارفتگی سے حرم اپنی آنکھیں بند کرتی بولی، ٹاول جو اب بہرام کی بڑھتی ہوئی شدت سے نیچے گرچکا تھا۔۔۔ حرم اپنے وجود کو بہرام کے اندر چھپانے کی کوشش کرنے لگی
“بی سے بےرحم سہی مگر (B) سے بےوفا نہیں ہوں۔۔۔۔ تم نے میرے وجود کے اندر (B) سے (Bechaini) بڑھا کر مجھ کو (B) سے بہت زیادہ (Beqarar) کردیا ہے۔۔۔۔ اب (B) سے محبت کی (Barsaat) میں بھیگنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔۔۔ کیوکہ مجھے اس وقت (B) سے تمہارا (Bukhaar) چڑھ گیا ہے”
بہرام اس کا وجود اپنی باہوں میں چھپاۓ اُس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا۔۔۔ وہ دونوں شاور کے نیچے ایک دوسرے کے وجود میں بالکل گُم کھڑے تھے
“تم تو (B) سے (Bilkul) چپ ہوگئی ہو… (B) سے کچھ تو (Bolo)”
بہرام حرم کو بولنے پر اُکساتا ہوا کندھے سے اُس کے بال ہٹاکر اُس کے کندھے کو چومنے لگا
“آپ اِس وقت (B) سے میری بولتی بالکل بند کرچکیں ہیں”
حرم کے بولنے پر بہرام کو اُس پر ترس آگیا۔۔۔ وہ ٹاول کو دوبارہ اُس کے گرد لپیٹتا ہوا اسے بیڈروم میں لے جانے لگا
“مجھ سے کبھی بھی (B) سے بدگمان مت ہوئیے گا بہرام۔۔۔ میں آپ سے دور جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی”
روم میں آکر حرم نے باتھ گاؤن پہنا تو بہرام ٹاول سے اپنے بال خشک کرنے لگا تب حرم اُس کے سامنے آکر بولی
“تمہیں ہمیشہ (B)سے اپنی (Bahon) میں رکھو گا۔۔۔ یہ تصور اپنے زہن سے نکال دو کہ ہم دونوں ایک دوارے سے دور ہوسکتے ہیں”
بہرام حرم کو بانہوں میں لیتا ہوا بولا۔۔۔ معلوم نہیں حرم نے دوری یا بدگمانی کی کیوں بات کی تھی۔۔۔ کیا اُسے اینجل پر شک ہوگیا تھا یا پھر ویسے ہی۔۔۔ مگر بہرام نے سوچ لیا تھا وہ اینجل کا جلد پتہ لگا کر اُس سے اپنے تمام معاملے ختم کرکے یہ چیپٹر ہمیشہ کے لیے کلوز کردے گا
“تمہیں حرم کے ساتھ اپنے گھر میں دیکھ کر اتنی خوشی ہورہی ہے کیا بتاؤں۔۔۔ وہ یہ بات تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں کہ تم ہماری حرم کو کس قدر خوش رکھا ہوا ہے۔۔۔ حرم کا کھلا کھلا روپ ہی یہ بات بتانے کے لئے کافی ہے۔۔۔ کسی سے بھی پوچھ لو میں تو ٹھوک بجا کر کہو گی اگر کسی کو داماد ملے تو بہرام جیسا۔۔۔ شکل و صورت میں عادت و اخلاق میں ہر چیز میں اعلی۔۔۔ برا تو اسجد بھی نہیں ہے مگر تم سے تھوڑی مقابلہ کرسکتا ہے”
نزہت چچی بہرام کے سامنے بیٹھی آج اسی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی
آج صبح ہی حرم کا ارادہ بن گیا تھا اپنے چچا کی طرف جانے کا اس نے بہرام کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو وہ حرم کو فوراً یہاں لے آیا۔۔۔ چچا جان تو اس وقت اپنے دوست کی طرف ملنے کے لیے نکلے ہوئے تھے مگر حرم کے ساتھ بہرام کو دیکھ کر نزہت چچی نے ان دونوں کا پرتپاک طریقے سے استقبال کیا تھا۔۔۔
سردیوں کی ہلکی ہلکی دھوپ بھلی لگ رہی تھی اس لئے وہ دونوں صحن میں کرسیوں پر بیٹھے باتیں کررہے تھے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب تھا کہ نزہت چچی بہرام کی پرسنالٹی سے متاثر ہوکر اُس کی تعریفیں کئے جارہی تھی وہ خاموش بیٹھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد مسکرا دیتا جبکہ حرم کچن میں موجود چائے بنانے کے ساتھ ساتھ چچی کی باتیں بھی ملاحظہ فرما رہی تھی
حرم چائے کے کپ اور بسکٹ کی پلیٹ ٹرے میں رکھ کر صحن میں آئی تو بہرام کی مسکراتی نظروں کے ساتھ نزہت چچی کی نظریں بھی اُس کے روپ پر آٹہریں۔۔۔ خوبصورت تو پہلے سے ہی تھی لیکن شادی کے بعد ایسا روپ نکھر کے سامنے آیا تھا کہ دیکھنے والا اُس کے اوپر اور اُس کی قسمت پر رشک کرتا
“اتنی پیاری بچی ہے حرم، بیٹا میں کیا بتاؤں تمہیں۔۔۔ شروع سے ہی نیک فرمابردار سعادتمند اور خوبصورتی میں تو اِس نے پورے خاندان کو مات دے رکھی ہے”
بہرام کی محبت بھری نظریں حرم پر دیکھ کر اب نزہت چچی حرم کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع ہوچکی تھی
“جی نزہت چچی یہ بات تو آپ نے سولہ آنے سچ کہی ہے” بہرام نے چچی ساس کی ہاں میں ہاں ملائی تو حرم کے گال گلابی پڑنے لگے وہ مشکل سے مسکراہٹ کنٹرول کر کے بہرام کی طرف دیکھنے لگی جو مسکراتی نظروں سے اِسی کو دیکھ رہا تھا
“ارے بیٹا تمہیں معلوم ہے اپنی حرم کو بچپن میں پولیس والوں سے اتنا ڈر لگتا تھا جہاں کہیں باہر یہ کوئی پولیس والا دیکھتی تو ایسے ڈر کر گھر بھاگ جاتی جیسے پولیس والا بس ابھی اِس کو اٹھا کر لے جائے گا”
نزہت چچی حرم کے بچپن کی بات بہرام کو مزے سے بتانے لگی جس پر حرم نے بہرام کی طرف نہیں دیکھا، نزہت چچی کے سامنے چائے رکھتی ہوئی یہ ضرور بولی کہ وہ چائے لے لیں ورنہ باتوں میں چائے ٹھنڈی ہوجائے گی
“ہیں یہ کیا تم نے چائے کے ساتھ سوکھے سے بسکٹ لاکر رکھ دیے ہیں۔۔۔ بیٹا تمہارا شوہر داماد ہے اِس گھر کا۔۔۔ نمکو نکال لیتی فرج میں کباب رکھے ہیں وہ تل لیتی۔۔۔ حد کرتی ہو تم بھی کبھی کبھی نگی کی طرح”
نزہت چچی حرم کو ٹوکتی ہوئی بہرام کے منع کرنے کے باوجود اٹھ کر خود کچن میں چلی گئی
“تو بچپن میں حرم صاحبہ پولیس والوں سے ڈرتی تھی”
بہرام چائے گا سپ لیتا ہوا حرم کو مسکراتی نظروں سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“چچی بھی نہ جانے کون کون سے قصے لےکر بیٹھ جاتی ہیں وہ تو صرف بچپن کی بات تھی، اب تھوڑی کوئی پولیس والے سے ڈرو گی”
حرم پلیٹ سے بسکٹ اٹھاتی ہوئی بہرام سے بولی
“ہاں اب تو حرم صاحبہ کو ڈائریکٹ پولیس والے پیار آجاتا ہے”
بہرام کی بات پر وہ بلش کرنے کے باوجود گھورتی ہوئی بہرام کو دیکھنے لگی
“اف بہرام ساری آوازیں کچن میں جاتی ہیں۔۔۔ آپ کی طرح نزہت چچی کے کان بھی بہت لمبے ہیں۔۔۔ کچھ تو خیال کریں”
حرم کے گھبرا کر بولنے پر بہرام مسکرانے لگا اتنے میں چچا جان گھر آگئے تو حرم انہیں سلام کرتی حال احوال پوچھ کر خود کچن میں چلی آئی
“چچی یہ کن کاموں میں لگ گئیں آپ، بہرام ابھی تھوڑی دیر میں اٹھنے کا کہہ دیں گے”
حرم کچن میں آئی تو نزہت پلاؤں کے لیے یخنی چڑھا چکی تھی اور قورمے کے لیے پیاز کاٹ رہی تھی حرم چچی کو دیکھ کر بولنے لگی
“ایسے کیسے اٹھنے کا بول دے گا، داماد کو ایسے سوکھے منہ رخصت نہیں کرتے ہم لوگ۔۔۔ دوپہر کا کھانا کھائے بغیر تو تمہارے چچا بھی اُس کو نہیں جانے دیں گے۔۔۔ اور تم نے فارغ مت کھڑی رہو، ایسا کرو فریج سے شامی کباب اور فرائی کرنے کے لیے مچھلی نکال کے لے آؤ۔۔۔ میٹھا بھی بہرام کی پسند کا بنالینا۔۔۔ ارے ہاں تو میں یہ تو بتانا بھول گئ کہ نگی بھی رات کو رکنے کے لیے آرہی ہے چاہو تو تم بھی رک جانا، بھئی تم دونوں ہی تو ایک دوسرے کی بچپن سے سکھ دکھ کی ساتھی ہو۔۔۔ بہرام اگر روکنے کی اجازت دے تو دیکھ لینا”
نزہت چچی کام میں مگن ہونے کے ساتھ ساتھ حرم سے بولی تو اُس نے اثبات میں سر ہلایا
اتفاق سے کل نگی نے اسے موبائل پر بتایا تھا کہ یہاں رکنے آئے گی اسی نے حرم کو بلایا تھا۔۔۔ حرم نے رکنے والی بات بہرام سے تو نہیں کی تھی وہ چچا چچی سے مل کر واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھی مگر اب سوچ رہی تھی بہرام کی اجازت پر وہ رک جاۓ
“یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہوں کہیں ایسا تو نہیں کہ بہرام کا دل نہیں لگے گا تمہارے بغیر”
نزہت چچی کے ہنس کر بولنے پر حرم بری طرح جھینپ گئی
“نہیں نہیں چچی ایسی کوئی بات نہیں میں تو کچھ اور سوچ رہی تھی آج رات کو آپ کے پاس رکنے کے ارادے سے ہی آئی ہوں، کل نگی نے فون پر بتایا تھا کہ وہ رات میں خود بھی رکنے کے لیے آۓ گی”
حرم اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی جلدی سے بولی
“شوہر کی نظر بتا دیتی ہیں کہ بیوی اُس کے دل پر راج کرتی ہے ایک عمر گزری ہے تجربے تو ہوگیا ہے مجھے، تم خوش نصیب ہو جو بہرام جیسا چاہنے والا شوہر ملا ہے تمہیں آگے بھی اُس کی چاہت برقرار رہے یہ سمجھ دار لڑکی کے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے میری دعا ہے بہرام ساری زندگی تمہیں اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھیے۔۔۔ بس میری نگی۔۔”
نزہت چچی اس کے لئے دل سے دعا کرتی ہوئی آخر میں اپنی بیٹی کا سوچ کر ٹھنڈی آہ بھرنے لگی
“آپ نگی کے لیے پریشان مت ہو چچی”
حرم جانتی تھی نزہت چچی کیا سوچ رہی ہیں اِس لیے انہیں تسلی دیتی ہوئی بولی
“بنایا ہوگا تمہیں فون پر نگی نے، کل کس طرح وہ اسجد کی بہن کے ساتھ لڑی ہے۔۔ کتنا سمجھاتی ہوں میں اِس لڑکی کو کہ گھر بسانے کے لیے یہ لچھن اچھے نہیں مگر میری مانے تب ناں آج وہ رکنے آۓ گیں تو تم اسے سمجھانا”
نزہت چچی نگی کی فکر کرتی حرم سے بولی تو حرم اپنی چچی کو مزید تسلی دینے لگی
