No Download Link
Rate this Novel
Episode 05
“ہاں بولوں خیریت ہے کیسے کال کی”
دو منٹ پہلے ہی وہ سینٹرل جیل سے پولیس اسٹیشن آکر بیٹھا تھا تبھی اُس کے موبائل کی اسکرین پر حرم کا نمبر جگمگانے لگا بہرام مصروف انداز میں کال ریسیو کرتا ہوا بولا
“شاید آپ ابھی بزی ہیں میں بعد میں کال کرلیتی ہوں”
کال کرتے وقت بھی حرم یہی سوچ رہی تھی کہ بہرام اِس وقت بزی نہ ہو مگر اُس کے انداز سے لگ رہا تھا وہ واقعی بزی تھا اس لئے حرم بولتی ہوئی کال کاٹنے لگی
“بزی تو ہوں مگر اتنا بھی نہیں، تم بات کرنا چاہ رہی ہو تو تمہارے لیے وقت نکال سکتا ہوں۔۔۔ ہاں اگر آدھا گھنٹہ پہلے تم فون کرتی تو شاید پھر میں تم سے بات نہیں کرپاتا”
بہرام نے بولتے ہوئے گویا اُس پر احسان جتاتے ہوۓ اُسے خود سے بات کرنے پر پرمیشن دی
“صرف میرے اکیلے کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے میں کال رکھ رہی ہو”
حرم بےدلی سے شکوہ کرتی ہوئی بولی
بہرام پرسوں صبح اُسے اُس کے چچا کے گھر چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ دو دن سے اُس نے نہ تو بہرام کا چہرہ دیکھا نہ آواز سنی۔۔۔ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے باوجود اُسے بار بار بہرام کا خیال آرہا تھا اِس لئے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اُس نے بہرام کو کال ملائی تھی مگر کال ملاتے وقت وہ یہی سوچ رہی تھی کہ نہ جانے اِن دو دنوں میں بہرام نے اُس کو یاد بھی کیا تھا یا کہ نہیں۔۔۔ مگر بہرام کی بےنیازی دیکھ کر اُس کا دل اداس ہوگیا
“تمہاری چاہت تمہاری مرضی ہے تو میٹر کرتی ہے ہمارے رشتے میں لڑکی”
اُسے اسپیکر سے بہرام کی آواز سنائی دی تو حرم اپنے موبائل کو گھورنے لگی پھر کان سے لگاکر بولی
“اِس بات کا مطلب”
اُس کی بات حرم کے سر سے گزر گئی تھی اِس وجہ سے حرم بہرام سے اُس کی بات کا مطلب پوچھنے لگی
“تمہیں اگر مطلب کی باتیں سمجھانے پر آگیا تو سارا وقت میرا اِسی چکر میں گزر جائے گا اور مطلب کی باتیں تب بھی تمہارے سمجھ میں نہیں آئے گیں، اِس لئے میرے “مطلب” کی باتوں کو اتنا سنجیدہ مت لیا کرو بس خوش رہا کرو”
بہرام کی بات پر وہ پھر سے اچھی خاصی کنفیوز ہوچکی تھی اِس لیے بولی
“بہت مشکل باتیں کرتے ہیں آپ، میرا ننھا سا ذہن آپ کی باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے”
حرم بےچارگی سے بولی تو اُسے بہرام کے مسکرانے کی آواز سنائی دی
“وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ساری باتیں خود ہی سمجھ جاتا ہے پریشان مت ہوا کرو یہ بتاؤ کیا کر رہی تھی، اور یہ تمہاری آواز کیوں اتنی خراب ہورہی ہے کیا فلو ہوگیا ہے تمہیں”
بہرام کے یوں اچانک پوچھنے پر حرم دنگ رہ گئی وہ کتنے آرام سے جان گیا تھا اُس کو فلو ہوگیا تھا۔۔۔ اب حرم اُس کو کیا بتاتی اُس کی آمد پر نزہت چچی نے دھونے والے کپڑوں کا ڈھیر جمع کرکے رکھا تھا اُس نے کل بھی کپڑے دھوئے تھے اور آج بھی بیڈ شیٹز اور تکیوں کے غلاف اور کشنز کے لئے کے لئے مشین لگائی تھی جس کی وجہ سے اُس کو فلو ہوچکا تھا
“موسمی نزلہ زکام تو چلتا رہتا ہے خود ہی ٹھیک ہوجائے گا یہ بتائیں آدھے گھنٹے پہلے آپ کیا کررہے تھے کہاں بزی تھے”
حرم نے بہرام کی توجہ اپنے زکام سے ہٹانے کی غرض سے اُس سے سوال پوچھ لیا
“سینٹرل جیل گیا تھا دو قیدیوں نے پچھلے 10 دن سے جیل کا ماحول کافی زیادہ خراب کیا ہوا تھا، ان دونوں کو سمجھاکر آرہا ہوں کہ جیل میں کس قاعدے سے انہیں رہنا ہے”
بہرام ریلیکس انداز میں حرم سے بات کررہا تھا تو حولدار کے آنے پر بہرام نے حرم کو ہولڈ کے لئے بولا
“اے سی پی صاحب جن دو قیدیوں کی آپ تھوڑی دیر پہلے مرمت کرکے آرہے ہیں ان میں سے ایک قیدی کے ہاتھ کی ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے دوسرے کے سر سے ہونے والی بلیڈنگ نہیں رک رہی ہے۔۔۔ انسپکٹر مہران کہہ رہے ہیں کہ اُن دونوں کو اسپتال لے جانا ضروری ہے آپ کی پرمیشن چاہیے جی اِس پرچے پر سائن کردیں آپ”
حوالدار کی آواز حرم کے کانوں میں پڑی تو خوف کے مارے اُس کی ریڑھ کی ہڈی سنسنانے لگی
“ہیلو۔۔۔ کیا ہوا کیا تم سو تو نہیں گئی”
بہرام نے پرچے پر سائن کرنے کے بعد دوبارہ حرم کو مخاطب کیا
“کیا آپ کو اُن دونوں کو مارتے وقت اُن پر بالکل ترس نہیں آیا۔۔۔ مطلب آپ ایک آدمی کی ہڈی توڑ کر اور دوسرے آدمی کا سر کھول کر آرہے ہیں اور مجھے اِس وقت کس قدر ریلکس موڈ میں بات کررہے ہیں”
حرم افسوس کرتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی
“میرا پیشہ مجھے ایسے لوگوں پر ترس کھانے کی اجازت نہیں دیتا”
وہ حرم کو عام سے انداز میں سمجھاتا ہوا بولا
“جبھی تو میں آپ کو بالکل صحیح بےرحم بولتی ہوں”
بےساختہ حرم کے منہ سے نکلا تو دونوں طرف موبائل پر خاموشی چھاگئی جسے چند سیکنڈ بات بہرام کی آواز نے توڑا
“کیا میں تمہارے لئے بھی بےرحم ثابت ہوا ہوں”
بہرام خاموشی توڑنا ہوا حرم سے پوچھنے لگا
“یہ بات تو آپ کبھی خود اپنے آپ سے تنہائی میں پوچھیے گا آپ کو جواب مل جائے گا اپنے سوال کا”
حرم کے بولنے پر وہ بےساختہ بولا
“تو تم چاہتی ہو کہ میں تنہائی میں تمہاری ذات کے متعلق سوچوں اور تمہیں سوچتے سوچتے مجھے تم سے محبت ہوجائے”
بہرام کے پوچھنے پر حرم ایک دم بولی
“اگر میں آپ سے بولوں ہاں،، تو کیا آپ تنہائی میں مجھے سوچیں گے مجھ سے محبت کریں گے بہرام”
معلوم نہیں موبائل پر کیسے حرم اُس سے یہ بات پوچھ بیٹھی روبرو تو وہ بہرام کے سامنے ایسا کچھ بولتے ہوئے بھی لاکھ بار سوچتی
“گھر واپس کب آنا ہے تمہیں”
اپنی بات کے جواب میں وہ بہرام کی بات سن کر اداسی سے مسکرائی
“یاد تو میری بالکل بھی نہیں آئی ہوگی آپ کو تو پھر واپس گھر آنے کا کیوں پوچھ رہے ہیں”
حرم کی بات سن کر وہ ایک بار پھر ضبط سے لب بھینچ گیا
“میرا ٹف اور بزی شیڈول تمہیں یاد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔ کل ڈرائیور بھیج دوں گا اُس کے ساتھ واپس آجانا”
بہرام جیسے بات کو نبھٹاتا ہوا سپاٹ لہجے میں بولا
“ٹھیک ہے میں واپس آجاتی ہوں لیکن ڈرائیور کو مت بھیجیں آپ خود مجھے کل شام میں لینے کے لیے آجائیں۔۔۔ دراصل چچا جان چاہ رہے تھے کل رات کا ڈنر آپ یہی پر کریں”
وہ چاہ کر بھی اس کی طرح کا لہجہ نہیں اپنا سکی اور اپنے چچا کا مسیج دیتی ہوئی بہرام سے بولی
“کھانے والے کا چکر پالنے کی ضرورت نہیں ہے میں بالکل بھی نہیں آسکوں گا تم خود اپنے چچا چچی کو سمجھا دینا۔۔۔۔ اِس طرح کی ڈنر پارٹیز کا میں عادی نہیں ڈرائیور تمہیں شام میں لینے آجائے گا تو اُس کے ساتھ گھر آجانا”
بہرام نے بولتے ہوئے آگے سے حرم کی بات سننے کی زحمت نہیں کی اور کال کاٹ دی۔۔۔
بہرام کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ اپنے رویے، باتوں اور لہجے سے اُس کے معصوم دل کو دوبارہ توڑ چکا تھا۔۔ مگر وہ بھی کیا کرتا آخر وہ کیو چاہ رہی تھی کہ وہ اُس کو سوچے اُس سے محبت کرے۔۔۔۔ آخر کیسے وہ اتنی وہ خود کو اپنے دل کو اُس سے محبت کرنے کے لیے آمادہ کرلیتا۔۔۔۔ بہرام نہ چاہنے کے باوجود حرم کو سوچنے لگا پھر اپنی سوچوں کو جھٹک کر لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔ تو اُس کے موبائل پر حرم کا ٹیکس آیا جسے ناچاہتے ہوۓ بھی وہ پڑھنے لگا
“آپ نے خود ہی مجھ سے کہا تھا میری چاہت میری مرضی میٹر کرتی ہے تو پھر کیوں اپنی بات سے خود ہی مُکر رہے ہیں۔۔۔۔ میں نے تو آپ کو اپنی مرضی بتادی کہ میں آپ سے آپ کی محبت چاہتی ہوں۔۔۔ مگر شاید آپ دوبارہ محبت کرنے سے ڈرتے ہیں۔۔۔ اِس کے بعد اب میں آپ سے کچھ نہیں بولوں گی کیوکہ آج آپ نے بتادیا ہے میری بےضرر سی ذات آپ کے سامنے اتنی بھی معنی نہیں رکھتی کہ میں آپ سے کچھ منوا سکو۔۔۔ آخری بات کل آپ کو اپنا ڈرائیور بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے میں چچا کے ساتھ خود آجاؤ گی”
ۂم چھین لیں گیں تم سے یہ شانِ بےنیازی۔۔۔
تم مانگتے پھرو گے اپنا غرور ہم سے۔۔۔
حرم کا میسج پڑھنے کے بعد بہرام نے اپنا موبائل ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔ چاہنے کے باوجود اُس کا کسی دوسرا کام میں دل نہیں لگ سکا صرف ایک بےضرر سی ذات کو سوچنے کے سوا
“سر آپ کے آرڈر پر ایس پی بہرام عباسی کی بیوی کے بارے میں تمام معلومات بمعہ اُس کی تصویر کے ساتھ اکٹھا کرکے آپ کے پاس لےکر آیا ہوں”
یعقوب نیازی کے آدمی نے بولنے کے ساتھ خاکی رنگ لفافہ یعقوب نیازی کو تھمایا تو یعقوب نیازی اس میں سے تصویر نکال کر دیکھنے لگا جسے دیکھ کر اس کا اچھا خاصا موڈ خراب ہوا
“ایک تو تم نئے آنے والوں کا یہی مسئلہ ہے کوئی کام تم لوگ ڈھنگ سے نہیں کر سکتے یہ ای سی پی کی دوسری بیوی کی نہیں ہے بلکہ پہلی بیوی کی تصویریں ہیں جو دو ماہ پہلے مر چکی ہے”
یعقوب نیازی نے اپنے آدمی کو جھڑکتے ہوئے کہا اور غُصے میں ہاتھ میں موجود تصویریں بھی فرش پر پھینک دیں اُسے بھلا اِس مری ہوئی لڑکی میں کیا دلچسپی ہو سکتی تھی جو اس دنیا میں موجود نہیں تھی اُسے تو اے سی پی کی نئی بیوی چاہیے تھی وہ بھی اپنے بستر پر،، تاکہ وہ بہرام عباسی کو اذیت میں دیکھ سکے اور ساتھ ہی اپنے بھائی کا بھی اُس سے پتہ لگا سکے
“سر یہ لڑکی کیسے مر سکتی ہے میں نے دو دن پہلے ہی اسے اے سی پی بہرام کے ساتھ اُس کی گاڑی میں دیکھا ہے۔۔۔ یہ اے سی پی کی پہلی نہیں دوسری بیوی ہے معاف کیجئیے گا آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی یہ دیکھیے میں اِس لڑکی کی پوری معلومات لےکر آیا ہوں”
یعقوب نیازی کا آدمی اپنے موبائل میں جمع معلومات یعقوب نیازی کو بتانے لگا جس پر یعقوب نیازی حیرت میں ڈوب گیا
“ایک ہی شکل کی دو لڑکیاں اور دونوں ہی اے سی پی کی بیویاں۔۔۔ یہ کیا ماجرہ ہے اب تو اس معاملے کی تہہ تک جانا ہوگا ایسا کرو جتنی جلدی ہو سکے موقع ملتے ہیں اِس کی بیوی کو اُٹھا کر میرے فارم ہاؤس پر لے آؤ”
یعقوب نیازی اپنے آدمی کو حکم دیتا ہوا اُسے واپس کانے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔ کیوکہ اُس کی بیوی اسکے دونوں بچوں کے ساتھ واپس گھر آنے والی تھی اور وہ اپنے بچوں سمیت اپنی بیوی کو اپنے کسی بھی برے کارناموں کی بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا
اسے ذرا بھی یقین نہیں تھا کہ بہرام دوسرے دن اس کے چچا کے گھر آجائے گا وہ بہرام کی یوں اچانک آمد پر بےحد خوش تھی بہرام اُس کو خوش دیکھ کر مسکرادیا اپنے سسرال میں آج اُس کی پہلی بار آمد ہوئی تھی اِس لیے حرم کے چچا اور چچی نے اُس کا بھرپور طریقے سے استقبال کیا۔۔۔ حرم کی خوشی اُس کے چہرے سے چھلک رہی تھی بہرام صوفے پر بیٹھا اُس کے چچا اور چچی سے باتیں کررہا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد اُس کی نظر حرم پر اٹھتی تب حرم کو احساس ہوا اُس نے ابھی تک کپڑے تبدیل نہیں کیے تھے۔۔۔ آج اس کے چچا چچی نے کھانے پر بہرام کے علاوہ اپنے داماد اور بیٹی یعنی اسجد اور نگی کو بھی بلایا تھا اِس لئے حرم صبح سے ہی گھر کی صفائی اور کھانے بنانے کے چکروں میں خوار ہورہی تھی
اس نے سرسری سے انداز میں یہ بات پہلے ہی چچا چچی کے کانوں میں ڈال دی تھی کہ وہ دونوں بہرام کے سامنے اسجد سے اُس کی مگنی والی بات سے گریز کریں ویسے بھی اُس کے چچا چچی ایسے باتوں اور معاملوں کی اونچ نیچ کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اُس کو مکمل یقین تھا وہ دونوں ہی بہرام کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جو بگاڑ کا سبب بنے بےشک اُن دونوں کو اس سے محبت یا لگاؤ اُس نوعیت کا نہ ہو مگر وہ دونوں نہیں چاہتے ہوگے کہ اس کے اور بہرام کے بیچ تعلقات خراب ہو۔۔۔ حرم وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں آگئی تاکہ کپڑے چینج کرکے اپنا حلیہ درست کرلے۔۔۔ وہ کپڑے تبدیل کرکے واش روم سے دوبارہ کمرے میں واپس آئی تو اس نے بہرام کو کمرے میں موجود پایا بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھتی ہوئی وہ بہرام کو دیکھنے لگی
“شکریہ آپ نے میری بات کا مان رکھا اور آپ یہاں آگئے”
دوسری ساری باتوں کو نظر انداز کرکے وہ ہلکے انداز میں بہرام کا شکریہ ادا کرتی ہوئی بولی تو بہرام مسکرا کر چلتا ہوا حرم کے قریب آیا
“شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میری یہاں آمد کی وجہ یہی ہے کہ ایک لڑکی کو یہ بتانا ضروری تھا کے میں اُس کے معاملے میں اتنا بھی بےرحم نہیں ہوں جتنا وہ سمجھ بیٹھی ہے”
بہرام حرم کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس سے بولا تو حرم بھی خاموشی سے بہرام کو دیکھنے لگی۔۔۔ اپنی بات مکمل کرنے پر بہرام نے حرم کا ہاتھ تھاما تو وہ حیرت ذدہ سی خواب کی کیفیت میں بہرام کو دیکھنے لگی
“میں اِس بات کو مانتا ہوں ہماری شادی کے پہلے دن سے میں نے جو رویہ تمہارے ساتھ رکھا بالکل غلط تھا۔۔۔ اپنے رویے سے میں تمہارا دل بہت زیادہ دکھا چکا ہوں۔۔ اگر تم اینجل کی ہم شکل نہیں ہوتی تو شاید حالات اِس سے مختلف ہوتے۔۔۔ اگر تم میری جگہ کھڑی ہوکر دیکھو تو شاید تم میری کیفیت پر غور کرسکو لیکن یہ بھی سچ ہے میرے لیئے تمہاری ذات بےضرر یا بےمعنی ہرگز نہیں کیونکہ تم ایک صاف دل کی لڑکی ہو۔۔۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ ہم دونوں کے بیچ سب ٹھیک ہوجائے، میں تم پر یقین کرنا چاہتا ہوں حرم۔۔۔۔ ایک حادثے نے میرے اندر ہزبنڈ اور وائف کے ریلیشن کو لےکر بہت زیادہ بےاعتباری بھر دی ہے۔۔۔ میں اِس بےاعتباری کو اپنے اندر سے ختم کرکے تمہارے ساتھ خوش حال زندگی گزارنا چاہتا ہوں مگر ایسا فوری طور پر تو ممکن نہیں، اپنے دل اور دماغ کو سمجھانے میں اور منانے میں مجھے تھوڑا وقت لگے گا۔۔۔۔ حرم تم مجھے تھوڑا سا وقت دوگی، میں تمہیں یقین دلاتا ہوں ہم دونوں کے بیچ پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا”
کل شام حرم کی باتوں کو سوچ کر اور اُس کا میسج پڑھ کر۔۔۔۔ پھر کچھ بھی بہرام سے سوچا نہیں گیا وہ جس نتیجے پر پہنچا تھا اِس وقت حرم کے سامنے کھڑا سب اُس سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔ بہرام کے منہ سے ایسی باتیں سن کر حرم کو تو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ سب کچھ بہرام اُس سے کہہ رہا ہو حرم کو لگا کہ وہ ابھی اِس حسین خواب سے جاگ جائے گی
“آپ کے منہ سے میرا نام بہت اچھا لگتا ہے بہرام آپ مجھے اے لڑکی کہنے کی بجائے حرم ہی کہہ کر پکارا کریں مجھے بہت اچھا لگے گا”
آج اُس کے شوہر نے اُس کا نام بھی تو اپنے منہ سے پہلی بار لیا تھا وہ خوش کیوں نہ ہوتی اُس کی ذات اسکے شوہر کے لیے معنٰی رکھتی تھی حرم مسکرا کر بہرام کو دیکھنے لگی۔۔۔ بہرام حرم کی بات سن کر خود بھی مسکرا دیا اور حرم بہرام کی مسکراہٹ کو غور سے دیکھنے لگی جو اُس کے چہرے پر کافی اچھی لگتی تھی۔۔ وہ حرم کا ہاتھ تھامے اُسے وہی ڈائمنڈ کے رینگ پہنانے لگا جو اُس نے منہ دکھائی میں دی تھی جس کو ڈبیا کھول کر حرم نے دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی بلکہ ویسے ہی دراز میں رکھ دی تھی آج وہ اپنے ہاتھ کی انگلی میں پہنی ہوئی وہی ڈائمنڈ کی رینگ دیکھ کر بہت زیادہ خوش تھی
“تو تم یہاں اپنی طبعیت کو دیکھتے ہوۓ آرام کرنے کی بجاۓ کپڑے دھونے اور کھانا بنانے آئی تھی”
بہرام ہلکے انداز میں اُس پر طنز کرتا ہوا بولا جب تک وہ اُس کی چچی کے بعد بیٹھا رہا تھا تب وہ حرم کے گن کا کر پرسوں سے اُس کے کیے گئے سارے کاموں کا بتارہی تھیں۔۔۔ بہرام کی بات پر حرم گھور کر اسے دیکھنے لگی
“چچی اکیلا اتنا سب کچھ کیسے کرتی ہیں ان کی عمر تھوڑی رہی ہے یہ سب کام کرنے کی۔۔۔ اچھا آپ ایسا کریں ڈرائنگ روم میں جاکر بیٹھیں شاید نگی اور اسجد بھائی آچکے ہیں میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں”
باہر آوازوں سے محسوس ہورہا تھا کہ نگی اور اسجد آچکے تھے تبھی حرم بہرام سے بولی
“میرے یہاں سے جانے سے پہلے تو مجھے ویسے ہی شرما کر دکھاؤ جیسے تم مجھے دیکھ کر اکثر شرما جاتی ہوں”
بہرام کو چند دن پہلے وہ دن یاد آیا جب اُسے بغیر شرٹ کے دیکھ کر وہ شرما رہی تھی اس لئے اس نے مسکراتے ہوئے حرم سے فرمائش کر ڈالی
“ایسے کیسے خود سے کوئی شرما سکتا ہے آپ بھی عجیب سی بات کررہے ہیں”
بہرام کی بات پر حرم مزید آنکھیں پھیلاکر اُس سے ہنستی ہوئی بولی
“یہ بھی ٹھیک بولا تم نے کوئی بلاوجہ کیسے خود سے شرما سکتا ہے شرمانے کا کوئی جواز تو ہونا چاہیے”
بہرام نے بولتے ہوئے اچانک حرم کو تھام کر اُس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔۔
یوں اچانک بہرام کی کاروائی پر وہ بری طرح بوکھلا گئی کمرے کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا کوئی بھی اندر آسکتا تھا حرم نے سوچتے ہوئے بہرام کو پیچھے دھکیلنا چاہا مگر بہرام خود ہی پیچھے ہوا۔۔۔ حرم بہرام کی حرکت پر اُسے حیرت سے دیکھنے لگی، یہ آج بہرام نے اُس کے ساتھ کیا کیا تھا سوچتے ہوئے حرم کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا اور آہستہ آہستہ گلابی ہوتا سرخ پڑگیا بہرام بہت غور اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا حرم کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھ کر وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا
“کیسی ہو نگی”
حرم تیار ہوکر ڈرائنگ روم میں آئی جہاں سبھی موجود باتیں کررہے تھے وہ اسجد کو سلام کرکے نگی کی طرف بڑھتی ہوئی اُس کا حال پوچھنے لگی
“تمہارے منگیتر سے شادی کرکے کیسی ہوسکتی ہو میں،، قسمت پھوٹ ہوچکی ہے میری”
نگی کی بات پر ڈرائیگروم میں سناٹا چھاگیا جہاں اس اسجد کے ساتھ چچا چچی بھی شرمندہ ہوۓ وہی نگی کی بات پر حرم سناٹے میں آگئی جبکہ بہرام کے چہرے پر ایک پل کے لیے حیرت کے تاثرات ابھریں جو آہستہ آہستہ غصے میں ڈھلنے لگے یہ انکشاف اُس کے لیے کسی شاک سے کم نہیں تھا کے اُس کی بیوی اپنے خالہ ذاد کی منگیتر رہ چکی ہے۔۔۔ حرم کے بارے میں سب معلومات کرواتے وقت بھی اتنی اہم بات اس کو معلوم نہیں ہوسکی تھی
“نگی تم ہوش میں تو وہ کیا اول فول بک رہی ہو”
کمرے میں ہوجانے والی خاموشی کو سب سے نزہت نے توڑا وہ نگی کے اِس طرح بولنے پر اُس کو سب کے سامنے ڈانٹتی ہوئی بولی
“مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہیں دیکھا نہیں آپ نے اِس کو، کیسے خوش ہوکر مجھ سے میرا حال پوچھ رہی ہے جانتی نہیں ہوں میں اِس کی خوشی کی وجہ۔۔۔ مجھے ناخوش دیکھ کر یہ کس قدر خوش ہے”
ایک بار پھر نگی نزہت کو دیکھ کر بولی تو نزہت نے اپنی بیٹی کی چلتی ہوئی زبان کو دیکھ کر اپنا سر پکڑلیا۔۔۔ اب اس کی زبان درازی سے صبیحہ بھی پریشان ہوچکی تھی او پچھتا رہی تھی کہ کیو اُس نے حرم کا رشتہ اپنے بیٹے سے ختم کرکے ایسی بد زبان لڑکی کو اپنی بہو بنالیا
“بہت ہوگیا نگی اب خاموش کرجاؤ”
اب کی بار اسجد خاموش نہیں رہا ہو وہ نگی کو آئستہ آواز میں سمجھاتا ہوا بولا۔۔۔ حرم صدمے کی کیفیت میں وہی بہرام کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ کے تاثرات دیکھ رہی تھی
“ہاں ہاں آپ کیوں نہیں بولے گیں اِس کی حمایت میں، ابھی تک اِس کے عشق کا بھوت جو نہیں اترا۔۔۔ اماں ابا میں نے آپ دونوں کو پہلے بھی منع کیا تھا جب یہ یہاں آیا کرے تو ہمہیں نہیں بلایا کریں۔۔۔ آپ پورا ایک وقت تک یہ شخص غمگین چہرہ لیے اِس کی یادوں کا سوگ بناتا رہے گا”
نگی جو نہ جانے کب سے بھری ہوئی بیٹھی تھی۔۔۔ آج پھٹتے ہوئے اُس نے حرم کے شوہر کا بھی لحاظ نہیں کیا۔۔۔ نگی کی بات پر اسجد بری طرح شمندہ ہوا۔۔۔ جبکہ بہرام کی بس ہوگئی وہ ایک دم صوفے سے اٹھا
“گھر چلو”
ناگوار تاثرات چہرے پر سجاۓ بہرام حرم کو دیکھ کر بولا۔۔۔ جبکہ چچا نے نگی کو بری طرح ڈاٹنا شروع کریا تھا۔۔۔ بہرام حرم کا انتظار کیے بغیر کمرے سے باہر نکل گیا
“بیٹا اِس کی بات کو محسوس مت کرنا میری بیٹی بہت کم عقل ہے”
ماحول ایسا نہیں رہا تھا کوئی اُن دونوں کو روکتا۔۔ نزہت چچی کمرے سے نکل کر بہرام کے پیچھے آتی ہوئی بولیں مگر بہرام اُن کی بات کے جواب میں خاموشی سے گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔ حرم کے گاڑی میں بیٹھتے ہی بہرام نے گاڑی اسٹارٹ کردی
کار ڈرائیو کرتے وقت حرم نے بس ایک بار نظر بہرام کے چہرے پر ڈالی اُس کے چہرے کے تاثرات کافی سخت اور پتھریلی تھے۔۔۔ جس کی وجہ سے حرم نے اُس سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔ فلیٹ کے اندر آنے کے بعد بہرام نے بیڈروم میں جانے کی بجائے دوسرے کمرے میں جاکر اندر سے دروازہ بند بند کرلیا جبکہ حرم بیڈروم میں آکر بیٹھ گئی
اس وقت گھڑی میں رات کے دو بج رہے تھے مگر بہرام ابھی تک دوسرے کمرے میں دروازہ بند کرکے بیٹھا تھا حرم ہمت کرتی ہوئی بیڈ روم سے اُٹھ کر بہرام کے پاس دوسرے کمرے میں گئی۔۔۔ حرم نے آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھولا تو اُسے سامنے صوفے پر بہرام بیٹھا ہوا نظر آیا حرم آئستگی سے قدم اٹھاتی بہرام کے پاس چلتی آئی وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاکر آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا۔۔۔ کمرے میں کسی دوسرے کی موجودگی کے احساس سے بہرام نے اپنی آنکھیں کھول کر اپنے سامنے کھڑی حرم کو دیکھنے لگا
“سوئی نہیں تم ابھی تک جاؤ جاکر سو جاؤ”
بہرام اپنے سامنے خاموش کھڑی حرم کو دیکھ کر بولا۔۔۔ اس کا لہجہ کسی بھی احساس سے عاری تھا
“اور آپ یہاں بیٹھ کر میرے بارے میں الٹا سیدھا سوچتے رہیں گیں ساری رات”
حرم نرمی سے بولتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی جس پر بہرام کے ماتھے پر شکن ابھری
“اے لڑکی زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے، بولا ناں جاؤ یہاں سے جاکر سو جاؤ”
بہرام کُھردرے لہجے میں اُس کو ڈانٹتا ہوا بولا تو اُس کے لہجے میں دوبارہ اجنبیت محسوس کرکے حرم کی آنکھیں نم ہونے لگی
“حرم سے دوبارہ لڑکی ہوگئی میں آپ کے لئے،، بس اتنا ہی کم اعتبار کیا آپ نے میری ذات پر بہرام”
حرم بولتی ہوئی چل کر مزید بہرام کے قریب آئی تو بہرام صوفے پر سیدھا ہوکر بیٹھا
“سمجھ میں نہیں آرہی تمہیں میری بات کیا بول رہا ہوں میں جاؤ یہاں سے”
بہرام دوبارہ اُس سے سخت لہجے میں مخاطب ہوا تو حرم نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی
“یہی سوچ رہے ہوگے ناں آپ کہ دوسری شادی بھی آپ کی ایسی لڑکی سے ہوگئی۔۔۔ جو پہلے سے منگنی شدہ تھی۔۔۔ یقینناً اپنے منگیتر سے باتیں ملاقاتیں کرکے اب وہ آپ کے پلے سے باندھ گئی،،، جیسے اُس کا منگیتر اب تک اُس کو سوچتا ہے۔۔۔ ویسے شاید آپ کی بیوی کے دل میں بھی اپنے منگیتر کے خیالات آتے ہوگیں”
حرم کی بات بہرام سے برداشت کرنا مشکل ہوگئی جبھی وہ اُس کا نام پکار کر چیخ اٹھا
“میں تمہیں آخری بار بول رہا ہوں جاؤ یہاں”
بہرام کے غصے میں بولنے کی پرواہ کیے بغیر وہ بہرام کے سامنے نیچے فرش پر بیٹھ گئی
“اسجد بھائی سے اَمّی اَبّو نے میری منگنی تب کروائی تھی جب میں میٹرک میں تھی، شروع سے ہی انہیں اپنے کزن کے روپ میں دیکھا مگر منگنی کے بعد آہستہ آہستہ سوچ بدلنے لگی، اِس میں قصور میرا نہیں ایسا ہر عام انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اِس کے باوجود میں نے کبھی خود کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔۔۔ نہ ہی حقیقتاً،، نہ ہی خیالات میں۔۔ کیوکہ منگنی کوئی مضبوط بندھن نہیں ہوتی۔۔۔ میری طرف سے گرہیز دیکھ کر اسجد بھائی نے بھی اپنے قدم آگے نہیں بڑھاۓ یوں سمجھ لیں ہمیشہ ہم دونوں کے درمیان عزت اور احترام کا رشتہ قائم رہا۔۔۔ منگنی سے پہلے بھی کبھی انہوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار میرے سامنے نہیں کیا تھا اور منگنی ہوجانے کے بعد بھی وہ ایک منگیتر کی بجاۓ کزن کی طرح ہی مجھ سے ملتے رہے۔۔۔ ہم دونوں کے درمیان کبھی بھی تکلفانہ گفتگو نہیں ہوئی جیسے ہر منگیتر کے بیچ میں ہوتی ہے۔۔۔ پھر اچانک اَمّی اَبُو دونوں ہی مجھے چھوڑ کر چلے گئے تب چچا چچی مجھے اپنے ساتھ اپن گھر لے آئے اسجد بھائی یا خالہ میں کسی سے کوئی ایک بار مہینے میں مجھ سے ملنے آجاتا۔۔۔ لیکن پھر بیچ میں معلوم نہیں کیا ہوا،، نگی ناجانے کیسے اسجد بھائی کو پسند کرنے لگی میں نگی کے خیالات جان کر ڈر گئی، ماں باپ تو میرے پاس تھے ہی نہیں صرف ماں باپ کا تہہ کیا رشتہ تھا میرا بہت غصہ آیا نگی کی سوچ پر۔۔۔۔ لیکن جب نزہت چچی نے میرے سامنے رو کر یہ کہا کہ اسجد کے سامنے میں خود اپنے منہ سے اِس رشتے سے منع کردو تو میرا بہت دل دکھا۔۔۔ مگر چچا چچی کے احسان یاد آگیا، جو انہوں نے مجھ بےسہارا کو اپنے گھر رکھکر کیا تھا۔۔۔ وہ اپنے اِس احسان کا بدلہ اسجد بھائی سے رشتہ ختم کرنے کی صورت سے چاہتی تھی پھر مجھے ایسا کرنا پڑا۔۔۔ رشتہ ختم ہونے پر میں نے خود کو بہت اکیلا محسوس کیا۔۔۔ اَمّی اَبُو بھی اُس دن بہت یاد آئے۔۔۔ مگر اسجد بھائی بھائی سے دلی وابستگی کی اِس حد تک نہیں تھی کہ میں تاعمر اِس منگنی کا روگ دل میں پال کر بیٹھ جاتی۔۔۔ میرا خدا اِس بات کا گواہ ہے بہرام کہ نگی سے اُن کی شادی ہونے سے پہلے ہی میں اُن سے شادی کا خیال اپنے دل اور دماغ سے نکال چکی تھی۔۔۔ آپ سے نکاح ہونے پر آپ کا ساتھ میں نے مجبوری میں نہیں بلکہ دل سے قبول کیا ہے۔۔۔ میرے لئے اِس دنیا میں آپ سے بڑھ کر اور کچھ بھی اہم نہیں ہے بہرام۔۔۔ آج کے دن جب آپ نے مجھ سے کہا کہ آپ میرا یقین کرنا چاہتے ہیں اُس وقت مجھے اپنا آپ کتنا معتبر لگ رہا تھا یہ میں آپ کے سامنے بیان نہیں کرسکتی۔۔۔ بہرام پلیز اپنا یقین میرے اوپر سے ختم کرکے مجھے دوبارہ سے بےمول مت کیجیئے گا۔۔۔۔ میرے دل میں صرف آپ کی محبت ہے کیوکہ آپ شوہر ہیں میرے، میرے لیے ہر رشتے سے بڑھ کر۔۔۔ آپ کے نکاح میں رہ کر کسی دوسرے مرد کے بارے میں تصور کرنا میرے لئے گناہ ہے پلیز بہرام میں آپ کی آنکھوں میں اپنے اور آپ کے رشتے کے لیے بےاعتباری نہیں دیکھ سکتی مجھ پر اپنا اعتبار قائم رکھیں”
حرم بولتی ہوئی اپنا سر بہرام کے گھٹنوں پر رکھ کر رو دی۔۔۔ حرم کے رونے وہ اُسے بازوؤں سے تھام کر صوفے سے اٹھا اور حرم آنکھوں میں آنسو بھرے بہرام کا چہرہ دیکھنے لگی جو اِس وقت بھی بےتاثر تھا
“رات کافی ہوچکی ہے اب تمہیں سو جانا چاہیئے”
حرم کی ساری بات سننے کے بعد بہرام نے وہی ایک جملہ بولا جو اُس کو کمرے میں آتا دیکھ کر بولا تھا اور خود کمرے سے باہر نکل گیا
وہ صبح سویرے یونیفارم میں تیار، ناشتے کے لیے ٹیبل پر آیا تو اُسے کچن سے برتنوں کے پٹخنے کی آوازیں سنائی دی۔۔۔ لازمی حرم کچن میں موجود صبح کا ناشتہ بنارہی تھی بہرام خاموشی سے کرسی کھسکا پر بیٹھتا ہوا ناشتے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں حرم ٹرالی میں سارا سامان لےکر ڈائینگ ہال میں آئی اور باری باری ٹرالی میں موجود ناشتے کے برتن ٹیبل پر پٹخنے کے انداز میں رکھنے لگی جس پر بہرام نے باقاعدہ سر اٹھاکر اُسے دیکھا مگر وہ بہرام کو دیکھنے کی بجاۓ کیٹل سے چاۓ نکال رہی تھی
بہرام نے چاۓ کا مگ تھامنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جو فضا میں ہی رہ گیا۔۔۔ حرم چاۓ کا کپ لےکر ٹیبل پر رکھتی ہوئی اپنے لیے کرسی کھسکاکر بیٹھ چکی تھی۔۔۔ بہرام سنجیدہ نگا اس پر ڈال کر اپنے لیے کیٹل سے خود چاۓ نکالنے لگا تب اُسے اپنی پلیٹ کے نیچے ایک پرچہ نظر آیا
“یہ کیا ہے”
بہرام حرم کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“چیپ لڑکیوں کی طرح کارڈ دینا، یہ لیٹر لکھنے کی عادت نہیں مجھے۔۔۔ پڑھ لیں اُردو اور انگلش دونوں میں لکھا ہے”
وہ بولتی ہوئی اُس پر کیا طنز کرگئی تھی بہرام ایک پل کے لیے چونکا۔۔۔
لیٹر لکھنے اور کارڈ دینے والی اینجل کی بات اُس نے جیاء کو بہت پہلے بتائی تھی بھلا کیا ضرورت جیاء کو یہ بات اُس کی دوسری بیوی کو بتانے کی۔۔۔ بہرام اُس کے طنز کو پیتا ہوا پرچہ پڑھنے لگا جوکہ گھر کے سودا سلف سے متعلق تیار کردہ لسٹ تھی
“دال ماش، ملکہ مسور، دال چنا۔۔۔ یہ اتنی دالیں کون کھاۓ گا”
بہرام لسٹ پڑھنے کے ساتھ ہی بولا
“میں۔۔۔ میں کھاؤ گی۔۔ اُن فضول لڑکیوں جیسی میری عادت ہرگز نہیں جن کو ہر وقت باہر کا کھانا منہ کو لگا ہو”
چبتھے ہوۓ لہجے میں دوسرے طنز پر بہرام نے ایک بار پھر حرم کی طرف دیکھا۔۔۔ کل وہ کس طرح روتی ہوئی اُسے اسجد اور اپنی منگنی کی وضاحتیں دے رہی تھی اور صبح ہوتے ہی وہ اُس کی پہلی بیوی کو لےکر اُسی پر طنز شروع کرچکی تھی۔۔۔ بہرام دوسرا طنز بھی نظر انداز کرتا ہوا ٹیبل پر پرچہ واپس رکھتا ہوا بولا
“دوپہر میں جمال کو بھیج دوں گا یہ لسٹ اُسی کو دے دینا جمال تمہیں یہ سارا سامان لاکر دے دے گا”
بہرام حرم سے بولتا ہوا ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ پراٹھہ اُس نے کافی زیادہ آئلی بنایا تھا مگر حرم کے رویہ پر وہ اُسے ٹوکنے کی بجاۓ خاموشی سے کھانے لگا
“اِس لسٹ میں کچھ میرا بھی سامان ہے جو جمال لاتا ہوا اچھا نہیں لگے گا”
حرم کی بات پر ناشتہ کرتا ہوا بہرام اُسے دیکھنے لگا۔۔۔ جو اس کو دیکھنے کی بجاۓ بسکٹ چاۓ میں ڈبو ڈبو کر کھارہی تھی
“تو اپنا سامان لسٹ سے کاٹ دو وہ میں لے آؤ گا۔۔۔ باقی کی لسٹ جمال کو دے دینا”
بہرام بات ختم کرتا ہوا ناشتہ کرنے لگا
“آپ کو کیا معلوم کیا سامان ہے میرا پڑھنے کی زحمت تھوڑی کی ہے آپ نے”
حرم نراٹھے پن سے بولی
“پہلی شادی نہیں ہے تم سے میری تجربہ ہے مجھے”
بہرام اُسے دیکھ کر واضح انداز میں جتاتا ہوا بولا تو حرم خاموشی سے چاۓ پینے لگی۔۔۔ بہرام کو شادی کا پہلا دن یاد آیا۔۔۔ کیسے ڈر رہی تھی وہ اِس سے، یہ واضح تبدیلی لازمی اس کے اعتراف کا نتیجہ تھی جو اس نے اسی کے چچا کے گھر کل رات کو کیا تھا
“جب آپ میرا سامان لاسکتے ہیں تو باقی کا سامان جمال کیو لاۓ”
حرم چاۓ پیتی ہوئی پوچھنے لگی
“تمہیں سامان سے مطلب ہونا چاہیے اِس بات سے نہیں کہ سامان کون لےکر آرہا ہے۔۔۔ مجھے عادت نہیں ہے شروع سے اِن سب کاموں کی۔۔۔ اور کل سے پراٹھا اتنا آؤئلی بنانے کی ضرورت نہیں”
بہرام سنجیدگی سے اس کو دیکھتا ہوا بولا
“ہر انسان کو اپنی عادتیں بدلنی پڑتی ہیں میں آپ کی پہلی بیوی کی طرح نہیں جو آپ کی ہر بات پر کمپرمائس کرو اپنے اندر چینج لانے کی کوشش کریں”
حرم کی بات پر اب کی بار پھر بہرام کافی دیر تک خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر بناء کچھ بولے مسکراتا ہوا چاۓ پینے لگا۔۔۔۔
حرم نے بھی سوچ لیا تھا اگر وہ ایسا ہے تو اب وہ بھی اپنے رویہ میں لچک نہیں لاۓ گی مگر بہرام کو مسکراتا ہوا دیکھ کر وہ تپ گئی
“بہت خوشی ہورہی ہے بار بار اپنی پہلی بیوی کا ذکر سن کر”
حرم کے بولنے کا انداز ہے ایسا تھا کہ بہرام اُس کی بات پر بےساختہ ہنس دیا
“میں نے روایتی شوہروں والا سلوک نہیں کیا تمہارے ساتھ کہ تمہاری منگنی کا معلوم ہونے کے بعد تمہیں تمہارے منگیتر کے طعنے دو لیکن تم تو مجھے ڈھنگ سے ناشتہ بھی نہیں کرنے دے رہی ہو روایتی بیویوں کی طرح بات بات پر مجھے میری پہلی بیوی کے طعنے دے رہی ہو اور یقین جانو ایسے کرتی ہوئی تم اِس وقت بالکل اپنی نزہت چچی کے جیسی لگ رہی ہو”
بہرام ہنستا ہوا اسے بولا تو حرم اپنے اوور ری ایکٹ پر خود ہی شرمندہ ہوگئی۔۔۔
اتنے میں دروازے کی ڈور بیل بجی اِس سے پہلے کہ وہ کرسی سے اٹھ کر دروازہ کھولتا حرم خود اٹھ کر دروازہ کھولنے چلی گئی۔۔۔ بہرام خود بھی کرسی سے سوچتے ہوے اٹھا اتنی صبح بھلا کون آسکتا تھا
“جی کون ہیں آپ، کس سے ملنا ہے”
حرم اپنے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے کرتی ہوئی آنے والے سے پوچھنے لگی جو اسٹیچو بنا ہوا اُسے حیرت سے گھورے جارہا تھا
“عفان تم یہاں اتنی صبح خیریت تو ہے”
اپنی پشت سے حرم کو بہرام کی آواز سنائی تھی مگر عفان نے صرف ایک نظر بہرام پر ڈالی تھی وہ ابھی بھی حیرت زدہ ہوکر حرم کو دیکھ رہا تھا جس پر حرم کو سامنے کھڑے لڑکے پر حیرت ہونے لگی وہ بناء کچھ بولے وہاں سے اندر چلی گئی۔۔۔۔ عفان ابھی بھی حرم کی پشت کو گھور رہا تھا تب بہرام نے اُس کو ٹوکا
“میری بیوی کو گھورنا بند کرو”
بہرام اب کی بار عفان کو جتاتا ہوا بولا بہرام سمجھ چکا تھا عفان کی حیرت کی وجہ کیا تھی وہ حرم کو اینجل سمجھ رہا تھا
“سوری،،، اَئی ایم سوری سر۔۔۔ دراصل میں اتنا زیادہ۔۔۔ حیران ہو آپ کو آپ کی مسسز کے ساتھ دیکھ کر”
عفان نے ہوش میں آکر معذرت کرتے ہوئے بہرام کو وضاحت دینی چاہیے
“اندر آجاؤ پھر بات کرتے ہیں”
بہرام عفان کی بات پر بولا اور اُس کو اندر آنے کی دعوت دے کر ڈرائنگ روم میں چلا آیا
“دراصل میں آپ کو یہی شاکنگ نیوز بنانے کے لئے آیا تھا کہ آپ کی وائف زندہ ہیں مگر یہاں آکر ان کو آپ کے ساتھ دیکھ کر خود شاکڈ ہوگیا”
عفان بہرام کو اپنے آنے کی وجہ بتانے لگا مگر بہرام عفان کی بات سن کر سچ میں بری طرح چونکا
“کب اور کہاں دیکھا تم نے اینجل کو”
بہرام کا لہجہ دھیما مگر تجسس لیے ہوۓ تھا۔۔۔۔ بہرام کے سوال پر عفان بہرام کے تاثرات دیکھنے لگا۔۔۔ اُس کی بیوی اُس کے پاس ہی تو تھی پھر بھلا بہرام کو اتنا تجسس۔۔۔۔۔
“کل مرینا کلب میں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کرنے کے لیے گیا تھا وہی آپ کی مسسز بھی موجود تھی ٹائم کچھ رات کے بارہ ساڑھے بجے کے درمیان تھا”
عفان بہرام کو بتانے لگا مگر اسے بہرام پر حیرت ہوئی۔۔۔۔ اُس نے خود بہرام کو سارے ثبوت دیئے اینجل کے خلاف، جسے دیکھنے کے باوحود وہ یعقوب نیازی کی (kept) سے اب تک تعلق رکھا ہوا تھا شاید سچا عشق اِسی کو کہتے ہو عفان نے دل ہی دل میں سوچا مگر کچھ بولنے کی ہمت نہیں کی
“یعنی میرا شک صحیح نکلا، ہاسپٹل سے ڈیڈ باڈی کا غائب ہوجانا مطلب وہ زندہ ہے”
بہرام سوچتا ہوا آئستہ آواز میں بولا۔۔۔ کل رات وہ حرم کو اُس کے چچا کے گھر سے اپنے ساتھ لے آیا تھا اور بارہ بجے سے حرم اُس کے ساتھ اِسی فلیٹ میں موجود تھی
بہرام کی بات پر عفان کنفیوز ہوکر بہرام کو دیکھنے لگا تب بہرام نے عفان کی غلط فہمی کو دور کرنا ضروری سمجھا
“یہ اینجل نہیں ہے جسے تم نے ابھی دیکھا ہے۔۔۔ اینجل کی ہمشکل۔۔۔ مگر میری دوسری بیوی حرم ہے۔۔۔ اینجل وہ تھی جیسے کل رات تم نے دیکھا ہے”
بہرام کی بات سن کر عفان ہونق بنا ہوا بہرام کو دیکھنے لگا
“او میرے خدا یہ تم ہو اینجل”
زخمی حالت میں جب اسے اسٹریچر پر ہاسپٹل کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا تب ڈاکٹر شازمین اُسے دیکھ کر حیرت زدہ ہوکر بولی۔۔۔۔ اینجل نے درد سے کرہاتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں تو شناسا سا چہرہ اپنے سامنے پایا
“اینجل تم گھبراؤ مت تمہیں کچھ نہیں ہوگا”
شازمین اُسے تسلی دیتی ہوئی بولی ویسے بھی اُسے ایک ہی گولی ہی لگی تھی بازو پر جو کہ خطرے کا باعث ہرگز نہیں تھی
“وہ مجھے دوبارہ مار ڈالے گا شازمین، اگر اُسے معلوم ہوگیا کہ میں بچ گئی ہو”
اینجل خوف کے مارے گہرے سانس لیتی ہوئی بولی
“کون۔۔۔۔ کون مار ڈالے گا تمہیں،،، کس نے چلائی تم پر یہ گولی”
شازمین نرس کی دی ہوئی کاٹن سے اُس کے بازو پر لگا ہوا خون صاف کرتی ہوئی اینجل سے پوچھنے لگی
“میرا شوہر۔۔۔ اے سی پی بہرام عباسی۔۔۔ اسی نے مجھ پر گولیاں چلائیں۔۔۔ میرے سینے میں بھی اُس بےرحم نے گولی اتاری ہے”
اینجل اُس وقت کو یاد کرتی ہوئی خوف سے شازمین کو بتانے لگی
“تمہیں صرف ایک بولٹ لگی ہے اینجل وہ بھی بازو پر، تمہیں کچھ نہیں ہوگا بھروسہ رکھو۔۔۔۔ سینے پر گولی کھانے والا اِس طرح بات نہیں کرتا”
شازمین نرس سے اوزار مانگتی ہوئی مسکرا کر اینجل سے بولی
تبھی اینجل کو یاد آیا پہلی گولی بہرام نے اُس کے بازو پر چلائی تھی، اپنے گولی لگنے پر وہ کتنی زیادہ خوفزدہ ہوئی تھی جب دوسری گولی بہرام نے اُس کے سینے پر بھی چلائی وہ درد سے کرہاتی ہوئی نیچے گری۔۔۔ بقول شازمین کے اگر اُسے صرف ایک گولی بازو پر لگی تو دوسری گولی پھر کہاں گئی۔۔۔۔ اینجل نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے اپنے گلے میں پڑا ہوا اسٹیل کا پینڈینٹ پکڑا جو اسے سینے پر لگنے والی گولی سے بچا گیا تھا لازمی وہ گولی اُس کے اِس پینڈنٹ پر لگی تھی جس کی وجہ سے وہ بچ گئی
“اینجل اب میں تمہارے بازو سے بولٹ نکالنے والی ہوں۔۔۔ اوکے”
شازمین نے اُسے ذہنی طور پر تیار کیا تو اینجل نے شازمین کا ہاتھ زور سے پکڑلیا
“کیا تم میرا ایک کام کرسکتی ہوں وہ کام ذرا سا رسکی ہے مگر اُس کے بدلے میں زندگی بھر تمہاری احسان مند رہو گی”
اینجل اپنے بازوں میں اٹھتی ہوئی تکلیف بھلا کر شازمین سے بولی۔۔۔۔
اینجل کو اپنا کیا ہوا احسان بھی یاد آیا جو ایک بار اس نے اچھی اماؤنٹ کی صورت، شازمین کے دےکر اس کے چھوٹے بھائی کی جان بچا کر اس پر کیا تھا
“تم بولو کیا کرنا ہے، اس وقت میرے اتنے لنکس اور کانٹیک ہیں میں تمہارے ہزبینڈ کو عمر بھر کے لئے جیل کروا سکتی ہو”
اُس نے شازمین کو خود سے کہتے سنا پھر اینجل اس نرس کو دیکھنے لگی جو اس وقت وہاں موجود ان دنوں کی باتیں سن رہی تھی
“تم اِس کی فکر نہیں کرو یہ کسی سے کچھ نہیں بولے گی”
شازمین کی بات پر اینجل کو اُس وقت ڈھارس ملی تو اینجل نے سکون کا سانس لیا
اس کے لیے آسان بالکل نہیں تھا نظر بچا کر اسپتال سے فرار ہونا اس وقت اگر شازمین رپورٹ میں اس کی ڈیتھ ڈکلئیر کر کے اسے اسپتال کے مردہ خانے تک نہیں پہنچاتی تو آج وہ اتنے آرام سے یہ اس شہر سے دور ایک کاٹج میں مزے سے نہ بیٹھی ہوتی صرف اُس نے شازمین کے سامنے خود کو بےقصور ثابت کیا تھا اور بہرام کو شکی مزاج شوہر۔۔۔ جس نے اُس پر بد چلنی کا الزام لگا کر گولی چلائی تھی۔۔۔ وہ بہرام کو سزا دلانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی بےشک شازمین کے مطابق اس کا شوہر سزا کا مستحق تھا لیکن اگر وہ ایسا کرتی تو الٹا اس کو لینے کے دینے پڑجاتے بہرام کو سزا کروانے کے چکر میں الٹا اُسی پر کیس کھل جاتا یونیورسٹی میں ڈرگس سپلائی کرنے کا پھر اس کا بچنا ناممکن تھا
اس کا مقصد بہرام کو جیل کروانا نہیں بلکہ اپنے آپ کو مردہ ظاہر کر کے اسپتال سے نکل جانا تھا جس میں شازمیں اور ہسپتال کے عملے کے چند لوگوں نے اُس کا ساتھ دیا۔۔۔ فائر الارم بجوا کر سارا میس کری ایڈ کرنا صرف اکیلی شازمین کے بس کی بات نہیں تھی اس کام میں اسپتال کے تیں اور لوگ بھی شامل تھے جن کی مدد سے وہ اسپتال سے باہر نکلی
“مائے ڈیئر ہینڈسم ہزبینڈ اپنی وائف کو مرا ہوا تصور کرکے صرف ایک ماہ بعد ہی تم نے دوسری شادی کرلی۔۔۔ سو سیڈ بےبی۔۔۔ مگر ماننا پڑے گا بہرام عباسی تمہاری محبت کو۔۔۔ پہلی بیوی سے اتنا عشق تھا کہ دوسری بیوی بھی اسی کی ہم شکل ڈھونڈ لی۔۔۔ متاثر کیا مجھے تمہاری اس بات نے۔۔۔۔ لیکن ایک بات تم اچھی طرح لو۔۔۔ میری جگہ صرف میری ہے وہ تمہاری دوسری بیوی ہرگز نہیں لے سکتی، میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوگی ڈارلنگ۔۔۔ تم صرف اینجل کے ہو۔۔۔ میں نے تم سے بےوفائی کی جس کی سزا تم سے پالی۔۔۔ بس اب کچھ دن اور،،، اس کے بعد میں اور تم دوبارہ ایک ہوجاۓ گیں”
اینجل اپنے موبائل میں بہرام کی تصویر دیکھ کر بولی جس میں اس کی دوسری بیوی بھی ساتھ ہی موجود تھی۔۔۔
یہ تصویر بہرام کے ولیمے کی تھی جو اُس کے کہنے پر وہاں موجود ویٹر نہیں نہایت خفیہ طریقے سے لی تھی۔۔ اپنی ہم شکل کو بہرام کے ساتھ دیکھ کر اینجل کو بےحد جلن محسوس ہوئی تھی اپنے چہرے پر بہرام کے دیئے جانے والے زخموں نے اسے ابھی تک بہرام کی زندگی میں شامل ہونے سے روکے رکھا تھا ورنہ وہ پہلی رات ہی بہرام کے پاس حرم کی جگہ موجود ہوتی
بہرام کے ساتھ گزرا ہوا وقت یاد کر کے وہ فیصلہ کرچکی تھی اسے اپنی باقی کی زندگی بھی بہرام کے ساتھ گزارنی چاہیے تھی جس لئے اسے اپنی شناخت بھول کر حرم ہی بن کر کیوں نہ جینا پڑے
یعقوب نیازی جیسا ذلیل ڈرپوک انسان جو کہ اس کو گولی لگتے دیکھ کر فوراً وہاں سے دم دبا کر اپنے گارڈز کے ساتھ فرار ہوچکا تھا اس میں اینجل کو نہ پہلے دلچسپی تھی نہ اب۔۔۔ ویسے بھی وہ پکی عمر کا مرد بہرام عباسی جیسے شاندار مرد کا کسی بھی چیز میں مقابلہ نہیں کرسکتا تھا اسے کسی بھی طرح بہرام کے پاس جانے کے لیے پہلے حرم کو بہرام کے فلیٹ سے باہر نکلنا تھا کیوکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی بہرام کے فلیٹ میں موجود ہڈن کیمرے کے علاوہ ایسے سیکیورٹی الارم بھی موجود تھے جس کی وجہ سے کوئی بھی کاروائی کرنا اس کے لیے باعث خطرہ ثابت ہوسکتا تھا وہ صرف اُس وقت کے انتظار میں تھی جب حرم بہرام کے بغیر اس کے فلیٹ سے باہر نکلے
سینے پر گولی مارنے کے باوجود ناجانے کیوں اسے شروع سے ہی اینجل کی موت کا یقین نہیں تھا۔۔۔ ہاسپٹل سے ڈیڈ باڈی کا غائب ہوجانا اس کے پیچھے چھپی کہانی کوششیں کرنے کے باوجود وہ نہیں جان پایا تھا مگر وہ اتنا جان گیا تھا یہ کام یعقوب نیازی کا ہرگز نہیں تھا۔۔۔ یعقوب نیازی کے لیے اینجل وقتی دل بہلانے والا کھلونا ثابت ہوئی تھی اس کا انداز اسے اسی وقت ہوگیا تھا جب وہ اینجل کو زخمی حالت میں چھوڑ کر اس کے فلیٹ سے فرار ہوگیا تھا
اینجل کا زندہ ہونا اب بہرام کے لیے معنی نہیں رکھتا تھا جس دن اس کا اینجل سے سامنا ہوا وہ اس سے اپنا رشتہ بھی ختم کرلے گا ایسا بہرام نے سوچ لیا تھا۔۔۔ کیا اسے خود سے اینجل کو ڈھونڈنا چاہیے تھا یا پھر اس کی آمد کا انتظار کرنا چاہیے تھا نہ جانے کیوں بہرام کی چھٹی حس باربار اسے اشارہ دے رہی تھی اینجل اس سے ملنے یا پھر کانٹیکٹ کرنے کی ضرور کوشش کرے گی۔۔۔ پولیس اسٹیشن سے آج وہ جلدی گھر آگیا تھا کل کی طرح اس وقت وہ اپنے بیڈ روم کی بجاۓ دوسرے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ کل جب اس پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ اینجل زندہ ہے تب سے وہ اسی کو سوچے جا رہا تھا
دھیرے سے اُس کی سوچوں کا رخ اینجل سے حرم کی طرف چلا گیا پرسوں جب اُس کے چچا کے گھر اس پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ حرم پہلے اپنے خالا ذا سے منسوب رہ چکی ہے روایتی مردوں کی سوچ کی طرح یہ بات اس کو ذرا پسند نہیں آئی تھی، جس کا اظہار وہ اپنے رویے سے حرم اور اس کے گھر والوں کے سامنے کرچکا تھا۔۔۔ جس کے بعد دوسرے دن صبح پولیس اسٹیشن جاتے وقت اس کے پاس حرم کے چچا اور اسجد کی کال بھی آئی تھی وہ دونوں ہی اس کے اور حرم کے رشتے کے لئے فکر مند تھے۔۔۔ اسجد نے تو اس سے نگی کی باتوں کو لےکر معذرت بھی کی تھی اور اسے یقین بھی دلایا تھا وہ صرف اور صرف نگی کی غلط فہمی تھی ایسا کچھ بھی نہیں ہے
حرم نے خود بھی گھر آکر اسے ہر بات کی وضاحت دی تھی جس پر فوری طور پر وہ حرم سے کچھ بھی کہہ نہیں پایا۔۔۔ کیونکہ اس موضوع کے علاوہ بھی اس کے دماغ میں دوسری سوچیں چل رہی تھی جیسے تین دن بعد بوبی کو پھانسی کی سزا ہوجاتی
یعقوب نیازی کا ان دنوں اتنا خاموش ہوکر بیٹھنا بھی عام بات نہیں تھی وہ اتنی آسانی سے اپنے بھائی کو مرنے نہیں دے گا، بہرام کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا۔۔۔ جب وہ ہسپتال میں زخمی حالت میں تھا تب بھی یعقوب نیازی نے جان توڑ کر کوشش کی تھی کہ وہ کسی طرح پتہ لگا لے کے بہرام نے اس کے بھائی کو کہاں چھپایا ہوا تھا۔۔۔ اس وقت یعقوب نیازی کیا سوچ بیٹھا تھا اسے خبر نہیں تھی۔۔۔
ان دنوں اسے اپنی جان سے زیادہ اُسے اس رشتے کی پروہ تھی جو رشتہ اُس کی بہن اُس سے جوڑ کر گئی تھی۔۔۔ لیکن حرم اُس کے پاس اس فلیٹ میں محفوظ تھی یہی ساری باتیں وہ سوچ رہا تھا تب حرم تیسری مرتبہ کمرے میں آئی
“آپ کو کھانا کھانا ہے یا یونہی پہلی بیوی کی یادوں میں کھوۓ رہنا ہے”
بہرام حرم کی بات پر چونکا پھر اُس کے جملے پر غور کرتا اسے گھورنے لگا۔۔ مگر حرم اس کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر کمرے سے چلی گئی
“مرنے والی تو خود قبر میں چلی گئی ہے اور یہ موصوف اس کی یادوں کا سوگ منارہے ہیں میں تو بیچ میں مفت میں ہی پھنس گئی جب سے آئے ہیں اس کی یادوں میں گم ہیں میں تو بس اس گھر میں کھانا بنانے کے لیے آئی ہوں جیسے”
حرم اپنا دل جلا کر بڑبڑاتی ہوئی بولے جارہی تھی یہ جانے بغیر اس کے پیچھے آتا بہرام اس کی ساری گفتگو سن چکا تھا۔۔ وہ لاؤنچ میں آکر جیسے ہی پلٹی سامنے بہرام کو دیکھ کر اُس کی زبان کو بریک لگا
“زبان کافی چل رہی ہے تمہاری کل سے، قابو میں رکھو اسے۔۔۔ ورنہ مسلہ کرے گی یہ تمہارے لیے”
بہرام حرم کو دیکھ کر سیریس ہوکر اسے وارن کرنے لگا کیونکہ وہ کل صبح سے اب تک اسے کتنی ہی مرتبہ پہلی بیوی کے طعنے دے چکی تھی
“کتنی ساری مرتبہ آپ کو کھانے کے لیے بول کر جاچکی ہوں مگر آپ نے تو میرے کمرے میں آنے کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیا معلوم نہیں کس گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں”
حرم اس سے شکوہ کرتی ہوئی خود کرسی پر بیٹھ گئی کیونکہ کھانا وہ پہلے ہی ٹیبل پر رکھ چکی تھی
“کتنی ساری مرتبہ نہیں تم میرے پاس کمرے میں صرف تین دفعہ چکر لگا چکی ہوں پہلی بار تم نے صرف اتنا بولا کہ کھانا تیار ہے اور منہ بناتی ہوئی کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔ دوسری مرتبہ تم دس منٹ کے وقفے کے بعد کمرے میں دوبارہ آئی اور طنز کرتی ہوئی بولی آپ کو کھانا کھانا ہے یا پھر برتن اٹھالو۔۔۔۔ پھر تم غصے میں دروازہ زور سے بند کرتی ہوئی دوبارہ کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔ ابھی تم تیسری بار پورے پانچ منٹ 2 سیکنڈ گزرنے کے بعد آئی ہو اس کے بعد مجھے میری پہلی بیوی کی یادوں کا طعنہ دے کر منہ بناتی ہوئی واپس چلی گئی۔۔۔ اتنا بےخبر ہرگز نہیں ہوں جتنا تم نے مجھے سمجھ لیا ہے”
بہرام ایک ایک بات اس کو جتاتا ہوا خود بھی حرم کے سامنے کرسی پر بیٹھا
“چاول نکالو آپ کے لیے یا پھر روٹی کھائیں گے”
وہ بہرام کو کرسی پر بیٹھا ہوا دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
“جیسے کل صبح سے پٹخ پٹخ کر ناشتہ اور دوسری چیزیں دے رہی ہو اس سے بہتر یہی ہے جو مجھے کھانا ہے وہ اپنی پلیٹ میں میں خود نکال لیتا ہوں”
بہرام نے سالن کا باؤل اٹھاتے ہوئے اسے شرمندہ کرنا چاہا اور بہرام کی بات سن کر وہ دل سے شرمندہ بھی ہوگئی تھی اسے افسوس ہوا کہ وہ کیو نزہت چچی بنتی جارہی ہے۔۔۔ اس کے چچا تو سیدھے سادھے انسان تھے تبھی نزہت چچی کا ان کے ساتھ نبھا ہوگیا تھا مگر سامنے بیٹھا ہوا یہ اس کا شوہر اس کے چچا کی طرح ذرا سا بھی سیدھا نہیں کافی ٹیڑھا بندہ تھا۔۔۔ اسے سنبھل کر رہنا چاہیے تھا
“آج دوپہر میں صبحیہ خالہ کی کال آئی تھی وہ ہم دونوں کو کل رات ڈنر پر اپنے گھر ڈنر پر انوائٹ کرنا چاہ رہی تھیں”
حرم نے چاولوں سے بھری ٹرے اٹھاکر دھیمے لہجے میں بہرام کو مطلب کی بات بتائی
“منع کردو اپنی خالہ کو ہم نہیں آرہے”
بہرام منہ میں نوالہ ڈالتا ہوا عام سے لہجے میں حرم سے بولا چاولوں میں چلتا چمچہ روک کر حرم بہرام کو دیکھنے لگی جو پرسکون انداز میں بیٹھا ہوا کھانا کھارہا تھا
“نگی کی بھی کال آئی تھی میرے پاس کافی زیادہ شرمندہ تھی وہ بول رہی تھی بہرام بھائی سے اپنے غلط رویہ کی خود معافی مانگو گی بس اس وقت۔۔۔
وہ مزید کچھ کہتی بہرام نے سنجیدہ نگاہ اس پر ڈالی تو وہ چپ ہوگئی
“خاموشی سے کھانا کھالو”
وہ حرم کو دیکھتا ہوا بولا پھر کھانا کھانے لگا
“ٹھیک ہے آپ مت جائیے گا میں کل شام میں خود چلی گا جاؤ گی صبیحہ خالہ کے گھر آپ بس ڈرائیور کو بھیج دیجئے گا”
حرم اس کو مشورہ دیتی ہوئی چاولوں کا چمچی منہ میں ڈالنے لگی
“ہم کا مطلب صرف میں نہیں ہم دونوں ہوتے ہیں۔۔۔ نہ کل تم کہیں جارہی ہوں نہ ہی میں۔۔۔۔ اب اس موضوع پر کوئی دوسری بات نہیں ہوگی ہمارے بیچ”
بہرام اب کی بار تنبہی کرتا ہوا بولا وہ نہیں چاہ رہا تھا تین سے چار دن تک حرم فلیٹ سے باہر نکلے۔۔۔ حرم کو سمجھاتا ہوا وہ دوبارہ کھانا کھانے لگا
“ٹھیک ہے میرے رشتےدار تو اس قابل ہی نہیں ہے کہ آپ ان سے ملیں ایسا کریں آپ مجھے کل ایکسپو لے جائیں وہاں سیل لگی ہوئی ہے مجھے اپنے لئے کچھ خریدنا ہے پیسے ہیں میرے پاس”
حرم کی اگلی بات پر بہرام کے منہ میں جاتا ہوا نوالہ وہی رکا وہ خاموشی سے حرم کی شکل دیکھنے کے بعد بولا
“کیا چاہ رہی ہو تم اس وقت میں آرام سے کھانا کھاؤ یا پھر اٹھ کر یہاں سے چلا جاؤں”
اب کی بار بہرام بےحد سنجیدگی سے حرم سے پوچھنے لگا تو وہ خود کرسی سے اٹھ گئی
“آپ سکون سے کھانا کھائے میں ہی چلی جاتی ہو”
حرم نے صرف بولا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی بات پر عمل کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔۔ بہرام اس کی پشت کو گھورتا رہ گیا۔۔۔ مگر پھر اس نے کھانا سکون سے کھایا
“نہیں سنیں گے وہ آپ کی بھی کوئی بات، بس دو دن سے دوسرے کمرے میں منہ پھلا کر اور ڈیرہ جما کر بیٹھے ہیں میں نے بتایا بھی تھا کہ وہ منگنی میرے پیرنٹس نے تہہ کی تھی جس کی مدت بےشک چار سال کا عرصہ رہی ہو مگر اُس منگنی کی حیثیت میری نظر میں ہمارے رشتے کے آگے زیرو پرسنٹ بھی نہیں ہے لیکن انہوں نے تو اچانک ہی ایک شکی مزاج شوہر کا روپ دھار لیا ہے۔۔۔ خالہ کے گھر دعوت پر جانے سے بھی منع کردیا اور مجھے باہر بھی نہیں لےکر جارہے ہیں۔۔۔ قسم سے آپی آپ نے کہا تھا کہ مجھے بہرام کی نہیں اپنی بڑی بہن سمجھنا جبھی میں آپ کے سامنے آپ کے پوچھنے پر اپنے دل کا حال آپ کو بتارہی ہوں مجھے تو یہ بھی لگتا ہے وہ اپنی پہلی بیوی کو بھی نہیں بھولے ہیں دنیا سے جانے کے بعد بھی وہ ہم دونوں کے بیچ ہمیشہ زندہ رہے گی”
وہ صوفے پر دونوں پاؤں اونچے کرکے بیٹھی ہوئی ایک ہاتھ پکڑے ٹشو سے بار بار آنسو صاف کرتی دوسرے ہاتھ نے پکڑا موبائل کان سے لگائے یقیناً اس کی بہن سے اس کی برائیوں میں مصروف تھی،، یہ منظر دیکھ کر بہرام کا خون کھول اٹھا۔۔۔ وہ جو حرم کو کھانا کھانے کا بولنے بیڈ روم میں آیا تھا کمرے کے اندر داخل ہوتا ہوا اُس نے حرم سے موبائل لےکر اپنے کان پر لگالیا
“آخر کار مل ہی گئی تمہیں اپنی ہی جیسی،، بس یہی تو ایک کام ہے تم عورتوں کا۔۔۔ روز روز موبائل پر دو چار دکھڑے اِس کے سن لیا کرو، دو چار برائیاں مبشر بھائی کی اِس سے کر ڈالا کرو۔۔۔ مگر عقل کی بات اِس کو کبھی بھی نہیں سمجھا نا”
یوں اچانک موبائل اُس کے ہاتھ سے لینے پر حرم بہرام کو دیکھنے لگی یقینًا وہ چھپ چھپ کر اس کی اپنی بہن سے باتیں سن رہا تھا
“جیاء مرد کے دماغ میں دس طرح کی سوچیں چل رہی ہوتی ہیں یہ تمہارے اور اِس کے جیسی کم عقل عورتوں کی کم عقلی کا نتیجہ ہے جو خود سے ہر بات کا تّصور کر بیٹھتی ہیں کہ ہمہارا شوہر کسی دوسری عورت کے بارے میں سوچ رہا ہوگا”
وہ موبائل پر اپنی بہن کو سنا رہا تھا حرم سرجھکاۓ وہی کھڑی تھی۔۔۔ اسے اس وقت جیاء کو فون کرنا ہی نہیں چاہیے تھا بلکہ وہی اچھا وقت تھا کہ جب وہ بہرام کے پولیس اسٹیشن جانے پر کل دوپہر میں جیاء سے بات کرتی
“ابھی فوری طور پر جانے سے منع کیا ہے تو کچھ دماغ میں چل رہا ہوگا میرے۔۔۔ تعلق تو نہیں ختم کروا رہا میں اس کے حسین و جمیل رشتے داروں سے اِس کا۔۔ یار اچھا خاصا میں اکیلا رہتا بلاوجہ میری شادی کروا کے تم نے مجھے بھجوا دیا”
بہرام جیاء کو مذید جھاڑتا ہوا بولا اور لائن کاٹ کر موبائل اُس نے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔ حرم ایک نظر بہرام کے چہرے پر ڈال کر کمرے سے باہر نکلنے لگی مگر اِس سے پہلے ہی بہرام نے اُس کا بازو پکڑلیا
“کیا فضول کی باتیں کررہی تھی تم جیاء سے کہ میں اپنی پہلی بیوی کو نہیں بولا ہوں۔۔۔ تم سے شیئر نہیں کیا تھا میں نے کہ وہ کس طرح کی لڑکی تھی، میرا معیار اتنا گرا ہوا نہیں ہے کہ میں ایسی لڑکی کو اپنی یادوں میں زندہ رکھو جس نے مجھ سے وفاداری نہیں نبھائی۔۔۔۔ کوئی بھی مرد خود چاہے جیسا بھی ہوا مگر وہ اپنے لیے اپنی بیوی سے وفاداری کی امید کرتا ہے مگر تم یہ باتیں نہیں سمجھو گی کیونکہ تم ایک ٹیپیکل سوچ رکھنے والی لڑکی ہو، اب اِس وقت کمرے سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ میں تم پر یہ بات ابھی اور اسی وقت واضح کردینا چاہتا ہوں کہ وہ ہم دونوں کے بیچ اب کہیں بھی نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ میں تمہیں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں”
بہرام نے حرم سے بولتے ہوئے اُس کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر صوفے پر پھینکا اور حرم کو بیڈ کی طرف دھکیلا۔۔۔ حرم ایک دم بہرام کے عمل پر بوکھلا گئی، بہرام اس کے قریب آکر حرم پر جھکا
“کک کیا ہوگیا ہے آپکو پیچھے ہٹیں پلیز”
حرم ایک دم گھبراتی ہوئی بولی مگر بہرام اُس کی بات اَن سنی کرتا ہوا حرم کی گردن پر جھکا۔۔۔ بہرام کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے حرم شرمندہ ہوگئی
“بہرام میری اُن باتوں کا وہ مطلب نہیں تھا آپ بالکل غلط معنوں میں لے رہے ہیں میری بات کو”
حرم بولتی ہوئی شرم سے پانی پانی ہوگئی وہ شاید اِس وقت اسی لئے اُس کے قریب آیا تاکہ دوبارہ وہ اُس کے منہ سے پہلی بیوی کا طعنہ نہ سن سکے
“باتوں کا جو بھی مطلب ہو اب سوچنا کیا۔۔۔ تم چاہتی ہو کہ ہم دونوں کے بیچ وہ کبھی نہ آۓ میں بھی یہی چاہتا ہوں اور جو میں کرنے والا ہوں اِس لیے وہ کرنا ضروری ہے”
وہ بولتا ہوا حرم کی قمیض کندھوں سے نیچے کرچکا تھا
“ہٹ جائیے بہرام پلیز پیچھے ہٹ جائیے”
حرم نے بولتے ہوئے اُس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر بہرام کو پیچھے کرنا چاہا۔۔۔
نہ جانے وہ اس کو کیسی لڑکی سمجھ رہا تھا جو اُس کی قربت کے لیے مری جارہی تھی۔۔۔ جبھی اس کی بہن سے اس کی شکایتیں لگا رہی تھی۔۔۔۔ حرم سوچتے ہوئی شرمندہ ہوۓ جارہی تھی۔۔۔ بہرام نے اُس کے دونوں ہاتھ اُسی کی پُشت پر لے جاکر اپنے ایک ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑے۔۔۔ ذرا سا اٹھتا ہوا وہ اپنی پاکٹ سے کچھ نکالنے لگا جسے دیکھ کر حرم کی آنکھیں پھیل گئیں
“یہ کیا ہے۔۔۔ کیا کرنے والے ہیں بہرام آپ میرے ساتھ پلیز چھوڑیں مجھے”
بہرام کے ہاتھ میں نڈل کی طرح کوئی نوکدار لمبی سی چیز جو اپنی پاکٹ سے نکالنے کے بعد اُس نے حرم کے دل کے پاس رکھیں تو حرم کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی اور سانس رُکنے لگی
“کبھی کبھی اپنی قیمتی چیز کو اپنے پاس رکھنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو جاتا ہے، سمجھ لو کہ میں تمہارے لئے کوئی رسک نہیں لے سکتا جس کے لیے تمہیں تکلیف دینا ضروری ہے”
بہرام نے بولتے ہوئے نڈل اس کے دل کے اوپر رکھ کر اندر کی طرف دبائی تو تکلیف مارے حرم کے منہ سے چیخ نکلی
“نہیں بہرام پلیز نہیں”
حرم روتی ہوئی بولی اس نے اپنے دونوں ہاتھ بہرام کے مضبوط گرفت سے چھڑوانے چاہے مگر وہ نڈل سے نہ جانے کیا کررہا تھا جس سے حرم کو شدید تکلیف ہورہی تھی جب بہرام اس کے اوپر سے اٹھا تو حرم میں روتے ہوئے بیڈ پر لیٹے لیٹے اپنا رخ موڑ لیا۔۔۔ اُس کے جسم کا حصہ سن ہوچکا تھا
“دل نہیں ہے آپ کے سینے میں بےرحم ہیں آپ۔۔۔ چلے جائیں میری نظروں کے سامنے سے”
حرم جانتی تھی بہرام وہی موجود ہے جبھی اپنا رُخ ویسے ہی موڈے روتی ہوئی بولی تو بہرام خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا
