503.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shatranj Episode 8

Shatranj by Muskan Kanwal

دروازہ بجانے والا مسلسل دروازہ پیٹنے میں مصروف تھا………

حریم نے تھوک نگلتی ہوئے بہت ہی ہمت جمع کرکے دروازہ کھولا …..

وہاں کاموالی کھڑی تھی ہاتھ میں ٹرے لیئے …….

حریم بیٹا مجھ سے سیڑھی نہیں چلی جاتی…………

تم یہ زبیر صاحب کو دے دو……

اہم ……میں دے دوں ……!!!!!

یا اللہ اب وہ سامنے کھڑی بائی کو ….منع نہیں کر سکتی تھی……….

تب ہی بے بس ہو کر اس نے ٹرے پکڑی………

اور تابی کے کمرے کی طرف بڑھی……..

کمرے کا دروازہ بند تھا……..

مگر اندر سے تابی کی کسی سے فون پر بات کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی ………

ہاں میں جانتا ہوں اس بار ناکامی کو ہم سے دور رہنا ہے………..

مگر میں کچھ مصروف ہوں…….

کچھ پرانے حساب ہے جو کسی کے ساتھ مکمل کرنے ہیں………..

ویسے تو میں یہاں کسی اور ارادے سے آیا تھا…….

مگر جب یہاں پہنچا تو میرا ارادہ بدل گیا…….

لیکن تم فکر نہ کرو…….

بہت جلد تمہارے پاس آونگا……

تم سے ملنے ……..

حریم ہاتھ میں ٹرے پکڑے دروازے سے باہر کھڑی تابی کی باتیں سن رہی تھی ……..

کہ اچانک کسی نے دروازہ کھولا……

وہ تابی تھا ……..

تم یہاں کھڑی میری باتیں سن رہی تھی…….!!!!!!

آہ ….وہ ….مہ …م ….میں…. نن ….نہیں… تو……

اچھا کیا واقعی…..!!!!

لیکن تمہاری زبان تمہاری آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہی……..

کیا مطلب …….!!!!!!!

ہاہاہا …….تم مجھ سے جڑے سارے مطلب بہت جلد جان جاؤ گی حریم ………..

تابی کی مشکوکنا نظروں نے حریم کو نظر جھکانے پر مجبور کردیا……..

او یہ لے کر اندر اور وہاں سامنے رکھ دوں…….

حریم نے ایک گہری سانس لی…..

اور اندر گئی……..

حریم نے ڈھلی چوٹی کندھے پر ڈالی ہوئی تھی…..

جو آوارہ لٹے چہرے کے گرد گردش کر رہی تھیں ……

براؤن چوڑی دار پاجامہ ……

اور فراک جس میں دامن میں موتی لگے ہوئے تھے……

دوپٹہ پھیلا کر اڑا ہوا تھا …….

کمرے میں کافی ٹھنڈک محسوس ہورہی تھی……

شاید (ای. سی )کافی تیز تھا ……..

تابی بھی حریم کے پیچھے پیچھے کمرے میں آیا …….

وہاں رکھ دوں حریم……..

اس نے سنجیدگی سے کہا …….

.حریم نے ٹیبل پر کھانا رکھا …….

تبھی تابی نے اچانک روم کا دروازہ لاک کیا…….

لاک کی آواز سنتے ہی حریم نے چونک کر اس کو دیکھا………. جو ہاتھ باندھے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا مسکرا رہا تھا…………….

کیا ہوا تابی …..!!!!!!!

حریم نے مطمئن ہو کر پوچھا…..

کیونکہ وہ جانتی تھی……..

ابھی ہوشیاری سے نہیں….

بلکہ سمجھداری سے کام لینا ہے….

تابی اس کے قریب آیا…..

اور اشارہ کیا بیٹھ جاؤ حریم…….

نہیں… وہ …ام ….وہ… مہ….. ما …

مجھے ابو کو دوائی دینی ہے………

ہاہاہا…. دے دینا ابھی فی الحال بیٹھوں یہاں…..

میں یہاں بیٹھنے نہیں آئی کھانا دینے آئی تھی تمہیں…..

یہ کہہ کر حریم تابی کے برابر سے گزرنے لگی…….

مگر تابی فورا اس کے سامنے رستہ روکتا آیا……

کدھر….. کدھر….. چلی…..!!!!!!!

تابی تمہارا مسئلہ کیا ہے ……!!!!

مسئلہ …..اور میرا …….!!!!

ہاں تمہارا کیا مسئلہ ہے کیوں مجھے تنگ کرتے ہو……

تابی نے شرارت بھرے انداز میں سوچتے ہوئے کہا……

میرا مسئلہ….

میرا مسئلہ ….

میرا مسئلہ ہو تم……..

تابی نے چلاتے ہوئے حریم کو کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر دھکیلا ………

سمجھیں….. کون ہے میرا مسئلہ….!!!!

ہاں بولو حریم کون ہے میرا مسئلہ….!!!!

میرا مسئلہ ہو تم ……!!!!!!

میڈم حریم میرا مسئلہ ہے آپ ……

اب حریم کا ظرف جواب دے گیا تھا……..

وہ نازک لڑکی کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی…….

اس جلاد کا ………

تابی میں نے کیا….. کیا ہے ……..

حریم کی آواز لڑکھڑا رہی تھی……

کیا آپ کو نہیں پتا…. آپ نے کیا…. کیا ….ہے…!!!!

میں دوبارہ یاد کراوں…..!!!!

اگر بھول گئی ہو تو……..

یہ کہتے ہوئے تابی اس کی طرف جھکا……

تابی نے اپنا ایک پیر بیڈ پر رکھا……..

حریم کی سانسیں جیسے رکھ رہی تھی……..

تابی نے اپنی ایک انگلی حریم کے ہونٹوں کے کافی قریب کی……….

یہ ان لبوں سے اپنے میرے زندگی کے13 سال سزاjail میں گزر وائے………..

ما ….مم ……میں…… نے ……

ہاں تم نے جان…….

آپ نے میری زندگی کے 13 سال برباد کئے…….

مگر تابی میں نے وہ اس دن جان بوجھ کر نہیں بولا تھا…………

میرا یقین کرو…….

کیا خاک میں تمہارے یقین کرو ……

تابی زور سے چلایا…….

تم جانتی ہو اگر اس دن تم بیچ میں نہ بولتی تو وہ لوگ مجھے کبھی نہیں ڈھونڈتے…….

میں وہاں سے نکل جاتا انکو آئیڈیا بھی نہ ہوتا کہ یہ سب میں نے کیا…….

وہ لوگ مجھے جانتے تک نہیں تھے…….

مگر تمہاری وجہ سے انہوں نے زبیر باجوہ کے ساتھ یہ سب کیا ……

صرف…… اور ……صرف تمہاری وجہ سے………

تو اب ان تیرہ سالوں کی وصولی تابی بھی تو کرے گا بیوٹی گرل ………….

کیا مطلب دیکھو میں تمہارے ہاتھ جوڑتی ہوں ……..

مجھے معاف کردو…… پلیز…..

حریم بےبسی سے اس کے آگے ہاتھ جوڑ رہی تھی…….

جو چیل جیسی نگاہوں کی طرح اس کو دیکھ رہا تھا………….

حریم التجائیں نظروں سے ہاتھ باندھے اس کو دیکھتی رہی………

وہ مسکرایا کچھ دیر خاموش رہا……..

اور پھر بولا ……

جا تجھے معاف کیا ……

یہ کہتے ہوئے تابی نے ایک زوردار قہقہہ لگایا …….

حریم نے پوری جان لگا کر اس کو خود سے دور کیا……..

اور دروازے کی جانب بھاگ گئی…….

رکو میری جان …..روکو تو سہی……

وہ قریب بڑھنے لگا……

تو حریم دروازے سے جا لگی………

تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف کردوں گا ہنی………..( ہاہاہاہاہا )……..

چلو میری ایک شرط ہے …….

کیسی شرط …….!!!!!!

تابی صوفے پر جا کر بیٹھا……

ٹانگ پر ٹانگ رکھے …….

اس نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے جوڑی……….

ہم تو سوچتے ہیں…….

کیا ……کیا جائے…… ہم …….

حریم خاموشی سے کھڑی اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھی……

ایک آئیڈیا ……..(ہاہاہاہا)……..

یار میں نے یہ پہلے کیوں نہیں سوچا……

اچھا چلو دھیان سے سنو……..

حریم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی…….

تمہیں روز رات دس سے گیارہ میرے پاس میرے کمرے میں گزارنے ہوں گے……..

ویسے ایک بات میں تم پر اچھے سےبتادو ……

میں تم سے بھیک نہیں مانگ رہا………

جس طرح تم مجھ سے ابھی بھیک مانگ رہی ہوں…….

اپنی معافی کی………

تابی پلیز ……حریم کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے…….

ہاں دیکھو حریم مجھے نہ شروع سے طاقتور لوگوں سے مقابلہ کرنے میں بہت مزہ آتا ہے…….

جیسا کہ تم خود کو بہت طاقتور سمجھتی ہوں…….

تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھ سے جیت جاؤ گی…….

مگر فی الحال تمہارے پاس میری بات مان لیں نے کہ علاوہ اور کوئی دوسرا رستہ ہی نہیں ہے…………..

ہاہا ……..بولو شرط منظور ہے…….

ایک اور بات تو میں بتانا ہی بھول گیا …..

مجھےکسی کا قتل کرنے کا بہت شوق ہے…….

مگر افسوس ابھی تک موقع نہیں ملا ……..

ویسے رشید چچا کی طبیعت کیسی ہے آج کل……!!!!

اس نے ابرو اچکاآئی……..

تم یہ صحیح نہیں کر رہے ہو تابی……..

تم پچھتاؤ گے ……….

…… ہاہاہا ….. زبیر باجوہ نے پچھتانا نہیں سیکھا…….

زبیر باجوہ….. تم بہت جلد سیکھ جاؤ گے…….

یہ کہتے ہی حریم وہاں سے چلی گئی…….

اسکے اس طرح بھاگنے پر……

تابی کی ہنسی چھٹی……

پاگل لڑکی …….

_______________________________________________

صبح 9بجے……..

حریم نے گہرے نیلے رنگ کی پشواس ……

چوڑی دار پاجامہ …..اور ساتھ لمبا جارجٹ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا ………

ہاتھوں میں رجسٹر لئے ہینڈ بیگ تانگے وہ رکشے کا انتظار کر رہی تھی ………..

جب اس کے فون پر کسی غیر شناسی نمبر سے کال ای ………

حریم ویسے ہی پریشان تھی…..

کیونکہ آفس کے لیے کافی لیٹ ہو رہی تھی…….

اس نے فون غصے میں کاٹا…..

اور روڈ پر اپنے قدم پٹکنے لگی…….

وہ میڈم چل نہیں بلکہ دو رہی تھی ……

جب کچھ دیر بعد ہی اس نمبر سے دوبارہ فون بجنے لگا ……..

اس نے اپنے قدم روکے اور فون اٹھایا…….

کون ہے….!!!!!

کیا مسئلہ ہے ……!!!!!

کیوں فون کر رہے ہو…….!!!!

جب فون کاٹ دیا تو بار بار کیوں تنگ کر رہے ہو….!!!!!!!

بولو بھی……!!!!

خاموش کیوں ہو …….!!!

آپ چپ کریں گی تو میں کچھ کہوں گا …..

مخالف سمت سے آواز آئی…….

وہ کوئی نوجوان تھا………

او ہو تو ……

اب میں سمجھی…..

تم نے مزے سے میرا نمبر ڈائل کیا ہے …….

جانتی ہو میں ……

تم جیسے لڑکوں کو……..

نمبر ملاتے ہو اور لڑکیوں کو تنگ کرتے ہو……..

کچھ خوف خدا ہے بھی یا نہیں …….

میری بات سنو ……

آج کے بعد مجھے فون مت کرنا…… سمجھے …..

یہ کہتے ہیں حریم نے فون بند کر دیا….

اور نمبر بلاک کیا………

عجیب بے شرم لوگ ہوتے ہیں……

پتہ نہیں کہاں کہاں سے اٹھ کر آجاتے ہیں……

رکشہ بھائی فیز 8 جانا ہے……

جی باجی بیٹھی وہ رکشے میں بیٹھی تھی……

وہ گم سم بیٹھی تھی……

ہوا چاروں طرف سے اس کے چہرے کو چھو رہی تھی …..

وہ اپنے نازک ہاتھوں سے اڑتی بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتی…….

وہ اداس تھی…….

زندگی بہت پرسکون گزر رہی تھی……..

مگر جب سے تابی آیا تھا…….

ہر وقت سر پر تلوار سی لٹک رہی تھی…….

حریم نے ایک گہری سانس لی……….

_____________________________________________

(فرانک فرٹ)……. (جرمنی)…..

صبح سات بجے………

جرمنی اور پاکستان کے وقت میں اب تین گھنٹوں کا فرق ہے ……….

وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا تھا ……

جب اس کا فون بجا……

ہیلو ایلکس……

(Alex ) …….

ایک بوڑھا وکیل جو ہر وقت ہر کام میں ارسلان کی مدد کرتا …….

دراصل وہ ارسلان باجوہ کا ہی وکیل تھا……

جو کینیڈا میں ارسلان باجوہ کے والد کا دوست تھا…..

کینیڈا, پاکستان, اور جرمنی کی ارسلان باجوہ کی تمام کاغذی کاروائی ایلکس ہی کیا کرتا تھا…..

____________________________

Hallo alex wie geht es dir? Ich hatte dir eine Aufgabe gegeben was ist daraus geworden? Hey junger Mann ich hab dir eine Nummer geschickt die sagen die werden alles in einer Stunde schicken ich möchte die Information aber in 15 min haben und schicke mir bitte auch den Standort

__________translation_______

(Hello..)alex… kaisey ho??khx kam kaha tha…Kia bana uska?? Hyee young man mainey number behja hai woh kehty hai ek ghnatey to send karein gian (Alex..) ek ghnata nahi mujhe 15 minute k under sari information chaiye…or haa location bhi send krna understand..

____________________________

ارسلان باجوہ نے فون سائٹ پر رکھا ……

اور سیدھا ہو کر بیٹھا ……

جب اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی……