Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450
Last updated: 19 December 2025
Shatranj by Muskan Kanwal
اپنی حد میں رہو تم……
اچھا تو کیا ہے میری حد…..!!!!
حریم اس کے قریب بڑی…..
تمہاری حد میں بتاتا ہو……
یہ کہہ کر ارسلان نے اسے بازو سے پکڑا …..
اور باہر لان میں گیا…….
جہاں ایک طرف مٹی پڑی ہوئی تھی……
ارسلان نے حریم کو زمین پر جھٹکے سے پھینکا…….
وہ منہ کے بل زمین پر جاگری……
مٹی اس کے چہرے, ہاتھوں, اور کپڑوں,
میں بھر گئی……..
ارسلان گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا……
اور سنجیدگی سے 8 سالہ لڑکی کو دیکھتے ہوئے بولا…….
یہ ہے تمھاری حد…. سمجھیں ……
حریم آنکھوں میں آنسوں چھپائے…..
زمین پر دیکھتی رہیں……
تاکہ ارسلان اس کی بے بسی نہ دیکھ سکے…….
حریم کی عزت نفس کو آج پہلی بار کچھلا گیا تھا………
وہ اپنے ہاتھوں پیروں سے مٹی صاف کرتی ہوئی کھڑی ہوئی……..
آنسو صاف کیے …..
گہری سانس لیں……
اور مسکرائی……
تکلیف ایسی کہ چیخ کر رونا چاہوں..
پر ضبط ایسا کہ لب سے آہ بھی نہ نکلے..
