346.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shatranj Episode 6

Shatranj by Muskan Kanwal

وہ بھاگتی ہوئی کھلے آسمان کے نیچے گئی……

بارش کی آوارگی نے ایسی رت بدلی کے کب اس کے سینے سے دوپٹا دور جاگرا اس کو ہوش ہی نہ تھا ………

وہ دیوانوں کی طرح بارش میں بھیگ رہی تھیں……

کہ اچانک مرکزی دروازے سے ایک گاڑی اندر آئی…….

اس کو ابھی بھی ہوش نہ تھا…….

وہ ایک دم بے سہارا ہو کر گرنے لگیں…….

جب کسی نے مضبوطی سے اس کو اپنی گرفت میں لیا…..

چند مین جیسے اس کے ہوش اڑ گئے…..

خود کو ان مردانہ ہاتھوں کی گرفت میں دیکھ کر …..

بمشکل تسمیہ پڑھتے پڑھتے اس نے نظر اٹھائی…..

تو پیروں تلے زمین نکل گئی…….

سامنے زبیر باجوہ کھڑا تھا…..

حریم ………

اس نے سنجیدگی سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا……

جو حیران پریشان اس کو دیکھنے میں مصروف تھی…….

تابی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی …….

حریم نے خود کو حیرانی کے حصار سے باہر نکالا ……….

(تہ….. ت…… تم)…..

. کیا ہوا………

. تمہارے ہوش کیوں اور گئے مجھے دیکھ کر …….

تابی نے ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا………..

بلیوجینز… بلیک شرٹ… سر پر کیپ…. ہاتھ میں واچ….

اس کی حالت سے کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ 13 سال کی سزا مکمل کرکے آیا ہے …..

اندر چلے…??

یہ کہتے ہوئے تابی کی نظر اس کے کپڑوں پر گی جو بارش کی وجہ سے بھیگ کر اسکے جسم سے چپکے ہوئے تھے …..

تابی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس نے بھی خود کو دیکھا …..

حریم کو یکدم شرمندگی ہوئی….

حریم فور آگے پیچھے نظر گھمائیں اس کا دوپٹا تابی سے کچھ فاصلے پر گرا تھا…..

حریم نے فورا جھک کر دوپٹا اٹھانا چاہا…..

مگر دوپٹے کا ایک کونا باجوہ کے پیروں میں دبا ہوا تھا….

حریم جو پہلے ہی شرم سے پانی پانی ہورہی تھی….

بامشکل صرف اتنا ہی کہہ سکی….

میرا ….وہ ..

اس کے اس طرح جھجھکنے پر تابی نے مسکراتے ہوئے پیر پیچھے کیا….

حریم نے جلدی سے دوپٹہ اٹھا کر اپنے گرد لپیٹا….

تابی ہاتھ منہ میں دبائے مسکراتا جا رہا تھا….

تابی کے اس تصورات سے حریم کو کافی الجھن ہو رہی تھی ….

اہ….. تابی بھائی….

اندر آئے….

ہائے یار کافر نہ کرو مجھ غریب کو بھائی بول کر …

کیا مطلب…??

حریم نے سوالیہ انداز میں تابی کو دیکھا ….

پنک بیوٹی….

لڑکیاں مطلب نہیں پوچھتی….

اہ ….مم… میں ابو کو بتاتی ہوں کے آپ آئے ہیں …..

ان کو چھوڑو تم ان کو بتا کر کیا کروگی…..

تم مجھ سے بات کرو ذرا….

تابی نے سنجیدگی سے کہا…..

میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا …..

میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا …..

13 سال پہلے جو الفاظ تابی نے چلاتے ہوئے حریم کو کہے تھے ….

وہ آج 13 سال بعد حریم کے دماغ میں زور زور سے چلا رہے تھے….

حریم…. حریم….

کدھر گم ہوگئی…..

میں تم سے بات کر رہا ہوں….

حریم نے ایک دم سر جھٹکا ….

وہ میں کچھ سوچ رہی تھی….

خیر تو ہے لڑکی کیا سوچ رہی تھی….

تابی نے ابرو اچکآئ….

یاہ …..

دراصل ابو کی دوائی کا ٹائم ہوگیا ہے….

میں آتی ہوں….

یہ کہہ کر حریم جانے کے لیے مری…

تبھی تابی نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑا …..

حریم نے یکدم اس کو حیرانی سے دیکھا…..

جو مشکوک نظروں سے حریم کو دیکھ رہا تھا ….

حریم کی دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی….

حریم نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی..

جب اس کی اس جدوجہد پر تابی کی ہنسی چھٹی….

جاؤ …

یہ کہہ کر تابی نے حریم کا ہاتھ چھوڑا …..

حریم بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی …

رشید کی طبیعت اب کافی نہ ساز رہتی تھی ….

وہ اپنے کواٹر سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا …..

حریم نے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کیا …..

آج کافی عرصے بعد اس نے کمرے کی کنڈی لگائی تھی….

ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہورہی تھی…..

اس نے گلاس بھر کر پانی پیا…

سانس لی اور پھر خود کو تسلی دینے لگی ….

(کچھ دیر بعد)….

وہ واش روم سے بال سکھاتی باہر آئیں……

وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس وہ 19 سالہ حریم…….

جس نے بالوں پر چھوٹا کیچر لگایا…….

ہاتھوں میں سفید کانچ کی درجن چوڑیاں جو سرخ کلائیو کے گرد گھومنے کا مزہ لے رہی تھی……..

بارش کی وجہ سے موسم تھوڑا سرد ہوگیا تھا…..

حریم نے سرمئی رنگ کی شال لی……

اور کمرے سے باہر نکلیں…….

جب اس کی نظر سامنے ٹی وی لانچ پر گئی……

جہاں تابی سمیت اس کے تین اور دوست بھی بیٹھے تھے…….

رشید ان کو کولڈرنک صرف کر رہا تھا…..

تابی جن دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا…..

یہ اس کے وہی دوست تھے جن کی وجہ سے وہ تیرا سال پہلے جیل گیا تھا…….

اور جیل میں بھی انہی کی صحبت میں رہا …..

لیکن شاید اس بات کا اندازہ تابی کو اب تک نہیں تھا کہ جن دوستوں کی صحبت میں وہ ہے…….

وہ دراصل ٹھیک نہیں…….

حریم رشید کو کول ڈرنک صرف کرتا دیکھ کر……

یکدم بھاگتی ہوئی اس کے پاس گئی …….

ابو یہ کیا کر رہے ہیں…. آپ …….

حریم نے رشید کے ہاتھ سے ٹرے لے کر ٹیبل پر رکھی……

تابی سمیت سب کی نظر حریم پر گی…….

جو شفاف سفید رنگ میں ملبوس تھی

….

وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی نظر اس پر ٹک کرہ گئی…….

حریم نے ان میں سے کسی پر غور نہ دیا ……

تابی ہاتھ باندھے اس پریشانی میں مبتلا حسین لڑکی کو دیکھ رہا تھا ..

جب اس کی نظر اپنے ایک دوست پر گی ……

جو غلاظت بھری نظروں سے حریم کا جائزہ لے رہا تھا….

تابی کا خون خول اٹھا ….

حریم باہر جاؤ یہاں سے ……

تابی نے لفظ چباتے ہوئے کہا ……

دیکھو یہ سب ابو نہیں کرسکتے تابی……

انکی طبیعت آگے ہیں ٹھیک نہیں رہتی……

میں تم سے کہہ رہا ہوں اندر جاؤ ….حریم ……

اچھا ……..یہ کہہ کر حریم گلاس لے جانے لگی……

تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی…….

تابی نے ہاتھ میں موجود گلاس کو بری طرح زمین پر دے مارا ……..

حریم یکدم ڈر کر پیچھے ہٹی……

تابی کی اس حرکت سے اس کے دوست بھی چونک اٹھے………..