Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450 Shatranj Episode 5
Rate this Novel
Shatranj Episode 5
Shatranj by Muskan Kanwal
چھوڑیں میرے بیٹے کو…..
فریال بیگم نے بہت کوشش کی…..
مگر سب بے سود رہیں……
تابی نے باہر نکلتے ہوئے چلا کر کہا ……
حریم میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا….. نہیں….
چھوڑوں گا ….میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا …….
کچھ گھنٹوں بعد…..
فریال بیگم ڈی ایس پی کے آفیس میں بیٹھی تھی…..
اسلام علیکم محترمہ……
جج جی …..وہ میرا بیٹا…..
. کونسا بیٹا ?????
ایک کانسٹیبل نے ایک فائر لاکر …..
(ڈی .ایس .پی) کو دیں……
وہ چند منٹ اس فائل کو پڑھتے رہے …..
فریال بیگم مسلسل پریشانی کے عالم میں سامنے بیٹھے آفیسر کو دیکھتی رہی……
عمر نو سال……
چار کمپلینس…..
نام زبیر باجوہ……
کس قسم کی کمپلین سر آپ کچھ بتائیں تو سہی…..!!!!!!!
آپ کا بیٹا …….
(the prime master) (#land_city)
نامی گینگ کا حصہ ہے یہ گینگ (#ٹین_ایج)
گروپس میں ڈرگس فراہم کرتا ہے ……
اس میں آپ کا بیٹا بھی ملوث ہے ……
نہیں میں نہیں مان سکتی میں…..
ہرگز آپ کی بات نہیں مانوں گی ……
بی بی آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا……….
اور ایک بات اور آپ کا بیٹا فیس بک پر لڑکیوں کو بلیک میل کرتا ہے…….
بہانے سے ان کی تصویریں نکلواتا ہے…..
پھر اگر کام مکمل نہ ہو تو ان لڑکیوں کو بلیک میل کرتا ہے ………
جن لڑکیوں کو وہ بلیک میل کرتا ہے……
ان میں سے ایک لڑکی میرے بھائی کی بیٹی تھی ……
اس کی کمپلین کی گئی…..
اور اب یہ بات یہاں تک پہنچ گئی ……
میں آپ کے بیٹے کو اتنی آسانی سے رہا نہیں ہونے دوں گا……….
اب کی بار آپ کے بیٹے کو اپنے کیے گئے تمام گناہ کی سزا ملے گی…….
کیونکہ اس نے میری بھتیجی کو اتنا دھمکایا ہے….
اس کی وجہ سے میری بھتیجی کی آنکھوں سے اتنے آنسو نکلے ہیں……
میں ان سب کا بدلہ اس سے سود سمیت لو گا …..
دیکھیے آفیسر آپ جتنے پیسے مانگے ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہے ……..
خبردار…. خبردار ……جو آپ نے ہمیں رشوت دینے کی کوشش بھی کی……
ہر پولیس والا ایک جیسا نہیں ہوتا……
تم امیر لوگ یہ بات سمجھتے ہو کہ ہر غلط کام کو پیسے کے نوٹوں کے ذریعے چھپا لو گے ……..
مگر ابھی ایسا نہیں ہوگا ……
ہاں آپ کے پاس ایک رستہ ہے اگر آپ چاہیں تو ضمانت پر اپنے بیٹے کو رہا کرا سکتی ہیں……
پولیس افسر تھوڑا مسکرایا …..
مگر آپ کو پورے 32 لاکھ روپے جمع کرانے ہوں گے…..
کیونکہ میں اتنی آسانی سے آپ کے بیٹے کو رہا نہیں ہونے دوں گا……
دیکھے آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں …..
میں آپ کو پوری رقم دے دونگی لیکن مجھے کچھ وقت کی ضرورت ہے ظفر باجوا ابھی ملک سے باہر ہیں عام تعطیل ہوئی ہے بس وہ جیسے ہی آتے ہیں ہم اس معاملے کو آپس میں بیٹھ کر حل کریں گے ……….
11گھنٹوں کا ٹائم ہے آپ کے پاس اگر گیارہ گھنٹے کے اندر یہ رقم ادا نہیں کی گئی…… تو……..
آپ کے بیٹے کو 13 سال کی سزا سنا دی جائے گی …….
بھلا آپ کون ہوتے ہیں میرے بیٹے کو سزا سنانے والے ………
ہاہاہاہا بی بی ابھی آپ کو بتایا ہے کہ جس لڑکی پر اس نے ہاتھ ڈالا ہے وہ کوئی معمولی خاندان کی لڑکی نہیں……..
وہ میری بھتیجی ہے اور میں آپ کے اس آوارہ بیٹے کو اتنی آسانی سے رہا نہیں ہونے دوں گا ……..
اب جاؤ یہاں سے میرا وقت ضائع نہ کرو ……..
اگر اپنا بیٹا چاہیے تو جاکر ابھی ضمانت کی رقم کا انتظام کرو …….
دیکھیں آفیسر ……
میں نے کہا جاؤ یہاں سے ……
پولیس آفیسر وحشیانہ انداز میں چلایا……
اس کا یہ رویہ دیکھ کر فریال بیگم ایک دم کے لیے کانپ اٹھی …….
_______________________________________________
فریال بیگم پورے ٹی وی لانچ میں پچھلے ایک گھنٹے سے پاگلوں کی طرح چکر لگا رہی تھی …….
کیونکہ موبائل سروس ایک ہفتے کے لیے بند تھی…..
تمام فلائٹس منسوخ کردی گئی تھی ……
بینک بند تھے ……..
ظفر باجوہ سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں مل پارہا تھا…….
حریم بھی وہیں بیٹھی دل کی دل میں سوچ رہی تھی………….
( اللہ جی میں نے تو کچھ نہیں کیا پھر تابی بھائی مجھ سے ناراض کیوں تھے اللہ جی مجھے تابی بھائی کے شر سے محفوظ رکھنا آمین )……..
حریم معصومیت سے اپنی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی……….
وقت گزرتا گیا بامشکل دوست احباب کی مدد سے 32 لاکھ روپے کا انتظام کرلیا گیا ………
فریال بیگم وکیل کے ساتھ تابی کی ضمانت کے لیے گی………
بالآخر تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ……
ڈی. ایس. پی آفس میں آیا……
جی تو بی بی کیسے آنا ہوا …….
دراصل میں اپنے بیٹے کی ضمانت کے لئے آئی ہوں …..
کون سا بیٹا پولیس آفیسر نے سپاٹ انداز میں پوچھا…..
( ……تابی…….)
کون تابی …..????
میرا مطلب ہے زبیر باجوا…….
فریال بیگم ہچکچائیں …..
بی بی آپ سے کہا تھا گیارہ گھنٹے کے اندر زمانت ہوگی گیارہ گھنٹے کا مطلب اڑتالیس گھنٹے نہیں ہوتا ……
میری بات سنیں آفیسر میں اتنی بڑی رقم کہاں سے لا تھی…….
ہر انسان کو ٹائم کی نیڈ ہوتی ہے ……..
یہ ہمارا مسئلہ نہیں سمجھی ……
دیکھی آفیسر ایک ہفتے تک شٹرڈاؤن تھے…..
میرے ہسبنڈ سے میرا کوئی رابطہ نہیں…..
بینک بند …..میں کس طرح ارینج کرتی ……
دیکھو بی بی ہمارے پاس کرنے کو اور بہت سے کام ہے ……..
ٹھیک ہے اور تیرہ سال بعد جب تمہارا بیٹا رہا ہوگا تو آجانا اس کو لینے ……..سمجھیں……
اب جاؤ تنگ نہ کرو ہمیں…… کرنے دو کام ……
کیا ب**** ہے یہ…..
فریال بیگم چلاتی ہوئی کھڑی ہوئی……
تو بی بی آواز نیچے……
تم لوگ ہوں گے بڑے خاندان سے…….
مگر یہاں انصاف ہوتا ہے…… سمجھی ……
ہر پولیس والا ایک جیسا نہیں ہوتا…….
اب جاؤ یہاں سے آجانا ہر ماہ اپنے بیٹے سے ملنے…..
اب تنگ نہ کرو ورنہ تم کو بھی اندر کر دیں گے ……
جاؤ یہاں سے…….
_____________________________________________
یہاں ایک ماہ بعد لاتعداد کوششیں کی گئیں…..
تابی کو بچانے کے لئے……
مگر مخالف پارٹی بھی کسی سے کم نہ تھی……
بالآخر تھک ہار کر ……
ظفر باجوہ اور فریال باجوہ جرمنی دمپ سٹارٹ ارسلان کے پاس چلے گئے……
جہاں ارسلان باجوہ
(School name). …![]()
![]()
![]()
(Technische Hochschule in Darmstadt)
(àbýťohwà)….[graduation]…
کر رہا تھا ………
یہاں حریم اور رشید پاکستان میں ہی ظفر باجوہ کے گھر زندگی گزار رہے تھے ………
حریم انٹر کر رہی تھی اور ساتھ ہی (A_R_B#) نامی کمپنی میں انٹرن شپ بھی کر رہی تھی………
جرمنی کے رہنے والوں نے مر کر تیرہ سال تک پاکستان نہ دیکھا………
اور نہ ہی دوبارہ کبھی پاکستان کا رخ کیا ……
جبکہ تابی کی خیریت ایک دوست کے ذریعے معلوم کرتے رہے……..
وہاں ارسلان باجوہ نے 19 سال کی عمر میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام شروع کیا …….
کامیابی نے اس کے قدم چومے……
اور وہ تر سے تیز ترین ترقی کرتا گیا…….
آج 27 سال کی عمر میں ارسلان باجوہ نے اپنے تین پیزا ریسٹورنٹ …….
جو کہ امیر ترین بندے بھی جرمنی میں بامشکل کھول پاتے……..
نہ صرف یہ اس 11 مرسڈیز.
( E class )…..#Mercedes….
کے مالک نے اپنی ساری گاڑیاں ایک کمپنی میں دیں……
تاکہ ایک اور ذریعہ معاوضہ بن جائے……..
آج ارسلان باجوا اتنی سی عمر میں پاکستانی روپے کے حساب سے اربوں روپوں کا اکلوتا وارث…….
ارسلان باجوہ اس سرمئی آنکھوں والے میں غرور تو بالکل نہ تھا مگر …….
اس کے مزاج بھی کسی سے نہ ملتے تھے …….
یہاں تک کہ ارسلان کی فلہال کوئی گرل فرینڈ بھی نہ تھی…….
ارسلان ڈمپ سٹارٹ سے فرانک فرٹ میں رہائش پذیر تھا……..
ارسلان باجوہ نے اپنا کمرہ بالکل ویسے ہی اراستہ کیا ہوا تھا جیسے دمپ سٹارٹ میں تھا …….
دراصل ارسلان باجوہ شروع سے ہی ایک نیچر کا رہا
لوگوں سے کم بات کرنا زیادہ فضول نہ بولنا ….
ہاں وہ کافی رومانٹک تھا….
_____________________________________________
.پاکستان شام7بجے)…..
گلابی رنگت ,سنہری بال, گہری کالی آنکھیں, جامنی شلوار قمیض میں ملبوس وہ لان میں گھاس پر بیٹھے زخمی کبوتر کی صحت یابی کی دعا مانگ رہی تھی …..
اسکے چہرے کا رخ آسمان کی جانب تھا….
جب آسمان سے بارش کی ایک موٹی بوند اس کے رخسار پر آگری …..
چہرے پر حسین مسکراہٹ نمودار ہوئی …
ٹپ…. ٹپ ….ٹپ……!!!!
ایک کے بعد ایک گہری بوندھ برسنے لگی…..
اس نے زخمی کبوتر کو ایک سایہ دار جگہ پر رکھا……
اور بھاگتی ہوئی کھلے آسمان کے نیچے گئی…….
