Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450

Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450 Shatranj Episode 28 (Last Episode)

346.5K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shatranj Episode 28 (Last Episode)

Shatranj by Muskan Kanwal

امریکا سے جرمنی تک کا یہ سفر ….

10 گھنٹے 12 منٹ ….

ارسلان کو دس صدیوں جیسے لگ رہے تھے… منصور ذیشان ارسلان کو …

حریم کی حالت سے پہلے ہی بتا چکے تھے … ارسلان نے زندگی میں کبھی بھی…

اپنی پاور سے کچھ نہیں کیا تھا ….

مگر آج اس نے اپنی تمام تر پاور لگا دی تھی…..

کہ کسی بھی حالت میں فارس کو ڈھونڈا جائے…..

اور یہ تھا اس کے رب کا انصاف کے…

ابھی وہ سفر میں ہی تھا …

کہ فارس اور …

اس کے پورے گینگ کو پکڑا جا چکا تھا …

فارس پولیس کی کسٹٹاڈی میں تھا….

جس ٹوچر سے فارس گزر رہا تھا….

اس سے یہ صاف ظاہر تھا کہ وہ….

سوریہ کی بھی تمام تر معلومات…

پولیس کو دے دے گا ….

وقت گزرتا گیا …

فلائٹ میں ہونے کی وجہ سے…

ارسلان ذیشان اور منصور سے …

رابطے میں بھی نہ تھا ….

آج وہ ڈی گریڈ خود کو دنیا کا سب سے …

مجبور انسان سمجھ رہا تھا….

اس کی بے بسی کا عالم یہ تھا کہ….

وہ جسے اس قدر محبت کرتا ہے….

وہ اس کی خیریت بھی نہیں جان سکتا …

اس اذیت بھرے لمحے میں اس کے ساتھ…

بھی نہیں ہے ….

اس کی زندگی نے اگر اس کو اتنا نام اتنا مقام دیا …

تو بدلے میں اس سے بے انتہا آزمائش بھی لیں…

مگر وہ کون تھا …

وہ دی گریٹ تھا…

وہ کبھی آزمائشوں سے نہیں گھبرایا….

اور ڈٹ کر سامنا کرتا گیا …

آج بھی وہ خود کو مضبوط بنا کر سر پکڑے بیٹھا تھا …

بالآخر دس گھنٹے 12 منٹ کی فلائٹ کے بعد…

ارسلان کا یہ اذیت ناک سفر ختم ہوا ….

ارسلان کے ایک بار پھر ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی……

باڈی گارڈز کی فوج اس کے لیے تیار کھڑی تھی……

ارسلان نے کبھی کسی بے گناہ سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کی تھی….

مگر آج وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ…

کیا کر رہا ہے….

غصے پر قابو نہ پاتے ہی اس نے باڈی گارڈز پر حملہ کیا….

____________________________________________💔

wat ben je aan het doen meneer Jullie

konden het niet eens beschermen Laat ze Er is niets mis mee..Jij gaat met mijWe moeten naar het ziekenhuis

__________________TRANSLATION_____________💔

تم لوگ اس کی حفاظت بھی نہیں کر سکے سر چھوڑ دیا ان کو اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے آپ میرے ساتھ چلے ہمیں ہوسپیٹل جانا ہے چلے…..

_____________________________________________💔

ارسلان نے اپنا کالر ٹھیک کیا ….

اور گاڑی میں جا کر بیٹھا….

ایرپورٹ سے ہاسپٹل تک کا یہ سفر ….

25 منٹ کا تھا ….

جس کو ارسلان نے زیادہ سے زیادہ سات سے آٹھ منٹ میں طے کیا ….

وہ اس قدر سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا کہ…

حفاظتی گاڑی بھی….

اس کا پیچھا نہیں کر پا رہی تھی….

رسپشن پر جاتے ہی…

اس نے حریم کی انفارمیشن لی…

بالآخر حریم 5th فلور والے روم میں ایڈمٹ تھی ….

روم کی طرف جاتے ہوئے…

اس کی نظر ذیشان اور منصور پر گی…

جو کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے…

ارسلان بھاگتا ہوا ان کے قریب گیا ….

کدھر ہے حریم..!!

کیا ہوا ہے اسے…!!

وہ ٹھیک ہے نا …!!!

بولو جواب دو… وہ ٹھیک ہے نا !!!!

وہ وہ کہاں ہے…!!!

مجھے اس سے ملنا ہے…

کدھر ہے وہ !!!میں تم سے پوچھ رہا ہوں!!!

ارسلان نےpr ذیشان چلانا شروع کیا …

ارسلان بھائی آپ یہاں بیٹھے پلیز ….

یہاں بیٹھے….

بہت ہی مشکل سے ذیشان اور منصور نے…

ارسلان کو ایک کرسی پر بٹھایا …

وہ بے قابو ہو رہا تھا….

وہ بہت جذباتی ہو رہا تھا ….

اس سے اب رہا نہیں جا رہا تھا ….

پلیز یار مجھے بتا دو کدھر ہے وہ….

ٹھیک ہے نا …..

ذیشان گھٹنوں کے بل ارسلان کے پاس بیٹھا…

دیکھئے بھائی میں آپ کو جیسا کہتا ہوں…

آپ نے بہت ہی تحمل سے سنا ہوگا …

کیا مطلب… کیا ب**** کر رہے ہو….

میں تحمل سے ہی سنوگا…

لیکن تم پہلے مجھے بتاؤ حریم کہاں ہے!!!

وہ ٹھیک ہے نہ….

حریم بھابھی بالکل ٹھیک ہے…

ان کو کچھ نہیں ہوا …

وہ زندہ ہیں ….

….مگر… کیا مگر …!!!

تم پہیلیاں کیوں بھجوا رہے ہو!!!

ارسلان بھائی ہم نے آپ سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی ….

مگر فلائٹ میں ہونے کے باعث ہم آپ سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے …..

کیا مطلب ….

دراصل ارسلان بھائی کانچ کے زخم اس قدر گہرے تھے کہ….

ان کی کچھ نازک نسے کٹ چکی تھی….

زیادہ موومنٹ کی وجہ سے کانچ پیروں میں گہرائی تک چلے گئے تھے ….

بھابی کا آپریشن کرنا پڑا….

اور اس آپریشن میں ان کی دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑی….

یہ سننا تھا کہ ارسلان اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گیا…..

اس کی زبان اب اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی…..

جیسے سارے الفاظ بے معنی تھے ….

درد کی شدت اس قدر تھی کہ…

بیان کے قابل نہیں تھی…

اس کی کشمیری گڑیا پر اتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑی….

اور وہ اس کو بچا بھی نہیں سکا….

چند منٹ خاموشی سے وہ اپنا سر پکڑ کے…

بیٹھا رہا….

وہ بے شک بہت بہادر تھا …

مگر اس میں اب اتنی طاقت نہ تھی کہ….

وہ حریم کا سامنا کر پاتا….

بنا کچھ سوچے سمجھے…

وہ ہاسپٹل سے باہر نکل گیا ….

ذیشان اور منصور اس کو روکتے رہے….

مگر اب تو وہ شاید خود بھی خود کو نہیں روک سکتا تھا ….

ONE YEAR LATER💔

وہ سمندر کے کنارے اکیلی ویل چیئر پر بیٹھی تھی …..

حسین ہوائیے اس کے گرد گردش کر رہی تھیں……..

وہ سمندر میں ڈوبتے سورج کا حسین منظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھی ….

وہ کشمیری گڑیا اس کا چہرہ آج بھی اتنا ہی حسین اور تروتازہ تھا….

جتنا ایک سال پہلے تھا ….

مگر آج وہ پرسکون تھی….

کیوں کہ اس کے اور اس کے والد کے گنہگار کو سزا مل چکی تھی…..

فارس کو بھی جیل ہوگئی تھی…

فارس کی رپورٹ کے مطابق …

سوریہ کو بھی امریکن پولیس نے اپنی کسٹڈی میں لے لیا تھا ….

وہ اکیلی بیٹھی سورج کے ڈوبنے کا منظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھی….

جب اس کے عقب سے ارسلان کی آواز آئی…

تم پھر سے اتنا آگے چلی گئی ہو….

میں دو منٹ کے لئے گاڑی میں کیا گیا تم پھر سے آگے پہنچ گئی ….

میں نے تمہیں منع کیا ہے نہ کہ کنارے پہ مت جایا کرو….

وہ منہ بسورتا اس کے قریب آیا ‏ …

اف ارسلان میں دس منٹ سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں….

آپ واپس آ ہی نہیں رہے تھے….

چلو اب تو میں آ گیا نا…

یہ کہتے ہوئے ارسلان گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا….

تم جانتی ہو حریم یہ سمندر سوزرلینڈ کی سرحد سے ملتا ہے….

یہ سمندر جرمنی اور سوزرلینڈ کے بیچ میں واقع ہے….

اچھا کیا واقعی…..

دیکھے ارسلان کتنا حسین منظر ہے …

واقعی بہت حسین ہے….

مگر تم سے زیادہ نہیں ….

اچھا چلو اب بس اب بہت دیر تم یہاں کھلی فضا میں بیٹھ گئی ہو….

تم ہی ٹھنڈ لگ سکتی ہے….

اب ہمیں گھر جانا ہوگا….

مگر ارسلان میں ابھی نہیں جانا چاہتی…

اگر مگر کچھ نہیں ….

حریم میں نہیں چاہتا کہ تم بیمار پڑ جاؤ …

تم جانتی ہو نا کہ اگر تم ایک چھینک بھی آتی ہے تو ….

میں….. جی تو آپ کتنا پریشان ہو جاتے ہیں…

آف اچھا چلے گھر….

کیوں کہ اگر واقعی مجھے ایک چھینک بھی آ گئیں نا تو آپ نے مجھے بخشنا نہیں ہے …

حریم تم جانتی ہو میں تم سے کس قدر محبت کرتا ہوں….

اتنی کے پانی مجھے دیکھے تو وہ خود پیاسا ہو جائے اور اگر مجھے دیکھے تو اسے خود سے جلن ہو جائے …..

ہاہاہاہا…. نہیں اب ایسی بھی بات نہیں …

یہ کہتے ہوئے ارسلان نے حریم کے رخسار پر ہاتھ پھیرا ….

وہ دونوں سرجوڑے ڈوبتے سورج کا حسین منظر دیکھ رہے تھے ….

سورج تو ڈوب گیا مگر ایک حسین زندگی ان کی منتظر تھی…..

ہاں میں یہ کہنے سے آج قاسر نہیں ہوں …

کہ ارسلان باجوہ دی گریٹ ہے …

وہ آئیکون بندہ چاہتا تو…

دوسری شادی کر سکتا تھا…

اس کو ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل سکتی تھی ….

مگر اس نے ایسا نہ کیا… کیونکہ وہ سب سے الگ سب سے منفرد تھا….

وہ ہے ارسلان باجوہ….

بھلا وہ کیسے اپنی حریم کو ایسے چھوڑ سکتا تھا…. اس نے اپنا وعدہ پورا کیا …

جو اس نے چند سال پہلے رشید سے کیا تھا…

ارسلان باجوہ تم واقعی گریٹ ہو..