Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450 Shatranj Episode 2
Rate this Novel
Shatranj Episode 2
Shatranj by Muskan Kanwal
حریم ارسلان کو جاتا دیکھ رہی تھی……
تبھی اس کو ایک بات یاد آئی……
فریال انی نے کہا تھا کہ ارسلان بھائی کے پاس بہت ساری ٹرافیز ہیں …….
حریم اٹھ کر ارسلان کے کمرے میں گئیں…..
تمام فنیچر بلیک کلر کا تھا ہر چیز شیشے کی مانند چمک رہی تھی ……
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے کمرے میں گئی…..
آج آٹھ سالوں میں حریم پہلی بار اس کے کمرے میں گئی تھی……..
جب اس کی نظر سامنے سٹدی ٹیبل پر گی وہاں کچھ ٹرافیز ایک شیشے میں رکھی ہوئی تھی …….
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس سے ٹیبل کے قریب گی……….
یکدم گاڑی کے ھارن کی آواز سنائی دی…….
یقینا ارسلان بھائی آگئے یااللہ…..!!!!!
وہ جیسے ہی مری اچانک اسکا ہاتھ پینسل مگ پر لگا…………
اور تمام پینسل زمین پر بکھر گئی……
. وہ جلدی جلدی وہ پینسل سمیتنے لگی…….
مگروہ کپ ٹوٹ چکا تھا……
کانچ کے ٹکڑے زمین پر گرے ایک نئے عذاب کا اعلان کر رہے تھے ……..
جب حریم کی نظر سامنے کھڑے انسان کے جوتوں پر پڑی…….
حریم کا جسم کانپ رہا تھا ……..
…………………..( کس کی اجازت سے)…….????
. ارسلان نے دانت پیستے ہوئے کہا ……
………………….(کس کی اجازت سے )……….
جواب دو……!!!!!
ایک زور دار تھپڑ حریم کے منہ پر لگا …….
اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے ……
وہ حریم بری طرح سے سسک رہی تھی……
تبھی ارسلان نے زمین پر بکھرے کانچ کے ٹکڑے اپنے ہاتھوں میں سمیٹے ……
وہ کانچ کے ٹکڑے ارسلان کے ہاتھوں کو چیر پھاڑ رہے تھے……..
کبھی ارسلان نے حریم کو بازو سے پکڑا …..
اور کھڑا کیا ……..
مجھے معاف کردے…. ارسلان بھائی…..
پلیز ……
ارسلان نے حریم کا ہاتھ پکڑا اور وہ کانچ کے ٹکڑے اس کی ہتھیلی میں رکھے……..
اور بری طرح حریم کا ہاتھ دبایا …….
یا اللہ میرا ہاتھ…… یا اللہ ….
ارسلان بھائی….. چھوڑ دیں……
چھوڑ دے …..مجھے…. پلیز مجھے ….
درد ہو رہا ہے….. جانے دے معاف کردے مجھے……
حریم پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی……
حریم کی چیخیں سن کر…. تابی …..
جو ابھی گھر آیا تھا …….
بھاگتا ہوا ارسلان کے کمرے میں آیا …….
بھائی یہ کیا کر رہے ہو….. چھوڑ دو اسکو…….
تابی نے بمشکل حریم کا ہاتھ ارسلان کے ہاتھ سے چھوڑ آیا………
آج کے بعد میرے کمرے میں آنے…..
یا …….
میری کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانے کی ……..
غلطی….. غلطی سے بھی نہیں کرنا…….
اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے………
حریم بلکتی ہوئی بامشکل سیڑھیوں تک ہی گئی…….
تابی بھاگتا ہوا( فرسٹ ایڈ باکس) لے کر آیا تھا ……
دکھاؤ مجھے ……… نہیں….. نہیں …….
درد ہو رہا ہے……… نہیں….. نہیں………
ارے دکھاؤ مجھے ……..
اور پلیز کسی کو بتانا نہیں جو کچھ ہوا…….
نہیں میں بتاؤں گی…… فریال آنی کو …….
دیکھو میرا ہاتھ اتنی درد ہو رہی ہے…….
دیکھنا ارسلان بھائی دوزخ کی آگ میں جلیں گے ……
اور میں جنت میں کھڑی ہوکر ان کا مذاق اڑاؤ نگی…..
حریم وہ بھی تو دیکھو اپنی جگہ ٹھیک ہیں……
تم بھی تو پہلے بنا اجازت ان کے کمرے میں گئیں…..
پھر ان کی چیزیں بھی توڑ دیں ……
تو تمہیں بھی پتہ ہے نہ وہ تو ویسے ہی غصے کے تیز ہیں………
تابی نے اس کے ہاتھ کی پٹی کی……
اچھا اب تم جاؤ اور جا کر سو جاؤ …….
اور ہاں صبح ہو کر کسی کو اس بارے میں نہیں بتانا…….
________________________________________________
وہ بیڈ پر لیٹا تھا…….
ارسلان کی عادت تھی وہ بیڈ پر سیدھا نہیں لیتا تھا….
سر ایک کونے میں جہاں عموما ہم پیر رکھتے ہیں…..
اور پیر وہاں جہاں عموما ہم سر رکھتے ہیں……
وہ فٹبال کا گولڈ میڈلسٹ آنکھیں بند کئے گہری سانسیں لے رہا تھا………..
اس کے ہاتھ کا زخم سوکھ چکا تھا …….
جو کچھ دیر پہلے کانچ پکڑنے سے اس کو لگا تھا …….
مگر درد کی شدت بہت تھی جو کہ زخم کافی گہرا تھا………..
_______________________________________________
ہیلو ہاں بولو…….!!!!!!
تابی اپنے کمرے میں سرگوشی میں بیٹھا کسی دوست سے فون پر بات کر رہا تھا……..
یار تو دیکھ کسی کی بھی تصویر بھیج دے……
مان لے گی……..
ویسے بھی ایڈیٹنگ کی ہوئی ہے آواز کی ……
نہیں پہچانے گی………
ہاں توجتنے پیسے نکلوانا چاہتا ہے نکلوالے…….
بس مجھے وہ روتی ہوئی چاہیے…….
بہت ب**** کر رہی تھی نہ……..
اس دن …….!!!!
اب ہوش آئے گا کہ ……..
زبیر باجوہ سے اونچی آواز میں بات کرنا ایک سزا ہے …………
اب میں فون رکھتا ہوں………
کسی نے دیکھ لیا تو نقصان ہو جائے گا…….
تابی نے ایک گہری سانس لی……..
موبائل سے سم نکالی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کے نیچے چھپا دیں………
تابی صرف 12 سال کا تھا …..مگر …..
اس کی حرکتیں ناقابل برداشت تھی…….
ظفر باجوا شہر کے معروف بزنس مین میں شمار تھے…………..
ایک ایماندار شخص جن کی صرف ایک ہی اولاد تھی……….
اور وہ تھا زبیر باجوہ#تابی………
______________________________________________
سب ڈائننگ ایریا میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے …….
ارسلان چپ چاپ ناشتہ کرنے میں مصروف تھا……
جب کہ تابی کبھی موبائل میں حاضری لگاتا تو کبھی ناشتے پر نظر کرم فرماتا…………..
ظفر باجوہ نیوز پیپر پڑھنے میں مصروف تھے …….
اور فریال بیگم بریڈ پرکرسٹ لگا رہی تھی……..
جب بھی ان کی نظر سامنے سے گزرتی حریم پرگی…….
حریم یہاں آؤ بیٹا…….
جی فریال آنی……..!!!!!!!!!!!!
آؤ یہاں بیٹھو ناشتہ کرو……..
نہیں آنی میں تو کرچکی…….
ارے حریم…. فریال بیگم ایک دم کھڑی ہوئی ……
یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہوا …….??????
حریم نے ایک دم سامنے بیٹھے ارسلان کو دیکھا ……
جو حریم کو دیکھ رہا تھا…….
پھر اس کی نظر تابی پر گی……..
جو اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہہ رہا تھا …….
ایک بار پھر اسکی
نظر ارسلان پر گی ……
جو ترچھی نگاہ سے اس کو دیکھ رہا تھا…..
