Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450 Shatranj Episode 7
Rate this Novel
Shatranj Episode 7
Shatranj by Muskan Kanwal
دفع ہو جاؤ حریم یہاں سے…..
ابھی اور اسی وقت…….
تمیز سے بات کرو تابی……..
حریم کا یہ کہنا تھا کہ تابی چنگھاڑتا ہوا اس کے قریب آیا…..
اس کے ہاتھ دبوچے اور ٹی وی لاؤنج سے باہر لے کر آیا…..
یہاں آؤ میری بات سنو…..
اور بہت غور سے سنو……
آج کے بعد تم مجھے کبھی کسی مرد کے سامنے نظر نہ آؤں سمجھی …….!!!!!!
کیا مطلب ہے……!!!!!
آنے کے ساتھ ہی حکم سنانا شروع کردیا ہے…..
میں تمہارے حکم کی پابند نہیں ہو…… سمجھے……
لڑکی تمیز سے بات کرو……
آج کے بعد مجھے….. ( تم) سے مخاطب نہیں کرنا…..
کیوں میں نوکر ہوں تمہاری……!!!!
تم ہوتے کون ہو مجھے یہ سب کہنے والے …….
دیکھو حریم میں ابھی آیا ہوں…….
ویسے بھی بہت سے حساب لینے باقی ہیں……
تم سے …….
کیسے حساب …..!!!!!
وہ حریم کے کسی بھی سوال کا جواب دیے بغیر ہی وہاں سے چلا گیا……..
یا اللہ یہ کونسی نئی آزمائش ہے …….. اف …….
حریم تابی کی باتوں کو زیادہ سیریس نہیں لے رہی تھی………..
جیساکہ اسے تابی کی باتوں سے کوئی فرق ہی نہیں پڑھا ……….
حریم کا نیچر بچپن کے مقابلے میں کافی بدل چکا تھا…..
وہ کافی ہنسنے بولنے والی لڑکی تھی…..
جس بھی محفل میں جاتی وہاں سب کی توجہ کا مرکز حریم ہی ہوتی…….
مگر اب وہ کافی بدل چکی تھی…….
یہ شاید اس کے تنہائی نے اس کو خاموش مزاج بنا دیا تھا….
حریم کی ایک کمزوری تھی……
وہ یہ کہ وہ اندھیرے سے بہت خوف کھاتی تھی……
جہاں بھی اندھیرا ہو اس جگہ پر قدم نہ رکھتی تھی…..
گھر سے باہر نہیں نکلتی تھی…….
یونیورسٹی سے ڈائریکٹ آفس اور وہاں سے سیدھی گھر آتی تھی …….
اس کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو …..
آن لائن منگاتی…….
گھر میں دو گیٹ کیپر تھے ….
.
ایک کار ڈرائیور….
اور سات رشید ….(والد) بس اور کوئی نہ تھا…..
اس کو زیادہ لوگوں سے گھلنے ملنے کی عادت نہیں تھی…….
..
اس نے تابی کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سر جھٹکا…….
ابو ……..
رشید چارپائی پر لیٹا گہری سانس لے رہا تھا …..
کیا ہوا ابو آپ کو!!!!!!!!
آپ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے نہ……
چلے میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس ……
رشید نے نفی میں سر ہلایا ……
اور آنکھیں مینج لی…..
حریم وہیں بیٹھ کر رشید کے سر پر ہلکے ہلکے ہاتھ پھرنے لگی …..
بھی کچھ دیر ہی گزری تھی…… کے……
حریم کو کسی کی آہٹ محسوس ہوئی……
اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں……
تو وہ تابی کھڑا تھا…..
اور ہاتھ باندھے اس کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا……
خدا جانے کے تابعی کی نظروں میں ایسا کیا تھا….
کہ دیکھنے والا خوفزدہ ہو جائے…..
خیر اس نے اشارے سے حریم کو باہر آنے کو کہا…..
کچھ دیر بعد حریم باہر آئیں……
تو وہاں کوئی نہیں تھا …….
عجیب انسان ہے …..
مجھے باہر بلا کر خود غائب ہوگیا….. فضول انسان….
یہ کہہ کر منہ بسورتے ہوئے حریم اپنے کمرے میں واپس جانے لگی…….
جب اس کی نظر( پی. تی. سی. ایل) پر گی …..
تابی رہا ہو گیا مگر ابھی تک جرمنی سے کوئی آیا ہی نہیں…….
پتا نہیں کسی کو یاد بھی ہے یا نہیں……
یہ سوچ کر اس نے الماری میں سے ایک ڈائری نکالی …..
اور کتاب کے صفوں پر نظریں دوڑانے لگی……
جب اس کی نظر ایک نمبر پر گی…..
جس پر لکھا ہوا تھا (جرمنی )…….
اس نے پہلے تو وہ نمبر اپنے موبائل پر نوٹ کیا……
پھر وہی نمبر( پی. ٹی. سی. ایل )پر ملانے لگی….
ابھی بیل جا رہی تھی…… کے …….
حریم کے ہاتھ سے کسی نے رسیور کھینچا……
وہ یکدم پیچھے مری تو……
وہ تابی کھڑا تھا ……
حد نہیں ہوتی تابی…..!!!!
اب بھلا یہ کیا طریقہ ہوا ……
حریم نے سامنے کھڑے اس نوجوان کو دیکھتے ہوئے کہا…….
جناب میں بھی تو دیکھوں کہ بیوٹی کس کو فون ملانے میں مصروف تھی…….!!!!
یہ کہتے ہوئے تابی نے فون پر ڈائل نمبر دیکھا…..
تم سے مطلب ……!!!!
تابی میں جس کو چاہے فون کرو …..!!!!
اوہو…. تو بیوٹی جرمنی فون کر رہی تھی …….
بھائی ابھی سے کیا جلدی ہے سب کو بلانے کی……
پہلے ہمارے ساتھ بھی تو تنہائی میں کچھ وقت گزار لو………..
یہ کہتے ہوئے تابی نے اپنے ہاتھ ٹیبل پر رکھے…….
اور حریم کے گرد دائرہ کھینچا ……
یہ کیا بدتمیزی ہے ….. تابی ہاتھ دور کرو اپنے…..
کیوں کچھ کچھ ہوتا ہے….!!!!!!…..( ہاہاہاہا )…….
تابی نے ایک زور دار قہقہہ لگایا…..
ب**** مت کرو اور ہٹو یہاں سے……
حریم کی اس بات پر تابی نے آبرو اچکآئی…..
تابی نے اس کے گرد دائرہ تنگ کیا……
. مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کرنا …..حریم………
کیوں میں تمہارے حکم کی پابند نہیں ہوں……
جو کرو اور کہو………
اچھا کیاواقعی………
تو پھر تو میں بھی جو چاہو وہ کرسکتا ہوں……
یہ کہتے ہوئے تابی نے اپنی آستینیں کہنیوں تک چڑھائی………..
کالر کے بٹن کھولنے لگا…….
تابی کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی…..
تابی کی اس حرکت پر حریم کے چودہ طبق روشن ہو گئے………
حریم نے یکدم اپنی پوری طاقت سے تابی کو دھکا دیا ……..
جو اس کے ارے ہوئےحواسوں کو دیکھ کر خوب مزے لے رہا تھا ….
حریم بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی…..
اور کمرے کا دروازہ بند کیا…….
اس کا سانس پھول رہا تھا…….
تابی کے ساتھ گزرا ہوا…..
وہ منظر ابھی بھی اس کے دماغ میں گھوم رہا تھا ….
اس نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھایا……
اور آدھا گلاس پانی بھرا اور ایک ہی سانس میں پی گی……..
حریم کافی خوفزدہ ہوگئی تھی ……
وہ شاید تابی کی موجودگی میں محفوظ نہیں تھی……
اس نے فون اٹھایا اور وہ نمبر ڈھونڈنے لگی…..
ابھی وہ نمبر ڈھونڈنے میں لگی تھی……
کہ دروازے پر دستک ہوئی……
حریم کی سانسیں تھم سی گئی …..
دروازہ بجانے والا مسلسل دروازہ پیٹے میں مصروف تھا….
